Ayahs 36:1–22:۔ والقراٰن۔ تا۔ واجر کریم، یہ تمہید مع ترغیب ہے اس میں رسول اللہ ﷺ کی صداقت، قرآن کی عظمت اور مشرکین کے عناد و انکار کا ذکر کیا گیا ہے۔ انک لمن المرسلین، جواب قسم ہے اور علی صراط مستقیم خبر بعد خبر ہے۔ تنزیل العزیز الرحیم، یہ نزل مقدر کا مفعول مطلق ہے (مظہری، قرطبی) اور یہ جملہ القرآن سے حال واقع ہے یہ حکمت و دانش سے لبریز قرآن اس پر شاہد ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور سیدھی راہ پر گامزن ہیں یہ قرآن خدائے عزیز و رحیم نے آپ پر نازل فرمایا ہے جو منکرین کو سزا دینے اور ماننے والوں پر رحمت کرنے والا ہے اس لیے ایسی عظیم الشان کتاب پر ضرور ایمان لانا چاہیے۔
Ayahs 36:3–63:۔ لتنذر الخ : یہ المرسلین سے متعلق ہے آپ کو اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ آپ ایک ایسی قوم کو ڈرائیں جن کے باپ دادا کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اور وہ تعلیمات الٰہیہ سے بیخبر ہیں۔ مراد مشرکین عرب ہیں۔ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کے بعد ان میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا لتنذر قوما ما اتھم من نذیر من قبلک حیث لم یبعث بمکۃ نبی بعد اسماعیل (علیہ السلام) فھم اشدا احیتاجا الی الرسالۃ من غیرہم (مظہری ج 8 ص 6) ۔
Ayah 36:74:۔ لقد حق الخ : یہ زجر ہے آپ کی خواہش تو یہ ہے کہ تمام کفار ایمان لے، لیکن یہ ایسے ضدی اور بد بخت ہیں کہ ایسی عظیم الشان کتاب کو بھی نہیں مانتے، ان میں سے اکثر کے حق میں تو فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ جد و تعنت اور عناد و مکابرہ کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے۔ فھم لا یومنون جملہ القول کا بیان ہے۔
Ayah 36:85:۔ انا جعلنا الخ یہ ان کے ایمان نہ لانے کی علت ہے یعنی مہر جباریت کا بیان ہے۔ ثم بین سبب ترکھم الایمان فقال انا جعلنا فی اعنقاھم اغلالا۔ (قرطبی ج 15 ص 7) ۔ یہ مہر جباریت کی پہلی تمثیل ہے مشرکین جو ضد اور عناد کی وجہ سے حق کا انکار کرتے ہیں ان کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جن کے گلوں میں ٹھوریوں تک طوق ڈالے گئے ہوں اور ان کے سر اوپر کو اٹھ جائیں اور وہ نیچے نگاہ کر کے راستہ نہ دیکھ سکیں اور نہ گردنوں کو ادہر ادہر موڑ سکیں یہی حال ان معاندین کا ہے کہ عناد و مکابرہ کی وجہ سے وہ حق کی طرف التفات نہیں کرتے نہ حق کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ وجعلنا من بین ایدیہم سدا الخ یہ دوسری تمثیل ہے ان معاندین کی مثال ان لوگوں کی مانند ہے جو ایک طرف تو چار دیوار میں گھرے ہوئے ہوں اور علاوہ ازیں اندھے بھی ہوں جس طرح انہیں بھی کچھ نظر نہیں آتا اسی طرح معاندین ضد اور عناد کی چار دیوار میں گھرے ہوئے ہیں طغیان اور تعنت نے انہیں نور بصیرت سے محروم کردیا ہے۔ اس لیے وہ راہ حق کو نہیں دیکھ سکتے۔ ھذا علی طریق التمثیل ولم یکن ھناک غل ولا سد اراد واللہ سبحانہ انا منعنا ھم عن الایمان بموانع فجعل الاغلال و السد مثلا لذلک فھو تقریر لتصمیہم علی الکفر والطبع علی قلوبھم بحیث لا یغنی عنہم الایات والنذر الخ (مظہری ج 8 ص 73) ۔
Ayahs 36:9–106:۔ وسواء الخ : یہ ماقبل ہی کی توضیح و تنویر ہے۔ جب ان کے دلوں پر مہر جباریت و ثبت ہوچکی ہے تو ان کے لیے آپ کا وعظ و انداز بےسود ہے آپ کا ان کو ڈرانا، اور نہ ڈرانا برابر ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 36:117:۔ انما تنذر الخ : یہ بشارت اخروی ہے اور معاندین کے مقابلے میں مخلصین کی صفات کا ذکر ہے آپ کے وعظ و تذکیر سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھائینگے جو نصیحت پر عمل کریں اور خلوت میں بھی خدا سے ڈریں ایسے لوگوں کو گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کی خوشخبری سنا دیں۔ ای خافہ فی السر والعلن (خازن ج 6 ص 3) ۔
Ayah 36:128:۔ انا نحن الخ : یہ تخویف اخروی ہے۔ ہم مردوں کو ضرور زندہ کریں گے۔ اور ہر ایک کو اس کے اعمال و آثار کے مطابق جزا وسزا ملے گی۔ کیونکہ ہم سب کے اعمال خیر و شر لکھوا رہے ہیں۔ نیک اور برے کاموں کے جو نمونے قائم کرچکے ہیں ان کا بھی ہمارے پاس ریکارڈ موجود ہے ای و نکتب ما سنوا من سنۃ حسنۃ او سئۃ (خازن و معالم ج 6 ص 3) ۔ امام مبین سے نامہ اعمال یا لوح محفوط مراد ہے۔ ای کتاب اعمالہم الشاھد علیہم بما عملوہ من خیر او شر (ابن کثیر جلد 3 ص 566) ۔ یعنی اللوح المحفوظ (مدارک ج 4 ص 3) ۔ حاصل یہ کہ ہم ان کے تمام اعمال و افعال کو نگاہ میں رکھتے اور ان کو ان کے اعمالناموں میں لکھوا رہے ہیں۔
Ayah 36:139:۔ واضرب لہم الخ : یہ تخویف دنیوی ہے اصحاب القریۃ (بستی والوں) کا قصہ بیان کر کے اہل مکہ کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ انہوں نے ہمارے رسول کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ لیکن ان کے مزعومہ سفارشیوں میں سے کسی نے بھی ان کو اللہ کی گرفت سے نہ چھڑایا۔ اذ جاءھا المرسلون، حصن حصین میں ہے کہ یہ اجابت دعا کا مقام ہے۔ القریۃ سے اکثر مفسرین کے نزدیک شہر انطاکیہ مراد ہے اور المرسلون سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبلغ مراد ہیں۔ یعنی یحیی، یونس اور شمعون (کما فی التفاسیر) ۔ لیکن بعض ائمہ تفسیر کو اس پر اشکال ہے کہ قریہ سے انطاکیہ اور مرسلین سے رسل عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہوں چناچہ مفسر ابن کثیر نے اس پر نہایت محققانہ گفتگو کی ہے۔ وقد استشکل بعض الائمہ کو نہا انطاکیۃ بما سنذکرہ بعد تمام القصۃ انشاء اللہ تعالیٰ (ابن کثیر ج 2 ص 567) ۔ ابن کثیر نے آگے چل کر اس پر چار اشکال وارد کیے ہیں۔ اول نظم قرآن کے الفاظ کا ظاہر اسی پر دلالت کرتا ہے کہ یہ تینوں رسول اللہ کے رسول تھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ نہ تھے۔ اگر وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے حواری ہوتے تو نظم قرآن میں ان کے رسل عیسیٰ ہونے کی طرف کچھ اشارہ ہوتا۔ ان ظاہر القصۃ یدل علی ان ھؤلاء کانوا رسل اللہ عز وجل لا من جھۃ المسیح (علیہ السلام) کما قال تعالیٰ (اذ ارسلنا الیہم اثنین فکذبوہما فعززنا بثالث فقالوا انا الیکم مرسلون) الی ان قالوا (ربنا یعلم انا الیکم لمرسلون، وما علینا الا البلاغ المبین) ولو کانوا ھؤلاء من احواریین، لقالوا عبارۃ تناسب انہم من عند المسیح (علیہ السلام) (ابن کثیر ج 3 ص 569) ۔ دوم : اگر وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی طرف سے ہوتے تو مشرکین ان پر یہ اعتراض نہ کرتے کہ تم ہماری طرح بشر ہو۔ کیونکہ بشریت کو وہ رسالت اور نبوت کے منافی سمجھتے تھے۔ ثم لو کانوا رسل المسیح لما قالوا اللہم (ان انتم الا بشر مثلنا (ایضا) ۔ سوم، اہل انطاکیہ جن کے پاس حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اپنے حواری بھیجے تھے وہ سب کے سب ایمان لے آئے تھے اور اللہ کے عذاب سے محفوظ رہے لیکن جن اہل قریہ کا یہاں ذکر ہے انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور عذاب خداوندی سے ہلاک ہوئے اس سے بھی معلوم ہوا کہ یہ قصہ اہل انطاکیہ اور رسل مسیح (علیہ السلام) سے متعلق نہیں۔ فاذا تقرران انطاکیہ اول مدینۃ آمنت فاہل ھذہ القریۃ ذکر اللہ تعالیٰ انہم کذبوا رسلہ وانہ اھلکہم بصیحۃ واحدۃ اخمدتہم واللہ اعلم (ایضا) ۔ چہارم، اہل انطاکیہ اور رسل عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ لا محالہ نزول تورات کے بعد پیش آیا اور نزول تورات کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی پوری کی پوری قوم کو ہلاک نہیں فرمایا بلکہ مومنین کو مشرکین سے جہاد کرنے کا حکم دیا۔ اس سے بھی واضح ہوگیا کہ یہ قصہ اہل انطاکیہ اور حواریین سے متعلق نہیں۔ ان قصۃ انطاکیہ من الحواریین اصحاب المسیح بعد نزول التوراۃ و قد ذکر ابو سعید الکدری ؓ وگیر واحد من السلف ان اللہ تبارک و تعالیٰ بعد انزالہ التوراۃ لم یہلک امۃ من الامم الی اخرہم بعذاب یبثہ علیہم بل امر المومنین بعد ذلک بقتال المشرکین (ایضا) ۔ ان وجوہات سے ثابت ہوا کہ جس قریہ (بستی) کا ان آیتوں میں ذکر ہے وہ انطاکیہ کے علاوہ کوئی اور بستی ہے اور مرسلین سے رسل اللہ مراد ہیں نہ کہ رسل مسیح علیہ السلام، فعلی ھذا یتعین ان ھذہ القریۃ المذکورۃ فی القران قریۃ اخری غیر انطاکیۃ کما حقوق ذلک غیر واحد من السلف ایضا (ابن کثیر ج 3 ص 570) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ کی تحقیق بھی بعینہ یہی ہے اور ان رسولوں کے اسما گرامی یہ ہیں۔ صادق، صدوق اور شلوم (علیہم السلام) جیسا کہ حضرت ابن عباس، کعب الاحبار اور وہب بن منب سے منقول ہے امام طبری نے بھی یہی نام لکھے ہیں۔ (قرطبی جلد 15 ص 14) ، اگر مفسرین سلف کی عبارتوں میں کہیں اس قریہ کا نام انطاکیہ وارد ہوا ہے تو بشرط صحت روایت ہوسکتا ہے اس قریہ کا نام بھی انطاکیہ ہی ہو۔ لیکن لامحالہ یہ وہ انطاکیہ نہیں جس میں مسیح (علیہ السلام) نے اپنے حواری بھیجے تھے کیونکہ اس انطاکیہ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب کبھی نہیں آیا، نہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے زمانے میں نہ ان سے پہلے، او تکون انطاکیۃ، ان کان لفظہا محفوظا فی ھذہ القصۃ مدینۃ اخری غیر ھذہ المشہورۃ المعروفۃ فان ھذہ لم یعرف انہا اھلکت لا فی الملۃ النصرانیۃ ولا قبل ذلک واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (ابن کثیر جلد 3 ص 570) ۔
Ayah 36:1410:۔ اذ ارسلنا الخ : پہلے ہم نے ان کے پاس دو پیغمبر بھیجے۔ بستی والوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ تو ہم نے ان کی تائید اور تقویت کے لیے مزید ایک پیغمبر بھیجدیا۔ تب تینوں نے ان سے کہا ہم اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے پاس بھیجا۔ قالو ما انتم الخ، بستی والوں نے جواب میں کہا تم تو ہماری طرح بشر ہو اور بشر پیغمبر نہیں ہوسکتا اس لیے تم نہ پیغمبر ہو نہ اللہ نے تم پر وحی نازل کی ہے اور تم دعوی رسالت میں جھوٹے ہو۔ مشرکین ہمیشہ اس دھوکے میں رہے ہیں کہ پیغمبر فرشتہ ہونا چاہئے نہ کہ بشر وانما الرسول ملک وھذا شبہۃ اکثر الکفرۃ ان الرسول لا بد ان یکون ملکا (جامع ص 378) ۔
Ayahs 36:15–1611:۔ قالوا ربنا الخ، مشکرین کے انکار پر پیغمبروں نے نہایت زور دار مؤکد بالقسم اسلوب کے ساتھ اپنا دعوی دہرایا کہ خدا شاہد ہے کہ ہم اللہ کے رسول ہیں اور ہمیں اللہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے، اگر تم ہماری دعوت کو قبول نہیں کرو گے تو اس سے ہمارا کوئی بھی نقصان نہیں کیونکہ ہمارا کام تو صرف دعوت توحید کو تم تک پہنچانا ہے اگر تم نہیں مانو گے تو اس کا وبال تم پر پڑے گا۔ ربنا یعلم کی تعبیر قسم کے قائم مقام ہے وربنا یعلم جار مجری القسم فی التوکید وکذلک قولہم شہد اللہ و علم اللہ (مدارک ج 4 ص 4) ۔
Ayahs 36:17–1812:۔ قالوا انا الخ : جب مشرکین سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا تو گھٹیا باتوں پر اتر آئے اور اللہ تعالیٰ نے بطور ابتلاء اور امتحان کچھ عرصہ کے لیے بارش روک دی تو کافر کہنے لگے یہ تمہاری نحوست کا اثر ہے (عیاذا باللہ) کہ بارش نہیں ہوتی اس لیے تم اپنی تبلیغ بند کردو۔ اگر تم اس سے باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور دردناک سزا دیں گے۔
Ayah 36:1913:۔ قالوا طائرکم الخ، پیغمبروں نے جواب دیا شؤم و نحوست خود تمہارے اندر موجود ہے بارش کے بند ہونے کی وجہ تمہارا کفر و شرک اور طغیان و عصیان ہے۔ ائن ذکرتم۔ جزا محذوف ہے ای تطیرتم و جواب الشرط مضمر تقدیرہ لظیرتم (مدارک) کیا ہم نے تمہیں نصیحت کی ہے، اللہ کی توحید کی طرف بلایا ہے اور شرک سے روکا ہے اس لیے تم نے اس قسم کی لایعنی باتوں سے ہمارا مقابلہ شروع کردیا ہے اور ہمیں دھمکیاں دینے لگے ہو اور اپنے اعمال بد کی شامت کو ہماری طرف منسوب کرنے لگے ہو۔ نہایت بےانصاف اور حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔ ای من اجل انا ذکرنا کم و امرناکم بتوحید اللہ واخلاص العبادۃ لو قابلتمونا بہذا الکلام و توعدتمونا وتھدوتمونا (ابن کثیر ج 3 ص 567) ۔
Ayah 36:2014:۔ وجاء رجل الخ، رجل سے حبیب بن مری نجار مراد ہے جو اسی بستی کے ایک کنارے رہتا تھا یہ نہایت نیک، فیاض اور سلیم الفطرت انسان تھا۔ اور انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کو قبول کرچکا تھا۔ (قرطبی) ، جب قوم کا انکار وعناد انتہا کو پہنچ گیا اور انہوں نے پیغمبروں کو شہید کردینے کا ارادہ کرلیا تو یہ شخص اپنے گھر سے دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نہایت ہی ناصحانہ انداز میں تبلیغ کرنے لگا۔ میری قوم ! ان رسولوں کی بات مان لو جو اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ اور محض تمہاری بھلائی کے لیے تمہیں سیدھی راہ دکھاتے ہیں اور تبلیغ حق پر تم سے کچھ اجرت بھی نہیں مانگتے وہ ہیں بھی راہ راست پر۔ اللہ کی توحید اور شرک کے بارے میں ان کا موقف بالکل درست ہے وھم مھتدون فیما یدعونکم الیہ من عبادۃ اللہ وحدہ لا شریک لہ (ابن کثیر ج 3 ص 568) ۔
Ayahs 36:21–2215:۔ وما لی الخ، حبیب نجار نے جب قوم کے سامنے تقریر کی تو انہوں نے کہا اچھا ! تو بھی ان کا ساتھی ان کے عقیدے پر ہے۔ اور ہمارے دین کا مخالف ہے فلما قال ذالک قالوا لہ وانت مخالف لدیننا و متابع دین ھؤلاء الرسل (مظہری ج 8 ص 78) ۔ اس پر اس نے کہا، وما لی لا اعبد الخ، آخر کیا وجہ ہے کہ میں اس ذات پاک کی بلا شرکت غیرے خالص عبادت نہ کروں جس نے مجھے زندگی عطا فرمائی ہے اور آخر کار جزاء و سزا کے لیے قیامت کے دن تم سب اس کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے، اس لیے بہتر ہے کہ تم بھی اس کے رسولوں پر ایمان لے آؤ اور اس کی توحید کو مان لو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ والیہ ترجعون بعد الموت فیجازیکم باعمالکم فاعبدوا انتم ایضا ووحدوہ و صدقوا رسلہ (جامع ص 378) ۔
Ayah 36:2316:۔ ء اتخذ الخ، اس آیت میں دعوی سورت مذکور ہے یعنی نفی شفاعت قہری جیسا کہ اس بستی والوں کو ہم نے پکڑا مگر ان کے مزعومہ شفعاء نے ان کو نہ بچایا، حبیب نجار نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کیا یہ بھی کوئی عقلمندی ہے کہ میں اپنے خالق و منعم کے علاوہ ایسی عاجز اور بےبس مخلوق کو معبود اور کارساز بنا لوں کہ اگر خدائے رحمن مجھے کسی مصیبت میں گرفتار کرنا چاہے تو اس کی بارگاہ میں نہ ان کی سفارش مجھے کام آسکے اور نہ وہ مجھے اس کی گرفت سے چھڑا ہی سکیں اب تم خود ہی بتاؤ کیا ایسے عاجز معبود، خدا کے یہاں شفیع غالب اور کارساز ہوسکتے ہیں ؟
Ayah 36:2417:۔ انی اذا الخ، اگر میں اللہ کے سوا اوروں کو معبود اور کارساز بنا لوں اور ان کو خدا کی بارگاہ میں شفیع غالب سمجھنے لگوں تو میں صریح گمراہی میں ہوں گا، اس کے بعد مشرکین نے اس پر پتھر برسانے شروع کردئیے اس نے اسی حال میں اپنی قوم سے خطاب کر کے اپنا آخری اعلان کیا۔ میری قوم ! سن لو، میں تمہارے خالق ومالک کی توحید پر ایمان لا چکا ہوں، تمہیں بھی اس پر ایمان لانا چاہئے۔ یا یہ خطاب رسولوں سے ہے، جب مشرکین نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے رسولوں سے مخاطب ہو کر کہا جس رب نے تمہیں بھیجا ہے میں اس پر ایمان لا چکا ہوں اس لیے میرا اقرار و اعلان سن لو اور اس پر گواہ رہنا (قرطبی، ابن کثیر، ابن جریر) ۔
Ayahs 36:25–2618:۔ قیل ادخل الخ، اس سے پہلے اندماج ہے، ولما قتل قیل لہ ادخل الجنۃ (مدارک ج 4 ص 5) ، یعنی جب اسے قتل کردیا گیا تو اس سے کہا گیا جنت میں داخل ہوجاؤ۔ حبیب نجار چونکہ شہید تھا اس لیے دیگر شہداء کی طرح اس کی روح کو پرندے کے قالب میں جنت میں داخل کردیا گیا۔ فادخلہ اللہ الجنۃ وھو حی فیہا یرزق یعی حیوۃ الشہداء (مظہری ج 8 ص 79) ۔
19:۔ قال یلیت الخ، جب اس نے جنت میں اپنا بےپایاں اعزازو اکرام اور بےحد و حساب نعمتیں دیکھیں تو تمنا کرنے لگا کہ کاش ! میری قوم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کس چیز کے سبب بخش دیا اور جنت میں داخل کیا ہے۔ اور اپنی بےحساب نوازشوں سے نوازا یعنی اللہ کی توحید پر ایمان اور اس کے پیغمبروں کی تصدیق۔ اس تمنا سے اس کا مقصود یہ تھا کہ اللہ نے اسے جس انعام واکرام سے نوازا ہے اگر انہیں اس کا علم ہوجائے تو وہ بھی ایمان لے آئیں، بایمانی بربی و تصدیق المرسلین و مقصودہ انہم لو اطلعوا علی ما حصل لی من الثواب والجزاء والنعم المقیم لقادہم ذلک الی اتباع الرسل(رح) ورضی عنہ فلقد کان حریصا علی ھدایۃ قومہ (ابن کثیر ج 3 ص 568) ۔
Ayahs 36:27–2820:۔ وما انزلنا الخ، یہ حبیب نجار کی قوم کے انجام بد کا بیان ہے کہ ہم نے اس کی شہادت کے بعد اس کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہمیں اس کی ضرورت ہی تھی کیونکہ ان کو ہلاک کرنا ہمارے لیے کوئی مشکل نکام نہ تھا ان کانت الا صیحۃ واحدۃ الخ، ان پر ہم نے جو عذاب نازل کیا وہ تو بس ایک خوفناک چیخ تھی جس سے ساری کی ساری قوم یکبارگی ہلاک ہو کر رہ گئی روی ان اللہ تعالیی بعث علیہم جبریل (علیہ السلام) حتی اخذ بعضا واتی، باب المدینۃ فصاح بہم صیحۃ واحدۃ فماتوا جمیعا (روح ج 23 ص 2) ۔
Ayahs 36:29–3021:۔ یحسرۃ الخ، قصہ کے اختتام پر حسب عادت مستمرہ ارشاد فرمایا، انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کرنے والے اور توحید کا انکار کرنے والے بندوں پر افسوس ! ان کے پاس جو بھی رسول توحید کا پیغام لے کر آیا۔ ماننے کے بجائے یہ اس سے استہزا کرنے لگے۔ یہ اظہار حسرت تینوں رسولوں کی طرف سے تھا یا فرشتوں کی طرف سے۔ قال الضحاک انہا حسرۃ الملائکۃ علی الکفار حین کذبوا الرسل وقیل ان الرسل الثلاثۃ ہم الذین قالو لما قتل القوم ذلک الرجل الذی جاء من اقصی المدینۃ یسعی، و حل بالقوم العذاب یا حسرۃ علی ھؤلاء کانہم تمنوا ان یکونوا قد امنوا (قرطبی ج 15 ص 23) ۔ ما یاتیہم، ماضی استمراری کے معنوں میں ہے یعنی ان کے پاس جو بھی رسول آتے رہے وہ ان سے استہزاء کرتے رہے اس سے حال یا استقبال مراد نہیں تاکہ اس سے اجراء نبوت پر استدلال کیا جاسکے۔ جیسا کہ مرزائیوں کا خیال ہے۔
Ayah 36:3122:۔ الم یروا الخ، یہ دعوائے سورت پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ یہ مشرکین دیکھتے نہیں کہ ان سے پہلے ہم نے مشرکین کے قرنوں کے قرن تباہ و برباد کردئیے جو اپنے مزعومہ معبودوں کو کارساز اور شفیع غالب سمجھتے تھے اور ان کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ مصائب و مشکلات میں وہ ان کے کام آئیں گے۔ لیکن جب ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تو ان کا کوئی کارساز اور سفارشی انہیں ہمارے عذاب سے چھڑا کر دنیا میں واپس نہ لاسکا انہم الیہم لا یرجعون۔ جملہ ما قبل کے مضمون سے بدل ہے۔ بدل من کم اھلکنا علی المعنی (مدارک ج 4 ص 6) کذا افادہ الشیخ قدس سرہ۔ یا اس سے ان لوگوں کا رد مقصود ہے جو کہتے تھے۔ انھی الا حیاتنا الدنیا نموت و نحیا (مومنون رکوع 3) یعنی کوئی قیامت اور جزاء سزا نہیں بس زندگی صرف یہی اس دنیا ہی میں ہے۔ جو مرتا ہے وہ دوبارہ کسی دوسرے قالب میں زندہ ہو کر آجاتا ہے اور یہ مرنے جینے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ یہ عقیدہ تناسخ کے نام معروف ہے۔ ھم القائلون بالدور من الدھریۃ وہم الذین یعتقدون جہلا منہم انہم یعودون الی الدنیا کما کانوا فیہا فرد اللہ تبارک و تعالیٰ تعلیہم باطلہم (ابن کثیر ج 3 ص 570) اس سے روافض کے عقیدہ رجعت کا بطلان بھی واضح ہوگیا جو حضرت علی ؓ اور بعض دیگر ائمہ کی قیامت سے قبل دنیا میں رجعت کے قائل ہیں و رد بالایۃ علی القائلین بالرجعۃ کما ذھب الیہ الشیعۃ (روح ج 23 ص 5) ۔ وفی الایۃ رد علی من زعم ان من الخلق من یرجع قبل القیامۃ بعد الموت (قرطبی ج 15 ص 24) ۔
Ayah 36:3223:۔ وان کل الخ، مرنے کے بعد نیا میں تو کوئی واپس نہیں آئے گا۔ البتہ ان سب کو قیامت کے دن ہم دوبارہ زندہ کرینگے اور یہ سب حساب کتاب کے لیے ہمارے سامنے پیش کیے جائینگے یہ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 36:3324:۔ وایۃ لہم الارض الخ :۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ ہم نے مردہ زمین کو بارانِ رحمت سے زندہ کیا اور اس میں انسانوں کی غذا کے لیے انواع و اقسام کے غلے، انگوروں اور کھجوروں کے باغات پیدا کیے۔ زمین سے پانی کے چشمے رواں کردئیے یہ سب کچھ ہم نے کیا ہے یہ ان کے ہاتھوں کی کمائی نہیں اور نہ وہ ان امور پر قادر ہی ہیں لیکن وہ پھر بھی اللہ کا شکر نہیں کرتے اور اس کی عبادت میں غیر اللہ کو شریک کرتے ہیں انکار واستقباح لعدم شکرھم للمنعم بالنعم المعدودۃ بالتوحید والعبادۃ (روح ج 23 ص 9) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں ایدیہم میں ضمیر مجرور سے جنسِ مخلوق مراد ہے۔ اور اس میں جن و انس اور فرشتے سب داخل ہیں۔ جس طرح قل لو انتم تملکون خزائن رحمۃ ربی الایۃ (بنی اسرائیل رکوع 11) میں انتم سے سے خطاب عام مراد ہے۔ یعنی یہ تمام نعمتیں اور برکتیں اللہ نے عطا فرمائی ہیں۔ جن کو تم اپنے معبود قرار دیتے ہو ان میں سے کسی کا بھی ان کاموں میں کوئی دخل نہیں۔ جب تخلیق میں وہ خدا کے شریک نہیں تو عبادت اور پکار میں بھی وہ اس کے شریک نہیں ہوسکتے اور نہ اس کی بارگاہ میں شفیع غالب ہو ہی سکتے ہیں۔
Ayahs 36:34–3625:۔ سبحن الخ :۔ جن مزعومہ معبودوں کو مشرکین نے شرکاء اور شفا ( علیہ السلام) بنا رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے پاک ہے۔ زمین سے انواع و اقسام کی اشیاء میوے، پھل پھول، گلے وغیرہ وہی پیدا کرتا ہے۔ ومن انفسہم اور انسانوں کی اولاد میں نر و مادہ کا خالق بھی وہی ہے۔ وہ ایسی بیشمار مخلوق کا بھی خالق ہے جس کا انکو علم بھی نہیں۔ یہ دلیل ثانی کا تتمہ ہے۔
Ayah 36:3726:۔ وایۃ لہم الیل الخ :۔ یہ تیسری عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ یہ نظام شمسی اس کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ دن رات کی آمد و رفت اسی کے اختیار میں ہے۔ جب دن کی روشنی غائب ہوجاتی ہے تو ہر طرف اندھیرا چھا جاتا ہے۔ والشمس تجری الخ اور سورج اپنی آخر حد اور منزل تک باقاعدگی کے ساتھ سفر کر رہا ہے۔ آخری منزل سے یا تو قیامت کا دن مراد ہے یا اس کے سالانہ دورے کی آخری منزل مراد ہے جہاں پہنچ کر وہ دوبارہ اسی جگہ سے اپنا سفر شروع کرتا ہے جہاں سے ایک سال قبل شروع کیا تھا۔ قال قتادۃ و مقاتل تجری الی وقت لہا لا تتعداہ۔ قال الواحدی وعلی ھذا مستقرھا انتہاء سیرھا عند انقضاء الدنیا (روح ج 23 ص 12) لحد لہا موقت مقدر تنتھی الیہ من فلکہا فی اخر السنۃ او لانتہاء امرھا عند انقضاء الدنیا (مدارک ج 4 ص 7) ۔ دن رات کی مقدار اور سورج کی رفتار کا اندازہ اللہ تعالیٰ نے کود مقرر فرمایا جو ایسا غالب ہے کہ اس اندازے میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی اور ایسا علیم اور باخبر ہے کہ اس نے جو اندازے مقرر فرمائے ہیں وہ نہایت مناسب اور صحیح ہیں۔
Ayahs 36:38–3927:۔ والقمر الخ : اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کی ہیں جن سے گذرتا ہوا وہ ایک ماہ میں اپنا دورہ پورا کرلیتا ہے اور جب وہ اپنی آخری منزل میں پہنچتا ہے تو خشک اور خمیدہ ٹہنی کی مانند باریک اور منحنی نظر آتا ہے۔ چاند کی اٹھائیس منزلیں ہیں اور وہ کم و بیش ایک دن رات میں ایک منزل میں سفر کرتا ہے لا الشمس ینبغی لہ الخ، سورج اور چاند کی حکوت رات کو ہوتی ہے یہ دونوں اپنی حدود کے پابند ہیں کہ ایک دوسرے کے دائرہ حکومت میں دخل نہیں دے سکتے اور دونوں اپنی اپنی راہ پر گامزن ہیں یہ سارا نظام اللہ کی تدبیر و تقدیر سے رواں دواں ہے۔ اگر مشرکین کے مزعومہ معبود واقعی کارساز اور شفیع غالب ہیں تو وہ اس نظام میں معمولی سی ترمیم کر کے دکھا دیں۔