Ayahs 42:1–32:۔ ” کذلک یوحی الیک “ اس سورت میں جو مضمون توحید نازل کیا گیا ہے یہی مضمون ہم اس سے پہلی سورتوں میں آپ کی طرف نازل کرتے رہے ہیں، اور یہی مضمون توحید گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کی طرف وحی کرتے رہے ہیں۔ کلام مستانف وارد لتحقیق ان مضمون السورۃ موافق لما فی تضاعیف الکتب المنزلۃ علی سائر الرسل المتقدمین فی الدعوۃ الی التوحید والارشاد الی الحق (روح ج 25 ص 10) ۔ ” کذلک “ یعنی اس کی مانند یہ تعبیر اس لیے اختیار کی گئی کہ عبارت وہ نہیں، البتہ مضمون وہی ہے۔ ای مثل ذلک الوحی (مدارک، جامع البیان) یوحی میں حال گذشتہ کو مضارع سے تعبیر کیا گیا تاکہ استمرار و دوام پر دلالت کرے۔ وذکر المضارع للاستمرار وبیان العادۃ (جامع لابیان ص 414) ۔
Ayah 42:43:۔ ” لہ ما فی السموات “ اس سے پہلے قولوا مقدر ہے یعنی انبیاء (علیہم السلام) کی طرح وحی میں انہیں حکم دیا گیا کہ کہو، زمین و آسمان جو کچھ ہے، سب اللہ کا ہے اور ساری کائنات میں وہی مترف و مختار ہے۔ ” وھو العلی العظیم “ وہ نہایت بلند اور بڑی شان والا ہے، کوئی اس پر جبر نہیں کرسکتا اور کوئی اس سے اپنی مرضی کے مطابق کام نہیں کرا سکتا۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ یا یہ استیناف ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت و حکمت کی تقریر و تبیین کیلئے۔ استیناف مقرر لعزتہ تعالیٰ و حکمتہ عزو جل (روح ج 25 ص 11) ۔
Ayah 42:54:۔ ” تکاد السموات۔ الایۃ “ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اور ہیبت و جلال کا بیان ہے۔ قریب ہے کہ اللہ کے خوف اور اس کی ہیبت و خشیت سے آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں ای یتشققن من عظمۃ اللہ وجلالہ (قرطبی ج 16 ص 4) ۔ اس کی عظمت شان کا یہ عالم ہے کہ فرشتے بھی ہر قسم کے شرک سے اس کی تنزیہ و تقدیس میں مصروف ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر حمد و ثنا کا مستحق اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے کہ ہر نعمت اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے اور وہ سب کا پروردگار ہے۔ ” بحمد ربہم “ میں باء برائے تلبس ہے (روح) ۔ اللہ کے فرشتے ایک طرف تو اللہ کی تسبیح وتحمید کر رہے ہیں اور دوسری طرف ان لوگوں کے لیے استغفار بھی کرتے ہیں جنہوں نے شرک سے توبہ کی اور اللہ کی توحید کا راستہ (صراط مستقیم) اختیار کیا ، “ من فی الارض “ سے مومنین مراد ہیں جیسا کہ سورة مومن (رکوع 1) میں گذر چکا ہے۔ ” فاغفر للذین تابوا واتبعوا سبیلک “ (الایات) ۔
Ayah 42:65:۔ ” والذین اتخذوا “ (الایات) ۔ یہ زجر مع تخویف ہے جن لوگوں نے اللہ کے سوا کئی اور کارساز بنا رکھے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے اعمال واحوال کا نگران ہے اور ان کے تمام اعمال اس کے احاطہ علم میں ہیں، اس لیے وہ انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دے گا۔ لیکن آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں، کیونکہ آپ تو انذار و تبلیغ کیلئے بھیجے گئے ہیں اور آپ نے اپنا فریضہ ادا کردیا۔
Ayah 42:76:۔ ” و کذلک اوحینا۔ الایۃ “ کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی ہم نے یوں اس قدر واضح کر کے یہ مضمون (توحید) عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ مکہ اور اس کے گرد و نواح کے لوگوں کو اس کے احکام سے خبردار کریں اور ان کو قیامت کے دن سے ڈرائیں جس میں سب لوگوں کو اکٹھا کیا جائیگا اور جس کی آمد میں کوئی شک نہیں۔ اس دن تمام انسان دو جماعتوں میں تقسیم ہوں گے ایک ایمان والوں کی جماعت یہ جنت میں جائیگی اور دوسری کفار و مشرکین کی جماعت یہ جہنم کا ایندھن ہوگی۔ یہ مشرکین اگر ایسا واضح قرآن بھی نہیں مانتے، تو جہنم کے لیے تیار رہیں۔
Ayah 42:87:۔ ” ول شاء اللہ۔ الایۃ “۔ اللہ تعالیٰ قادر و متصرف ہے، اگر وہ چاہتا تو تمام بنی آدم کو جبراً توحید پر قائم کردیتا اور اس طرح ساری انسانیت ایک ہی امت ہوتی، لیکن جبری ایمان مطلوب نہیں، اس طرح جزاء و سزا کی حکمت فوت ہوجاتی ہے اور امتحان وابتلاء کا سلسلسہ ختم ہوجاتا ہے جس کی خاطر انسان کو پیدا فرمایا۔ ” الذی خلق الموت والحیوۃ لیبوکم ایکم احسن عملا (ملک رکوع 1) ۔ اور سورة مائدہ (رکوع 7) میں ارچشاد ہے۔ ” ولو شاء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ ولکن لیبلوکم فی ما اتاکم۔ الایۃ “ ” ولکن یدخل الخ “ یہ اسی امتحان وابتلاء کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی انسان کو اختیار دیدیا اور دونوں راستے اس پر واضح کردئیے گئے۔ اب وہ دونوں راستوں میں جو بھی اختیار کرے گا، اسی کے مطابق اس کا انجام ہوگا۔ اگر صراط مستقیم کو اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت میں داخل کرے گا، کیونکہ ایسے لوگوں ہی کو وہ اپنی رحمت میں داخل کرنا چاہتا ہے۔ اور جو کفر و شرک اختیار کرے گا ایسے ظالم اور بےانصاف اس کے غضب کے مستحق ہوں گے اور ان کا کوئی یار و مددگار نہیں ہوگا جو ان کو اللہ کے غضب سے بچا سکے۔
Ayah 42:98:۔ ” ام اتخذوا من دونہ اولیاء “ یہ زجر کا اعادہ ہے۔ کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا اوروں کو کارساز اور مددگار بنا رکھا ہے، تاکہ آڑے وقت میں ان کے کام آئیں ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی سب کا یار و مددگار اور سب کا کارساز ہے، اس کی شان ہے کہ وہ مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہے اور ہر چیز اور ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ صفات اللہ کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں۔ اس لیے اس کے سوا کسی اور کو اپنا مددگار اور کارساز نہ سمجھو۔ یعنی ان من یکون بھذہ الصفۃ فھو الحقیق بان یتخذ ولیا ومن لایکون بھذہ الصفۃ فلیس بول (خازن ج 6 ص 117) ۔
Ayah 42:109:۔ ” وما اختلفتم فیہ۔ الایۃ “ یہ رسول اللہ ﷺ کے قول کی حکایت ہے، آپ نے مسلمانوں سے فرمایا جن شرائع میں تمہارے درمیان اور مشرکین اور اہل کتاب کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے اور اس میں اس کا حکم قطعی ہے وہی اللہ میرا مالک و کارساز ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے میں ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ سچا دین، دین اسلام ہے جو توحید کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ دین مشرکین۔ اسی طرح شریعت سازی اللہ کا کام ہے۔ احبارو رہبان کو اللہ کی شریعت میں ترمیم و اضا افہ اور تحریف و تبدیل کا کوئی اختیار نہیں۔ ای ماخالفکم فیہ الکفار من اھل الکتاب و المشرکین من امر الدین، فقولوا لھم حکمہ الی اللہ لا الیکم وقد حکم ان الدین ھو الاسلام لا غیرہ، و امور الشرائع انما تتلق من بیان اللہ (قرطبی ج 16 ص 7) ۔
Ayah 42:1110:۔ ” فاطر السموات والارض “ یہ ” لہ ما فی السموات وما فی الارض “ ہی سے متعلق ہے گویا مضإون کے اعتبار سے یہ سب ” یوحی “ کا مفعول بہ ہے۔ یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرح وحی بھیجی گئی کہ کارساز اور عالم الغیب ہونے میں اللہ کا کوئی شریک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فطرۃ زمین و آسمان میں وہی تعلق رکھا ہے جو مادہ اور نر میں ہوتا ہے جس طرح اس نے زمین و آسمان کو پیدا کی اور ان دونوں کے خواص کے ملاپ سے یہ ساری نعمتیں اور برکتیں رونما ہوئیں، اسی طرح اس نے انسانوں کی جنس ہی سے ان کی بیویاں پیدا کیں جیسا کہ س سورة نساء (رکوع 1) میں ہے ” الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منہا زوجھا “ ای من جنسہا۔ اور سورة نحل (رکوع 10) میں فرمایا۔ ” واللہ جعل لکم من انفسکم ازواجا۔ الایۃ “ ای من جنس انفسکم (جعل لکم من انفسکم) خلق لکم من جنسکم (مدارک ج 4 ص 77) ۔ اور اس نے چوپایوں کے بھی جوڑے (نر و مادہ) پیدا کیے۔ ” یذرؤکم فیہ “ ضمیر غائب، الجعل، کی طرف راجع ہے جو ” جعل “ سے مفہوم ہے فکانہ قال یخلقکم ویکثرکم فی الجعل۔ (قرطبی ج 16 ص 8) ۔ یعنی جوڑوں کی صورت میں وہ تمہیں نسلا بعد نسل پھیلا رہا ہے۔ ” لیس کمثلہ شیء “ وہ اپنی ذات وصفات میں تخلیق کائنات میں اور تدبیر عالم میں یگانہ، بےمثل اور بےنظیر ہے، کوئی بھی اس سے مشابہ اور اس کے مانند نہیں، کیونکہ وہ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ والذی یعتقد فی ھذا الباب ان اللہ جل اسمہ فی عظمتہ وکبریائہ وملکوتہ وحسنی اسمائہ وعلی صفاتہ لایشبہ شیئا من مخلوقاتہ ولا یشبہ بہ (قرطبی ج 16 ص 8) ۔
Ayah 42:1211:۔ ” لہ مقالید السموات۔ الایۃ “ یہ بھی ” لہ مافی السموات الخ “ سے متعلق ہے۔ جس طرح ساری کائنات کا خالق اور مالک وہی ہے، اسی طرح زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجیوں کا مالک بھی وہی ہے۔ تمام خزائن رحمت و رزق اسی کے ہاتھ میں ہیں، تندرستی، دولت، اولاد، عزت وغیرہ ان کے اضداد سب اسی کے قبضہ واختیار میں ہیں، وہ جسے چاہتا ہے فراخی سے روزی دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے روزی تنگ کردیتا ہے۔ وہ ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے، اس لیے جو کچھ بھی کرتا ہے اپنے علم و حکمت کے تقاضے کے مطابق کرتا ہے۔ ابتداء سورت سے یہاں تک واضح ہوگیا کہ سارے عالم میں اللہ تعالیٰ ہی متصرف و مختار ہے اور وہی غیب داں ہے، کوئی چیز اس کے علم وقدرت سے باہر نہیں اور ان صفات میں کوئی جن و بشر، کوئی ملک و مرسل اس کا شریک نہیں، اس سے واضح ہوگیا کہ جب وہی کارساز اور عالم الغیب ہے، تو حاجات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارنا چاہئے۔
Ayah 42:1312:۔ ” شرع لکم من الدین۔ الایۃ “ تمہارے لیے ہم نے وہی دین مقرر کیا ہے جس کو قائم کرنے کا نوح کو حکم دیا تھا، اور جس کا آپ کو وحی کے ذریعے سے حکم دیا ہے اور جسے قائم کرنے کا ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو حکم دیا تھا۔ ہم نے ان تمام اولو العزم پیغمبروں کو حکم دیا تھا کہ اس (دین توحید) کو قائم کرو اور اس میں اختلاف نہ کرو۔ دین کو قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی توحید اور تمام ضروریات دین پر ایمان لائیں اور اس کے احکام کی اطاعت کریں۔ ای دین الاسلام الذی ھو توحید اللہ وطاعتہ والایمات بکتبہ ورسلہ وبیوم الجزاء وسائر مایکون العبد بہ مومنا (روح ج 25 ص 21) ۔ ” فیہ ای فی التوحید۔ یعنی توحید جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین تھا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” ولا تکوانوا من المشرکین ومن الذین فرقوا دینہم وکانوا شیعا (روم رکوع 4) ۔ ” ماتدعوہم الیہ “ یعنی توحید کو مانو اور شرک کو چھوڑ دو ای من التوحید وفرض الاوثان (خازن ج 6 ص 119) ۔ مشرکین پر یہ بات نہایت گراں گذرتی ہے جب انہیں توحید کی دعوت کے لیے چن لیتا ہے اور اسے قبول حق کی توفیق دے دیتا ہے اور چنتا کس کو ہے اور قبول ہدایت کی توفیق کس کو دیتا ہے جو اخلاص اور صدق نیت سے اس کی طرف رجوع کرے اور انصاف سے راہ حق کی تلاش کرے، ضد اور عناد سے دور رہے۔ حاصل یہ ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ شرک نہ کرو یہ تمام نبیوں کا دین۔ ” وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون “ (انبیاء رکوع 2) ۔
Ayah 42:1413:۔ ” وما تفرقوا “ یہ ایک شبہہ کا جواب ہے کہ جب تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین ایک ہی تھا اور مسئلہ توحید سب کا اجماعی دین تھا، تو جو کتابیں اور صحیفے ان پر نازل ہوئے، ان میں مسئلہ توحید کے خلاف مضامین کیوں پائے جاتے ہیں ؟ اس کا جواب دیا گیا کہ بیشک تمام انبیاء (علیہم السلام) مسئلہ توحید پر متفق تھے اور یہی مسئلہ توحید کے خلاف مضامین کیوں پائے جاتے ہیں ؟ اس کا جواب دیا گیا کہ بیشک تمام انبیاء (علیہم السلام) مسئلہ توحید پر متفق تھے اور یہی مسئلہ ان کی طرف وحی کیا گیا، لیکن بعد میں دنیا پرست، باغی اور گمراہ کن علماء اور پیشواؤں نے حق کو سمجھنے کے بعد جان بوجھ کر کتب سابقہ میں تحریف کر ڈالی اور ان میں توحید کے خلاف عبارتیں اپنی طرف درج کردیں اور یہ سب کچھ انہوں نے محض ضد وعناد کی وجہ سے کیا ہے۔ اس سے تین باتیں معلوم ہوئی۔ اول یہ کہ توحید میں اختلاف کس نے ڈالا ؟ مشرک پیشواؤں اور گمراہ کن زر پرست علماء نے۔ دوم، اختلاف کب ڈالا ؟ جب ان کے پاس علم آگیا اور ان کو حق معلوم ہوگیا، گویا یہ اختلاف انہوں نے جان بوجھ کر ڈالا ہے، کسی غلط فہمی کی بنا پر نہیں ڈالا۔ سوم، اختلاف کیوں ڈالا ؟ محض ضد وعناد اور سرکشی کی وجہ سے۔ ” ولولا کلمۃ سبقت “ یہ اس شبہہ کا جواب ہے کہ پھر ان معاندین پر فورًا عذاب کیوں نہ آیا ؟ فرمایا، عذاب کے لیے ایک وقت مقرر تھا (قیامت کا دن یا اواخرحیات) ۔ اگر وقت معین نہ ہوتا تو اسی وقت ہی ان کا قصہ تمام کردیا جاتا۔ اجل مسمی ھو یوم القیامۃ او اخر اعماھم المقدرۃ (بیضاوی) وان الذین اور ثوا الکتاب الخ “۔ ان محرف اور گمراہ کن پیشواؤں سے وہ کتابیں جب بعد میں آنے والے لوگوں کو ملیں، تو وہ بھی ان محرف اور تبدیل شدہ کتابوں کو پڑھ کر مسئلہ توحید کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہوگئے۔ آگے چار امور مذکور ہیں جو ماقبل پر متفرع ہیں۔
Ayah 42:1514:۔ ” فلذلک فادع “ یہ پہلا امر متفرع ہے یہ اصل میں ” فادع لذلک، لذلک فادع “ پہلے جملے سے ” ادع “ حذف کردیا گیا اور دوسرے سے لذلک کو تاکہ تکرار مع اختصار ہوجائے ” فبذلک فلیفرحوا “ کی ترکیب بھی یہی ہے۔ نقلہ الشیخ (رح) تعالیٰ عن الرضی۔ جب تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت ایک ہی تھی، لیکن باغیوں نے اس میں ضد وعناد سے اختلاف ڈالدیا ہے، تو آپ اسی دین توحید کی دعوت دیتے رہئے جس کی تمام انبیاء (علیہم السلام) کو تاکید کی گئی ” واستقم کما امرت “ یہ دوسرا امر متفرع ہے اور جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے، آپ اسی طرح دعوت پر قائم رہیں۔ ” ولا تتبع اھواءھم “ یہ تیسرا امر متفرع ہے اور ان گمراہ کن پیشوا اؤں اور شرک کے رہنماؤں کی خواہشات کا اتباع نہ کریں۔ ای الی ما وصی اللہ تعالیٰ بہ الانبیاء من التوحید (معالم و خازن ج 6 ص 119) ۔ 15:۔ ” وقل امنت “ یہ چوتھا امر متفرع ہے اور آپ فرما دیں میں تو صرف اسی کتاب پر ایمان لایا ہوں جو اللہ نے نازل فرمائی ہے، ان باغیوں اور گمراہی پھیلانے والوں کی تحریرات اور تحریفات کا ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ ” وامرت لاعدل بینکم “ یہ پانچویں امر متفرع میں داخل ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تبلیغ توحید اور فصل احکام میں تمہارے درمیان برابری کروں یہ مسئلہ سب کو سناؤں اور کسی کی طرفداری نہ کروں۔ فی تبلیغ الشرائع والحکم بین المتخاصمین (مظہری ج 8 ص 314) ۔ اللہ تعالیٰ ہی ہمارا مالک و کارساز ہے اور تمہارے اعمال شرک کا ہمیں کوئی نقصان نہیں اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں۔ یعنی شرک سے پاک ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں یعنی تمہارے اعمال سراسر مشرکانہ ہیں۔ رہا یہ کہ ہم تمہیں اسلام اور توحید کی دعوت توحیدکیوں دیتے ہیں تو محض تمہاری خیر خواہی کے لیے ” لاحجۃ بیننا وبینکم “ اس لیے خصومت اور جھگڑے کی کوئی وجہ نہیں۔ لان اعمالکم لا یضرنا واعمالنا لایضرکم انما ندعوکم الی الاسلام نصحا لکم، فلا وجہ للخصوصمہ والعداوۃ (مظہری) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ دین حق حجت و دلیل کے اعتبار سے غالب ہوچکا ہے اور تم پر حجت خداوندی قائم ہوچکی ہے، اس لیے اب تم پر احتجاج کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی اور تمہارے انکار کی عناد و مکابرہ کے سوا کوئی توجیہہ نہیں ہوسکتی۔ ای لا احتجاج ولا خصومۃ لان الحق قد ظہر، فلم یبق للاحتجاج حاجۃ ولا للمخالفۃ محمل سوی المکابرۃ والعناد (روح ج 25 ص 25) ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم سب کو جمع کرے گا اور سر محشر محق و مبطل کے درمیان آخری اور قطعی فیسلہ فرمائیگا۔ فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر۔
Ayah 42:1616:۔ ” والذین یحاجون “ یہ ایک سوال کا جواب ہے کہ جب بعد کے لوگوں نے پہلے لوگوں کی تحریرات کو پڑھا اور گمراہ ہوگئے، تو کہ وہ اس معاملے میں معذور نہیں ہوں گے۔ فرمایا وہ معذور نہیں ہیں، ان کا یہ عذر اللہ کے نزدیک ساقط اور مردود ہے، فی اللہ ای فی توحید اللہ۔ ان کا یہ عذر قبول نہ ہونے کی دو دلیلیں بیان کی گئی ہیں۔ دلیل اول ” من بعد ما استجیب لہ “ اس مسئلے کو تو علماء اہل کتاب بھی مان چکے ہیں، مراد وہ علماء ہیں جو اسلام لا چکے تھے تو علماء و ثقات کا اسے مان لینا اس کے حق ہونے کی دلیل ہے، تو ان لوگوں نے ان باغیوں اور گمراہوں کی بات کیوں مانی، ان علماء ثقات کے نقش قدم پر کیوں نہیں چلے ؟ جب ان کے حق پرست علماء مان چکے تو انکا انکار محض مکابرہ ہے۔ من بعد ما استجاب لہ اھل الکتاب بان اقروا بنبوتہ واستفتحوا بہ (بیضاوی) ۔ ایسے لوگوں پر جو ایسی حجت واضحہ کے باجود نہیں مانتے، اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے سخت ترین عذاب تیار ہے۔ تائید (1) اولم یکن لہم ایۃ ان یعلمہ علمؤا بنی اسرائیل (شعراء رکوع 11) (2) الذین اتینہم الکتب یتلونہ حق تلاوتہ اولئک یومنون بہ (بقرہ رکوع 14) ۔ دلیل ثانی ” اللہ الذی نزل الخ “ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی عظیم الشان کتاب نازل فرما دی ہے جس میں حق (مسئلہ توحید اور دیگر ضروریات دین) کو خوب واضح اور روشن کر کے بیان کردیا گیا ہے اور ایک ایسی شریعت نازل فرما دی ہے، جو حق و باطل، عدل و انصاف اور تمام حقوق کیلئے جو ترازو ہے، تو ان لوگوں نے اس کتاب کی طرف کیوں توجہ نہ کی اور اس میں غور و فکر کر کے اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کیوں نہ کی ؟ اس لیے ان کا عذر قابل قبول نہیں۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کا یہ شبہہ اور عذر قبول نہ ہوا کہ گوسالہ سامری آواز کرتا تھا۔ چناچہ ارشاد فرمایا ” الم یروا انہ ایکلمہم ولا یھدیہم سبیلا اتخذوہ وکانوا ظلمین (اعراف رکوع 18) ۔ اسی طرح آج بھی اگر کوئی عبارت یا روایت مسئلہ توحید کے خلاف مل جائے تو حجت نہیں ہوگی اور گوسالہ سامری کی آواز سے زیادہ اس کی حیثیت نہیں ہوگی۔
Ayah 42:1717:۔ ” وما یدریک “ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت سر پر کھڑی ہے اس لیے آپ اللہ کی کتاب پر عمل کریں، اپنی دعوت پیش کرنے میں مصروف رہیں، نہ ماننے والوں کے لیے آخرت کا عذاب تیار ہے۔ ” یستعجل بھا الخ “ جو لوگ قیامت کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے وہ ازراہ تمسخر و استہزاء کہتے ہیں قیامت کب آئیگی وہ جلدی کیوں نہیں آتی ؟ لیکن ایمان والے قیامت کا نام سن کر کانپ اٹھتے ہیں کیونکہ وہ قیامت کے آنے پر اور اس کی ہولناکی پر ایمان رکھتے ہیں۔ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے وہ ہدایت اور راہ راست سے بہت ہی دور ہیں۔ یہاں تک دو دعوے بیان ہوئے۔ اول تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف اللہ تعالیٰ یہی وحی فرماتا رہا کہ کارساز اور غیب دان صرف اللہ ہی ہے، حاجات میں صرف اسی کو پکارو۔ دوم مسئلہ توحید کے خلاف جو کچھ لکھا گیا ہے وہ دنیا پرست اور گمراہ پیشواؤں نے محض ضد وعناد کی وجہ سے لکھا ہے جو دوسرے لوگوں کے لیے حجت نہیں۔ اب اس کے بعد آخر سورت تک جو آیات ہیں وہ بطور تنویر انی دو دعو وں سے متعلق ہیں۔
Ayahs 42:18–1918:۔ ” اللہ لطیف۔ الایۃ “ یہ آیت پہلے دعوے سے متعلق ہے اور اس کی تائید ہے۔ القوی القادر علی کل شیء، العزیز ای لایغالب ولا یدافع “ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے حسب حکمت کسی کو زیادہ اور کسی کو کم رزق دیتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر اور سب پر غالب ہے۔ لہذا سب کچھ کرنے والا اور کارساز وہی ہے، اس لیے حاجات میں صرف اسی کو پکارو۔
Ayah 42:2019:۔ ” من کان یرید۔ الایۃ “ اس میں آخرت کی ترغیب اور دنیا سے تنفیر و تزہید ہے۔ جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اور اس کے لیے نیک کام کرتا ہے، تو ہم اس کے ثواب میں اضافہ کردیتے ہیں، اور ایک نیکی کے بدلے دس سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ ثواب دیتے ہیں اور جو لوگ دنیا چاہتے ہیں اور آخرت سے انہیں کوئی واسطہ نہیں انہیں دنیا ہی میں سے تھوڑا سا حصہ دے دیتے ہیں لیکن آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا، وہاں جہنم کی آگ کے سوا ان کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا۔ تائید : ” من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیہا ما نشاء لمن نرید ثم جعلنا لہ جہنم “ (بنی سرائیل رکوع 2) ۔
Ayah 42:2120:۔ ” ام لہم شرکاء “ یہ دوسرے دعوے م سے متعلق ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی شریعت تو یہی تھی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور صرف اسی کو پکارو، تو کیا ان کے گمراہ پیشواؤں نے اللہ کی شریعت کے خلاف کوئی ایسی شریعت کے ان کے لیے بنا دی ہے اور ان کو غیر اللہ کو پکارنے کی اجازت دی ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ؟ حاصل یہ ہے کہ شریعت حقہ وہی ہے جو اللہ نے تمام رسولوں کے پاس بھیجی اس کے خلاف کسی کو اپنی طرف سے اختراع و ایجاد کی اجازت نہیں۔ ” ولولا کلمۃ الفصل “ تا ” وھو واقع بہم “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” کلمۃ الفصل “ یعنی عذاب کے لیے اجل معین اگر ان کے عذاب کے لیے وقت معین نہ ہوتا، تو کبھی کا ان کا قصہ پاک کیا جاچکا ہوتا۔ ایسے ظالموں کیلئے جو خدا کی شریعت کے مقابلے میں احکام وضع کرتے ہیں اور جو ان پر عمل کرتے ہیں، نہایت ہی دردناک عذاب تیار ہے۔ قیامت کے دن تو ان مشرکین کو دیکھے گا کہ وہ اپنے کرتوتوں کی سزا سے خائف اور لرزاں ہوں گے، لیکن اس سے کچھ فائدہ نہ ہوگا اور ان کے اعمال کی سزا ان کو مل کر رہے گی۔
Ayah 42:2221:۔ ” والذین امنوا “ تا ” ومعلوا الصالحات “ یہ ایمان والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ قیامت کے دن وہ جنت کے باغوں میں خوش وخرم ہوں گے، جنت میں وہ جو چاہیں گے، انہیں پروردگار کی طرف سے ملے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا فضل و احسان ہے کہ حد بیان سے باہر ہے۔ یہ ہے اس کا فضل و احسان اور انعام و اکرام جس کی وہ اپنے ان بندوں کو خوشخبری دیتا ہے، جو اس کی توحید پر اور تمام اعتقادیات پر ایمان لائیں اور اس کے شرائع و احکام کی پیروی کریں۔
Ayah 42:2322:۔ ” قل لا اسئلکم “ یہ تصدیق رسالت اور اعمال صالحہ کی ترغیب ہے۔ ” القربی “ سے قرابت مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم میری قرابت اور رشتہ داری کا لحاظ کرو اور صلہ رحمی کے طور پر میری تصدیق کرو یا کم از کم مجھے اذیت نہ پہنچاؤ اور میرے کام میں روڑے نہ اٹکاؤ۔ لا اسئلکم علی ھذا البلاغ والنصح لکم ما لا تعطونیہ وانما اطلب منکم ان تکفوا شرکم عنی وتذرونی ابلغ رسالات ربی ان لم تنصرونی فلا توذونی بما بینی وبینکم من القرابۃ (ابن کثیر ج 4 ص 112) ۔ عن ابن عباس یعنی ان تحفظونی لقرابتی وتودونی و تصلوا رحمی (مظہری ج 8 ص 317) ۔ ان تودونی فی قرابتی منکم، ای تراعوا ما بینی و بینکم فتصدقونی (قرطبی ج 16 ص 21) ۔ جمہور مفسرین نے یہی معنی اختیار کیا ہے۔ یا القربی مصدر ہے بمعنی القربۃ۔ یعنی تقرب جیسا کہ الزلفی اور الزلفۃ ہے اور استثناء منقطع ہے یعنی میں تبلیغ پر تم سے کوئی اجرت اور تنخواہ نہیں مانگتا، میرا تم سے مطالبہ صرف یہ ہے کہ تم دین حق کو قبول کرلو اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے شوق و محبت سے اس کی اطاعت کرو۔ یہ قول ابن عباس، حسن بصری، قتادہ اور دوسرے مفسرین سے منقول ہے۔ الا ان توادو اللہ و تتقربوا لیہ بطاعتہ (خازن ج 6 ص 122، قرطبی ج 16 ص 22) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ میں تمہیں توحید کی تبلیغ کوئی اجر یا چندہ مانگنے کے لیے نہیں کرتا۔ بلکہ اس قرابت اور رشتہ داری کا لحاظ کرتے ہوئے جس کی وجہ سے تمام بنی آدم ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں، تمہیں تبلیغ کرتا ہوں تاکہ تم ہلاکت سے بچ جاؤ۔ تائید : ” وذکر بہ ان تبسل نفس بما کسبت “ (انعام رکوع 8) ۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔ بعض لوگوں نے القربی سے ذوی القربی یعنی رسول اللہ ﷺ کے رشتہ دار اور اہل قرابت (اہل بیت) مراد لیے ہیں، لیکن یہ قول مرجوح ہے اول اس لیے کہ کسی صحابی سے منقول نہیں اور مذکورہ بالا پہلے دونوں معنی امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ سے باسانید صحیحہ ثابت ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ تبلیغ رسالت پر اپنے کبے اور اہل بیت کی محبت کی اجرت مانگنا شان رسالت کے شایان نہیں۔ اور اس میں پیغمبر خدا ﷺ پر کنبہ پروری اور قرابت نوازی کا الزام آتا ہے۔ علامہ آلوسی نے یہ آخری مفہوم نقل کرنے کے بعد لکھا ہے۔ وقد ذھب الجمہور الی المعنی الاول وقیل فی ھذا المعنی انہ لا یناسب شان النبوۃ لما فیہ من التہمۃ فان اکثر طلبۃ الدنیا یفعلون شیئا ویسالون علیہ ما یکون فیہ نفع لا ولادھم قرباتہم (روح ج 25 ص 33) ۔
23:۔ ” ومن یقترف۔ الایۃ “ آیت کے اس حصے سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ ” القربی “ سے اعمال صالحہ اور حسنات مراد ہیں جن سے قرب خداوندی حاصل ہوتا ہے جو شخص رضائے الٰہی کے لیے نیکی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اجر وثواب میں اضافہ فرما کر اس کو چار چاند لگا دیتا ہے کیونکہ وہ خطا کاروں کی خطائیں معاف کرنے والا اور نیکیوں کا قدر شناس ہے۔
Ayah 42:2424:۔ ” ام یقولون “ یہ شکوی ہے مشرکین ازراہ عناد و مکابرہ کا الزام لگاتے ہیں کہ محمد ﷺ خدا پر افتراء کرتا ہے یعنی اس کا یہ کہنا کہ خدا نے مجھے اس بات کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کارساز نہیں اور اس کے سوا کسی کو حاجات میں غائبانہ مت پکارو یہ خدا پر افتراء ہے۔ ” فان یشا اللہ الخ “ یہ جواب شکوی ہے اور آپ کے مفتری ہونے کا رد ہے۔ اللہ پر افتراء وہی کرسکتا ہے جس کے دل پر مہر ثبت ہو یعنی وہ نور بصیرت اور معرفت الٰہیہ سے بےبہرہ ہو اور آپ نے جو دعوت پیش کی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں اور اس کے سوا کسی کو مت پکارو، یہ سراسر عقل کے مطابق اور انبیاء سابقین کی تعلیمات کے عین موافق ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو آپ کے دل پر مہر لگا دیتا اور آپ افتراء کرتے تو آپ کی زبان سے ایسی باتیں ہرگز نہ نکلتیں جو عقل و نقل کے عین مطابق ہوں اور جن سے توحید کے بارے میں مشرکین کے شبہات (کتب سابقہ سے غیر اللہ کی پکار جواز معلوم ہوتا ہے) زائل ہوتے ہوں۔ جملۃ معترضۃ ا ردت استبعادا للافتراء عن مثلہ بالشعار علی انہ لا یجتری علیہ الا من کان مختوما علی علی قلبہ جاھلا بربہ، فاما من کا ذا بصیرۃ ومعرفۃ بربہ فلا، وکانہ قال ان یشا اللہ خذ لانک یختمر علی قلبک لتجتری بالافتراء علیہ (مظہری ج ص 321) ۔
25:۔ ” ویمح اللہ الباطل “۔ یہ استیناف ہے اور جزا پر معطوف نہیں، اصل میں یمحو تھا کتابت میں واؤ ساقط ہے جیسا کہ ” ویدع الانسان “ میں ساقط ہے۔ آنحضرت ﷺ نے جو دعوت پیش کی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں اور اس کے سوا کسی کو نہ پکارو۔ یہ افتراء نہیں، بلکہ سراپا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ اس قرآن کے ذریعے سے شرک کو اور توحید پر کیے گئے شبہات کو (مثلاً یہ کہ ہمیں پہلے لوگوں کی تحریروں سے غیر اللہ کی پکار کا جواز ملتا ہے) مٹاتا اور توحید کو ثابت اور واضح کرتا ہے اور وہ دل کی باتوں کو بھی خوب جانتا ہے، توحید کے بارے میں مشرکین کے وہ شبہات جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہیں، قرآن میں ان کا بھی ازالہ کردیا گیا ہے۔
Ayah 42:2526:۔ ” وھو الذی یقبل “ یہ آیت پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ وہ اپنے بندوں پر ایسا مہربان ہے کہ ان کی توبہ قبول فرماتا اور ان کے گناہوں سے درگذر کرتا ہے اور ان کے تمام اعمال و افعال کو جانتا ہے۔ وہی کارساز اور غیب داں ہے، اس لیے حاجات میں اسی کو پکارنا چاہئے۔ ” ویستجیب الذین امنوا الخ “ یہ بشارت دنیوی واخرویہ ہے۔ ایمان والے اللہ تعالیٰ سے جب دعاء مانگتے ہیں، تو وہ ان کی دعائیں قبول فرماتا اور محض اپنے فضل و احسان سے ان کے سوا و استحقاق سے زیادہ عطاء فرماتا ہے۔ ای ویجیب اللہ تعالیٰ الذین امنوا اذا دعوا وحاصلہ یجیب دعاءھم۔ (ویزیدھم) علی ما سالوا واستحقوا (من فضلہ) الواسع جل شانہ (روح ج 25 ص 37) ۔ ” الکفرون لھم عذاب شدید “ یہ تخویف اخروی ہے اور کفار و مشرکین کیلئے سخت ترین عذاب تیار ہے۔
Ayahs 42:26–2727:۔ ” ولو بسط اللہ “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے جب اللہ تعالیٰ اس قدر مہربان ہے کہ بندوں کی توبہ قبول فرما لیتا ہے اور ان کو روزی بھی دیتا ہے، لیکن سب کی روزی فراخ اور وسیع کیوں نہیں کرتا، فرمایا اگر وہ سب کو وسعت اور فراخی سے دولت دیدے تو سب ہی حدود بندگی کو پھاند کر اللہ کے باغی ہوجائیں اور کبر و غرور میں مست ہو کر شر و فساد پھیلا دیں، لیکن اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ سے ہر شخص کو جتنا چاہتا ہے دیتا ہے، وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے، اسے معلوم ہے کہ کون کس مقدار کا مستحق ہے۔ بقدر موصوف، ما یشاء صفت، اور صلہ میں ضمیر عائد محذوف ہے ای یشاءء ہ۔
Ayah 42:2828:۔ ” وھو الذی ینزل “ یہ آیت پہلے دعوے سے متعلق ہے اور توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے جب لوگ بارش سے نامید ہوجاتے ہیں اور انہیں خشک سالی کا اندیشہ لاحق ہوجاتا ہے، اس وقت اللہ تعالیٰ ہی باران رحمت نازل فرما کر اپنی رحمت کو عام کردیتا ہے۔ وہی تمام صفات الوہیت کا مالک اور وہی سب کا کارساز ہے۔ ” ومن ایاتہ الخ “ اس کی وحدانیت اور قدرت کاملہ کے دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اور زمین دی اور جب چاہے سب کو اکٹھا بھی کرسکتا ہے اور جس طرح اس نے سب کو پہلی بار پیدا کرلیا اسی طرح وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” فیھما “ ان دونوں میں حالانکہ جس جاندار مخلوق پر لفظ دابہ صادق آتا ہے وہ صرف زمین پر ہے۔ جو چیز دونوں میں سے ایک پر ہو اس پر یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ چیز ان میں سے ایک پر ہو اس پر یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ چیز ان میں ہے جیسا کہ فرمایا یخرج منہما اللؤلؤ والمرجان، حالانکہ موتی اور مونگا دونوں سے نہیں نکلتے بلکہ صرف سمندر شور سے نکلتا ہے۔ اور اس کی تائید سورة بقرہ (رکوع 20) کی آیت سے ہوتی ہے اس میں ہے وبث فیہا من کل دابۃ وما فی احد الشیئین یصدق انہ فیہما فی الجملۃ، فالایۃ علی اسلوب (یخرج منہما اللؤلؤ والمرجان) وذلک لقولہ تعالیٰ فی البقرۃ (وبث فیہا من کل دابۃ) (روح ج 25 ص 39) ۔
Ayahs 42:29–3029:۔ ” وما اصابکم “ تا ” فمتاع الحیوۃ الدنیا “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ مصیبت سے مراد مشرکین کے لیے عذاب دنیوی ہے جو ان کے عناد و تعنت اور مشرکانہ اعمال کی سزا ہے اور مؤمن کے لیے وہ تکلیفیں مراد ہیں جو بطور امتحان و ابتلاء یا بطور کفارہ گناہ اس پر آتی ہیں۔ یہ مضمون قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں مذکور ہے۔ (1) ظہر الفساد فی البرو البحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یرجعون (روم رکوع 5) ۔ (2) ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ (تغابن رکوع 2) ۔ (3) وما اصاب من مصیبۃ قد اصبتم مثلیھا (آل عمران رکوع 17) ۔ (5) ۔ وما اصابکم یوم التقی الجمعان فباذن اللہ۔ ان تمام آیتوں سے مراد یا مشرکین کے لیے عذاب دنیوی ہے یا مومنوں کے لیے تکالیف مراد ہیں جو بطور امتحان و ابتلاء ان پر آتی ہیں۔ لیکن وہ گناہ جن سے اللہ تعالیٰ درگذر فرماتا اور ان کی سزا دنیا میں نہیں دیتا وہ ان گناہوں سے کہیں زیادہ ہیں جن کی سزا دنیا میں مل گئی۔ ” وما انتم بمعجزین “ اور تم اللہ تعالیٰ کو مصائب وآفات سے عاجز و درماندہ نہیں کرسکتے اور جب اس کی طرف سے مصائب آجائیں، تو اس کے سوا کوئی تمہارا حمایتی اور مددگار نہیں جو تمہیں ان مصائب سے نجات دلا سکے۔
Ayahs 42:31–3230:۔ ” ومن ایتہ الجوار “ یہ بظاہر تو اللہ کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت کے دلائل ہیں، لیکن اس میں تخویف دنیوی کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ پہاڑوں کی مانند بلند بحری جہاز اور بادبانی کشتیاں جو سمندروں اور دریاؤں میں چلتی ہیں، اللہ کی قدرت کاملہ کی واضح دلیل ہے۔ ” ان یشا یسکن الریح “ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کردے اور کشتیاں دریا کی سطح پر کھڑی رہیں۔ ہر و شخص جو مصائب پر صابر ہو اور خوشحالی میں شکر گذار ہو، اس کیلئے اس میں اللہ کی قدرت و عظمت کے واضح دلائل ہیں۔ ان المؤمنین لایخلو من ان یکون فی السراء والضراء، فان کان فی الضراء کان من الصابرین وان کان فی السراء کان من الشاکرین (کبیر) ۔” او یوبقہن الخ ‘ یہ یسکن پر معطوف ہے (روح) اور بوجہ جزم واؤ ساقط ہے یا یوبق کا معطوف علیہ محذوف ہے۔ یعصہن یا یر سلہا عاصفۃ (روح) اس طرح یہ علفتہا تبنا و ماء باردا کے قبیل سے ہوگا لیکن یظلن پر معطوف نہیں ہوسکتا۔ ، کیونکہ ہلاکت کا تعلق سکون ریح سے نہیں ہوسکتا۔ ” و یعلم الخ “ یہ معطوف علیہ مقدر پر معطوف ہے۔ ای لینتقم منہم یا لیظھر عظیم قدرتہ (روح) تاکہ وہ مجرموں سے انتقام لے یا اپنی قدرت کاملہ کو ظاہر کرے اور ہماری آیتوں میں جدال کرنے والوں اور توحید میں اختلاف ڈالنے والوں کو یعنی ان باغیوں کو جنہوں نے توحید کے خلاف لکھا ہے اور ان کو جنہوں نے باغیوں کی تحریروں کو پڑھ کر غیر اللہ کو پکارنا شروع کردیا یقین ہوجائے کہ عذاب الٰہی سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ” فما اوتیتم الخ “ تخویف دنیوی کے بعد فرمایا کہ تم اس دنیا کی چند روزہ زندگی پر مغرور نہ رہو یہ آخرت کے مقابلے میں ہیچ ہے آؤ ایمان قبول کرو اللہ کے حکمنامے کو مان لو تاکہ آخرت کے عذاب سے بچ جاؤ۔
Ayahs 42:33–3631:۔ ” وما عنداللہ “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور یہاں ان تین امور کا بیان بھی ہے جو عذاب خداوندی سے بچاتے ہیں (1) شرک نہ کرو۔ (2) ظلم نہ کرو اور (3) اھسان کرو۔ اللہ کی توحید پر ایمان لانے والوں، شرک نہ کرنے والوں اور ہر معاملے میں اپنے خدا پر بھروسہ کرنے والوں کے لیے اللہ کے یہاں جو اجر وثواب اور انعام وعطاء محفوط ہے وہ دنیوی ساز و سامان سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے۔ اس میں عذاب سے بچنے کیلئے امر اول کا بیان ہے۔ ” والذین یجتنبون الخ “ ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ کبائر و فواحش سے اجتناب کرتے ہیں۔ ظلم بھی کبیر گناہ ہے اور ان کی تیسری صفت یہ ہے کہ جب ان کو غصہ آجائے تو احسان کرتے اور درگذر کرتے ہیں۔
Ayahs 42:37–3832:۔ ” والذین استجابوا “ اس میں دوسرے عنوان سے امور ثلاثہ کا اعادہ کیا گیا ہے برائے تاکید۔ اپنے رب کا حکمنامہ قبول کرتے ہیں اور شرک نہیں کرتے۔ نماز قائم کرتے ہیں اور اپنے تمام امور باہمی مشورے سے طے کرتے ہیں۔ یہ امر اول ہے اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور لوگوں پر احسان کرتے ہیں۔ یہ امر ثانی ہے اور جب ان پر کوئی زیادتی کرتے تو وہ صرف زیادتی کا بدلہ ہی لیتے ہیں لیکن اپنی طرف سے ظلم زیادتی نہیں کرتے۔
Ayahs 42:39–4033:۔ ” وجزاء سیئۃ “ اس میں قانون انتقام کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس شخص سے برائی کی جائے اگر وہ اس کا بدلہ لے تو جائز ہے لیکن زیادتی نہ کرے اور جو شخص دوسرے کے ظلم و زیادتی کو معاف کردے اور اس سے بدلہ نہ لے، بلکہ اس سے صلح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے پاس ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کا اجر عطا فرمائے گا اور اس کا یہ عفو و احسان ضائع نہ ہوگا ایسے لوگوں کو اللہ پسند فرماتا ہے لیکن لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کو اللہ پسند فرماتا ہے لیکن لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔ من ترک القصاص واصلح بینہ وین الظالم بالعفو (اجفرہ علی اللہ) ای ان اللہ یاجرہ علی ذلک (قرطبی ج 16 ص 40) ۔