Ayah 33:12:۔ یا ایہا النبی الخ صلح حدیبیہ کے بعد مشرکین و منافقین کا ایک وفد جو ابو سفیان، عکرمہ بن ابو جہل، عبداللہ بن ابی اور معتب بن قشیر وغیرہ پر مشتمل تھاحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا۔ اے محمد ! ہم تم سے یہ چاہتے ہیں کہ تم ہمارے معبودوں کو برائی سے یاد کرنا چھوڑ دو ۔ اور صرف اتنی بات مان لو کہ وہ عندہ اللہ شفیع ہیں اور نفع پہنچا سکتے ہیں تو تمہیں آزادی ہے کہ بیشک تم اپنے خدائے واحد کی عبادت کرو، اور دوسرے احکام کی تبلیغ کرو، ہم تم سے کوئی تعرض نہ کریں گے۔ یہ بات آپ کو بہت ناگوار گذری اس پر یہ آیتیں نازل ہوئی۔ قالو الرسول اللہ ﷺ ارفض ذکر الہتنا وقل انھا تشفع و تنفع و ندعک وربک فشق ذلک علی النبی ﷺ والمومنین وھموا بقتلھم فنزلت (روح ج 21 ص 143) وکذا فی المعالم والخازن وغیرہما۔ مشرکین چاہتے تھے کہ نبی ﷺ اگر نرم ہوجائیں تو وہ بھی اپنا رویہ نرم کرلیں گے۔ لیکن اللہ نے آپ کو اس معاملہ میں نرمی اختیار کرنے سے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ تبلیغ توحید میں ذرہ برابر کوتاہی یا نرمی نہ ہونے پائے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ودوا لو تدھن فیدھنون (القلم) اور مائدہ میں فرمایا بلغ ما انزل الیک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ اور بنی اسرائیل میں ارشاد لقد کدت ترکن الیہم شیئا قلیلا اذا لاذقنک ضعف الحیوۃ و ضعف المماۃ الخ۔ یہ آیتیں تین اوامر اور ایک نہی پر مشتمل ہیں۔
3:۔ اتق اللہ الخ۔ یہ پہلا امر ہے یعنی تقوی اور خوف خدا پر قائم رہیں اور اللہ کے احکام کے خلاف ہرگز کوئی قدم نہ اٹھائیں والمقصود الدوام والثبات علیہا (روح ج 21 ص 143) ۔ ولا تطع الکفرین الخ یہ نہی ہے کہ کفار اور منافقین نے آپ سے جو نرمی کرنے کا مطالبہ کیا ہے آپ ان کی بات ہرگز نہ مانیں اور مسئلہ توحید بیان کرنے میں ہرگز ان کی رو رعایت نہ فرمائیں اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے اگر آپ کی نرمی سے ان کے ایمان لانے کا امکان ہوت تو آپ کو نرمی کرنے سے روکا نہ جاتا ودل بقولہ ان اللہ کان علیما حکیما علی انہ کان یمیل الیہم استدعاء لھم الی الاسلما ای لو علم اللہ عز وجل ان میلک الیہم فیہ منفعۃ لما نھاک عنہ لانہ حکیم (قرطبی ج 14 ص 115) ۔
Ayah 33:24:۔ واتبع الخ یہ دوسرا امر ہے اللہ کی طرف سے آپ پر جو امور و احکام دین وحی ہورہے ہیں آپ ان کی پیروی کریں کفار اور منافقین کی باتوں کی پیروی نہ کریں اللہ تعالیٰ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے اہل ایمان کو صلاح وتقوی کی راہیں سمجھاتا ہے اور کفار و منافقین کے مکروفریب سے باخبر کردیتا ہے ان اللہ خبیر بما یعملہ کلا الفریقین فیرشدک الی ما فیہ صلاح حالک و انتظام امرک و یطلعک علی ما یعملونہ من المکائکد والمفاسد (ابو لسعود ج 6 ص 763) ۔
Ayah 33:35:۔ و توکل الخ۔ یہ تیسرا امر ہے۔ آپ بلا خوف و خطر توحید کی تبلیغ کرتے جائیں اور اگر کوئی ڈر خطرہ ہو تو اللہ پر بھروسہ کریں اور اپنے تمام معاملات خدا کے سپرد کریں اس سے بہتر کوئی کارساز اور حافظ و ناصر نہیں۔
Ayah 33:46:۔ ما جعل اللہ الخ یہ ماقبل کی دلیل ہے بطور تمثیل فرمایا جس طرح ایک جوف میں دو دل جمع نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک دل میں دو اعتقاد جمع نہیں ہوسکتے اس لیے یہ ناممکن ہے کہ آپ اللہ کو بھی نافع و ضار سمجھیں اور مشرکین کے باطل معبودوں کو بھی۔ لا یجتمع الکفر والایمان با اللہ تعالیٰ فی قلب کما لایجتمع قلبان فی جوف فالمعنی لا یجتمع اعتقادان متغایران فی قلب الخ۔ (قرطبی ج 4 ص 117) ۔ یا دو دل ہونے سے دو رخ ہونا مراد ہے کہ خدا کو بھی نافع سمجھے اور غیر اللہ کو بھی خدا سے بھی ڈرے اور غیر خدا سے بھی، دو دل بودن بجز بےحاصلی نیست۔
یکے بینوی کے دانوی کے گو
یکے خواہ و یکے خوانوی کے جو
7:۔ و ما جعل ازواجکم الخ۔ یہ ماقبل کے لیے پہلی نظیر ہے۔ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کرلیتا یعنی اپنی بیوی سے کہہ دیتا کہ تو میرے لیے میری ماں کی مانند ہے تو وہ اسے طلاق کا درجہ دیتا اور کسی صورت میں بیوی کے طور پر اپنے پاس نہ رکھتا اور اسے ہمیشہ اپنی ماں کے مانند سمجھتا۔ اسلام نے اس رسم جاہلیت کو اٹھایا اور کفارہ ظہار ادا کرنے کے بعد تعلقات زوجیت بحال رکنے کا حکم دیا اس آیت میں ارشاد فرمایا تم اپنی بیوی کو ظہار کے بعد اپنی مائیں سمجھ بیٹھتے ہو تمہارے اس زعم سے تمہاری مائیں نہیں بن جاتیں۔ تمہاری مائیں وہی ہیں جنہوں نے تمہیں جنم دیا ہے۔ بعینہ اسی طرح کسی کے کہنے اور سمجھنے سے معبودان باطل خدا کے یہاں شفیع غالب اور نافع و ضار نہیں بن جاتے، نافع و ضار وہی ذات پاک ہے جس کے قبضہ و اختیار میں سارا نظام کائنات ہے۔
8:۔ وما جعل ادعیاء کم الخ، یہ دعوی سورت کی دوسری نظیر ہے اور ایک قدیم رواج یہ بھی تھا کہ کسی کو اپنا بیٹا بنا لیا یہاں تک کہ آدمی اور اس کے متبنی کے درمیان وراثت بھی جاری ہوتی اور متبنی کی بیوی کو حقیق بہو سمجھا جاتا یہاں تک کہ متبنی کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح کرنا حرام سمجھا جاتا تھا۔ چناچہ اس رواج کے مطابقحضور ﷺ نے بعثت سے پہلے زید بن حارثہ کو اپنا متبنی بنا لیا تھا اسلام نے اس رسم کو بھی اٹھا دیا ابطال لما کان فی جاھلیۃ وصدر من الاسلام من انہ اذا تبنی الرج ولد غیرہ اجرت احکام النبوۃ علیہ و قد تبنی رسول اللہ ﷺ قبل البعثۃ زید بن حارثۃ (روح ج 21 ص 164) جس طرح کسی کے بیٹے کو بیٹا بنا لینے سے وہ بیٹا نہیں بن جاتا اسی طرح زبانی دعوی سے معبودانِ باطل شفیع اور نافع و ضار نہیں بن جاتے۔
9:۔ ذالکم قولکم الخ، یہ تمہارے منہ کی باتیں ہیں حقیقت اور نفس الامر سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسی بےسروپا باتوں کی اجازت نہیں دیتا وہ تو حق بیان کرتا اور سیدھی راہ دکھاتا ہے اس لیے ظہار اور متبنی کے بارے میں اللہ نے حق بات ظاہر فرما دی اور اس بارے میں جو سیدھی راہ اور منصفانہ روش تھی، واضح کردی۔
Ayah 33:510:۔ ادعوھم الخ جسے متبنی بنا لیا جاتا تھا اسے اس کے منہ بولے باپ کی طرف منسوب کر کے پکارتے تھے مثلاً زید بن محمد، سالم بن ابی حذیفہ، عامر بن خطاب وغیرہ حالانکہ ان تینوں کے نسبی باپ اور تھے۔ فرمایا ان کو ان کے اصل باپوں کی طرف منسوب کر کے بلایا کرو کیونکہ اللہ کے نزدیک یہی طریقہ عدل و صدق کے مناسب ہے اور اگر تمہیں ان کے باپ نہ معلوم ہوں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ انہیں اپنے بھائی کہہ کر آواز دے لیا کرو۔ غلطی سے جو پہلے ہوتا رہا معاف ہے اب آئندہ حکم واضح ہوجانے کے بعد اگر ان کو ان کے اصل باپوں سوا منہ بولے باپوں کی طرف منسوب کروگے تو یہ بہت بڑا جرم اور گناہ ہوگا۔
Ayah 33:611:۔ النبی اولی الخ، یہ مومنوں سے پہلا خطاب ہے۔ پیغمبر (علیہ السلام) کا ایمان والوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق ہے۔ اس لیے اے ایمان والو ! پیغمبر (علیہ السلام) نے رسم جاہلیت کو توڑا ہے اب کفار و منافقین آپ کی مخالفت کریں گے تم آپ ﷺ کا ساتھ دینا اور بوقت ضرورت اپنی جانیں بھی آپ پر قربان کردینا اور آپ کی ازواج مطہرات کو اپنی ماؤں کی طرح قابل حرمت سمجھنا اگر دشمن ان کی عزت پر حملہ کریں تو ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے کٹ مرنا۔ ازواج مطہرات عزت و احترام اور حرمت نکاح میں ماؤں کے حکم میں ہیں باقی حجاب اور وراثت کے احکام میں اجنبیات کے حکم میں ہیں۔ ای منزلات منزلۃ الامہات فی التحریم و استحقاق التعظیم واما فیما عدا ذلک فھن کالاجنبیات (ابو السعود ج 6 ص 766) ۔
12:۔ واولوالارحام الِ ابتداء اسلام میں دینی اخوت کی بنا پر وراثت جاری تھی۔ دو مسلمان آپس میں دینی اخوت کی بنا پر معاہدہ کرلیتے اور ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے اسی طرح ہجرت بھی بناء توارث تھی۔ ایک غیر مہاجر مسلمان اور مہاجر مسلمان کے درمیان وراثت جاری نہ تھی اقرب غیر مہاجر کی موجودگی میں ابعد مہاجر وارث ہوتا تھا۔ اس آیت سے یہ دونوں احکام منسوخ ہوگئے ! اور صرف قرابت کو بناء وراثت قرار دے دیا گیا کان المسلمون یتوارثوں بالھجرۃ وقیل اخی رسول اللہ ﷺ بین الناس فکان یواخی بین الرجلین فاذا مات احدھما ورثہ الاخر دون عصبۃ حتی نزلت واولوا الارحام الخ (خازن ج 5 ص 192) فی کتاب اللہ ای فیما فرض اللہ اور من المومنین الخ اولی کا صلہ ہے یعنی رشتہ دار اور اثت میں مومنین و مہاجرین سے زیادہ حقدار ہیں اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ازواج مطہرات حرمت نکاح میں ماؤں کے حکم میں ہیں نہ کہ احکام وراثت میں کیونکہ وراثت کی بنا قرابت پر ہے۔ 13:۔ الا ان تفعلوا الخ، ان تفعلوا بتاویل مصدر مبتدا ہے اور اس کی خبر جائز محذوف ہے ای الافعلکم معروفا ای احسانا جائز الخ، معروف سے مراد وصیت ہے اور اولیاء سے مومنین اور مہاجرین مراد ہیں اس میں اجنبی مومنین اور مہاجرین کے لیے وصیت کرنے کی اجازت دی۔ اراد بالمعروف الوصیۃ و ذلک ان اللہ لما نسخ التوارث بالحلف والھجرۃ اباح ان یوصی الرجل لمن یتولاہ بما احب من ثلثہ (معالم ج 5 ص 192) ۔
Ayahs 33:7–814:۔ واذا اخذنا الخ، یہ آنحضرت ﷺ سے پہلا خطاب ہے ہم تمام نبیوں سے عموماً ، آپ سے اور نوح، ابراہیم، موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم (علیہم السلام) سے خصوصاً تبلیغ رسالت اور دعوت الی الحق کا نہایت پختہ عہد لے چکے ہیں۔ ہم نے تمام نبیوں سے یہ عہد مؤکد بالایمان لیا تھا کہ تبلیغ رسالت کا فریضہ کما حقہ ادا کرنا اور حق بیان کرنے میں نرمی یا سستی سے کام نہ لینا۔ اس لیے اب آپ دیگر احکام کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ رسوم جاہلیت کو ختم کرنے میں کسی رواداری یا تساہل کو روا نہ رکھیں اور کفار و منافقین کی شدید مخالفت کے باوجود تبلیغ رسالت اور دعوت الی الحق کا فریضہ انجام دینے میں ذرا نرمی اختیار نہ فرمائیں۔ المیثاق الغلیظ الیمین باللہ تعالیٰ فیکون بعد ما اخذ اللہ سبحانہ من النبیین المیثاق بتبلیغ الرسالۃ والدعوۃ الی الحق اکد بالیمین باللہ تعالیٰ علی الوفاء بما حملوا الخ (روح ج 21 ص 154) ۔ لیسئل الصادقین الخ، یہ اخذنا کے متعلق ہے اور اس میں اخذ میثاق کی علت بیان کی گئی ہے۔ الصادقین سے انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں تاکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نبیوں سے پوچھے کہ ان سے تبلیغ حق کا جو عہد لیا گیا تھا انہوں نے پورا کیا یا نہ۔ تاکہ سرِ محشر انبیاء (علیہم السلام) کی صداقت واضح ہوجائے۔ اور جن لوگوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کو نہ مانا ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔
Ayah 33:915:۔ یا ایہالذین اٰمنوا اذکروا الخ یہ مومنوں کے لیے دوسرا حکم ہے۔ اے ایمان والو ! پیغمبر (علیہ السلام) نے جاہلیت کی رسم کو توڑا ہے۔ کفار و منافقین آپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تم ہمارے پیغمبر (علیہ السلام) کا ساتھ دینا اور کفار و منافقین کی مخالفت سے مت ڈرنا۔ میں تمہارا ناصر و حامی ہوں جس طرح اسباب کی ناموافقت کے باوجود غزوہ احزاب میں میں نے تمہاری مدد کی۔ غزوہ احزاب کو غزوہ خندق بھی کہتے ہیں۔ سنہ چار یا پانچ ہجری کو مشرکین عرب اور یہود نے متحد ہو کر فیصلہ کیا کہ عرب کے تمام معروف قبائل سے ایک عظیم فوج تیار کر کے مدینہ پر حملہ کیا جائے اور مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔ چناچہ مختلف قبائل کے جواب اپنے اپنے سرداروں کے زیر کمان مدینہ کی جانب روانہ ہوگئے۔ قریش کا قائد ابو سفیان بن حرب، بنو اسد کا طلیحہ، غطفان کا عیینہ، بنو عامر کا عام بن طفیل، بنو سلیم کا ابو الدعور سلمی، بنو نضیر کا حیی بن اخطب وغیر اور بنو قریظہ کا کعب بن اسد تھا۔ ان کی مجموعی تعداد دس اور پندرہ ہزار کے درمیان تھا۔ جبحضور ﷺ کو ان کی روانگی کا علم ہوا تو آپ نے سلمان فارسی کے مشورے سے مدینہ منور کے گرد خندق کھودنے کا کام شروع کرادیا۔ جو مشرکین کی فوج پہنچنے سے قبل مکمل ہوگیا۔ مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی۔ دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے۔ درمیان میں خندق حائل تھی۔ اسی حال میں تقریباً ایک ماہ گذر گیا۔ اس دوران میں سنگباری اور تیرا اندازی کے بغیر کوئی باقاعدہ جنگ نہ ہوئی سوا چند انفرادی جھڑپوں کے۔ مشرکین نے مدینہ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا اور ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔ اور منافقین نے بھی اپنے قول و فعل سے مسلمانوں میں بد دلی اور بےاعتمادی کی فضا پیدا کرنے کی پوری پوری کوشش کی۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے مدد کے لیے فرشتوں کی فوج اتاردی اور ساتھ ہی تند و تیز طوفانِ باد بھی بھیج دیا جس سے ان کے خیموں کی میخیں اکھڑ گئیں۔ رسیاں ٹوٹ گئیں۔ گھورے بدک کر بھاگنے لگے ان کی آنکھیں مٹی سے بھر گئیں ان کے دلوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ مشرکین کی فوجیں تتر بتر ہوگئیں اور شکست کھا کر بھاگ نکلیں۔ اذکرو نعمۃ اللہ۔ یہاں اللہ کے انعام سے غزوہ خندق میں فتح و نصرت مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہود و مشرکین کی عظیم فوجوں پر مسلمانوں کو عطا فرمائی۔
Ayah 33:1016:۔ اذ جاء وکم الخ، یہ اذ جاء تکم سے بدل ہے۔ فوق سے جانب مشرق اور اسفل سے جانب مغرب اور جنوب مراد ہے۔ یا یہ چاروں طرف سے کنایہ ہے۔ یعنی کافروں کی فوجیں چاروں طرف سے آپہنچیں اور انہوں نے مدینہ منورہ کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا۔ واذ زاغت الابصار، فوجوں کی کثرت سے تمہاری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اور شدت خوف سے تمہارے کلیجے منہ کو آنے لگے۔ وتظنون باللہ الظنونا، خطاب مخلص مومنین سے ہے۔ باللہ ای فی حق اللہ۔ مسلمانوں کی تعداد دشمن کے مقابلے میں بہت کم تھی اور دشمن کی فوجیں چاروں طرف سے مسلمانوں کو گھیرے ہوئے تھیں۔ اور بظاہر فتح کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ اس لے بتقاضائے بشریت مسلمانوں کے دلوں مختلف خیالات رونما ہونے لگے۔ بعض کا خیال تھا کہ شاید آج ہمیں فتح نصیب نہ ہو۔ بعض کا خیال تھا کہ فتح ہماری ہی ہوگی۔ اور بعض مسلمانوں کے دلوں میں یہ خیال بھی آیا کہ آج کافر مدینہ پر قبضہ کرلیں گے لیکن بالآخر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان پر غلبہ عطا فرمائے گا۔ وغیر ذلک من الروح وغیرہ۔ یا یہ خطاب ان تمام لوگوں سے ہے جو علی الاطلاق ایمان کا اظہار کرتے تھے خواہ اخلاص کے ساتھ خواہ نفاق کے ساتھ۔ اس طرح یہ خطاب مخلصین اور منافقین سب کو شامل ہوگا اور ظنون سے مختلف انواع ظنون مراد ہوں۔ مخلصین یہ خیال کر رہے تھے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یقینا ہماری فتح ہوگی۔ جیسا کہ مخلصین کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے قال ھذا ما وعدنا اللہ ورسولہ و صدق اللہ ورسولہ وما زادھم الا ایمانا وتسلیما۔ اور منافقین کا گمان تھا کہ وعدہ نصرت جھوٹا ہے اور آج مسلمانوں کا دنیا سے نام و نشان مٹ جائے گا۔ جیسا کہ منافقین کے بارے میں فرمایا واذ یقول المنافقون والذین فی قلوبھم مرض ما وعدنا اللہ ورسولہ الا غرورا۔ قال الحسن ظن المنافقون ان المسلمین یستاصلون وظن المومنون انھم ینصرون (قرطبی ج 14 ص 145) ۔ وکذا فی الروح وغیرہ۔
Ayah 33:1117:۔ ھنالک الخ، اس موقع پر ایمان والوں کو کڑی آزمائش میں ڈالا گیا۔ اور شدت خوف سے ان کے دل ہلا دئیے گئے۔ مخلص ومنین شدت خوف اور اضطراب شدید کے باوجود ثابت قدم رہے۔ ان کے ایمان ویقین اور وعدہ خداوندی پر اطمینان میں ذرہ بھر فرق نہ آیا۔ جب کہ منافقین نے اللہ کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیاں کیں۔ اور اپنے نفاق کا بھانڈا چورا ہے میں پھوڑ دیا۔
Ayah 33:1218:۔ واذ یقول الخ، یہ اذ زاغت پر معطوف ہے (روح) ۔ والذین فی قلوبھم مرض سے منافقین ہی مراد ہیں اور عطف تغایر و صف کی سے ہے۔ جوز ان یکون المراد بہم المنافقین انفسہم والعطف لتغایر الوصف (روح ج 21 ص 158) ۔ غزوہ خندق میں حضور ﷺ نے ایک پتھر کو توڑنے کے لیے اس کو ضرب لگائی تو اس میں سے بجلی کی سی روشنی اور چمک نمودار ہوئی۔ اس وقت آپ نے تمام صحابہ ؓ کو فارس، روم، یمن اور حبشہ کی فتح کی خوشخبری دی۔ یہ بات منافقین نے بھی سنی تو بطور استہزاء و تمسخر کہنے لگے۔ محمد ﷺ ہمیں قیصر و کسری کے خزانوں پا پر قابض ہونے کی خبر دیتا ہے۔ اور آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم قضائے حاجت کے لیے بھی باہر نہیں جاسکتے۔ اس لیے یہ ویسے ہی ہوائی اور جھوٹے وعدے ہیں۔ اس آیت میں منافقین کی اس شر انگیز گفتگو کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایسی باتوں منافقین کی غرض یہ تھی کہ مسلمانوں میں بد دلی پیدا ہو۔ اور ان کی حوصلہ شکنی ہو۔ وذلک ان طعمۃ بن ابیرق و معتب بن قشیر وجماعۃ نحو امن سبعین رجلا قالوا یوم الخندق کیف عیدنا کنوز کسری وقیصر ولا یستطیع احدنا ان یتبرز (قرطبی ج 14 ص 147) ۔ غرورا ای باطلا من القول (قرطبی) یعنی یہ وعدہ (عیاذا باللہ) سراسر جھوٹا ہے۔ قال الشیخ (رح) غرورا ای وعدا صاحب غرور ای کذب۔
Ayah 33:13ٖ 19:۔ واذ قالت الخ، اس میں منافقین کی ایک اور شرارت کا ذکر ہے اہل یثرت سے مدینہ والے تمام مسلمان مراد ہیں۔ منافقین اپنی خفیہ ریشہ دوانیوں سے مسلمانوں میں بد دلی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ مسلمانوں سے کہنے لگے اب مشرکین کی ان فوجوں کے سامنے تمہارا ٹھہرنا اور اپنی جان بچانا مشکل اور ناممکن ہے۔ اس لیے اب ایمان کو چھوڑ کر اپنے پہلے دین شرک میں واپس آجاؤ۔ یا ان کا مطلب یہ تھا کہ مشرکین کے مقابلے میں ٹھہرنا ناممکن ہے۔ اس لیے اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ۔ اس سے منافقین کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ لا مقام لکم فی حرمۃ القتال والممانعۃ فارجعوا الی بیوتکم و منازلکم امر وھم بالعرب عن رسول اللہ ﷺ و قیل فارجعوا الی دینکم الاول واسلموہ الی اعداءہ (بحر ج 7 ص 218) ۔
20:۔ و یستاذن الخ، منافقین کی ایک جماعت جھوٹے اور لنگرے بہانوں کے ذریعہحضور ﷺ سے گھروں کو واپسی کی اجازت لے رہی تھی۔ منافقینحضور ﷺ سے کہہ رہے تھے کہ ہمارے گھر خطرہ میں ہیں اور ان کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں بچوں اور بوڑھوں کے سوا ان میں کوئی نہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن موقع پا کر نقصان پہنچائیں۔ حالانکہ ان کے گھروں کو کوئی خطرہ نہ تھا۔ کیونکہ نبی (علیہ السلام) نے تمام حفاظتی تدابیر اختیار فرما لی تھیں وہ صرف جہاد اور مسلمانوں کی مدد سے بھاگنا چاہتے تھے۔
Ayah 33:1421:۔ ولو دخلت الخ، یہ منافقین کے نفاق اور فساد باطن کی ایک نہایت عمدہ تمثیل ہے۔ دخلت کا نائب فاعل بیوت کی ضمیر ہے۔ اقطارھا کی ضمیر مدینہ سے کنایہ ہے۔ الفتنۃ سے مراد قتال ہے۔ فرض کرو اگر یہ منافقین اپنے گھروں میں موجود ہوں اور مدینہ کی چاروں سمتوں سے فسادی لوگ ان کے گھروں میں آگھسیں، پھر پیغمبر (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی اور شخص ان کو فتنہ و فساد کی خاطر لڑائی کی دعوت دے تو اپنے گھروں کو اس طرح خطرے میں چھوڑ کر فورًا فتنے کی آگ میں کود پڑیں گے اور ذرا توقف و تامل کریں گے اس لیے یہ گھروں کے خطرے میں ہونے کا عذر محض جہاد اور نصرت اسلام سے جان بچانے کے لیے کر رہے ہیں یا فتنہ سے مراد شرک ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر مشرکین ان کے گھروں میں جا گھسیں اور انہیں شرک کرنے پر آمادہ کریں تو یہ لوگ بلا توقف فورًا شرک کرنے لگیں گے۔ اور کفر کو قبول کرلیں گے۔ یہ ہے ان کے ایمان کی کمزوری کا حال (روح) ۔
Ayah 33:15ف 22:۔ ولقد کانوا الخ، حالانکہ یہ منافقین جو اس وقت راہ فرار تلاش کر رہے ہیں اللہ سے عہد کرچکے ہیں کہ آئندہ وہ میدان جہاد سے کبھی پیٹھ نہیں پھیریں گے اور عہد و پیمان کو توڑنا کہ اب اگر اللہ نے ہمیں کبھی جہاد کا موقع دیا تو ہم کبھی پیچھے نہ رہیں گے اور نہ میدان جہاد سے بھاگیں گے لیکن اب غزوہ خندق میں بھاگنے کے بہانے تراش رہے ہیں قال قتادۃ وذالک انہم غابوا عن بدر وراو ما اعطی اللہ اھل بدر من الکرامۃ والنصر فقالوا لئن اشھدنا اللہ قتالا لنقاتلن (قرطبی ج 14 ص 150) ۔
Ayah 33:1623:۔ قل لن ینفعکم الخ ان راہ فرار ڈھونڈنے والوں سے کہہ دیجئے کہ بھاگ کر تم تقدیر الٰہی سے نہیں بچ سکتے۔ موت یا قتال جو بھی تمہارے مقدر میں ہے اس سے تم کہیں بھی بھاگ نہیں سکتے اور اگر جہاد سے فرار ہو کر تم نے اپنی جان بچا بھی لی، تم کو اس بچاؤ سے صرف چند روزہ فائدہ ہوگا۔ ہمیشہ کے لیے موت سے تھوڑا ہی بچ جاؤ گے آخر موت اپنے وقت پر لامحال آئے گی تو بھاگنے سے کیا فائدہ ؟
Ayah 33:1724:۔ قل من الِ اس آیت میں حذف ہے از قبیل علفتہا تبنا و ماء باردا، اصل میں تھا۔ او من ذا الذی یمنع رحمۃ اللہ منکم ان اراد بکم رحمۃ (روح ج 21 س 163) ۔ اس آیت میں پہلی آیت ہی کے مضمون کو ایک نئے انداز میں اور ذرا تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے آگے کسی کا بس نہیں چل سکتا۔ اللہ کی طرف سے تمہارے لیے جو تکلیف اور دکھ مقدر ہے اس سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا۔ اور نہ اللہ کی رحمت ہی سے تمہیں کوئی محروم کرسکتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی کسی کا کارساز اور یار و مددگار نہیں جو تکلیف اور مصیبت سے کسی کو بچا سکے۔
Ayah 33:1825:۔ قد یعلم اللہ الخ، یہ ان منافقین پر زجر ہے جو لوگوں کو جہاد سے روکتے اور ان کی ہمت شکنی کرتے تھے۔ اے منافقین ! اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے جہاد میں جانے والوں کو جہاد سے روکتے ہیں۔ اور اپنے بھائی بند منافقوں سے کہتے ہیں، ہمارے پاس آجاؤ، اور اپنے گھروں میں، باغوں میں اور درختوں کے سایوں میں آرام سے بیٹھو۔ اس شدت کی گرمی میں جنگ کر کے اپنا آرام کیوں غارت کرتے ہو۔ اور وہ خود بھی بہت شاذ و نادر انتہائی مجبوری کی صورت میں شریک جہاد ہوتے ہیں۔ اشحۃ علیکم اور جب بامر مجبور جہاد میں شریک ہوتے تو اپنے جسم و جاں اور مال کا انتہائی بخل کرتے ہیں۔ کیا مجال کہ دشمن سے مقابل ہو کر لڑیں اور اپنے جسم پر آنچ آنے دیں اور کوڑی ہی جہاد میں خرچ کر ڈالیں۔ اشحۃ علیکم ای بانفسہم و ابدانہم (کبیر ج 6 ص 778) ۔ ای بخلاء علیکم بالنفقۃ والنصرۃ (روح ج 21 ص 164) ۔
Ayah 33:1926:۔ فاذا جاء و الخ، پھر جب دشمن کی طرف سے کوئی خطرہ لاحق ہو تو ایسے دہشت زدہ ہو کر آپ کی طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی پر سکرات الموت طاری ہو اور جب خوف زائل ہوجائے تو مال غنیمت کے لالچ میں تندی و تیزی کے ساتھ آپ لوگوں سے زبان درازی کرتے ہیں۔ اجی ہمیں بھی دو ناں، سارا مال خود ہی سمیٹ لیے جا رہے ہو۔ تم ہم سے زیادہ حقدار نہیں ہو، فتح تو ہماری ہی مدد سے نصیب ہوئی وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت میں منافقین کی انتہائی بزدلی اور دنیا کی حرص و آرزو کا ذکر کیا گیا ہے۔ الخیر سے یہاں مال غنیمت مراد ہے۔ اشحۃ، سلقوا کے فاعل سے ھال ہے۔ اوئلئک لم یومنا الخ، یہ لوگ سرے سے ایمان لائے ہی نہیں۔ محض زبانی اقرار کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لیے ان کے تمام اعمال رائیگاں ہیں اور ان کا کوئی اجر وثواب نہیں۔ وکان ذالک الخ، حضرت شیخ فرماتے ہیں اشارہ عذاب کی طرف ہے جو ماقبل یعنی احبط اللہ اعمالہم سے مفہوم ہے یعنی اللہ نے ان کے تمام اعمال باطل کردئیے جس کا نتیجہ عذاب ہے اور عذاب دینا اللہ پر کوئی مشکل نہیں۔
Ayah 33:2027:۔ یحسبون الخ، یہ منافقین کی انتہائی بزدلی ہے مشرکین و کفار کی فوجیں ناکام ہو کر واپس جا شکی ہیں لیکن منافقین مارے خوف کے ابھی یہی سمجھ رہے ہیں کہ فوجیں ابھی اپنے مورچوں سے نہیں ہٹیں۔ ای ھم من الجزع والدھشۃ لمزید جبنہم وخوفہم بحیث ھزم اللہ تعالیٰ الاحزاب فرحلوا وھم یظنون انھم لم یرحلوا (روح ج 21 ص 166) ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں یھسبون کی ضمیر معوقین اور قائلین دونوں فریقوں سے کنایہ وان یات الاحزاب الخ اور اگر بالفرض کافروں کی فوجیں دوبارہ چڑھ آئیں تو وہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مدینہ سے باہر دیہات میں ہوتے اور جہاد میں شریک ہوئے بغیر باہر ہی سے تمہاری خبریں پوچھتے رہتے کہ مسلمان جنگ میں کیسے رہے، جیتے یا ہارے ؟ ولو کانوا فیکم الخ اور اگر اس بار بھی وہ تم ہی میں رہے تو بھی جہاد میں حصہ نہ لیں گے۔
Ayah 33:2128:۔ لقد کان الخ، اس میں اتباع رسول ﷺ کی ترغیب ہے پیغمبر خدا ﷺ نے خندق کھودنے اور کفار کا مقابلہ کرنے میں صبر و استقلال اور سکون و ثبات کا جو بہترین عملی نمونہ پیش فرمایا ہے مسلمانوں کو اس کی پیروی کرنا چاہئے تھی یہاں مخلصین سے فرمایا جو بتقاضائے بشریت کافروں کی فوجوں سے خوف زدہ ہوگئے تھے۔ اسوۃ حسنۃ خصلۃ حسنۃ خقھا ان یوتسی بھا کا لثبات فی العرب و مقاساۃ الشدائد (ابو السعود ج 6 ص 774) ۔ لمن کان یرجوا الخ، یہ لکم سے بدل ہے یعنی جو لوگ اللہ سے اور قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہیں ان کے لیے پیغمبر (علیہ السلام) کی زندگی اتباع و اطاعت کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ آیت اگرچہ معاملہ جہاد میںحضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرنے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کا مفہوم عام ہے اور زندگی کے تمام شعبوں اور پہلوؤں پر حاوی ہے اس اعتبار سے یہ آیت شریعت کا بہت بڑا اصول بیان کر رہی ہے والایۃ وان سیقت للاقتداء بہ (علیہ الصلوۃ والسلام) فی امر الحرب من الثبات و نحوہ فھی عامۃ فی کل افعالہ ﷺ اذا لم یعلم انہا من خصوصیاتہ (روح ج 21 ص 167) ۔ ھذہ الایۃ الکریمۃ اصل کبیر فی التاسی برسول اللہ ﷺ فی اقوالہ وافعالہ و احوالہ و لہذا امر تبارک وتعالیٰ لناس بالتاسی بالنبی ﷺ یوم الاحزاب فی صبرہ و مصابرتہ ومرابطتہ و مجاھدتہ الخ (ابن کثیر ج 3 ص 474) ۔
Ayah 33:2229:۔ ولما را المومنون الخ، منافقین کے نفاق، ان کی بزدلی اور ان کی شرارتوں کا ذکر کرنے کے بعد اب مخلصین کے اخلاص و ایثار اور ان کے ثبات و استقلال کا ذکر کیا جاتا ہے۔ مخلص مومنوں نے جب دیکھا کہ کفار و مشرکین کی فوجیں مدینہ پر چڑھ آئی ہیں تو وہ فوراً بول اٹھے کہ یہ وہی آزمائش ہے جس کی اللہ اور اس کے رسول نے خبر دی تھی اور وہ خبر سچی تھی جس کی صداقت ہم نے آنکھوں سے دیکھ لی۔ اور ان کی فوجوں کو دیکھ کر ان کا ایمان ویقین اور مضبوط ہوگیا۔ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی فوجوں کے مقابلے میں ان کی مدد کرے گا اور تسلیم و اطاعت کا جذبہ اور بڑھ گیا۔ وعدہ سے مراد سورة بقرہ کی یہ آیت ہے ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم (قرطبی و روح) ۔ اس آیت سے مسلمان سمجھ گئے تھے کہ ان پر اللہ کی طرف سے کوئی کڑی آزمائش آنے والی ہے۔
Ayah 33:2330:۔ من المومنین الخ، ایمان والوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا پورا کر دکھایا اس سے وہ مخلصین مراد ہیں جو سوء اتفاق سے جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے بعد میں نادم ہوئے اور اللہ سے عہد کیا کہ اگر آئندہ کوئی جہاد کا موقع ہاتھ آیا تو وہ پورے استقلال کے ساتھ خون کے آخر قطرے تک لڑیں گے چناچہ جنگ احد اور غزوہ خندق میں ان مخلصین نے پوری جانثاری سے کام لیا۔ فمنہم من قضی الخ، ان مخلصین کی خواہش یہ تھی کہ انہیں اللہ کی راہ میں شہادت نصیب ہو چناچہ ان میں سے کچھ تو ایسے تھے جن کی خواہش پوری ہوگئی اور وہ غزوہ خندق میں شہید ہوگئے اور کچھ ایسے ہیں جو ابھی انتظار میں ہیں لیکن ان کے اخلاص اور جذبہ ایثار میں ذرہ بھر فرق نہیں آیا۔
Ayah 33:2431:۔ لیجزی الخ، حضرت شیخ نے فرمایا لام عاقبت کا ہے یعنی عاقبت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ مخلصین کو ایفائے عہد اور ثابت قدمی کی جزا دے اور اگر انہیں عذاب نہ دینا چاہے تو ان کو توبہ کی توفیق دے اور ان کی توبہ قبول فرما لے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسا مہربان ہے کہ جو سچی توبہ کرے اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ای ان ساء ان یعذبھم ای لم یوفقھم للتوبۃ وان لم یشا ان یعبھم تاب علیہم قبل الموت (قرطبی ج 14 ص 160) ۔
Ayahs 33:25–2732:۔ ورد اللہ الِ اس میں غزوہ احزاب میں اللہ کی طرف سے مسلمانوں کی فتح و ظفر اور انعامات خداوندی کی تفصیل مذکور ہے جن کا فارسلنا علیہم ریحا الخ، میں اجمالا ذکر کیا گیا ہے۔ تفصیل لتتمۃ النعمۃ المشار الیہا اجمالا بقولہ تعالیٰ (فارسلنا علیہم ریحا وجنودا لم تروھا) (روح ج 21 ص 174) ۔ یہاں پانچ انعامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اول، ورد اللہ الِ اللہ تعالیٰ نے کفار کی فوجوں کو بےنیل مرام، شکست خوردہ اور غیظ و غضب کی آگ میں سوزاں و بریان واپس کردیا۔ جس سے مسلمانوں کو انتہائی خوشی ہوئی لیکن کفار و مشرکین حسد اور بغض میں جل بھن گئے اور حسرت و پشیمان سے سرنگوں ہوگئے۔ دوم وکفی اللہ الخ، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو قتال اور جنگ سے بچا لیا اور جنگ کے بغیر ہی کافروں کی فوجوں کو شکست دیدی اور ایسے حالات پیدا کردئیے کہ وہ میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے اللہ تعالیٰ اپنے تمام ارادوں کو پورا کرنے پر قادر اور ہر چیز پر غالب ہے۔ وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ سوم، جن یہودیوں نے غزوہ احزاب میں مشرکین کی مدد کی تھی اللہ نے ان پر بھی مسلمانوں کو غلبہ عطا کیا اور جب مسلمانوں نے ان کے مضبوط قلعوں کا محاصرہ کرلیا تو وہ مجبور ہو کر اپنے قلعوں سے نیچے اتر آئے۔ من اھل الکتاب، الذین کا بیان ہے اور من صیاصیہم، انزل سے متعلق ہے۔ صایصی، صیصۃ کی جمع ہے یعنی قلعہ۔ چہارم، وقذف ال یہودیوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایسا رعب ڈال دیا کہ وہ اترنے پر مجبور ہوگئے اور اللہ نے ایمان والوں کو ان پر ایسا تسلط عطا کیا کہ انہوں نے ان (یہود) کے مردوں کو قتل کردیا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا۔ پنجم، اللہ نے ان کی زمینوں، ان کے مکانوں اور ان کے اموال کا مسلمانوں کو مالک بنا دیا۔ اور ایک ایسا علاقہ بھی ان کو دیدیا جس پر ابھی تک انہوں نے پاؤں نہیں رکھے۔ اس سے بعض نے ارض خیبر، بعض نے ارض حنین اور بعض نے ارض مکہ مراد لی ہے واللہ اعلم۔ غزوہ احزاب کے بعد حضور ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا اور یہود بنی قریظہ کے قلعوں کا محاصرہ کرلیا جنہوں نے مشرکین کی مدد کی تھی 20، 25 دن محاصرہ جاری رہا۔ اسی اثنا میں یہودی مجبور ہوگئے۔ اور ان کے دلوں میں اللہ نے مسلمانوں کی ہیبت ڈال دی اور انہوں نے کود ہی قلعوں سے باہر آنے کی پیشکش کردی اور حضرت سعد بن معاذ کا فیصلہ قبول کرلیا۔ حضرت سعد قبیلہ اوس میں سے تھے جو بنی قریظہ کا حلیف تھا۔ حضرت سعد بن معاذ نے فیصلہ دیا کہ ان کے مردوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے اور ان کے اموال و املاک کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا جائے چناچہحضور ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ ؓ کے فیصلہ پر عمل فرمایا (روح وغیرہ) ۔ یہاں تک کہ غزوہ خندق کی تفصیلات مذکور ہوئیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس غزوہ میں بظاہر اسباب فتح مفقود تھے اور یہ ایک نہایت ہی کٹھن معرکہ تھا لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تم کو فتح عطا فرمائی۔ اس لیے اے ایمان والو ! ان رسوم جاہلیت کو ختم کرنے کے سلسلے میں اگر منافقین و مشرکین پیغمبر (علیہ السلام) کی مخالفت کریں تو تم پیغمبر (علیہ السلام) کا ساتھ دینا اور دشمن کی طاقت کو خاطر میں نہ لانا اللہ تمہاری مدد کرے گا۔
Ayahs 33:28–2933:۔ یا ایہا النبی الخ، یہ آنحضرت ﷺ سے دوسرا خطاب ہے اس میںحضور ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیں کہ اگر دنیا کی عیش اور شان و شوکت چاہتی ہو تو یہ چیز تمہیں میرے گھر میں نہیں مل سکتی آؤ میں تمہیں طلاق دے کر اور جوڑا دے کر رخصت کردیتا ہوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو اور آخرت کی عیش کو پسند کرتی ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بہت بڑا اجر وثواب عطا فرمائے گا۔ حضرت شیخ قدس سرہ ارشاد فرماتے ہیں پہلے مومنوں سے فرمایا کہ وہ رسم جاہلیت کو توڑنے میں پیغمبر (علیہ السلام) کا ساتھ دیں اور کفار و منافقین کی مخالفت کا مقابلہ کریں اور ہرگز نہ ڈریں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے۔ اب ازواج مطہرات کو تلقین فرمائی فرمائی کہ تم بھی کفار و منافقین کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس بارے میں پیغمبر (علیہ السلام) کے خلاف لب کشائی نہ کرنا اور پیغمبر (علیہ السلام) نے جو کچھ کیا ہے، یعنی اپنے متبنی کی مطلقہ سے نکاح کرلیا ہے اس میں آپ کی تائید کرنا اور اس کو دل و جان سے تسلیم کرنا۔ کیونکہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ آپ نے جو کچھ کیا ہے اللہ کے حکم سے کیا ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئیحضور ﷺ نے عائشہ ؓ کو سنائی اور فرمایا اس بارے میں جلدی نہ کرو۔ اپنے والدین سے مشورہ کرلو۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ کے بارے میں میں والدین سے مشورہ کروں ؟ میں اللہ اور اللہ کے رسول کو دنیا کی عیش وزینت پر ترجیح دیتی ہوں، باقی ازواج مطہرات نے بھی یہی جواب دیا۔
Ayahs 33:30–3134:۔ ینساء النبی الخ، یہ ازواج مطہرات سے پہلا خطاب ہے۔ فاحشۃ مبینۃ سے نشوز، خاوند کی نافرمانی اور آپ کو تنگ کرنا مراد ہے۔ ینبغی ان تحمل الفاحشۃ علی حقوق الزوج و فساد عشرتہ (بحر ج 7 ص 228) ۔ اے ازواج نبی اگر تم میں سے کوئی پیغمبر (علیہ السلام) کی نافرمانی کرے گی۔ یا اپنی زبان سے آپ کو ایذا دے گی۔ مثلا تم میں سے کوئیحضور ﷺ کے اپنے متبنی کی مطلقہ سے نکاح کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہہ دے کہ پیغمبر زور والا اور اپنی مرضی والا ہے اسے کون روک سکتا ہے تو ایسا کلام فاحشہ مبینہ ہوگا اور اللہ تمہیں اس کی دگنی سزا دے گا۔ ومن یقنت الخ، لیکن تم میں سے جس نے اللہ ور سول کی اطاعت اور تسلیم و رضا کو اپنا شعار بنا لیا ہے اسے ہم ثواب بھی دوگنا دیں گے اور آخرت میں اس کے لیے باعزت روزی تیار ہے۔
Ayah 33:3235:۔ ینساء النبی الخ، یہ ازواج مطہرات سے دوسرا خطاب ہے۔ اس میں ان کو ایسی ہدایات دی گئی ہیں جن پر عمل کرنے سے ان کا بلند مقام قائم رہے اور ان کی عزت و آبرو ہر شک و شبہ سے بالا رہے۔ اے ازواجِ نبی اگر تم تقوی اختیار کرو تو دنیا کی کوئی عورت تمہارے برابر نہیں ہوسکتی۔ فلا تخضعن بالقول، اس لیے تم پیغمبر (علیہ السلام) کے مذکورہ بالا معاملے میں ہرگز نرم رویہ اختیار نہ کرنا، اور فاحشہ مبینہ سے احتراز کرنا، اس بارے میں ہرگز نہ کہنا کہ پیغمبر اپنی مرضی والا ہے اسے اپنے متبنی کی مطلقہ کے ساتھ نکاح کرنے سے کون روک سکتا ہے اگر تمہاری ایسی نرم پالیسی کا منافقین کو پتہ چل گیا تو وہ خوش ہوں گے کہ چلو ہمارا مقصد پورا ہوگیا ہے۔ پیغمبر کے گھر میں کچھ تو مخالفت رونما ہوگئی ہے۔ وقلن الخ، اس نرم گفتگو کے بجائے بالکل صاف اور سیدھے لفظوں میں کہو، پیغمبر (علیہ السلام) نے جو کچھ کیا ہے اللہ کے حکم سے کیا ہے اور بالکل درست اور صحیح کیا ہے اور اس میں اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں۔
Ayahs 33:33–3436:۔ وقرن الخ، اپنے گھروں میں رہو اور جاہلیت کی بناوٹ اور تصنع سے پرہیز کرو، نماز قائم کرو، زکوۃ دیا کرو، اور ہر معاملے میں اللہ و رسول کی اطاعت کیا کرو۔ انما یرید اللہ الخ، الرجس عام ہے اور اس سے ہر قسم کی اخلاقی نجاست اور گناہوں کی گندگی مراد ہو۔ الرجس یقع علی الاثم وعلی العذاب وعلی النجاسۃ وعلی النقائص والمراد بہ ھھنا ما یعم کل ذلک (روح ج 22 ص 12) ۔ اے ازواجِ نبی ! اللہ نے یہ احکام تمہیں اس لیے دیے ہیں تاکہ ان کے ذریعے تم ہر قسم کی اخلاق کمزوریوں سے محفوظ رہو اور اللہ ور سول کی نافرمانی کے جرم اور گناہ سے پاک صاف رہو۔ واذکرن الخ، قرآن کی آیتوں اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کو اپنے گھروں میں بار بار پڑھا کرو۔ اور ان کو دہرایا کرو۔ تاکہ اللہ و رسول کے احکام ہر وقت تمہارے ذہنوں میں تازہ رہیں۔ اور ان کے اتباع میں آسانی ہو۔ یہاں لفظ اھل البیت سے روافض، پنج تن، مراد لیتے ہیں، جو قرآن کے سیاق وسباق کے سراسر خلاف اور لغت و عربیت کی رو سے قطعاً گلط ہے۔ جس آیت میں یہ لفظ وارد ہے اس سے پہلے پانچ آیتوں میں ازواج مطہرات سے خطاب چلا آرہا ہے۔ اور اس سے بعد والی آیت میں بھی ازواج ہی سے خطاب ہے۔ ان تمام آیتوں میں جمع مونث مخاطب کے صیغے استعمال کیے گئے ہیں اور خود اس آیت میں اس لفظ سے پہلے چھ صیغے جمع حاضر کے موجود ہیں جن سے ازواج مطہرت مخاطب ہیں۔ اس لیے لامحالہ یہاں، اہل بیت، سےحضور ﷺ کی ازواج مطہرات ہی مراد ہیں۔ اگر اس سے پنج تن مراد لیے جائیں تو نظم قرآن مختل ہوجائے گا۔ علاوہ ازیں حضرت ابن عباس، عکرمہ اور عروہ ؓ سے مروی ہے کہ یہاں اہل بیت سے ازاج نبی (علیہ السلام) ہی مراد ہیں۔ عن ابن عباس ؓ نزلت (انما یرید الایۃ) فی نساء النبی ﷺ خاصۃ۔ قال عکمرۃ من شاء باھلتہ انہا نزلت فی شان نساء النبی ﷺ ۔ عن عروۃ یعنی ازواج النبی ﷺ (روح ج 2 ص 13، ابن کثیر ج 3 ص 483) ۔ قال عطاء و عکرمۃ وابن عباس ھم زوجۃ خاصۃ (قرطبی ج 14 ص 182) ۔ بعض لوگوں کو عنکم اور یطہرکم کی ضمیر مذکور سے دھوکا ہوا ہے حالانکہ یہ محاورات لغت سے ناواقفی کی دلیل ہے لفظ اھل چونکہ مذکور ہے اس لیے باعتار لفظ اس کے لیے ضمیر جمع مذکور ہی کی استعمال کی جاتی ہے اگرچہ اس سے مراد صرف ایک بیوی ہی ہو۔ یحتمل ان یکون خرج علی لفظ الاہل کما یقول الرجل لصاحبہ کیف اھلک ای امراتک ونساءک فیقول ھم بخیر (قرطبی ج 14 ص 183) ۔ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کو اہل بیت کہہ کر جمع مذکور حاضر کے صیغوں سے مخاطب کیا ہے اتعجبین من امر اللہ رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اہل البیت ( سورة ھود رکوع 7) ۔ اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بیوی کو خطاب فرمایا قال لاہلہ امکثوا انی انست نارا لعلی اتیکم منہا بخبر او جذوۃ من لنار لعلکم تصطلون (القصص رکوع 4) ۔ اس لیے اس آیت میں بھی اہل بیت سے مرادحضور ﷺ کی ازواج ہی مراد ہیں اور یہ آیتیں ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔
Ayah 33:3537:۔ ان المسلمین الخ، یہ مومنین کے لیے تیسرا حکم ہے اس میں اس ایمان والوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کریں تو ان کے لیے بخشش اور ثواب عظیم ہے مومن مردوں اور عورتوں کو چاہئے کہ تسلیم و رضا، اطاعت و اخلاص اور صدق و صفا کو اپنا شعار بنائیں۔ ایمان و اطاعت پر قائم رہیں۔ اللہ کے آگے عاجزی کریں۔ زکوۃ صدقات دیا کریں۔ صوم و صلوۃ کی پابندی کریں، بدکاری سے بچیں اور ہر وقت اللہ کو یاد رکھیں۔
Ayah 33:3638:۔ وما کان الخ، یہ ترک اطاعت پر تخویف و تہدید ہے مومن مرد و عورت دل و جان سے اسے تسلیم کرنے میں توقف نہ کرے جو اللہ اور رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہے۔
Ayah 33:3739:۔ واذ تقول الخ، یہ آں حضرت ﷺ سے تیسرا خطاب ہے اس میں آں حضرت ﷺ کو تنبیہ فرمائی۔ آپ نے اپنی حقیقی پھوپھی کی بیٹی حضرت زینب بنت جحش کا نکاح اپنے متبنی حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ کردیا۔ لیکن خاوند بیوی کے درمیان موافقت نہ ہوسکی اس لیے زید نے طلاق دینے کا فیصلہ کرلیا اورحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا اظہار کیا۔ آپ نے زید کو عتاب فرمایا اور سختی سے حکم دیا کہ خدا سے ڈر اور اپنی بیوی کو طلاق مت دے۔ اصل میںحضور ﷺ نے زید کو طلاق دینے سے اس لیے منع فرمایا کہ اگر زید طلاق دے دے تو زینب کے دل آزردہ کا مداوا صرف اسی میں ہے کہ آپ خود ان سے نکاح کرلیں لیکن یہ بھی نہیں چاہتے تھے کیونکہ اس میں منافقین کے اعتراض اور پروپیگنڈے کا ڈر تھا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اس رسم جاہلیت کو خود آپ کے اپنے عمل سے ختم کرے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہ فرمائی کہ آپ لوگوں کے اعتراض سے ڈرتے ہیں حالانکہ آپ کو اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنا چاہیے۔ الذی انعم اللہ الخ، زید بن ھارثہ مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اس پر انعام تھا۔ ایمان کی توفیق، معیت رسول اللہ ﷺ اور غلامی سے آزادی، اورحضور ﷺ کا اس پر انعام یہ تھا کہ آپ نے اسے اذاد کیا، بچوں کی طرح اس کی پرورش کی اور اپنی ایک قریبی عورت سے اس کا نکاح کیا۔ وتخفی فی نفسک الخ اس کے تحت بعض متساہل اور غیر محقق مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہحضور ﷺ کے دل میں حضرت زینب کی محبت تھی لیکن بظاہر آپ زید سے کہتے اسے مت طلاق دو ۔ لیکن یہ سراسر غلط اور باطل ہے اورحضور ﷺ کی شان کے منافی ہے اس لیے یہاں آپ جو کچھ دل میں چھپا رہے تھے اس سے مراد وہی ہے جسے اللہ نے ساتھ ہی وتخشی الناس سے ظاہر فرما دیا یعنی آپ دل میں منافقین کے اعتراض اور پروپیگنڈے سے ڈر رہے ہیں۔ الظاھر ان اللہ تعالیٰ لما اراد و نسخ تحریم زوجۃ المتبنی اوحی علیہ السلوۃ والسلام ان یتزوج زینب اذا طلقھا زید فلم یبادر لہ ﷺ مخافۃ طعن الاعداء فعوتب علیہ وھو توجیہ وجیہ قالہ الخفاجی (روح ج 22 ص 25) ۔
40:۔ قلما قضی زید الخ، و طرا سے مراد طلاق ہے ای طلقھا کما روی عن قتادۃ وھو کنایۃ عن ذلک (روح) ۔ حضرت زینب کا مدخولہ ہونا ثابت نہیں۔ قالت (زینب) ما کنت امتنع و منہ غیر ان اللہ منعنی منہ و قیل انہ مذ تزوجھا لم یتمکن من الاستمتاع بہا۔ (بحر ج 7 ص 235) ۔ جب زید نے زینب کو طلاق دے دی تو ہم نے آپ کے ساتھ اس کا نکاح کردیا اور اس رسم جاہلیت کو توڑ دیا تاکہ متبناؤں کی مطلقہ عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے میں کوئی حرج اور تنگی باقی نہ رہے۔ وکان امر اللہ مفعولا اللہ کا حکم اور فیصلہ ہر حال میں نافذ ہو کر رہتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اللہ کا ارادہ تھا کہ اس رسم جاہلیت کو خودحضور ﷺ کے عمل سے ختم کرے۔ اگرچہ آپ کا ارادہ اس سے بچنے کا تھا لیکن اللہ کا ارادہ ہو کر رہا۔
Ayahs 33:38–3941:۔ ما کان علی الخ، یہ آنحضرت ﷺ سے چوتھا خطاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کے لیے جو حکم صادر و مقدور فرمادیا ہے اس پر عمل کرنے میں اس کے دل میں کسی قسم کی تنگی نہ ہونی چاہیے اور نہ اس سے پیغمبر (علیہ السلام) پر کوئی الزام ہی آسکتا ہے۔ گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) میں بھی اللہ کی سنت جاریہ یہی تھی کہ جائز کاموں کے کرنے میں ان پر کوئی الزام و اعتراض کی گنجائش نہ تھی۔ ای من قبلک من الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام حیث لم یحرج جل شانہ علیھم الاقدام علی ما احل لھم ووسع علیہم فی باب النکاح وغیرہ (روح ج 22 ص 27) ۔ اب اللہ تعالیٰ جل شانہ نے چونکہ متبنی کی مطلقہ سے نکاح کو جائز کردیا ہے اس لیے زید کی مطلقہ سے نکاح کرلینے میں آپ پر کوئی الزام نہیں۔ الذین یبلغون الخ، یہ الذین خلوا الخ کی صفت ہے وہ انبیاء سابقین (علیہم السلام) جو اللہ تعالیٰ کے پیغام لوگوں تک پہنچاتے اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے تھے اور نہ کسی کی ملامت کی پرواہ کرتے تھے۔ وکفی باللہ حسیبا، اللہ تعالیٰ مخاوف و خطرات میں کافی ہے اس لیے اس کے سوا کسی سے ڈرنے کی ضرورت ہی نہیں ای کافیا للمخاوف (روح) ۔
Ayah 33:4042:۔ ما کان الخ، یہ مومنین سے چوتھا خطاب ہے۔ اے ایمان والو ! محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں۔ نہ زید کے نہ کسی اور کے، تو زید کی بیوی آپ ﷺ کی بہو نہ تھی اس لیے آپ ﷺ نے اگر زید کی مطلقہ سے نکاح کرلیا ہے تو اس میں کونسی برائی ہے اور اعتراض کا کیا موقع ہے ؟ اس میں جسمانی اور حقیقی ابوت کی نفی کی گئی ہے۔ رجال، رجل کی جمع ہے اور رجل بالغ مرد کو کہا جاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ ﷺ کسی ایسے مذکر انسان کے باپ نہیں جو سنِ بلوغ کو پہنچا ہو کیونکہ آپ کے چاروں صاحبزادے حضرت ابراہیم، قاسم، طیب اور طاہر بچپن میں ہی اللہ کو پیارے ہوچکے تھے۔ اور صرف آپ کی صاحبزادیاں ہی سن بلوغ کو پہنچیں۔ ولکن رسول اللہ، یہ ماقبل سے استدراک ہے، اور اس سے مجازی اور روحانی ابوت کا اثبات مقصود ہے۔ کیونکہ ہر پیغمبر اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے۔ استدراک من نفی الابوۃ الحقیقیۃ الشرعیۃ التی یترتب علیہا حرمۃ المصاھرۃ و نحوہا الی اثبات الابوۃ المجازیۃ اللغویۃ التی من شان الرسول (علیہ الصلوۃ والسلام) وتقتضی التوقیر من جانبہم والشفقۃ من جانبہ ﷺ (روح ج 22 ص 22) ۔