42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsجواھر القرآن

Ayah 42:41

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جو کوئی بدلہ لے اپنے34 مظلوم ہونے کے بعد سو ان پر بھی نہیں کچھ الزام

34:۔ ” ولمن انتصر بعد ظلمہ “ یہ گذشتہ آیت کے مضمون کی تنویر ہے جو شخص مظلوم ہو اگر وہ ظالم سے ظلم کا بدلہ لے لے تو وہ طعن وملامت کا مستحق نہیں، ” انما السبیل الخ “ یہ ظالم و طاغی کیلئے تخویف اخروی ہے اور یہ پہلی صورت کے مقابلہ میں انتقام کی دوسری صورت ہے۔ یا بتداء ظلم وتعدی کرنے والے مراد ہیں۔ جو لوگ اپنا انتقام لیتے وقت یا ابتداء ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق شر و فساد بپا کرتے اور شرک پھیلاتے ہیں ایسے لوگ قابل مواخذہ ہیں اور ان کے لیے نہایت دردناک عذاب تیار ہے۔ ” ولمن صبر وغفر الخ “ اس میں عفو و درگذر کی ترغیب ہے جو شخص ظالم سے درگذر کرے اور صبر کرے اور اس سے انتقام نہ لے، تو یہ ایک عمل ہے جو شرعاً مطلوب ہے اور اللہ نے اس کا حکم دیا ہے (مظہری، جلالین) ۔
Ayahs 42:42–44

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

الزام تو ان پر ہے جو ظلم کرتے ہیں لوگوں پر اور دھوم اٹھاتے ہیں ملک میں ناحق ان لوگوں کے لیے ہے عذاب دردناک

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور البتہ جس نے سہا) تحمل کیا (اور معاف کیا بیشک یہ کام ہمت کے ہیں

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جس کو راہ نہ سجھائے35 اللہ تو کوئی نہیں اس کا کام بنانے والا اس کے سوا اور تو دیکھے گناہ گاروں کو جس وقت دیکھیں گے عذاب کہیں گے کسی طرح پھرجانے کی بھی ہوگی کوئی راہ

35:۔ ” ومن یضلل اللہ “ یہ دوسرے دعوے سے متعلق ہے جو شخص انصاف کی آنکھیں بند کر کے اور محض ضد وعناد کی وجہ سے باغی اور گمراہی پھیلانے والے پیشواؤں کی تحریفات کو دیکھ کر گمراہی پھیلانے والے پیشواؤں کی تحریفات کو دیکھ کر گمراہ ہوگیا، شرک کرنے لگا اور حاجات میں غیر اللہ کو پکارنے لگا اور اللہ نے اسے توفیق ہدایت سے محروم کردیا، تو اب اس کا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں جو اسے راہ راست پر لاسکے یا اسے اللہ کے عذاب سے بچا کسے۔ ” وتری الظلمین الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن تم یہ منظر دیکھو گے کہ جب مشرکین عذاب جہنم کا مشاہدہ کریں گے تو التجا کریں گے کہ کیا دنیا میں واپس جانے کی کوئی سبیل ہے ؟ تاکہ ہم وہاں جا کر نیک عمل کریں ؟ اور تم یہ بھی دیکھو گے کہ جب ان کو دوزخ میں ڈال دیا جائیگا تو وہ ذلت و خواری سے سرجھکائے ہوں گے اور جھکی جھکی آنکھوں سے دیکھیں گے ان پر ذلت و رسوائی اس قدر غالب ہوگی کہ آنکھ اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکیں گے۔ ” وقال الذین امنوا الخ “ اس وقت ایمان والے خوش ہوں گے اور کہیں گے یا دنیا میں یوں کہتے ہیں۔ ” یوم القیامۃ “ ، خسروا کے متعلق ہے (روح) ۔ یعنی دراصل تو خسارے میں وہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے اہل و عیال کا خسارہ اٹھائیں گے جب خود بھی اور ان کے مشرک اہل و عیال جہنم میں ڈالیں جائیں گے اور دائمی عذاب میں گرفتار ہوجائیں گے سن لو، بیشک مشرکین دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
Ayahs 42:45–46

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تو دیکھے ان کو کہ سامنے لائے جائیں آگ کے آنکھیں جھکائے ہوئے ذلت سے دیکھتے ہوں گے چھپی نگاہ سے اور کہیں وہ لوگ جو ایمان دار تھے مقرر ٹوٹے والے وہی ہیں جنہوں نے گنوایا اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن سنتا ہے گنہگار پڑے ہیں سدا کے عذاب میں

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور کوئی نہ ہوئے ان کے حمایتی36 جو مدد کرتے ان کی اللہ کے سوا اور جس کو بھٹکائے اللہ اس کے لیے کہیں نہیں راہ

36:۔ ” وما کان لہم۔ الایۃ “ قیامت کے دن جب مشرکین عذاب جہنم میں گرفتار ہوں گے تو اس وقت کوئی انکا حمایتی اور مددگار نہیں ہوگا جو اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ دنیا میں جن کو کارساز سمجھ کر پکارتے رہے وہاں ان میں سے کوئی بھی کان نہ آئیگا اور جس کو اللہ تعالیٰ اس کے عناد و تعنت کی وجہ سے اور مہر جباریت کی وجہ سے گمراہ کردے اور توفیق ہدایت سے محروم کردے تو دنیا میں راہ راست پر آنے کی اور آخرت میں جنت تک پہنچنے کی اس کیلئے کوئی سبیل نہیں۔ کوئی اس کا حمایتی اور مددگار اس سے یہ شقاوت دور نہیں کرسکتا من سبیل ای وصول الی الحق فی الدنیا والجنۃ فی العقبی (معالم و خازن ج 6 ص 128) ۔
Ayah 42:47

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

مانو اپنے رب کا حکم اس37 سے پہلے کہ آئے وہ دن جس کو پھرنا نہیں اللہ کے یہاں سے نہیں ملے گا تم کو بچاؤ اس دن اور نہ ملے گا الوپ (مکر جانا) ہوجانا

37:۔ ” استجیبوا لربکم “ یہ دوسرے دعوے سے متعلق ہے اور ثمرہ ہے اور تخویف اخروی بھی ہے یعنی جب باغیوں کی تحریریں حجت نہیں تو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام کو قبول کرو اور صرف اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو اور گمراہوں کی تحریفات کے پیچھے نہ جاؤ۔ اجیبوہ بالتوحید والعبادۃ (جلالین) ۔ قبل اس کے کہ وہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے جس کی آمد کوئی روک نہیں سکتا۔ اور وہ لامحالہ آ کر رہے گا۔ مراد قیامت کا دن ہے یا موت کا دن۔ ای لایقدر احد علی دفعہ وھو یوم القیامۃ و قیل ھو یوم الموت (خازن ج 6 ص 128) ۔ من اللہ، یاتی کے متعلق ہے یا یوم کی صفت ہے۔ (روح) وہ دن نہایت ہولناک ہوگا اس دن نہ تو تم کہیں بھاگ کر جان بچا سکو گے اور نہ اپنے گناہوں کا انکار ہی کرسکوگے کیونکہ وہ تو تمہارے اعمالناموں میں محفوظ ہوں گے۔
Ayah 42:48

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پھر اگر وہ38 منہ پھیریں تو تجھ کو نہیں بھیجا ہم نے ان پر نگہبان تیرا ذمہ تو بس یہی ہے پہنچا دین اور ہم جب چکھاتے ہیں آدمی کو اپنی طرف سے رحمت اس پر پھولا نہیں سماتا اور اگر پہنچتی ہے ان کو کچھ برائی بدلے میں اپنی کمائی کی تو انسان بڑا ناشکرا ہے

38:۔ ” فان اعرضوا “ یہ زجر ہے اور آنحضرت ﷺ کیلئے تسلی ہے اگر مشرکین آپ کی دعوت کو نہیں مانتے اور اس سے اعراض ہی کرتے ہیں تو آپ غم نہ کریں کیونکہ آپ کو ان کا نگران نہیں مقرر کیا گیا کہ ان کو کفر و شرک سے روک کر اسلام پر لائیں۔ آپ کا فریضہ تو صرف تبلیغ دعوت ہے۔ اگر مانتے ہیں تو بہتر، اس میں انہی کا فائدہ ہے اور اگر نہیں مانتے تو اس کی آپ سے باز پرس نہیں ہوگی۔ ” وانا اذا اذقنا الخ “ یہ زجر ہے۔ اور انسان سے کافر مراد ہے (قرطبی) انسان کافر کا یہ حال ہے کہ جب ہم اس کو اپنی نعمت و رحمت سے ہمکنار کرتے ہیں تو ناحق اور ناجائز قسم کی خوشی پر اتر آتا ہے یعنی کبر و غرور سے اکڑ جاتا ہے اور غیر اللہ کی پکار پر خوش ہوتا ہے۔ تائید، ” ذلکم بما کنتم تفرحون فی الارض بغیر الحق “ (حم مومن رکوع 8) ۔ فرح بھا بطر لاجلہا (مدارک ج 4 ص 85) ۔ لیکن اگر اس کے گناہوں کی شامت سے اس پر کوئی مصیبت آجائے تو ایسا ناشکر گذار اور احسان فراموش ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے گذشتہ انعام و احسان کو یکسر بھلا دیتا ہے اور مصیبتوں کو یاد رکھتا ہے (روح، قرطبی) حضرت شیخ فرماتے ہیں مشرک پر جب اللہ کی طرف سے کوئی نعمت آجائے تو اسے اپنے معبودان باطلہ کی مہربانی سمجھتا ہے، لیکن جب اس پر کوئی مصیبت آجائے تو اپنے معبودوں سے مایوس ہو کر ان کا احسان فراموش ہوجاتا اور خدا کو پکارنے لگتا ہے۔
Ayah 42:49

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

اللہ کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں39 پیدا کرتا ہے جو چاہے بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹیاں اور بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹے

39:۔ ” للہ ملک السموات “ یہ عقلی دلیل ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ زمین و آسمان میں وہی متصرف و مختار ہے اور وہی ہر چیز کا خالق ہے۔ اولاد دینا اور اولاد سے محروم کرنا بھی اسی کے اختیار میں ہے، اس معاملے، بکہ ساری کائنات کے نظام میں کوئی دخیل نہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے صرف بیٹیاں عطا کرتا ہے جیسا کہ حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہما السلام) اور جسے چاہتا ہے صرف بیٹے ہی عطا کرتا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں نعمتیں عطا فرما دیتا ہے جیسا کہ خاتم النبیین ﷺ ۔ آپ کے چار صاحبزادے ابراہیم، قاسم، طیب اور طاہر تھے اور چار ہی صاحبزادیاں زینب، ام کلثوم رقیہ اور فاطمہ تھیں۔ ؓ اور جسے چاہتا ہے دونوں نعمتوں ہی سے محروم کردیتا ہے اور وہ ساری عمر اس آرزو میں جیتے ہیں اور آخر اس آرزو کو اپنے سینوں ہی میں لے کر دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ زعم بعضہم ان الایۃ فی الانبیاء علیہم الصلوہ والسلام حیث وھب سبحانہ شعیبا ولوطا (علیہم السلام) اناثا ولابراہیم (علیہ السلام) ذکورا ولرسولہ محمد ﷺ ذکورا واناثا وجعل عیسیٰ ویحیی (علیہما السلام) عقیمین (روح ج 25 ص 54) ۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اپنی حکمت بالغہ کے مطابق جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
Ayah 42:50

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا ان کو دیتا ہے جوڑے بیٹے اور بیٹیاں اور کردیتا ہے جس کو چاہے بانجھ وہ ہے سب کچھ جانتا کرسکتا40

40:۔ ” وما کان لبشر۔ الایۃ “ یہ آیت ” شرع لکم من الدین۔ الایۃ “ کی طرح دوسرے دعوے سے متعلق ہے اور دلیل نقلی کی طرف اشارہ ہے۔ انبیاء سابقین (علیہم السلام) اور خود حضرت خاتم النبیین ﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تین طریقوں سے کلام فرمایا ہے اور انہی تین طریقوں سے ان کی طرف احکام کی وحی فرمائی ہے۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ بیداری میں یا خواب میں کوئی بات دل میں ڈالدے دوسرے لفظوں میں اسے الہام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے ” ان روح القدس نفث فی روعی “ (قرطبی ج 16 ص 53) ۔ ” الا ویا “ الھا ما کما روی نفث فی روعی اور ؤیا فی المنام کقولہ (علیہ السلام) رؤیا الانبیاء وحی وھو کامر ابراہیم (علیہ السلام) بذبح الولد (مدارک ج 4 ص 85) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذبح اسمعیل کے بارے میں وحی اسی نوع کی تھی۔ دوم یہ کہ درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو اور اللہ کا کلام پردے کے ورے سے سنائی دے۔ جیسا کہ کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی ہوئی۔ سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ فرشتے کو انسان کی شکل میں بھیج کر اپنا پیغام دے جیسا کہ جبریل امین کی وساطت سے انبیاء (علیہم السلام) کی طرف انہی تین طریقوں سے مسئلہ توحید وحی فرماتا رہا ہے اور حکم دیتا رہا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کرو اور صرف مجھے ہی پکارو۔ جو باتیں اس وحی ربانی کے خلاف محرفین نے وضع کی ہیں جن میں غیر اللہ کو پکارنے کی اجازت دی ہے وہ باطل اور مردود ہیں۔ اس کی ذات نہایت بلند ہے اور اس کی بات محکم اور پختہ ہے۔
Ayahs 42:51–52

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی آدمی کی طاقت نہیں کہ اس سے باتیں کرے اللہ مگر اشارہ سے یا پردہ کے پیچھے سے یا بھیجے کوئی پیغام لانے والا پھر پہنچا دے اس کے حکم سے جو وہ چاہے تحقیق وہ سب سے اوپر ہے حکمتوں والا

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح بھیجا ہم نے41 تیری طرف ایک فرشتہ اپنے حکم سے تو نہ جانتا تھا کہ کیا ہے کتاب اور نہ ایمان لیکن ہم نے رکھی ہے یہ روشنی اس سے راہ سجھا دیتے ہیں جس کو چاہیں اپنے بندوں میں اور بیشک تو سجھاتا ہے سیدھی راہ

41:۔ وکذلک اوحینا “ یہ دلیل وحی ہے اور ہم نے انہی تین طریقوں سے آپ کی طرف روح کو وحی کیا ہے۔ روح سے مراد مسئلہ توحید ہے یا قرآن جس کی تعلیمات (توحید، رسالت، قیامت، احکام شریعت) دلوں کے لیے حیات جاودانی کا باعث ہیں۔ وسماہ روحا لان القلوب تحیا بہ (بیضاوی) ۔ ” ما کنت تدری الخ “ یہ ماقبل کے لیے علت ہے چونکہ آپ نزول وحی سے قبل قرآن کو اور ایمان تفصیلی حقیقت کو نہیں جانتے تھے اس لیے ہم نے آپ پر وحی سے قرآن نازل کیا اور اس قرآن کو ہدایت کا چراغ روشن اور سراج منیر بنایا تاکہ اس کے ذریعے سے ہر اس شخص کو ہدایت کی راہ دکھائیں جسے ہم چاہیں یعنی جو اخلاص کے ساتھ حق کی تلاش کرے، ضد وعناد سے دور رہے اور نظر انصاف سے اس میں غور و کفر کرے۔ ایمان کی حقیقت میں جس طرح توحید، تقدیر، حشر نشر وغیرہ داخل ہیں، اسی طرح رسالت بھی ایمان کا جزو ہے۔ اور جس طرح دوسرے لوگوں پر دیگر ایمانیات کے ساتھ ساتھ رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح خود آنحضرت ﷺ پر بھی اپنی رسالت پر ایمان لانا ضروری تھا اور وحی سے قبل چونکہ ابھی آپ کو اپنی نبوت کا علم نہیں تھا، اس لیے فرمایا کہ آپ وحی سے پہلے ایمان کی تفصیلی حقیقت سے باخبر نہیں تھے۔ الایمان ھو التصدیق باللہ تعالیٰ و برسولہ (علیہ الصلوۃ والسلام) والنبی ﷺ مخاطب بالایمان برسالۃ نفسہ کما ان امتہ مخاطبون بذلک ولا شک انہ (علیہ السلام) قبل الوحی لم یکن یعلم انہ رسول اللہ وما علم ذلک الا بالوحی (روح ملخصا ج 25 ص 58) ۔ اور آپ بیشک صراط مستقیم کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یعنی اللہ کی توحید کہ اللہ کے سوا کسی کی طرف عبادت نہ کرو اور حاجات میں مافوق الاسباب اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارو۔ اور دیگر شرائع اسلام۔
Ayah 42:53

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

راہ اللہ کی42 اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں سنتا ہے اللہ ہی تک پہنچتے ہیں سب کام

42:۔ ” صراط اللہ الخ “ اس میں دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے یعنی صراط مستقیم (سیدھی راہ) اس اللہ کی راہ ہے جو زمین و آسمان اور ساری کائنات کا ملک اور اس میں متصرف و مختار ہے۔ اس کائنات میں ہر معاملہ اسی کے علم وقدرت سے وابستہ ہے اور یہاں جو کچھ بھی ہوتا ہے اسی کے اختیار و تصرف سے ہوتا ہے۔ وہی متصرف و کارساز ہے اور وہی دعا اور پکار کا مستحق۔ سورة شوری میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” لہ ما فی السموات وما فی الارض۔ وھو العلی العظیم “ (رکوع 1) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 2 ۔ ” فاطر السموات والارض “ تا ” انہ بکل شیء علیم “ (رکوع 2) ۔ نفی شرک فی التصرف و نفی شرک فی العلم۔ 3 ۔ ” شرع لکم من الدین “ تا ” ولا تتفرقوا فیہ “ (رکوع 2) ۔ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف یہی وحی بھیجی گئی کہ صرف اللہ ہی کو پکارو تمام پیغمبروں کا دین ایک تھا۔ 4 ۔ ” وما تفرقوا الا من بعد ماجاء ھم العلم بغیا بینہم (رکوع 2) ۔ باغیوں نے مسئلہ توحید کو سمجھنے کے بعد محض ضد وعناد کی وجہ سے اس میں اختلاف ڈالا۔ 5 ۔ ” وھو الذی ینزل الغیث “ تا ” اذا یشاء قدیر “ (رکوع 3) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 6 ۔ ” للہ ملک السموات والارض “ تا ” انہ علیم قدیر “ (رکوع 5) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ سورة الشوری ختم ہوئی