Ayah 39:12:۔ ” تنزیل الخ “۔ ” تنزیل الکتب “ متبدا، ” من اللہ “ خبر ہے۔ یا ” تنزیل “ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ اور ” من اللہ الخ “ تزیل کے متعلق ہے۔ قال الفراء والزجاج ھو مبتدا وقولہ تعالیٰ (من اللہ العزیز الحکیم) خبرہ او خبر مبتدا محذوف ای ھذا المذکور تنزل، و (من اللہ) متعلق بتنزیل والوجہ الاول اوجہ (روح ج 23 ص 233) یہ تمہید مع ترغیب ہے۔ یہ حکمانہ اس بادشاہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔ اس نے اب تک اگر معاندین کو نہیں پکڑا تو اس میں حکمت ہے کہ منکرین کو مزید غور و فکر کا موقع مل جائے اور وہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لیے غالب اور حکیم بادشاہ کے حکمنامے کو مان لو۔
Ayah 39:23:۔ ” انا انزلنا الخ “۔ یہ پہلی دلیل وحی ہے۔ یہ کتاب جو سراپا حق ہے اور عقائد اور احکام حقہ پر مشتمل ہے، ہم نے نازل فرمائی ہے۔ آپ جو کچھ بیان فرماتے ہیں ہمارے حکم سے بیان فرماتے ہیں اپنے پاس سے کچھ نہیں کہتے۔ ” فاعبد اللہ مخلصًا لہ الدین “ یہ دعوائے سورت کا پہلی بار ذکر ہے۔ سورت کا یہ دعوی پہلی سورتوں پر عمومًا اور سورة فاطر پر خصوصاً متفرع ہے۔ سورة سبا، یسین، صافات اور ص میں ثابت کیا گیا کہ اللہ کی بارگاہ میں کوئی شفیع قاہر نہیں۔ اور سورة فاطر میں بیان کیا گیا، لہذا اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب اور کارساز ہیں جب ثابت ہوگیا کہ اس کے سوا کوئی کارساز اور عالم الغیب نہیں اور نہ کوئی اس کی بارگاہ میں شفیع غالب ہے، تو خالصۃً صرف اسی کی عبادت کرو۔ اور کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہ بناؤ اور لوگوں کو بھی اسی خالص توحید کی دعوت دو ۔ ای فاعبد اللہ وحدہ لا شریک لہ وادع الخلق الی ذلک واعلمہم انہ لا تصلح العبادۃ الاہ وحدہ وانہ لیس لہ شریک ولا عدیل ولا ندید (ابن کثیر ج 4 ص 45) ۔
Ayah 39:34:۔ ” الا للہ الخ “ یہ تنبیہ ہے کہ عبادت خالصۃً اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے اللہ کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں۔ 5:۔ ” والذین اتخذوا الخ : یہ زجر اول ہے اور اس کے آخر میں تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔ اسم موصول سے مشرکین اور اولیاء سے مشرکین کے مزعومہ کارساز مراد ہیں۔ خواہ فرشتے ہوں یا پیغمبر یا اولیاء کرام۔ فالموصول عبارۃ عنہم (ثلثۃ احیاء من المشرکین، عامر و کنانۃ و بنی سلمۃ) او عبارۃ عما یعمہم واضرابہم من عبدۃ غیر اللہ سبحانہ وھو الظاھر فیکون الاولیاء عبارۃ عن کل معبود باطل کالملئکۃ و عیسیٰ (علیہم السلام) والاصنام (روح ج 23 ص 235 ۔ امام قتادۃ (رح) فرماتے ہیں۔ جب مشرکین سے پوچھا جاتا کہ تمہارا خالق ومالک کون ہے ؟ اور زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا۔ اور آسمان سے مینہ کون برساتا ہے ؟ تو کہتے ! اللہ ! پھر ان سے کہا جاتا ہے پھر غیر اللہ کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ تو جواب دیتے، ” لیقربونا الی اللہ زلفی “ و یشفعوا لنا عندہ (قرطبی ج 15 ص 233) ۔ ہم ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ سفارش کر کے ہمیں بارگاہِ خداوندی میں مقرب بنا دیں اور ہمارے دنیوی کام اس سے کرا دیں۔ کیونکہ آخرت کے وہ قائل ہی نہ تھے۔ ای انما یحملہم علی عبادتہم لھم انھم عمدوا الی اصنام اتخذوھا علی صور الملائکۃ المقربین فی زعمہم فعبدوا تلک الصورتنزیلا لذلک منزلۃ عبادتہم الملئکۃ لیشفعوا لہم عند اللہ تعالیٰ فی نصرہم ورزقہم وما ینوبہم من امور الدنیا فاما المعاد فکانوا جاحدین لہ کافرین بہ (ابن کثیر ج 4 ص 45) ۔ ” زلفی “ ، لیقربونا کا مفکا مفعول مطلق ہے من غیر لفظہ۔
6:۔ ” ان اللہ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ دنیا میں مشرکین دلائل سے تو مانتے نہیں کہ اللہ کی بارگاہ میں کوئی شفیع غالب نہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اس لیے محق و مبطل کے درمیان آخری اور قطعی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا جب اہل حق کو جنت میں اور اہل باطل کو دوزخ میں داخل کردیا جائے گا۔ ان اللہ یحکم بینہم و بین المسلمین فی ما ھم یختلفون فی امر الدین بادخال المحق الجنۃ والمطبل النار “ (مظہری، بیضاوی) ۔ ” ان اللہ لا یہدی الخ “ جو لوگ ازراہ ضد وعناد کفر و افتراء (اللہ کے لیے نائب یا شفیع غالب ثابت کرنا) پر اڑے ہوئے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ ہدایت قبول کرنے کی توفیق نہیں دیتا۔
Ayah 39:47:۔ ” لو ارادا اللہ الخ :“ اس میں مشرکین کے گذشتہ دعوے کا بطلا واضح کیا گیا ہے کہ اگر بفرض محال اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا کہ کسی کو اپنا نائب بنائے تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا اپنی نیابت کے لیے منتخب فرما لیتا۔ آخرت تمہارے خود ساختہ معبود ہی کیوں اس کے نائب بن گئے۔ ” سبحنہ الخ “ یہ مذکورہ دعوے پر تفریع ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ شریک اور نائب سے پاک ہے۔ وہ وحدہٗ لاشریک ہے اور قہار و بےنیاز ہے اس کو نائب کی ضرورت ہی نہیں۔
Ayah 39:58:۔ ” خلق السموات الخ “ یہ پہلی عقلی دلیل ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے بلا شرکت غیرے استحقاق عبادت پر دلالت کرتی ہے۔ البتہ اس میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ زمین و آسمان کو اس نے عبث اور بےفائدہ پیدا نہیں کیا۔ بلکہ اس ساری کائنات اس نے ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگ کائنات کے ذرے ذرے سے صانع عالم کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر استدلال کریں۔ بالحق ای متلبسا بالھق غیر عابث بل لیکون دلیلا علی الصانع (مظہری ج 8 ص 197) ۔ وہ دن کو رات میں اور رات کو دن میں چھپا دیتا ہے۔ سورج اور چاند بھی اس کے مطیع امر ہیں۔ اور اس کے حکم سے دونوں نے اپنے اپنے دورے کی تکمیل میں رواں دواں ہیں۔ یہ کارخانہ عالم جس عزیز و غفار نے پیدا کیا ہے اور جو اس میں متصرف و مختار ہے وہی ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہے۔
Ayah 39:69:۔ ” خلقکم الخ “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے اول سے علی سبیل الترقی۔ یعنی اس نے صرف زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے بلکہ تمہارا خالق بھی وہی ہے اپنی پیدائش میں غور و فکر کرو کہ کس کمال قدرت اور حسن تدبیر سے اس نے تمہاری ابتداء ایک جان (حضرت آدم علیہ السلام) سے فرمائی۔ اور پھر بشری سلسلہ نسل کو زوجین کے ذریعے سے آگے بڑھایا۔ پھر رحم مادر میں نطفہ سے لے کر کمال تخلیق تک جو مختلف احوال پیش آتے ہیں ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کی دلیل ہے۔ پھر اس نے تمہارے فائدے کی خاطر مختلف انواع و اقسام کے چوپائے پید فرمائے۔ جن کا تم گوشت کھاتے، دودھ پیتے اور بعض سے اس کے علاوہ سواری اور بار برداری کا کام بھی لیتے ہو۔ وہ اللہ جس نے محض اپنی مہربانی سے اور اپنی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ کیا ہے وہی ساری کائنات کا مالک اور وہی تمہارا معبود برحق ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ” من نفس واحدۃ “ حضرت آدم علیہ السلام۔ ” منہا “ ضمیر ” نفس واحدۃ “ کی طرف راجع ہے اور اس کا مضاف مقدر ہے۔ ای من جنسہا یعنی جنسِ آدم و بشر ہی سے اس کا جوڑا پیدا فرمایا۔ ” و انزل “ قال سعید بن جبیر خلق (قرطبی) ۔ ” ثمٰنیۃ ازواج “ چوپایوں کی یہ آٹھ انواع سورة انعام میں مفصل گذر چکی ہیں۔ یعنی ” ابل “ (اونٹ، اونٹنی) ، ” بقر “ (گائے، بیل، بھینس، بھینسا بھی بقر میں داخل ہیں) ، ” ضان “ (دنبی دنبہ اور بھیڑ مینڈھا) ، ” معز “ (بکری، بکرا) ۔ ” خلقا من بعد خلق “ ، نطفہ سے علقہ (خون منجمد) علقہ سے مضغہ (بوٹی) مضغہ سے عظام (ہڈیا) اور پھر اس ڈھانچے سے انسان تام الخلقہ اس کی تفصیل سورة مومنون رکوع 1 میں مذکور ہے۔ ” فی ظلمٰت ثلث “ ، تینوں اندھیروں سے پیٹ، رحم اور مشیمہ ( وہ پردہ جس میں جنبین محفوظ ہوتا ہے) کے اندھیرے مراد ہیں (روح، جامع وغیرہما) ۔
10:۔ ” ذلکم اللہ الخ “ یہ تنبیہ ہے۔ اور دلائل مذکورہ کا اجمالاً استحضار ہے تاکہ اس پر آئندہ حکم اور ثمرہ مرتب ہوسکے۔ صفات بالا سے متصف ذات بابرکات ہی تمہار رب اور مالک اور اس کائنات میں اور خود تمہارے اندر وہی متصرف ہے۔ ” لا الہ الا ھو “ یہ دلائل سابقہ کا ثمرہ ہے۔ جب سب کا خالق ومالک اور سارے عالم میں متصرف و مختار وہی ہے اور کوئی نہیں تو عبادت کے لائق بھی اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ لہذا ہر قسم کی عبادت صرف اسی کے لیے بجا لاؤ۔ ” فانی توفکون “ پھر اس بیان شافی کے بعد کس دلیل سے اللہ کی خالص عبادت سے پھرے جاتے ہو اور غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو ؟ یعنی دلائل عقلیہ تو اللہ کی وحدانیت پر قائم ہیں۔ اس لیے تمہارا شرک کرنا محض بےدلیل ہے۔
Ayah 39:711:۔ ” ان تکفروا الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ایسے دلائل واضحہ کے باوجود بھی اگر تم کفر پر قائم رہو تو سن لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان وشکر سے بےنیاز ہے۔ تمہارے کفر سے اس کا کچھ بگڑتا نہیں اور تمہارے ایمان و تشکر سے اس کا کچھ سنورتا نہیں۔ ” ولا یرضی الخ “ البتہ محض بندوں کی خیر خواہی کے لیے وہ سامان ہدایت فراہم فرماتا ہے اور کفر و ناشکر گذاری کو اپنے بندوں کے لیے پسند نہیں کرتا۔ کیونکہ اس میں بندوں کا سراسر دنیوی اور اخروی نقصان ہے۔ ” وان تشکروا الخ “ اور اگر تم اس کا شکر کرو اس کی توحید پر ایمان لاؤ اور پیغمبر (علیہ السلام) کی ہدایت کے مطابق اعمال صالحہ بجا لاؤ تو اس کو تمہارے لیے پسند فرماتا ہے۔ کیونکہ اس میں تمہارا دنیا اور آخرت کا فائدہ ہے ( ولا یرضی لعبادہ الکفر) لما فیہ من الضرر علیہم (وان تشکروا یرضہ لکم) لما فیہ من نفعکم (روح ج 23 ص 241) ۔
12:۔ ” ولا تزر الخ “ تمہارے کفر و انکار اور ناشکر گذاری کا نقصان صرف تمہیں ہی ہے اور قیامت کے دن اس کی سزا بھی تم ہی پاؤ گے دنیا میں تمہیں اپنی بد اعمالیوں کا انجام بد سمجھ میں نہیں آتا نہ نظر ہی آتا ہے۔ قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے اس وقت وہ تمہیں تمہارے اعمال سے باخبر کرے گا۔ وہ چونکہ دلوں کے بھید بھی جانتا ہے اس لیے اس پر تمہارا کوئی ظاہر یا پوشیدہ عمل مخفی نہٰں۔
Ayah 39:813:۔ “ و اذا مس الخ “ یہ زجر دوم ہے بصورت شکوی۔ ” الانسان “ سے انسان کافر مراد ہے (مدارک، قرطبی) انسان کافر و مشرک کا یہ ھال ہے کہ اس پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اپنے مزعومہ کارسازوں سے ناامید ہو کر پوری توجہ اور یکسوئی قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اپنے انعام و احسان سے سرفراز فرما دیتا ہے تو اس منعم حقیقی کو بھول جاتا ہے۔ جسے پہلے مصیبت کے وقت پوری تضرع و عاجزی سے پکارتا رہا۔ یا اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس کی خاطر اللہ کو پکارتا رہا اور پھر سے اللہ کے ساتھ عبادت اور پکار میں شرک کرنے لگتا ہے۔ اور اللہ کے انعامات کو معبودانِ باطلہ کا احسان قرار دیتا ہے۔ ” نسی ما کان یدعوا الیہ “ ای نسی ربہ الذی کان یتضرع الیہ او نسی الضر الذی کان یدعو اللہ الی کشفہ (مدارک ج 4 ص 40) ۔ ” وجعل للہ اندادا “ ای فی حال العافیۃ یشرک باللہ و جعل لہ انداداً (ابن کثیر ج 4 ص 46) ۔ ” لیضل عن سبیلہ “ عز و جل الذی ھو التوحید (روح ج 23 ص 245) ۔
14:۔” قل تمتع الخ “ یہ امر تہدید ہے، اچھا تو اگر ان واضح دلیلوں کے باوجود کفر پر ہی قائم رہنا چاہتے ہیں اور اسی میں اپنا فائدہ سمجھتا ہے تو چند دن اس سے فائدہ اٹھا لے آخر کار تیرا ٹھکانا جہنم ہے۔
Ayah 39:915:۔ ” امن ھو الخ “ یہ پہلی بار مومنین اور مشرکین کی صفات کے درمیان تقابل کا ذکر ہے ایک وہ مومن ہے جو راحت اور آرام کو چھوڑ کر رات کی گھڑیوں میں اٹھ اٹھ کر اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ کبھی قیام میں ہاتھ باندھے کھڑا ہے اور کبھی اس کی بارگاہ میں جبین نیاز زمین پر رکھے سجدہ بجا لا رہا ہے۔ آخرت کا خوف اس پر طاری رہتا ہے لیکن وہ مایوس نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی رحمت کا امیدوار رہتا ہے۔ ” رحمۃ ربہ “ کے بعد ” کمن ھو لیس کذلک “ مقدر ہے یعنی کیا مذکورہ بالا صفات کا حامل مومن اس کافر کی مانند ہوسکتا ہے جو ان خوبیوں سے عاری ہو۔ قالہ الشیخ قدس سرہ امن ھو قانت کمن ھو غیر قانت (معالم و خازن ج 6 ص 69) ۔
16:۔ ” قل ھل الخ “ یہ ماقبل کیلئے مثال و نظیر کی صورت میں تائید ہے۔ یا عملی تفاوت کے بعد علمی تفاوت کے بعد علمی تفاوت کا بیان ہے۔ یعنی مومن و کافر عمل کی طرح علم میں بھی برابر نہیں یا مطلب یہ کہ جس طرح ایک عالم اور ایک جاہل برابر نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح مومن و کافر بھی باہم برابر نہٰں۔ نفی لاستواء الفریقین باعتبار القوۃ العلمیۃ بعد نفیہ باعتبار القوۃ العملیۃ علی وجہ ابلغ لمزید فضل العلم و قیل تقریر للاول علی سبیل التشبیہ ای کما لا یستوی العالمون والجاھلون لا یستوی القانتون والعاصون (بیضاوی) ۔ ” انما یتذکر الخ “ ایسے واضح اور مدلل بیانات سے صرف عقل و فکر رکھنے والے ہی نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 39:1017:۔ ” قل یعباد الخ “ یہ ایمان والوں کے لیے دنیوی اور اخروی بشارت ہے۔ میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہیں اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے منہیات سے احتراز کرتے ہیں۔ جو لوگ پورے اخلاص کے ساتھ ایمان وتقوی پر قائم رہیں گے دنیا میں بھی ان پر انعام و اکرام کے دروازے کھولدئیے جائیں گے۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ ” فی ھذہ الدنیا “ ” حسنۃ “ کے متعلق ہو۔ اور اگر ” فی الدنیا “ ” احسنوا “ کے متعلق ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جو لوگ دنیا میں اعمال صالحہ بجا لائیں گے وہ آخرت میں اس کا اجر وثواب پائیں گے ” وارض اللہ واسعۃ “ یہ ہجرت کی ترغیب ہے اگر غلبہ کفار کی وجہ سے تم اپنے وطن میں اللہ کے دین پر قائم نہیں رہ سکتے اور نہ کما حقہ، اس کی عبادت کرسکتے ہو تو اللہ کی زمین فراخ ہے کسی دوسری جگہ چلے جاؤ۔ جہاں تم اطمینان سے اپنے دین کو قائم کرسکو۔ جو لوگ ہجرت کے مصائب و شدائد پر صبر کرتے اور خندہ پیشانی سے انہیں برداشت کرتے ہیں انہیں آخرت میں بےحساب اجر وثواب ملے گا۔ ” انما یوفی الصابرون “ الذین صبروا علی الہجرۃ و مفارقۃ المحاب والاقتداء بالانبیاء والصالحین اجرھم بغیر حساب (روح ج 23 ص 248) ۔ ” قل یا عباد الخ “ اللہ تعالیٰ کا مقول ہے جسے بعینہ بندگان خدا تک پہنچانے کا آں حضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے۔ ” یٰعباد الخ “حضور ﷺ کا مقولہ نہیں تاکہ اس سے یہ استدلال کیا جاسکے کہ تمام مؤمنین آپ کے بندے ہیں جیسا کہ اہل بدعت بیان کرتے ہیں۔ ای قل لہم قولی ھذا بعینہ وفیہ تشریف لھم باضافتہم الی ضمیر الجلالۃ (روح ج 23 ص 248) ۔
Ayahs 39:11–1218:۔ ” قل انی امرت الخ “ یہ دلیل، دلیل وحی ہے، مجھے وحی کے ذریعے سے حکم دیا گیا ہے کہ میں خالصۃً اللہ کی عبادت کروں اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کروں اور یہ حکم مجھے اس لیے دیا گیا ہے تاکہ دنیا و آخرت میں میں تمام مسلمانوں پر مقدم و سابق رہوں۔ یا مطلب یہ ہے کہ میں اس امت میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والا ہوں۔ ای امرت بالاخلاص لاجل ان اکون مقدمہم فی الدنیا والاخرۃ لان قصب السبق انما ھو بالاخلاص او لکونی اول من اسلم من قریش و من دان بدینہم (مظہری، بیضاوی، روح) ۔
Ayah 39:1319:۔ “ قل انی اخاف الخ “ تمہارے دل چونکہ خوف خدا سے خالی ہیں۔ اس لیے تم کفر و شرک اور دیگر بد اعمالیوں کا بےمحابا ارتکاب کر رہے لیکن میں تو خدا کے عذاب سے ڈرتا ہوں مجھے تو ڈر ہے کہ اگر میں اخلاص عبادت میں کوتاہی کروں اور تمہاری طرح شرک کی طرف مائل ہوجاؤں تو مجھے وہ عذاب میں گرفتار کردے۔ اس سے مقصود مشرکین سے تعریض ہے۔ کیونکہ آپ معصوم ہیں اور آپ سے معصیت کا صدور محال ہے وھذا شرط و معناہ تعریض بغیرہ بطریق الاولی والاخری (ابن کثیر ج 4 ص 48) ۔
Ayahs 39:14–1520:۔ ” قل اللہ اعبد الخ “ یہ دوسری بار دعوے کا ذکر ہے فرمایا دوبارہ اعلان کردو کہ میں تو صرف اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں۔ اور ہمیشہ اسی پر قائم رہوں گا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کروں گا۔ ” فاعبدوا الخ “ یہ امر تہدید اور تخویف اخروی ہے۔ تمہیں اختیار ہے اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرتے رہو۔ لیکن ایک بات یاد رکھو۔ قیامت کے دن سخت خسارے اور ناقابل تلافی نقصان میں رہو گے۔ جب جرم شرک کی پاداش میں بلا ھساب و کتاب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے۔ تم لوگ مال و دولت کے نقصان کو نقصان شمار کرتے ہو حالانکہ اصل نقصان یہ نہیں۔ اصل نقصان آخرت کا نقصان ہے اور درحقیقت خسارے میں وہ لوگ رہیں گے جو قیامت کے دن اپنی جانوں کو اور اپنے اتباع و اذناب کو تلف اور برباد کریں گے۔ کیونکہ انہوں نے خود بھی شرک و کفر اختیار کیا اور اپنے اتباع و مریدین کو بھی اس روش پر ڈالا اس لیے سب مل کر جہنم میں جائیں گے (خسرو انفسہم و اھلیہم) باختیارہم الکفر لہما فالمراد بالاھل اتباعہم الذین اضلوھم ای اجاعوا انفسہم واضاعوا اہلیہم واتلفوہما (یوم القیمۃ) حین یدخلون النار الخ (روح ج 23 ص 251) ۔
Ayah 39:1621:۔ ” لہم من الخ “ یہ عذاب جہنم کی تفصیل ہے جہنم میں جہاں ان کا ٹھکانا ہوگا۔ ان کے نیچے اور اوپر آگ کے بیشمار طبقات ہوں گے جن میں محبوس و محصور ہوں گے۔ اور جہاں سے وہ کہیں نکل بھاگ نہیں سکیں گے۔ ” ذلک یخوف اللہ الخ “ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرانے کے لیے عذاب جہنم کے یہ ہولناک مناظر بیان فرماتا ہے تاکہ ان سے بچنے کے لیے ایمان اور اعمال صالحہ کی طرف مائل ہوں۔ میرے بندو ! میرے عذاب سے میری اطاعت و عبادت سے بچنے کی کوشش کرو۔
Ayahs 39:17–1822:۔ ” والذین الخ “ یہ ایمان والوں کے لیے بشارت اخروی ہے جو اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔ ” الطاغوت “ سے ہر معبود غیرا للہ مراد ہے۔ قال الرغب : ھو عبارۃ عن کل متعد وکل معبود من دون اللہ تعالیٰ (روح ج 23 ص 252) ۔ طاغوت کی مزید تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر حاشیہ (504) میں ص 126 پر گذر چکی ہے۔ فراجعہ، ان یعبدوھا، الطاغوت سے بدل الاشتمال ہے۔ ” وانابوا الی اللہ “ میں واؤ تفسریہ ہے یعنی جن لوگوں نے غیر اللہ کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی خالص عبادت میں منہمک ہوگئے ان کے لیے آخرت میں جنت کی بشارت ہے۔ ” فبشر عباد الخ “ اس لیے آپ میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا دیں جو بات کو بغور سنتے اور حق و باطل میں امتیاز کر کے حق بات کو مان لیتے اور اس کی پیروی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو اللہ نے ہدایت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور حقیقت میں عقلمند لوگ یہی ہیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں۔ ” احسن القول “ سے مسئلہ توحید مراد ہے۔
Ayah 39:1923:۔ ” افمن حق الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ جس شخص کے بارے میں اس کے مسلسل انکار و جحود اور تعنت وعناد کی وجہ سے عذاب جہنم کا فیصلہ ہوچکا ہو کیا تو اسے عذاب سے چھڑا سکتا ہے ؟ اتفہام انکاری ہے یعنی تو اس کو عذاب سے نہیں چھڑا سکتا۔
Ayah 39:2024:۔ ” لکن الذین الخ “ یہ بشارت اخروی ہے۔ لیکن جو لوگ دنیا میں اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈر کر اس کی عبادت و اطاعت میں سرگرم رہے ان کے لیے جنت میں منزل بہ منزل بہ منزل بالا خانے ہوں گے۔ اور نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں فرماتا۔
Ayah 39:2125:۔ ” الم تر ان اللہ الخ “ یہ تیسری عقلی دلیل ہے یہ پہلی دونوں دلیلوں سے بطور ترقی ہے ان دونوں میں زمین و آسمان اور خود حضرت انسان کی پیدائش کا ذکر تھا اور اس میں پیدائش کے بعد انسان کی تربیت اور ضروریات زندگی مہیا کرنے کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے مینہ برسا کر پانی کو ندی نالوں اور دریاؤں کی صورت میں زمین پر بہا دیا جس سے زمینیں سیراب ہو کر مختلف الوان و اقسام کے غلے پیدا کرتی ہے۔ سرسبز و شاداب کھیت پکنے پر آتے ہیں تو زرد پڑجاتے ہیں اور جب بالکل تیار ہوجاتے ہیں تو خشک ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اصحاب عقل و بصیرت کے لیے اس میں بہت بڑی عبرت ہے وہ اس سے ایک طرف اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت پر استدلال کرتے ہیں اور دوسری طرف اس حیات دنیا کی بےثباتی کا سبق سیکھتے ہیں۔ الذین یتذکرون بھذا فیعتبرون الی ان الدنیا ھکذا تکون خضرۃ نضرۃ حسناء ثم تعود عجوزا شوھاء (ابن کثیر جلد 4 ص 50) ۔
Ayah 39:2226:۔ ” افمن شرح الخ “ یہ دوسری بار مومن و کافر کے اوصاف میں تقابل کا ذکر ہے۔ دلیل ثالث کے بعد یہ بیان مقصودی ہے۔ ایک وہ مومن ہے جس نے اسلام اور توحید کی حقانیت کے دلائل میں غور و فکر کیا تو اللہ نے قبول اسلام کے لیے اس کا سینہ کھول دیا۔ اور اسلام کی سچائی پر اس کا دل مطمئن ہوگیا اور اللہ کی مہربانی اور اس کی توفیق سے اس کا سینہ نور توحید اور ضیاء اسلام سے روشن اور مستنیر ہوگیا۔ کیا یہ اس سنگدل کافر کی مانند ہوسکتا ہے جس کے دل پر مہر جباریت ثبت ہوچکی ہو اور اسے قبول حق کی استعداد سے محروم کردیا گیا ہو ؟ ہرگز نہیں۔ یہاں بھی ” کمن ھو لیس کذالک “ مقدر ہے قالہ الشیخ قدس سرہ۔ یا ” کمن طبع اللہ تعالیٰ علی قلبہ فلم یتھد “ (کازن ج 6 ص 72) ۔ یا ” کمن اقسی اللہ قلبہ “ (جامع البیان ص 396) ۔ ” فویل للقاسیۃ الخ “ جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے اور ان کے دل ایسے سخت ہوچکے ہیں کہ ہدایت کو قبول نہیں کرسکتے اور آیات ربانی سن کر اور سخت ہوجاتے ہیں۔ وہ کھلی گمراہی میں ہیں۔ ہلاکت ہے ان کے لیے جو ایسے واضح اور کھلے دلائل کے باوجود نہیں سمجھتے۔ اذا ذکر اللہ عندہم او ایاتہ ازدادت قلوبھم قساوۃ (مدارک ج 4 ص 42) ۔
Ayah 39:2327:۔ ” اللہ نزل الخ “ یہ تیسری دلیل وحی ہے یہ پہلی دونوں دلیلوں سے علی سبیل الترقی ہے۔ یعنی میں اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں کہتا اللہ کے حکم اور اس کی وحی سے کہتا ہوں۔ یہ کتاب جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی وہ ہر کلام سے بہتر اور محاسن کلام میں سب پر فائق اور برتر ہے ” متشابہا “ اس کے بعض حصے بعض سے حسن و خوبی میں ملتے جلتے ہیں اور ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرتے ہیں۔ یشبہ بعضہ بعضا (قرطبی جلد 15 ص 249) ۔ ” مثانی “ اس کی بعض آیتوں اور بعض مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے تاکہ اچھی طرح ذہن نشین ہوجائیں قال الضحاک مثانی تردید القول لیفہموا عن ربہم تبارک وتعالی (ابن کثیر ج 4 ص 50) ۔ ” تقشعرو منہ الخ “ قرآن مجید چونکہ وعدہ وعید اور بشارت و تخویف دونوں پر مشتمل ہے اس لیے جن لوگوں کے دلوں میں خدا کا خوف ہے جب وہ تہدید و تخویف اور وعید عذاب پر مشتمل آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں تو خوفِ الٰہی سے کانپ اٹھتے اور مارے خوف کے ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں پھر جب آیات رحمت و مغفرت پر پہنچتے ہیں تو ان کے بدن نرم ہوجاتے ہیں اور دلوں میں سکون و طمانیت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ” ذلک ھدی اللہ الخ “ ” ذلک “ سے کتاب کی طرف اشارہ ہے یہ کتاب اللہ کی ہدایت، اس کی توحید اور اس کے سچے دین کے احکام پر حاوی ہے وہ جسے چاہتا ہے اس ہدایت کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے یعنی ان لوگوں کو جو ضد نہیں کرتے اور نیک نیتی سے طلب حق کا جذبہ رکھتے ہیں اور جنہیں وہ گمراہ کردے یعنی ان کے مسلسل عناد تعنت کی وجہ سے انہیں قبول حق کی توفیق سے محروم کردے اسے کوئی بھی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔
Ayahs 39:24–2628:۔ ” افمن یتقی الخ “ یہ تیسری بار مومن و کافر کے اوصاف میں تقابل کا ذکر ہے۔ انسان ہمیشہ اپنے چہرے کو آفات سے اپنے ہاتھوں کے ذریعے بچاتا ہے لیکن کافروں کو جب جہنم میں پھینکا جائے گا۔ ان کے ہاتھ ان کی گردنوں کے ساتھ بندھے ہوں گے اس لیے وہ اپنے چہروں کو آگ کے شعلوں سے ہاتھوں کی مدد سے نہیں بچا سکیں گے بلکہ آگ کے شعلوں کو وہ اپنے چہروں پر ہی لیں گے۔ والکافر حین یلقی فی النار تکون یداہ مغلولتیں الی عنقہ فلا یستطیع ان یتقی الا بوجہہ (مظہری ج 8 ص 210) ۔ کیا جہنم کی بھڑکتی آگ کے شعلوں میں گھرا ہوا کافر اس مومن کی مانند ہوسکتا ہے جو عذاب جہنم سے محفوظ و مامون ہو۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہاں بھی کمن ھو لیس کذالک مقدر ہے۔ یا کمن اٰمن من العذاب محذوف ہے (معالم، مظہری) ۔
69:۔ ” وقیل للطلمین الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن مشرکین سے کہا جائیگا کہ دنیا میں جو مشرکانہ افعال کرتے رہے ہو آج ان کی سزا کا مزہ بھی چکھ لو۔ ” کذب الذین الخ “ یہ تخویف دنیوی ہے امم سابقہ کے کفار و مشرکین نے توحید و رسالت اور دیگر امور خداوندی کی تکذیب کی تو اچانک ہی انہیں عذاب نے آلیا۔ اور ہمیشہ کے لیے ان کا نام و نشان ہی مٹا دیا۔ ” فاذاقہم اللہ الخ “ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلت و رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب اس سے بھی سخت اور ہولناک ہوگا۔
Ayahs 39:27–2830:۔ ” ولقد ضربنا الخ “ یہ آئندہ تمثیل کے لیے تمہید ہے۔ ہم نے قرآن میں ہر نوع کی مثالیں بیان کی ہیں جن کی موقع و محل کے مطابق ضرورت تھی تاکہ لوگ خوب سمجھ لیں اور نصیحت حاصل کریں۔ جیسا کہ مومن اور مشرک کی ایک مثال آگے آرہی ہے۔ ” قرانا عرب یا الخ “ یہ ھذا سے حال واقع ہے (روح) ، یہ قرآن خالص عربی میں ہے فصاحت و بلاغت، مضامین کی سنجیدگی، دلائل کی پختگی، واقعات کی صحت اور دیگر ہر پہلو سے وہ کامل و مکمل ہے اس میں کسی قسم کی کمی، کجی اور کوتاہی نہیں، یہ بلند پایہ کتاب اس لیے نازل کی گئی تاکہ لوگ اس کی تعلیمات کو مانیں اور ان پر عمل کریں اور اللہ کی نافرمانی اور معصیت سے بچیں۔
Ayah 39:29ٖ 31:۔ ” ضرب اللہ الخ “ یہ مومن اور مشرک کی تمثیل ہے ایک وہ غلام ہے جس میں بہت سے آدمی شریک ہیں۔ جو نہایت بد اخلاق، جھگڑا لو اور انصاف ناپسند ہیں۔ ان میں ہر ایک بوقت ضرورت اس کو اپنی خدمت کے لیے بلاتا ہے۔ اب وہ پریشان حیران ہے کہ کس کے حکم کی تعمیل کرے۔ ایک کو خوش رکھتا ہے تو دوسرا ناخوش ہے۔ دوسرے کو راضی کرتا ہے تو تیسرا ناراض ہے۔ اور ایک وہ غلام ہے جس کا صرف ایک آقا ہے اور وہ پورے اخلاص کے ساتھ اس کی خدمت کرتا اور اس کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ خود ہی فیصلہ کرو۔ یہ دونوں غلام برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا ان کا حال یکساں ہے ؟ اگر نہیں تو دونوں میں سے کس کا حال اچھا ہے ؟ مشرک کی مثال پہلے غلام کی سی ہے جو بیشمار خداؤں کی عبادت کرتا ہے اور مومن کی مثال دوسرے غلام کی سی ہے جو صرف خدائے واحد کی عبادت کرتا اور حاجات صرف اسی کو پکارتا اور صرف اسی کو رضا جوئی کے لیے اسی کے نام کی نذریں، منتیں دیتا ہے۔ ظاہر کے مومن کا حال مشرک سے بدرجہا بہتر ہے۔ وھذا مثل ضربہ اللہ تعالیٰ للکافر الذی یعبد الہۃ شتی والمومن الذی یعبد اللہ وحدہ فکان حال المؤمن الذی یعبد الھا واحدا احسن واصلح من حال الکافر الذی یعبد الہۃ شتی (خازن ج 6 ص 74) ۔
32:۔ ” الحمد للہ “ یہ دلیل سابق کا ثمرہ ہے۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ آسمان سے بارش برسا کر لہلہاتے کھیت پیدا کرنا اور مخلوق کو روزی بہم پہنچانا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ تمام صفات کا رسازی بھی اسی کے ساتھ مختص ہیں اور وہی ہر قسم کی عبادت کے لائق ہے۔ ” ابل اکثرہم لا یعلمون “ ایسے مدلل اور روشن بیانات کے بعد شبہ کی گنجائش تو نہ تھی لیکن پھر بھی اکثر لوگ نادان ہیں ان میں غور و فکر نہیں کرتے۔
Ayahs 39:30–3133:۔ ” انک میت الخ “ یہ شبہ مقدرہ کا جواب ہے۔ شبہ یہ تھا مشرکین کہتے تھے جب تک یہ زندہ ہیں اس وقت تک تو یہ ہمارا اور ہمارے معبودوں کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ ہاں البتہ موت ہی اس سے ہمیں خلاصی دلا سکتی ہے۔ جب یہ مرجائے گا تو قصہ پاک ہوجائے گا۔ جیسا کہ دوسری ان کا قول اس طرح نقل کیا گیا ہے ” ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون “ (طور رکوع 2) ۔ جواب میں ارشاد فرمایا موت سے سے کسی مفر نہیں۔ اگر وہ آپ کیلئے موت کے منتظر ہیں تو وہ خود کب تک زندہ رہیں گے۔ جس طرح آپ موت سے دو چار ہونے والے ہیں اسی طرح وہ بھی لقمہ اجل بننے والے ہیں۔ پھر قیامت کے دن تم خدا کے سامنے جھگڑا کرو گے۔ مشرکین کہیں گے۔ ” ماجاءنا من نذیر “ ہمارے پاس تو کوئی پیغمبر آیا ہی نہیں۔ آپ فرمائیں گے میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا مگر تم نے نہ مانا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ محق و مبطل کے درمیان آخری فیصلہ فرمائے گا۔ کانوا یتربصون برسول اللہ ﷺ موتہ فاخبر ان الموت یعمہم فلا معنی للتربص و شماتۃ الفانی بالفانی (مدارک ج 4 ص 44) ۔ ” انک میت و انہم میتون “۔ آنحضرت ﷺ اور کفر پر موت کے ورود کو دو مستقل اور مؤکد جملوں میں اس لیے ذکر فرمایا تاکہ مشرکین جو موت سے غافل ہوچکے ہیں خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں۔ نیز آنحضرت پر موت کے درود کو کوئی مستبعد نہ سمجھے۔ وتاکید الجملۃ فی (انہم میتون) للاشعار بانہم فی غفلتۃ عظیمۃ کانہم ینکرون الموت وتاکیدا لاولی دفعا للاستبعاد موتہ (علیہ الصلوۃ والسلام) (روح ج 23 ص 263) ۔ چناچہ جب حضرت خاتم النبیین ﷺ کی وفات کا سانحہ فاجعہ پیش آیا، حضرت عمر ؓ نے شدت حزن و غم سے بےاختیار ہو کر آپ کی موت کا انکار کردیا۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جن آیتوں سے استدلال کر کے حضرت عمر ؓ کو آپ کی موت کا یقین دلایا ان میں یہ آیت بھی تھی۔ ھذہ الایۃ من الایات استشہد بھا الصدیق ؓ عند موت الرسول صلی اللہ علیہ حتی تحقق الناس موتہ (ابن کثیر ج 4 ص 52) ۔ اخبرہ بموتہ و موتھم لئلا یختلفوا فی موتہ کما اختلفت الامم فی غیرہ حتی ان عمر رؓ لما ان کر موتہ احتج ابوبکر ؓ بہذہ الایۃ فامسک قرطبی ج 15 ص 254) ۔ دو مستقل جملے استعمال کرنے سے دونوں موتوں کی نوعیت یا کیفیت کے اختلاف کی طرف اشارہ کرنا مقصود نہیں، جیسا کہ بعض کا خیال ہے بلکہ مستقل اور مؤکد جملوں سے درجات میں تفاوت کے باوجود دونوں کا موت میں متساوی ہونا علی وجہ التاکیدبیان کرنا مقصود ہے۔ الخامس لیعلمہ ان اللہ تعالیٰ قد سوی فیہ بین خلقہ مع تفاضلہم فی غیرہ لتکثر فیہ السلوۃ وتقل فیہ الحسرۃ (ایجا) ۔ باقی رہی انبیاء (علیہم السلام) کی دنیا سے رخصت ہونے کے بعد عالم برزخ میں زندگی، تو اس پر تمام اہلسنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو عالم برزخ میں نہایت اعلی وا رفع برزخی ھیات حاصل ہے جو بعض اعتبارات سے دنیوی حیات سے بھی اقوی ہے۔ حیات انبیاء (علیہم السلام) کی تحقیق سورة آل عمران کی تفسیر میں حاشیہ 260 ص 193 پر گذر چکی ہے۔
Ayah 39:3234:۔ ” فمن اظلم الخ “ یہ زجر ہے مع تخویف اخروی۔ سب سے بڑا ظالم اور بےانصاف وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرے اور حق بات کو جھٹلائے۔ خدا پر جھوٹ باندھنے سے مراد یہ ہے کہ اس کے لیے شریک اور نائب متصرف ثابت کرے اور ” الصدق “ سے قرآن اور وہ تمام شریعت مراد ہے جو حضرت محمد ﷺ خدا کی طرف سے لائے۔ (قرطبی، مدارک، خازن، بیضاوی) ۔ ” الیس فی جہنم الخ “ اب تم ہی انصاف بتاؤ کہ جب اللہ کی توحید اور دین اسلام کی صداقت ایسے واضح اور روشن دلائل سے ثابت ہوچکی تو اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے لیے شریک تجویز کرے اور حق وصداقت کا انکار کرے، کیا ایسے ضدی اور معاند منکرین کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہوگا ؟ کیوں نہیں ؟ ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہوگا ؟
Ayah 39:3335:۔ ” والذی جاء الخ “ یہ منکرین کے مقابلے میں مومنین کا حال اور ان کے لیے بشارتِ اخروی ہے۔ جو شخص پیغامِ حق لے کر آیا۔ صرف لے کر ہی نہیں آیا بلکہ دل و جان سے اسے مانتا بھی ہے تو ایسے لوگ ہی حقیقت میں خدا سے ڈرنے والے اور پرہیز گار ہیں۔ اس سے رسول اللہ ﷺ اور بالتبع صحابہ کرام ؓ مراد ہیں اور ” الصدق “ سے پیغام حق یعنی پیغام توحید مراد ہے۔ الموصول عبادرۃ عن رسول اللہ ﷺ کما اخرجہ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الاسماء والصفات عن ابن عباس و فسر الصدق بلا الہ الا اللہ والمؤمنون داخلون بدلالۃ السیاق وحکم التبعیۃ الخ (روح ج 24 ص 2) ۔
Ayahs 39:34–3536:۔ ” لہم ما یشاءون الخ “ انہیں اپنے مہربان رب کی طرف سے ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ اخلاص اور للہیت کے ساتھ نیک کام کرنے والوں کی یہی جزا ہے۔ ” لیکفر اللہ عنہم الخ “ یہ ” لہم ما یشاءون الخ “ کی علت ہے یعنی یہ انعام واکرام اس لیے ہے تاکہ ان کے تمام قصور معاف کردے اور ان کے اعمال صالحہ کا ان کو بدلہ دے۔
Ayah 39:3637:۔ ” الیس اللہ بکاف عبدہ “ یہ تنبیہہ ہے مشرکین کو جو آنحضرت ﷺ کو اپنے معبودوں سے ڈراتے تھے متنبیہ اور خبردار فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ خاص محمد ﷺ کے لیے کافی ہے جو ہر خوف و خطر سے محفوظ رکھے گا۔ ” ویخوفونک الخ “ دلائل، ثمرات اور تنبیہہ کے بعد مشرکین کے خیال خام کا رد فرمایا۔ مشرکین آنحضرت ﷺ کو دھمکی دیتے تھے کہ آپ ہمارے معبودوں کی توہین کرتے ہیں۔ آپ اس سے باز آجائیں ورنہ وہ آپ کو تکلیف پہنچائیں گے۔ قالوا : اتسب الھتنا ؟ لئن لم تکف عن ذکرھا لتخبلنک او تصیبنک بسوء (قرطبی ج 15 ص 658) ۔ اس کا تفصیلی رد آگے ثمرہ میں آرہا ہے۔ ” ومن یضلل الخ “ ان کا یہ خیال سراسر گمراہی پر مبنی ہے۔ بھلا یہ عاجز اور خود ساختہ معبود کیا کرسکتے ہیں اور ان کے اختیار میں کیا ہے ؟ لیکن ہدایت اور گمراہی اللہ کے اختیار میں ہے۔ در اصل وہ گمراہ ہیں اور گمراہی کی باتیں ہی ان کے مونہوں سے نکلتی ہیں اور یہ لوگ محض ضد وعناد کی وجہ سے حق کا انکار کرتے ہیں اس لیے ایسے لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے۔
Ayah 39:3738:۔ ” و من یھد الخ “ اور جن لوگوں کے سینے اللہ ایمان کے لیے کھول دیتا ہے۔ اور نور ہدایت ان کے گوشت پوست میں سما جاتا ہے وہ کسی کے بہکانے پھسلانے سے ہرگز گمراہ نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مہربانی اور توفیق سے راہ ہدایت پر قائم اور ثابت قدم رکھتا ہے۔ ” الیس اللہ الخ “ کیا اللہ تعالیٰ غالب اور انتقام لینے پر قادر نہیں ؟ استفہام انکاری ہے یعنی وہ اپنے دشمنوں پر غالب اور ان سے انتقام لینے پر قادر ہے۔ معاندین کو توفیق ہدایت سے محروم کردینا بھی انتقام میں داخل ہے۔
Ayah 39:3839:۔ ” ولئن سالتھم الخ “ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے لیکن علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ اگر آپ مشرکین سے سوال کریں کہ بتاؤ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو یقینا یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے، ” قل افرءیتم الخ “ یہ پہلا بڑا ثمرہ ہے۔ یہ گذشتہ دلائل توحید کا مفصل ثمرہ و نتیجہ ہے۔ دلائل سابقہ تو تم نے سن ہی لیے۔ اب ذرا سوچ سمجھ کر اور انصاف سے بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے کسی تکلیف میں مبتلا کرنا چاہے تو کیا تمہارے مزعومہ کارساز جن کو تم اللہ کے سوا مصائب میں پکارتے ہو، اللہ کی لائی ہوئی تکلیف کو دور کرسکیں گے ؟ یا اگر اللہ مجھ پر رحمت فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو مجھ سے روک سکیں گے ؟ ہرگز نہیں۔ حاصل یہ کہ جن خود ساختہ کارسازوں سے مجھے ڈراتے ہو وہ بالکل بےبس اور عاجز ہیں اور خدا کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ ” قل حسبی اللہ الخ ‘] اس لیے آپ اعلان فرما دیں کہ تمام مصائب و مشکلات میں مجھے اللہ کافی ہے اور اگر کسی کو بھروسہ کرنا ہے تو اسی قادر وقیوم پر کرنا چاہیے نہ اس کی عاجز مخلوق پر۔
Ayahs 39:39–4040:۔ ” قل یقوم الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ آپ اپنی قوم کے مشرکین سے فرما دیں، اچھا اگر تم ضد وعناد کی وجہ سے حق کو نہیں مانتے ہو تو تم اپنی ڈگر پر چلتے رہو اور میں بھی اپنی راہ پر گامزن ہوں۔ قیامت کے دن جان لوگے کون سچا ہے اور کون جھوٹا اور رسوا کن اور دائمی عذاب کس کے حصے میں آتا ہے اور جنت کی نعمتیں اور آرام و راحت کس کے لیے مقدر ہے۔