34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 34:40–41

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن جمع کرے گا42 ان سب کو پھر کہے گا فرشتوں کو کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

وہ کہیں گے پاک ذات ہے تیری ہم تیری طرف میں ہیں نہ ان کی طرف میں نہیں پر پوجتے تھے جنوں کو یہ اکثر انہی پر اعتقاد رکھتے تھے

42:۔ و یوم یحشرھم الخ : یہ مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ جنہوں نے فرشتوں کو سفارشی اور کارساز سمجھ رکھا ہے۔ قیامت کے دن جب عابدین و معبودین کو جمع کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا، کیا یہ (فرشتوں کے پجاریوں کی طرف اشارہ ہے) دنیا میں تمہاری عبادت کیا کرتے تھے اور حاجات میں تمہیں پکارا کرتے تھے ؟ ، قالوا سبحنک الخ : فرشتے جواب میں عرض کریں گے۔ بارے الٰہا ! تو تو ہر قسم کے شریک سے پاک ہے۔ ہمارے اور ان کے درمیان ولایت و موالات کا کوئی تعلق نہیں تو ہی ہمارا ولی و ناصر ہے ای انت الذی توالیہ من دونھم لا موالاۃ بیننا و بینہم (روح ج 22 ص 151) ۔ سبحنک ننزھک عن ان یکون غیرک معبودا وانت معبودنا و معبود کل شیء (کبیر ج 7 ص 22) ۔ بل کانوا الخ : حقیقت میں یہ لوگ جنات کی عبادت کیا کرتے تھے اور انہیں کارساز سمجھ کر پکارا کرتے تھے اور ان میں سے بہت سے جنوں کے کارساز ہونے کا اعتقاد رکھتے تھے۔ قبیلہ خزاعہ کی شاخ بنو ملیح جنات کی عبادت کرتے تھے۔ جنات کبھی ان کے سامنے ظاہر بھی ہوجاتے تو وہ سمجھتے یہ فرشتے ہیں اور یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ ان حیا یقال لہم بنو ملیح من خزاعۃ کانوا یعبدون الجن و یزعمون ان الجن تراءی لہم وانہم ملائکۃ وانہم بنات اللہ الخ (قرطبی ج 14 ص 309) ۔
Ayah 34:42

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

سو آج43 تم مالک نہیں ایک دوسرے کے بھلے کے نہ برے کے اور کہیں گے ہم ان گناہ گاروں کو چکھو تکلیف اس آگ کی جس کو تم جھوٹ بتلاتے تھے

43:۔ فالیوم الخ : آج تمہارے یہ مزعومہ معبود اور سفارشی تمہیں کسی قسم کا نفع نہیں پہنچا سکیں اور نہ تمہیں عذاب ہی سے بچا سکیں گے۔ اس لیے آج جہنم کے اس ہولناک عذاب کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے ای لا یقع لکم نفع ممن کنتم ترجون نفعہ الیوم من الانداد والاوثان التی ادخرتم عبادتہا لشدائدکم و کر بکم الیوم لا یملکون لکم نفعا ولا ضرا (ابن کثیر ج 3 ص 542) ۔
Ayah 34:43

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اور جب پڑھی جائیں44 ان کے پاس ہماری آیتیں کھلی کھلی کہیں اور کچھ نہیں مگر یہ ایک مرد ہے چاہتا ہے کہ روک دے تم کو ان سے جن کو پوجتے رہے تمہارے باپ دادے اور کہیں اور کچھ نہیں یہ جھوٹ ہے باندھا ہوا اور کہتے ہیں منکر حق بات کو جب پہنچے ان تک اور کچھ نہیں یہ ایک جادو ہے صریح

44:۔ واذا تتلی الخ : یہ شکوی ہے۔ مشرکین ضد وعناد میں اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ جب ان کے سامنے ہمارے پیغمبر ﷺ ہماری واضح اور روشن آیتیں پڑھتے ہیں تو ان میں غور فکر کرنے اور انہیں ماننے کے بجائے وہ کہتے ہیں کہ اصل میں یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمیں اپنے باپ دادا کے معبودوں اور ان کے دین سے ہٹا کر اپنے پیچھے لگا لے اور خود بڑا بن کر ہمیں اپنے ماتحت کرلے۔ وقالوا ما ھذا الخ : اور یہ جو قرآن پڑھتا ہے اور جو دین ہمارے سامنے پیش کرتا ہے اور یہ سب کچھ خدا کی طرف سے بتاتا ہے یہ سب اس کا اپنا ساختہ پرداختہ ہے۔ اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ وقال الذین الذین کفروا الخ : الحق سے نبوت اور معجزات مراد ہیں۔ للحق ای لامر النبوۃ التی معہا من خوارق العادۃ ما معہا (روح ج 22 ص 153) ۔ مشرکین ضد وعناد میں آ کر نبوت اور معجزات کو صریح جادو قرار دیتے ہیں۔
Ayah 34:44

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور ہم نے دی نہیں ان کو45 کچھ کتابیں کہ جن کو وہ پڑھتے ہوں اور بھیجا نہیں ان کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا

45:۔ وما اتینہم الخ : ان مشرکین مکہ کے پاس ہم نے کوئی آسمانی کتابیں بھی نہیں بھیجیں۔ جنہیں وہ پڑ تھے پڑھاتے رہے ہوں اور ان میں شرک کی تعلیم ہو۔ نہ آپ سے پہلے ہم نے ان میں کوئی رسول مبعوث کیا ہے۔ جس نے انہیں شرک کی دعوت دی ہو اور ترک شرک پر انہیں عذاب کی دھمکی دی ہو۔ اس لیے وہ توحید کے انکار میں اور شرک پر قائم رہنے میں ہرگز معذور نہیں ہیں اور ان کا کوئی عذر اور شبہ انہیں تکذیب کی گنجائش نہیں دے سکتا۔ ای لم یقرء وا فی کتاب اوتوہ بطلان ما جت بہ ولا سمعوہ من رسول بعث الیہم۔ فلیس لتکذیبہم وجہ یتشبث بہ (قرطبی ج 14 ص 310) ۔ وہ اپنے گمراہ اور مشرک باپ دادا کے عمل کو دلیل بنائے ہوئے ہیں جسے دلائل عقلیہ اور براہین نقلیہ کے مقابلے میں پیش کرنا جہالت و حماقت ہے۔ فالایات البینات لا تعارض الا بالبراہین العقلیۃ ولم یاتوا بہا او بالنقلیات و ما عندھم کتاب ولا رسول غیرک الخ (کبیر ج 7 ص 24) ۔
Ayah 34:45

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور جھٹلایا ہے46 ان سے اگلوں نے اور یہ نہیں پہنچے دسویں حصہ کو اس کے جو ہم نے ان کو دیا تھا پھر جھٹلایا انہوں نے میرے بھیجے ہوؤں کو تو کیسا ہوا انکار میرا

46:۔ و کذب الخ : یہ تخویف دنیوی ہے بلغوا کی ضمیر فاعل سے مشرکین عرب مراد ہیں اور اتینہم کی ضمیر مفعول الذین من قبلہم سے کنایہ ہے۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔ یعنی مشرکین مکہ سے پہلے جو قومیں گذر چکی ہیں انہیں ہم نے اس قدر دولت، قوت، شان و شوکت اور دنیوی ساز و سامان کی فراوانی عطا فرمائی تھی کہ مشرکین مکہ کے تمام وسائل و اسباب ان کے وسائل کا عشر عشیر بھی نہیں۔ جب ان قوموں نے ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو بری طرح پکڑا اور ذلیل و رسوا کر کے انہیں تہس نہس کردیا اور ان کی ساری دولت و شوکت اور شیخی دھری کی دھری رہ گئی۔ یہ مشرکین مکہ تو ان کے مقابلے میں کسی شمار میں بھی نہیں ہیں۔
Ayah 34:46

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

تو کہہ میں تو ایک ہی نصیحت47 کرتا ہوں تم کو کہ اٹھ کھڑے ہو اللہ کے نام پر دو دو اور ایک ایک پھر دھیان کرو کہ اس تمہارے رفیق کو کچھ سودا نہیں یہ تو ایک ڈرانے والا ہے48 تم کو ایک بڑی آفت کے آنے سے

47:۔ قل انما الخ : یہ ترغیب فی التوحید اور چوتھا طریق تبلیغ ہے۔ مشرکین ازراہ عناد و تعنت حضرت پیغمبر خدا ﷺ پر جنون کی پھبتی کستے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ دیانت و امانت سے اس معاملہ کا فیصلہ کرنے کی مشرکین کو دعوت دیں اور اپنی سچائی جانچنے کا انہیں یہ طریقہ بتائیں۔ آؤ تم دیانت اور اخلاص نیت سے خدا کو حاضر و ناضر جان کر دو دو ہو کر یا تنہا تنہا ہو کر سوچو اور غور و فکر کرو کہ میں عرصہ دراز سے تم میں رہ رہا ہوں، میری امانت، راست گوئی۔ اصابت رائے اور میری فکری و ذہنی صلاحیتوں کا تم ذاتی تجربہ رکھتے ہو۔ کیا میرا دماغ چکرا گیا ہے اور مجھے جنون ہوگیا ہے کہ میں نے رسالت کا دعوی کردیا ہے۔ توحید کو حق اور شرک کو باطل کہتا ہوں اور دوبارہ جی اٹھنے اور آخرت کے حساب کتاب کو حق قرار دیتا ہوں۔ ثم تتفکروا فی انتفاء الجنۃ عن محمد ﷺ فان اثبات ذلک لا یصح ان یتصف بہ من کان ارجح قریش عقلا واثبتہم ذھنا واصدقہم قولا انزھھم نفسا و من ظہر علی یدیہ ھذا القران المعجز فیعملون بالفکرۃ ان نسبتہ للجنون لایمکن (بحر ج 7 ص 291) ۔ 48:۔ ان ھو الا الخ : اسے جنون نہیں وہ تو اللہ کا سچا پیغمبر ہے اور تمہارا مخلص خیر خواہ ہے جو تمہیں ہولناک عذاب کی آمد سے پہلے ہی تمہیں اس سے خبر دار کر رہا ہے۔
Ayah 34:47

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

تو کہہ جو میں نے تم سے مانگا ہو49 کچھ بدلہ سو وہ تمہی رکھو میرا بدلہ ہے اسی اللہ پر اور اس کے سامنے ہے ہر چیز

49:۔ قل ما سالتکم الخ یہ پانچواں طریق تبلیغ ہے۔ آپ فرما دیں میں تبلیغ حق پر تم سے کوئی اجرت یا چند وغیرہ نہیں مانگتا۔ اگر میں کوئی چندہ یا اجرت مانگوں تو وہ تم ہی لے لینا۔ یہ سرے سے اجرت نہ لینے سے کنایہ ہے۔ والمراد نفی السؤال راسا (روح ج 22 ص 155) ۔ ان اجری الخ : میری اجرت تو اللہ کے ذمہ ہے جو ہر چیز سے باخبر ہے اور میری سچائی اور خلوص نیت کو جانتا ہے۔
Ayah 34:48

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

تو کہہ میرا رب50 پھینک رہا ہے سچا دین اور وہ جانتا ہے چھپی چیزیں

50:۔ قل ان ربی الخ : یہ چھٹا طریق تبلیغ ہے۔ میرا پروردگار جو ہر چھپی چیز کو جانتا ہے حق کو خوب کھول کر بیان کرتا ہے اور وحی کے ذریعہ انبیاء (علیہم السلام) پر نازل فرماتا ہے تاکہ وہ اس کی تبلیغ و اشاعت کریں۔ یقذف بالھق یلقیہ و ینزلہ الی انبیائہ (مدارک) ای یبین الحجۃ ویظہرھا (قرطبی) ۔
Ayah 34:49

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

تو کہہ آیا دین سچا51 اور جھوٹ تو کسی چیز کو نہ پیدا کرے اور نہ پھیر کر لائے

51:۔ قل جاء الخ : یہ ساتواں طریق تبلیغ ہے۔ آپ فرما دیجئے اب حق کا مقابلہ کرنا موت کو دعوت دینا ہے۔ کیونکہ اب حق غالب آچکا ہے اور باطل بےجان ہوچکا ہے۔ باطل میں اب حق کا مقابلہ کرنے کی سکت باقی نہیں رہی ای ذھب واضمحل بحیث لم یبق لہ اثر (روح ج 22 ص 156) ۔ یا باطل سے معبودان باطلہ مراد ہیں یعنی معبود باطل نہ ابتداء کسی کو پیدا کرسکتا ہے نہ کسی مرے ہوئے کو زندہ کرسکتا ہے۔
Ayah 34:50

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

تو کہہ اگر میں بہکا ہوا ہوں52 تو بہکوں گا اپنے ہی نقصان کو اور اگر ہوں سیدھے راستہ پر تو اس سبب سے کہ وحی بھیجتا ہے مجھ کو میرا رب، بیشک وہ سب کچھ سنتا ہے نزدیک

52:۔ قل ان ضللت الخ : یہ آٹھواں طریق تبلیغ ہے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں، غلط بات اور گمراہی کی دعوت نہیں دے رہا ہوں۔ اگر میں جھوٹ کہوں گا اور تمہیں گمراہی کی دعوت دوں گا تو اس کا وبال مجھ پر پڑے گا۔ اور اگر میں راہ راست پر چل رہا راہ توحید کی طرف بلا رہا ہوں اس کی راہنمائی مجھے وحی الٰہی سے ہوئی ہے۔
Ayah 34:51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور کبھی تو دیکھے53 جب یہ گھبرائیں پھر نہ بچیں بھاگ کر اور پکڑے ہوئے آئیں نزدیک جگہ سے

53:۔ ولو تری الخ : یہ تخویف اخروی ہے۔ فلا فوت : یعنی بھاگ نہ سکیں گے۔ واخذوا الخ : یہ بھی اسی سے کنایہ ہے قیامت کے دن جب وہ میدانِ حشر کی ہولناکی سے گھبرا اٹھیں گے تو اس وقت وہ کہیں بھاگ کر جان نہیں بچا سکیں گے۔ اور انہیں پکڑ لینا نہایت ہی آسان ہوگا۔ وحیثنا کانوا فہم من اللہ قریب لا یفوتونہ ولا یعجرزونہ (معالم و خازن ج 5 ص 243) ۔
Ayah 34:52

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور کہنے لگیں ہم نے اس کو یقین مان لیا54، اور اب کہاں ان کا ہاتھ پہنچ سکتا ہے بعید جگہ سے

54:۔ وقالو امنا الخ : التناوش : پکڑنا۔ اور مکان بعید سے مراد دنیا ہے جو ایمان لانے کی جگہ تھی جو آخرت سے اب دور نکل چکی ہے۔ آخرت کا عذاب دیکھ کر مشرکین و کفار کہیں گے ہم اللہ کی توحید اور اس کے پیغمبروں کی رسالت پر ایمان لے آئے۔ لیکن جو ایمان قابل اعتبار ہے وہ تو دنیا کا ایمان ہے اور دنیا اب بہت دور نکل چکی ہے اور اتنی دور سے اب وہ کسی طرح بھی ایمان حاصل نہیں کرسکتے۔ انی لھم تناول الایمان فی الخرۃ وقد کفروا بہ فی الدنیا (قرطبی ج 14 ص 316) ۔
Ayah 34:53

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

اور اس سے منکر رہے55 پہلے سے اور پھینکتے رہے بن دیکھے نشانہ پر دور کی جگہ سے

55:۔ و قد کفروا بہ الخ : ای یقال یعنی کہا جائے گا۔ آخرت سے پہلے وہ دنیا میں کفر کرچکے ہیں جو ایمان لانے کی جگہ تھی اس لیے اب ایمان لانا بےفائدہ ہے۔ ویقذفون الخ : جب دنیا میں تھے تو حق سے بہت دور تھے اور اٹکل کے تیر چلاتے تھے یعنی آخرت جوان دیکھی چیز تھی کے بارے میں دنیا میں جو آخرت سے بہت دور تھی اٹکل سے باتیں کرتے تھے۔ اور حشر و نشر اور آخرت کا انکار کرتے تھے۔
Ayah 34:54

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور رکاوٹ پڑگئی56 ان میں اور ان کی آرزو میں جیسا کہ کیا گیا ہے ان کے طریقہ والوں کے ساتھ اس سے پہلے وہ لوگ تھے ایسے تردد میں جو چین نہ لینے دے

56:۔ وحیل الخ : حیل اور فعل دونوں بمعنی مضارع ہیں مشکرین قیامت کے دن کئی آرزوئیں کریں گے۔ توبہ قبول ہوجائے۔ ایمان قبول ہو۔ دنیا میں واپس بھیجدئیے جائیں۔ عذاب سے نجات مل جائے وغیرہ وغیرہ لیکن ان کی کوئی آرزوپوری نہ ہونے دی جائے گی۔ ان کے اور ان کی آرزؤں کے درمیان آڑ حائل کردی جائے گی۔ جیسا کہ ان کے دوسرے ہم مشربوں سے بھی یہی سلوک کیا جائے گا جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں۔ یہ لوگ دنیا میں بھی دین اسلام کی سچائی اور توحید کے بارے میں بڑے شک اور تذبذب میں تھے اور انہیں اطمینان قلب نصیب نہ ہوا۔ اس لیے آخرت میں بھی وہ حیران و سرگرداں رہیں گے۔ اور انہیں سکون میسر نہ ہوگا۔ فی شک ای من امر الرسل والبعث والجنۃ والنار وقیل فی الدین والتوحید والمعنی واحد (قرطبی ج 14 ص 318) ۔ شک مریب : ایسا شک جو نہایت قوی ہو اور انسان کو قلق اور اضطراب میں ڈال دے قال ابن عطیۃ الشک المریب اقوی ما یکون من الشک (روح ج 22 ص 160) ۔ سورة سبا میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ الحمد للہ الذی لہ مافی السموات وما فی الارض۔ تا۔ وھو الرحیم الغفور۔ (رکوع 1) ۔ نفی شرک فی التصرف و نفی شرک فی العلم۔ 2 ۔ علم الغیب لا یعزب عنہ مثقال ذرۃ۔ تا۔ الا فی کتاب مبین۔ (رکوع 1) نفی شرک فی العلم۔ 3 ۔ قل ادعوا الذین زعمتم۔ تا۔ وما لہ منہم من ظہیر (رکوع 3) ۔ نفی شرک فی التصرف (شرک اعتقادی) 4 ۔ ولا تنفع الشفاعۃ۔ تا۔ وھو العلی الکبیر (رکوع 3) ۔ نفی شفاعت قہری۔ 5 ۔ قل من یرزقکم من السموات والارض قل اللہ (رکوع 3) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 6 ۔ قل ارونی الذین الحقتم بہ شرکاء کلا۔ بل ھو اللہ العزیز الحکیم (رکوع 3) ۔ نفی شرک ہر قسم۔ 7 ۔ قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء و یقدر ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔ (رکوع 4) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 8 ۔ و یوم یحشرھم جمیعا۔ تا۔ التی کنتم بھا تکذبون۔ (رکوع 5) ۔ نفی شرک فی التصرف ونفی شفاعت قہری۔ سورة سبا ختم ہوئی