Ayahs 37:79–8035:۔ انا کذلک الخ : ہم نیکو کار لوگوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے کامل الایمان بندوں میں سے تھے۔ ان کو اور ان کے متبعین کو ہم نے غرق ہونے سے بچا لیا اور دوسروں یعنی کفار کو غرق کر کے ہلاک کردیا۔
Ayahs 37:81–8336:۔ وان من الخ : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے نہایت ہی مطیع اور فرمانبردار بندے تھے۔ ان پر زندگی میں ایک نہایت ہی کٹھن وقت آیا۔ جب وقت کے بادشاہ نے انہیں آگ میں ڈالدیا۔ اس نازک وقت میں انہوں نے اللہ ہی کے سامنے عاجزی کی۔ اور اللہ ہی سے اس مصیبت سے نجات کی دعا کی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا لیا اور آگ کو ان پر سرد کردیا اس لیے وہ بھی خدا کے یہاں شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ من شیعتہ یعنی وہ اصول دین میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہمنوا اور تابع تھے۔ قال ابن عباس ای من اھل دینہ (قرطبی ج 15 ص 91) ای ممن شایع نوحا و تابعہ فی اصول الدین (روح ج 23 ص 99) درمیان میں ان کی فرمانبرداری کا قصہ بیان کیا کہ وہ اس قدر اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے کہ اس کی راہ میں بیٹے کو ذبح کرنے پر تیار ہوگئے۔ قلب سلیم۔ جو دل کے عقیدے اور اخلاق کی خرابی سے محفوظ ہو۔ اور اس کا اصل رشتہ دنیا کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو، وہ قلب سلیم ہے۔ سلیم ای مخلص من الشرک والشک (قرطبی) ای سالم من جمیع الافات کفساد العقائد والنیات السیئۃ والصفات القبیحۃ کالحسد والغل وغیر ذلک (روح ج 23 ص 100) سلیم من الاشتغال بغیر اللہ تعالیٰ خالیا عن الغیر و حبہ کما یدل علیہ قصۃ ذبح ابنہ لامتثال امر ربہ (مظہری ج 8 ص 121) ۔
Ayahs 37:84–8537:۔ اذ قال الخ : یہ پہلے اذ سے بدل ہے۔ اور یہ ان کے دل کی سلامتی کا بیان ہے کہ جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو شرک کرتے دیکھا تو فورًا اس پر انکار کیا۔ اور فرمایا سوچو تو سہی تم اللہ کے سوا کس کی عبادت کرتے اور کس کو پکارتے ہو ؟ کیا وہ عبادت اور پکارے جانے کے لائق ہیں ؟ افک، بدترین جھوٹ۔ والفک، اسوا الکذب (جلالین) ۔ الھۃ، افکا سے بدل الکل ہے۔ کیا تم باطل یعنی معبودان غیر اللہ کے خواہشمند اور طلبگار ہو ؟ پھر اس رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو حقیقت میں عبادت کا مستحق ہے ؟ کیا اس کی قدرت و عظمت میں اور اس کی ربوبیت عامہ میں تم کسی شک و شبہ میں پڑگئے ہو کہ اس کے سوا اس کی عاجز مخلوق کو بھی کارساز متصرف و مختار اور مستحق عبادت سمجھ بیٹھے ہو ؟ یا مطلب یہ ہے کہ جب تم اللہ سامنے حاضر ہوگے تو تمہارا اس کے بارے میں کیا خیال ہے۔ کیا وہ تمہیں اس کی سزا نہیں دے گا ؟ اس صورت میں یہ تخویف ہوگی۔ ای شء ظنکم بمن ھو حقیق بالعبادۃ لکونہ ربا للعلمین اشککتم فیہ حتی ترکتم عبادتہ الخ ّ (روح ج 23 ص 101) ای ما ظنکم بہ اذا لقیتموہ و قد عبدتم غیرہ، فھو تحذیر (قرطبی ج 15 ص 92) ۔
Ayahs 37:86–8838:۔ فنظر نظرۃ الخ :۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس انتظار میں تھے کہ انہیں کبھی ایسا موقع ہاتھ آئے جس پر وہ معبودانِ باطلہ کی بےبسی اور بیچارگی کو مشرکین پر واضح کرسکیں۔ چناچہ مشرکین کی عید کا دن آگیا جس میں وہ سب شہر سے باہر چلے جاتے۔ اور ایک مخصوص جگہ میں عید مناتے۔ مشرکین نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی عید کی خوشی میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ وہ تو ایسے موقع کی تلاش میں تھے کہ یہ مشرکین سب باہر چلے جائیں اور وہ اکیلے شہر میں رہ جائیں تاکہ ان کے ٹھاکروں کو تور پھوڑ سکیں۔ چناچہ انہوں نے غور و فکر اور سوچ بچار کے بعد یہی فیصلہ کیا کہ انہیں کسی بہانے سے ٹال کر خود شہر ہی میں رہنا چاہئے۔ پھر شاید یہ موقع ہاتھ نہ آئے۔ اس لیے آپ نے ان سے فرما دیا۔ انی سقیم، بھیا میں تو سقیم ہوں اس لیے تمہارے ساتھ عید کی خوشی میں شریک ہونے سے معذور ہوں۔ لفظ سقیم دو معنوں کا حامل ہے۔ اول سقیم النفس یعنی بیزار۔ اراد انی سقیم النفس لکفرکم (مدارک ج 4 ص 19) ۔ دوم، مریض، بیمار۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس لفظ سے دوسرا معنی مراد لیا۔ یعنی میں تمہارے کفر و شرک کی وجہ سے تم سے بیزار ہوں اور تمہاری عید میں شریک نہیں ہوسکتا۔ لیکن مشرکین اس سے پہلا معنی سمجھے۔ اس اسلوب کلام کو تعریض یا توریہ کہا جاتا ہے جو حقیقت میں صحیح اور مطابق واقعہ ہوتا ہے۔ لیکن بظاہر جھوٹ معلوم ہوتا ہے نظر نظرۃ فی النجوم، یہ محاورہ ہے جس کے معنی غور و فکر کرنے کے ہیں۔ قال الحسن المعنی انہم لما کلفوہ الخروج معہم تفکر فیما یعمل الخلیل والمبرد، یقال للرجل اذا فکر فی الشیء یدبرہ، نظر فی النجوم (قرطبی ج 15 ص 92) ، یا اس سے حقیقۃً ستاروں میں غور و فکر کرنا مراد ہے۔ یہ قوم چونکہ ستارہ پرست تھی اور ستاروں کے مختلف احوال و اوضاع کو نظام عالم میں مؤثر سمجھتی تھی اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بطور ایہام ستاروں میں دیکھ کر جواب دیا تاکہ انہیں یہ گمان ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ستاروں میں دیکھ کر جواب دیا تاکہ انہیں یہ گمان ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ستاروں کا حساب لگا کر جواب دیا ہے اور انہیں جواب کی صحت کا یقین ہوجائے کان قومہ نجامین او ھمہم استدلالہ علی مرضۃ بعلم النجوم (جامع البیان ص 385) ۔
Ayahs 37:89–9039:۔ فتولوا عنہ الخ : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جواب سن کر مشرکین نے ان پر مزید اصرار نہ کیا۔ اور صبح اپنی عید میں شرکت کے لیے سب شہر سے باہر چلے گئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) جو ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھے ان کے ٹھاکر دوارے میں جا گھسے۔ دیکھا ٹھاکروں کے آگے مختلف کھانے رکھے ہیں جو ان کے پجاریوں نے رکھے تھے تاکہ وہ بابرکت ہوجائیں اور عید سے واپسی پر انہیں کھائیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بطور استہزاء ٹھاکروں سے خطاب کر کے فرمایا : یہ کھانے جو رکھے ہیں کھاتے کیوں نہیں ہو ؟ جب انہوں نے کوئی جواب نہ دیا تو بطور استہزاء دوسرا سوال کردیا، مالکم لا تنطقون، تمہیں کیا ہے۔ تم بولتے کیوں نہیں۔ اور میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتے ؟
Ayahs 37:91–9340:۔ فراغ علیہم الخ : اس کے بعد دونوں ہاتھوں کی پوری قوت سے کلہاڑے کے ساتھ ان پر چوٹیں لگانا اور انہیں توڑنا پھوڑنا شروع کردیا۔ الیمین قوت سے کنایہ ہے۔ بالیمین ای بالقوۃ علی ان الیمین مجاز عنہا روی انہ (علیہ السلام) کان یجمع یدیہ فی الاۃ التی یضربھا بھا وھی الف اس فیضربہا بکمال قوتہ (روح ج 3 ص 123) ۔
Ayah 37:9441:۔ فاقبلوا الخ : اس سے پہلے اندماج ہے۔ جب مشرکین عید منا کر واپس ٹھاکر دوارے میں آئے تو ٹھاکروں کو پاش پاش دیکھ کر آپس میں کہنے لگے یہ ناشائستہ حرکت کس نے کی ہے۔ انہی میں سے بعض نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ کام ابراہیم ہی کا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہ ان معبودوں کو ہمیشہ برائی سے یاد کرتا ہے ؟ چناچہ وہ دوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابراہیم ! ہم تو ان ٹھاکروں کی پوجا پاٹ کرتے تھے تم نے یہ کیا حرکت کی کہ ان کو توڑ پھوڑ دیا۔ ثم قالوا باجمعہم نحن نعبدھا وانت تکسرھا (مدارک ج 4 ص 19) ۔
Ayah 37:9542:۔ قال اتعبدون الخ : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا : کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے، جن ٹھاکروں کو اپنے ہاتھوں سے تراش کر بناتے ہو۔ اور جن کی شکل و صورت تمہاری تراش خراش اور تمہارے اوزاروں کی محتاج ہے پھر انہی کی عبادت کرتے ہو۔ حالانکہ عبادت تو اپنے خالق کی کرنی چاہئے اور خالق سب کا (تمہارا اور تمہارے ٹھاکروں کا) اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس لیے ہر قسم کی عبادت کا مستحق بھی وہی ہے۔ ٹھاکروں کو تراشنے والے اگرچہ مشرکین ہیں، لیکن ان کے مادے کا خالق اللہ ہی ہے۔ اور ان کی اشکال و اوضاع جو مشرکین کے فعل و قوت سے حاصل ہوئی ہیں۔ اس فعل و قوت کا خالق بھی اللہ ہی ہے فان جو ھرھا بخلقہ و شکلہا وان کان بفعلہم و لذلک جعل من اعمالہم فباقدارہ ایاھم علیہ وخلقہ ما یتوقف فعلہم من الدواعی والعدد (بیضاوی) ۔
Ayahs 37:96–9743:۔ قالوا ابنوا لہ الخ : جب مشرکین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی گفتگو سے لاجواب ہوگئے تو انہوں نے انتقام لینے اور عوام پر اثر ڈالنے کے لیے انہیں آگ میں جلانے کا فیصلہ کیا۔ لما قہرہم بالحجۃ قصدوا تعذیبہ بذلک لئلا یظہر لعامۃ عجزھم (روح ج 23 ص 126) ، چناچہ انہوں نے ایک سو بیس گز (ذراع) مربع چار دیوار بنائی جس کی بلندی تیس گز تھی (مدارک) اور اسے ایندھن سے بھر کر آگ لگا دی، جب آگ سلگ کر خواب انگارے بن گئے اور آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس بھڑکتی آگ میں پھینکدیا۔ وارادوا بہ کیدا الخ، انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس تدبیر سے ہلاک کرنا چاہا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان کے لیے سرد کر کے اور ان کو آگ سے صحیح سلامت بچا کر مشرکین کو اس مقصد میں ناکام، خائب و خاسر اور عوام کے سامنے ذلیل و رسوا کردیا۔ بلکہ یہ واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سچائی پر ایک دلیل واضح اور برہان قاطع بن گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب آگ میں ڈالا گیا اس وقت حسب ذیل کلمات ان کے ورد زبان تھے۔ حسبی اللہ و نعم الوکیل (قرطبی) ، اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خود ایک مصیبت میں گرفتار ہوئے۔ اور اس میں اللہ کو پکارا اور اس کی بارگاہ میں عاجزی کا اظہار کیا۔ اس لیے وہ کسی طرح شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔
Ayahs 37:98–9944:۔ وقال انی الخ : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کی طرف سے انتہائی ضد وعناد کا مشاہدہ کرلیا اور ان کے ایمان سے مایوس ہوگئے تو اللہ نے آپ کو ملک شام اور بیت المقدس کی جانب ہجرت کرنے کا حکم دے دیا۔ اس ہجرت میں آپ کے ہمراہ صرف حضرت لوط اور حضرت بی بی سارہ تھے الی ربی الی حیث امرنی (روح) ۔
Ayah 37:10045:۔ رب ھب لی الخ : ملک شام میں پہنچنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے فرزند عطا کرنے کی دعا کی۔ فبشرنہ الخ، فرمایا ہم نے اسے ایک بلند حوصلہ فرزند کی خوشخبری دی۔ اس سے مراد حضرت اسمعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) ہیں۔ لیکن یہودی غلط بیانی اور تحریف سے کام لیتے ہوئے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح قرار دیتے ہیں۔ علماء اسلام میں بھی دونوں قول موجود ہیں۔ لیکن راجح یہی ہے کہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ہی ذبیح ہیں۔ کیونکہ ہجرت کے بعد حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی بشارت دی گئی۔ اور واقعہ ذبح ذکر کرنے کے بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت ہوئی تو اس سے معلوم ہوا حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت ہی اس واقعہ کے بعد ہوئی۔ والاظہر ان المخاطب اسمعیل (علیہ السلام) لانہ الذی وھب لہ اثر الہجرۃ ولان البشارۃ باسحاق بعد معطوفۃ علی البشارۃ بھذا الغلام (بیضاوی) ۔
Ayahs 37:101–10246:۔ فلما بلغ الخ : جب بیٹا ذرا بڑا ہو کر کاموں میں والد گرامی کا ہاتھ بٹانے لگا۔ اور سات آٹھ برس کا ہوگیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خوب میں دیکھا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ متواتر تین دن انہوں نے یہ خواب دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ چناچہ بیٹے سے فرمایا بیٹا ! میں نے خوب میں دیکھا ہے، کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ بتاؤ اب تمہاری کیا رائے ہے۔ بیٹا فورًا سمجھ گیا کہ یہ اللہ کی طرف سے مجھے ذبح کرنے کا حکم ہے۔ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کے خواب وحی کا حکم رکھتے ہیں۔
47:۔ قال یا ابت الخ، چناچہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) نے جواب میں عرض کیا : اباجان ! اللہ نے آپ کو جو حکم دیا ہے آپ اس کی تعمیل فرمائیں۔ میری طرف سے کسی پس و پیش یا جزع و فزع کا اظہار نہیں ہوگا۔ انشاء اللہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔ فلما اسلما الخ، جب دونوں باپ بیٹا اللہ کے حکم کی تعمیل پر آمادہ ہوگئے اور حلیم باپ نے اپنے حلیم فرزند کو ذبح کرنے کی غرض سے پہلو کے بل زمین پر لٹا دیا تو اللہ کی طرف سے آواز آئی یا ابراہیم الخ، اے ابراہیم ! تو نے اپنا خواب سچا کر دکھایا۔ ہمارا مقصد اسمعیل کی جان لینا نہیں، بلکہ تیرے جذبہ اطاعت و تسلیم کا امتحان مقصود ہے جسے تو نے اپنے عمل سے ثابت کردیا ہے۔ ای حصل المقصود من تلک الریا حیث ظہر منہ کمال الطاعۃ والانقیاد لامر اللہ تعالی۔ وکذلک الولد (خازن ج 6 ص 29) ، یہ ندا حلق پر چھری چلانے سے پہلے ہی آئی۔ اخرج الامان احمد عن ابن عباس انہ (علیہ السلام) لما اخذ الشفرۃ واراد ان یذبحہ نودی من خلقہ ان یا ابراہیم قد صدقت الرویا (روح ج 23 ص 130) ۔ ذبح کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے فرزند ارجمند کو پہلو کے بل لٹایا جس طرح عام طور پر جانور کو ذبح کرتے وقت لٹایا جاتا ہے۔ اس طرح لٹانے سے چونکہ جبین بھی زمین پر گر جاتی ہے۔ اس لیے، تلہ للجبین، فرمایا۔ یعنی اس کو جبین کے بل پچھاء دیا۔ صرعہ علی شقہ فوقع جبینہ علی الارض (روح) جبین پیشانی کے اس حصے کو کہا جاتا ہے جو دائیں اور بائیں جانبوں میں واقع ہے۔ اور سامنے والے حصہ کو جبۃ کہا جاتا ہے۔ صرعہ علی شقہ فوقع جبینہ علی الارض وھو احد جانبی الجبہۃ (بیضاوی) ۔ تلہ للجبین، صرعہ علیہ ولکل انسان جبینان بینہما الجبہۃ (جلالین) ۔
واقعہ ذبح کے سلسلہ میں بہت سی تفصیلات ذکر کی جاتی ہیں جو روایت و درایت کے اعتبار سے ضعیف ہیں۔ مثلاً حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا والد گرامی سے کہنا کہ آپ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں۔ اور میرے ہاتھ پیر بھی رسی سے باندھ دیں اور مجھے پیشانی کے بل لٹا کر گردن کی طرف سے ذبح کریں۔ اسی طرح چھری کا باربار تیز کرنا اور بار بار حلق پر چلانا وغیرہ وغیرہ۔ یہ تفصیلات صحیح روایتوں سے ثابت نہیں ہیں۔ انا کذلک نجزی المحسنین، ہم اپنے مخلص اور فرمانبردار بندوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں اور اس طرح ان کو شدائد و بلیات سے نجات دیتے ہیں ای نجزیہم بالخلاص من الشدائد فی الدنیا والاخرۃ (قرطبی ج 15 ص 106) ۔
Ayahs 37:103–10648:۔ ان ھذا الخ یہ ایک ایسا ابتلاء وا متحان تھا کہ اس سے مخلص و غیر مخلص کا واضح طور سے امتیاز ہوسکتا تھا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کا اخلاص وانقیاد ظاہر ہوا۔ و فدینہ الخ، اسمعیل (علیہ السلام) کی جگہ ہم نے ایک عظیم الشان جانور بطور فدیہ دے دیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ ندا سنی یا ابراہیم قد صدق الرویا تو سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو جبرئیل (علیہ السلام) مینڈھا لے کر آرہے تھے۔ بیٹے کی جگہ اس کی قربانی دی۔ روی انہ لما سمع ابراہیم النداء نظر الی السماء فاذا ھو بجبریل و معہ کبش املح اقرن و قال ھذا فداء لابنک فاذبحہ دونہ (مظہری ج 8 ص 132) ۔
Ayahs 37:107–10849:۔ وترکنا علیہ الخ، اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔
Ayahs 37:109–11050:۔ و بشرنہ الخ، سیاق وسباق قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہجرت کر کے شام میں سکونت پذیر ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے فرزند عطا کرنے کی دعا کی۔ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ایک غلام حلیم کی ولادت کی خوشخبری دی۔ جب یہ غلام حلیم بڑا ہوا تو اس کو ذبح کرنے کا حکم آگیا۔ پھر جب واقعہ ذبح گذر گیا تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دوسرے فرزند حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری دی۔ قرآن کا یہ سیاق واضح دلیل ہے کہ ذبیح حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ہیں اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت ہی اس واقعہ کے بعد ہوئی برکنا علیہ الخ : ابراہیم و اسحاق پر ہم نے دین و دنیا کی برکتیں نازل کیں۔ ان کی نسل کو دنیا میں پھیلایا۔ ان کی اولاد میں انبیاء اور سلاطین پیدا کیے۔ ومن ذریتہما الخ، لیکن ان کی ساری نسل ان کے دین پر قائم رنہ رہی۔ کچھ تو ان کے مسلک ایمان و احسان پر رہے اور کچھ ظلم و اسراف کی راہ پر گامزن ہوئے۔ بہر حال اخلاق کی بےراہ روی سے اسلاف پر کوئی حرف نہیں آسکتا۔ اور نہ نسب کو ہدایت و ضلالت میں کوئی دخل ہے۔ وفی ذلک تنبیہ علی ان النسب لا اثر لہ فی الہدی والضلال وان الظلم فی اعقابہما لا یضرہما (مظہری ج 8 ص 133) ۔
Ayahs 37:111–11451:۔ ولقد مننا الخ : یہ تیسرا اور چوتھا قصہ ہے۔ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی قوم کو فرعون نے غلام بنا رکھات تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی قوم کو فرعون کی غلامی سے نجات دی اور پھر فرعون کے لشکر سے دریا میں معجزانہ راستے بنا کر ان کو بچایا۔ وہ تو خود مصائب میں خداوند تعالیٰ کے محتاج ہیں اسلیے شفیع غالب کس طرح ہوسکتے ہیں۔ مننا میں احسان سے دینی اور دنیوی احسانات مراد ہیں انعمنا علیہما بالنبوۃ وغیرہا من المنافع الدینیۃ والدنیویۃ (روح ج 23 ص 138) ۔
Ayah 37:11552:۔ و نجنہما الخ : یہ اور اس کا مابعد عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہے کیونکہ ان آیتوں میں خاص انعامات کا ذکر ہے۔ یہ ایک دنیوی انعام تھا کہ اللہ نے موسیٰ وہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کے مظالم سے نجات دی۔ و نصرنھم الخ، یہ بھی اللہ کا ایک انعام ہے۔ ہم نے ان کی مدد کی اور قوم فرعون پر ان کو غلبہ عطا فرمایا۔ واتینہما الکتاب المستبین الخ، یہ دینی انعمات کا ذکر ہے۔ ہم نے ان کو ایک واضح اور مفصل کتاب (تورات) عطا فرمائی۔ اور اس کتاب کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کی۔ وترکنا علیہما الخ۔ تا۔ من عبادنا المومنین۔ اس کی تفسیر گذر چکی۔