Ayahs 41:1–22:۔ ” تنزیل۔ الایۃ “ یہ تمہید مع ترکیب ہے۔ یہ مبتدا مقدر یعنی ھذا یا حم (اگر یہ سورت کا نام ہو) کی خبر ہے اور ” من الرحمن الرحیم “ خبر بعد خبر ہے (روح) ۔ یہ حکم نامہ بڑے مہربان اور رحیم بادشاہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ جس پر عمل کرنے میں تمہاری دین و دنیا کی کامیابی و فلاح ہے۔ اس لیے اس کو مانو، آنکھوں سے لگاؤ، اس میں غور و فکر کرو اور اسے اپنی زندگی کا لائحہ عمل بناؤ۔ ” کتب فصلت ایتہ “ یہ حسب سابق یا تو خبر بعد خبر یا تنزیل سے بدل ہے یا مبتدا محذوف کی خبر ہے اور ” فصلت ایتہ “ کتاب کی صفت ہے (مدارک و روح) ۔ یعنی یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی تمام آیتیں ایک دوسری سے الگ اور ممتاز ہیں اور اپنے اپنے مفہوم میں واضح ہیں۔ قالہ الشیخ رحمۃ اللہ تعالی۔ ” قرانا عربیا “ یہ کتاب سے حال ہے۔ یعنی کتاب عربی زبان میں نازل کی گئی۔ ” لقوم یعلمون “ اہل علم و نظر کے لیے جو اس کی زبان کو جانتے ہوں اور اس میں غور و فکر کریں اور دل میں انابت ہو ضد نہ ہو۔ نزل منزلۃ اللازم ای لقوم ذوی علم ونظر لا لمن اعرض عنہا (مظہری جلد 8 ص 280) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں، یعلمون ای ینیبون۔ یہ بھی تفسیر باللازم ہے۔ کیونکہ صحیح علم و نظر کو انابت لازم ہے ” بیشرا و نذیرا “ یہ قرانا کی صفتیں ہیں (مدارک) ۔ یہ قرآن ماننے والوں کو جنت کی خوشخبری دیتا اور نہ ماننے والوں کو عذاب سے ڈراتا ہے۔
Ayahs 41:3–43:۔ ” فاعرض اکثرھم “ تا ” اننا عملون “ یہ منکرین پر زجر ہے اور پہلا شکوی ہے چاہئے تو یہ تھا کہ وہ ایسی عظیم الشان اور جلیل القدر کتاب کو سینوں سے لگاتے۔ لیکن انہوں نے اس سے اس طرح منہ موڑا کہ اسے سمجھنا اور اس میں غور وفکر کرنا تو درکنار وہ اسے سنتے بھی نہیں۔ ان کے نہ سننے اور اعراض کو آگے تین تعبیروں سے ذکر کیا گیا ہے۔ اول، ” وقالوا قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ۔ ماتدعونا الیہ “ سے مسئلہ توحید مراد ہے جو سورة مومن کا دعوی ہے۔ ” ما تدعونا الیہ من التوحید “ (مدارک مظہری) ۔ یعنی ہمارے دل تہ بتہ پردوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ اس لیے تیرے اس مسئلہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ بات ہماری سمجھ سے بالا تر ہے کہ ہمارے یہ معبود سب عاجز ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے اور یہ کہ ہمارے باپ دادا سب باطل پرست اور گمراہ تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ سمجھتے تو تھے لیکن اپنے عقیدے کے مخالف ہونے کی وجہ سے انکار کرتے تھے۔ محض ضداً اور عناداً ۔ دوسری تعبیر ” وفی اذاننا وقر “ ہمارے کان تیرے کلام سے بہرے ہیں، تیرا کلام ہمارے کانوں میں داخل ہی نہیں ہوسکتا۔ تیسری تعبیر ” ومن بیننا وبینک حجاب “ تیرے اور ہمارے درمیان ایک پردہ حائل ہے یعنی ہمارا دین تیرے دین سے الگ ہم بہت سے معبودوں کے پجاری ہیں اور تو صرف ایک خدا کا قائل ہے۔ یہ اختلاف دین ایک ایسا دبیز پردہ ہے جو ہمیں تیری بات سننے اور سمجھنے سے روکتا ہے یہ سب اعراض اور عدم قبول سے کنایات اور اس کی تمثیلات ہیں۔ ” فاعمل اننا عملون “ جا میاں تو اپنا کرم کر تیری بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ ہم تو وہی کچھ کریں گے جو ہمارے باپ دادا کرتے آرہے ہیں۔
Ayahs 41:5–64:۔ ” قل انما انا بشر “ یہ مشرکین کے قول ” ومن بیننا وبینک حجاب “ یعنی ہمارے اور تیرے درمیان پردہ حائل ہے کا جواب ہے۔ فرمایا کہ اس کے جواب میں کہہ دو کہ میں کوئی فرشتہ یا جن نہیں ہوں کہ جس سے افہام و تفہیم میں دشواری ہو، بلکہ میں تو ایک بشر اور انسان ہوں جس کی بات تم آسانی سے سمجھ سکتے ہو۔ اگر ایک بار بات سمجھ میں نہ آئے، تو بار بار دریافت کر کے اطمینان کرسکتے ہو۔ لست ملکا ولا جن یا لایمکنکم التلقی منہ وھو رد لقولہم بیننا وبینک حجات (روح ج 24 ص 97) ۔ ” یوحی الی انما الہکم الہ واحد “ یہ مشرکین کے قول ” قلوبنا فی اکنۃ الخ “ ، کا جواب ہے یعنی میں تمہیں کسی ایسی بات کی دعوت نہیں دے رہا جو عقل وفہم سے بالا تر ہو بلکہ میں تو تمہیں اللہ کی توحید کی طرف دعوت دیتا ہوں جو دلائل عقل نقل سے ثابت ہے۔ ای ولا ادعوکم الی ماتنبو عنہ العقل وانما ادعوکم الی التوحید الذی دلت علیہ دلائل العقل و شہدت لہ شواھد السبع وھذا جواب عن قولہم قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ وفی اذاننا وقر (روح) اس لیے تم توحید اور اخلاص عبادت کے ساتھ سیدھے اللہ کی طرف چلو۔ اس سیدھی راہ سے دائیں بائیں نہ جھکو، غیر اللہ کو معبود اور کارساز نہ بناؤ۔ اور شرک کی خدا سے معافی مانگو۔ فاستو وا الیہ بالتوحید واخلاص العبادۃ غیر ذاھبین یمینا وشمالا ولا ملتفتین الی ما یسول لکم الشیطان من اتخاذ الاولیاء والشفعاء (مدارک ج 4 ص 67) ۔
5:۔ ” وویل للمشرکین۔ الایتین “ شکوی اولی کے بعد تخویف اخروی ہے۔ جو لوگ اللہ کی طرف سیدھے نہ چلیں، بلکہ راہ توحید کو چھوڑ دیں وہ مشرک ہیں اور ان مشرکین کے لیے ہلاکت اور بربادی ہے جو اللہ کی توحید کو نہیں مانتے اور آخرت کا بھی انکار کرتے ہیں۔ یہ سورت مکی ہے اور زکوۃ مدینہ میں ہجرت کے دوسرے سال فرض ہوئی۔ اس لیے یہاں زکوۃ سے زکوۃ مال نہیں بلکہ زکوۃ نفس مراد ہے یعنی شرک اور تمام رذائل و اخلاق سے نفس کو پاک رکھنا۔ حضرت ابن عباس اور عکرمہ فرماتے ہیں یعنی الذین لا یشہدون ان لا الہ الا اللہ (ابن کثیر ج 4 ص 92، خازن و معالم ج 6 ص 104، قرطبی ج 15 ص 340، روح ج 24 ص 98) ۔
Ayahs 41:7–86:۔ ” ان الذین امنو۔ الایۃ “ یہ سیدھی راہ پر چلنے والوں اور توحید پر قائم رہنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے ان لوگوں کے لیے آخرت میں جو اجر وثواب اور انعام و اکرام مقدر ہے وہ دائمی ہوگا۔ اور کبھی ختم نہیں ہوگا۔ غیر ممنون قال ابن عباس غیر مقطوع (قرطبی ج 15 ص 341) ۔
Ayah 41:97:۔ ” قل ائنکم “ تا ” ذلک تقدیر العزیز العلیم “ یہ پہلی عقلی دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی متصرف اور مالک و مختار نہیں۔ حاصل دلیل یہ ہے کہ کیا تم اس قادر و مطلق کے ساتھ کفر کرتے اور غیروں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہو جو یہ سب کام سرانجام دینے والا ہے اور جن کو تم اس کے سوا متصرف اور کارساز سمجھ کر پکارتے ہو وہ ان کاموں میں سے کوئی کام بھی نہیں کرسکتے۔ ” وتجعلون لہ اندادا “ یہ تکفرون بالذی الخ “ کی تفسیر ہے واؤ تفسیر یہ ہے اور دوسرے جملے کا پہلے جملے پر عطف تفسیری ہے کیونکہ مشرکین مکہ ذات باری تعالیٰ کے منکر نہیں تھے۔ جیسا کہ ” لیقولن اللہ “ سے ان کا اعتراف ظاہر ہے۔ ” ذلک رب العلمین “ یعنی جس طرح پیدا کرنے والا وہی ہے اسی طرح مربی اور پرورش کنندہ بھی وہی ہے۔
Ayah 41:108:۔ ” وجعل فیہا رواسی “ زمین پر پہاڑ رکھ دئیے تاکہ وہ اپنی جگہ قائم رہے ” وبارک فیہا “ اور اس میں انسانوں کے لیے برکات و منافع ودیعت فرمادئیے اور ساری مخلوق کے لیے پورے اندازے کے ساتھ روزی اور معاش کا سامان اس میں رکھ دیا۔ زمین کو ساری مخلوق (انسان، جن، چوپائے، پرندے، حشرات الارض وغیرہ وغیرہ ) ۔ کی تمام ضروریات زندگی کا مخزن بنادیا جس سے مخلوق خدا حسب ضرورت قیامت تک استفادہ کرتی رہے گی اور زمین کے خزانوں سے ان کی تمام ضروریات زندگی پوری ہوتی رہیں گی۔ کوئی چیز ایک علاقے میں وافر پیدا کردی اور کوئی چیز دوسرے علاقہ میں۔ تاکہ لوگ مل جل کر اور امداد باہمی کے ساتھ زندگی بسر کریں اور ہر علاقہ کے لوگوں کو ضروریات زندگی میسر ہوں۔ قال عکرمۃ والضحاک معنی (قدر فیہا اقواتھا) ای ارزاق اھلہا وما یصلح لمعاشہم من التجارات والاشجار والمنافع فی کل بلدۃ مالم یجعلہ فی الاخری لعیش بعضہم من بعض بالتجارۃ والاسفار من بلد الی بلد (قرطبی ج 15 ص 342، خازن و معالم ج 6 ص 105، مدارک ج 4 ص 68) ۔ اگر آبادی میں اضافہ ہوجائے تو روتی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی (پیدائش کو روکنے کا منصوبہ) کی ضرورت نہیں اور نہ یہ منصوبہ اس مسئلہ کا صحیح حل ہے۔ بلکہ اس مسئلہ کا صحیح حل یہ ہے کہ ہر انسان کو اپنی تمام جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں اور مالی وسائل کو بروئے کار لانے کا موقع دیا جائے تاکہ ہر انسان زمین میں پوشیدہ خدائی خزانوں سے اپنی روزی حاصل کرسکے۔ ” فی اربعۃ ایام “ یعنی دو دن میں زمین پیدا کی اور دو دن میں برکات و منافع اور ارزاق و اقوات مقدر کیے گئے۔ اس طرح یہ سارا کام چار دنوں میں مکمل ہوا اور مراد چار دنوں کی مدت کا اندازہ ہے، کیونکہ اس وقت دن رات کا وجود نہیں تھا۔
9:۔ ” سواء للسائلین “ ” سواء “ میں تینوں قراءتیں ہیں۔ اول مجرور، اس صورت میں یہ ایام کی صفت ہوگی۔ دوم مرفوع۔ اس صورت میں یہ مبتدا محذوف کی خبر ہوگی اور جملہ ایام کی صفت ہوگا۔ سوم منصوب، اس صورت میں سواء، اربعۃ ایام سے حال ہوگا۔ تینوں صورتوں میں وقت سواء پر ہوگا اور مطلب یہ وگا کہ پورے چار دنوں کے اندازے میں یہ سب کام مکمل ہوا۔ اس میں ایک منٹ کا بھی فرق نہ تھا اور ہر حال میں للسائلین، قدر سے متعلق ہوگا۔ اور سائلین بمعنی محتاجین ہوگا۔ یعنی محتاجوں کے لیے زمین میں رزق کے خزانے رکھ دئیے یا سواء فعل متعدی سوی کا فعل مطلق ہے اور للسائلین، سوی سے متعلق ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا کہ یہ کام کتنی مدت میں مکمل ہوا۔ تو جواب میں فرمایا یہ تعداد سائلین کے علم کے موافق اور مطابق ہے۔ کیونکہ ان سائلین کو کتب آسمانی تورات و انجیل کے پڑھنے سے یا علماء اہل کتاب سے سننے کی وجہ سے اس کا علم تھا۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔
Ayah 41:1110:۔ ” ثم استوی “ پھر اس نے آسمانوں کی تخلیق کا ارادہ فرمایا۔ تو ان کا مادہ بخار کی مانند تھا۔ ” فقضھن الخ تو دو یوم کی مقدار میں اس مادہ دخانیہ سے ساتوں آسمان پیدا فرمائے اور اس طرح زمین و آسمان کی تخلیق چھ ایام میں مکمل ہوئی جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” ان ربکم الذی خلق السموات والارض فی ستتۃ ایام “ (الاعراف :54) ۔ ” واوحی فی کل سما 4 امرھا “ یعنی ہر آسمان میں فرشتے پیدا کیے اور ان کو اپنے اوامر سے آگاہ فرمایا۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔ یا مطلب یہ ہے کہ ہر آسمان میں اپنی حکمت بالغہ کے فرشتے پیدا کیے اور دیگر امور کا فیصلہ فرمایا۔ ای ورتب مقدارا فی کل سماء ما تحتاج الیہ من الملئکۃ وما فیہا من الاشیاء التی لا یعلمہا الا ھو (ابن کثیر ج 4 ص 93) ۔
11:۔ ” فقال لہا “ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد دونوں کو حکم دیا کہ تمہیں جن منافع اور مصالح و مقاصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے ان کو ادا کرو اور ان کو بجا لاؤ۔ یہ کام تمہیں کرنا ہی ہوگا۔ خوشی سے کرو یا مجبور ہو کر۔ تو دنوں نے زبان حال سے جواب دیا۔ ہم اس خدمت کو انجام دینے کے لیے بخوشی حاضر ہیں۔ ای ائتیا ما امرتکما بہ ای افعلاہ۔ وقال طاؤس عن ابن عباس ائتیا اعطیا یعنی اخرجا ماخلقت فیکما من المنافع لمصالح العباد (خازن و معالم ج 6 ص 106) ۔ جیسا کہ سورة احزاب رکوع 9 میں ہے۔ ” انا عرضنا الامانۃ علی السموات ولا ارض والجبال۔ الایۃ “۔ زمین و آسمان نے بخوشی اللہ تعالیٰ کی اطاعت قبول کرلی۔ لیکن انسان کے سپرد جو امانت کی گئی کہ صرف اللہ کی عبادت کرے اور صرف اسی کو پکارے اور اس کے تمام احکام بجا لائے اس نے اس امانت کا حق ادا نہ کیا۔ اللہ کے ساتھ شریک بنائے اور اس کے احکام کی مخالفت کی۔ قال بعض الکلام علی التقدیم والتاخیر والاصل ثم استوی الی السماء وھی دخان فقضاھن سبع سموات الخ۔ ” فقال لہا وللارض ائئتیا الخ “ وھو ابعد عن القیل والقال الا انہ خلاف الظاھر۔ (روح ج 24 ص 103) ۔
Ayah 41:1212:۔ ” وزینا السماء “ وحفظا فعل حفظناھا کا مفعول مطلق ہے اور ہم نے سب سے نچلے آسمان کو شمعوں کی مانند روشن ستاروں سے آراستہ کردیا اور آسمانوں کو ہر قسم کی آلات و حادثات یا شیاطین سے محفوظ کردیا۔ ستارے فضا میں معلق ہوں۔ جیسا کہ جدید سائنسدانوں کا خیال ہے یا آسمانوں سے اوپر کرسی (آٹھویں آسمان) میں مرکوز ہوں جیسا کہ قدیم ریاضی دانوں کا نظریہ ہے۔ ہر حال میں وہ پہلے آسمان ہی کی زینت و آرائش ہیں۔
13:۔ ” ذلک تقدیر العزیز العلیم “ یہ سب کچھ اس قادر وعلیم کی تدبیر وتقدیر ہے جو ہر چیز پر قادر اور سب پر غالب ہے اور جس کے علم محیط سے کوئی چیز باہر نہیں۔ یہ سارا نظام کائنات اس نے ایک نہایت ہی محکم طریقہ و تدبیر سے برپا کیا ہے اور یہ اس کی قدرت و حکمت سے قائم ہے۔
Ayah 41:1314:۔ ” فان اعرضوا “ یہ پہلی عقلی دلیل کے بعد زجر اور تخوید دنیوی ہے۔ اگر وہ توحید سے اعراض کرتے ہیں تو آپ فرما دیں، اچھا قوم عاد وثمود کا حال سنو، اعراض وجحود کی وجہ سے ان کا کیا حشر ہوا۔ اعراض و انکار اور جحود وعناد پر قائم رہو گے تو میں تمہیں اسی قسم کے ہولناک عذاب سے ڈراتا ہوں۔ جس طرح کا عذاب عاد وثمود پر نازل ہو۔ ای انذرک عذاب مثل عذابہم قال قتادۃ (روح ج 24 ص 109) ۔
Ayah 41:1415:۔ ” اذجاءتہم “ جب ان کے پاس اللہ کے پیغمبر ہر طرف سے آئے یعنی انہوں نے ہر ممکن طریق سے ان کو سمجھایا ” الا تعبدوا الا اللہ “ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور حاجات میں مافوق الاسباب اس کے سوا کسی کو نہ پکارو یہ وہ دعوی (حکمنامہ) ہے جو سورة مومن میں ذکر کیا گیا ہے۔ ولمراد باتیانہم من جمیع الجہات بذل الوسع فی دعوتہم علی طریق الکنایۃ (روح ج 24 ص 110) ۔ تو مشرکین نے انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کے جواب میں کہا کہ ہم ان پیغمبروں کو نہیں مانتے جو بشر ہیں اور کھانے پینے کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیجنا منظور ہی تھا تو وہ فرشتوں کو پیغمبر بنا کر بھیجتا، اس لیے ہم اس پیغام توحید کو نہیں مانتے جسے تم لے کر آئے ہو۔
Ayah 41:1516:۔ ” فاما عاد “۔ قوم عاد کو اپنی قوت و شوکت پر ناز تھا اس لیے کبر اور غرور پر اتر آئے اور کہنے لگے کون ہے جو قوت میں ہم سے فائق اور برتر ہے ؟ ” اولم یرو ان اللہ الخ “ یہ ادخال الٰہی ہے۔ فرمایا ان نادانوں نے یہ نہیں سوچا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا اور قوت عطا کی وہ ان سے بھی زیادہ قوی اور طاقت ور ہے لیکن انہیں یہ سمجھنے کی توفیق نہ ملی اور وہ ہماری آیتوں کا مسلسل انکار ہی کرتے رہے بلکہ غرور و استکبار کی وجہ سے ان کو سننا بھی گوارہ نہ کیا۔
Ayah 41:1617:۔ ” فارسلنا علیہم “ قوم عاد کا متکبرانہ دعوے تھا کہ قوت اور طاقت میں ان سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے ایک معمولی سی چیز یعنی تند و تیز ہوا بھیج کر ان کے غرور و استکبار کی گردن توڑ دی اور اس سے سب کو ہلاک کر کے دنیا ہی میں ذلیل ورسوا کردیا۔ ” ایام نحسات “ نحس اور برے دن یہ نحس اور برے قوم عاد کے حق میں تھے اس لیے کہ اسلام میں کوئی دن فی نفسہ نحس نہیں۔ یہ رسوائی تو دنیا میں ہوئی اور آخرت میں انہیں جو عذاب دیا جائے گا وہ اس سے بھی زیاد ذلت آمیز اور رسوا کن ہوگا۔ اور پھر کہیں سے مدد بھی نہیں مل سکے گی۔ تاکہ اللہ کے عذاب سے چھوٹ سکیں۔
Ayah 41:1718:۔ ” وما ثمود “ قوم ثمود کو بھی ہم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے ذریعے سے مسئلہ توحید سنایا۔ لیکن انہوں نے سننے کے بعد ہادیت پر گمراہی کو ترجیح دی تو ذلت آمیز عذاب کی بجلی نے ان کو آلیا اور سب کو بھسم کر کے رکھدیا۔ یہ سزا ان کو ان کے اعمالِ مشرکانہ کی وجہ سے دی گئی قوم عاد قوم ثمود سے زیادہ سرکش تھی۔ کیونکہ اسے تو مسئلہ توحید کو سننا بھی گوارہ نہ تھا اور طغیان وعدوان پر اتر آئے ان دونوں قوموں میں یہی فرق تھا۔ جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا۔ ” انا نخاف ان یفرط علینا او ان یطغی “ یعنی ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہماری بات ہی نہ سنے اور زیادتی پر اتر آئے قوم عاد کی طرح یا بات تو سن لے لیکن طغیان وتعدی پر کمر باندھ لے قوم ثمود کی طرح۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔
Ayah 41:1819:۔ ” ونجینا الذی امنوا۔ الایۃ “ یہ ایمان والوں کے لیے بشارت دنیوی ہے۔ قوم عاد وثمود میں سے جو لوگ اللہ کی توحید پر ایمان لائے اور انبیاء (علیہم السلام) کی رہنمائی میں نیک عمل کیے اللہ نے انہیں دنیا کے رسوا کن عذاب سے بچا لیا۔
Ayah 41:19ف 20:۔ ” ویوم یحشر “ تا ” فما ھم من المعتبین “ تخویف دنیوی کے بعد تخویف اخروی کا بیان ہے۔ قیامت کے دن جب دشمنانِ خدا (کفار و مشرکین) کو دوزخ کی طرف ہانک کرلے جایا جائے گا۔ تو جہنم کے کنارے پر انہیں روک دیا جائے گا۔ تاکہ سب جمع ہوجائیں۔ قال قتادۃ والسدی یحبس اولہم علی اخرھم حتی یجتمعوا (قرطبی ج 15 ص 350) ۔
Ayah 41:20پر جمع ہوجائیں گے تو کہیں گے بار الٰہا ! ہمیں کراماً کاتبین کی گواہی منظور نہیں انہوں نے خواہ مخواہ ہمارے اعمالناموں میں ایسے گناہ لکھ دئیے ہیں جو ہم نے کبھی نہیں کیے تھے۔ اس لیے ہمیں اپنے گھر کے گواہوں کے سوا کسی کی گواہی پر اعتماد نہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا۔ اور ان کے ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضاء کو بولنے کی طاقت عطا کردے گا۔ تو وہ اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ ” الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیہم و تشہد ارجلہم بما کانوا یکسبون (یس رکوع 4) قال رسول اللہ صلی اللہ علی ہو سلم عجبت من مجادلۃ العبد ربہ یوم القیامۃ یقول ای رب الیس وعدتنی ان لا تظلمنی قال بلی، فیقول فانی لا اقبل علی شاھد الا من نفسی فیقول اللہ تبارک و تعالیٰ اولیس کفی بی شہیدا و بالملائکۃ الکرام الکاتبین، قال فیردد ھذا الکلام مرارا۔ قال فیختم علی فیہ وتتکلم ارکانہ بما کان یعمل (ابن کثیر ج 4 ص 95) ۔
Ayah 41:2122:۔ ” وقالوا لجلودھم “ جب مشرکین اپنے ہی اعضاء کی اپنے خلاف گواہی سنیں گے تو اپنے اعضاء سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی حالانکہ ہم دنیا میں تمہاری ہر آفت سے حفاظت کرتے تھے۔ تو اعضاء جواب دیں گے کہ ہم اپنے اختیار سے نہیں بولے۔ ہمیں تو اس ذات قادر وقیوم نے بولنے کی طاقت دی ہے۔ جس نے ہر ناطق کو قوت نطق عطا فرمائی ہے اور جو تمہیں پہلی بار اور پھر دوسری بار پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے جب اس نے ہمیں بولنے کی قوت دی اور پھر بول کر تمہارے خلاف گواہی دینے کا حکم فرمایا۔ تو ہم کس طرح اس کے حکم کی تعمیل نہ کرتے۔
Ayah 41:2223:۔ ” وما کنتم تستترون “ تا ” فاصبحتم من الخسرین “۔ یہ اعضاء کا کلام ہے یا ادخال الٰہی ہے۔ ” ان یشہد “ سے پہلے ” من “ مقدر ہے۔ تم گناہ کرتے وقت انسانوں سے تو چھپ سکتے تھے، لیکن اپنے ہی اعضاء سے تم نہیں چھپ سکتے تھے کہ مبادا وہ تمہارے خلاف گواہی دے دیں۔ بلکہ گناہوں کا ارتکاب تم نے ان ہی اعضاء سے کیا۔ اس لیے ان سے چھپنا ناممکن تھا۔ بلکہ تمہارے اعمال سے تمہارے آخرت سے اعراض اور لذات عیش میں انہماک سے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تم یہ سمجھتے تھے کہ خدا خود بھی تمہارے اکثر اعمال سے باخبر نہیں۔ یعنی پوشیدہ اعمال کو نہیں جانتا۔ ممکن ہے بعض کفار کا فی الحقیقۃ یہی اعتقاد ہو جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے۔ کان الکفار یقولون ان اللہ لا یعلم ما فی انفسنا ولکنہ یعلم مایظھر (خازن ج 6 ص 109) ۔
Ayah 41:2324:۔ ” و ذلکم ظنکم “ ذلکم موصوف، ظنکم الخ صفت۔ موصوف صفت مبتدا۔ ” ارداکم “ خبر (مدارک) ۔ اس عالم الغیب والشہادۃ کے بارے میں تمہارے اسی گمان نے، کہ وہ تمہارے چھپے اعمال نہیں جانتا، تم کو تباہ و برباد کیا۔ اسی خیال سے تم گناہوں میں منہمک رہے اور دین و دنیا میں خسارہ اٹھا۔ ” فان یصبروا۔ الایۃ “ وہ صبر کریں، تو بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور اگر جزع فزع کریں اور معذرت کریں، تو بھی ان کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ ہر حال میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اس سے اب ان کے لیے کوئی مفر نہیں۔
Ayahs 41:24–2525:۔ ” وقیضنا لہم “ یہ دوسرے شکوے کی تمہید ہے اور اس سورت کا مقصود ہی مقام ہے۔ سورة مومن کے مرکزی دعوے پر جو اعتراض اور شبہہ وارد ہوتا تھا۔ اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ شبہہ یہ ہے کہ تم کہتے ہو کہ مصائب و حاجات میں اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو، اس لیے کہ اس کے سوا کوئی متصرف و مختار اور کارساز نہیں۔ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہوجائے اور غیر اللہ کو پکارے یا غیر اللہ کے نام نذر و منت مانے، تو وہ مصیبت سے چھوٹ جاتا ہے۔ نیز بعض اوقات پیر و مرشد اور بزرگان دین اپنے عقید مندوں کو خواب میں ملتے ہیں یا کبھی بیداری ہی میں سامنے آجاتے ہیں تو کہتے ہیں یہ تکلیف تمہیں اس لیے آئی کہ تم نے ہمیں پکارا نہیں یا ہماری نذر و نیاز میں قصور کیا ہے۔ اور بعض دفعہ وہ پکارنے والے کے سامنے حاضر ہو کر اس کی مدد بھی کرتے ہیں تو اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ ایسے ضدی اور معاند لوگ جن کے ضمیر مردہ ہوچکے ہوں اور ان کے دلوں پر مہر جباریت ثبت ہوچکی ہو۔ ان پر شیاطین مسلط کردئیے جاتے ہیں جو ہر ممکن طریقہ سے انہیں گمراہی میں آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ اور کفر و شرک اور ہر گناہ کو ان کی نظروں میں مزین اور خوب صورت بنا کر پیش کرتے ہیں وہ خود ہی مس شیطانی سے انسان کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ جب وہ غیر اللہ کو پکارتا ہے، تو اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ کبھی بزرگان دین اور اولیاء کرام کی شکلوں میں متمثل ہو کر خواب میں یا بیداری میں سامنے آ کر گمراہ کرتے ہیں۔ اور شرک کی تعلیم دیتے ہیں۔ سلطانا علیہم قرناء یزینون عندھم المعاصی وھؤلاء القرناء من الجن والشیاطین ومن الانس ایضا (قرطبی ج 15 ص 354) ای بعثنا ووکلنا لھم نظراء من الشیاطین حتی اضلوھم (معالم و خازن ج 6 ص 110) ۔ ولا یغرنک انا لمستغیث بمخلوق قد تضی منہ عز و جل۔ وقد یتمثل الشیطان للمستغیث فی صورۃ الذی استغاث بہ۔ فیظن ان ذلک کر امۃ لمن استغاث بہ، ھیھات ھیھات انما ھو شیطان اضلہ واغواہ وزین لہ ھواہ، وذلک کما یتکلم الشیطان فی الاصنام لیضل عبد تھا الطعام (روح ج 6 ص 129) ۔ یہی مضمون ایک دوسری جگہ اس طرح ذکر کیا گیا ہے۔ ” ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطانا فھو لہ قرین، وانہم لیصدونہم عن السبیل ویحسبون انہم مہتدون “ (زخرف رکوع 4) ۔ شیخ شہاب الدین سہروردی عوارف المعارف میں فرماتے ہیں کہ جب شیطان کسی کو گمراہ کرلیتا ہے تو اس کو ذکر میں مصروف کر کے اس کا دل بہلاتا ہے۔ تاکہ وہ شرک پر متنبہ نہ ہوجائے۔ عارف رومی نے کہا ہے : برزبان نام حق، برجانِ شان، گند و کفر و شرک بر ایمان شان۔
26:۔ ” ما بین ایدیہم “ یہ کنایہ ہے۔ ” من کل جانب “ سے یعنی شیطاطین، مشرکین کو ہر ممکن طیرق سے گمراہ کرتے ہیں، اور انہیں شرک کی حمایت کا حیلہ بتاتے ہیں۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔ یا اس سے دنیوی اور اخروی امور مراد ہیں یعنی شیاطین ان کو اتباع شہوات اور تکذیب آخرت پر آمادہ کرتے ہیں (مظہری) وحق علیہم القول۔ فی بمعنی مع ہے۔ یا مضاف مقدر ہے ای فی جملۃ امم (مدارک، قرطبی) ۔ ان مشرکین مکہ پر اور ان سے پہلے جن وانس میں سے جو امم کافرہ گذر چکی ہیں۔ ان سب پر عذاب الٰہی کا فیصلہ ثابت ہوچکا ہے یہ لوگ دنیا میں بھی خائب و خاسر رہے کہ سب اعمال رائیگاں ہوئے اور آخرت میں بھی ناکام و نامراد ہوں گے کہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 41:2627:۔ ” وقال الذین۔ الایۃ “ یہ دوسرا شکوی ہے اور پہلے سے علی سبیل الترقی ہے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ وہ خود اعراض کرتے ہیں اور سنتے نہیں۔ یہاں فرمایا کہ یہ منکرین دوسرے لوگوں کو بھی قرا ان سننے سے روکتے ہیں اور کہتے ہیں جب قرآن پڑھا جائے تو اسے مت سنو، بلکہ شور و غوغا بپا کردو۔ تاکہ تم پڑھنے والے (محمد ﷺ پر غالب آجاؤ۔ اور وہ خود بھی پریشان ہوجائے۔ اور کوئی دوسرا بھی نہ سن سکے۔ یا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا خرافات اور بےہودہ اعتراضات سے مقابلہ کرو تاکہ قرآن کی طرف لوگوں کے دل مائل نہ ہوسکیں اور تم غالب ہوجاؤ۔ عارضوہ بالخرافات او ارفعوا اصراتکم بھا تشوشوہ علی القارئ (بیضاوی) قال ابو العالیۃ وابن عباس ایضا قعوا فیہ ویبوہ لعلکم تغلبون محمدا علی قراءت ہ فلا یظھر ولا یستمیل القلوب (قرطبی ج 15 ص 356) ۔
Ayah 41:2728:۔ ” فلنذیقن “ شکوی ثانی کے بعد تخویف اخروی ہے۔ ہم کفار و مشرکین کو شدید ترین عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ اور ان کے بدترین اعمال (کفر و شرک) کی ان کو سخت ترین سزا دیں گے۔ ” ذلک “ مبتدا، مذکورہ بالا سخت ترین سزا کی طرف اشارہ ہے۔ ” جزاء الخ “ خبر اور ” النار “ جزاء کا عطف بیان (مدارک و مظہری) ۔ اللہ کے دشمنوں کی جزا یہی ہے۔ آگ، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ اس جرم کی سزا ہے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے۔
Ayahs 41:28–2929:۔ ” وقال الذین۔ الایۃ “ یہ آیت مشرک پیشواؤں، گمراہ کن پیروں اور ان کے متبعین کے حق میں ہے قیامت کے دن جب مشرکین جہنم کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ تو غیظ و غضب سے کہیں گے : ہمارے پروردگار ! ذرا ہمیں وہ شیاطین جن اور شیاطین انس (گمراہ کرنے والے مشرک پیشوا) تو دکھاوے جنہوں نے ہمیں سیدھی راہ سے بھٹکایا اور توحید سے ہٹا کر شرک کی راہ پر ڈالا۔ ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے روند ڈالیں اور مسل دیں اور اس طرح آج ان کو سرِ محشر ذلیل ورسوا کریں۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ڈالیں۔ تاکہ انہیں سب سے زیادہ سخت عذاب ہو (بیضاوی) ۔
Ayah 41:3030:۔ ” ان الذین قالوا “ تخویف منکرین کے بعد مؤمنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ جن لوگوں نے اللہ کی وحدانیت اور اس کی ربوبیت کا اعتراف کیا اور پھر اسی پر قائم رہے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا۔ اخلاص و احسان کے ساتھ اس کی اطاعت (اور اداء فرائض واجتناب محرمات) پر گامزن رہے اور ترک اطاعت کیلئے حیلے بہانے تلاش نہ کیے۔ عن ابی بکر الصدیق ؓ انہ قال ثم استقاموا لم یشرکوا باللہ شیئا۔ عن عمر ؓ اسقتقاموا واللہ علی الطریقۃ لطاعتہ ثم لم یرو غواروغان الثعالب وقال عثمان ؓ ثم اخلصو العمل للہ وقال علی ؓ ثم ادوا الفرائض (قرطبی ج 15 ص 358) ۔
31 ۔ ” تتنزل “ قیامت کے دن اللہ کی طرف سے فرشتے انہیں خوشخبری سنائیں گے کہ آج تمہیں کوئی خوف اور غم نہیں۔ تمہیں وہ باغ بہشت مبارک ہو جس کا تمہیں دنیا میں وعدہ کیا گیا تھا۔ ” نحن اولیاء کم “ یہ بھی فرشتوں کا کلام ہے۔ دنیا اور آخرت میں ہم تمہارے قرین اور ساتھی ہیں۔ دنیا میں بھی تمہارے ساتھ رہے اللہ کے حکم سے تمہاری نگہبانی کرتے رہے۔ تمہیں نیک کاموں کی طرف مائل کرتے اور تمہارے اعمال کو نوٹ کرتے رہے۔ اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گے پلصراط پر، میدانِ حشر میں اور جنت میں۔ جنت میں تمہیں ہر وہ نعمت میسر ہوگی۔ جس کی تمہارے دل میں خواہش ہو اور جو منہ سے مانگو گے، فورًا حاضر ہوگا۔ یہ سب کچھ معاف کرنے والے مہربان خدا کی مہمانی ہوگی۔ بھلا پھر وہاں کس چیز کی کمی ہوسکتی ہے ؟۔
Ayahs 41:31–3332:۔ ” ومن احسن “ یہ دوسری شکوے کے ساتھ متعلق ہے۔ اس میں ترغیب و ترہیب اور طریق تبلیغ کا بیان ہے۔ جب آپ ان معاندین کو اللہ تعالیٰ کا حکمنامہ (قرآن) سنائیں گے۔ تو وہ شور بپا کریں گے اور خرافات بکیں گے۔ تو آپ ان کی شرارتوں کا سختی سے جواب نہ دیں۔ بلکہ نرمی سے سمجھائیں۔ اور نہایت معقول اور سنجیدہ طرز اختیار کریں۔ تاکہ وہ کم از کم اس قرآن کو سن تو لیں۔ ان معاندین کی بدبختی دیکھو کہ وہ دعوت توحید ایسے احسن و افضل قول کو ٹھکراتے ہیں، جسے محمد ﷺ ایسے جامع کمالات اور ناصح مشفق ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ بھلا اس شخص سے بھی کسی کا قول بہتر اور اعلی ہوسکتا ہے جو توحید باری تعالیٰ کی دعوت دے رہا ہو، خود بھی اس کے مطابق عمل کرے اور اللہ تعالیٰ کا نہایت ہی فرمانبردار بندہ ہو ؟ استفہام انکاری ہے یعنی اس سے بہتر کوئی نہیں۔ ھو رسول اللہ ﷺ دعا الی التوحید (مدارک ج 4 ص 72 ۔
Ayah 41:3433:” ولا تستوی الحدسنۃ “ مدارات اور درشتی، حسن اخلاق اور بدخلقی برابر نہیں ہیں۔ الحسنۃ المداراۃ والسیئۃ الغلظۃ (قرطبی ج 15 ص 361) ۔ جو شخص درشتی، کج خوئی اور بدکلامی سے پیش آتا ہے، اس سے نرمی، خوشکلامی، حلم اور بردباری کا سلوک کریں تو خواہ وہ کتنا ہی بڑا دشمن ہوگا۔ اس کا دل نرم ہوجائے گا اور وہ گہرا اور مخلص دوست بن جائے گا۔ اذا فعلت ذلک صار عدوک المشاق مثل الولی الشفیق (بیضاوی) ۔ لیکن یہ خصلت و خو صرف انہی لوگوں کے نصیب میں ہوتی ہے۔ جو حوصلہ مند اور حلیم الطبع ہوں اور تزکیہ نفس کی عظیم دولت سے وافر حصہ پا چکے ہوں
Ayahs 41:35–36ٖ 34:۔ ” واما ینزغنک “ اگر کبھی بتقاضائے بشریت، آپ کو ان معاندین کی خرافات پر غصہ آجائے تو آپ شر شیطان سے اللہ کی پناہ مانگیں، تاکہ اس کا اثر زائل ہوجائے۔ ” انہ ھو السمیع العلیم “ یہ ماقبل کے لیے علت ہے۔ کیونکہ سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وان صرفک الشیطان عما وصیت بہ من الدفع بالتیھی احسن (فاستعذ باللہ) ای من شرہ (خازن جلد 6 ص 112) ۔
Ayah 41:3735:۔ ” ومن ایتہ “ تا ’[ انہ علی کل شیء قدیر “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الترقی۔ اس میں پہلی دلیل کے دونوں حصوں پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔ پہلی دلیل میں آسمانوں کے پیدا کرنے کا ذکر تھا۔ اس دلیل میں نظام شمسی کا ذکر کیا گیا ہے کہ رات دن کی آمد و رفت اور چاند سورج کی گردش یہ سارا نظام بھی اللہ کی وحدانیت اور اس کے کمال قدرت کے دلائل میں سے ہے۔ سورج اور چاند کی گردش سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک بہت بڑی طاقت کے ماتحت اور اس کے فرمانبردار ہیں، جو ہر وقت اس کی اطاعت میں مصروف رہتے ہیں اور وہ معبود اور کارساز نہیں ہیں۔ اس لیے سورج اور چاند کو معبود سمجھ کر ان کی عبادت نہ کرو۔ اور نہ مصائب میں ان کو پکارو، بلکہ اس اللہ کو پکارو اور صرف اسی کی عبادت کرو جس نے سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے۔ اگر تم واقعی خداوند تعالیٰ کی عبادت کرتے ہو، تو ان خود ساختہ وسائل کو چھوڑ دو ۔ و لعل ناسا منہم کانوا یسجدون للشمس والقمر کالصائبین فی عبادتہم الکوکب ویزعمون انہم یقصدون بالسجود لہما السجود للہ تعالیٰ فنہوا عن ھذہ الوسطۃ (مدارک ج 4 ص 72) ۔
Ayah 41:3836:۔ ” فان استکبروا “ یہ ادخال الٰہی ہے اور پر غرور معاندین پر زجر ہے۔ اگر یہ لوگ کبر و غرور سے انکار و جحود پر قائم رہیں اور اللہ کی خالص عبادت نہ کریں تو کیا ان کے سوا اللہ کی خالص عبادت کرنے والا کوئی نہیں ؟ اللہ کے فرشتے جن کی تعداد اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، ہر وقت رات دن اللہ کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔ اور پھر تھکتے اور اکتاتے بھی نہیں اس لیے اللہ کی عبادت کرنے یا نہ کرنے میں تمہارا ہی نفع یا نقصان ہے۔ اگر تم عبادت کرو گے تو ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اگر نہیں کرو گے تو اس میں ہمارا کوئی نقصان نہیں۔
Ayah 41:3937:۔ ” ومن ایتہ “ یہ دوسری دلیل عقلی کا دوسرا حصہ ہے جو پہلی عقلی دلیل کے پہلے حصے سے متعلق ہے اس میں تھا کہ اللہ نے زمین کو پیدا فرمایا اور اس میں تمام خاصیتیں رکھ دیں۔ اور یہاں اس کی بعض خاصیتوں کا ذکر کیا گیا اس کی قدرت اور وحدانیت کے دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ وہ خشک اور دبی ہوئی زمین کو مینہ برسا کر اس میں نرمی اور نشوونما کے آثار پیدا فرما دیتا ہے اور اس میں سرسبز و شاداب اور لہلہاتے کھیت پیدا کردیتا ہے۔ ” ان الذی احیاھا۔ الایۃ “ یہ جملہ معترضہ ہے جس ذات پاک میں مردہ اور بنجر زمین کو تری و تازگی عطا فرمانے کی قدرت ہے وہ مردوں کو بھی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ کیوں کہ اس کی قدرت کاملہ ہر چیز پر حاوی ہے اور کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ دنیا میں ہر کام کا اس کی قدرت کے تحت ہونا اس بات پر شاہد ہے کہ وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔
Ayah 41:4038:۔ ” ان الذین یلحدون۔ الایۃ “ یہ دوسری دلیل کے بعد تخویف اخروی ہے۔ یہ تخویف دلیل اول کے بعد والی تخویف سے بطور ترقی ہے۔ کیوں کہ اس سے اقرار و اعتراف کرانا مقصود ہے۔ جیسا کہ آرہا ہے۔ جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی اور کج بحثی اختیار کرتے ہیں اور ماننے کے بجائے ان پر طعن کرتے اور ان میں کیڑے نکالتے ہیں۔ وہ ہم سے اوجھل اور پوشیدہ نہیں ہیں۔ ہم ان کو خوب جانتے ہیں اور ان کے تمام اعمال بھی ہمارے سامنے ہیں، اس لیے وہ جہنم کی آگ سے نہیں بچ سکتے۔ انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ ” افمن یلقی الخ “ یہ ملحدین تو جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اب تم خود ہی بتاؤ ایک وہ ملحد ہے جسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک وہ مومن ہے جو قیامت کے دن ہر قسم کے عذاب سے محفوظ ومامون ہوگا۔ ان دونوں میں سے کون اچھا رہا ؟ یہ استفہام ہے اور مقصود اعتراف کرانا ہے کہ بیشک دونوں میں اچھا مومن ہے جو قیامت کے دن ہر قسم کے عذاب سے محفوظ و مامون ہوگا۔ ان دونوں میں سے کون اچھا رہا ؟ یہ استفہام ہے اور مقصود اعتراف کرانا ہے کہ بیشک دونوں میں اچھا مومن ہی ہے جو عذاب محفوظ رہے گا۔ اب بھی اگر تم باز نہ آؤ، تو جو جی میں آئے کرتے چلے جاؤ۔ تمہارا کوئی کام اللہ سے مخفی نہیں۔ وہ تمہارے سب کاموں کو دیکھتا ہے۔