Ayah 40:12:۔ ” حم “ سورة مومن حوامیم سبعہ میں سے پہلی ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ ” حم “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ قال ابن عباس حم اسم اللہ الاعظم (قرطبی، مدارک، معالم، خازن) ۔ حضرت ابن عباس ہی سے منقول ہے کہ ہر چیز کا مغرز اور خلاصہ ہوتا ہے اور قرآن مجید کا خلاصہ حوامیم ہیں۔ یعنی مصائب و حاجات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو ان لکل شیء لبابا وان لباب القران الحوامیم (روح ج 24 ص 39، خازن و معالم ج 6 ص 73) ۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے ” الدعاء مخ العبادۃ “ مصائب و حاجات میں پکارنا ہی عبادت کا مغز اور لب لباب ہے اور حوامیم میں چونکہ اسی مغز عبادت کا بیان ہے۔ اس لیے حضرت ابن عباس ؓ نے حوامیم کو سارے قرآن کا لب لباب فرمایا اور اسی لیے حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ حوامیم قرآن مجید کا اعلی ترین حصہ ہیں ” الحوامیم دیباج القران “ (روح ج 24 ص 39، قرطبی ج 15 ص 288) ۔ یہ الفاظ مرفوعا بھی مروی ہیں (بحر ج 7 ص 446 قرطبی) ۔
Ayahs 40:2–33:۔ ’ تزنیل الکتب الخ “ یہاں سے لے کر ” فالحکم للہ العلی الکبیر “ (رکوع 2) تک تمہید ہے جو چار عنوانات پر مشتمل ہے۔ عنوان اول ” تنزیل الکتب “ تا ” الیہ المصیر “ اور یہ دلیل وحی بھی ہے۔ یہ حکمانہ بڑے شہنشاہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب جاننے والا ہے۔ جو اس کے حکمنامے کو مان لیں اور اس کی طرف رجوع وانابت کریں ان کے گناہ معاف فرماتا اور ان کے رجوع کو قبول کرتا ہے، لیکن یہ بھی خیال رہے کہ سرکشوں اور نہ ماننے والوں کے لیے اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے اور وہ صاحب دسترس ہے جب چاہے مجرموں کو پکڑ لے کوئی اس کی دسترس سے باہر نہیں اور توبہ قبول کرنے اور گناہ معاف کرنے کی بھی دسترس اور قدرت اسی کو حاصل ہے اس کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں جس کی پناہ خدا کی گرفت سے بچا سکے، سب اسی کے پاس حاضر ہوں گے، کوئی اس سے بھاگ نہیں سکتا۔ یہ عظیم الشان حکمنامہ ایسے عالی مرتبت شہنشاہ کا ہے، اسے مانو اور اس سے سرتابی مت کرو۔ ” غافر الذنب وقابل التوب “ دونوں لفظ جلالت کی صفتیں ہیں ان کو واؤ کے ذریعے سے اس لیے ملا دیا کہ دونوں کا مجموعہ حقیقت میں ایک ہی صفت ہے قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ ” لا الہ الا ھو “ اور ” الیہ المصیر “ یہ دونوں جملے یا تو مستانفہ ہیں یا لفظ جلالت سے حال واقع ہیں یا اس کی صفتیں ہیں۔ لیکن ان کے صفت ہونے کی صورت میں اعتراض وارد ہوتا ہے کہ لفظ جلالت اعرف المعارف ہے اور جملہ، معرفہ کی صفت نہیں بن سکتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب مضمون جملہ اس معرفہ میں منحصر ہو تو جملہ اس کی صفت بن سکتا ہے اور یہاں ایسا ہی ہے لہذا اعتراض ساقط ہے۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔
Ayah 40:44:۔ ” مایجادل الخ “ یہ عنوان دوم ہے ” ایت اللہ “ میں وضع الظاہر موضع المضمر ایضاح اور حکمنامے کی عظمت شان ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ اصل میں ” فیہ “ کہنا تھا۔ ” الذین کفروا “ ای ستروا الحق عناد (مدارک فی موضع آخر) ۔ یعنی یہ حکمانہ بہت بڑے بادشاہ کی طرف سے ہے اور سراپا حق اور ظاہر و بارہ ہے، اب اس میں صرف معاند ہی جدال (جھگڑا) کرے گا۔ دوسرے لوگ جو ضدی نہیں مان لیں گے۔ اس کے بعد منکرین دعوی کی اصلاح کے تین طریقے مذکور ہیں۔
5:۔ ” فلا یغررک الخ “ اصلاح کا پہلا طریقہ۔ تقلب مصدر تقلیل وتحقیر کے لیے ہے۔ جیسا کہ آگے آرہا ہے ” نما ھذہ الحیوۃ الدنیا متاع وان الاخرۃ ھی دار القرار “ (رکوع 5) ۔ ” متاع “ محض نفع گرفتن۔ اور سورة حدید (رکوع 3) میں اس مضمون کو یوں بیان فرمایا ” اعلموا انما الحیوۃ الدنیا لعب و لھو وزینۃ و تفاخر بینکم و تکاثر فی الاموال والاولاد “ دنیا محض تفاخر اور تکاثر فی الاموال والاولاد ہے۔ یعنی آخرت کے مقابلہ میں قلیل و حقیر ہے۔ اور سورة آل عمرا (رکوع 20) میں تقلیل و تحقیر دنیا کی اس طرح صراحت فرمائی ” لا یغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد، متاع قلیل، ثم ماواھم جہنم وبئس المہاد “ حاصل یہ ہوا کہ حکمنامہ خداوندی میں جدال کرنے والوں اور اسے نہ ماننے والوں کی پر عیش زندگی، بڑے بڑے شہروں میں ان کے وسیع تجارتی کاروبار اور ان کے یہاں دولت کی ریل پیل آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے، یہ تو محض دنیا میں چند روزہ نفع ہے، ان کی عاقبت تباہی اور دائمی عذاب ہے۔ لایغرنک ما ھم فیہ من الخیر والسعۃ فی الرزق فانہ متاع قلیل فی الدنیا (قرطبی ج 15 ص 292) ۔
Ayah 40:56:۔ ” کذبت الخ “ یہ اصلاح منکرین کا دوسرا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جدال کی وجہ سے ہمیشہ معاندین کو دنیا ہی میں عذاب دیتا رہا ہے مثلاً قوم نوح اور اس کے بعد دوسری قومیں جنہوں نے حق کو جھٹلایا۔ لیکن صرف تکذیب (جھٹلانا) اگرچہ غضب الٰہی کا موجب ہے، لیکن دنیوی عذاب کا موجب نہیں بن سکتی تھی۔ ان قوموں نے دو اور بڑے جرموں کا ارتکاب کیا جس کی وجہ سے وہ دنیا ہی میں مورد عذاب ٹھہرے۔ اول ہر امت کے معاندین نے پیغام حق لانے والے رسول کی ایذا رسانی بلکہ اس کے قتل تک کی کوشش کی۔ دوم انہوں نے باطل کے ذریعے سے حق کو گرانے اور اس کو مغلوب کرنے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے دنیا ہی ان کو پکڑا لیا اور ایسا عذاب بھیجا کہ ان کا نام و نشان ہی مٹ گیا، کہو، ہمارا عذاب کیسا رہا۔ تم ان تباہ شدہ بستیوں کے پاس سے گذرتے ہو اور عذاب الٰہی کے آثار آنکھوں سے دیکھتے ہو۔ کسی اللہ کے ولی کا قول ہے۔ چیست خدایا، ہر کر ابیندازی بما اندازی ؟۔ خدایا ! کیا وجہ ہے کہ جس کو تو گرانے کا ارادہ کرتا ہے، تو ہمارے ساتھ اس کا مقابلہ کرا دیتا ہے۔ یعنی وہ ہمیں مارنے پر آمادہ ہوجاتا ہے تو تو اس کو عذاب میں مبتلا فرما دیتا ہے۔ مولوی معنوی نے کہا ہے۔ شعر۔
ہیچ قولے را خدا رسوا نہ کرد
تاول صاحبدلے نامد بداد
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “ (بنی اسرائیل رکوع 2) ۔ دوسری جگہ فرمایا ” جزاء لمن کان کفر “ (القمر رکوع 1) ۔
7 : ” بالباطل “ شبہات واہیہ جو ان کے مشرک رہنماؤں نے وضع کر رکھے تھے جن سے وہ شرک کی تائید کرتے تھے۔ قال یحییٰ بن سلام : جادلوا الانبیاء بالشرک لیبطلوا بہ الایمان (قرطبی ج 15 ص 293) ۔ جادلوا رسلہم بالباطل ای بایراد الشبہات لیدحضوا بہ الحق (ای ان یزیلوا بسبب ایراد تلک الشبہات الھق والصدق (کبیر ج 7 ص 294) ۔
8:۔ ” وکذلک الخ “ یہ تیسرا طریق اصلاح ہے۔ ” کذلک “ میں کاف بمعنی لام تعلیلیہ ہے ای لذلک یعنی اسی جدال کی وجہ سے تیرے رب کی بات ان معاندین پر ثابت ہوچکی ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ ” انھم اصحب النار “ کلمۃ سے بدل ہے۔ وجوز ان یکون فی محل رفع علی انہ بدل من (کلمۃ ربک) بدل کل من کل (روح ج 24 ص 44) ۔
Ayah 40:69:۔ ” الذین یحملون الخ “ یہ تیسرا عنوان ہے۔ جو لوگ اس حکمنامے کو مان لیں گے، حاملان عرش الٰہی ان کے لیے ان کے آباء و اجداد اور ان کی آل اولاد کیلئے یوں دعائیں کریں گے یعنی جو لوگ اس حکمنامے کو مانتے جائیں گے وہ فرشتوں کی دعاؤں میں شامل ہوتے جائیں گے۔ یہ مراد نہیں کہ وہ دعاؤں میں ان آدمیوں کا نام لیتے ہیں، کیونکہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں۔ ” الذین یحملون العرش “ اس سے وہ فرشتے مراد ہیں جو حاملانِ عرش الٰہی ہیں۔ حاملانِ عرش اور دوسرے فرشتے جو عرش کے چاروں طرف صف بستہ کھڑے ہیں ان کی ہمہ وقت ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور اس کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہیں، اللہ پر ان کا ایمان نہایت ہی کامل ہے۔ یا اس حکمنامے پر ان کا ایمان مستحکم ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ فرشتوں کے ایمان کے ذکر کی اگرچہ ضرورت نہ تھی لیکن ایمان اور اہل ایمان کی فضیلت ظاہر کرنے کے لیے اس کا ذکر کیا گیا (روح) ۔
Ayah 40:710:۔ ” ویستغفرون الخ “ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور تسبیح و تقدیس کے ساتھ ساتھ وہ فرشتے ایمان والوں کیلئے یوں دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ ” ربنا وسعت الخ “ ہمارے پروردگار، تیری رحمت ہر چیز کو شامل اور تیرا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔ ان ایمان والوں کے گناہ معاف رما، جو سچی توجہ کریں اور راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر چلیں اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچا۔
Ayah 40:811:۔ ” ربنا وادخلہم الخ “ ربنا کا اعادہ بعد عہد کی وجہ سے ہے۔ اے ہمارے پروردگار، ان کو ان جنات عدن میں داخل فرما جن کا تو نے ایمان اور عمل صالح پر ان سے وعدہ فرما رکھا ہے اور ان کے ساتھ ان کے ماں باپ، ان کی بیویوں اور ان کی آل اولاد کو بھی جنت میں داخل فرما جنہوں نے ضد نہیں کی اور ان کی پیروی میں ایمان قبول کیا اور نیک عمل بجا لائے۔ بیشک تو غالب ہے جو چاہے کرسکتا ہے، حکمت والا ہے، کسی کو متبوع اور کسی کو تابع بنا کر جنت میں داخل کرسکتا ہے۔ ” ومن صلح الخ “ بیٹا ایمان لے آیا، ماں باپ نے ضد نہ کی اور بالتبع بیٹے کی وجہ سے ایمان لے آئے۔ کا وند کی تبعیت میں بیوی یا ماں باپ کی تبعیت میں اولاد ایمان لے آئی۔ جب انہوں نے ضد نہ کی اور بالتبع ایمان لے آئے تو ان کا یہ ایمان قبول ہوگا اور وہ بالتبع جنت میں داخل ہوں گے۔ قالہ الشیخ قدس سرہ والظاھر العطف علی الاول والدعاء بالادخال فیہ صریح وفی الثانی ضمنی والظاہر ان المراد بالصلاح الصلاح لمصحح لدخول الجنۃ وان کان دون صلاح لمتبوعین (روح ج 24 ص 48) ۔
Ayah 40:912:۔ ” وقھم الخ “۔ ” السیئات “ سے مراد عقوبات ہیں یا جزاء السیئات علی حذف المضاف۔ ای العقوبات لان جزاء السیئۃ سیئۃ مثلھا او جزاء السیئات علی حذف المضاف (ابو السعود ج 7 ص 296) ۔ اور ان کو گناہوں کی سزا سے بچا اور جس کو تو نے اس دن یعنی دنیا میں یا آخرت میں سزا سے بچا لیا تو اس پر تیری خاص رحمت ہوگئی اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ انسان محض اللہ کی رحمت سے اس کے عذاب سے بچ جائے۔
Ayahs 40:10–1113:۔ ” ان الذین الخ “ یہ چوتھا عنوان ہے۔ جس نے اس حکمنامے کو نہ مانا اس پر اللہ کا غضب ہوگا۔ جب ان کو جہنم میں داخل کیا جائیگا تو انہیں پکار کر کہا جائیگا تو انہیں پکار کہا جائے گا کہ آج تم جس قدر اپنی جانوں پر غجبناک ہو کہ دنیا میں حق کو کیوں قبول نہ کیا، اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ تم پر غضبناک تھا۔ جب دنیا میں تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی تو تم انکار کرتے تھے۔ جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطان اتہم، کبر مقتا عند اللہ و عند الذین امنوا (رکوع 4) ۔ ” اذ “ ظرف کا عامل مقدر ہے ای یمقتکم۔ اور یہ ظرف ” مقتکم انفسکم “ سے متعلق نہیں ہوسکتی کیونکہ اس میں آخرت کا حال مذکور ہے اور ” اذ تدعون “ میں دنیا کے حال کی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح ” لمقت اللہ “ سے بھی متعلق نہیں ہوسکتی کیونکہ اس صورت میں مصدر مبتداء کا معمول اس کی خبر سے مؤخر ہوجائیگا اور یہ جائز نہیں (مدارک، بحر) ۔ لیکن علامہ ابن حاجب کہتے ہیں کہ ظروف میں اس کی گنجائش ہے۔ وفی امالی ابن حاجب لا باس بذلک لان الظروف متسع۔
Ayahs 40:12–1314:۔ ” قالوا الخ “ جہنم میں داخل ہونے کے بعد مشرکین جہنم سے نکلنے کی راہیں تلاش کریں گے اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار، تو نے دو بار ہمیں موت سے دوچار کیا اور دو بار ہمیں زندگی بخشی، ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور جس حشر و نشر کا انکار کیا کرتے تھے آج اس پر ایمان لاتے ہیں۔ کیا اب کوئی سورت ہے کہ ہمیں دوزخ سے نکال کر ایک بار پھر دنیا کی زندگی مل جائے تو ہم تیری پوری پوری فرمانبرداری کریں گے۔ والمراد طلب الخروج نظیر (فارجعنا نعمل صالحا) ۔ (روح) ۔ پہلی موت سے مراد عدم ہے جب وہ اصلاب آباء میں تھے اور دوسری موت وہ ہے جو دنیا کی زندگی کا خاتمہ کردیتی ہے۔ اور پہلی بار احیاء سے دنیا میں پیدا کرنا مراد ہے اور دوسری بار احیاء سے بعث بعد الموت مراد ہے۔ قال ابن مسعود و ابن عباس و قتادۃ والضحاک۔ کانوا امواتا فی اصلاب اباءہم ثم احیاھم ثم اماتہم الموتۃ التی لا بد منہا فی الدنیا، ثم احیاھم للبعث والقیامۃ، فھاتان حیاتان و موتتان وھو قولہ تعالیٰ کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم (قرطبی ج 15 ص 297) ۔
15:۔ ” ذلکم الخ “ اصل میں یہ جواب نہیں، بلکہ جواب کی علت ہے اور جواب کے قائم مقام ہے اور جواب مقدر ہے ای لا سبیل الی خروج۔ یعنی اب جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں، کیونکہ دنیا میں تمہارا یہ حال تھا کہ جب خدائے واحد کو پکارا جاتا تھا تو تم اس کی وحدانیت کا انکار کرتے تھے اور جب اس کے ساتھ کوئی شرک کرنا تو شرک پر ایمان لے آتے تھے جو اب میں اختصار کے بجائے علت جواب بیان کرنے کے لیے تفصیل بیان کی گئی۔ نیز یہ بیان کیا گیا کہ کسی دوسرے کو بھی نکالنے کی طاقت نہیں۔ وفی الکلام متروک تقدیرہ فاجیبوا بان لا سبیل الی الرد و ذلک لانکم اذا دعی اللہ وحدہ الخ (قرطبی) ای ذلک الذی انتم فیہ و ان لا سیل لکم الی خروج قط بسبب کفرکم بتوحید اللہ و ایمانکم بالاشراک بہ (مدارک) ۔
16:۔ ” فالحکم الخ “ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو بھی طاقت نہیں کہ وہ ان کو دوزخ سے نکال سکے کیونکہ فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کا نافذ ہوگا جو بلندو برتر ہے اب کلی طور پر حکومت اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے اور اس کا فیصلہ یہی ہے کہ مشرکین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں۔ اس میں اس بات کی دلیل بیان کی گئی ہے کہ کسی دوسرے کو بھی طاقت نہیں کہ انہیں دوزخ سے نکال سکے۔
17:۔ ” ھوالذی الخ “ تمہید کے بعد حکمنامے کو ماننے کی ترغیب ہے وہ ایسا مہربان بادشاہ ہے کہ اپنی قدرت و وحدانیت کے دلائل بھی تمہیں دکھلاتا ہے اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہاری روزی کا انتظام بھی تمہیں دکھلاتا ہے اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہاری روزی کا انتظام بھی فرما اتا ہے، اس لیے اسکا حکمنامہ ضرور ماننا چاہئے۔ ” وما یتذکر الخ ‘ لیکن مانے گا وہی جو ضد وعناد کو چھوڑ کر آیات الٰہی میں غور و فکر کرے گا اور اللہ کی طرف رجوع کرے گا۔ ” و ما یتعظ و ما یعتبر بایات اللہ الا من یتوب من الشرک و یرجع الی الللہ فان المعاند لا یتذکر ولا یتعظ “ (مدارک) ۔ تائید :۔ ” اللہ یجتبی الیہ من یشاء ویہدی الیہ من ینیب “ (شوری رکوع 2) ۔ ” من خشی الرحمن بالغیب و جاء بقلب منیب “ (ق رکوع 3) ۔ ” واتبع سبیل من اناب الی “ (لقمان رکوع 2) ۔
Ayah 40:1418:۔ ” فادعوا الخ “ تمہید اور ترغیب کے بعد پہلی بار دعوی کا ذکر ہے۔ ” فاء “ فصیحہ ہے اور اس کی شرفط محذوف ہے ای ذا کان الامر کما ذکر من اختصاص التذکر بمن ینیب فاعبدوہ ایھا المومنون مخلصین لہ دینکم الخ ‘ (ابو السعود ج 7 ص 301) ۔ یعنی جب معاملہ یہ ہے کہ صرف انابت کرنے والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں، تو ایمان والو ! تم خالصۃً اللہ ہی کو پکارو۔ لیکن حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک ” فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین “ اس سورت کا مرکزی دعوے ہے جو ابتدائے سورت سے لے کر یہاں تک بیان شدہ تمہید و ترکیب کے سارے مضمون پر مترتب ہے جس کا حاصل یہ ہے۔ جب تمہیں معلوم ہوگیا کہ یہ حکمنامہ جو ” فادعوا اللہ الخ “ کے مضمون پر مشتمل ہے، بہت بڑے شہنشاہ کی طرف سے ہے جو مہربان بھی ہے اور شدید العقاب بھی، اس میں جدال صرف معاندین ہی کریں گے۔ لیکن جو لوگ اس حکمنامے کو مان لیں گے اللہ کے فرشتے ان کے لیے دعائیں کریں گے اور جو اس حکمنامے کو ٹکرا دیں گے، وہ غضب خداوندی کا مور بنیں گے۔ یہ حکمنامہ بڑے مہربان اور محسن بادشاہ کا ہے جو تمہیں اپنی توحید کے نشانات دکھاتا ہے۔ لیکن مانیں گے وہی جو اللہ کی طرف نابت کریں گے۔ جب تم یہ سب کچھ سن چکے تو اب حاجات و مصائب میں مافوق الاسباب صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو اور اس کی پکار میں کسی کو شریک نہ کرو۔ تقدیر عبارت یوں ہوگی۔ اذا سمعتم ما ذکر فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین۔
19:۔ ” ولو کفرہ الکافرون “ تم ہر حال میں صرف اللہ ہی کو پکارو اگرچہ مشرکین جو تمہارا نام و نشان مٹانے پر تلے ہوئے ہیں اس کو ناپسند کریں اور غیظ و غضب سے جل بھن جائیں ای اعبدوہ مخلصین لہ الدین من الشرک علی کل حال حتی فی حال غیظ اعدائکم المتمالئین علیکم وعلی استئصالکم (بحر ج 7 ص 454) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ قتل کا ذکر نہیں کیا، اس لیے کہ دعاء اور پکار کا تعلق زبان سے ہے اور بصورت اکراہ قتل سے بچنے کیلئے زبان سے کلمہ شرک کہنے کی رخصت ہے بشرطیکہ دل ایمان پر قائم ہو جیسا کہ ارشاد ہے : ” الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان “ (النحل رکوع 14) ۔
20:۔ ” رفیع الدرجات “ یہ دعوائے سورت کی اہمیت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ حکمنامہ جس کے لیے اتنی لمبی چوری تمہید ذکر کی گئی ہے کوئی معمولی نہیں بلکہ یہ رفیع الشان، عرش عظیم کے مالک بادشاہ کا حکمنامہ ہے، جو اس سے پہلے بھی اپنے پیغمبروں پر اپنا حکمنامہ نازل فرامتا رہا ہے، تاکہ اس کے بندے اس کی تعمیل کر کے اور اس کو مان کر قیامت کی سختیوں اور تکلیفوں سے بچ جائیں۔ ” فیع الدرجات “ بلندو برتر، عظمت و شان والا۔ ھو المرتفع بعظمتہ فی صفات جلالہ وکمالہ ووحدانیتہ المستغنی عن کل ما سواہ وکل الخلق فقراء الیہ (خازن ج 6 ص 77) ۔ عبارۃ عن رفعۃ شانہ و علو سلطانہ کما ان قولہ ذوالعرش عبارۃ عن ملکہ وبنحوہ فسر ابن زید قال : عظیم الصفات (بحر ج 7 ص 455) ۔
21:۔ ” یلقی “ صیغہ مضارع ماضی استمراری کے مفہوم میں ہے یعنی ڈالتا رہا ہے۔ والاستمرار التجددی المفہوم من (یلقی) ظاہر فان الالقاء لم یزل من لدن ادم (علیہ السلام) الی انتھاء زمان نبینا ﷺ (روح ج 24 ص 56) ۔ اس صورت میں ” الروح “ سے مطلق وحی مراد ہوگی وحی کو روح اس لیے فرمایا کہ جس روح سے بدن کو حیات حاصل ہوتی ہے، اسی طرح وحی الٰہی سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہ دلوں کی حیات کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ الوحی الذی تحیا بہ القلوب (مدارک) حیاۃ الارواح بالمعارف الاھیۃ والجلایا القدسیۃ فاذا کان الوحی سببا لحصول ھذہ الارواح سمی بالوح فان الروح سبب لحصول الحیاۃ والوحی سبب لحصول ھذہ الحیاۃ الروحانیۃ “ (کبیر ج 7 ص 306) ۔ حاصل یہ ہے کہ یہ وحی اور پیغام توحید جس سے دلوں کی حیات وابستہ ہے اس قدر اہم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہمیشہ اپنے پیغمبروں پر نازل فرماتا رہا ہے، تاکہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کی وساطت سے بندوں کو قیامت کے دن آفات سے خبردار کرے اور وہ اللہ کے حکمنامے کو مان کر ان سے نجات پالیں۔ لیکن اگر ” الروح “ سے قرآن مجید مراد ہو جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ (بحر، روح) اور ابن زید ؓ (قرطبی) سے منقول ہے تو اس سصورت میں یلق حال مستمر پر محمول ہوگا۔ یعنی ڈال رہا ہے اور اتار رہا ہے۔ پہلی صورت میں ” من یشاء الخ “ سے تمام انبیاء (علیہم السلام) مراد ہوں۔ وھم الانبیاء یشاء ھو ان یکونوا انبیاء ولیس لاحد فیہم مشیئۃ (قرطبی ج 15 ص 299) ۔ اور دوسری صورت میں اس سے حضرت خاتم النبیین ﷺ مراد ہوں گے۔
Ayah 40:1522:۔ ” یوم ھم بارزون “ یہ ” یوم التلاق “ سے بدل ہے۔ قیامت کے دن تمام انسان ایک میدان میں سامنے ہوں گے اور کوئی بھی اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوگا اور نہ ان کا کوئی ھال اور عمل ہی اس سے مخفی ہوگا۔ ” لمن الملک الیوم “ اس وقت اللہ کی طرف سے سوال ہوگا۔ آج بادشاہی کس کی ہے ؟ یہ سوال اللہ تعالیی کی طرف سے ایک منادی پیش کرے گا۔ اس کے جواب میں سب مومن و کافر کہیں گے ” للہ الواحد القہار “ آج بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کی ہے و احد اور زبردست ہے (روح، قرطبی) ۔
Ayah 40:1623:۔ ” الیوم تجزی “ آج ” من کل الوجوہ “ خدائے واحد وقہار کی حکومت ہے جس کے یہاں ظلم نہیں، اس لیے آج ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا، کسی پر ظلم و زیادتی نہیں ہوگی۔ کسی کی حق تلفی نہیں ہوگی اور کسی کو ناکردہ گناہ کی سزا نہیں ملے گی۔ ” ان اللہ سریع الھساب “ اس قدر مخلوق سے حساب کتاب لینا اور پھر سب کو ان کے اعمال کے مطابق جزاء وسزا دینا بظاہر مشکل معلوم ہوتا ہے، لیکن یہ اشکال ہماری نظروں میں ہے۔ اس واحد وقہار اور قادر مطلق کیلئے کوئی شمکل نہیں، وہ بہت جلد ساری مخلوق سے حساب لے لیگا۔ ای سریع حسابہ تمام اذ لا یشغلہ تعالیٰ شان عن شان فیحاسب الخلائق قاطبۃ فی اقرب زمان (ابو السعود ج 7 ص 304) ۔
Ayah 40:1724:۔ ” وانذرھم “ ” یوم الازفۃ “ سے قیامت کا دن مراد ہے۔ ” الازفۃ “ کا موصوف محذوف ہے۔ والازفۃ صفۃ لمحذوف تقدیرہ یوم الساعۃ الازفۃ او الطامۃ الازفۃ (بحر ج 7 ص 456) ۔ ” الازفۃ القریبۃ “ جیسا کہ سورة معارج رکوع 1 میں ارشاد ہے۔ ” انہم یرونہ بعید او نراہ قریباہ کا ظمین “ شدید رنج و غم اور درد و کرب میں مبتلا ہوں گے اور ان کا پیمانہ غیظ لبریز ہوگا۔ کا ظمین ای مکروبین والکاظم الساکت حال امتلائہ غما وغیظا (کبیر ج 7 ص 311) ۔ یہ حکمانہ الٰہی سے متعلق تخویف اخروی ہے، ان کو اس قریب ہی آنے والی ہولناک آفت (قیامت) سے خبردار کر دو جب شدت خوف سے منکرین کے کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے اور وہ غم واندوہ میں گھٹ رہے ہوں گے وہ اس ہولناک دن کی آفتوں سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اس حکمنامے کو مان لیں۔
Ayah 40:1825:۔ قیامت کے دن مشرکین کا کوئی ھامی و مددگار نہیں ہوگا اور نہ کوئی ایسا سفارشی ہی میسر آسکے گا جس کی سفارش ان کے حق میں قبول کی جاسکے۔ ای لیس للذین ظلموا انفسہم بالشرک باللہ من قریب منہم ینفعہم ولا شفیع یشفع فیہم (ابن کثیر ج 4) ۔
26:۔ ” یعلم خائنۃ الاعین “ یہ اضافت صفت بموصوف کے قبیل سے ہے اور اصل میں ” الاعین الخائنۃ “ ہے یعنی وہ خیانت کرنے والی نگاہوں کو خوب جانتا ہے۔ یا الخائنۃ مصدر ہے۔ ” العافیۃ “ اور ” العاقبۃ “ کی مانند آنکھوں کی خیانت سے غیر محرموں کو دیکھنا مراد ہے۔ ” یعلم خائنۃ الاعین کقولہ وان سقیت کرام الناس ای الناس و جوز ان تکون خائنۃ مصدرا کالعافیۃ والعاقبۃ ای یعلم خیانۃ الاعین (بحر ج 7 ص 457) ۔ وہ ایسا علیم وخبیر ہے کہ آنکھوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اور جو باتیں دلوں میں پوشیدہ ہیں ان سے بھی باخبر ہے، اس لیے قیامت کے دن وہ سب کے اعمال کی پوری پوری جزا و سزا دے گا۔
Ayah 40:1927:۔ ” واللہ یقضی بالحق “ یہ اصل دعوے کی تائید ہے امر اول ” واللہ یفضی بالحق “ یعنی اللہ تعالیٰ تو ایسا قادر و متصرف ہے کہ وہ جس کام کا ارادہ فرماتا ہے، اسے اپنے ارادے اور فیصلے کے مطابق سر انجام دے لیتا ہے۔ امر دوم ” والذین یدعون من دونہ “ لیکن مشرکین، اللہ کے سوا جن خود ساختہ معبودوں کو مصائب و حاجات میں پکارتے ہیں وہ ایسے عاجز و بےبس ہیں کہ کچھ بھی نہیں کرسکتے جیسا کہ فرما ای ” واذا قضی امرا فانما یقول لہ کن فیکون “ (بقرہ رکوع 14) ۔ اور دوسری جگہ فرمایا ” قولہ الحق “ (انعام رکوع 9) ۔ اس کا ارشاد سراپا حق ہے اور اس کے ارشاد و ارادہ کی مطابق کا کا ہوجانا یہ سی کی صفت ہے، معبودان باطلہ ایسا نہیں کرسکتے ” ان اللہ ھو السمیع البصیر “ یہ ماقبل کی علت ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرسکتا ہے کیونکہ وہ السمیع لکل شیء ہر بات کو سننے والا اور البصیر بکل شیء ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ لیکن معبودان باطلہ میں یہ صفت نہیں ہے اس لیے مصائب و حاجات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارانا چاہئے جو سب کچھ دیکھتا سنتا ہے اور سب کچھ کرسکتا ہے۔
Ayah 40:2028:۔ ” اولم یسیروا “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ان مشرکین نے زمین چل پھر کر ان لوگوں کا انجام نہیں دیکھا، جو قوت میں اور کارناموں میں ان سے کہیں زیادہ تھے۔ جب انہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلایا اور شرک پر قائم رہے تو اللہ نے انہیں پکڑ لیا۔ مگر ان کے خود ساختہ کارسازوں نے انہیں اللہ کی گرفت سے نہ چھڑایا جن کو وہ خدا کے یہاں سفارشی شمجھتے تھے۔ ” اثارا فی الارض “ زمین پر انہوں نے جو مضبوط قلعے بنائے اور محفوظ شہر آباد کیے۔ مثل القلاع المحکمۃ والمدائن الحصینۃ (روح ج 4 ص 61) ۔ ” بذنوبھم “ ان کے گوناگوں گناہوں کی وجہ سے مثلاً اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی وحی (حکمنامے) کا انکار، انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب اور حشر و نشر کا انکار وغیرہ ” من واق “ انہیں اللہ کے عذاب سے ان کے مزعومہ کارساز بھی نہ بچا سکے۔ جیسا کہ ارشاد ہے : ” فما اغنت عنہم الہتہم التی یدعون من دون اللہ من شیء لما جاء امر ربک “ (ہود رکو ع 9) ۔ نیز فرمایا ” فلولا نصرھم الذین اتخذوا من دون اللہ قربانا الھۃ “ (احقاف رکوع 4) ۔
Ayah 40:2129:۔ ” ذلک بانہم “ یہ ماقبل کی تفصیلی علت ہے، دنیا ہی میں اللہ نے ان کو اس لیے پکڑ لیا کہ ان کے پاس اللہ کے رسول واضح احکام اور کھلی دلیلیں لے کر آئے، تو انہوں نے انکار کردیا اور ایک نہ سنی۔ وہ بڑی طاقت والا اور سخت عذاب والا ہے، وہ جس کو چاہے پکرے لے اور کوئی اس کی گرفت سے نہ چھڑا سکے۔
Ayahs 40:22–2330:۔ ” ولقد ارسلنا “ یہ تخویف دنیوی کا ایک مفصل نمونہ ہے۔ اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کی قوم کے پاس معجزات اور آیات بینات لے کر آئے، کس طرح فرعون اور اس کی قوم نے ان کو جھٹلایا، اللہ کی توحید اور اس کے حکمنامے کو نہ مانا، تو پھر کس طرح ان کو رسوا کن عذاب سے ہلاک کیا گیا۔ اس کے ضمن میں مؤمن آل فرعون کا قصہ بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس تفصیل میں ایک طرف آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ اور دوسری طرف مشرکین مکہ کے لیے جائے عبرت۔ ” ایات “ سے معجزات مراد ہیں اور ” سلطان مبین “ حجت قاہرہ جو ان معجزات سے قائم ہوئی۔ (ابو السعود، روح) ۔ ہامان، فرعون کا وزیر۔ قارون، اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا، لیکن کفر و طغیان میں فرعون اور اس کے وزراء میں شامل تھا یہ مقربین فرعون میں سب سے زیادہ سرمایہ دار تھا۔ ” فقالوا ساحر کذاب “ اس سے پہلے ادماج ہے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے دلیل رسالت کا مطالبہ کیا تو انہوں نے عصا اور ید بیضاء کے معجزے دکھائے، یہ معجزے دیکھ کر کہنے لگے یہ تو جادوگر ہے اور دعوائے نبوت میں جھوٹا ہے۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 40:2431:۔ ” فلما جاءھم “ جب فرعون اور اس کے ارکان دولت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے سے عاجز آگئے، تو غیظ و غضب میں آکر اور قوم موسیٰ (علیہ السلام) کو موسیٰ (علیہ السلام) کے تعاون سے روکنے کے لیے انہوں نے ایمان لانے والوں کے بچوں کو قتل کرنے اور عورتوں کو زندہ رکھنے کا حکم نافذ کردیا۔ فرعون نے بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے کا دو بار حکم دیا تھا۔ ایک تو موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے اور دوم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد (قرطبی، مدارک، روح وغیرہ) ۔
Ayah 40:2532:۔ ” وما کید الکفرین “ یہ ادخال الٰہی ہے فرعون اور اس کے مشیروں کی یہ تدبیر ناکام، ثابت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے جلد ہی فرعون اور اس کی قوم پر انواع عذاب کا سلسلہ شروع کردیا۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” فارسلنا علیہم الطوفان والجراد والقمل والفادع والدم آیات مفصلات “ (اعراف رکوع 16) ۔ یہ سلسلہ بنی اسرائیل کے مصر سے چلے جانے تک جاری رہا۔ اس طرح قوم فرعون اس منصوبے پر عمل کرنے کے بجائے اپنے حال میں مشغول رہی۔ فشغلہم اللہ عن ذلک بما انزل علیہم من انواع العذاب، کا لضفادع والقمل والدم والطوفان الی ان خرجوا من مصر، فاغرقہم اللہ۔ وھذا معنی قولہتعالی وما کید الکفرین الا فی ضلل (قرطبی ج 15 ص 305) ۔
Ayah 40:2633:۔ ” وقال فرعون “ فرعون نے سوچا موسیٰ (علیہ السلام) ہی اس نئے دین کی جڑ ہے، اس لیے اسے ہی ختم کرنا چاہئے۔ چناچہ اب ان کے قتل کا فیصلہ ہوا۔ فرعون نے کہا مجھے چھوڑو کہ میں اسے قتل کرادوں، اور وہ اپنے رب کو اپنی مدد کے لیے بلا لے، ہم دیکھیں گے کس طرح وہ اسے قتل سے بچائیگا۔ فرعون کے اس انداز کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دہریہ تھا اور خدا کے وجود کا قائل نہ تھا۔ ” انی اخاف “ اس میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی وجہ بیان کی ہے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہارا دین بدل دے اور تمہاری قوم (شاہی خاندان) اس کا دین قبول کرلے اور وہ میری عبات چھوڑ کر اس کے رب کی عبادت کرنے لگیں۔ اور اگر وہ اس میں کامیاب نہ بھی ہو تو قوم میں اختلاف ڈال کر کچھ لوگوں کو اپنی پارٹی ہی میں شامل کرلے۔ (انی اخاف ان یبدل دینکم) ای عبادتکم لی الی عبادۃ ربہ (او ان یظھر فی الارض الفساد) ان لم یبدل دینکم فانہ یظھر فی الارض الفساد۔ ای یقع بین الناس بسببہ الخلاف (قرطبی) ۔
Ayah 40:2734:۔ ” وقال موسیٰ “ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو علم ہوا کہ ان کے قتل کا منصوبہ بن رہا ہے۔ تو اپنی قوم کو اطمینان دلایا کہ میں ہر ایسے متکبر و مغرور کے شر سے جو یوم حساب پر بھی یقین نہ رکھتا ہو، اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ میں آچکا ہوں۔ میرا پروردگار مجھے ان کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
Ayah 40:2835:۔ ” وقال رجل “ جب فرعون کے دربار میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا پروگرام بن رہا تھا اس وقت قوم فرعون ہی کا ایک آدمی اس گھناؤنے جرم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ یہ آدمی فرعون کا چچا زاد بھائی تھا اور درپردہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا۔ مؤمن، من آل فرعون، یکتم ایمانہ، تینوں ” رجل “ کی صفات ہیں۔ دوسری صفت کو تیسری صفت پر اس لیے مقدم کیا گیا ہے تاکہ واضح ہوجائے کہ وہ رجل ؤمن، آل فرعون سے تھا، اگر اس کا عکس ہوتا تو من اٰل فرعون، یکتم سے متعلق ہوجاتا اور اس طرح وہ فائدہ حاصل نہ ہوتا۔ مؤمن آل فرعون، اگرچہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا، لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا پروگرام سن کر اس سے نہ رہا گیا اور بول اٹھا۔ ” اتقتلون رجلا الخ “ تم ایک شخص کو ناحق قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، میں اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کروں گا ؟ تو یہ بات تو قتل کی وجہ نہیں بن سکتی، کیونکہ اس کا یہ دعوی غلط نہیں، بلکہ سراپا حق ہے اور وہ اپنی سچائی اور اپنے دعوی کی حقانیت پر تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلے دلائل اور واضح معجزات لے کر آیا ہے، جن کا تم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرچکے ہو۔ اس لیے اسے قتل کرنے لیے تمہارے پاس کوئی وجہ جواز نہیں، تم اس سے باز آجاؤ۔
36:۔ ” وان یک کاذبا “ یہ انہیں قتل سے روکنے کا دوسرا انداز ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں دو ہی احتمال ہیں یا تو وہ اپنے دعوی میں جھوٹٓ ہے یا سچا دونوں صورتوں میں اس کا قتل قرین عقل نہیں۔ فرض کرو اگر وہ جھوٹا ہے تو تمہیں اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اسے قتل کرنے کی ضرورت ہی نہیں، بلکہ تم اس کو اپنے دین کے اظہار سے روک دو تو اس طرح اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اور دوسرے لوگ اس سے بچ جائیں گے اور اس طرح اس کا مشن اپنی موت آپ ہی مرجائے گا۔ لاحاجۃ بکم، فی دفع شرہ الی قتلہ بل یکفیکم ان تمنعوہ عن اظہار ھذہ المقالۃ ثم تترکوا قتلہ فان کان کاذبا فحینئذ لایعود ضررہ الا الیہ وان کان صادقا انتفعتم بہ (کبیر ج 7 ص 318) ۔
37:۔ ” وان یک صادقا “ اور اگر وہ سچا ہے اور تم اس کی تکذیب کرتے رہے تو جن انواع وذاب سے وہ تمہیں ڈراتا ہے ان میں سے کچھ تو ضرور تمہیں پہنچ کر رہے گا جیسا کہ سورة طہ رکوع 2 میں فرمایا ” انا قد اوحی الینا ان العذاب علی من کذب و تولی “ مومن آل فرعون کا تو ایمان تھا کہ موعود عذاب کی تمام انواع ان پر آئیں گی، لیکن فرعون اور اس کی قوم کے لحاظ سے بعض کہا، تاکہ یہ ان کے لیے تسلیم کرنا آسان ہو مقصد یہ ہے کہ اگر وہ سچا ہے تو کم از کم موعودہ عذاب سے کچھ تو ضرور آئے گا اور اس میں بھی تمہاری ہلاکت ہے، اس لیے اسے قتل کرنے کا خیال ترک کردو اور اس کی پیروی اختیار کرلو، تاکہ موعود عذاب سے بچ جاؤ۔ لم یقل کل الذی یعدکم مع انہ وعد من نبی صادق القول، مداراۃ لہم وسلوکا لطریق الانصاف، فجاء بما ھو اقرب الی تسلیمہم لہ ولیس فیہ نفی اصابۃ الکل، فکانہ قال لہم : اقل ما یکون فی صدقہ ان یصیبکم بعض ما یعدکم وھو العذاب العاجل وفی ذلک ھلاککم (مدارک) ۔
38:۔ ” ان اللہ “ یہ ادخال الٰہی ہے۔ اور اس سوال کا جواب ہے کہ مومن آل فرعون کی اس تقریر سے فرعون پر کچھ اثر ہوا یا نہ۔ فرمایا فرعون ایسے ھدود اللہ کو تورنے والے سرکشوں اور دجالوں کو اللہ ہدایت قبول کرنے کی توفیق نہیں دیتا۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ یا یہ بھی مومن ہی کا مقولہ ہے اور اس سے اس کا مقصد قوم فرعون کو یہ بتانا ہے کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) جیسا کہ تم کہتے ہوجادوگر اور کذاب ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی ان دلائل واضحہ کی طرف راہنمائی نہ کرتا اور نہ ان معجزات قاہرہ سے ان کی تائید ہی فرماتا۔ انہ کان مسرفا کذابا لما ھداہ اللہ تعالیٰ الی الینات ولما عضدہ بتلک المعجزات (روح ج 24 ص 65) ۔
Ayah 40:2939:۔ ” یقوم لکم الملک “ میری قوم ! آج تو ملک مصر کی حکومت تمہارے ہاتھ میں ہے اور ارض مصر میں تم بنی اسرائیل پر غالب اور حکمران ہوں، لیکن مجھے یہ تو بتاؤ کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) سچے ہوں اور پھر ہم ان کو نہ مانیں، بلکہ الٹا اس کے قتل کے درپے ہوجائیں تو اس وجہ سے اگر ہم پر اللہ کا عذاب آگیا تو اس سے ہمیں کون بچائے گا ؟ ” قال فرعون “ جب فرعون نے محسوس کیا کہ مومن کی گفتگو نہایت مدلل اور معقول ہے، تو سامعین پر سے اس کا اثر زائل کرنے کے لیے بول اٹھا۔ ” ما اریکم الا ما اری “ میں تو تمہیں اب بھی وہی مشورہ دیتا ہوں جو میری اپنی رائے ہے اور جسے میں صحیح سمجھتا ہوں اور جو میں پہلے تمہیں بتا چکا ہوں کہ موسیٰ کو قتل کیے بغیر یہ فتنہ فرو نہیں ہوگا۔ اور میں تمہیں بھلائی اور بہتری کی راہ ہی دکھا رہا ہوں۔ ای ما اشیر علیکم الا الذی اراہ و استصوبہ من قتلہ یعنی لا استصوب الا قتلہ (ابو السعود، بحر، روح واللفظ لہ) ۔
Ayahs 40:30–3140:۔ ” وقال الذی اٰمن “ فرعون کی گفتگو کے بعد اس مومن نے پھر سب کو خطاب کر کے ناصحانہ انداز میں کہنا شروع کیا۔ اے میری قوم ! اگر تم اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب اور ان کی ایذاء کے درپے رہے، تو مجھے ڈر ہے کہ تم پر اسی طرح کا قہر و غضب عذاب کی شکل میں نازل ہو جس طرح گذشتہ امتوں مثلاً قوم نوح، عاد، ثمود اور ان کے بعد کی قوموں کے سرکشوں پر نازل ہو اور ان کو دیکھتے ہی دیکھتے تہس نہس کر کے ردکھ دیا۔ گذشتہ امتوں کے ان سرکشوں سے اللہ تعالیٰ نے جو سلک فرمایا وہ ظلم نہیں تھا وہ مستحق ہی اس عذاب کے تھے۔ ظلم کرنا تو درکنار، اللہ تعالیٰ تو بندوں پر ظلم کرنے کا ارادہ بھی نہیں فرماتا۔ امم سابقہ کے پاس اللہ تعالیٰ نے آیات بینات کے ساتھ اپنے پیغمبر بھیجے، انہوں نے ان کی تکذیب کی اور ان سے جدال و قتال پر آمادہ ہوگئے، اس لیے انہیں دنیا ہی میں کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں۔ ” وما للہ یرید ظلما للعباد “ ادخال الٰہی ہے اور اس میں اس شب ہے کا ازالہ کیا گیا ہے کہ ان اقوام کو اس کثرت تعداد کے باوجود ہلاک کرنا ظلم نہیں تھا۔ وہ مستحق ہی اس عذاب کے تھے۔ ظلم کرنا تو درکنار، اللہ تعالیٰ تو بندوں پر ظلم کرنے کا ارادہ بھی نہیں فرماتا۔ امم سابقہ کے پاس اللہ تعالیٰ نے آیات بینات کے ساتھ اپنے پیغمبر بھیجے، انہوں نے ان کی تکذیب کی اور ان سے جداول و قتال پر آمادہ ہوگئے، اس لیے انہیں دنیا ہی میں کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں۔ ” وما اللہ یردی ظلما للعباد “ ادخال الٰہی ہے اور اس میں اس شب ہے کا ازالہ کیا گیا ہے کہ ان اقوام کو اس کثرت تعداد کے باوجود ہلاک کرنا ظلم نہیں تھا ؟
Ayahs 40:32–3341:۔ ” ویا قوم انی اخاف “ پہلے انہیں دنیوی عذاب سے ڈرایا، اب اخروی عذاب سے ڈراتا ہے۔ ” یوم التناد “ ایک دوسرے کو پکارنے کا دن، مراد قیامت کا دن ہے۔ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کو مدد کے لیے پکاریں گے۔ دوسرا یوم، پہلے یوم یوم سے بدل ہے۔ مومن نے کہا : اے میری قوم ! دنیا میں ہلاکت و بربادی اور ذلت و رسوائی کے علاوہ مجھے تمہارے لیے قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے، جب تم ایک دوسرے کو مدد کے لیے بلاؤ گے، لیکن کوئی کسی کی نہ سنے گا اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا اس دن تم عذاب کو دیکھ کر بھاگنے کی کوشش کرو گے تاکہ عذاب سے بچ سکو، لیکن بھاگ کر عذاب سے اپنی جان نہیں بچا سکو گے۔ اس دن میں کوئی بھی تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکے گا۔ وہاں نہ کوئی تدبیر چل سکے گی، نہ کوئی سفارشی ہی کام آئیگا۔ ” ومن یضلل اللہ الخ “ ضد وعناد کی وجہ سے تکذیب و انکار پر ڈٹ چکے ہو، اس لیے میری مدلل اور ناصحانہ تقریر تم پر اثر انداز ہو کر تمہیں راہ راست پر نہیں لاسکتی، کیونکہ منکرین کے ضد وعناد کی وجہ سے جب اللہ تعالیٰ انہیں قبول حق کی توفیق سے محروم کردے تو پھر انہیں کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔ یہ الفاظ مومن نے ان کے ایمان اور قبول نصیحت سے مایوس ہو کر کہے۔ ولما یئس المومن من قبولہا قال و من یضلل اللہ فما لہ من ھاد (بحر ج 7 ص 464) ۔
Ayah 40:3442:۔ ” ولقد جاء کم یوسف “ اب مومن نے اپنی قوم کو ان کی گذشتہ بد اعمالیوں پر کوسنا شروع کیا۔ فرمایا : موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) بھی اسی ملک مصر میں دلائل و معجزات کے ساتھ تمہارے پاس آچکے ہیں، تو اس وقت بھی تم ان کی رسالت اور اللہ کی وحدانیت کے بارے میں شکوک و شبہات کی بیماری میں مبتلا رہے اور تم نے ان کو نہ مانا، یہانتک کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو تم ان کی نبوت کے تو تم پہلے ہی سے قائل نہ تھے، لیکن ان کیو فات کے بعد تم نے صاف صاف کہنا شروع کردیا کہ ہمیشہ کے لیے یہ جھگڑا ختم ہوگیا۔ ” کذلک الخ “ کاف بمعنی لام تعلیلیہ ہے، اسی وجہ سے یعنی اللہ کی توحید میں شک کرنے کی وجہ سے حد سے گذرنے والوں اور شک میں پڑنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا گمراہی میں ڈالے رکھتا ہے۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔
Ayah 40:3543:۔ ” الذین یجادلون “ جو محض ضد وع ناد کی وجہ سے دلیل و حجت کے بغیر ہی اللہ کی آیتوں میں جدال اور جھگرا کرتے رہتے ہیں۔ ” کبر مقتا الخ “ یہ بات یعنی اللہ کی توحید اور اس کی آیتوں میں جھگرنا اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کے نزدیک نہایت ہی ممقوت و مبغوض اور قابل مذمت فعل ہے۔ کذالک ای لذلک یعنی مبدا توحید (آیات الٰہی) میں جدال و نزاع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہر مغرور اور جابر کے دل پر مہر جباریت ثبت کردیتا ہے، چونکہ وہ حق جوئی کے جذبے سے عاری اور ضد پر قائم ہوتے ہیں، اس لیے انہیں ہدایت قبول کرنے کی فوفیق نہیں ملتی۔ جب آدمی توحید کے دلائل واضحہ اور آیات بینات دیکھ کر پھر بھی شک میں رہا، تو یہ شک اس کی گمراہی کا سبب بنے گا۔ گمراہی کے بعد اگر آیات بینات میں نیک نیتی سے غور و فکر کرنے کی بجائے کجروی اور جدال کرنے لگا، تو شقاوت کی انتہاء کو پہنچ جائے گا اور اس کے دل پر مہر جباریت لگ جائے گی۔ یہاں ان چاروں منزلوں کو اسی ترتیب سے ذکر کیا گیا ہے (1) شک (2) شک کے بعد ضلال، گمراہی (3) ضلال کے بعد جدال اور (4) جدال کے بعد طبع، یعنی مہر جباریت۔
Ayah 40:3644:۔ ” وقال فرعون “ فرعون کو اندیشہ ہوا کہ مبادا مومن کے کلام سے قوم متاثر ہوجائے، اس لیے اس نے قوم کو دوسری طرف مشغول کرنے کے لیے اپنے وزیر ھامان کو حکم دیا کہ ایک نہایت ہی بلند مینار تعمیر کرائے تاکہ وہ اس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھ تو سہی جس کی عبادت کی وہ دعوت دیتا ہے۔ لیکن یاد رکھو، یہ صرف تمہارے اطمینان کے لیے ہے ویسے مجھے تو اپنی جگہ یقین ہے کہ موسیٰ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے کہ میرے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے (العیاذ باللہ) یہاں ظن بمعنی یقین ہے۔ ان الطن بمعنی الیقین ای وانا (تیقن انہ کاذب وانما اقوال ما اقولہ لازالۃ الشبۃ عمن لا یتیقن ما اتیقنہ (قرطبی ج 15 ص 315) ۔
Ayah 40:3745:۔ ” وکذلک زین “ یوں فرعون کے لیے اس کے مشرکانہ اعمال اور اس کی متکبرانہ حرکات اس کی نگاہوں میں مزین کردی گئیں۔ اور اسے راہ راست پر آنے سے روک دیا گیا۔ یعنی اس کے ضد وعناد کی وجہ سے اسے قبول حق کی توفیق سے محروم کردیا گیا۔ ” وما کید فرعون الخ “ یہ ادخال الٰہی ہے۔ فرعون کی ہر چال اور اس کا ہر فریب بیکار اور رئیگاں تھا۔ وہ کسی تدبیر سے بھی اپنے کو سوء عاقبت سے نہ بچا سکا۔ آخر لاؤ لشکر سمیت غرق ہو کر رہا۔
Ayahs 40:38–4046:۔ ” وقال الذی اٰمن “ مرد مومن نے کہا : میرے بھائیو ! میری بات مان لو، میں تمہیں ٹھیک اور سیدھی راہ تبا رہا ہوں۔ ” یا قوم “ میری قوم ! یہ دنیا کی زندگی تو محض چند روزہ نفع کی چیز ہے اور دائمی گھر اور ہمیشہ رہنے کی جگہ تو دار آخرت ہے، اس لیے تم دنیا کے چند روزہ اور فانی منافع کی خاطر آخرت کی دائمی خوشحال زندگی کو قربان نہ کرو۔ آخرت کی دائمی زندگی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تم موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آؤ اور نیک کام کرو۔ ” من عمل سیئۃ “ جو شخص برے کام کرے گا۔ اس کو اس کے گناہوں سے زیادہ سزا نہیں ملے گی، لیکن جس مرد یا عورت نے ایمان لا کر نیک کام کیے۔ اللہ کی توحید کو اور تمام بنیادی عقائد کو مانا اور اس کے مطابق اعمال صالحہ بجا لائے تو وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں انہیں ہر نعمت محض اللہ کے فض (رح) سے بلا حساب اور ناپ تول کے بغیر ملے گی۔ جنت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو ہمارے اعمال سے کوئی نسبت نہ ہوگی، اعمال کے مقابلے میں نعیم جنت کئی گنا زیادہ ہوں گی۔ ای بغیر تقدیر و موازنۃ بالعمل بل اضعافا مضاعفۃ فضلا من الللہ عز و جل ورحمۃ (ابو السعود ج 7 ص 325) ۔