40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 40:41–42

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے قوم47 مجھ کو کیا ہوا ہے بلاتا ہوں تم کو نجات کی طرف اور تم بلاتے ہو مجھ کو آگ کی طرف

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم بلاتے ہو مجھ کو کہ منکر ہوجاؤں اللہ سے اور شریک ٹھہراؤں اس کا اس کو جس کی مجھ کو خبر نہیں اور میں بلاتا ہوں تم کو اس زبردست گناہ بخشنے والے کی طرف

47:۔ ” و یا قوم مالی “ میرے بھائیو ! یہ کیا ہے کہ میں تو تمہیں نجات کے راستے کی طرف بلاتا ہوں، لیکن تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو میں تمہیں توحید کی دعوت دے رہا ہوں، جو عذاب جہنم سے نجات پانے کا ذریعہ ہے اور تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلاتے ہو جو عذاب دوزخ کا موجب ہے۔ ” تدعوننی لاکفر باللہ الخ “ یہ ماقبل کی تفسیر ہے ” واشرک “ میں واؤ تفسیریہ ہے۔ بہ ای بمعبودیتہ (جلالین) تم مجھے دعوت دے رہے ہو کہ میں اس کو خدا کا شریک بناؤں جس کے معبود ہونے کی میرے پاس (بلکہ تمہارے پاس بھی) کوئی دلیل نہیں، لیکن میں اس خدائے عزیز و غفار کی توحید کی طرف بلا رہا ہوں جو سرکشوں سے انتقام لینے پر قادر ہے اور یمان والوں پر نہایت مہربان ہے اور ان کی لغزشوں سے درگذر فرماتا فرماتا ہے۔
Ayah 40:43

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

آپ ہی ظاہر ہے48 کہ جس کی طرف تم مجھ کو بلاتے ہو اس کا بلاوا کہیں نہیں دنیا میں اور نہ آخرت میں اور یہ کہ ہم کو پھرجانا ہے اللہ کے پاس اور یہ کہ زیادتی والے وہی ہیں دوزخ کے لوگ49

48:۔ ” لاجرم “ یہ یقینی اور قطعی بات ہے کہ جن خود ساختہ معبودوں کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو وہ پکارے جانے کے قابل نہ دنیا میں ہیں نہ آخرت میں۔ وہ نہ تو دنیا میں کسی کی فریاد پکار سن سکتے ہیں اور نہ آخرت میں کسی کے کام آسکیں گے اور یقیناً ہم سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے اور حد سے گذرنے والے (مشرکین) قطعاً جہنم کا ایندھن ہوں گے اس لیے میں تمہاری بات مان کر کیوں جہنم میں اپنا ٹھکانا بناؤں ؟ یعنی لیست لہ (استجابۃ دعوۃ لا حد فی الدنیا ولا فی الخرۃ (خازن ج 6 ص 80) ۔ ” المسرفین “ قال قتادۃ وابن سیرین یعنی المشرکین (قرطبی ج 15 ص 317) ۔ 49:۔ ” فستذکرون “ اس مرد مومن نے آخر میں انتہائی دلسوزی سے کہا : آج تو تم میری باتوں کی پرواہ نہیں کر رہے ہو، لیکن جب دنیا میں یا آخرت میں تم پر اللہ کا عذاب آئے گا تو تم اس وقت میری باتوں کو یاد کروگے اور کہو گے کہ واقعی ہمارا بھائی سچ کہتا تھا، اس نے جو کچھ کہا وہ بالکل ٹھیک اور درست تھا۔ اچھا خدا حافظ ! میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، وہ اپنے بندوں کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔
Ayah 40:44

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

سو آگے یاد کرو گے جو میں کہتا ہوں تم کو اور میں سونپتا ہوں اپنا کام اللہ کو بیشک اللہ کی نگاہ میں ہیں سب بندے50

50:۔ ” فوقہ اللہ “ مرد مومن کو یقین تھا کہ میر اس تقریر کے بعد یہ لوگ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے، اس لیے وہاں سے بھاگ نکلا اور پہاڑوں کا رخ کیا، فرعون نے اس کے تعاقب میں ایک ہزار آدمی روانہ کیا، لیکن وہ اسے پکڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے، کچھ تو وہاں پہاڑوں میں درندوں نے پھاڑ کھائے اور کچھ پیاس سے ہلاک ہوئے اور جو واپس آئے انہیں فرعون نے سولی دیدی، اسے شبہ ہوا کہ انہوں نے دیدہ دانستہ ان کو گرفتار نہیں کیا اور اسے چھوڑ کر واپس آگئے ہیں (مدارک، بحر) اس طرح اللہ تعالیٰ نے مرد مومن کو ان کے مکر و فریب سے بچالیا اور قوم فرعون کے آدمیوں کو جو اس کے تعاقب میں نکلے تھے بری طرح کے عذاب سے ہلاک کیا۔ یا آل فرعون سے قوم فرعون مع فرعون مراد ہے اور سوء العذاب سے عذاب غرق مراد ہے۔
Ayahs 40:45–46

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

پھر بچا لیا موسیٰ کو اللہ نے برے داؤ سے جو کرتے تھے اور الٹ پڑا فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب51

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

وہ آگ ہے کہ دکھلادیتے ہیں ان کو صبح اور شام اور جس دن قائم ہوگی قیامت حکم ہوگا داخل کرو فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں

51:۔ ” النار یعرضون “ یہ تخویف اخروی ہے۔ اس میں عالم برزخ اور قیامت دونوں کے عذاب کا ذکر ہے۔ قوم فرعون کو ہلاکت اور غرق کے بعد عالم برزخ میں روزانہ صبح شام آگ کا عذاب دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اور جب قیامت قائم ہوگی، تو حکم ہوگا کہ قوم فرعون کو اب اس پہلے سے بھی زیادہ سخت عذاب میں داخل کر دو ۔ یہ آیت عذاب قبر (عالم برزخ) کے ثبوت پر نص صریح ہے اور تمام اہل سنت و جماعت عذاب قبر کے اثبات پر متفق ہیں۔ اس آیت میں دو عذابوں کا ذکر ہے ایک ” النار یعرضون الخ “۔ دوم ” ادخلوا ال فرعون الخ “ دونوں کے درمیان ” ویم تقوم الساعۃ وارد ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ” النار یعرضون الخ “ میں جس عذاب کا ذکر کیا گیا ہے، وہ قیام قیامت سے پہلے ہے۔ اور یہ عالم برزخ کے عذاب کے سوا اور کوئی نہیں۔ وھذہ الایۃ دلیل علی عذاب القبر (مدارک) والجمہور علی ان ھذا العرض فی البرزخ، ھذہ الایۃ تدل علی عذاب القبر فی الدنیا (قرطبی ج 15 ص 319، 318) ۔ دل علی ان المراد النار یعرضون علہا غدوا وعشیا قبل القیامۃ (جصاص ج 3 ص 473) ۔ ھذہ الایۃ تدل علی عذاب القبر (جصاص ج 3 ص 473) ۔ ان ھذا العرض انما حصل بعد الموت و قبل یوم القیامۃ و ذلک یدل علی اثبات عذاب القبر الخ (کبیر ج 7 ص 330) ۔ وھذہ الایۃ اصل کبیر فی استدلال اھل السنۃ علی عذاب البرزخ فی القبور (ابن کثیر ج 4 ص 81) ۔ اور یہ عالم برزخ کا عذاب اجسام مثالیہ کی وساطت سے ارواح پر وارد ہوتا ہے چناچہ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں آل فرعون کی روحوں کو سیاہ پرندوں کے اجواف میں داخل کر کے انہیں آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ ارواح ال فرعون نے فی اجواف طیور سود یعرضون علی النار الخ (معالم، قرطبی، روح) اور یہ صور مثالیہ ان کے اعمال کی اشکال سے پیدا کی جاتی ہیں۔ وھذہ الطیر صور تخلق لہم من صور اعمالہم (روح ج 24 ص 73) ۔
Ayahs 40:47–48

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور جب52 آپس میں جھگڑیں گے آگ کے اندر پھر کہیں گے کمزور غرور کرنے والوں کو ہم تھے تمہارے تابع پھر کچھ تم ہم پر سے اٹھالو گے حصہ آگ کا

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

کہیں گے جو غرور کرتے تھے ہم سبھی پڑے ہوئے ہیں اس میں بیشک اللہ فیصلہ کرچکا بندوں میں

52:۔ ” اذ یتحاجون “ جب مشرک رہنما اور ان کے متبعین دوزخ میں داخل کردئیے جائیں گے تو وہ آپس میں جھگڑیں گے اور ہر فریق دوسرے کو الزام دے گا۔ ضعفاء یعنی کمزور اور زبردست لوگ جنہوں نے بڑوں اور راہنماؤں کے کہنے پر کفر و شرک اختیار کیا وہ اپنے ان پیشواؤں سے کہیں گے جنہوں نے ازراہ استکبار توحید کو قبول نہیں کیا تھا اور عوام کو بھی توحید سے روکا تھا کہ ہم تمہارے ماتحت اور متبع تھے اور اسی کے نتیجے میں آج دوزخ میں پڑے ہیں تو کیا آج تم ہم سے عذاب میں کچھ تخفیف کر اسکتے ہو۔ ” قال الذین استکبروا “ تو وہ بڑے جواب دیں گے کہ ہم تو خود اسی عذاب میں پڑے ہیں۔ اگر ہم میں کچھ قدرت ہوتی تو خود ہی اس عذاب سے بچ جاتے اور اب تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلہ فرما چکا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے اس قطعی اور حتمی فیصلہ کے بعد ہو ہی کیا سکتا ہے۔
Ayah 40:49

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور کہیں گے53 جو لوگ پڑے ہیں آگ میں دوزخ کے داروغوں کو مانگو اپنے رب سے کہ ہم پر ہلکا کردے ایک دن تھوڑا عذاب

53:۔ ” وقال الذین فی النار “۔ اہل جہنم اپنے مشرک سرداروں کی طرف سے مایوس کن جواب سن کر اور مشرک سردار اور پیشوا اپنے تمام حیلوں اور بہانوں کو ناکام پا کر سب جہنم پر متعین فرشتوں سے درخواست کریں گے کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں ان کے لیے سفارش کریں کہ ان کی سزا میں صرف ایک ہی دن کی کمی فرما دے۔ (وقال الذین فی النار) من الضعفاء و المستکبرین جمیعا لا ضاقت بہم الحیل وعیت بہم العلل۔ (روح ج 24 ص 775) ۔
Ayah 40:50

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ بولے54 کیا نہ آتے تھے تمہارے پاس تمہارے رسول کھلی نشانیاں لے کر کہیں گے کیوں نہیں بولے پھر پکارو اور کچھ نہیں کافروں کا پکارنا مگر بھٹکنا

54:۔ ” قالوا اولم تک “ فرشتے تہدید و توبیخ کے طور پر ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس انبیاء (علیہم السلام) معجزات اور واضح دلائل لے کر نہیں آئے تھے ؟ ” قالوا بلی “ جواب دیں گے۔ کیوں نہیں، آئے تو تھے۔ انہوں نے ہمیں اللہ کے احکام سنائے۔ ماننے والوں کو جنت کی خوشخبری دی اور منکرین کو خدا کے عذاب سے ڈرایا۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے ان کی نہ سنی۔ ” قالوا فادعوا “ اوقات دعا اور اسباب قبولیت کو تو تم نے دنیا میں ضائع کردیا اور تم وہاں متنبہ نہ ہوئے، تم ایسے لوگوں کے حق میں دعا کرنا ہمارے لیے تو ممکن نہیں۔ ہم نے تمہارے عا کرسکتے ہیں، نہ تمہاری درخواست قبول کرسکتے ہیں، بلکہ ہم تو تم سے ہیں ہی بیزار، اس لیے تم خود ہی اللہ سے دعا مانگو، لیکن یہ بھی سن لو کفار و مشرکین کی دعاء رائیگاں جاتی ہے اور قبول نہیں ہوتی۔ (فادعوا) ای انتم لانفسکم فنحن لا ندعوا لکم ولا نسمع منکم ولا فود خلاصکم و نحن منکم براء ثم نخبر کم انہ سواء دعوتم اولم تدعوا لایستجاب لکم ولا یخفف عنکم (ابن کثیر ج 4 ص 83) ۔ مطلب یہ ہے کہ اب اللہ کو پکارنے کی درخواست کرتے ہو اب بھی اپنے ان خود ساختہ معبودوں ہی کو پکارو جن کو دنیا میں مصائب و حاجات میں پکارا کرتے تھے۔ یہ ان کی حسرت و ندامت میں مزید اضافہ کرنے کے لیے کہا جائیگا۔
Ayahs 40:51–52

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

ہم55 مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگانی میں اور جب کھڑے ہوں گے گواہ

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جس دن کام نہ آئیں منکروں کو ان کے بہانے اور ان کو پھٹکار ہے اور ان کے واسطے برا گھر

55:۔ ” انا لننصر رسلنا “ یہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے لیے تسلی ہے۔ ہم اپنے پیغمبروں اور ایمان والوں کی دنیا میں مدد کرتے ہیں، دشمنوں کے ہاتھوں ہم انہیں ذلیل نہیں ہونے دیتے اور آخرت میں بھی انہیں بہترین جزا دینگے اور ان کو اعلی درجات پر فائز کریں گے۔ ” ویوم یقوم الاشہاد “ یہ علفتہا تبنا و ماء باردا کے قبیل سے ہے۔ اور اصل میں ہے وجزیھم جزاء حسنا یوم یقوم الشہاد قالہ الشیخ قدس سرہ۔ ” یوم لا ینفع “ یہ ” یوم یقوم “ سے بدل ہے۔ جس دن انبیاء علیہم السلام، فرشتے اور دوسرے گواہ اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہوں وہاں پورا پورا انصاف ہوگا۔ اس دن مشرکین کا کوئی حیلہ وبہانہ کامیاب نہ ہوگا اور وہ اللہ کی رحمت سے دور کردئیے جائیں گے اور ان کا ٹھکانہ نہایت ہی برا ہوگا۔ یعنی جہنم۔
Ayahs 40:53–54

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور56 ہم نے دی موسیٰ کو راہ کی سوجھ اور وارث کیا بنی اسرائیل کو کتاب کا

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

سجھانے اور سمجھانے والی عقل مندوں کو

56:۔ ” ولقد اتینا موسیٰ “ یہ دعوے سورت پر دلیل نقلی ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے۔ یعنی ہم نے موسیٰ کو تورات میں یہی پیغام ہدایت دیا تھا اور بنی اسرائیل کے لیے اس کو دستور بنایا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بنانا۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل رکوع 1 میں ارشاد فرمایا۔ ” واتینا موسیٰ الکتب وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل ان لا تتخذوا من دونی وکیلا۔ اور پھر بنی اسرائیل کو اس کتاب (تورات) کا وارث بنایا جو اس پیغام ہدایت (توحید) پر مشتمل اور اہل دانش اور ارباب بصیرت کے لیے سراپا بند و نصیحت تھی۔
Ayah 40:55

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

سو تو ٹھہرا رہ57 بیشک وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے اور بخشوا اپنا گناہ اور پاکی بول اپنے رب کی خوبیاں شام کو اور صبح کو

57:۔ ” فاصبر “ یہ دوسری بار تسلی کا ذکر ہے۔ دعوت توحید کے سلسلے میں مشرکین کی طرف سے آپ کو تکلیفیں اور اذیتیں پہنچیں گی۔ آپ صبر و تحمل سے ان کو برداشت کریں، اللہ کا وعدہ برحق ہے وہ ضرور آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو مشرکین پر غالب فرمائے گا۔ لیکن یہ وعدہ اپنے وقت معین پر پورا ہوگا جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم نے اسی پیغام توحید کی خاطر فرعون کے ہاتھوں مصیبتیں اٹھائیں۔ آخر اللہ نے ان کو غالب و منصور فرمایا اور فرعون اور اس کی قوم کو ان کی آنکھوں کے سامنے ذلیل ورسوا کر کے ہلاک کیا۔ آپ ان مصائب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیں اور صبح شام شرک سے اللہ کی تنزیہ و تقدیس اور اس کی حمد و ثنا میں مصروف رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاک ہے اور سب کچھ کرنے والا وہی ہے۔ اس سلسلے میں اگر آپ سے کوئی ایسی لغزش صادر ہوجائے جو اگرچہ فی نفسہ گناہ نہ ہو، لیکن آپ کی شان رفیع کے شایان بھی نہ ہو تو اس کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا مانگیں اور اس کی تلافی کی کوشش فرمائی (واستغفر لذنبک) اقبل علی امر الدین وتلاف ما ربما یفرط مما یعد بالنسبۃ الیک ذنبا وان لم یکنہ (روح ج 24 ص 77) ۔
Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

جو58 لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی باتوں میں بغیر کسی سند کے جو پہنچی ہو ان کو اور کوئی بات نہیں ان کے دلوں میں غرور ہے کہ کبھی نہ پہنچیں گے اس تک سو تو پناہ مانگ59 اللہ کی بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے

58:۔ ” ان الذین یجادلون “ یہ مجالدہ اور کٹ حجتی کرنے والوں پر زجر ہے۔ جو لوگ اللہ کی آیتوں میں دلیل و حجت کے بغیر جھگڑتے ہیں، وہ محض جدی اور معاند ہیں۔ اصل میں ان کے دلوں میں کبر و غرور ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر وہ پیغمبر (علیہ السلام) کو مان لیں تو انہیں متبع اور فرمانبردار بننا پڑے گا اور اس طرح ان کی سرداری اور بڑائی جاتی رہے گی۔ لیکن اگر پیغمبر (علیہ السلام) کو نہ مانیں تو ان کی عظمت و ریاست قائم رہے گی۔ فرمایا ان کا یہ خیال خام ہے پیغمبر (علیہ السلام) کی مخالفت وعداوت سے وہ اپنی بڑائی اور عظمت کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ ہم ان کی اس آرزو کو خاک میں ملا دیں گے اور دنیا میں ان کو ذلیل ورسوا کردیں گے۔ ھؤلاء قوم راو انہم ان اتبعوا النبی صلی اللہ علی ہو سلم قل ارتفاعہم ونقضت احوالہم وانہم یرتفعون اذا لم یکونوا تبعا، فاعلم اللہ عز وجل انہم لا یبلغون الارتفاع الذی املوہ بالتکذیب (قرطبی ج 15 س 324) ۔ 59:۔ ” فاستعذ باللہ “ آپ ان معاندین کی شرارتوں اور کج بحثیوں پر برافروختہ نہ ہوں، بلکہ صبر و تحمل سے کام لیں، اگر کسی وقت بتقاضائے بشریت طبیعت میں تیزی آجائے تو آپ اس سے اللہ کی پناہ مانگیں قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان حساد اور معاندین کے مکر و فریب سے اللہ کی پناہ مانگیں کیونکہ وہی سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ وہ معاندین کے جدال و خصام سے بھی باخبر ہے اور آپ کے حال سے بھی۔ ہر ایک کو اس کے حال کے مطابق جزاء وسزا دے گا۔ انہ ھو السمیع البصیر، یہ ماقبل کے لیے علت ہے یعنی اسی سے پناہ اس لیے مانگیں کہ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا وہی ہے۔
Ayah 40:57

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

البتہ پیدا کرنا60 آسمانوں کا اور زمین کا بڑا ہے لوگوں کے بنانے سے لیکن بہت لوگ نہیں سمجھتے

60:۔ ” لخلق السموات “ یہ ثبوت قیامت پر دلیل انی ہے۔ ” النار یعرضون علیہا الخ “ میں تخویف اخروی کا ذکر تھا۔ اور تخویف اخروی تب ہی ہوسکت ہے کہ قیامت آئے، اس لیے یہاں قیام قیامت پر دلیل ذکر کی گئی۔ یہ مجادلین اور معاندین جنہیں تعداد میں اکثریت حاصل ہے اتنا بھی نہیں سوچتے کہ زمین و آسمان کو پیدا کرنا انسانوں کے پیدا کرنے سے کہیں زیادہ بڑا کام ہے، تو جس قادر مطلق نے زمین و آسمان کو پیدا کرلیا۔ جیسا کہ تمام مشرکین کا بھی ایمان ہے۔ اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرلینا کونسا مشکل کام ہے ” وما یستوی الاعمی والبصیر “ یہ ثبوت قیامت پر دلیل لمی ہے۔ اندھا (کافر) جو دلائل قدرت اور آیات توحید کو نہیں دیکھتا اور ان میں غور و فکر نہیں کرتا اور بصیر (مومن) جو آیات قدرت اور دلائل وحدانیت کو دیکھتا اور ان کو مانتا ہے یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے، بعنوان دیگر مومن صالح اور کافر بدکار باہم یکساں نہیں ہیں۔ اول الذکر اللہ کی طرف سے ثواب جزیل اور اجر عظیم کے مستحق ہیں جبکہ آخر الذکر عقاب شدید اور عذاب الیم کے مستحق ہیں۔ لیکن یہ جزاء وسزا دنیا میں تو ظاہر نہیں ہوتی۔ اس لیے لامحالہ اس دنیا کی زندگی کے بعد کوئی ایسا وقت ہونا چاہئے جس میں مومن و کافر کی جزاء و سزا کما حقہ ظاہر ہو، اسی کا نام دار آخرت ہے۔
Ayahs 40:58–59

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور برابر نہیں اندھا اور آنکھوں والا اور نہ ایمان دار اور جو بھلے کام کرتے ہیں اور نہ بدکار تم بہت کم سوچ کرتے ہو61

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

تحقیق قیامت آنی ہے اس میں دھوکا نہیں لیکن بہت لوگ نہیں مانتے

61:۔ ” ان الساعۃ “ یہ ثبوت قیامت کا دعوے ہے۔ قیامت لامحالہ آنے والی ہے، اس کے آنے میں کوئی شک نہیں لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ یعنی کفار ایسی یقنی اور قطعی چیز کا بھی انکار کرتے ہیں۔
Ayah 40:60

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور کہتا ہے62 تمہارا رب مجھ کو پکارو کہ پہنچوں تمہاری پکار کو بیشک جو لوگ تکبر کرتے ہیں میری بندگی سے اب داخل ہوں گے دوزخ میں ذلیل ہو کر

62:َ ” وقال ربکم “ یہ دعوائے سورت کا دوسری بار ذکر ہے، تمہارے پروردگار کا اعلان عام ہے میرے بندو ! مصائب وحاجات میں مافوق الاسباب صرف مجھے ہی پکارو، اگر میں چاہوں گا تو تمہاری دعا کو قبول کرلوں گا۔ ” استجب لکم ان شئت “ جیسا کہ دوسری جگہ ہے ” عجلنا فیہا ما نشاء لمن نرید “ (بنی اسرائیل رکوع 2) ۔ نیز فرمایا ” ویکشف ا تدعون الیہ ان شاء “ (انعام رکوع 4) ۔ یا مطلب یہ ہوگا کہ تم مجھے پکارو، تمہاری دعائیں قبول کرنے کی طاقت مجھ ہی میں ہے میرے سوا کوئی دعاء اور پکار کو نہ سن سکتا ہے، نہ قبول کرسکتا ہے۔ ” ان الذین یستکبرون جو لوگ صرف مجھے ہی پکارنے سے استکبار کرتے ہیں، صرف مجھے ہی پکارنے پر اکتفا نہیں کرتے اور میرے سوا اوروں کو بھی پکارتے ہیں وہ لامحالہ ذلیل ورسواہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ عبادت کے معنی یہاں دعا اور پکار کے ہیں کیونکہ دعا عبادت کا مغز ہے۔ عن عبادتی عن دعائی والدعاء مخ العبادۃ (جامع البیان ص 407) ای عن دعائی و توحیدی (ابن کثیر ج 4 ص 86) ۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ان الدعاء ھو العبادۃ اس کے بعد آپ نے بطور استدلال یہی آیت تلاوت فرمائی۔ ” وقال ربکم ادعونی الایۃ “۔ اس حدیث کی ائمہ حدیث و تفسیر ابن جریر، ابو داوٗد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ، ابن ابی حاتم نے تخریج کی ہے (ابن کثیر) ۔ اسی طرح حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا الدعاء مخ العبادۃ (خازن ج 6 ص 101) بحوالہ ترمذی۔ دعاء عبادت کا مغز ہے اور اس کا اعلی ترین فرد ہے۔
Ayahs 40:61–62

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ ہے جس نے63 بنایا تمہارے واسطے رات کو کہ اس میں چین پکڑو اور دن بنایا دیکھنے کا اللہ تو فضل والا ہے لوگوں پر اور لیکن بہت لوگ حق نہیں مانتے

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

وہ اللہ ہے رب تمہارا ہر چیز بنانے والا کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا پھر کہاں سے پھرے جاتے ہو

63:۔ ” اللہ الذی جعل “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے رات کو تمہارے آرام کے لیے تاریک اور دن کو تمہارے کام کاج کے لیے روشن بنایا۔ بیشک اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان اور متفضل ہے، لیکن اکثر لوگ اس کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتے۔ ” ذلکم اللہ ربکم الخ “ یہ دلیل کا نتیجہ وثمرہ ہے۔ یہ اللہ جو صفا بالا سے متصف ہے، نظام شمسی (نظام کائنات) جس کے ہاتھ میں ہے وہی تمہارا رب ہے ہر چیز کا خالق، لہذا اس کے سوا کوئی الہ نہیں، بس صرف اسی کی عبادت کرو اور مصائب و حاجات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے ایسے روشن دلائل کے باوجود تم کدھر الٹے جارہے ہو، تمہای عقل و فکر کو کیا ہوگیا ہے۔ اللہ کے سوا ایسوں کو معبود اور کارساز ٹھہرا رکھا ہے جو بالکل عاجز ہیں۔ فکیف ومن ای جھۃ تصرفون من عبادتہ سبحانہ الی عبادۃ غیرہ عز وجل (روح ج 24 س 83) ۔ ” کذلک یوفک الخ “ جو لوگ مھض ضد وعناد کی وجہ سے اللہ کی آیتوں کا انکار کریں اور انصاف سے ان میں غور و فکر نہ کریں ان کی عقل اسی طرح ماری جاتی ہے اور وہ سیدھی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ای کل من جحد بایات اللہ ولم یتاملہا ولم یطلب الھق (فک کما افکوا۔ (مدارک ج 4 ص 64) ۔
Ayahs 40:63–65

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اسی طرح پھرے جاتے ہیں جو لوگ کہ اللہ کی باتوں سے منکر ہوتے رہتے ہیں64

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اللہ ہے جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو عمارت اور صورت بنائی تمہاری تو اچھی بنائیں صورتیں تمہاری اور روزی دی تم کو ستھری چیزوں سے وہ اللہ ہے رب تمہارا سو بڑی برکت ہے اللہ کی جو رب ہے سارے جہان کا

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہ ہے زندہ رہنے والا کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا، سو اس کو پکارو خالص کر کے، اس کی بندگی سب خوبی اللہ کو جو رب ہے سارے جہان کا

64:۔ ” اللہ الذی “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار اور آسمان کو چھت بنا دیا اور تمہیں نہایت ہی ھسین و جمیل شکل و صورت میں پیدا فرمایا اور تمہیں نہایت عمدہ اور پکایزہ چیزوں سے تمہیں روزی عطا فرمائی۔ ” ذلکم اللہ ربکم “ یہ دلیل ثانی کا ثمرہ ہے۔ یہ اللہ جو صفات بالا سے متصف ہے وہی تمہارا رب اور کارساز ہے۔ کیسا عالیشان ہے وہ اللہ برکات دہندہ، جگ داتا، سارے جہانوں کا پروردگار۔ ” ھو الحی الخ “ اس کے علاوہ وہ زندہ جاوید ہے اس پر کبھی موت نہیں آئے گی اس کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ ” فادعواہ مخلصین لہ الدین “ یہ تیسری بار دعوائے سورت کا ذکر ہے۔ فاء فصیحہ ہے جب وہ زندہ جاوید ہے اور اس کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں تو پھر مصائب و حاجات میں صرف اسی کو پکارو اور اس کی پکار میں کسی کو شریک نہ کرو۔ ” الحمد للہ رب العالمین “ یہ ماقبل کی دلیل ہے صرف اسی کو پکارو، اس لیے کہ تمام صفات کارسازی اسی کے ساتھ مختص ہیں اور وہ سارے جہانوں کا پروردگار اور مربی ہے۔ یہانتک سورت کا پہلا حصہ ختم ہوا۔
Ayah 40:66

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

تو کہہ65 مجھ کو منع کردیا کہ پوجوں ان کو جن کو تم پکارتے ہو سوا اللہ کے جب پہنچ چکیں میرے پاس کھلی نشانیاں میرے رب سے اور مجھ کو حکم ہوا کہ تابع رہوں جہان کے پروردگار کا

65:۔ دوسرا حصہ : ” قل انی نہیت “ یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔ اس حصے میں پہلے حصے کے مضامین کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس آیت میں دلیل وحی کا اعادہ ہے۔ میرے پروردگار نے مجھ پر وحی کے ذریعے سے آیات بینات اور دلائل وبراہین نازل فرما کر مجھے روک دیا ہے کہ میں ان معبودانِ باطلہ کی عبادت کروں اور ان کو پکاروں جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ نیز مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کا فرمانبردار بندہ رہوں اور اس کے سوا کسی کو نہ پکاروں۔
Ayahs 40:67–68

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہی ہے66 جس نے بنایا تم کو خاک سے پھر پانی کی بوند سے پھر خون جمے ہوئے سے پھر تم کو نکالتا ہے بچہ پھر جب تک کہ پہنچو اپنے پورے زور کو پھر جب تک کہ ہوجاؤ بوڑھے اور کوئی تم میں ایسا ہے کہ مرجاتا ہے پہلے اس سے اور جب تک کہ پہنچو لکھے وعدے کو اور تاکہ تم سوچو

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی ہے جو جِلاتا ہے اور مارتا ہے پھر جب حکم کرے کسی کام کو تو یہی کہے اس کو کہ ہوجا وہ ہوجاتا ہے

66:۔ ” وھو الذی خلقکم “ یہ دلیل عقلی کا اعادہ ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا فرمایا پھر نطفے سے اس کی نسل کا سلسلہ شروع کیا، نطفے کو رحم مادر میں محض اپنی قدرت سے گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں تبدیل کردیا، پھر اس سے کامل الخلقت بچہ پیدا کیا، پھر تمہیں زندگی عطا کی یہاں تک کہ تم جوانی کو پہنچے پھر مزید زندگی عطا فرمائی یہاں تک کہ تم بڑھاپے کو پہنچ گئے۔ ” لتبلغو “ اور ” لتکونوا “ دونوں سے پہلے ” یبقیکم “ مقدر ہے (مدارک) ۔ تم میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جوانی یا بڑھاپے سے پہلے ہی موت کا جام پی لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے کرتا ہے تاکہ تم اپنے معین وقت (اجل موت) تک پہنچ جاؤ اور اس کے کمال قدرت میں غور و فکر کر کے اس کی ربوبیت اور اس کی وحدانیت کو سمجھ جاؤ۔ ” ھو الذی یحییٰ ویمیت “ جیسے زندگی اس کے ہاتھ میں ہے اسی طرح موت بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے، بلکہ سارا نظام کائنات ہی اس کے زیر تصرف ہے۔ اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں، وہ جس کام کا فیصلہ فرما لیتا ہے، اس کے سر انجام ہونے کے لیے اس کا ارادہ ہی کافی ہوتا ہے۔ ادھر ارادہ فرمایا، ادھر کام مکمل ہوگیا۔ بس یہی قادر مطلق اور متصرف علی الاطلاق تم سب کا معبود اور کارساز ہے، اس کے سوا کسی کو حاجات میں غائبانہ مت پکارو۔
Ayah 40:69

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

تو نے نہ دیکھا ان کو67 جو جھگڑتے ہیں اللہ کی باتوں میں کہاں سے پھیرے جاتے ہیں

67:۔ ” الم تر الی الذین “ یہ مجادلین پر زجر کا اعادہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کو معاندین کے قابلت عجب رویے کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے۔ ان ضدی لوگوں کا حال بھی عجیب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات بینات میں خواہ مخواہ کٹ حجتی اور جدال کرتے ہیں، حالانکہ یہ آیات ایسی واضح اور روشن ہیں کہ ان میں غور و فکر ان کو دولت ایمان وا یقان تک پہنچا دے اور بےمعنی جدال و نزاع سے انہیں روک دے لیکن اس کے باوجود کسی طرح وہ ہدایت سے پھیرے جا رہے ہیں۔
Ayahs 40:70–72

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

وہ لوگ کہ جنہوں نے68 جھٹلایا اس کتاب کو اور اس کو کہ بھیجا ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ سو آخر جان لیں گے

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب طوق پڑیں ان کی گردنوں میں اور زنجیریں بھی گھسیٹے جائیں

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

جلتے پانی میں پھر آگ میں ان کو جھونک دیں

68:۔ ” الذین کذبوا بالکتب “ یہاں سے لے کر ” فبئس مثوی المتکبرین “ تک تخویف اخروی کا اعادہ ہے۔ ” الذین کذبوا “ ، الذین یجادلون سے بدل ہے۔ یا اس کی صفت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی کتاب کو جھٹلایا اور خاص طور سے اس مسئلہ توحید کا انکار کیا جس کی تبلیغ کے لیے ہم نے تمام انبیاء و رسل (علیہم السلام) کو بھیجا، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” وما ارسلمنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون “ (الانبیاء رکوع 2) ۔ ان لوگوں کو تکذیب و انکار اور جدال و خصام کے انجام بد کا اس وقت خوب پتہ چلے گا جب قیامت کے دن ان کی گردنوں میں طوق اور ان کے پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی اور انہیں بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائیگا۔ ” الاغلال “ غل کی جمع ہے یعنی گلے کا طوق اور ” السلاسل “ سلسلۃ کی جمع ہے یعنی بیڑی جو قیدیوں کے پاؤں میں ڈالی جاتی ہے اس لیے یہاں والسلسل کی خبر محذوف ہے اور یہ ” علفتہا تبنا و ماء باردا کے قبیل سے ہے اصل میں تھا ” اذ الاغلال فی اعناقہم والسلاسل فی ارجلہم (جلالین) کیونکہ بیڑیاں پاؤں میں ڈالی جاتی ہیں۔
Ayahs 40:73–74

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر69 ان کو کہیں کہاں گئے جن کو تم شریک بتلایا کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

اللہ کے سوا بولیں وہ ہم سے چوک گئے کوئی نہیں ہم تو پکارتے نہ تھے پہلے کسی چیز کو اسی طرح بچلاتا ہے اللہ منکروں کو

69:۔ ” ثم قیل لہم “ تحسیر و توبیخ کے طور پر فرشتے ان سے کہیں گے کہ آج کہاں ہیں تمہارے کارساز اور شفعاء (سفارشی) جن کو تم اللہ کی الوہیت میں شریک کیا کرتے تھے ؟ آج ان کو باؤ ناں تاکہ تمہیں جہنم کے عذاب سے بچائیں۔ ” قالوا ضلوا عنا “ فوری طور پر جواب دیں گے کہ جی آج تو وہ کہیں نظر نہیں آتے، ہم بلائیں کس کو ؟ اس کے فورًا بعد وہ سنبھلیں گے اور خیال کریں گے کہ ہم نے اپنے جرم کا اقبال کرلیا، جرم کا سرے سے انکار کردیا شاید اس طرح بچاؤ کی کوئی صورت نکل آئے چناچہ اس کے فورًا بعد کہیں گے۔ نہیں ! نہیں ! ! ہم بھول گئے، بلکہ ہم تو دنیا میں اللہ کے سوا کسی کو پکارتے ہی نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو ان کے جدال وعناد کی وجہ سے یوں بھٹکائیگا اور حیران و سرگرداں کردے گا کہ وہ دروغ گوئی پر اتر آئیں گے حالانکہ انہیں یقین ہوگا کہ یہاں جھوٹ اور غلط بیانی سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہ تعالیٰ یحیرہم فی امرہم حتی یفزعون الی الکذب مع علمہم بانہ لاینفعہم (روح ج 24 ص 86) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ آج ہم پکاریں کس کو ؟ آج ہم پر یہ حقیقت کھل گئی ہے کہ دنیا میں ہم کسی معتد بہ چیز کو پکارتے ہی نہ تھے، ہم جنہیں کارساز سمجھ کر پکارتے رہے وہ نہ نافع تھے نہ ضار ہماری وہ ساری محنت ضائع ہوئی۔ ای بل تبین لنا الیوم انا لم نکن نعبد فی الدنیا شیئا یعتد بہ (روح) ۔ لم نکن ندعوا من قبل شیئا ینفعنا او یدفع عنا المکروہ (مظہری ج 8 ص 246) ۔
Ayahs 40:75–76

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ بدلہ70 اس کا جو تم اتراتے پھرتے تھے زمین میں ناحق اور اس کا جو تم اکڑتے تھے

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

داخل ہوجاؤ دروازوں میں دوزخ کے سدا رہنے کو اس میں سو کیا برا ٹھکانا ہے غرور والوں کا

70:۔ ” ذلکم بما کنتم “ یہ دردناک عذاب تمہیں اس لیے دیا جائے گا کہ دنیا میں غیر الحق (باطل) یعنی شرک اور معاصی پر خوش وخرم رہتے تھے۔ بغیر الحق وھو الشرک وعبادۃ الاوثان (مدارک ج 4 ص 65) ۔ وھو الشرک والمعاصی (روح ج 24 ص 87) ۔ اور مشرک پیشواؤں کے پیدا کردہ شبہات میں پھنس کر باطل پر مسرور و مطمئن ہو کر اکڑتے اور اتراتے تھے اور اہل حق کو حقیر جانتے تھے۔ ” ادخلوا ابواب جہنم “۔ لہذا اب جہنم کے سوا تمہارا کوئی ٹھکانا نہیں۔ اب جہنم کے ساتوں دروازوں سے جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوجاؤ۔ یہ جہنم متکبرین کا کیسا ہی بد ترین ٹھکانا ہے۔
Ayah 40:77

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

سو تو ٹھہرا رہ بیشک71 وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے پھر اگر ہم دکھلا دیں تجھ کو کوئی وعدہ جو ہم ان سے کرتے ہیں یا قبض کرلیں تجھ کو، ہر حالت میں ہماری ہی طرف پھر آئیں گے

71:۔ ” فاصبر ان وعدہ اللہ حق “۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی کا اعادہ ہے۔ آپ مشرکین کی ایذاؤں پر صبر کریں آخر کار غلبہ آپ ہی کو نصیب ہوگا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو برحق ہے اور اپنے وقت پر ضرور پورا ہوگا۔ ” فاما نرینک الخ “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ہمارا وعدہ ہے کہ آپ غالب و منصور ہوں گے اور آپ کے دشمن مغلوب و مقہور۔ اب ہم آپ کی زندگی ہی میں آپ کے دشمنوں کو بعض موعودہ سزا دے دیں گے اور آپ بچشم خود دنیا ہی ملاحظہ فرما لیں گے جیسا کہ جنگ بدر وغیرہ میں تقل اور قید و بند۔ اور اگر ہم ان کو سزا دینے سے پہلے ہی آپ کو وفات دے دیں تو آخرت میں ان کو سزا دیں گے کیونکہ وہ ہمارے پاس واپس آئیں گے اور میدان حشر میں ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے۔
Ayah 40:78

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور72 ہم نے بھیجے ہیں بہت رسول تجھ سے پہلے بعضے ان میں وہ ہیں کہ سنایا ہم نے تجھ کو ان کا احوال اور بعضے ہیں کہ نہیں سنایا اور کسی رسول کو مقدور نہ تھا کہ لے آتا کوئی نشانی مگر اللہ کے حکم سے پھر جب آیا حکم اللہ کا فیصلہ ہوگیا انصاف سے اور ٹوٹے میں پڑے اس جگہ جھوٹے

72:۔ ” ولقد ارسلنا “ یہ دلیل نقلی کا اعادہ ہے۔ یہ دلیل نقلی اجمالی ہے تمام انبیاء (علیہم السلام) سے۔ تمام گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کو اسی دعوے کے ساتھ بھیجا گیا۔ ان میں سے بعض کا ذکر ہم نے آپ سے کیا ہے اور بعض کا ذکر نہیں کیا۔ لیکن ہر حال دعوت سب کی ایک ہی تھی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ لہذا حاجات و مصائب میں صرف اسی کو پکارو۔ ” وما کان لرسول الخ “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ مشرکین ازراع عناد کہتے ہم تب مانیں گے اگر پیغمبر (علیہ السلام) ہمیں مطلوبہ معجزہ دکھائے فرمایا معجزہ دکھانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں کہ جب کوئی اس سے مطالبہ کرے فورًا دکھا دے، بلکہ معجزہ اللہ کے اختیار میں ہے، جب اللہ تعالیٰ چاہے بتقاضائے حکمت بالغہ، پیغمبر (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ظاہر فرما دے۔ فالمعجزات علی تشعب فتو تھا عطا یا من اللہ تعالیٰ قسمہا بینہم جسما اقتضتہ مشیئتہ المبنیۃ علی الحکم البالغۃ کسائر القسم لیس لھم اختیار فی ایثار بعضھا والاستبداد باتیان المقترح بھا (روح ج 24 ص 89) ۔ ” فاذا جاء امر اللہ الخ “ جب اللہ کے عذاب کا معین وقت آ پہنچتا ہے تو حق بات کا فیصلہ کردیا جاتا ہے یعنی انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو غالب کیا جاتا ہے اس وقت باطل پرست خسارے میں رہتے ہیں۔ کیونکہ ان کو رسوا کن اور ذلت آمیز عذاب کے ساتھ تباہ وبرباد کردیا جاتا ہے۔