Ayahs 37:1–42:۔ والصفت الخ :۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو صفیں باندھ کر الللہ کی عبادت میں مصروف ہیں۔ فالزاجرات زجرًا پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین کو ملا اعلی کے قریب آنے سے روکنے والے ہیں۔ فالتلیت ذکرا پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو اللہ کے ذکر اور اس کی حمد و ثنا اور تسبیح و تقدیس میں مصروف ہیں۔ ان الہکم لواحد الخ، یہ جواب قسم ہے۔ تینوں انواع کے فرشتے جن کی قسم کھائی گئی ہے ان کے یہ احوال اس پر شاہد اور اس کی واضح دلیل ہیں کہ سب کا معبود اور کارساز ایک ہے جو آسمانوں اور زمین کا اور ساری مخلوق کا اور مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ فرشتوں کے مذکورہ احوال سے معلوم ہا کہ ان کی حیثیت بارگاہِ الٰہی میں خدام کی ہے اور وہ اللہ کے حکم سے مختلف فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ اس لیے وہ کارساز اور شفیع غالب نہیں ہیں۔
Ayahs 37:5–63:۔ انا زینا الخ :۔ یہ جنات کا حال ہے کہ جب وہ ملا اعلی کی طرف چوری چھپے کوئی بات سننے جاتے ہیں تو ہر طرف سے آگ کے شعلے ان کا پیچھا کرتے اور انہیں واپس دھکیل دیتے ہیں اور شیاطین جن کے لیے دنیا کے اس عذاب کے علاوہ آخرت میں بھی عذاب لازم ہوگا تو ایسے راندہ بارداہ خداوندی کسی طرح شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ انا زینا السماء الدنیا الخ، ہم نے سب سے نچلے آسمان کو ستاروں کی زینت سے آراستہ اور مزین کردیا۔ اہل ہیئت کی تحقیق یہ ہے کہ سبعہ سیارہ کے علاوہ باقی تمام ستارے (ثوابت) ساتوں آسمان سے اوپر آٹھویں آسمان (کرسی) میں نصب ہیں۔ اگرچہ اس دعوی پر کوئی قطعی دلیل موجود نہیں، لیکن اگر اسے صحیح بھی مان لیا جائے تو ستاروں کا پہلے آسمان کے لیے زینت و آرائش ہونا اپنی جگہ درست ہے۔ ستارے خواہ کہیں ہوں لیکن دیکھنے میں تو پہلا آسمان ہی ان سے آراستہ نظر آتا ہے۔ کیونکہ تمام آسمان شیشے کی مانند شفاف ہیں۔ وعلی فرض صحتہ لا یقدح فی الایۃ لانہ یکفی لصحتہ کون السماء الدنیا مزینۃ بالکواکب کو نہا کذلک فی رای العین (روح ج 23 ص 68) ۔
Ayah 37:74:۔ وحفظا الخ :۔ یہ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے۔ ای وحفظنا ھا حفظا (مظہری ج 8 ص 106) ۔ ستاروں کو آسمانِ دنیا کے لیے زینت بھی بنایا۔ اور ان ستاروں کے ذریعے سے ہر سرکش شیطان سے اس کی حفاظت بھی کی۔ لایسمعون الی الملا الاعلی الخ، تاکہ شیاطین ملا اعلی تک پہنچ کر فرشتوں کی باہمی گفتگو نہ سن سکیں۔ ویقذفون الخ، جب شیاطین اوپر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں بھگانے کے لیے ہر طرف سے ان پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ دحورا یقذفون کا مفعول لہ ہے۔ الا من استرق السمع الخ، لا یسمعون سے استثناء ہے۔ اس انتظام کی وجہ سے شیاطین فرشتوں کی باتیں نہیں سن سکتے۔ البتہ اگر کوئی شیطان چالاکی سے کوئی ادھوری سی بات اچک لے تو فورًا ایک شہاب ثاقب اس کا پیچھا کر کے اسے جلا دیتا ہے۔ تمام ستارے جو بظاہر آسمان دنیا کی زینت ہیں بقول فلاسفہ آٹھویں آسمان میں مرکوز ہیں تو پھر ان سے شیاطین کو بھگانے کا کام کس طرح لیا جاسکتا ہے ؟ اول تو یہی مسلم نہیں کہ ستارے آٹھویں آسمان میں ہیں۔ اور بصورتِ تسلیم ممکن ہے کہ ان ستاروں کی شعاعیں جب ہوا میں موجود خاص کیفیت کے حامل ذرات پر پڑیں تو اس سے شعلے پیدا ہوں اور شیاطین کے ناری اجسام کی مخصوص خاصیت کی بنا پر ان کا پیچھا کریں اور ان تک پہنچ کر ان کو جلا دیں ولعل اقرب الاحتمالات فی امر الشھب ان الکوکب یقذف بشعاع من نورہ فیصل اثرہ الی ھواء متکیف بکیفیۃ مخصوصۃ یقبل یقبل بہا الاشتعال بما یقع علیہ من شعاع الکوکب بالخاصیۃ فیشتعل فیحصل ما یشاھد من الشہب (روح ج 23 ص 72) ۔
Ayahs 37:8–115:۔ فاستفتہم الخ :۔ یہ مشرکین کے لیے زجر ہے جو توحید کے ساتھ ساتھ حشر و نشر کا بھی انکار کرتے تھے۔ فرمایا ان سے پوچھو تو کہ ان کی پیدائش مشکل ہے یا ان کے علاوہ دوسری مخلوقات کی۔ مثلاً فرشتے، آسمان، زمین، ستارے وغیرہ۔ انا خلقنہم من طین لازب۔ ان کو تو ہم چپکنے والی مٹی سے پیدا کیا ہے اور ان کی پیدائش فرشتوں اور زمین و آسمان کی پیدائش کے مقابلے میں بہت معمولی بات ہے تو جو ذات پاک ایسی اہم اور غیر معمولی مخلوقات کو پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ ومن قدر علی خلق ھذہ الاشیاء قدر علی خلق مالا یعتد بہ بالاضافۃ الیہا (بیضاوی) ۔
Ayah 37:126:۔ بل عجبت الخ :۔ یہ فاستفتہم سے اضراب ہے۔ یعنی چھورئیے ان سے اس سوال کا کیا فائدہ ؟ وہ انتہاء درجہ کے معاند ہیں۔ ایسے واضح اور پختہ دلائل کو بھی وہ کافی نہیں سمجھتے۔ بلکہ ان دلائل کے حسن اور ان کی قطعیت پر آپ تو متعجب اور خوش ہیں لیکن وہ ظالم ضد وعناد میں آ کر ماننے کے بجائے آپ سے اور قرآن سے استہزاء کر رہے ہیں۔ بل عجبت مما نزل علیک من القرا و ھم یسخرون بہ (قرطبی ج 15 ص 69) ۔
Ayah 37:137:۔ و اذا ذکروا الخ :۔ اور ان کی عات ہی یہی ہے کہ جب کوئی نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے اور اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ واذا راو ایۃ یستسخرون۔ اور جب کوئی معجزہ دیکھ لیتے ہیں تو ماننے کے بجائے ازراہ استہزاء و تمسخر اسے جادو وغیرہ سے تعبیر کرتے ہیں۔
Ayahs 37:14–158:۔ وقالوا الخ :۔ یہ شکوی ہے اور ان معاندین کے استہزاء کی تفسیر ہے وہ معجزات کو جادو قرر دیتے ہیں اور قیامت کے دن دوبارہ جی اٹھنے کا محض ظن وتخمین سے انکار کرتے ہیں۔ قل نعم الخ :۔ یہ جواب شکوی ہے مع تخویف اخروی۔ ہاں، ہاں ! تم ضرور دوبارہ زندہ کر کے خدا کے سامنے ذلت ورسوائی کے ساتھ پیش کیے جاؤ گے۔ فانماھی زجرۃ واحدۃ، الخ، انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا کونسا مشکل ہوگا۔ بس ایک ہولناک آواز ہوگی اور سب لوگ زندہ ہو کر کھڑے ہوں گے اور قیامت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ گے۔ زجرۃ واحدۃ سے نفخہ ثانیہ مراد ہے والمراد بھا النفخۃ الثانیۃ فی الصور (روح ج 23 ص 79) ۔
Ayahs 37:16–209:۔ وقالوا یویلنا الخ :۔ منکرین قیامت قیامت کا ہولناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بول اٹھیں گے مارے گئے ! یہ تو وہی روز جزا ہے جس سے ہمیں دنیا میں ڈرایا گیا۔ مگر ہم نے اس کا انکار کیا۔ ھذا یوم الفصل الخ، یہ بھی منکرین قیامت ہی کا کلام ہے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ یا یہ فرشتوں کا کلام ہے وہ کافروں سے مخاطب ہو کر توبیخ و تہدید کے طور پر یہ الفاظ کہیں گے (مدارک، روح) ۔
Ayahs 37:21–2210:۔ احشروا الذین ظلموا الخ، ای یقال للملئکۃ، حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں۔ یہ آیت مشرک پیشواؤں اور ان کے اتباع و اذناب کے بارے میں ہے الذین ظلموا سے مشرکین مراد ہیں۔ کیونکہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ الذین ظلموا یعنی اشرکو افان الشرک لظلم عظیم (مظہری ج 8 ص 112) ۔ احشروا الم شرکین (قرطبی ج 15 ص 73) و فی ھذا العطف دلالۃ علی ان الذین ظلموا المشرکون وھم الاحقاء بہذا الوصف فان الشرک لظلم عظیم (روح ج 23 ص 80) ۔ اور ازواجہم سے ان مشرکین کے ہم عقیدہ، ہم مسلک اور ہم مشرب (پیر بھائی) لوگ مراد ہیں جو مشرکانہ عقائد و اعمال میں ان کے ہمنوا تھے۔ عن عمر بن الخطاب ؓ (احشروا الذین ظلموا وازواجہم) قال اخوانہم (ابن کثیر ج 4 ص 4) ۔ وازواجہم ای اشیاعہم و اتباعہم وامثالہم (معالم ج 6 ص 20) ۔ وازواجہم ای اشیاعہم فی الشرک (قرطبی ج 15 ص 73) ۔ وما کانوا یعبدون الخ سے وہ اصنام و اوثان مراد ہیں جو انبیاء علیہم السلا، اولیاء کرام اور ملائکہ عظام کے ناموں پر بنائے گئے۔ نیز وہ شیاطین الانس والجن بھی اس میں شامل ہیں جو لوگوں کو شرک کی تعلیم دیتے تھے۔ اسی طرح وہ دین فروش علماء اور فریب کار پیر اور درویش بھی اس میں داخل ہیں جنہوں نے فوت شدہ بزرگوں کی قبروں اور خانقاہوں کو شرک و بدعت کے اڈے بنادیا اور ان کی اپنی بھی یہی خواہش تھی کہ مرنے کے بعد ان کی قبروں سے بھی یہی سلوک کیا جائے۔ (ما) قیل عام فی کل معبود حتی الملائکۃ والمسیح و عزیر (علیہم السلام) لکن خص منہ البعض بقولہ (ان الذین سبقت لہم منا الحسنی) الایۃ (روح ج 23 ص 80) ۔ یعی الاوثان والطواغیت وقال مقاتل یعنی ابلیس (مظہری ج 8 ص 112) ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ تمام صنادید و پیشوایانِ شرک کو اور ان کے تمام اتباع و اذناب کو اکٹھا کرو اور ان کو جہنم کی راہ دکھا دو اور انہیں جہنم میں داخل کردو۔ دنیا میں انہیں صراط مستقیم کی طرف دعوت دی گئی۔ لیکن انہوں نے اس پر چلنا پسند نہ کیا آج انہیں جہنم کی راہ دکھا دو ۔ یہ حکم حساب کتاب کے آخر میں ہوگا۔
Ayahs 37:23–2411:۔ وقفوھم الخ :۔ جب فرشتے ان کو جہنم کی طرف لے کر چلیں گے اس وقت حکم صادر ہوگا، ان کو روکو، ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ مشرکین ( اتباع و متبوعین) کی مزید تذلیل و اہانت کے لیے انہیں واپس کر کے ان سے سوال کیا جائے گا۔ ما لکم لا تناصرون، کیا بات ہے ؟ آج تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟ آج ہی تو مدد کرنے اور مدد لینے کا موقع ہے۔ آج تمہارے مزعومہ سفارشی تمہیں اللہ کے عذاب سے کیوں نہیں بچاتے۔ بل ھم الیوم مستسلمون، آج وہ کسی کی کیا مدد کریں گے۔ آج تو وہ مارے ندامت کے ذلت ورسوائی سے سرافگندہ ہیں اور سزا کھانے کے لیے منقاد ہیں۔ ای لایقدر بعضہم علی نصر بعض بل ہم منقادون للعذاب او مخذلون (روح ج 23 ص 81) ۔
Ayahs 37:25–2712:۔ واقبل بعضہم الخ :۔ اب مشرکین ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں سوال و جواب کا سلسلہ شروع کردیں گے۔ قالو انکم الخ، متبوعین سے اور مریدین اپنے پیروں اور پیشواؤں سے کہیں گے دنیا میں تو تم دین کی راہ سے ہمارے پاس آتے تھے اور دین حق سے ہمیں متنفر کر کے ہمٰں گمراہ کرتے تھے اور شرک و بدعت کو خوبصورت پیرائے میں ہمارے سامنے پیش کر کے ہمیں مطمئن کرتے تھے اور دعوی کیا کرتے تھے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ حق ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ باطل اور گمراہی ہے۔ تاتوننا من قبل الدین فتھونون علینا امر الشریعۃ و تنفروننا عنہا والیمین بمنعی الدین ای کنتم تزینون لنا الضلالۃ (قرطبی ج 15 ص 75) ۔ یعنی من قبل الدین تفضلوننا وتروننا ان الدین ما تضلوننا بہ قالہ الضحاک (معالم و خازن ج 6 ص 21) ۔ قال السدی تاتوننا من قبل الحق و تزینون لنا الباطل و تصدوننا عن الھق (ابن کثیر ج 4 ص 5) ۔ اتباع و مریدین اپنے پیشواؤں سے کہیں گے دنیا میں تو تم نے دیندار بن کر ہم کو راہ حق سے بھٹکا دیا اور ہمٰں شرک کی تعلیم دی آج ہمارے بچاؤ کی کوئی صورت ہوسکتی ہے تو کرو۔
Ayahs 37:28–2913:۔ قالوا بل الخ :۔ متبوعین و پیشوایان سوء اپنے اتباع و مریدین کو جواب دیں گے کہ یہ بات قطعاً غلط ہے کہ ہم نے تم کو گمراہ کیا بلکہ تم خود ہی گمراہ اور ایمان سے عاری تھے۔ اگر تم مومن تھے اور ہدایت پر گامزن تھے تو ہمارے کہنے سے تم کیوں گمراہ ہوئے ؟ ما کان لنا علیکم من سلطان، ہمیں تم پر کسی قسم کا غلبہ و تسلط تو حاصل نہ تھا نہ ہم نے تمہیں اپنی بات ماننے پر مجبور کیا۔ بل کنتم قوما طغین، بلکہ تم خود عصیان وعناد میں حد سے تجاوز کرچکے تھے۔ حق بتانے والوں نے تمہیں ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی مگر تم عصیان و طغیان پر مصر رہے اور ان ناصحین کی ایک نہ سنی اور حق کے مقابلے میں باطل کو قبول کیا اور اسی کی طرفداری نے کی۔ ای بل کان فیکم طغیان و مجاوزۃ للحق فلہذا استجبتم لنا و ترکتم الحق الذی جاء تکم بہ الانبیاء واقاموا لکم الحجج علی صحۃ ماجاء وکم بہ فخالفتموہ (ابن کثیر ج 4 ص 5) ۔
Ayahs 37:30–3114:۔ فحق علینا الخ تم اور ہم چونکہ سب ہی مومن نہیں تھے اس لیے ہم سب کے لیے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے کہ آج ہم لامحالہ اللہ کے عذاب کا مزہ چکھیں گے۔ ہمارے اور تمہارے لیے آج عذاب خداوندی کا فیصلہ قطعی ہے اس لیے آج ہم کسی طرح بھی تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا کستے۔ کیونکہ ہم خود مستحق عذاب ہیں۔ نیز تم ہمیں ملامت نہ کرو کیونکہ تم بھی ہمارے ساتھ برابر کے مجرم ہو۔ انا لذائقون یہ قول ربنا کا بیان ہے۔
Ayah 37:3215:۔ فاغوینکم الخ :۔ ہم نے تمہیں زبردستی گمراہ نہیں کیا۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم تو گمراہ تھے ہی، اس لیے ہم نے تمہیں بھی گمراہی کی دعوت دی تو تم نے اپنی مرضی سے بلا جبر واکراہ گمراہی کو قبول کرلیا۔ اس لیے ہمیں ملامت نہ کرو۔ انا کنا غاوین، جملہ ما قبل کے لیے تعلیل ہے۔ فانہم یومئذا لخ، چونکہ دونوں فریق مجرم ہیں اس لیے دونوں عذاب میں شریک ہوں گے۔ چونکہ گمراہی میں سب شریک تھے۔ روؤساء شرک، علماء سوء، پیرانِ سیہ کار عوام کو شرک و بدعت کی تعلیم دیتے اور انہیں گمراہ کرتے تھے اور عوام نے ان کے اغواء واضلال سے گمراہی کا راستہ اختیار کیا اس لیے دونوں فریق (متبوعین و اتباع) مجرم ہیں۔ لہذا دونوں جہنم کا ایندھن ہوں
Ayahs 37:33–34گے۔ 16:۔ انا کذلک الخ :۔ مشرکین (خواہ شرک کے امام اور پیشوا ہوں، خواہ مشرک پیشواؤں کے پیرو ہوں) سے ہم یہی سلوک کیا کرتے ہیں، ان کے لیے عذاب جہنم کا فیصلہ اٹل ہے اور ان کے لیے معافی کی کوئی صورت نہیں مجرمین سے مشرکین مراد ہیں۔ قال ابن عباس الذین جعلوا للہ شرکاء (خازن و معالم ج 6 ص 21) ۔
Ayah 37:3517:۔ انھم کانوا الخ :۔ یہ زجر ہے مع شکوی۔ ان مجرمین کا جرم کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں جہنم میں ڈالا جائے گا ؟ ان کا جرم یہ ہے کہ دنیا میں جب ان کو توحید کی دعوت دی جاتی اور ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اللہ کے سوا کوئی کارساز، حاجت روا، مشکل کشا اور متصرف و مختار نہیں۔ ہر قسم کی عبادت اور دعا پکار کے لائق بھی اس کے سوا کوئی نہیں تو یہ اس دعوت کو نہیں مانتے تھے اور اس کے قبول کرنے سے استکبار کرتے تھے۔ ویقولون ائنا لتارکوا الہتنا الخ، نیز یہ مجرمین کہا کرتے تھے کیا ہم اس دیوانے شاعر کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھور دیں ؟ مشرکین کا آنحضرت ﷺ کے حق میں، شاعر مجنون، کہنا سراسر ہذہان تھا۔ اس سے ان کا مقصود رسالت کا انکار تھا۔ اگلی آیت میں مشرکین کے اس ہذیان کا جواب ہے۔
Ayahs 37:36–3718:۔ بل جاء بالحق الخ :۔ یہ مشرکین کے ہذیان کا جواب ہے ہمارا پیغمبر ﷺ شاعر ہے نہ دیوانہ بلکہ وہ توحید کا پیغام لے کر آیا ہے۔ جس کی سچائی اور حقانیت پر تمام انبیاء (علیہم السلام) کا اجماع ہے اور جس پر عقل و نقل اور انفس و آفاق کے دلائل قائم ہیں۔ اس طرح آپ نے تمام انبیاء و رسل (علیہم السلام) کی دعوت توحید میں تصدیق کی ہے۔ اس لیے آپ شاعر ہیں نہ مجنون، کیونکہ شعراء کا کلام حق و باطل اور رطب و یابس پر مشتمل ہوتا ہے اور دیوانوں کی باتیں بےتکی اور لایعنی ہوتی ہیں۔ لیکن پیغمبر (علیہ السلام) کی دعوت اور آپ کا لایا ہوا قرآن شعر و جنون کی خامیوں اور کمزوریوں سے بالکل پاک و مبرا ہے۔ رد علیہم و تکذیب لہم ببیان اما جاء بہ علیہ الصلوہ والسالم من التوحید ھو الحق الثابت الذی قام علیہ البرھان واجمع علیہ کافۃ المرسلین فاین الجنون والشعر من ساحتہ ﷺ الرفیعۃ الشان (روح ج 23 ص 84) ۔
Ayah 37:3819:۔ انکم لذائقوا الخ :۔ یہ مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ اے مشرکین ! (اتباع و متبوعین) تم دردناک عذاب ضرور چکھو گے تم پر زیادتی نہیں ہوگی۔ بلکہ یہ تمہارے اپنے اعمال ہی کی سزا ہوگی۔ الا عباد اللہ الخ، یہ بشارت اخروی ہے اور استثناء منقطع ہے۔ لیکن جو اللہ کے خاص بندے ہیں جو شرک و عصیان سے دور رہے ان کا حال ان مشرکین سے جدا گانہ ہے اگلی آیتوں میں ان مخلصین کے احوال و مراتب کی تفصیل ہے۔