37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 37:39–41

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور وہ ہی بدلہ پاؤ گے جو کچھ تم کرتے تھے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر جو بندے اللہ کے ہیں چنے ہوئے

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

وہ لوگ جو ہیں ان کے واسطے روزی ہے مقرر20

20:۔ اولئک الخ :۔ اللہ کے ان مقبول بندوں کے لیے ایسی روزی ہوگی جس کی صفتیں معرف ہیں۔ یعنی وہ منقطع نہیں ہوگی۔ خوش ذائقہ اور خوش رائحہ ہوگی۔ ایسی خوبیوں والی روزی نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھ نہ کسی کان نے کبھی سنی۔ فواکہ یہ رزق سے بدل ہے۔ جنت کی خوراک میووں اور پھلوں کی صورت میں ہوگی۔ وھم مکرمون الخ، اور وہ خدا کے یہاں معزز و مکرم ہوں گے۔ گوناگوں نعمتوں کے باغات ان کے مسکن ہوں گے۔ جنت جو مومنوں کا مسکن ہوگا وہ نعمتوں کا گھر ہوگا۔ اس میں ہر نعمت ایک سے ایک بڑھ کر ہوگی۔ وہ لعل و جواہر سے مرصع تختوں پر فروکش ہوں گے اور آمنے سامنے بیٹھ کر خوش و خرم ہوں گے۔
Ayahs 37:42–45

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

میوے اور ان کی عزت ہے

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

نعمت کے باغوں میں

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

لوگ لیے پھرتے ہیں ان کے پاس21 پیالہ شراب صاف کا

21:۔ یطاف علیہم الخ :۔ غلمانِ جنت تازہ بتازہ، سفید شفاف، لذت و سرور سے بھرپور شراب کے لبریز ساغروں سے اہل جنت کی تواضع کریں گے۔ معین، جاری، یہ شراب، شراب کی ان نہروں میں سے ہوگی جو جنت میں رواں ہوگی۔ بیضاء سفیدشفاف، جنت کی شراب بالکل سفید ہوگی، جن آبگینوں میں شراب پیش کی جائے گی وہ بھی سفید شفاف ہوں گے۔ اس طرح شراب جنت کے لبریز ساغر بھی بالکل سفید اور شفاف نظر آئیں گے۔
Ayahs 37:46–47

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

سفید رنگ مزہ دینے والی پینے والوں کو

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ اس میں سر پھرتا ہے22 اور نہ وہ اس کو پی کر بہکیں

22:۔ لا فیہا غول الخ :۔ یہ جنت کی شراب کے امتیازی اوصاف ہیں۔ دنیا کی شراب میں بظاہر لذت و سرور ہے لیکن اس میں ایک خطرناک پوشیدہ ضرور بھی ہے۔ شراب دماغی اور دیگر بدنی اعصاب کے لیے سخت مضر ہے اور یہ ضرر اکثر ہلاکت کا سبب بنتا ہے لیکن جنت کی شراب ہر قسم کے ضرر اور مفاسد سے پاک ہوگی۔ قال الراغب الغول اھلاک الشیء من حیث لا یحس بہ (روح ج 23 س 88) ، اسی طرح دنیا کی شراب نشہ لا کر عقل کو مختل اور ذہن کو پریشان کردیتی ہے۔ لیکن جنت کی شراب ہر قسم کے نشے سے مبرا ہوگی۔ ای لاتذھب عقولہم بشربہا (قرطبی ج 15 ص 78) ، عن ابن عباس فی الخمر اربع خصال السکر والصداع والقیئ والبول فذکر اللہ خمر الجنۃ فنزہہا عن ھذہ الخصال (ابن کثیر ج 4 ص 7) ۔
Ayah 37:48

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس ہیں23 عورتیں نیچی نگاہ رکھنے والیاں بڑی آنکھوں والیاں24

23:۔ و عندھم الخ :۔ سامانِ خوردو نوش کے علاوہ جنت میں جنسی جذبات کی تسکین کا بھی سامان موجود ہوگا۔ قصرات الطرف، موصوف مقدر کی صفت ہے ای ازواج (مظہری) اہل جنت کو جنت میں جو بیویاں (حوریں) ملیں گی وہ اپنی نگاہیں اپنے خاوندوں ہی پر مرکوز رکھیں گی۔ ان خاوندوں کو ایسا حسن و جمال عطا ہوگا کہ حوریں ان میں محو ہوں گی۔ اور ان کے سوا کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھیں گی۔ یہ ان کی عفت اور پاکدامنی کی علامت ہے۔ نساء عفیفات قصرن ابصارھن علی ازواجہن لا ینظرن الی غیرہم (جامع البیان ص 384) حابسات الا عین علی ازواجہن لا ینظرن الی غیرھم لحسنہم عندھن (جلالین) ۔ 24:۔ عین یہ عیناء کی جمع ہے اور مبتدا مقدر کی خبر ہے ای ھن عین (مظہری) ، یعنی موٹی آنکھوں والی، موٹی آنکھیں حسن و جمال کی علامت ہیں۔ اس لیے بعض مفسرین نے اس کا معنی ہی خوبصورت آنکھوں والی کیا ہے۔ عظام العیون الواحدۃ عیناء وقالہ السدی و مجاھد (عین) حسان العیون (قرطبی ج 15 ص 80) ۔
Ayah 37:49

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

گویا وہ انڈے ہیں25 چھپے دھرے

25:۔ کانہن الخ :۔ اس میں حور جنت کے رنگ روپ کا ذکر ہے۔ بیض، بیضۃ کی جمع ہے۔ اور اس سے شتر مرغ کا انڈا مراد ہے، جس کا رنگ سفید زردی مائل ہوتا ہے۔ مادہ شتر مرغ اپنے انڈوں کو بال و پر سے ڈھانک کر رکھتی ہے تاکہ وہ گرد و غبار سے محفوظ رہیں۔ حورانِ جنت کا رنگ بیض نعام (شتر مرغ) کی مانند سفید زردی مائل ہوگا۔ اور ان کے چہروں کا رنگ نکھرا ہوا صاف شفاف ہوگا۔ عورتوں کا یہی رنگ مرغوب ومحمود شمار ہوتا ہے۔ شبہہن ببیض النعام المصئون عن الغبار و نحوہ فی الصفاء والبیاض المخلوط بادنی صفرۃ فانہ احسن الوان والابدان (بیضاوی) ۔ والبیاض المشوب بقلیل صفرۃ فی النساء مرغوب فیہ جدا (روح ج 23 ص 89) ۔
Ayah 37:50

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر منہ کیا26 ایک نے دوسرے کی طرف لگے پوچھنے

26:۔ فاقبل الخ :۔ اہل جنت جب کھانے پینے میں مصروف ہوں گے تو ان کے درمیان مختلف موضوعات پر گفتگو ہوگی۔ دنیا کے احوال پر بھی تبصرہ ہوگا۔ چناچہ ان میں سے ایک دیگر شرکاء محفل سے کہے گا دنیا میں ایک منکر قیامت میرا ساتھی اور ہمنشین تھا جو مجھے ایمان بالاخرۃ کے عقیدے پر ڈانٹا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کیا تو مانتا ہے کہ قیامت آئے گی ؟ اور جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے اور ہماری ہڈیاں تک گل سڑ جائیں گی کیا اس کے باوجود بھی ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور جزاء وسزا کا معاملہ ہوگا ؟ کیا تو ان باتوں پر یقین رکھتا ہے ؟ قال ھل انتم مطلعون، آؤ ذرا دوزخ میں جھانک کر دیکھیں تو سہی کہ اس کا کیا حال ہے ؟ والمراد من الاستفہام العرض الخ (روح) ۔
Ayahs 37:51–55

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

بولا ایک بولنے والا ان میں میرا تھا ایک ساتھی

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

کہا کرتا کیا تو یقین کرتا ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

کیا جب ہم مرگئے اور ہوگئے مٹی اور ہڈیاں کیا ہم کو جزا ملے گی

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

کہنے لگا بھلا تم جھانک کر دیکھو گے

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

پھر جھانکا27 تو اس کو دیکھا بیچوں بیچ دوزخ کے

27:۔ فاطلع الخ :۔ چناچہ جب وہ دوزخ میں جھانک کر دیکھے گا تو وہ ساتھی اسے جہنم کے عین وسط میں نظر آئے گا۔ اور اسے خطاب کر کے کہے گا۔ خدا کی قسم ! تو تو مجھے بھی گمراہ کر کے اس ہلاکت کے گڑھے میں ڈالنے ہی والا تھا لیکن توفیق الٰہی میں میری دستگیری کی۔ اگر اللہ کا فضل و احسان اور اس کی توفیق میرے شامل حال نہ ہوتی تو آج میں ساتھ اس دردناک عذاب میں شرک ہوتا۔
Ayahs 37:56–58

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

بولا قسم اللہ کی تو تو مجھ کو ڈالنے لگا تھا گڑھے میں

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

اور اگر نہ ہوتا میرے رب کا فضل تو میں بھی ہوتا انہی میں جو پکڑے ہوئے آئے

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

کیا اب ہم کو مرنا نہیں28

28:۔ افما نحن الخ :۔ یہ بھی اسی جنتی ہی کا قول ہے۔ خطاب بدستور قرین سے ہے یا دیگر یارانِ محفل سے۔ وہ شدت مسرت کا اظہار اور اللہ تعالیٰ کے فضلِ عمیم اور احسان کا ذکر کرتے ہوئے کہے گا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اب ہم پر موت نہیں آئے گی۔ جو موت ہمارے لیے مقدر تھی وہ دنیا میں آچکی اور ہم کفار و مشرکین کی طرح اب عذاب میں بھی مبتلا نہیں ہوں گے۔ سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ آدمی عذاب سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے من زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز (آل عمران رکوع 19) ایسی سعادت عطمیٰ اور فلاح کامل کی تحصیل کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہئے، نہ کہ حظوظ و لذات دنیا کی تحصیل کے لیے۔
Ayahs 37:59–62

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

مگر جو پہلی بار مرچکے اور ہم کو تکلیف نہیں پہنچنے کی

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

بیشک یہی ہے بڑی مراد ملنی

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی چیزوں کے واسطے چاہے محنت کریں محنت کرنے والے

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

بھلا یہ بہتر ہے29 مہمانی یا درخت سیہنڈ کا

29:۔ اذلک خیر الخ :۔ یہ بشارت و تخویف اخروی ہے۔ اذلک خیر نزلا، بشارت اور ام شجرۃ الزقوم تا ثم ان مرجعہم لا الی الجحیم تخویف اخروی ہے۔ ذلک سے نعیم جنت کی طرف اشارہ ہے جو اس سے قبل اولئک لہم رزق معلوم (الایات) میں مذکور ہیں۔ و ھو متعلق بقولہ تعالیٰ (اولئک لہم رزق معلوم) (روح ج 23 ص 94) ۔ المعنی نعیم الجنۃ خیر نزلا (قرطبی ج 15 ص 85) ۔ شجرۃ الزقوم، یہ نہایت ہی خبیث اور زہر قاتل درخت جہنم میں دوزخیوں کی خوراک ہوگا۔ یہ درخت دنیا کے درخت تھوہر کے مشابہ ہوگا۔ فتنۃ، عذاب، آتش دوزخ کے علاوہ اس درخت کے کھانے سے بھی دوزخی سخت اذیت اور عذاب محسوس کریں گے، یہ درخت جہنم کی تہ میں پیدا ہوگا، اس درخت کے شگوفے شیطانوں کے سروں کی طرح نہایت قبیح اور کر یہ المنظر ہوں گے۔ شیاطین کی شناعت و کراہیت منظر دلوں میں مرکوز ہے۔ اس لیے ان سے تشبیہہ دی گئی۔ وانما شبہہا برؤوس الشیاطین وان لم تکن معروفۃ عند المخاطبین لانہ قد استقر فی النفوس ان الشیاطین قبیحۃ المنظر ( ابن کثیر ج 4 ص 10) ۔
Ayahs 37:63–66

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

ہم نے اس کو رکھا ہے ایک بلا ظالموں کے واسطے

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ ایک درخت ہے کہ نکلتا ہے دوزخ کی جڑ میں

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کا خوشہ جیسے سر شیطان کے

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

سو وہ کھائیں گے30 اس میں سے پھر بھریں گے اس سے پیٹ

30:۔ فانہم لاکلون الخ : دوزخی بھوک مٹانے کے لیے اس شجرہ خبیثہ سے پیٹ بھر کھائیں گے لیکن اس سے ان کی تسلی نہیں ہوگی۔ بلکہ اس سے انہیں سخت پیاس لگے گی۔ اس پر انہیں کھولتا ہوا پانی پینے کے لیے دیا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو بھی کاٹ ڈالے گا۔ اس پانی میں غلیظ و متفن مواد مخلوط ہوگا۔ لشرابا من غساق اوصدید بماء حمیم یقطع امعاءھم (بیضاوی) ۔ اس کے بعد ان کو جہنم میں اپنے اپنے ٹھکانوں میں پہنچا دیا جائے گا۔ گرم پانی پلانے کے لیے جہنم میں ایک علیحدہ طبقہ ہوگا۔ فالقوم یخرجون من محل قرارہم حیث تاجح النار و یساقون الی موضع اخر مما دارت علیہ جہنم فیہ ذلک الشراب لیردوہ و یسقوا منہ ثم یردون الی محلہم الخ (روح ج 23 ص 96) ۔
Ayahs 37:67–69

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر ان کے واسطے اس کے اوپر ملونی ہے جلتے پانی کی

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

پھر ان کو لے جانا آگ کے ڈھیر میں

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

انہوں نے پایا اپنے باپ دادوں کو بہکے ہوئے31

31:۔ انہم الفوا الخ : یہ ماقبل کے لیے تعلیل ہے۔ اس میں ان کے استحقاق عذاب کا سبب بیان کیا گیا۔ انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا۔ اور ان کی گمراہی ان پر واضح ہوگئی۔ کیونکہ وقتاً فوقتاً ہمارے پیغمبر اور ان کے جانشین ان کو ہدایت کی راہ بتاتے رہے۔ اور حق و باطل کو کھلی دلیلوں سے ان پر واضح کرتے رہے۔ مگر یہ لوگ انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات کو ماننے کی بجائے آنکھیں بند کر کے اپنے گمراہ باپ دادا کے نقش قدم پر تیزی سے چلتے رہے۔
Ayahs 37:70–71

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

سو وہ انہی کے قدموں پر دوڑتے ہیں

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

اور بہک چکے32 ہیں ان سے پہلے بہت لوگ اگلے

32:۔ ولقد اضل الخ : ان سے پہلی قوموں کے اکثر لوگ بھی جو اپنے گمراہ باپ دادا کی راہ و رسم سے چمٹ کر گمراہ ہوئے۔ حالانکہ ان کی رہنمائی کے لیے بھی ہم نے پیغمبر بھیجے۔ آخر انہوں نے پیغمبران (علیہم السلام) کی تعلیم سے سرتابی کی تو انہیں دنیا ہی میں عبرتناک سزاؤں سے ہلاک کردیا گیا۔ عذاب الٰہی سے صرف وہی لوگ بچے جو معاند اور ضدی نہ تھے بلکہ منیب و منصف تھے۔ اور اللہ نے اپنی توفیق سے ان کو ایمان و عمل صالح کے لیے چن لیا۔
Ayahs 37:72–75

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجے ہیں ان میں ڈر سنانے والے

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

اب دیکھ کیسا ہوا انجام ڈرائے ہوؤں کا

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

مگر جو بندے اللہ کے ہیں چنے ہوئے

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور ہم کو پکارا تھا نوح نے33 سو کیا خوب پہنچنے والے ہیں ہم پکار پر،

33:۔ ولقد ناانا الخ :۔ زجر و شکوی اور تبشیر و تخویف کے بعد سات انبیاء (علیہم السلام) کے قصے ذکر کیے گئے جو اس پر دلالت کرتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) بھی خدا کے یہاں شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ تو خود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی عاجزی اور نیاز مندی کا اعتراف کر رہے ہیں۔ اور مصائب و بلیات میں اللہ تعالیٰ کو پکار رہے ہیں۔ پہلا قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ہے۔ دیکھو ! نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت اور اپنی نجات کے لیے ہمیں پکارا۔ ہم کیسے ہی اچھے قبول کرنے والے ہیں چناچہ ہم نے اس کو اور اس کے متبعین کو بہت بڑی مصیبت (غرق) سے بچا لیا۔ اور تمام مشرکین کو طوفان میں غرق کردیا۔ اور صرف نوح (علی نبینا وعلیہ السلام) کی اولاد ہی سے آئندہ کے لیے سلسلہ نسل باقی رکھا۔ کشتی میں جو دوسرے مومنین سوار تھے ان کی اولاد کا سلسلہ آگے نہیں بڑھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے جو تین بیٹے (حام، سام اور یافث) ساتھ تھے۔ انہی کی نسل سے دنیا پھر سے آباد ہوئی۔ والاکثرون علی ان الناس کلہم فی مشارق الارض و مغاربہا من ذریۃ نوح علیہ السلام، ولذا قیل لہ ادم الثانی (روح ج 23 ص 98) ۔
Ayahs 37:76–78

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور بچا دیا اس کو اور اس کے گھر کو اس بڑی گھبراہٹ سے

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور رکھا اس کی اولاد کو وہی باقی رہنے والے،

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور باقی رکھا34 اس پر پچھلے لوگوں میں

34:۔ وترکنا الخ : ہم نے آئندہ نسلوں میں قیامت تک نوح (علیہ السلام) کی یادگار قائم کردی۔ سلام علی نوح فی العالمین، یہ ماقبل کی تفصیل ہے۔ یعنی ہم نے آئندہ نسلوں میں نوح (علیہ السلام) کے لیے یہ کلام جاری کردیا کہ نوح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ساتھ طوفان سے سلامت رکھا آئندہ بھی جہاں یہ آیت آئے گی وہاں بھی اس کا یہی مفہوم ہوگا قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یا یہ جملہ دعائیہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کے لیے جن و انس اور فرشتوں میں یہ دعا تا قیامت جاری کردی۔ ای ثبت ھذہ التحیۃ فیہم جمیعا ولا یخلوا احد منہم منہا کانہ قیل ثبت اللہ التسلیم علی نوح وادامہ فی الملائکۃ والثقلین یسلمون علیہ عن اخرھم (مدارک ج 4 ص 18) ۔