Ayahs 38:1–22:۔ والقران۔ تا۔ و شقاق : یہ تمہید مع ترغیب ہے۔ والقران الخ، قسم ہے اور جواب قسم محذوف ہے ای مابقی موضع شبہۃ یعنی یہ پند و نصیحت سے لبریز قرآن اس پر شاہد ہے کہ مسئلہ توحید میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی کفار کے نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں کہ مسئلہ میں کوئی شبہ باقی ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ کفار و مشرکین کبر و غرور اور عناد و عداوت میں پرے ہیں۔ اس لیے انکار و جحود پر کمر بستہ ہیں اور ان کے غرور و استکبار کا سبب دنیوی سامان عیش کی فراوانی ہے۔ بل متعت ھؤلاء وآباءھم حتی نسوا الذکر وکانوا قوما بورا (الفرقان رکوع 2) ۔ جب سورة صافات میں بیان ہوچکا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) فرشتے اور جن سب اللہ کی بارگاہ میں عاجز ہیں اور سب کچھ کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے تو اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ وہ خدا کے یہاں شفیع غالب نہیں ہیں اور اس توضیح و تفصیل سے شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی۔ لیکن اس کے باوجود کفار غرور وعناد کی وجہ سے نہیں مانتے۔ ہذا افادہ الشیخ قدس سرہ۔ بعض مفسرین نے انک لمن المرسلین (بیشک تو البتہ رسولوں میں سے ہے) ۔ بعض نے، ما الامر کما قال کفار مکۃ من تعدد الالہۃ، (بات یوں نہیں جس طرح کفار مکہ کہتے ہیں کہ معبود ایک سے زیادہ ہیں) ۔ بعض نے، ما الامر کما یقولون انک ساحر کذاب (بات یوں نہیں جس طرح مشرکین کہتے ہیں کہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے) وغیرہ جواب قمس مقدر مانا ہے (روح، قرطبی، جلالین) ۔ اس ذکر و نصیحت والے قرآن کو تو ماننا چاہئے تھا۔ لیکن کفار ضد میں آکر اس کا انکار کر بیٹھے۔
Ayah 38:33:۔ کم اھلکنا الخ : یہ تخویف دینوی ہے۔ لات، یہ لا مشبہ بلیس ہے۔ تائے تانیث تاکید کے لیے زیادہ کی گئی ہے۔ حین مناص اس کی خبر ہے، مناص، خلاصھی لا المشبہۃ بلیس عند سیبویہ زیدت علیہا تاء التانیث لتاکید معناھا وھو النفی (روح ج 23 ص 163) ای لیس الحین حین مناص (بیضاوی) ۔ ان سے پہلے ہم نے کئی قوموں کو ہلاک کردیا۔ جب ہمارا عذاب آپہنچا تو پکارنے لگے۔ حالانکہ یہ وقت عذاب سے بچنے اور خلاصی پانے کا نہیں ہوتا۔ مشرکین مکہ بھی ایسے عذاب کے لیے تیار رہیں یعنی انہم یہلکون کما ہلک من قبلہم (مظہری ج 8 ص 154) ۔
Ayah 38:44:۔ وعجبوا الخ : یہ زجر ہے یہاں سے بل ھم فی شک من ذکری، تک کفار مکہ کے استکبار وعناد کا ذکر ہے۔ منذر منہم : انہیں اس پر بھی حیرت اور تعجب ہے کہ انہی میں سے ایک بشر کو رسول بنا کر ان کی طرف بھیج دیا گیا ہے۔ (منذر منہم) رسول بشر من انفسہم (جامع البیان ص 389) ۔
5:۔ وقال الکفرون الخ : یہ شکوی ہے کفار کے عناد کا۔ کافروں نے کہا یہ تو کوئی جادوگر ہے۔ اس کے ہاتھ پر جادوگروں کی طرح شعبدے ظاہر ہوتے ہیں اور وحی و نبوت کے دعوے میں جھوٹا ہے۔ خدا پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (العیاذ باللہ) ۔ معجزات کو جادو کے شعبدات قرار دینا اور ایک ایسے راست گو انسان کی طرف جھوٹ کی نسبت کرنا جس نے ساری زندگی میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو۔ سراسر ضد وعناد پر مبنی ہے۔
Ayah 38:56:۔ اجعل الخ : تمام معبودوں کی الوہیت کی یکسر نفی کر کے اس نے الوہیت کو صرف ایک ذات پاک کے ساتھ مختص قرار دے دیا ہے اور کہتا ہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی الہ (معبود) نہیں اور نہ ہی کوئی کارساز ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں۔ یہ بات تو نہایت ہی حیرت انگیز اور تعجب افزا ہے۔ عجاب صیغہ مبالغہ ہے۔ والعجاب الذی قد تجاوز حد العجب (قرطبی ج 15 ص 150) جن لوگوں نے خدا کے علاوہ سینکڑوں ہزاروں معبود اور کارساز بنا رکھے ہوں ان کے لیے مسئلہ توحید واقعی نہایت ہی تعجب انگیز ہے۔
Ayah 38:67:۔ انطلق الخ :۔ ابو جہل، عتبہ، شیبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط، عاص بن وائل وغیرہ صنادید قریش کا ایک وفد ابو طالب کے پاس آیا تاکہ وہ اپنے بھتیجے کو ان کے معبودانِ باطلہ کی توہین روکین یعنی وہ ہمارے معبودوں کے بارے میں یہ نہ کہا کرے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ وہ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے اور ہم اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کو بلا کر کہا کہ میرے بھتیجے یہ اشراف قریش اس مقصد کے لیے آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں ان سے صرف ایک بات لینے کا مطالبہ کرتا ہوں، اگر یہ اس کو مان لین تو سارا عرب ان کا مطیع ہوجائے ابو جہل فوراً بول اٹھا ایسی تو ہم دس باتیں بھی ماننے کے لیے تیار ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ ایک بات یہ ہے لا الہ الا اللہ یہ سن کر بول اٹھے اجعل الالہۃ الہا واحدا، اور اٹھ کر چل دئیے اور آپس میں کہنے لگے چلو اور اپنے معبودوں کی عبادت پر قائم رہو۔ ان آیتوں میں اسی طرف اشارہ ہے (روح، قرطبی، خازن، معالم) ۔
8:۔ ان ھذا الخ : یہ بھی کافروں ہی کا مقولہ ہے۔ اسے چھوڑو یہ تمہاری کوئی بات نہیں مانے گا۔ یہ ریاست اور بڑائی چیز ہی ایسی ہے جس کی ہر شخص کو تمنا ہے اور محمد ﷺ بھی اسی آرزو کی تکمیل کے لیے توحید وغیرہ کا نعرہ بلند کر رہا ہے ان ھذا الذی یدعیہ محمد من التوحید او الذی یقصد من الریاسۃ والترفع علی العرب والعجم لشیء یتمنی او یریدہ کل احد (مظہری ج 8 ص 156) ۔
Ayah 38:79: ما سمعنا الخ : ھذا سے مسئلہ توحید کی طرف اشارہ ہے اور الملۃ الاخرۃ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا دین یا آباء و اجداد کا دین مراد ہے۔ ہم نے آج تک یہ مسئلہ توحید نہ تو دین عیسوی کے عالموں سے سنا ہے بلکہ اس کے برعکس تمام پوپ اور پادری تثلیث کے قائل ہیں اور نہ اپنے باپ دادا ہی سے ہم نے مسئلہ توحید سنا ہے۔ اس لیے لامحالہ یہ مسئلہ توحید خدا کی طرف سے نہیں بلکہ محمد ﷺ کا اپنا ساختہ پرداختہ ہے۔ فی ملۃ عیسیٰ التیھی اخر الملل لان النصاری مثلثۃ غیر موحدۃ او فی ملۃ قریش التی ادرکنا علیہا آباءنا (مدارک ج 4 ص 27) ۔
Ayah 38:810:۔ ء انزل الخ : یہ بھی ان کے بض وحسد اور عناد پر مبنی ہے۔ کیا ہم سب میں سے یہی اس لائق تھا کہ اس کو نبوت دی جاتی اور اس پر قرآن نازل کیا جاتا۔ ہم ایسے اشراف اور عظماء میں سے کوئی بھی اس مرتبے کے لائق نہ تھا ؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا انکار محض حسد اور عناد کی وجہ سے تھا۔ وامثال ھذہ المقالات الباطلۃ دلیل علی ان مناط تکذیبہ لیس الا الھسد و قصر النظر علی حطام الدنیا (روح ج 23 ص 168) ۔
11: بل ھم الخ : یہ ماقبل مذکورہ امور سے اضراب ہے یعنی ان کی تکذیب کے اصل وجوہ وہ نہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔ وہ تو محض تکذیب کے لیے جھوٹے بہانے ہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ اس قرآن ہی کے بارے میں شک میں سرگرداں ہیں جو دلائل توحید سے لبریز ہے یہی وجہ ہے کہ کبھی اسے جادو کہتے ہیں اور کبھی شعر سے تعبیر کرتے ہیں (روح) ۔ بل لما یذوقوا عذاب : یہ دونوں سے اضراب ہے یعنی ان کو نہ حسد مانع ہے نہ شک، بلکہ ابھی تک انہوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ جب عذاب کا مزہ چکھ لیں گے تو نہ حسد رہے گا نہ شک بلکہ پورا پورا یقین آجائے گا لیکن بےسود ای لما یذوقوا عذابی بعد فاذا ذاقوہ زال عنہم ما بہم من الحسد والشک حینئذ (روح) ۔
Ayah 38:912: ام عندھم الخ : یہ مشرکین کے قولء انزل علیہ الذکر الخ کا جواب ہے یہ لوگ ایسے بلند بانگ دعوے کرتے اور اپنے سے بڑا کسی کو نہیں سمجھتے کیا اللہ کی رحمت کے خزانے ان کے قبضہ میں ہیں اور کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے اختیار میں ہے کہ وہ جسے مستحق سمجھیں اسے نبوت عطا کریں۔ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہے۔
Ayah 38:1013:۔ ام لہم الخ :۔ یا زمین و آسمان کی حکومت ان کے قبضہ میں ہے جس کی وجہ سے وہ خدا کے کاموں میں دخل دیتے ہیں تو پھر تمام ممکنہ اسباب کو بروئے کار لا کر ساری کائنات کا نظم ونسق چلائیں اور جسے چاہیں نبوت کے مقام پر فائز کر کے اس پر وحی نازل کریں یہ مشرکین کی خرافات پر تہکم و استہزاء ہے۔ نہ تو اللہ کی رحمت کے خزانے ان کے ہاتھ میں ہیں۔ نہ زمین و آسمان کی حکومت ان کے قبضے میں۔ لیکن باتیں ایسی تعلی سے کرتے ہیں گویا سب کچھ ان کے اختیار میں ہے۔ وایاما کان ففی امرھم بذلک تھکم بہم لا یخفی (روح جلد 23 ص 169) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کا کوئی اختیار چل سکتا ہے تو وہ آسمان پر چرھ جائیں اور وحی کو روک لیں۔ ای فلیصعدوا الی السموات ولیمنعوا الملائکۃ من انزال الوحی علی محمد (قرطبی ج 15 ص 153) ۔
Ayah 38:1114:۔ جند ما الخ : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے اور مشرکین مکہ کے مہزوم و مغلوب ہونے کی پیشگوئی ہے یہ مشرکین کا ایک نہایت ہی حقیر سا لشکر ہے جو عنقریب مغلوب و مقہور ہونے الا ہے۔ یہ بھی ان جماعتوں میں ایک ہے جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کے خلاف نبرد آزمائی کی اور آخر ذلیل و رسوا ہوئے یہ وعدہ جنگ بدر میں پورا ہوا اور ھنالک سے مشرکین کے قتل ہو کر گرنے کی طرف اشارہ ہے یعنی ان قریشا من جملۃ الجناد الذین تجمعوا تحزبوا علی الانبیاء بالتکذیب فقہروا واھلکوا۔ اخبر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نبیہ ﷺ وھو بمکۃ انہ سیہزم جند المشرکین فجاء تاویلہا یوم بدر وھنالک اشارۃ الی مصارعہم ببدر (خازن ج 6 ص 42) ۔
Ayahs 38:12–1415:۔ کذبت الخ : یہ تخویف دنیوی ہے۔ قوم نوح، عاد، فرعون، ثمود، قوم لوط اور اصحاب الایکہ یہ وہ احزاب ہیں جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) سے ٹکر لی اور ان کی تکذیب کی تو ان سب پر ہمارا عذاب نازل ہوا۔ اور ہم نے ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور ان پر اپنے پیغمبروں کو غلبہ عطا فرمایا۔ فرعون کو ذوالاوتاد اس لیے کہا کہ اس کا ملک نہایت مضبوط اور مستحکم تھا گویا اس کی حکومت کو اس گھر سے تشبیہ دی گئی جس ستون نہایت مضبوط ہوں۔ ذو الاوتاد ذوالملک الثابت (جامع البیان ص 390) ۔ شبہ ھنا فرعون فی ثبات ملکہ ورسوخ سلطنتہ ببیت ثابت اقیم عمادہ و ثبتت اوتادہ (روح ج 23 ص 170) ۔ اور اصحاب الایکہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔
Ayah 38:1516:۔ وما ینظر الخ۔ فواق : اونٹنی کو ایک بار دوہنے کے بعد کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ مزید دودھ اپنے تھنوں میں اتار دے اس درمیانی وقفے کو فواق کہا جاتا ہے، والفَواق والفُواق مابین الحلبتین من الوقت، لانہا تحلب ثم تترک سویعۃ یرضعہا الفصیل لتدر ثم تحلب (قرطبی ج 15 ص 156) ۔ یہ کفار مکہ قیامت کے انتظار میں ہیں جب قیامت بپا ہوگی یہ اس وقت ایمان لائیں گے۔ صیحۃ واحدۃ سے نفخہ اولی مراد ہے جو خاصا طویل اور مسلسل ہوگا اور اس کے درمیان معمولی سا وقفہ بھی نہیں ہوگا۔
Ayah 38:1617:۔ وقالوا الخ : یہ شکوی ہے اور ابتدائے سورت سے متعلق ہے۔ بل الذین کفروا الخ : کفار و مشرکین غرور و استکبار میں مست ہیں۔ اور ازراہ تعنت و استہزاء کہتے ہیں قیامت کے دن ہمارے لیے جو عذاب تیار ہے وہ ہمیں دنیا ہی میں دیدو۔ قطنا ای قسطنا من العذاب الذی توعدنا بہ (بیضاوی) ۔
Ayah 38:1718:۔ اصبر الخ : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ اور نفی شفاعت قہری پر پہلی نقلی دلیل ہے۔ آپ صبر و تحمل سے کام لیں۔ ہم ان کو ان کی گستاخانہ روش کی سخت سزا دینگے۔ اور ان کو داؤود (علیہ السلام) کا قصہ سنائی کہ اس قدر جلالت شان کے باوجود ایک خلاف اولی فعل پر ان کو بھی تنبیہہ کی گئی۔ بھلا یہ سرکش اور گستاخ کس طرح چھورے جاسکتے ہیں ( واذکر عبدنا داوٗد) وکرامتہ علی اللہ کیف زل تلک الزلۃ الیسیرۃ فلقی من عتاب اللہ مالقی (مدارک ج 4 ص 28) ۔ ساتھ ہی نفی شفاعت قہری پر یہ دلیل نقلی بھی ہے۔ یعنی داؤود (علیہ السلام) ایسے جلیل القدر پیغمبر جو نہایت ہی عابد و زاہد اور ساتھ ہی ایک عظیم بادشاہ بھی تھے لیکن بایں ہمہ ان سے ایک لغزش ہوگئی جس کی بنا پر انہیں تنبیہہ کی گئی۔ اس لیے وہ کسی طرح بھی خدا کی بارگاہ میں شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔
دلیل نقلی از انبیاء دو قسم کی ہوتی ہے۔ اول یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) کے اقوال اور ان کی تعلیمات کو نقل کیا جائے۔ دوم یہ کہ ان کے احوال نقل کیے جائیں اور ان سے استشہاد کیا جائے۔ اس سورت میں دلیل نقلی کی قسم ثانی مراد ہے۔
19:۔ ذا الاید الخ یہ حضرت داود (علیہ السلام) کی صفت ہے۔ اید بمعنی قوت و طاقت۔ حضرت داود (علیہ السلام) اللہ کی عبادت میں نہایت مضبوط اور چاک و چوبند رہتے تھے۔ ہر رات نصف شب اللہ کی عبادت میں گذارتے اور ہر دوسرے د روزہ رکھتے تھے۔ یہ ان کی ساری زندگی کا معمول تھا۔ اواب اللہ کی طرف بہت زیادہ رجوع رکھنے والا اور اس کی عبادت وطاعت میں لگا رہنے والا (روح) ۔
Ayah 38:1820:۔ انا سخرنا الخ : پہاڑوں کو ہم نے اپنے حکم سے اس کے مطیع بنا دیا کہ جب وہ صبح و شام اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہوتے تو پہاڑ بھی زبان قال سے ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح و تقدیس میں شامل ہوجاتے۔ پہاڑوں کی تسبیح زبان قال سے مراد ہے نہ کہ زبان حال سے۔ کیونکہ تسبیح حالی ان دو وقتوں سے مخصوص نہیں۔ و تسبیحہن تقدیس بلسان قال لائق بہن الخ (روح ج 23 ص 174) وان ذلک تسبیح مقال علی الصحیح من الاقوال (قرطبی ج 15 ص 159) ۔
Ayah 38:1921:۔ والطیر الخ : یہ الجبال پر معطوف ہے۔ یہ آیت قرینہ ہے کہ سورة سبا میں الطیر سے پہلے سخرنا مقدر ہے۔ محشورۃ، الطیر سے حال ہے۔ جب حضرت داود (علیہ السلام) تسبیح و تقدیس میں مصروف ہوتے تو پہاڑوں کی شمولیت کے علاوہ پرندے بھی ان کے گرد جمع ہوجاتے اور اللہ کی تسبیح کرتے۔ ای مجتمعۃ الیہ من کل جانب تسبح معہ (مظہری ج 8 ص 160) ۔ کل لہ اواب : حضرت داود (علیہ السلام) کی تسبیح کی وجہ سے سب اللہ کی تسبیح کرتے۔ اللام تعلیلیۃ والضمیر لداود ای کل واحد من من الجبال والطیر لاجل تسبیحہ رجاع الی التسبیح (روح ج 23 ص 176) ۔
Ayah 38:2022:۔ وشددنا الخ : ہم نے اس کے ملک کو ذاتی ہیبت و وجاہت۔ غیبی مدد و نصرت، کثرت عساکر اور گوناگوں نعمتوں کی فراوانی سے مضبوط و مستحکم کردیا۔ اور اس کو نبوت اور کمال علم و عمل سے سرفراز فرمایا اور اسے فیصلہ کن انداز گفتگو کا ملکہ عطا کیا (خازن، روح وغیرہما) ۔
Ayahs 38:21–2423:۔ وھل الخ۔ تسوروا : دیوار پھاند کر داخل ہوئے۔ ولا تشطط : حق سے تجاوز نہ کرنا۔ نعجۃ : ولد الضان، دنبے کا بچہ۔ اکفلنیہا : وہ مجھے دیدے۔ عزنی : مجھ پر غالب آگیا۔ یہاں سے لے کر وقلیل ماھم تک ایک واقعہ کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت داود (علیہ السلام) ایک دن عبادت خانے میں محو عبادت تھے۔ اور عبادت خانے کے دروازے اندر سے بند تھے کہ اچاند دو آدمی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے۔ حضرت داوٗد (علیہ السلام) ایک دن عبادت خانے میں محو عبادت تھے۔ اور عبادت خانے کے دروازے اندر سے بند تھے کہ اچانک دو آدمی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے۔ حضرت داوٗد (علیہ السلام) ان کے بلا اجازت اور پھر اس انداز سے داخل ہونے سے گھبرا گئے کہ شاید قتل کے ارادے سے آئے ہیں۔ آنے والوں نے کہا، گھبراؤ نہیں، ہم ایک جھگڑے کا فیصلہ لینے آئے ہیں۔ آپ صحیح فیصلہ صادر فرما کر ہماری راہنمائی فرمائیں۔ بات یہ ہے کہ یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے۔ اور یہ میرا بھائی وہ ایک دنبی بھی مجھ سے زبردستی لینا چاہتا ہے۔ اور گفتگو میں مجھ پر غالب آچکا ہے۔ حضرت داوٗد (علیہ السلام) نے ایک فریق کی بات سن کر فرمایا بیشک اس شخص نے تم پر ظلم کیا ہے اور لوگوں کا دستور ہی یہ ہے کہ اکثر لوگ اپنے ساتھیوں پر ظلم و زیادتی کرتے ہی رہتے ہیں البتہ مؤمنین صالحین ایسا نہیں کرتے۔ لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ اسکے بعد ارشاد ہے وظن داوٗد الخ، داوٗد (علیہ السلام) کو خیال آیا کہ یہ تو میرا امتحان تھا لیکن مجھ سے لغزش ہوگئی اس لیے فورًا سجدے میں گر پڑے اور اللہ سے معافی مانگی۔
اس واقعہ میں چونکہ دیوار پھاندنے والوں اور حضرت داؤود (علیہ السلام) کی لغزش کا بالتعیین ذکر نہیں اس لیے ان دونوں کی تعیین میں مفسرین کے درمیان خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں دشمنانِ اسلام یہودیوں نے بھی اپنی خود ساختہ خرافات کو مسلمانوں میں رائج کرنے کی کوشش کی ہے۔ بعض مفسرین نے یہودیوں کی ان خرافات کو اپنی تفسیروں میں بلا نکیر ذکر کردیا ہے لیکن اکثر محققین مفسرین نے اس اسرائیلی قصے کو بالکلیہ رد کردیا ہے۔ اس اسرائیلی جھوٹے قصے کی رو سے حضرت داؤود (علیہ السلام) کی ننانوے بیویاں تھیں۔ اور ایک دن اپنے ایک امتی کی بیوی پر اتفاقاً نظر پڑگئی۔ اور اس کے حسن و جمال کی بنا پر وہ اسے چاہنے لگے۔ چناچہ اس کے خاوند کو جہاد میں بھیج کر مروا دیا۔ اور اس کی بیوی سے شادی کرلی اور اللہ تعالیٰ نے فرشتے بھیج کر انہیں اس پر متنبہ فرمایا۔ یہ قصہ سراسر جھوٹا اور حضرت داؤود (علیہ السلام) پر افتراء اور ان کی شان بلند کے قطعا منافی ہے۔ یہ حرکت تو ایک کامل مومن سے بھی سرزد نہیں ہوسکتی۔ چہ جائیکہ ایک جلیل القدر پیغمبر اس کا ارتکاب کرے۔ چونکہ یہ واقعہ عصمت انبیاء (علیہم السلام) کے خلاف ہے۔ اس لیے تمام محققین نے اسے باطل و مردود قرار دیا ہے۔
حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ جو شخص حضرت داود (علیہ السلام) کے بارے میں یہ واقعہ بیان کرے گا میں اس کو ایک سو ساٹھ درے ماروں گا جو انبیاء (علیہم السلام) پر بہتان باندھنے کی سزا ہے۔ قال علی ؓ من حدثکم بحدیث داؤود (علیہ السلام) علی ما یرویہ القصاص جلدتہ مائۃ وستین وھو حد الفریۃ علی الانبیاء (مدارک ج 4 ص 29، 30، خازن ج 6 ص 49، بیضاوی ج 2 ص 245، روح ج 23 ص 185، قرطبی ج 15 ص 181، جامع البیان ص 391) ۔ مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں۔ قد ذکر المفسرون ھھنا قصۃ اکثرھا ماخوذ من الاسرائیلیات ولم یثبت فیہا عن المعصوم حدیث یجب اتباعہ (ابن کثیر ج 4 ص 31) ۔ امام قاضی عیاض فرماتے ہیں۔ لا یجوز ان یلتفت الی ما سطرہ الاخباریون من اھل الکتاب الذین بدلوا وغیروا ونقلہ بعض المفسرین ولم ینص اللہ تعالیٰ علی شیء من ذلک ولا ورد فی حدیث صحیح والذی نص علیہ اللہ فی قصۃ داود و ظن داوٗد (انما فتناہ ولیس فی قصۃ داوٗد اور یا خبر ثابت (خازن ج 6 ص 49) ۔ علامہ معین الدین بن صفی رقمطراز ہیں۔ وما یذکرہ القصاص لیس لہ اصل یعتمد علیہ (جامع البیان ص 391) ۔ امام بیضاوی تحریر فرماتے ہیں وما قیل انہ ارسل اور یا الی الجھاد مرادا وامر ان یقدم حتی قتل فتزوجہا، ھراء وافتراء (بیضاوی) ۔ امام ابو حیان فرماتے ہیں۔ و یعلم قطعا ان الانبیاء (علیہم السلام) معصومون من الخطایا لا یمکن وقوعہم فی شیء منہا، ضرورۃ اذ لوجوزنا علیہم شیئا من ذلک بطلت الشرائع ولم نثق بشیء مما یذکرون انہ اوحی اللہ بہ الیہم۔ فما حکی اللہ تعالیٰ فی کتابہ یمر علی ما ارادہ تعالیٰ وما حکی القصاص مما فیہ غض من منصب النبوۃ طرحناہ (بحر ج 7 ص 393) ۔
اب سوال یہ ہے کہ اصل لغزش کیا تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل لغزش جو بھی ہو، وہ ترک اولی کے قبیل سے ہوسکتی ہے، از قبیل گناہ نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ باجماع اہل سنت حضرات انبیاء (علیہم السلام) ہر قسم کے گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔ البتہ اپنے منصب جلیل کے پیش نظر وہ ترک اولی کو بھی اپنے حق میں گناہ سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اس طرح الحاح و تضرع سے اس کی معافی مانگتے ہیں جس طرح ہمیں کبیرہ گناہوں پر مانگنی چاہئے۔ ولا بد من القول بانہ لم یکن منہ (علیہ السلام) الا ترک ما ھو الاولی بعلی شانہ والاستغار منہ وھو لا یخل بالعصمۃ (روح ج 23 ص 186) ۔ اصل لغزش کی تعیین میں مفسرین کے اقول مختلف ہیں۔ بعض کے نزدیک لغزش یہ تھی کہ ان کے پڑوس میں ایک عورت عریاں نہا رہی تھی وہ کھڑکی کی طرف بڑھے تو اچانک بلا قصد و ارادہ ان کی نگاہ اس پر پڑگئی۔ لیکن انہوں نے فورًا نگاہ پھیرلی (قرطبی) یہ فعل اگرچہ گناہ نہیں۔ لیکن یہاں یہ مراد نہیں ہوسکتا کیونکہ اس صورت میں دنبیوں کے ذکر کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا۔ بعض نے لکھا ہے کہ حضرت داوٗد (علیہ السلام) نے ایک مسلمان سے کہا تھا کہ تم اپنی بیوی کو میری خاطر طلاق دے دو ۔ اور ایسا کرنا ان کے یہاں جائز اور مروج تھا لیکن حضرت داوٗد (علیہ السلام) کی شان رفیع کے خلاف تھا اس لیے تنبیہہ کی گئی اور بعض نے کہا ہے کہ حضرت داود (علیہ السلام) نے ایک مسلمان کے خطبہ پر خطبہ کیا تھا وغیرہ (روح) ۔ لیکن سب سے زیادہ موزوں اور مناسب توجیہہ وہ ہے جو بعض مفسرین نے لکھ ہے۔ اور رئیس المفسرین حضرت الشیخ قدس سرہ نے جسے ترجیح دی ہے۔ اس توجیہہ میں نہ اسرائیلیات کا سہارا لینے کی ضرورت ہے۔ نہ ظواہر نظم کو ظاہر سے پھیرنے کی حاجت اور لغزش بھی خود سیاق نظم ہی سے متعین ہو رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دیوار پھاند کر اندر داخل ہونے والے انسان نہیں تھے بلکہ فرشتے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت داوٗد (علیہ السلام) کے امتحان کے لیے بھیجا تھا۔ روی ان اللہ تعالیٰ بعث الیہ ملکین فی صورۃ انسانین فطلبا ایدخلا علیہ فوجداہ فی یوم عبادتہ فمنعہما الحرس فتسورا المحراب (مدارک ج 4 ص 29) ۔ اور پھر انہوں نے جو صورت قضیہ حضرت داوٗد (علیہ السلام) کے سامنے پیش کی، وہ نفس الامر میں واقع نہیں تھی بلکہ ایک مفروضہ صورت تھی۔ گویا وہ یوں کہہ رہے ہیں کہ اگر ہمارے درمیان یہ صورت پیش آجائے تو اس کا کیا حکم ہے۔ جس طرح اہل نحو فاعل و مفعول کی تمثیل میں کہتے ہیں ضرب زید عمرا، حالانکہ فی الواقعہ وہاں ضرب نہیں ہوتی۔ قال الحسین بن الفضل، ھذا من الملکین تعریض وتنبیہ کقولہم ضرب زید عمرا وما کان ضرب و لا نعاج علی التحقیق کانہ قال نحن خصمان ھذہ حالنا، قال ابو جعفر النحاس واحسن ما قیل فی ھذا ان المعنی یقول خصمان بغی بعضنا علی بعض علی جہۃ المسئلۃ۔ کما تقول : رجل یقول لامراتہ کذا ما یجب علیہ (قرطبی ج 15 ص 173) اس کے بعد حضرت داوٗد (علیہ السلام) نے مدعی علیہ کو صفائی کا موقع دئیے بغیر ہی اپنا فیصلہ صادر فرمادیا۔ یہی لغزش تھا۔ قالا النحاس : فیقال ان ھذہ کانت خطیئۃ داوٗد علیہ السلا، لانہ قال، لقد ظلمک من غیر تثبیت بینۃ ولا اقرار من الخصم (قرطبی ج 15 ص 175) ۔ وقیل ان ذنب داوٗد الذی استغفر منہ لیس ھو بسبب اور یا والمراۃ وانما ھو بسبب الخصمین وکنہ قضی لاحدھما قبل سماع کلام الاخر (خازن ج 6 ص 50) ۔ حضرت داود (علیہ السلام) پہلے تو یہی سمجھے تھے کہ فریقین انسان ہیں۔ اور قضیہ واقعیہ کے بارے میں فیصلہ لینے آئے ہیں لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ فیصلہ سننے کے بعد دونوں سائل ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور پھر ان کے سامنے ہی آسمان کی طرف چڑھ گئے تو سمجھے کہ یہ تو اللہ کی طرف سے ابتلا تھا جس میں مجھ سے لغزش سرزد ہوگئی اس لیے فورًا سربسجود ہوگئے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی وقیل لما قضی بینہما نظر احدہما الی صاحبہ فضحک ثم صعد الی السماء حیال وجہ فعلم بذلک انہ تعالیٰ ابتلاہ (روح ج 23 ص 182) ۔
Ayah 38:25ف 24:۔ فغفرنا الخ :۔ ہم نے ان کی لغزش معاف کردی وہ ہمارے نہایت ہی مقرب اور برگزیدہ بندے ہیں اور آخرت میں ہمارے یہاں ان کا انجام بہت عمدہ اور ان کا مقام بہت بلند ہے۔
Ayah 38:2625:۔ یا داود الخ : حضرت داود (علیہ السلام) کو دنیا میں جو شان و منزلت عطا کی گئی اس کا ذکر ہے اور ساتھ ہی ہدایت بھی ہیں۔ ہم نے آپ کو زمین میں حکومت عطا کی اور آپ کو لوگوں کے معاملات کا متولی بنایا ہے۔ اس لیے لوگوں کے باہمی تنازعات کا تصفیہ پوری چھان بین اور تحقیق سے کیا کریں اور عدل و انصاف کو اپنا شعار بنائیں۔ محکمات میں اور دیگر تمام امور میں خواہش نفس دخل انداز نہ ہونے پائے اور نہ وہ راہ حق اور جادہ عدل سے منحرف کردے گی۔ جو لوگ خواہش نفس کے تابع ہو کر راہ حق سے بھٹک جائیں گے، ان کے لیے سخت ترین عذاب ہے، کیونکہ انہوں نے قیامت کے دن کو بھلا دیا ہے۔
Ayah 38:2726:۔ وما خلقنا الخ : یہ عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان کو اور ساری کائنات کو ہم نے یوں ہی بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ بلکہ یہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے تفرد بالالوہیت پر دلالت کرتی ہے۔ کائنات کے نظم و نسق کو برقرار رکھنا اور نہایت ہی حکیمانہ تدبیر سے نظام کائنات کو چلانا معبود برحق کے سوا کسی اور کا کام نہیں۔ وہ جو کچھ کرتا ہے اپنے ارادے سے کرتا ہے۔ اس لیے کوئی ایسا شفیع غالب نہیں جو اس کے کاموں میں دخل دے سکے۔ کافروں کا یہ گمان کہ یہ کارخانہ کائنات محض بےمقصد ہے۔ یا یہ کہ ان کے معبودانِ باطلہ خدا کے کاموں میں دخل دے سکتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں شفیع غالب ہیں، سراسر باطل ہے۔ فویل للذین کفروا الخ، یہ ایسے کافروں کے لیے تخویف اخروی ہے۔
Ayah 38:2827:۔ ام نجعل الخ : یہ زجر ہے۔ قیامت کا انکار در اصل جزاء و سزا کا انکار ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ایمان والے جن کی زندگی اصلاح وتقوی میں بسر ہو وہ ان فساق فجار کے برابر ہوجائیں جن کی زندگیوں کا مشن ہی شر و فساد بپا کرنا ہے اگر جزاء و سزا نہیں تو متقین جزاء اعمال سے محروم اور مفسدین بد عملی کی سزا سے محفوظ رہیں گے حالانکہ یہ سراسر بےانصافی اور خلاف عقل ہے۔ والمراد انہ لو بطل الجزاء کما یقول الکفار لاستوت احوال من اصلح وافسد واتقی وفجر و من سوی بینہم کان سفیہا ولم یکن حکیما (مدارک) ۔
Ayah 38:2928:۔ کتاب الخ : یہ دلیل وحی ہے۔ یہ کتاب جو دین و دنیا کی برکات کی حامل ہے۔ ہم نے اس لیے نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں اور سمجھیں کہ اللہ کے سوا کوئی شفیع غالب نہیں۔ اس وحی الٰہی نے پوری صراحت سے شفاعت قہری کی نفی کی ہے۔
Ayah 38:3029:۔ ووھبنا الخ : یہ دوسری نقلی دلیل ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بڑے پائے کے پیغمبر اور بادشاہ تھے۔ ان پر بھی اللہ کی طرف سے ابتلاء آگیا آخر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا اور توبہ کی۔ وہ تو خود اللہ کے سامنے ایسے عاجز تھے اس لیے وہ شفیع غالب نہیں ہوسکتے داوٗد (علیہ السلام) کو ہم نے سلیمان (علیہ السلام) ایسا نیک اور لائق فرزند عطا کیا جو اللہ تعالیٰ نہایت فرمانبردار بندہ تھا۔
Ayahs 38:31–3330:۔ اذ عرض الخ : ایک دفعہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جہاد کی ضرورت پیش آئ تو پچھلے پہر کے وقت اصطبل سے گھوڑے پیش کرنے کا حکم دیا جن کی تعداد کم و بیش ایک ہزار تھی چناچہ گھوڑے ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ چونکہ وہ گھوڑوں کے اوصاف سے بخوبی واقف تھے جب انہوں نے دیکھا کہ تمام گھوڑے عمدہ نسل کے، اصیل اور سبک رفتار ہیں تو بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے۔ یہ مال (گھوڑوں) کی محبت بھی یاد الٰہی کی وجہ سے ہے یہ دنیوی محبت نہیں۔ اسی دوران میں گھوڑے آنکھوں سے اوجھل ہوچکے تھے۔ اس لیے دوبارہ حکم دیا کہ ان کو دوبارہ واپس لاؤ جب وہ واپس لائے گئے تو ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے تھپکی دینے لگے (ابن جریر، کبیر، خازن) ۔ الصافات، صافن کی جمع ہے۔ صافن اس گھورے کو کہتے ہیں جو ایک پاؤں کو اوپر اٹھا کر اس کے کھر پر کھڑا ہو۔ یہ گھوڑوں کی عمدہ صفات میں شمار ہوتی ہے۔ الجیاد، جواد کی جمع ہے جواد تیز اور سبک رفتار کو کہتے ہیں۔ الخیر سے مال مراد ہے۔ عن ذکر ربی میں عن بمعنی من ہے، عن ذکر ربی من ذکر ربی (صحیح بخاری ج 1 ص 486) ۔ توارت کی ضمیر الصافنات الجیاد کی طرف راجع ہے آیت کا مذکورہ بالا مفہوم امام ابن جریرطبری، امام رازی، خطیب شربینی اور خازن نے ذکر کیا ہے اور یہ مفہوم حبر الامت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بسند متصل امام طبری نے روایت کیا ہے، رازی اور طبری نے اسی مفہوم کو ترجیح دی ہے امام رازی نے اس کو امام زہری اور ابن کیسان کی طرف مبھی منسوب کیا ہے۔ والذی ذھبنا الیہ قول الزھری وابن کیسان (السراج المنیر للخطیب الشربینی ج 3 ص 390) ۔ لیکن حضرت علی ؓ اور دیگر مفسرین کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ گھوڑوں کی دیکھ پڑتال میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نماز عصر جاتی رہی جو ان پر فرض تھی۔ نماز عصر قضا ہونے کا سبب گھوڑے تھے اس لیے گھوڑوں کو واپس منگا کر ذبح کردیا (بحر، روح، معالم، مدارک، ابن جریر، ابن کثیر) ۔ اس صورت میں توارت کی ضمیر الشمس (سور ج) کی طرف راجع ہوگی جو العشی سے مفہوم ہے اور عن اپنے اصل معنی پر ہی ہوگا۔ لیکن امام رازی نے اس پر کئی اعتراضات وارد کیے ہیں۔ اول یہ کہ الصافنات کا ذکر آیت میں صریح اور الشمس کا کوئی ذکر نہیں اس لیے الصافنات کی طرف ضمیر لوٹانا بہتر ہے۔ دوم مسح بالسوق کو ذبح پر محمول کرنا صحیح نہیں ورنہ فامسحو برؤوسکم کے معنی بھی قطع کرنے کے ہوتے البتہ مسح بالسیف قطع کے معنوں میں آتا ہے۔ لوکان مسح السوق والاعناق قطعہا لکان معنی قولہ وامسحوا برؤوسکم وارجلکم قطعہا وھذا مما لا یقولہ عاقل بل لوقیل مسح راستہ بالسیف فربما فھم منہ ضرب العنق (کبیر ج 7 ص 200) ۔ سوم سینکڑوں گھوڑوں کو بےمقصد ذبح کردینا جبکہ وہ ہوں بھی بےقصور ایک پیغمبر کی شان سے بعید ہے۔
Ayah 38:3431:۔ ” ولقد فتنا الخ “ سلیمان (علیہ السلام) کو ہم نے آزمائش میں ڈالا اور ان کے تخت پر ایک جسد ڈالدیا اس آیت میں جسد اور آزمائش کی تعیین نہیں کی گئی اس لیے اس کی تعیین میں بھی اختلاف ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے قسم کھائی کہ آج رات میں اپنی تمام بیویوں سے مقاربت کروں گا تو ہر ایک کے بچہ پیدا ہوگا۔ اور ہر بچہ مجاہد ہوگا۔ لیکن انشاء اللہ نہ کہا چناچہ ایک بیوی کے سوا کسی کے بچہ پیدا نہ ہو اور وہ بھی ناقص الخلقت۔ اس کے بعدحضور ﷺ نے فرمایا اگر سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہہ لیتے تو تمام بیویوں کے بچے پیدا ہوتے اور سب مجاہد و شہسوار ہوتے۔ حدیث کے الفاظ صرف یہاں تک ہیں۔ اس حدیث کو نقل کر کے بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ دایہ نے اس کو لاکر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے تخت پر ڈال دیا اس پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) متنبہ ہوئے کہ یہ انشاء اللہ نہ کہنے کا نتیجہ ہے چناچہ فورًا توبہ و استغفار کیا۔ یہ حدیث صحیح ہے جو صحیح بخاری (ج 1 ص 395، ج 2 ص 994) کے علاوہ دوسری کتابوں میں بھی موجود ہے لیکن اس حدیث کے کسی بھی طریق میں ادنی سا اشارہ بھی ایسا نہیں ملتا جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے حدیث میں جو واقعہ مذکور ہے وہ اپنی جگہ ہے لیکن وہ واقعہ اس آیت کی تفسیر نہیں۔ البتہ مفسرین نے اس کو اس آیت کی تفسیر میں ذکر کردیا ہے بعض مفسرین نے جسد سے خود حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا جسد مراد لیا وہ بیماری سے اس قدر بےہوش اور لاغر ہوگئے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جسد بلا روح ہیں۔ وقال قوم مرض سلیمان مرضا کالاغماء حتی صار علی کرسیہ جسدا کانہ بلا روح (بحر ج 7 ص 397) ۔ ” ولقدفتنا سلیمان “ بسبب مرض شید القاہ اللہ علیہ ” والقینا علی کرسیہ مندہ جسدا “ وذالک لشدۃ المرض و العرب تقول فی الضعیف انہ لحم علی وضم وجسم بلا روح ” ثم اناب “ ای رجع الی حال الصحۃ (کبیر ج 7 ص 203) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جہاد کے گھوڑوں کی دیکھ بھال میں اس قدر محو ہوگئے کہ نماز عصر اپنے اصل وقت سے مؤخر ہوگئی (اگرچہ سورج غروب نہیں ہوا تھا) اللہ تعالیٰ نے اس ادنی تغافل پر بطور تنبیہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے حکومت لے کر ان کی جگہ ایک بیکار شخص کو تخت نشین کردیا۔ جب انہوں نے استغفار کیا تو انہیں ان کا ملک واپس کردیا اور گھوڑوں کے عوض ہوا کو ان کے تابع کردیا۔ جسد سے وہی بیکار شخص مراد ہے۔
اس کے علاوہ بعض مفسرین نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی کو ایک جن (شیطان) کے قبضے میں لے لینے اور ان کی حکومت پر مسلط ہونے کا قصہ ذکر کیا ہے وہ سراسر جھوٹٓ اور یہود و زنادقہ کا افتراء ہے۔ اس کا ذکر کرنا بھی جائز نہیں۔ قال ابو حیان وغیرہ ان ھذہ المقالۃ من اوضاع وزنادقۃ الرفسطائیۃ ولا ینبغی لعاقل ان یعتقد صحۃ ما فیہا (روح ج 23 ص 199) ۔ قال القاضی عیاض وغیرہ من المحققین لا یصح مانقلہ الاخباریون من تبشیہ الشیطان بہ و تسلیطہ علی ملکہ وتصرفہ فی امتہ بالجور فی حکمہ وانالشیاطین لایسلطون علی مثلہ وقد عصم اللہ تعالیٰ الانبیاء من مثل ھذا (خازن جلد 6 ص 49) ۔
یہ عبارت علامہ خطیب شربینی المتوفی 977 ھ نے امام رازی سے اپنی تفسیر میں نقل کی ہے لیکن تفسیر کبیر کے مطبوعہ نسخہ میں یہ عبارت موجود نہیں۔ یہ نسخوں کا اختلاف ہے۔ یا طباعت کی غلطی ہے واللہ اعلم۔ (سجاد بخاری عفا اللہ عنہ)
واما ما یروی من حدیث الخاتم والشیطان وعبادۃ الوثن فی بیت سلیمان (علیہ السلام) فمن اباطیل الیھود (مدارک) ۔
Ayah 38:3532:۔ ” قال رب الخ “۔ حضرت سلیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کی۔ انبیاء (علیہم السلام) کا شیوہ ہے کہ وہ ہر وقت اللہ سے استغفار کرتے رہتے ہیں جس سے درجات کی بلندی اور گناہوں سے حفاظت کی طلب مقصود ہوتی ہے اس لیے استغار کے لیے تقدم ذنب ضروری نہیں۔ ” وھب لی ملکا الخ “: حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ بھی دعا کی کہ مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے سوا کسی اور کو نہ ملے۔ والصحیح انہ سائل من اللہ تعالیٰ ملکا لا یکون لاحد من بعدہ من البشر مثلہ وھذا ھو ظاھر السیاق من الایۃ (ابن کثیر) ۔
Ayahs 38:36–3833:۔ ” فسخرنا الخ “۔ چنانہ ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی دعا قبول کرلی اور ہوا کو اور جنات کو ان کے تابع کردیا۔ ” اصاب “ ای اراد (روح) ۔ حضرت سلیم (علیہ السلام) جہاں چاہتے ہوا سبک رفتاری سے ان کا تخت اٹھا کرلے جاتی اور جنات کو بھی ان کا مطیع بنا دیا ان میں سے کچھ تو تعمیرات کے کام پر لگا دئیے اور کچھ غوطہ زن تھے جو سمندر کی تہ سے جواہر اور دیگر قیمتی اشیاء نکال کردیتے۔ اور جو شیاطین میں زیادہ سرکش اور طاگی تھے ان کو زنجیروں میں جکڑ کر قید میں ڈال رکھا تھا۔
Ayahs 38:39–4034:۔ ” ھذا الخ “۔ یہ اللہ کی طرف سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے خطاب ہے۔ یہ ملک عظیم اور انعامات بےپایاں ہم نے تجھے دئیے ہیں اب تجھے اختیار ہے کہ اس میں سے اوروں کو بھی دے یا نہ دے۔ قال ابن عباس ؓ اعط من شئت وامنع من شئت بغیر ھساب ای لیس علیک حرج فیما اعطیت وفیما امسکت (کبیر ج 7 ص 205) ۔ ” وان لہ عندنا الخ “: اس دنیوی سلطنت، تسخیر ریح و شیاطین کے علاوہ سلیمان (علیہ السلام) کا ہمارے یہاں مرتبہ بہت بلند ہے اور ان کی عاقبت بھی محمودہ ہے اور وہ ہمارے مقبول اور برگزیدہ بندے ہیں۔