35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsجواھر القرآن

Ayah 35:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

سب خوبی اللہ کو ہے2 جس نے بنا نکالے آسمان اور زمین3 جس نے ٹھہرایا فرشتوں کو پیغام لانے والے جن کے پر ہیں دو دو اور تین تین اور چار چار بڑھا دیتا ہے پیدائش میں جو چاہے بیشک اللہ4 ہر چیز کرسکتا ہے

2:۔ الحمد للہ الخ : اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ حاجات و مشکلات اور مصائب و بلیات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو۔ اس کے کسی پیغمبر، فرشتے اور جن و بشر کو مت پکارو اس مضمون کو بارہ دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔ جن میں گیارہ دلائل عقلیہ ہیں اور ایک دلیل وحی۔ بعض دلائل میں بیان کیا گیا ہے کہ سب کچھ کرنے والا اور ہر چیز پر قادر اللہ تعالیٰ ہی ہے اور بعض میں مذکور ہے کہ سب کچھ جاننے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ کارساز اور حاجت روا بھی وہی لہذا مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو۔ یہ پہلی عقلی دلیل ہے جس کا پہلا جزو یعنی (الحمد للہ) تمام صفات کمال کا جامع ہے۔ یعنی تمام صفات کارسازی اللہ کے ساتھ خاص ہیں وہ ہر چیز پر قادر بھی ہے اور ہر چیز کو جاننے والا بھی لہذا کارساز اور پکارے جانے کے لائق بھی وہی ہے۔ 3:۔ فاطر السموات الخ : سارے جہان کو اللہ ہی نے پیدا فرمایا۔فرشتوں کو پیدا کرنے والا بھی وہی ہے بعض فرشتوں کو دود پر عطا فرمائے بعض کو تین تین اور بعض کو چار چار۔ فرشتوں کو اس نے مختلف خدمات میں لگا دیا۔ اس طرح فرشتے اس کے خدام اور اس کے حکم کے بندے ہیں لہذا وہ معبود اور کارساز نہیں ہوسکتے۔ یزید فی الخلق الخ : وہ جس طرح چاہتا ہے پیدائش میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ چار سے زیادہ بھی پر عطا فرما سکتا ہے۔ جیسا کہ جبریل (علیہ السلام) کو چھ سو پر عطا فرمائے۔ قال ابن مسعود فی قولہ عز و جل (ولقد رای من ایات ربہ الکبری) قال رای جبریل فی صورتہ لہ ستمائۃ جناح (خازن جلد 5 ص 296) ۔ 4:۔ ان اللہ الخ : یہ یزید فی الخلق ایک کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ عام ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت عامہ کا ذکر ہے کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور سب کچھ کرسکتا ہے لہذا حاجات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارو۔ فرشتے اس کے محکوم بندے ہیں وہ پکارے جانے کے لائق نہیں ہیں۔
Ayah 35:2

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

جو کچھ کہ کھول دے اللہ5 لوگوں پر رحمت میں سے تو کوئی نہیں اس کو روکنے والا اور جو کچھ روک رکھے تو کوئی نہیں اس کو بھیجنے والا اس کے سوا اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا

5:۔ ما یفتح اللہ الخ : یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ رحمت و برکت اللہ کے قبضے میں ہے جس پر چاہے رحمت کے دروازے کھول دے اور جس پر چاہے بند کردے۔ وہ جس پر رحمت کے دروازے کھول دے انہیں کوئی بند نہیں کرسکتا اور جس پر بند کردے انہیں کوئی کھول نہیں سکتا۔ وہ سب پر غالب ہے کوئی اس کے ارادے پر غالب نہیں آسکتا۔ وہ سب پر غالب ہے کوئی اس کے ارادے پر غالب نہیں آسکتا۔ اور اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں جب رحمت و برکت کے دروازے کھولنا اور بند کرنا اسی کے اختیار میں ہے تو کارساز بھی وہی ہے لہذا ما فوق الاسباب صرف اسی کو پکارو۔
Ayah 35:3

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

اے لوگو6 یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر کیا کوئی ہے بنانے والاف 7 اللہ کے سوا روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے کوئی حاکم نہیں مگر وہ پھر کہاں الٹے جاتے ہو

6:۔ یا ایہا الناس الخ : یہ ترغیب الی التوحید ہے۔ تمام انسانوں کو اپنی نعمتیں یاد دلا کر ترغیب دی کہ اپنے خالق ومالک اور منعم حقیقی کو پہچانو، اس کی توحید پر ایمان لاؤ اسے ذات وصفات میں اور عبادت اور پکار میں وحدہٗ لاشریک مانو۔ 7:۔ ھل من خالق الخ : یہ تیسری عقلی دلیل ہے اور پہلی دونوں دلیلوں کا ثمرہ بھی ہے یہ پہلا اور مختصر ثمرہ ہے یعنی دونوں دلیلوں سے ثابت ہوگیا کہ ساری کائنات کا خالق اور رحمت کے دروازے کھولنے والا۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ اس کے سوا کوئی اور نہ خالق ہے نہ رازق۔ لہذا لا الہ الا ھو : اس کے سوا کوئی کارساز نہیں جسے حاجات میں دور و نزدیک سے پکارا جائے۔ فانی توفکون، جب خالق بھی وہی ہے اور رازق بھی تو پھر تمہیں کہاں سے دھکا لگ رہا ہے اور تم کدھر بہکے جا رہے ہو کہ اپنے خالق و رازق کے علاوہ اس کی عاجز مخلوق کو کارساز سمجھ کر پکار رہے ہو۔ فمن ای وجہ تصرفون من التوحید الی الاشراک مع اعترافکم بانہ الخالق والرازق لا غیر (مظہری ج 8 ص 43) ۔
Ayah 35:4

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اور اگر تجھ کو جھٹلائیں8 تو جھٹلائے گئے رسول تجھ سے پہلے اور اللہ تک پہنچتے ہیں سب کام

8:۔ ان یکذبوک الخ : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ اگر یہ مشرکین آپ کو جھٹلاتے ہیں اور ضد وعناد میں آکر نہیں مانتے تو آپ اس سے دل گیر نہ ہوں۔ اس سے آپ کی سچائی میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ اس دور کے مشرکین نے بھی یہی سلوک کیا تھا۔ اس لیے آپ ان کی تکذیب کی پرواہ نہ کریں اور اپنا فریضہ تبلیغ ادا کیے جائیں۔ اور ہر کام کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دے گا۔
Ayahs 35:5–6

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

اے لوگو9 بیشک اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے سو نہ بہکائے تم کو دنیا کی زندگانی اور نہ دغا دے تم کو اللہ کے نام سے وہ دغا باز

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

تحقیق شیطان تمہارا دشمن ہے سو تم بھی سمجھ رکھو اس کو دشمن وہ تو بلاتا ہے اپنے گروہ کو اسی واسطے کہ ہوں دوزخ والوں میں

9:۔ یا ایہا الناس الخ : یہ تخویف اخروی ہے۔ الغرور بفتح عین، دھوکہ دینے والا مراد شیطان ہے۔ اور بضم غین مصد رہے یعنی دھوکہ دینا۔ وعد اللہ سے قیامت اور جزاء و سزا مراد ہے۔ وعداللہ بالبعث والجزاء (مدارک ج 3 ص 255) ۔ اللہ کی توحید کو مان لو ورنہ آخرت میں دردناک سزا ملے گی۔ قیامت کا آنا اور جزاء و سزا برحق ہے اس میں تخلف نہیں ہوگا۔ دنیا کی لذات اور عیش و نشاط سے دھوکا نہ کھاؤ کہ یہ ہمیشہ رہیں گی اور نہ شیطان کے بہکانے سے فریب کھاؤ۔ ان الشیطان الخ : شیطان کی انسان دشمنی ور اس کے فریب کا بیان ہے کہ شیطان تمہارا پرانا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھنا کہیں اس کے فریب میں آ کر اس کی بات نہ مان لینا کیونکہ وہ اپنے اتباع و اذناب کو جہنم کی طرف بلاتا ہے اور مکر و فریب سے ان کو راہ توحید سے بہکاتا ہے۔
Ayah 35:7

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

جو منکر ہوئے10 ان کو سخت عذاب ہے اور جو یقین لائے اور کئے بھلے کام ان کے لیے ہے معافی اور بڑا ثواب

10:۔ الذین کفروا الخ : یہ کفار و مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ والذین امنوا الخ یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔
Ayah 35:8

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

بھلا ایک شخص کہ بھلی سجھائی گئی اس کو11 اس کے کام کی برائی پھر دیکھا اس نے اس کو بھلا کیونکہ اللہ بھٹکاتا ہے جس کو چاہے اور سجھاتا ہے جس کو چاہے سو تیرا جی نہ جاتا رہے12 ان پر پچتا پچتا کر اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کرتے ہیں

11:۔ افمن زین الخ : یہ زجر ہے۔ جب آدمی ضد وعناد میں آکر حق کا انکار کرتا ہے تو اس کا دل قبول حق کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے اس کی فطرت ایسی مسخ ہوجاتی ہے کہ اسے اپنی تمام بد اعمالیاں نیکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اور مشرکانہ اعمال کو برا سمجھنے کے بجائے اچھا سمجھنے لگتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی صفت قہار کا اثر ہے اور اس کو مہر جباریت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ افمن زین کی جزاء محذوف ہے ای فمن یھدیہ یعنی جس شخص کو اللہ کے قہر و غضب سے اپنی برائیں نیکیاں نظر آئیں اسے کون راہ راست پر لاسکتا ہے ؟ قالہ الشیخ (رح) یا مقدر ہے کمن لم یزین لہ (مدارک) یا کمن ہداہ اللہ (مدارک، خازن، معالم) ۔ فان اللہ یضل الخ : جو لوگ ضد وعناد سے حق کا انکار کریں ان کو توفیق ہدایت نصیب نہیں ہوتی جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا وما یضل بہ الا الفاسقین (بقرہ) ۔ اور جو لوگ انابت کرتے ہیں اور سچے دل سے حق کے طالب ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ ہدایت کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ 12:۔ فلا تذھب الخ : اس لیے جو ضدی اور معاند لوگ گمراہی پر قائم ہیں۔ اور راہ راست پر نہیں آتے آپ ان کی وجہ سے اپنی جان کو غم و ایذاء میں نہ ڈالیں۔ ذہاب کے تین معنی ہیں رفتن (جانا) گذشتن (گذرنا) بردن (لے جانا) ۔ اس کے تین معنے ہوسکتے ہیں۔ اول متعدی یعنی نہ لیجائے تیرا نفس ان کے پیچھے حسرتوں کو اس صورت میں حسرات مفعول لہ ہوگا۔ حسرات مفعول لہ یعنی فلا تھلک نفسک للحسرات (مدارک) ۔ سوم لاتذھب بمعنی لاتغتم باعتبار تضمین، یہ نہ غمناک ہو جان تیری ان کے کفر کی وجہ سے در آنحالیکہ تو افسوس کرنے والا ہو۔ والمعنی لاتغتم بکفرھم وھلاکہم ان لم یومنوا (خازن ج 5 ص 244) ۔ اس آیت کا مفہوم دوسری جگہ اس طرح مذکور ہے۔ لعلک باخع نفسک علی آثارہم ان لم یومنوا بھذا الحدیث اسفا (کہف رکوع 1) ان اللہ علیم بما یصنعون، یہ ماقبل کے لیے بمنزلہ علت ہے اور معاندین کے لیے تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور اللہ ہے جس نے13 چلائی ہیں ہوائیں پھر وہ اٹھاتی ہیں بادل کو پھر ہانک لے گئے ہم اس کو مردہ دیس کی طرف پھر زندہ کردیا ہم نے اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد اسی طرح ہوگا جی اٹھنا

13:۔ واللہ الذی الخ : یہ چوتھی عقلی دلیل ہے ہواؤں کے دوش پر بادلوں کو اڑا کر ادہر سے ادہر لے جانا اور پھر ان سے مینہ برسا کر خشک اور ناکارہ زمین کو زرخیز بنانا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اس لیے کارساز بھی وہی ہے۔ کذلک النشور : یہ جملہ معترضہ ہے برائے اثبات حشر و نشر۔ اللہ تعالیٰ جس طرح مردہ زمین کو باران رحمت سے زندہ کرلیتا ہے۔ اسی طرح وہ قیامت کے دن مردہ انسانوں کو بھی دوبارہ زندہ کرلے گا۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جس کو چاہے14 عزت تو اللہ کے لیے ہے ساری عزت اس کی طرف چڑھتا ہے15 کلام ستھرا اور کام نیک اس کو اٹھا لیتا ہے اور جو لوگ داؤ میں ہیں برائیوں کے16 ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کا داؤ ہے ٹوٹے کا

ٖف 14:۔ من کان یرید الخ : یہ ایک شبہ کا جواب ہے یعنی اگر تم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ ان معبودانِ باطلہ کی پرستش اور پکار سے تمہیں عزت حاصل ہوگی۔ تو یہ خیال دل سے نکال دو ، عزت اللہ کے اختیار میں ہے۔ اور اسی کی عبادت اور خدمت سے ملتی ہے۔ اس لیے تم حاجات و مصائب میں صرف اسی کو پکارو۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے واتخذوا من دون اللہ الہۃ لیکونوا لھم عزا۔ کلا سیکفرون بعبادتہم ویکونون علیہم ضدا (مریم) ۔ 15:۔ الیہ یصعد الخ : یعنی اللہ تعالیٰ ہی کلمات طیبات کو قبول فرماتا ہ۔ الکلم الطیب سے کلمہ توحید اور صفات باری تعالیٰ مراد ہیں۔ التوحید والتحمید و ذکر اللہ و یہ کنایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عمل صالح کو قبول فرماتا ہے۔ ٖف 16:۔ والذین یمکرون الخ : یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ دین اسلام کو مٹانے کے لیے اور پیغمبر خدا ﷺ اور مومنوں کے خلا برے منصوبے اور پروگرام بناتے رہتے ہیں ان کے لیے سخت ترین سزا مقرر ہے اور ان کا ہر مکر و فریب اور منصوبہ ناکام اور بیکار ہے۔
Ayah 35:11

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو بنایا مٹی سے17 پھر بوند پانی سے پھر بنایا تم کو جوڑے جوڑے اور نہ پیٹ رہتا ہے کسی مادہ کو اور نہ وہ جنتی ہے بن خبر اس کے اور نہ عمر پاتا ہے کوئی بڑی عمر والا اور نہ گھٹتی ہے کسی عمر مگر لکھا ہے کتاب میں بیشک یہ اللہ پر آسان ہے

17:۔ واللہ خلقکم الخ : یہ پانچویں عقلی دلیل ہے اللہ تعالیٰ نے کمال قدرت سے تمہارے جد اعلی آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا پھر قطرہ آب سے سلسلہ نسل جاری کیا اور تم میں نر و مادہ کو پیدا فرمایا۔ یہ اس کی قدرت کمال ہے اور اس کے علم کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر مادہ کے پیٹ میں استقرار حمل سے لے کر وضع حمل تک جنین کے تمام احوال و کوائف کو بخوبی جانتا ہے اور پھر ہر جاندار کی عمر کی مقدار بھی اسے معلوم ہے غرضیکہ سب کچھ علم الٰہی میں موجود ہے۔ یہ سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا کارساز اور حاجت روا بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔ اس لیے مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو۔ عمر میں کمی بیشی تقدیر معلق کے اعتبار سے ہے جیسا کہ بعض اعمال صالحہ کی وجہ سے عمر میں اضافہ ہوجاتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے اعبدوا اللہ واتقوہ۔ ویوخرکم الی اجل مسمی (نوح) ۔ اور حدیث میں من احب ان یبسط لہ فی رزقہ وینسا لہ فی اثرہ فلیصل رحمہ (قرطبی ج 14 ص 333) ۔ یا یہ عمروں کے اختلاف کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی کسی کو زیادہ عمر عطا کرتے ہیں اور کسی کو کم۔ ان ذلک علی اللہ یسیر۔ یعنی اللہ کے لیے آسان ہے اور اس کے قبضہ و اختیار میں ہے۔
Ayah 35:12

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور برابر نہیں18 دو دریا یہ میٹھا ہے پیاس بجھاتا ہے خوشگوار اور یہ کھارا کڑوا اور دونوں میں سے کھاتے ہو گوشت تازہ اور نکالتے ہو گہنا جس کو پہنتے ہو اور تو دیکھے جہازوں کو اس میں کہ چلتے ہیں پانی کو پھاڑتے تاکہ تلاش کرو اس کے فضل سے اور تاکہ تم حق مانو

18:۔ وما یستوی الخ : یہ چھٹی عقلی دلیل ہے۔ یہ بھی اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے کہ ایک دریا کا پانی نہایت میٹھھا اور خوشگوار بنا دیا اور دوسرے کا نہایت بد مزہ اور کھاری اور دونوں میں مچھلیاں پرورش پاتی ہیں۔ لیکن ان کا گوشت یکساں طور پر لذیذ ہوتا ہے اور دونوں سے جواہرات نکلتے ہیں جو زینت و آرائش کے کام آتے ہیں۔ اور دونوں میں کشتیاں پانی کو چیرتی ہوئی سفر کرتی ہیں۔ جن میں تم ایک جگہ سے دوسری جگہ مال تجارت کو منتقل کر کے نفع کماتے ہو یہ سب کچھ اللہ کی مہربانی اور اس کا فضل و احسان ہے تاکہ تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔ اس کی عبادت کرو اور اس کی توحید پر ایمان لاؤ۔ تعرفون حقوقہ تعالیٰ فتقومون بطاعتہ عزو جل و توحیدہ سبحانہ (روح ج 22 ص 181) ۔
Ayahs 35:13–14

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

رات گھساتا ہے19 دن میں اور دن گھساتا ہے رات میں اور کام میں لگا دیا سورج اور چاند کو ہر ایک چلتا ہے ایک مقرر وعدہ تک یہ اللہ ہے تمہارا رب اسی کے لیے بادشاہی ہے اور جن کو تم پکارتے ہو20 اس کے سوا وہ مالک نہیں کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو سنیں نہیں تمہاری پکار اور اگر سنیں پہنچیں نہیں تمہارے کام کو اور قیامت کے دن منکر ہوں گے تمہارے شریک ٹھہرانے سے اور کوئی نہ بتلائے گا تجھ کو جیسا بتلائے خبر رکھنے والا

19:۔ یولج الیل الخ : یہ ساتویں عقلی دلیل ہے۔ رات دن کی آمد و رفت اور سورج اور چاند دوسرے لفظوں میں سارا نظام کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور اس میں تنہا وہی متصرف و مختار ہے لہذا وہی سب کا کارساز ہے۔ ذلک اللہ : یہ گذشتہ تمام دلائل پر متفرع ہے۔ یعنی جو ذات پاک مذکورہ بالا تمام صفات سے متصف ہے وہی اللہ تم سب کا مالک ہے اور ساری کائنات میں اسی کی حکومت اور اسی کا اختیار و تصرف ہے اس لیے کارساز اور حاجت روا بھی وہی ہے۔ اور وہی ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہے اور وہی دعا اور پکار کے لائق ہے۔ 20:۔ والذین تدعون الخ : یہ دلائل سابقہ کا تفصیلی ثمرہ ہے۔ دلائل سابقہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی ساری کائنات کا خالق ومالک ہے رحمت و برکت اسی کے ہاتھ میں ہے۔ سب کا رازق بھی وہی ہے سارے جہان میں اسی کا تصرف و اختیار چلتا ہے۔ اور وہ سب کچھ جانتا ہے سارے جہاں کی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔ اور اللہ کے سوا یہ صفتیں کسی اور میں نہیں پائی جاتیں۔ لہذا ہر قسم کی عبادت اسی کا حق ہے اور وہی سب کا کارساز ہے اور حاجات میں پکارے جانے کے لائق بھی وہی ہے۔ باقی رہے تمہارے خود ساختہ کارساز جن کو تم حاجات و بلیات میں غائبانہ پکارتے ہو۔ وہ تو ایک چھلکے کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ اختیار رکھنا تو درکنار اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار سن بھی نہیں سکتے۔ اور اگر بالفرض وہ تمہاری پکار سن بھی لیں تو تمہاری حاجت برآری نہیں کرسکتے اور قیامت کے دن تمہارے خود ساختہ معبود جن کو تم دنیا میں پکارتے ہو تمہارے اس شرک (غائبانہ پکار) کا انکار کریں گے۔ یعنی صاف کہیں گے کہ ہمیں تو تمہاری آہ و فغاں اور پکار کا کوئی علم ہی نہیں جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ فکفی باللہ شہیدا بیننا و بینکم ان کنا عن عبادتکم لغفلین (یونس) ۔ ولا ینبئک الخ : اللہ تعالیٰ جو تمام حالات سے باخبر ہے اور ظاہر و باطن کو جانتا ہے اس سے بہتر کوئی بھی حقیقت سے پردہ نہیں اٹھا سکتا۔ وہ فرما رہا ہے کہ تمہارے خود ساختہ کارساز نہ تمہاری پکار سنتے ہیں نہ تمہاری حاجت روائی کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس آیت میں من دونہ سے تمام معبودان باطلہ مراد ہیں۔ من دونہ ای غیرہ وھم الاصنام و غیرہا وکل شیء دونہ (سربینی ج 2 ص 301) ۔ یحتمل ان یکون (الکلام) مع عبد تھا (الاصنما) و عبدۃ الملائکۃ و عیسیٰ وغیرہم من المقربین (روح ج 22 ص 182) ۔ ثم یجوز ان یرجع ھذا الی المعبودین مما یعقل کالملائکۃ والجن والانبیاء والشیاطین (قرطبی جلد 14 ص 336) ۔
Ayahs 35:15–17

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

اے لوگو21 تم ہو محتاج اللہ کی طرف اور اللہ وہی ہے بےپروا سب تعریفوں والا

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر چاہے تم کو لے جائے اور لے آئے ایک نئی خلقت

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ بات اللہ پر مشکل نہیں

21:۔ یا ایہا الناس الخ : یہ آٹھویں عقلی دلیل ہے یعنی تم سب خدا کے محتاج ہو اور وہ کسی کا محتاج نہیں اور تمام صفات کمال سے متصف ہے لہذا اس کے سوا تمہاری کوئی معبود نہیں وہ اگر چاہے تو تم سب کو مار ڈالے اور دوسروں کو پیدا کرلے لیکن تمہارے مزعومہ معبودوں میں یہ قدرت نہیں جب انہیں اتنا بھی اختیار نہیں تو ان عاجزوں کو کیوں غائبانہ پکارتے ہو جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ان اراد ان یہلک المسیح بن مریم وامہ و من فی الارض جمیعا (المائدہ) ۔ وہ ان سب کو ہلاک کرسکتا ہے تو وہ معبود کس طرح بن سکتے ہیں۔ نیز فرمایا ان یشا یذھبکم و یستخلف من بعدکم ما یشاء (انعام) ۔ انسان جو اشرف المخلوقات ہے جب وہ خدا کا محتاج ہے تو فرشتے اور جن بطریق اولی خدا کے محتاج ہوں گے۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔ عزیز : مشکل اور دشوار۔ یعنی یہ کام اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔
Ayah 35:18

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اٹھانے والاف 22 بوجھ دوسرے کا اور اگر پکارے کوئی بوجھل اپنا بوجھ بٹانے کو کوئی نہ اٹھائے اس میں سے ذرا بھی اگرچہ ہو قرابتی تو تو ڈر سنا دیتا ہے ان کو جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور قائم رکھتے ہیں نماز اور جو کوئی سنورے گا تو یہی ہے کہ سنورے گا اپنے فائدہ کو اور اللہ کی طرف سب کو پھرجانا

22:۔ ولا تزر وازرۃ الخ : یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا جوابدہ ہوگا اور کوئی کسی کا بوجھ اٹھا کر اس کا ہاتھ نہیں بٹائے گا۔ اگرچہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ انما تنذر الخ : یہ بشارت اخروی ہے۔ تبلیغ و انذار سے صرف انہی لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو اللہ سے ڈرتے اور نماز قائم کرتے ہیں جو شخص تقوی اختیار کرتا اور اپنے نفس کو پاک کرتا ہے اس کا فائدہ بھی اسی کو پہنچے گا۔
Ayahs 35:19–21

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور برابر نہیں23 اندھا اور دیکھتا

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ اندھیرا اور نہ اجالا

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ سایہ اور نہ لو

23:۔ وما یستوی الخ : یہ مومن و کافر اور توحید و شرک کی تمثیلات ہیں۔ جس طرح اندھا ظاہری روشنی سے مھروم ہے اسی طرح کافر و مشرک نور ایمان و توحید سے محروم ہے۔ علی ہذا جس طرح سوانکھا ظاہری بینائی رکھتا ہے۔ اسی طرح مومن کا دل نور توحید سے روشن ہوتا ہے۔ الاعمی والبصیر مثلان للکافر والمومن کما قال قتادۃ والسدی و غیرھما (روح ج 22 ص 186) ۔ الظلمات کفر و شرک کے اندھیرے۔ النور، ایمان و توحید کی روشنی۔ الظل، سایہ اس سے ثواب یا جنت مراد ہے۔ الحرور، شدت گرما لیکن بقرینہ تقابل یہاں دھوپ کے معنی میں ہے۔ اور اس سے مراد عذاب یا جہنم ہے (قرطبی، خازن، روح) ۔
Ayah 35:22

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور برابر نہیں جیتے24 اور نہ مردے اللہ سناتا ہے جس کو چاہے اور تو نہیں سنانے والا قبر میں پڑے ہوؤں کو

ف 24:۔ وما یستوی الاحیاء الخ۔ احیاء (زندے) سے مراد مومنین اور اموت (مردے) سے مراد کفار ہیں۔ دل کی زندگی اور موت ایمان اور کفر ہے اس لیے مومنوں کو زندوں سے اور کافروں کو مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ضد وعناد کی وجہ سے ان کافروں کے دلوں پر مہر جباریت ثبت ہوچکی ہے اور ان کے دلوں سے قبول حق کی صلاحیت سلب کرلی گئی ہے۔ اس لیے تبلیغ و انذار سے انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا ای کما لا تسمع من مات کذالک لا تسمع من مات قلبہ (قرطبی ج 14 ص 340) ۔
Ayahs 35:23–25

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

تو تو بس25 ڈر کی خبر پہنچانے والا ہے

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم نے بھیجا ہے تجھ کو سچا دین دے کر خوشی اور ڈر سنانے والا کوئی فرقہ نہیں جس میں نہیں ہوچکا کوئی ڈر سنانے والا

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر وہ تجھ کو جھٹلائیں تو آگے جھٹلا چکے ہیں جو لوگ کہ ان سے پہلے تھے پہنچے ان کے پاس رسول ان کے لے کر کھلی باتیں اور صحیفے اور روشن کتاب

25:۔ ان انت الخ : آپ کو ہم نے دین حق اور پیغام توحید دے کر اور بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ آپ کا کام پیغام حق پہنچانا۔ ماننے والوں کو خوشخبری دینا اور منکرین کو عذاب سے ڈرانا ہے۔ منوانا آپ کا کام نہیں۔ اسی طرح ہر امت میں ڈرانے والے ہوئے ہیں۔ وان یکذبوک الخ : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ اگر مشرکین عرب ضد وعناد سے آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور دعوت توحید کو نہیں مانتے تو آپ غم نہ کریں۔ گذشتہ قوموں نے بھی اپنے پیغمبروں کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے۔ ان کے پاس انبیاء (علیہم السلام) معجزات، صحیفے اور کتابیں لے کر آئے لیکن انہوں نے پھر بھی نہ مانا من الامم العاتیۃ فلا تحزن من تکذیب ھؤلاء ایاک (روح ج 22 ص 188) ۔
Ayah 35:26

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر پکڑا میں نے26 منکروں کو سو کیسا ہوا انکار میرا

26:۔ ثم اخذت الخ : یہ تخویف دنیوی ہے جب اقوام سابقہ نے انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو دنیا ہی میں دردناک عذاب میں مبتلا کردیا۔ مشرکین مکہ اگر اسی طرح تکذیب و انکار پر قائم رہے تو ان کا بھی یہی حشر ہوگا۔
Ayah 35:27

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے27 اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح کے ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح کے ان کے رنگ اور بھجنگے کالے

27:۔ الم تر ان اللہ الخ : یہ توحید پر نویں عقلی دلیل ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کی نشانیاں ہیں کہ وہ آسمان سے مینہ برسا کر زمین سے رنگا رنگ پھل اور میوے پیدا فرماتا ہے۔ ایک ہی پہاڑ میں مختلف رنگوں کے پتھر اس نے محض اپنی قدرت سے پیدا کیے کوئی سفید، کوئی سرخ اور کوئی نہایت ہی سیاہ۔ جدد، جدۃ کی جمع ہے یعنی ٹکڑا اور خط۔ غرابیب، غربیب کی جمع ہے۔ سخت سیاہ یہ اکثر اسود کا تابع واقع ہوتا ہے اس لیے کلام میں تقدیم وتاخیر ہے اصل میں تھا۔ سود غرابیب (کالے سیاہ) ، فی الکلام تقدیم و تاخیر والمعنی و من الجبال سود غرابیب (قرطبی ج 14 ص 343) ۔ ومن الناس الخ : اسی طرح انسانوں چوپایوں اور مویشیوں کو بھی مختلف رنگوں میں پیدا کیا۔ یہ اس کے کمال قدرت و صنعت اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہے اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو اور صرف اسی کو غائبانہ پکارو۔ تقریر بوحدانیتہ تعالیٰ بادلۃ سماویۃ وارضیۃ الخ (روح ج 22 ص 188 وبحر جل د 7 ص 311)
Ayah 35:28

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور آدمیوں میں اور کیڑوں میں اور چوپاؤں میں کتنے رنگ ہیں اسی طرح اللہ سے ڈرتے وہی ہیں28 اس کے بندوں میں جن کو سمجھ ہے، تحقیق اللہ زبردست ہے بخشنے والا

ٖف 28:۔ انما یخشی الخ : یہ گذشتہ دلیل توحید کا حصہ نہیں بلکہ علیحدہ زجر ہے ایسے دلائل واضحہ کی موجودگی میں چاہئے تو یہ تھا کہ مشرکین راہ راست پر آجاتے اور صرف اللہ سے ڈرتے لیکن وہ خدا سے ڈرنے کے بجائے اپنے خود ساختہ معبودوں سے ڈرتے ہیں۔ صرف علماء جو اللہ کے دین اور اس کی توحید کو جانتے ہیں اور اس کے ساتھ شرک نہیں کرتے اور اس کے احکام کی پیروی کرتے ہیں وہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔ عن ابن عباس العالم بالرحمن من عبادہ من لم یشرک بہ شیئا واحل حلالہ و حرم حرامہ و حفظ وصیتہ و ایقن انہ ملاقیہ و محاسب بعملہ (ابن کثیر ج 3 ص 553) ۔ ان اللہ عزیز غفور : یہ وعدہ غفران ہے۔ وہ گناہوں کی سزا بھی دے سکتا ہے لیکن اگر اس کے بندے اس سے معافی مانگیں تو معاف بھی فرما دیتا ہے۔
Ayahs 35:29–30

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ پڑھتے ہیں29 کتاب اللہ اور سیدھی کرتے ہیں نماز اور خرچ کرتے ہیں کچھ ہمارا دیا ہوا چھپے اور کھلے امیدوار ہیں ایک بیوپار کے جس میں ٹوٹا نہ ہو

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

تاکہ پورا دے ان کو ثواب ان کا اور زیادہ دے اپنے فضل سے تحقیق وہ ہے بخشنے والا قدر دان

ٖ 29:۔ ان الذین الخ : یہ قرآن پڑھنے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ اسم موصول سے صحابہ کرام ؓ اور تمام مومنین مراد ہیں قال السدی ھم اصحاب الرسول ﷺ و رضی عنہم وقال عطاءھم المومنون (بحر ج 7 ص 312) ۔ اور کتاب اللہ سے قرآن مراد ہے والمراد بکتاب اللہ القرآن (روح ج 22 ص 192) اور تلاوت سے مراد ہے کماحقہ تلاوت یعنی اس کے احکام کی پیروی کرنا جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ یتلونہ حق تلاوتہ (بقرہ) اور تجارت سے مراد ثواب ہے۔ والمراد من التجارۃ ما وعد اللہ من الثواب (خازن ج 5 ص 248) ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں یرجون، صورہً خبر اور معنی انشاء ہے ای لیرجوا، یعنی جو لوگ قرآن کی تلاوت کرتے اور اس کے احکام کا اتباع کرتے ہیں، نماز قائم کرتے اور اللہ کی دی ہوئی دولت سے جائز مصارف میں خرچ کرتے ہیں وہ اللہ سے ایسے ثواب کی امید رکھیں جو ضائع نہیں ہوگا، کیونکہ انہوں نے تمام اعمال اخلاص کے ساتھ کیے ہیں۔ تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زائد از استحقاق بھی عطا فرمائے۔ انہ غفور شکور : وہ بڑے بڑے گناہوں کو معاف کردیتا اور چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو قبول کرلیتا ہے۔
Ayah 35:31

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور جو ہم نے تجھ پر اتاری30 کتاب وہی ٹھیک ہے تصدیق کرنے والی اپنے سے اگلی کتابوں کی بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار ہے دیکھنے والا

30:۔ والذی اوحینا الخ : یہ توحید پر دلیل وحی ہے ہم نے آپ پر جو کتاب نازل کی ہے وہ سراپا حق ہے اس میں ہم نے مسئلہ توحید کو ضاحت سے بیان کیا ہے اور ہم ہی نے آپ کو مسئلہ توحید بیان کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ کتاب کتب سابقہ میں بیان شدہ عقائد اور اصول احکام کی تصدیق و تائید کرتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ مسئلہ توحید کتب سابقہ میں بھی مذکور تھا۔ ان اللہ بعبادہ لخبیر بصیر : اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام ظاہری اور باطنی احوال کو جانتا ہے اس نے آپ کو مستحق اور لائق جان کر ہی آپ پر یہ سراپا حق کتاب نازل فرمائی ہے۔ جو کتب سابقہ کے لیے معیار اور کسوٹی ہے۔ فعلمک وابصر احوالک و راک اھلا لان یوحی الیک مثل ھذا الکتاب المعجز الذی ھو معیار علی سائر الکتب (مدارک) ۔
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے وارث کیے31 کتاب کے وہ لوگ جن کو چن لیا ہم نے اپنے بندوں سے، پھر کوئی ان میں برا کرتا ہے اپنی جان کا اور کوئی ان میں ہے بیچ کی چال پر اور کوئی ان میں آگے بڑھ گیا ہے لیکر خوبیاں اللہ کے حکم سے یہی ہے بڑی بزرگی

31:۔ ثم اور ثنا۔ تا۔ ولا یمسنا فیہا لغوب۔ یہ وارثان کتاب اللہ (قرآن) کے لیے بشارت اخروی ہے۔ الذین اصطفینا سے امت محمدیہ کے علماء مراد ہیں جو کتاب اللہ سمجھیں اور اس کے احکام پر عمل کریں المراد بالمصطفین علماء الامۃ من الصحابۃ و من بعدہم ممن یسیر بسیرتہم (روح ج 22 ص 195) ۔ پھر ان میں تین گروہ ہوئے۔ اول ظالم لنفسہ، جنہوں نے کتاب اللہ پر عمل کرنے اور اس کی خدمت کرنے میں بہت زیادہ کوتاہی اور سستی کی۔ دوم مقتصد، جن کے عمل بالکتاب اور مخالفت کے پلرے برابر رہے۔ سوم سابق بالخیرات، جن کے عمل بالکتاب اور اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوا۔ قال الحسن الظالم من خفت حسناتہ والمقتصد من استوت والسابق من رجحت (روح) ۔ لیکن یہ تینوں جماعتیں، جنت میں جائیں گی جیسا کہحضور ﷺ کا ارشاد ہے بروایت ابو سعید خدری ھؤلاء کلھم بمنزلۃ واحدۃ وکلہم فی الجنۃ اخرجہ احمد والطیالسی و عبد بن حمید وابن جریر و ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی والترمذی و حسنہ (روح ج 22 ص 197) ۔ نیز آپ کار ارشاد گرامی ہے سابقنا سابق و مقتصدنا ناج و ظالمنا مغفور لہ (قرطبی ج 14 ص 346) باذن اللہ، اللہ کی توفیق و تیسیر سے۔ ذلک ھو الفضل الکبیر، وراثت قرآن کے لیے امت میں سے خاص بندوں کو چن لینا اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان اور فضل ہے۔
Ayahs 35:33–34

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

باغ ہیں بسنے کے32 جن میں وہ جائیں گے وہاں ان کو گہنا پہنایا جائے گا کنگن سونے کے اور موتی کے اور ان کی پوشاک وہاں ریشمی ہے

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور کہیں گے شکر اللہ کا جس نے دور کیا ہم سے غم بیشک ہمارا رب بخشنے والا قدردان ہے

32:۔ جنت عدن الخ : یہ مبتدا ہے اور یدخلونہا خبر اول، یحلون الخ، خبر ثانی و لؤلؤا، من اس اور کے محل پر معطوف ہے۔ یا لؤلؤا فعل مقدر کا مفعول ہے۔ مثلا یؤتون (روح وغیرہ) ۔ حضرت شیخ نے یلبسون، محذوف مانا ہے۔ یدخلون اور یحلون کی ضمیروں سے تینوں جماعتیں مراد ہیں یعنی وہ سب جنات عدن میں داخل ہوں گے۔ اور انہیں سونے کے کنگن اور موتیوں کے زیور پہنائے جائیں گے۔ اور ان کا لباس ریشمی ہوگا۔ وقالوا الحمد للہ الخ : جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ کی حمد و ثنا کریں گے اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کریں گے کہ جس طرح دنیا میں تو ہی منعم اور کارساز تھا اسی طرح آج آخرت میں بھی تو ہی کارساز اور مہربان ہے۔ ہر قسم کی حمد و ثنا کے لائق وہی ذات پاک ہے جس نے ہمیں ہر غم سے آزاد کیا۔ بیشک ہمارا پروردگار گناہ گاروں پر مہربان اور چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بھی قبول فرماتا ہے۔ عن ابن عباس انہ قال فی ذلک غفر لنا العظیم من ذنوبنا و شکر لنا القلیل من اعمالنا (روح ج 22 ص 199) ۔
Ayah 35:35

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے اتارا ہم کو33 آباد رہنے کے گھر میں اپنے فضل سے نہ پہنچے ہم کو اس میں مشقت اور نہ پہنچے ہم کو اس میں تھکنا

33:۔ الذی احلنا الخ : دار المقامۃ، یہ مصدر میمی ہے، یعنی دار الاقامہ جس میں ہمیشہ رہیں گے۔ مراد جنت ہے۔ نصب، تکلیف، رنج۔ لغوب، تھکاوٹ۔ جس نے ہمیں محض اپنے فضل سے ایسے دار الاقامۃ (قیامگاہ۔ جنت) میں اتارا ہے جس میں ہمارا قیام دائمی ہوگا اور جس میں کسی قسم کی تکلیف اور مشقت نہیں۔
Ayahs 35:36–37

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جو لوگ منکر ہیں34 ان کے لیے ہے آگ دوزخ کی نہ ان پر حکم پہنچے کہ مرجائیں اور نہ ان پر ہلکی ہو وہاں کی کچھ کلفت یہ سزا دیتے ہیں ہم ہر ناشکر کو

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

اور وہ چلائیں اس میں اے رب ہم کو نکال کہ ہم کچھ بھلا کام کرلیں وہ نہیں جو کرتے رہے کیا ہم نے عمر نہ دی تھی تم کو اتنی کہ جس میں سوچ لے جس کو سوچنا ہو اور پہنچا تمہارے پاس ڈرانے والا اب چکھو کہ کوئی نہیں گناہ گاروں کا مددگار

34:۔ والذین کفروا الخ : یہ کافروں کے لیے تخوف اخروی ہے کافروں کو جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ اور جہنم میں ان پر موت نہیں آئے گی تاکہ وہ عذاب سے راحت پائیں۔ اور نہ عذاب میں کچھ تخفیف اور کمی ہی کی جائے گی۔ کفر وعناد میں انتہا کو پہنچنے والوں کو ہم ایسی سخت سزا دیتے ہیں۔ وھم یصطرخون، وہ دوزخ میں فریاد کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں ایک بار اس عذاب سے نکال کر دوبارہ دنیا میں بھیج ہم اپنے سابقہ اعمال کے برعکس اچھے کام کریں گے۔ اولم نعمرکم الخ۔ یہ اللہ کی طرف سے زجر و توبیخ کے طور پر جواب دیا جائے گا۔ کیا پہلے ہم نے تمہیں اس قدر طویل زندگی نہیں دی تھی۔ جس میں ہر وہ شخص جو عبرت حاصل کرنا اور راہ راست پر آنا چاہتا، عبرت حاصل کرسکتا تھا اور تمہارے پاس اللہ کی طرف سے پیغام سنانے والے بھی آئے لیکن اس کے باوجود تم نے ہدایت سے کوئی اثر نہ لیا اور کفر پر قائم رہے اس لیے اب اپنے کیے کی سزا کا مزہ چکھو، تم ایسے بےانصافوں کا کوئی مددگار نہیں جو تمہیں عذاب الٰہی سے بچا سکے۔
Ayah 35:38

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

اللہ35 بھید جاننے والا ہے آسمانوں کا اور زمین کا اس کو خوب معلوم ہے جو بات ہے دلوں میں

35:۔ ان اللہ الخ، یہ دسویں عقلی دلیل ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے غیب داں ہونے کا اثبات ہے زمین و آسمان کی ہر پوشیدہ چیز کو ہر جاندار کے دل کی پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا وہی سب کا فریاد رس اور کارساز ہے اس لیے مصائب و حاجات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارا کرو۔
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی ہے جس نے36 کیا تم کو قائم مقام زمین میں پھر جو کوئی ناشکری کرے تو اس پر پڑے اس کی ناشکری اور منکروں کو نہ بڑھے گی ان کے انکار سے ان کے رب کے سامنے مگر بیزاری اور منکروں کو نہ بڑھے گا ان کے انکار سے مگر نقصان

36:۔ ھو الذی الخ : یہ ترغیب الی الایمان مع تخویف اخروی ہے۔ تمہارے باپ دادے کی جگہ اللہ نے اب تمہیں زمین کا وارث بنایا اور ان کا جانشین بنایا ہے۔ اس لیے اگر تم نے بھی ناشکری کی اور شرک کیا تو اس کی سزا پاؤ گے۔ یاد رکھو جس قدر زیادہ کفر کرو گے اسی قدر زیادہ اللہ کے قہر و غضب کے مستحق بنو گے اور اسی قدر زیادہ خسارے اور نقصان میں رہوگے۔ اس لیے اگر اللہ کے عذاب سے، اس کے قہر و غضب سے اور خسارہ آخرت سے بچنا چاہتے ہو تو اس کی توحید پر اور تمام ضروریات دین پر ایمان لے آؤ اور اس کے فرمانبردار بندے بن جاؤ۔
Ayah 35:40

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو37 تو اپنے شریکوں کو جن کو پکارتے ہو اللہ کے سوا دکھلاؤ تو مجھ کو کیا بنایا انہوں نے زمین میں یا کچھ ان کا ساجھا ہے آسمانوں میں یا ہم نے دی ہے ان کو38 کوئی کتاب سو وہ سند رکھتے ہیں اس کی کوئی نہیں پر جو وعدہ بتلاتے ہیں39 گناہ گار ایک دوسرے کو سب فریب ہے

37:۔ قل ارءیتم الخ : یہ دلائل مذکورہ کا دوسرا تفصیلی ثمرہ ہے۔ جب ثابت ہوگیا کہ سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر غیر اللہ کی عبادت کیوں کرتے ہو۔ اور حاجات میں غیر اللہ کو کیوں پکارتے ہو۔ بتاؤ تو سہی جن خود ساختہ معبودوں کو تم پکارتے ہو ان کے عبادت اور پکار کے لائق ہونے کی دلیل کیا ہے ؟ ارونی ماذا الخ : یہ عقلی دلیل کا مطالبہ ہے یعنی مستحق عبادت تو صرف وہی ہوسکتا ہے جو خالق ہو۔ تو کیا تمہارے ان معبودوں نے زمین کا کوئی خطہ پیدا کیا ہے یا آسمانوں کی تخلیق ہی میں ان کا کوئی حصہ ہے ذرا دکھاؤ تو اعبدتموہم لان لہم شکرۃ فی خلق السموات ام خلقوا من الارض شیئا (قرطبی ج 14 ص 306) ۔ ٖ 38:۔ ام اتینہم الخ۔ یہ نقلی دلیل کا مطالبہ ہے کیا ہم نے ان پر کوئی کتاب نازل کی ہے جس میں ان معبودان باطلہ کی عبادت کی اجازت دی گئی ہے دونوں جگہوں میں استفہام انکاری ہے یعنی نہ زمین و آسمان کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ ہے اور نہ کسی آسمانی کتاب میں غیر اللہ کی عبادت کی اجازت دی گئی ہے۔ چونکہ وحی کا امکان نہ تھا اس لیے دلیل وحی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ والمعنی ان عبادۃ ھؤلاء اما بالعقل ولا عقل یحکم بصحۃ عبادۃ من لا یخلق جزء اما من الارض ولا لہ شرک فی السماء وام بالنقل ولم نوت المشرکین کتابا فیہ الامر بعبادۃ ھؤلاء (روح ج 22 ص 203) ۔ 39:۔ بل ان یعد الخ : یہ ماقبل سے اضراب ہے۔ یعنی مشرکین کے پاس شرک کے حق میں کوئی عقلی یا نقلی دلیل تو موجود نہیں اور وہ کسی دلیل کی بنا پر شرک نہیں کرتے بلکہ شرک کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کے اسلاف اور پیشواؤں نے ان کو جھوٹی آرزوئیں دلا کر گمراہ کردیا ہے کہ یہ شرکاء خدا کے یہاں ان کے سفارشی ہیں۔ اور ان کی عبادت و تعظیم قرب خداوندی کا باعث ہے۔ لما نفی انواع الحجج فی ذلک فی ذلک اضرب عند بذکر ما جملہم علیہ وھو تقریر الاسلاف للاخلاف واضلال الرؤساء للاتباع بانہم شفاء عنداللہ یشفعون لہم بالتقرب الیہ (ابو السعود ج 7 ص 53) ۔