Ayah 34:12:۔ الحمد للہ الخ : یہ اصل مدعا پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اس دلیل کے دو حصے ہیں۔ اول، ساری کائنات میں متصرف و مختار اور سارے جہان کا مالک اللہ ہی ہے۔ دوم، وہ عالم الغیب ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں پہلی آیت میں دلیل کا پہلا حصہ مذکور ہے یعنی تمام صفات کارسازی کا مالک اللہ ہے۔ ساری کائنات اسی کے ملک اور تصرف میں ہے۔ اس عالم کون و فساد میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اسی کے اختیار و تصرف سے ہو رہا ہے اس میں غیر خدا کا سرِ مو دخل نہیں۔ ای لہ عز و جل خلقا وملکا و تصرفا بالایجاد والاعدام والاحیاء و الاماتۃ جمیع ما وجد فیھما واخلافی حقیقتہما او خارجا عنہما متمکنا فیہما فکانہ قیل لہ ھذا العالم بالاسر (روح ج 22 ص 103) ۔
3:۔ ولہ الحمد الخ : جس طرح دنیا میں سب کچھ دینے والا اور سب کچھ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اسی طرح آخرت میں بھی وہی متصرف و مختار ہوگا اور آخرت کی تمام نعمتیں بھی وہی عطا فرمائے گا۔ اس لیے دنیا و آخرت ہر دوسرا میں وہی صفات کارسازی کا مالک ہے چناچہ الحمد للہ۔ تا۔ فی الارض میں دنیا کی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کے لائق حمد (صفات کارسازی) ہونا ذکر کیا گیا ہے جس طرح دنیا میں وہ متصرف و مختار اور لائق حمد (صفات کارسازی) ہے فھو المحمود فی الاخرۃ کما انہ المحمود فی الدنیا وھو المالک للاخرۃ کما انہ المالک للاولی (قرطبی ج 14 ص 259) ۔ وھو الحکیم الخبیر یہ ماقبل کی دوسری علت ہے وہ حکمت و تدبیر کا مالک اور ہر چیز سے باخبر ہے اس کا کوئی کام حکمت اور دانائی سے خالی نہیں ہوتا اور وہ ہر محتاج اور مصیبت زدہ سے باخبر ہے اور سب کی کارسازی فرماتا ہے۔
Ayah 34:24:۔ یعلم ما یلج الخ : یہ پہلی عقلی دلیل کا دوسرا حصہ ہے یعنی وہ عالم الغیب ہے اور کائنات کے ذرے ذرے جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے، بیج وغیرہ جس سے پیداوار ہوتی ہے اور جو کچھ زمین سے نکلتا یعنی سبزہ جو کچھ آسمان سے نازل ہوتا ہے بارش، اولے برکات اور اللہ کے فرشتے وغیرہ اور جو کچھ آسمان کی طرف جاتا ہے۔ اعمال، ارواح، فرشتے، مقصد تعمیم و احاطہ ہے یعنی وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ وھو الرحیم الغفور : یہ بھی بمنزلہ علت ہے اس دلیل کے دونوں حصوں سے ثابت ہوگیا کہ سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی مہربان اور بخشائش گر ہے اور کوئی اس سے زبردستی کام کرانے والا نہیں ہے اور اس کی بارگاہ میں کسی کو شفیع غالب نہ سمجھو۔ الرحیم، مہربان جو پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ الغفور توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔
Ayah 34:35:۔ وقال الذین کفرو الخ : یہ شکوہ ہے کفار نہ صرف توحید کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ قیامت کے بھی منکر ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی۔ قل بلی الخ : یہ جواب شکوہ ہے اور توحید کی دوسری عقلی دلیل ہے۔ فرمایا جواب دو ۔ کیوں نہیں آئیگی ؟ ضرور آئے گی مجھے اپنے مالک و مربی کی قسم جو عالم الغیب ہے اور زمین و آسمان میں ایک ذرہ بلکہ اس سے بھی کوئی چھوٹی چیز بھی اس سے اوجھل نہیں۔ ہر چھوٹی بڑی چیز اس کے علم میں ہے کتاب مبین سے یا تو لوح محفوظ یعنی علم الٰہی مراد ہے یا صحائف ملائکہ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک یہی راجح ہے یعنی تمام اعمال صغیرہ و کبیرہ کو فرشتے اپنے صحائف میں لکھ رہے ہیں تاکہ ان کے مطابق جزاء و سزا دی جائے۔
Ayahs 34:4–56:۔ لیجزی الذین الخ : یہ بشارت اخروی ہے اور لام لتاتینکم کے متعلق ہے اور یہ اس کی علت ہے یعنی قیامت ضرور آئے گی۔ تاکہ مومنوں کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے ایمان والوں کی جزاء یہ ہوگی کہ ان کی کوتاہیوں سے در گذر کیا جائیگا اور جنت میں انہیں باعزت زندگی نصیب ہوگی۔ والذین سعو الخ : یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ نہایت بیباکی سے ہماری آیتوں میں الحادو زندقہ سے کام لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ خداوند تعالیٰ کے ہاتھ نہیں آسکیں گے ان کو شدیدی ترین عذاب میں مبتلا کیا جائیگا۔
Ayah 34:67:۔ ویری الذین الخ : یہ علماء اہل کتاب سے دلیل نقلی ہے وہ علماء اہل کتاب مراد ہیں جو ایمان لا چکے ہیں۔ یعنی مومنی اھل الکتاب عبداللہ بن سلام و اصحابہ (خازن و معالم ج 5 ص 232) ۔ اور ویری یہاں بمعنی یعلم ہے ای و یعلم (روح، مدارک) ۔ ھو الحق میں ھو ضمیر فصل ہے یعنی اہل کتاب میں سے جو لوگ تورات و انجیل کے صحیح عالم تھے وہ بھی جانتے ہیں اور اس پر شاہد ہیں کہ آپ پر جو قرآن نازل کیا گیا ہے وہ سراپا حق ہے اور توحید وتقوی کی راہ دکھاتا ہے۔ یھدی الی صراط العزیز الحمید : یہ دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے یعنی اس قرآن کی نہ صرف علمائے اہل کتاب تصدیق کرتے ہیں بلکہ خود قرآن کی اندرونی شہادتیں بھی اس کی سچائی کو واضح کرتی ہیں۔ کیونکہ قرآن کی تعلیمان توحید وتقوی پر مشتمل ہیں جو اس خدائے واحد کی سیدھی ہیں جو سب پر غالب ہے اور تمام صفات کمالی سے متصف ہے۔
Ayahs 34:7–88:۔ وقال الذین کفروا الخ : یہ بھی شکوہ ہے۔ کفار تعجب و حیرت کے ساتھ ایک دوسرے سے کہتے ہیں آؤ ہم تمہیں ایک ایسا آدمی دکھائیں جو کہتا ہے جب تم مرنے کے بعد گل سڑ کر اور ذرہ ذرہ ہو کر مٹی میں مل جاؤ گے تو اس کے بعد پھر دوبارہ تمہیں از سر نو پیدا کیا جائے گا۔ افتری علی اللہ الخ : کیا اس شخص نے خدا کے ذمہ جھوٹ لگا دیا ہے کہ وہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرے گا یا (عیاذا باللہ) یہ دیوانہ ہے کہ دیوانوں کی سی باتیں کرتا ہے۔ بل الذین لا یومنون الخ : یہ جواب شکوہ ہے فرمایا کافروں کا خیال و زعم باطل ہے۔ پیغمبر (علیہ السلام) نے نہ خدا پر افترا کیا ہے اور نہ انہیں جنون ہے بلکہ یہ کافر خود انتہائی حماقت اور گمراہی میں مبتلا ہیں جس کا نتیجہ سخت عذاب کی صورت میں ان کو حاصل ہوگا۔ ان سے بڑا کم عقل اور گمراہ کون ہوگا جنہوں نے اللہ کی قدرت و حکمت اور اس کے وعدے وعید کو جھٹلا دیا۔ لیس الامر کما زعموا بل ھم فی کمال اختلال العقل و غایۃ الضلال عن الفہم والادراک الذی ھو الجنون حقیقۃ وفیما یودی الیہ ذلک من العذاب حیث انکروا حکمۃ اللہ تعالیی فی خلق العالم وکذبوہ عز وجل فی وعدہ ووعیدہ و تعرضوا السخطہ (رح ج 22 ص 111) ۔ فی العذاب : وہ عذاب میں ہیں یعنی ایسی گمراہی میں مبتلا ہیں جو موجب عذاب ہے اس طرح والضلال البعید کا عطف ما قبل پر تفسیری ہوگا۔
Ayah 34:99:۔ افلم یروا الخ : یہ تخویف دنیوی ہے۔ یہ لوگ کس قدر بیباک اور نڈر ہیں اور کیسی ڈھٹائی سے اللہ کی کتاب، مسئلہ توحید، پیغمبر خدا ﷺ اور قیامت کے دن کی تکذیب کر رہے ہیں کیا انہوں نے آنکھیں کھول کر اپنے اوپر اور نیچے زمین و آسمان کو کبھی نہیں دیکھا جنہوں نے ان کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے ؟ ان کا انکار وعناد تو اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ انہیں دنیا ہی میں ہولناک عذاب سے ہلاک کردیا جائے۔ اگر ہم چاہیں تو اقوام گذشتہ کی طرح انکار اور تکذیب کے جرم میں ان کو زمین میں دھنسا کر یا آسمان سے پتھر برسا کر تباہ و برباد کردیں۔ استئناف مسوق لتھویل ماجترء وا علیہ من تکذیب آیات اللہ تعالیٰ و استعظام ما قالوا فی حقہ (علیہ الصلوۃ والسلام) وانہ من العظائم الموجبۃ لنزول اشد العقاب وحلول افظع العذاب من غیرریث وتاخیر (ابو السعود جلد 7 ص 6) ۔ ان فی ذلک الخ : اس میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے اور فرمانبردار بندوں کے لیے اللہ کی قدرت کاملہ پر واضح دلیل ہے اور اس سے عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے اور یہ کام اس کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ ای لدلالۃ واضحۃ علی کمال قدرۃ اللہ عز وجل و انہ لا یعجزہ البعث بعد الموت و تفرق الاجزاء المحاطۃ بہا (روح ج 22 ص 112) ۔
Ayahs 34:10–1110:۔ ولقد اتینا داود الخ : یہ پہلے شبہ کا جواب ہے داود (علیہ السلام) کو ہم نے بڑی بزرگی دی۔ پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ مل کر اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتے اور لوہا ان کے ہاتھ میں موم کردیا۔ لیکن اتنی خوبیوں کے باوجود وہ شفیع غالب نہیں بن سکتے کیونکہ تمام خوبیاں اور طاقتیں ان کے قبضہ میں نہ تھیں بلکہ یہ سب کچھ ہمارے قبضہ و تصرف میں تھا اور یہ خوبیاں ہم ہی نے ان کو عطا کی تھیں۔ یجبال اس سے پہلے قلنا مقدر ہے یعنی ہم نے فرمایا۔ اے پہاڑو ! اس کے ساتھ مل کر تسبیح کا ورد کرو۔ جب حضرت داود (علیہ السلام) اللہ کی تسبیح کرتے تو اللہ کے حکم سے پہاڑ بھی زبان قال سے ان کے ساتھ بآواز بلند تسبیح کرتے۔ (روح، مدارک وغیرہ) ۔ والطیر : ابو عمرو کے نزدیک یہ سخرنا مقدر کا مفعول ہے ای و سخرنا الطیر۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک یہی راجح ہے لیکن سیبویہ کے نزدیک یہ مفعول معہ ہے۔ (قرطبی ج 14 ص 266) ۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے پرندوں کو بھی حکم دیا کہ وہ بھی تسبیح اور تقدیس میں داود (علیہ السلام) کے ساتھ شریک ہوجائیں۔
11:۔ والنا لہ الحدید الخ : اور ہم نے لوہے کو داود (علیہ السلام) کے لیے نرم کردیا۔ حضرت ابن عباس، حسن اور مقاتل ؓ فرماتے ہیں لوہا حضرت داود (علیہ السلام) کے ہاتھ میں موم اور گندھے ہوئے آٹے کی طرح نرم تھا۔ وہ جو چیز چاہتے آگ اور ہتھوڑے کے بغیر ہی نہایت آسانی سے بنا لیتے۔ بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قدر قوت عطا فرما دی تھی کہ وہ لوہے کی سختی کے باوجود جس طرح چاہتے موڑ لیتے اور ہاتھ کی قوت ہی سے اس کی تاریں کھینچ لیتے (خازن۔ ابن کثیر۔ قرطبی) ۔ سابغات : پوری مکمل زرہیں۔ جو انسان کے سارے بدن کو ڈھانپ لیں۔ سابغات ای دروعا سابغات ای کو امل تامات واسعات (قرطبی ج 14 ص 267) ۔ اور ان اعمل سے پہلے قلنا مقدر ہے وقدر فی السرد۔ السرد خرز ما یخشن و یغلظ (امام راغب) ۔ یعنی سخت اور درشت چیز کو جوڑنا مراد زرہ بننا اور اس کے حلقوں کو باہم جوڑنا ہے۔ قدر فی السرد یعنی زر ہوں کے حلقے بنانے میں ایک انداز کو قائم رکھو اور حلقوں کی مقداروں میں تناسب کو مد نظر رکھو حلقے چھوٹے بڑے نہ ہوں۔ والمعنی اقتصد فی نسج الدروع بحیث تتناسب حلقہا (روح ج 22 ص 115) ۔ واعملوا صالحا : خطاب حضرت داود (علیہ السلام) اور ان کی آل سے ہے۔ کسب معاش کے لیے بیشک مذکورہ بالا کام کرو لیکن اعمال صالحہ بجا لانا اصل مقصد زندگی ہے اس سے غافل نہ ہونا۔ میں تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں اور ہر عمل کی جزاء دوں گا۔ ای لستم مخلوقین الا للعمل الصالح فاعملوا ذلک واکثروا منہ و الکسب قدروا فیہ (کبیر ج 7 ص 87) ۔
Ayah 34:1212:۔ ولسلیمن الخ یہ دوسرے شبہ کا جواب ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ایک عظیم المرتبت پیغمبر اور ایک کبیر الشان بادشاہ تھے۔ ہوا ان کے ماتحت تھی اور جن ان کے فرمانبردار تھے۔ ایسی شان و عظمت کے باوجود وہ عنداللہ شفیع غالب نہیں بن سکتے کیونکہ یہ تمام چیزیں ان کے اپنے قبضہ و اختیار میں نہ تھیں بلکہ ہم نے اپنے حکم سے ہوا کو ان کی مطیع کردیا۔ وہ جہاں چاہتے ہوا ان کے تخت کو اٹھا کرلے جاتی۔ غدوھا شہر الخ : ہوا اس قدر تیز رفتاری سے چلتی کہ ایک مہینہ کی پیدل مسافت دن کے پہلے حصے میں اور ایک ماہ کی مسافت دن کے پچھلے حصے میں طے کرلیتی۔ قال قتادۃ کانت تقطع فی الغدو الی قرب الزوال مسیرۃ شہر وفی الرواح من بعد الزوال الی لغروب مسیرۃ شھر (بحر جلد 7 ص 264) ۔
13:۔ واسلنا الخ : ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے تانبے کا چشمہ جاری کردیا۔ بغیر آگ کی حرارت کے تانبہ پانی کی طرح سیال تھا اور ان سے دیگیں۔ پیالے اور جو چاہتے آسانی سے بنوا لیتے اذاب اللہ لسلیمان النحاس کما الان لداود الحدید (خازن ج 5 ص 233) ۔ ومن الجن الخ ای و سخرنا من الجن من یعمل (مدارک) ۔ ہم نے جنوں کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا جو ہمارے حکم سے اس کے سامنے اس کی مرضی کے مطابق مختلف خدمات انجام دیتے تھے۔ ومن یزغ الخ : جنوں میں سے جو ہمارے حکم کے مطابق سلیمان (علیہ السلام) کی اطاعت نہ کرتا بلکہ ان کی اطاعت سے سرتابی کرتا تو ہم اسے آگ کا عذاب چکھاتے۔ ان جنوں پر اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ مقرر تھا جس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہوتا تھا۔ یہ فرشتہ جنوں کو نظر نہیں آتا تھا۔ جو جن نافرمانی کرتا فرشتہ اسے آگ کے کوڑے سے مارتا (خازن، روح) بہ قال الشیخ (رح) تعالی۔ لیکن اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سے آخرت کا عذاب مراد ہے ای عذاب النار فی الاکرۃ کما قال اکثر المفسرین و روی ذلک عن ابن عباس (روح ج 22 ص 118) ۔
Ayah 34:1314:۔ یعملون لہ الخ : محاریب، محراب کی جمع ہے۔ مراد عبادت خانے، امام قتادہ فرماتے ہیں۔ محاریب سے عالیشان محالت اور مساجد مراد ہیں (بحر، روح) ۔ تماثیل، تمثال کی جمع اکثر مفسرین کے نزدیک اس سے جاندار تصاویر مراد ہیں اور حضرت سلیمان کی شریعت میں تصویر سازی جائز تھی۔ لیکن ہماری شریعت میں حرام ہے۔ وھذا یدل علی ان التصویر کان مباحافی ذالک الزمان و نسخ ذلک بشرع محمد ﷺ (قرطبی ج 14 ص 272) ۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس سے غیر جاندار اشیاء کی تصویریں یا پتھر، تانبے اور شیشے سے بنی ہوئی مکتلف اشیاء مراد ہیں قیل کانت من زجاج و نھ اس و رخام تماثیل اشیا لیست بحیوان (ایضا) ۔ امام رازی فرماتے ہیں۔ محاریب سے عالیشان محلات اور تماثیل سے ان کی دیواروں پر بنائے گئے نقش و نگار مراد ہیں۔ المحاریب اشارۃ الی الابنیۃ الرفیعۃ۔ والتماثیل ما یکون فیہا من النقوش (کبیر ج 7 ص 10) ۔ لیکن حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں ممکن ہے تماثیل سے چارپائیاں مراد ہوں چونکہ چارپائی انسان کے قد و قامت کے برابر ہوتی ہے اس لیے اسے تمثال اور مثال کہا جاتا ہے جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ نزلت عن المثال یعنی میں چارپائی سے اتر آئی۔ اس کے بعد حضرت شیخ نے لکھا ہے مثال کے معنی چارپائی اہل لغت نے لکھے ہیں۔ لیکن تمثال کے معنی چارپائی ہم نے نہیں دیکھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ جفان، جفنۃ کی جمع ہے اور الجواب، جابیۃ کی جمع ہے یعنی حوض تو جفان سے ایسی بڑی بڑی صحنکیں مراد ہیں جن میں بیک وقت پوری جماعت کھانا کھا سکے۔ قدور راسیات : ایسی بڑی اور بھاری دیگیں جو ایک جگہ قائم رہیں اور اٹھائی ہی نہ جاسکیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) یہ تمام چیزیں جنوں سے بنواتے تھے۔ جو اللہ کے حکم سے ان کے ماتحت تھے۔ اعملوا ال داود شکرا الخ : اس سے پہلے قلنا محذوف ہے یعنی ہم نے کہا آل داود سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے متعلقین مراد ہیں۔ اے آل داود ! ان بےپایاں انعامات خداوندی کا شکر بجا لاؤ۔ یعنی نیک عمل کرو۔ میرے بندوں میں شکر گذار اور اعمال صالحہ بجا لانے والے بہت کم ہیں۔
Ayah 34:1415:۔ فلما قضینا الخ : ای اوقعنا علی سلیمان الموت حاکمین بہ علیہ (روح ج 22 ص 121) ۔ یعنی جب ہم نے اپنے فیصلے کے مطابق سلیمان (علیہ السلام) پر موت واقع کردی۔ ما دلہم : ضمیر مفعول جنوں کی طرف عائد ہے جیسا کہ مشہور ہے فاضمیر فی دلہم عائد علی الجن الذین یعملون لہ (بحر ج 7 ص 266) ۔ یا اس سے جن اور آل داود اور دوسرے لوگ بھی مراد ہیں (ما دلہم) ای الجن وال داود (مدارک) اور دابۃ الارض سے دیمک مراد ہے جو ایک قسم کا کیڑا ہے اور لکڑی کو کھاتا ہے۔ حضرت داود (علیہ السلام) نے مسجد بیت المقدس کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ لیکن اس کی تکمیل سے پہلے ہی ان کی وفات ہوگئی۔ اور وفات سے پہلے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کی تکمیل کی وصیت فرما گئے۔ انہوں نے والد بزرگوار کی وصیت کے مطابق بیت المقدس کی تکمیل کے کام پر جنوں کو مامور فرمایا اور خود کام کی نگرانی فرماتے تھے ابھی تعمیر کا کام پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا کہ ان کی اجل قریب آپہنچی۔ چناچہ ایک روز وہ (حضرت سلیمان علیہ السلام) حسب دستور جنوں کو کام میں مصروف پا کر خود عبات خانے میں لاٹھی پر ٹیک لگا کر عبادت میں مصروف ہوگئے اور اسی حال میں روح مبارک قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ طویل مدت تک آپ اسی ہیئت میں رہے۔ جن اور دوسرے لوگ یہی سمجھتے رہے کہ آپ زندہ ہیں۔ اور عبادت میں مصروف ہیں۔ اور جن بھی باقاعدہ اپنے کام میں مصروف رہے۔ ادہر جنوں نے تعمیر کا کام مکمل کرلیا ادہر اللہ کے حکم سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی لاٹھی کو دیمک نے یہاں تک کھالیا کہ وہ ٹوٹ گئی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) گر پڑے۔ اب جنوں کو اور دوسرے لوگوں کو معلوم ہوا کہ ان کی موت تو عرصہ سے واقع ہوچکی ہے اور اتنا عرصہ ان کا جسم لاٹھی کے سہارے اپنی وضع پر قائم رہا ہے اب جنوں پر یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ وہ غیب نہیں جانتے۔ ان کا غیب دانی کا دعوی غلط ہے۔ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اتنا طویل عرصہ اس ذلت آمیز محنت و مشقت میں کیوں مبتلا رہتے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کو اللہ تعالیٰ نے دو حکمتوں کے لیے پوشیدہ رکھا۔ اول اس لیے کہ بیت المقدس کی تعمیر کا کام مکمل ہوجائے۔ اگر جنوں کو ان کی وفات کا علم ہوجاتا تو وہ کام کو وہیں چھوڑ دیتے۔ دوم جنوں کو دعوی تھا کہ وہ غیب جانتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کو ان سے پوشیدہ رکھ کر ان کے اس جھوٹے دعوے کا پول ظاہر فرما دیا۔ قال قتادۃ وغیرہ کانت الجن تدعی علم الغیب، فلما مات سلیمان (علیہ السلام) و خفی موتہ علیہم (تبینت الجن ان لو کانوا یعلمون الغیب ما لبثوا فی العذاب المھین) ۔ (قرطبی) ۔ یہ تیسرے شبہ کا جواب ہے۔ مشرکین جنوں کو عالم الغیب اور شفیع غالب مانتے ہیں حالانکہ یہ واقعہ ان کے دعوے کو رد کرتا ہے جن کو یہ بھی پتہ نہ چل سکا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) فوت ہوچکے ہی اور وہ ان کو زندہ سمجھ کر ان کے ڈر سے سال بھر ذلت آمیز محنت و مشقت میں مبتلا رہے وہ کسی طرح بھی غیب دان اور شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں تبینت فعل لازم ہے اور ان لوکانوا الخ جملہ الجن سے بدل الاشتمال ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) گر پڑے تو جن ظاہر ہوگئے یعنی ان کے بارے میں یہ بات ظاہر ہوگئی کہ اگر وہ غیب داں ہوتے تو اتنا عرصہ عذاب مہین میں گرفتار نہ رہتے۔
Ayah 34:1516:۔ لقد کان الخ : یہ تخویف دنیوی ہے۔ ملک سبا وہی علاقہ ہے جسے اب یمن کہا جاتا ہے یمن کا سب سے پہلا بادشاہ سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطان تھا یہ ملک اسی کے نام سے موسوم ہوا۔ سبا کے دس بیٹے تھے جن سے اس کی نسل پھیلی۔ سبا سے یہاں سبا کی اولاد اور اس کا قبیلہ مراد (مدارک، روح) ۔ شکر گذار بندوں کے ذکر کے بعد سرکش اور ناشکر گذار لوگوں کا ذکر کیا گیا تاکہ مشرکین قریش اس سے عبرت حاصل کریں۔ جس طرح قوم سبا کو سرکشی اور ناشکری کی وجہ سے تمام نعمتوں سے محروم کردیا گیا اسی طرح مشرکین قریش پر اللہ کا عتاب آسکتا ہے۔ آیۃ۔ اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کی نشانی اور اس کی وحدانیت کی دلیل۔ ایۃ دلالۃ علی وحدانیتنا وقدرتنا (معالم و خازن ج 5 ص 235) ۔ جنتٰن کی خبر مقدم محذوف ہے۔ ای لھم جنتان سے دو باغ مراد نہیں بلکہ باغوں کے دو سلسلے مراد ہیں۔ ایک شہر کے دائیں طرف اور دوسرا بائیں جانب پھیلا ہوا تھا۔ المراد بالجنتین علی ما روی عن قتادۃ جماعتان من بساتین جماعۃ عن یمین بلدھم و جماعۃ عن شمالہ (روح ج 22 ص 125) ۔ باغوں کے یہ دونوں سلسلے سینکڑوں میلوں میں پھیلے ہوئے تھے اور یہ باغات لذیذ میووں اور پھلوں اور خوشبو دار درختوں پر مشتمل تھے ملک کی آب وہوا بھی بہت عمدہ اور لطیف تھی۔ کلوا من رزق ربکم الخ ای قلنا۔ کیونکہ جب گذشتہ زمانے کے صیغہ امر کی حکایت ہو تو اس سے پہلے قلنا محذوف ہوتا ہے اتنی گوناگوں نعمتیں رب مہربان نے ان کو عطا فرمائیں اور مطالبہ صرف یہ تھا کہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اللہ کے فرمانبردار بندے بن جاؤ۔ ایسی ایسی نعمتیں اللہ نے عطا کیں اور ایسا مہربان آقا کہ غلطیوں اور نافرمانیوں پر سچے دل سے معافی مانگو تو فوراً معاف فرما دے ایسے مہربان رب اور محسن مالک کی نافرمانی اور ناشکری وہی کرسکتا ہے جو پرلے درجے کا بدبخت اور سرکش ہو۔
Ayah 34:1617:۔ فاعرضوا الخ : قوم سبا نے اللہ کے شکر سے اعراض کیا اور عیش و عشرت اور مال و دولت کے نشہ میں مخمور خدا کا احسان ہی بھول گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ناسپاسی اور کفران کی سزا یہ دی کہ ان پر ایک نہایت ہی زبردست سیلاب بھیجا جو ان کے باغوں، کھیتوں اور مکانوں کو تباہ و برباد کرکے بہا لے گیا۔ اور خوشبو دار اور لذیذ میوہ دار درختوں کے طویل و عریض باغات کا نام و نشان مٹ گیا اور جنگلی خود رو جھاڑ، بد مزہ پھل، جھاؤ کے درخت اور کچھ بیری کے درخت باقی رہ گئے۔ اس صورت میں یہ موصوف صفت ہوں گے امام ابو عبیدہ کے نزدیک خمطٍ ہر بد مزہ اور خار دار جھاڑ کو کہتے ہیں۔ اس صورت میں خمط، اکل سے سے بدل ہوگا۔ کذا فی الروح واختارہ الشیخ قدس سرہ۔ العرم : مضبوط بند جو پانی کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہو۔ اس سے رماد وہ بند ہے جو ملک سبا میں بارشوں کے پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ دو پہاڑوں کو آپس میں ملاتا تھا اور اسے ملکہ سبا نے بنایا تھا۔ ان بلقیس کان عمدت الی جبال بینہا شعب فسدت الشعت حتی کانت میاہ الامطار و العیون یجتمع فیہا و تصیر کالبحر (کبیر ج 7 ص 12) ۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم سبا سے نا سپاسی کا انتقام لینا چاہا۔ اس بند کو توڑ کر ذخیرہ آب کو ایک قیامت خیز سیلاب کی صورت میں ان پر مسلط کردیا۔ اکل خمط : بد مزہ پھل۔ اثل : جھاؤ کا درخت۔ سدر : بیری کا درخت۔
Ayah 34:1718:۔ ذلک جزیناھم الخ : یہ ہم نے ان کو ناشکری اور کفران نعمت کی سزا دی اور ہم ایسی سزا ناسپاس اور احسان فراموش لوگوں ہی کو دیا کرتے ہیں۔
Ayah 34:1819:۔ وجعلنا الخ : یہ لقد کان لسبا فی مسکنہم الخ کا اعادہ ہے بوجہ بعد عہد یعنی انعام دیگر کا ذکر ہے۔ یہ بھی اہل سبا پر اللہ تعالیٰ کا ایک انعام تھا۔ القری التی بارکنا فیہا سے ملک شام کے شہر مراد ہیں۔ یہ سرزمین سر سبز و شاداب اور ہر قسم کے پھلوں اور دیگر نعمتوں سے مالا مال تھی۔ والمراد بالقری التی بورک فیہا قری الشام وذلک بکثرۃ اشجارھا واثمارھا والتوسعۃ علی اھلہا (روح ج 22 ص 129) اور قری ظاھرۃ وہ بستیاں جو برلب سڑک واقع تھیں۔ قال قتادۃ معنی ظاھرۃ متصلۃ علی الطریق۔ (قرطبی ج 14 ص 289) ۔ قدرنا فیہا السیر : راستے پر واقع ان بستیوں کا باہمی فاصلہ ایسا مناسب کہ ایک بستی سے چل کر جلدی ہی دوسری آبادی میں پہنچ جائیں اور ضروریاتِ سفر حاصل کرنے میں کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ اہل سبا اکثر تجارت پیشہ لوگ تھے۔ اور ان کی زیادہ تر تجارت اہل شام سے تھی ان کے تجارتی قافلے دن رات سفر کرتے تھے۔ اور سفر اس قدر آسان تھا کہ کسی قسم کی تکلیف نہ تھی۔ راستے میں بستیاں چونکہ قریب قریب آباد تھیں اس لیے انہیں نہ تو کہیں جنگل میں رات کاٹنے کی ضرورت پڑتی اور نہ دیگر ضروریات حاصل کرنے میں کوئی دشواری پیش آتی۔ آبادیاں قریب قریب ہونے کی وجہ سے ان کے قافلے چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی محفوظ رہتے اور بےکھٹکے رات دن اپنا سفر جاری رکھ سکتے۔
Ayah 34:1920:۔ فقالوا الخ : یہ فاعرضوا فارسلنا علیہم الخ کا اعادہ ہے بوجہ بعد عہد یعنی انعام ثانی کی ناشکری کی سزا کا ذکر ہے۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ اللہ کے ان انعامات و احسانات کا شکر کرتے مگر انہوں نے اس کے بجائے نا شکری کی اور اللہ کی ان نعمتوں کی قدر نہ پہچانی اور کہنے لگے اللہ ! ہمارے پروردگار ! ہمارے سفر دراز کر ردے یعنی بستیوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہوتا کہ ایک بستی سے دوسری بستی تک دیر سے اور مشقت اٹھا کر پہنچیں ایسے آرام و راحت کے سفر میں سیر کا کوئی مزہ نہیں آتا۔ نیز جس قدر مشقت و محنت اٹھا کر سامان تجارت لایا جائے گا اسی قدر اس کی قیمت بھی زیادہ ہوگی۔ انہوں نے یہ مطالبہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اپنا بہت بڑا نقصان کیا۔ ممکن ہے انہوں نے زبان قال سے یہ دعا مانگی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ زبان حال سے ہو۔ یعنی انہوں نے جب ان نعمتوں کی ناشکری کی تو گویا یہ مطالبہ کیا کہ بستیاں برباد کر کے ان کے سفروں کو دراز کردیا جائے۔ بہ قال الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ ویمکن ان یقال قابوا ربنا باعد بلسان الھال ای لما کروا فقد طلبوا ان یبعد بین اسفارہم و یخرب المعمور من دیارہم (کبیر ج 7 ص 13، 14) ۔ اہل سبا نے نا شکری کی تو ہم نے ان کو افسانہ بنا دیا یعنی ان پر طوفان بھیج کر ان کے باغوں اور ان کی آبادیوں کو تباہ و ویران کردیا اور ان کی جمعیت کو متفرق و منتشر کردیا۔ اس طرح ان کا حال لوگوں کے لیے افسانہ بن گیا۔ ہر صابر و شکر گذار بندے کے لیے ان کے حال میں عبرت و نصیحت کی نشانیاں ہیں۔
Ayah 34:2021:۔ ولقد صدق الخ : ابلیس کا گمان ان کے بارے میں صحیح نکلا۔ ابلیس نے کہا تھا۔ ولا تجد اکثرہم شاکرین (اعراف رکوع 2) ۔ اے اللہ ! تو اولاد آدم میں سے بہتوں کو شکر گذار نہیں پائے گا۔ میں ان کو سبز باغ دکھا کر اپنے پیچھے لگا لوں گا۔ چناچہ اہل سبا ابلیس کے ورغلانے میں آگئے اور اس کے پیچھے لگ گئے۔ البتہ مومنوں کی ایک جماعت نے ابلیس کی پیروی نہ کی اور حق پر ثابت قدم رہے۔ من المومنین میں من بیانیہ ہے ای الا فریقا منہم المومنون لم یتبعوہ علی ان من بیانیۃ (روح ج 22 ص 134) ۔
Ayah 34:2122:۔ و ماکان الخ : بنی آدم کو گمراہ کرنے پر شیطان کو مسلط کرنے کی تکوینی مصلحت امتحان و ابتلا ہے تاکہ یہ حقیقت واضح اور آشکار ہوجائے کہ مخلص مومن کون ہے اور منافق اور مذبذب کون ہے۔ یعنی مومن و منافق متعین ہوجائیں اور ان میں امتیاز ہوجائے ویسے اللہ تالیی تو سب کو جانتا ہی ہے اسے تو معلوم ہی ہے کہ مومن کون ہے یعنی لنری و نمیر المومن من الکافر واراد علم الوقوع و الظہور اذ کان معلوما عندہ لانہ عالم الغیب (خازن ومعالم ج 5 ص 238) ۔
Ayah 34:2223:۔ قل ادعوا الخ : امر برائے توبیخ ہے یہ چوتھے شبہ کا جواب ہے۔ مشرکین فرشتوں کو بھی عند اللہ شفیع غالب سمجھتے تھے۔ اور اسی لیے ان کی عبادت و تعظیم بجا لاتے۔ تاکہ وہ خوش ہو کر خدا کے یہاں ان کی سفارش کریں۔ و رابعہا قول من قال انا نعبد الاصنام التیھی صور الملائکۃ لیشفعوا لنار الخ (کبیر ج 7 ص 15) ۔ فرمایا جن کو تم اپنے کارساز اور سفارشی سمجھتے ہو انہیں حاجات میں پکار تو دیکھو ان میں سے کوئی بھی تمہارے کام نہیں آئے گا اور وہ تمہارے کام آ بھی کس طرح سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ خود عاجز اور بےبس ہیں اور زمین و آسمان میں ایک ذرے کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ نہ زمین و آسمان کے پیدا کرنے میں ان کا کوئی حصہ ہے اور نہ اس کائنات کو پیدا کرنے میں اور سارے جہان کا نظم و نسق چلانے میں اللہ تعالیٰ کو ان میں سے کسی کے تعاون کی ضرور ہی ہے۔
Ayah 34:2324:۔ ولا تنفع الشفاعۃ الخ : اس میں نفی شفاعت قہری کا بیان ہے اور فرشتوں کے شفیع مستقل ہونے کا رد ہے باقی رہا سفارش کا معاملہ تو یہ مزعومہ سفارشی تمہاری سفارش بھی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ سفارش اللہ کی طرف سے اجازت پر موقوف ہے اور مشرک کے حق میں کسی نبی، ولی یا فرشتے کو سفارش کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ قال تعالیٰ فی ابطال قرلھم ولا تنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ فلا فائدۃ لعبادتکم غیر اللہ فان اللہ لا یاذن فی الشفاعۃ لمن یعبد غیرہ (کبیر) ۔ الا لمن اذن لہ : اس سے مراد مشفوع لہ ہے یعنی صرف اس شخص کے حق میں سفارش نافع ہوگی جس کی سفارش کرنے کی اجازت دی جائے گی مراد مومن ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے الا من شہد بالحق (زخرف رکوع 7) ۔ یعنی حق (توحید) کی شہادت دے اور ایک جگہ ارشاد ہے۔ الا لمن ارتضی (انبیاء رکوع 2) ۔ یعنی جس کو اللہ پسند فرمائے۔ حاصل یہ ہے کہ مشرک کے حق میں سفارش کرنے کی اجزت ہی نہیں ہوگی اس کی پوری تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظ ہو حاشیہ (501 ص 125) ۔
25:۔ حتی اذا الخ : یہ ماقبل سے ترقی ہے یعنی فرشتوں کا شفیع غالب ہونا تو ایک طرف رہا وہ تو اللہ کا حکم سن کر ہی ہیبت سے کانپ اٹھتے ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی ہیبت و جبروت اور فرشتوں کی عاجزی کا بیان ہے جب اللہ کی طرف سے فرشتوں کو کوئی حکم ملتا ہے تو گھبراہٹ اور ہیبت کی وجہ سے فرشتوں میں ہلچل پیدا ہوجاتی ہے اور جب گھبراہٹ اور ہیبت دور ہوجاتی ہے تو نیچے والے فرشتے اوپر والوں سے پوچھتے ہیں ذات باری تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا ہے تو وہ جواب دیتے کہ حق ہی ارشاد ہوا ہے، خطرے کی کوئی بات نہیں، تب انہیں سکون وقرار حاصل ہوتا ہے جن فرشتوں کا یہ حال ہو کہ بارگاہ ایزدی سے کوئی حکم سن کر ہی کانپ اٹھیں بھلا انہیں یہ جرات کیسے ہوسکتی ہے کہ وہ اس کی بارگاہ میں ابتداء سفارش کے لیے لب کشائی کرسکیں۔ وھو العلی الکبیر : یہ علیحدہ جملہ ہے۔ یعنی وہ بہت بلند شان اور عظمت و کبریاء کا ملک ہے اور کوئی اس کے سامنے دم نہیں مار سکتا نہ اس کے ملک اور اختیار و تصرف میں کوئی دست اندازی کرسکتا ہے۔
Ayah 34:2426:۔ قل من یرزقکم الخ : یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے (علی سبیل الاعتراف من الخصم) ۔ مشرکین سے پوچھیں کہ آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین پر نباتات اگا کر تمہاری روزی کا سامان کون کرتا ہے اس سوال کا جواب چونکہ ایک ہی ہے جس سے مشرکین کو بھی انکار نہیں اس لیےحضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ہی جواب دے دیں کہ اللہ ہی سب کا رازق ہے اس لیے ساری کائنات میں وہی متصرف و مکتار ہے اور وہی سب کا حاجت روا اور کارساز ہے اور مشرکین کے مزعومہ آلہہ اور کارساز کائنات میں تصرف کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔ امر ﷺ ان یقول تبکیتا للمشرکین بحملہم علی الاقرار بان الہتہم لا یملکون مثقال ذرۃ فی السموات ولا فی الارض وان الرزق ھو اللہ عز وجل فانہم لا ینکرونہ (روح ج 22 ص 140) ۔
27:۔ وانا او ایاکم الخ : یہ پہلا طریق تبلیغ ہے یقینا ہم یا تم مسئلہ توحید و شرک میں راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہی ہیں تعریض و کنایہ کے ساتھ اہل توحید کا راہ راست پر ہونا اور مشرکین کا کھلی گمراہی میں ہونا بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ سارے جہان کے خالق، قادرِ مطلق اور متصرف علی الاطلاق کو کارساز سمجھنے والے اور عاجز و بےبس مخلوق کو کارساز سمجھنے والے دونوں ہی حق پر ہوں اس لیے لامحالہ اہل توحید ہی حق پر ہیں۔ اور مشرکین باطل پر ہیں۔ اس طریق تبلیغ سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ تبلیغ میں نرم لب و لہجہ اور موثر ترین انداز اختیار کیا جائے۔
Ayah 34:2528:۔ لاتسئلون الخ : یہ دوسرا طریق تبلیغ ہے ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا جوابدہ ہوگا۔ تمہارے کفر و شرک کا مجھے کوئی نقصان نہیں میں جو تمہیں توحید کی دعوت دیتا ہوں تو اس سے صرف تمہاری بھلائی اور بہتری مقصود ہے ای انما اقصد بما ادعوکم الیہ الخیر لکم، لا انہ ینالنی ضرر کفرکم (قرطبی ج 14 ص 299) ۔
Ayah 34:2629:۔ قل یجمع الخ : یہ تیسرا طریق تبلیغ ہے۔ دنیا میں تو واضح اور کھلے دلائل کے باوجود تم حق کا انکار کرتے ہو اور دلائل کا فیصلہ نہیں مانتے ہو آخر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اہل حق کو جنت میں اور اہل شرک کو جہنم میں داخل کر کے اپنا فیصلہ ظاہر فرمائیگا تو اس فیصلے کے ماننے سے تمہارے لیے انکار کی کوئی گنجائش نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ عدل پر مبنی اور سراسر حق ہوگا۔
Ayah 34:2730:۔ قل ارونی الخ : یہ دلائل سابقہ کا ثمرہ ہے۔ جب سابقہ دلائل سے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ہی سارے جہان کا خالق اور وہی ساری کائنات میں متصرف و مختار ہے اور مشرکین کے مزعومہ اٰلہہ عاجز اور بےبس ہیں تو حضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ مشرکین سے فرمائیں مجھے کوئی دلیل تو بتاؤ کہ یہ معبودان باطلہ جنہیں تم نے خدا کا شریک بنا رکھا ہے جو نہ تمہیں روزی دیتے ہیں۔ نہ تدبیر عالم میں انہیں کوئی اختیار ہے وہ خدائے ذوالجلال کے کس طرح شریک بن سکتے ہیں۔ کلا ہرگز نہیں ! یہ معبودانِ باطلہ ہرگز خدا کے شریک نہیں بن سکتے۔ بل ھو اللہ الخ : بلکہ وہ اللہ جو تمام صفاتِ کارسازی کا مالک، ہر ایک پر غالب اور حکیم مطلق ہے۔ وہی اکیلا سب کا کارساز اور معبود برحق ہے۔ اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ ای ارونی بالحجۃ والدلین کیف وجہ الشرکۃ وھل یملکون مثقال ذرۃ او یرزقونکم (بحر ج 7 ص 280) ۔
Ayah 34:28ٖ 31:۔ وما ارسلنک الخ : یہ سوال مقدر کا جواب ہے، مشرکین کہتے تھے ہمارا منہ مانگا معجزہ دکھا دو تو ہم تمہیں رسول صادق مان لیں گے۔ بقرینۃ ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین۔ جواب میں ارشاد فرمایا۔ ہم نے آپ کو کائنات میں متصرف و مکتار بنا کر نہیں بھیجا کہ ہر شخص کا مطلابہ پورا فرما دیں بلکہ آپ کو تو ہم نے تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے کہ آپ اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں کو پہنچائیں۔ ماننے والوں کو جنت کی خوشخبری سنائی اور نہ ماننے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ اور وہ اپنی جہالت اور حماقت کی وجہ سے بےجا اور غیر متعلق سوالات پوچھنے لگتے ہیں۔
Ayahs 34:29–3032:۔ ویقولون الخ : یہ شکوہ ہے۔ مشرکین از راہ استہزاء و تمسخر کہتے ہیں وہ قیامت کب آئے گی جب محق و مبطل کے درمیان آخری فیصلہ ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو تو اس کی آمد کا معین وقت بتاؤ۔ قل لکم الخ : یہ جواب شکوی ہے۔ فرمایا اس وعدے یعنی قیامت کی آمد کا ایک وقت مقرر ہے۔ اور وہ اپنے مقررہ وقت پر ضرور آئے گی۔ اور اللہ تعالیٰ ان نادانوں کی عجلت پسندی کی وجہ سے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں فرمائے گا۔ اس لیے قیامت اپنے مقررہ وقت سے نہ پہلے آئے گی۔ اور نہ اس سے ایک لمحہ متاخر ہوگی۔
Ayah 34:3133:۔ وقال الذین کفروا الخ : شکوہ مع تخویف اخروی۔ یہ کفار دنیا میں تو بڑے طمطراق سے کہتے ہیں کہ ہم نہ قرآن کو مانیں گے نہ ان کتابوں کو مانیں گے جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں۔ یعنی تورات و انجیل وغیرہ جن میں مسئلہ توحید بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ اصل وجہ ٔ نزاع یہی ہے۔ ای مانزل قبل القران من کتب اللہ (مدارک) ۔ لیکن انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ ان کے اس عناد و انکار کا انجام کس قدر ہولناک ہونے والا ہے۔ ولو تری۔ تا۔ ما کانوا یعملون۔ تخویف اخروی ہے۔ اور اس میں کفار و مشرکین کے انجام بد اور میدان حشر میں اپنے راہنماؤں سے ان کی گفتگو کا ذکر ہے۔ قیامت کے دن جب یہ ظالم مشرکین اپنے مولائے حقیقی کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ان کے اور ان کے مشرک پیشوؤ کے درمیان حسب ذیل گفتگو ہوگی۔ اور دونوں ایک دوسرے کو ملامت کرینگے۔ یقول الذین استضعفوا الخ : اتباع و مریدین اپنے بڑوں اور پیشواؤں سے جنہوں نے ان کو اپنے پیچھے لگا کر گمراہ کیا، کہیں گے اگر تم ہمیں راہ راست پر چلنے اور حق و صداقت کو قبول کرنے سے نہ روکتے تو یقیناً ہم توحید و رسالت پر ایمان لے آتے اور راہ ہدایت پر گامزن ہوجاتے مگر تم نے ہمیں ہدایت قبول کرنے سے روکا اور گمراہ کردیا۔
Ayah 34:3234:۔ قال الذین استکبروا الخ : پیشوایان شرک اور صنادید کفر انے اتباع و اذناب کو جواب دیں گے کیا جب تمہارے پاس ہدایت آچکی تھی اور تم نے اسے قبول کرنے کا پختہ عزم کرلیا تھا تو کیا ہم نے تمہیں اس پر ایمان لانے اور اسے قبول کرنے سے روکا تھا ؟ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی تم غلط کہتے ہو ہم نے تمہیں ایمان لانے سے ہرگز نہیں روکا تھا بلکہ تم خود مجرم ہو۔ تم نے اپنی مرضی سے ایمان پر کفر کو اور توحید پر شرک کو ترجیح دی اور ہدایت کو ٹھکرا کر گمراہی قبول کی۔ ای لسنا نحن الذین حلنا بینکم و بین الایمان بعد اذ صممتم علی الدخول فیہ بل انتم منعتم انفسکم خطہا باجرامکم وایثارکم الکفر علی الایمان (روح ج 22 ص 145)
Ayah 34:3335:۔ وقال الذین استضعفوا الخ : اتباع و مریدین اپنے پیشواؤں کے جواب الجواب میں کہیں گے نہیں ! نہیں ! ہم خود گمراہ نہیں ہوئے۔ بلکہ ہمیں تمہاری چالوں اور تدبیروں ہی نے گمراہ کیا جو تم رات اور دن میں سوچا کرتے تھے۔ مکرالیل : مکر کا مضاف الیہ حذف کر کے ظرف کو اس کے قائم مقام رکھا گیا ہے۔ ای بل صدنا مکرکم بنا بالیل والنہار فحذف المضاف الیہ واقیم مقامہ الظرف اتساعا (ابو السعود ج 7 ص 22) ۔
36:۔ واسروا الخ : مشرک اتباع و متبوعین چونکہ دونوں گروہ ہی مجرم ہیں اور دونوں کو اپنے اپنے مجرم ہونے کا احساس بھی ہوگا۔ لیکن ذلت و رسوائی سے بچنے کے لیے وہ کئی بہانے اور باتیں بنائیں گے۔ آخر جب کوئی بہانہ کام نہ آئے گا اور وہ عذاب کا مشاہدہ کرلیں گے جو ان کے لیے تیار ہے تو وہ اپنی رسوائی پر مزید پردہ ڈالنے کے اپنی پشیمانی اور ندامت کو چھپائیں گے۔ اور پشیمانی کے قول و فعل سے اظہار کے بجائے دل ہی دل میں نادم و پشیمان ہوں گے۔ اب ابن مجرموں کے گلوں میں لوہے کے طوق ڈال کر انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جیسے برے ان کے اعمال تھے ویسی ہی ان کو سخت سزا ملے گی۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں۔ اسرار کے تین معنی ہیں۔ اظہار، اخفاء، اور دل میں پشیمان ہونا۔ یہاں تینوں معنی بن سکتے ہیں۔ لیکن تیسرا معنی زیادہ مناسب ہے۔
Ayahs 34:34–3537:۔ وما ارسلنا الخ : یہ تخویف دنیوی ہے۔ ہم نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی پیغمبر بھیجا تو وہاں کے دولت مند اور غرور پسند طبقہ نے متکبرانہ انداز میں ان سے کہا تم جو پیغام لے کر آئے ہو ہم اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وقالوا نحن اکثر اموالا الخ : ہم تم سے مال و دولت اور آل اولاد میں زیادہ ہیں۔ اس لیے ہمیں کسی قسم کا کوئی عذاب نہیں ہوگا۔ اگر ہم اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ اور لائق سزا ہوتے تو وہ وفورِ دولت اور کثرت اولاد سے کیوں ہمارا اعزاز واکرام فرماتا۔ ارادوا انہم اکرم علی اللہ من ان یعذبہم نظر الی احوالہم فی الدنیا و ظنوا انہم لو لم یکرموا علی اللہ لما رزقھم اللہ (مدارک) ۔
Ayah 34:3638:۔ قل ان ربی الخ : یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے۔ اور کافروں کے مذکورہ بالا زعم باطل کا جواب بھی ہے۔ رزق جوہر جاندار کی بنیادی ضرورت ہے وہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور پھر رزق کی تنگی اور فراخی بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ اس لیے وہی ساری کائنات کا الہ اور کارساز ہے۔ نیز رزق کی فراخی اور تنگی اللہ تعالیٰ کی تکوینی مصلحتوں پر مبنی ہے۔ اس لیے کثرت دولت دولت عنداللہ معزز ومحترم ہونے کی دلیل نہیں۔ نہ قلت مال عند اللہ مبغوض ہونے کی دلیل ہے۔ لہذا مشرکین کا کثرت مال و اولاد پر اترانا اور فخر کرنا بےسود ہے۔
Ayah 34:3739:۔ وما اموالکم الخ یہ زجر ہے۔ زلفی، تقرب کا مفعول مطلق ہے من غیر لفظہ۔ یہ خطاب کفار سے ہے یعنی مال و اولاد کی کثرت اللہ تعالیی کی بارگاہ میں قرب و کرامت کی دلیل نہیں ہے۔ الا من امن الخ : استثناء منقطع ہے اور یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ فاولئک کی خبر محذوف ہے۔ ای مقربون اور لھم جزاء الضعف الخ جملہ ماقبل کا معلول ہے قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے وہ خدا کے یہاں مقرب ہیں اور اسی وجہ سے انہیں ان کے اعمال کی دگنی جزاء ملے گی۔ اور وہ جنت کے بالا خانوں میں امن و سکون سے رہیں گے۔ جزاء الضعف میں اضافت بیانیہ ہے۔
Ayah 34:3840:۔ والذین یسعون الخ : یہ کافروں کے لیے تخویف اخروی ہے جو قرآنی دلائل کے باطل کرنے کے زعم باطل میں آیتوں پر محض عناداً طعن وتشنیع کرتے ہیں اور اپنے خیال میں سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے سبقت لے جائیں گے۔ ایسے معاندین کو عذاب جہنم میں مبتلا کیا جائے گا۔ معٰجزین : ہرانے کی غرض سے مقابلہ کرنے والے۔
Ayah 34:3941:۔ قل ان ربی الخ : یہ تیسری عقلی دلیل کا اعادہ ہے۔ وما انفقتم الخ : رزق کی فراخی اور تنگی چونکہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس کا بدل عطا فرمائے گا دنیا میں یا آخرت میں یا ہر دو سرا میں۔ ای یعطیکم خلفہ و بدلہ وذلک البدل اما فی الدنیا وا ما فی الاخرۃ (قرطبی ج 14 ص 306) ۔