Ayahs 33:41–4243:۔ یا ایہا الذی اٰمنوا الخ، یہ مومنین سے پانچواں خطاب ہے۔ اے ایمان والو ! پیغمبر خدا ﷺ کے رسم جاہلیت کو توڑنے اور اپنے متبنی کی مطلقہ سے نکاح کرلینے کے بارے میں اگر تمہارے دل میں کوئی شک یا بدگمانی پیدا ہوئی تو اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرو۔ اور صبح و شام اس کی تسبیح و تقدیس کرو تاکہ تمہارا یہ قصور معاف ہوجائے ذکر کثیر میں زبانی ذکر کے علاوہ ہر نیکی وطاعت بھی داخل ہے اور یہ کہ کسی حال میں اس سے غافل نہ رہو کل طاعۃ و کل خیر من جملۃ الذکر (کشاف) ۔ قال ابن عباس الذکر الکثیر ان لا ینسی رجل شانہ و روی ذلک عن مجاہد ایضا (روح ج 22 ص 42) ۔
Ayah 33:4344:۔ ھو الذی الخ، اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت مہربان ہے اور مسلسل ان پر رحمت نازل فرماتا ہے اور انہیں گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے معمور ومنور کرتا ہے اور اللہ کے فرشتے بھی مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے رحمت کی درخواست کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تم پر ایسا مہربان ہے تو تم بھی اسے یاد رکھو۔ اس کی اطاعت کرو اور اس کی تسبیح و تمجید میں مصروف رہو۔ تو وہ تمہارے تمام گناہ معاف فرما دے گا۔
Ayah 33:4445:۔ تحیتہم الخ، جس طرح اللہ تعالیٰ دنیا میں مومنوں پر مہربان ہے اسی طرح آخرت میں بھی مومنوں پر مہربان ہوگا اور قیامت کے دن اللہ کے حکم سے فرشتے اسکا استقبال کریں گے اور عذاب جہنم سے ان کو امن و سلامتی کی خوشخبری سنائی گے اور وہ اللہ کی طرف سے بہت عمدہ صلہ پائیں گے۔
Ayahs 33:45–4646:۔ یا ایہا النبی الخ، یہ آں حضرت ﷺ سے پانچواں خطاب ہے۔ میرے پیغمبر ! میں نے تجھے اس لیے رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ حق کو کھول کر بیان کرے۔ سننے والوں کو خوشخبری دے اور منکرین کو عذاب سے ڈرائے اور میں نے تجھے توحید کی دعوت کے لیے اور کفر و شرک کے اندھیروں میں سراج منیر بنا کر بھیجا ہے اس لیے آپ حق بات کو واضح کر کے بیان کریں۔ اگرچہ کفار و مشرکین اور منافقین مخالفت کریں۔ مثلا متبنی کی مطلقہ سے نکاح کرنے کے بارے میں صاف اعلان کردیں کہ یہ جائز ہے اور مخالفین کی مخالفت کی ذرا بھر پرواہ نہ کریں۔ شاھدا کلمہ توحید کا اقرار و اعلان کرنے والا اور وحدانیت کی شہادت دینے والا، قیل المراد شاھدا بان لا الہ الا اللہ (روح ج 22 ص 45) ثانیہا انہ شاھد ان لا الہ الا اللہ (کبیر ج 6 ص 88) ۔ داعیا الی اللہ، اللہ کی توحید کی طرف بلانے والا قال ابن عباس شہادۃ ان لا الہ الا اللہ (بحر جلد 7 ص 238) ۔ الدعا الی اللہ ھو تبلیغ التوحید و الاخذ بہ و مکافحۃ الکفرۃ (قرطبی ج 14 ص 200) ۔ سراجا منیرا ای ھادیا من ظلم الضلالۃ (ایضا ص 201) ۔
Ayahs 33:47–4847:۔ و بشر المومنین الخ، جو مومنین آپ کے لائے ہوئے احکام شریعت بلا چوں و چرا مانتے ہیں اور اس رسم جاہلیت کو توڑنے میں آپ کے ساتھ ہیں انہیں اللہ کی طرف سے اجر عظیم کی خوشخبری سنا دیں۔ ولا تطع الکفرین الخ، یہ ابتداء سورت کے مضمون کا اعادہ ہے اور کفار و منافقین کی بات ہرگز نہ مانیں وہ چاہتے ہیں کہ آپ مسئلہ توحید میں نرمی اختیار کریں تاکہ وہ بھی نرم رویہ اختیار کرلیں۔ فھی عن مداراتھم فی امر الدعوہ ولین الجانب فی التبلیغ والمسامحۃ فی الانذار (روح ج 22 ص 47) و ابو السعود ج 6 ص 791 ۔ و دع اذاھم الخ، تبلیغ حق پر آپ کو ان کی طرف سے جو ایذا پہنچے، آپ اس کی پرواہ نہ کریں اور خدا کے بھروسے پر اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں اللہ تعالیٰ آپ کا ناصر و مددگار ہے۔
Ayah 33:4948:۔ یا ایہا الذین امنوا الخ، یہ مومنوں سے چھٹا خطاب ہے۔ اے ایمان والو ! تم جب مومن عورتوں سے نکاح کرو۔ اور پھر صحبت سے قبل ہی ان کو طلاق دیدو تو ان پر کوئی عدت نہیں۔ انہیں ثیات متعہ (قمیص اور دوپٹہ) دے کر چھوڑ دو ۔ وہ جہاں چاہیں نکاح کرلیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا۔ حضرت زینت کا عدت گذارنا اگرچہ ثابت ہے لیکن یہاں غیر مدخول بہا کے لیے عدت نہ ہونے کے ذکر کی مناسبت اور ماقبل سے ربط اس صورت میں زیادہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت زینب کی عدت نہ ہو بلغۃ الحیران میں حضرت شیخ قدس سرہ کی طرف نفی عدت کی نسبت قصور تعبیر سے ناشی ہے۔
Ayah 33:5049:۔ یا ایہا النبی الخ یہ آں حضرت ﷺ سے چھٹا خطاب ہے۔ اس میں حضور ﷺ سے فرمایا کہ آپ کے لیے حسب ذیل چار قسم کی عورتیں حلال ہیں۔ اور ان کے علاوہ اور آپ کے لیے حلال نہیں اول، التی اتیت اجورھن یعنی وہ بیویاں جو آپ کے نکاح میں ہیں اور آپ ان کا مہر ادا کرچکے ہیں وہ قریش سے ہوں یا غیر قریش سے مہاجرہ ہوں یا غیر مہاجرہ۔ دوم وما ملکت یمینک الخ جو باندیاں مال غنیمت میں سے اللہ نے آپ کو دی ہیں۔ سوم و بنت عمک الخ، قریش کی وہ عورتیں جو آپ کے ساتھ ہجرت کرچکی ہیں۔ چہارم وہ ایمان والی عورت جو بلا مہر اپنے کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکاح کے لیے پیش کردے۔ خالصۃ لک الخ، بلا مہر نکاح کرنا یہ صرف آپ کے لیے خاص حکم ہے دوسرے مومنوں کے لیے یہ جائز نہیں۔
50:۔ قد علمنا الخ، بیویوں اور باندیوں کے بارے میں ایمان والوں کے مناسب حال جو احکام ہیں۔ وہ اللہ کو معلوم ہیں اور وہ ان احکام کے پابند ہیں۔ لیکن آپ ان احکام کے پابند نہیں ہیں تاکہ آپ کے پیغمبرانہ مقاصد و مصالح میں حرج واقع نہ ہو۔ مومنوں پر چار بیویوں سے زائد حرام ہیں اور ان پر مہر بھی واجب ہے مگر آپ پر یہ پابندیاں نہیں ہیں۔
Ayah 33:5151:۔ ترجی الخ، آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جسے چاہیں اپنے سے دور رکھیں۔ اور جن کو آپ نے اپنے سے دور کر رکھا تھا، ان کو پھر طلب کرلیں تو بھی آپ پر گناہ نہیں۔ جس طرح عام مسلمانوں پر اپنی متعدد بیویوں کے درمیان وقت کی تقسیم لازم ہے۔حضور ﷺ پر یہ پابندی بھی نہ تھی۔ ھذہ الایۃ تدل علی ان القسم بینہم لم یکن واجبا علی النبی ﷺ وانہ کان مخیرا فی القسم لمن شاء منہن و ترک من شاء منہن (جصاص) ۔
52:۔ ذلک الخ، حقوق زوجیت کے بارے میں جو پابندیاں عام مسلمانوں پر عائد ہیں وہحضور ﷺ پر عائد نہیں ہیں۔ اور آپ کی بیویوں کو ان امور میں آپ پر کوئی دعوی نہیں۔ یہ آپ کی مرضی اور مصلحت پر ہے آپ اپنی صوابدید کے مطابق ان کی دلجوئی فرماتے رہیں۔ جب ازواج کا آپ پر تقسیم میں کوئی استحقاق باقی نہ رہا۔ اور ان کو معلوم ہوگیا کہ یہ دستور حق تعالیٰ کی جانب سے ہے تو وہ اس تفریق سے آزردہ خاطر نہ ہوں گی۔ بلکہ ان کی تعمیل ہی میں خوشی محسوس کرینگی لانہن اذا علمن ان ھذا التفویض من عنداللہ اطمانت نفوسہن و ذھب التغایر و حصل الرضاء (مدارک) ۔ واللہ یعلم الخ، اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی باتیں بھی جانتا ہے لیکن کمال علم کی وجہ سے تمہارے گناہوں پر جلدی گرفت نہیں کرتا۔
Ayah 33:5253:۔ لا یحل لک الخ مذکورہ بالا چار اقسام کی عورتوں کے علاوہ آپ کے لیے کسی اور عورت سے نکاح کرنا حلال نہیں اور نہ موجودہ بیویوں میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی دوسری عورت سے نکاح جائز ہے ای من بعد الاصناف التی سمیت قال ابی بن کعب و عکرمۃ و ابو رزین وھو اختیار محمد بن جریر (قرطبی ج 4 ص 220) ۔ شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں۔ جتنی قسمیں کہہ دیں اس سے زیادہ حلال نہیں اور جو ہیں ان کا بدلنا حلال نہیں، اس طرح یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے۔ شاہ ولی اللہ اور دوسرے کئی علماء نے اس آیت کو منسوخ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو نو عورتیں اس وقت آپ کے نکاح میں ہیں۔ اور جنہوں نے دنیا پر آپ کو ترجیح دی ہے۔ ان کے بعد آپ کے لیے کسی دوسری عورت سے نکاح کرنا جائز نہیں لا یحل لک النساء من بعد ھؤلاء التسع اللاتی اخترنک ای لقد حرم علیک تزوج غیرھن (روح ج 22 ص 645) ۔ الا ما ملکت الخ یہ ماقبل سے استثناء ہے یعنی باندیوں کا تبدل آپ کے لیے جائز ہے۔ وکان اللہ علی کل شیء شہیدا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر مطلع اور خبردار ہے اس لیے اس کے احکام و حدود سے تجاوز مت کرو۔
Ayah 33:5354:۔ یا ایہا الذین الخ، یہ مومنوں سے ساتواں خطاب ہے، ایمان والوں کو آنحضرت ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کے کچھ حقوق و آداب تعلیم کیے گئے۔ تاکہ ایک طرف خود رسول اللہ ﷺ اور ازواج مطہرات اس تکلیف اذیت سے مھفوظ رہیں جو ان آداب کو نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوسکتی تھی۔ اور دوسری طرف کفار و منافقین کو افواہیں پھیلانے کا موقع ہاتھ نہیں آئے گا۔ پہلا اور دوسرا ادب لا تدخلوا بیوت النبی الخ، پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوجاؤ۔ اور جب کبھی آپ کھانے پر تمہیں بلائیں تو کھانا تیار ہونے سے پہلے ہی آپ کے گھر نہ پہنچ جاؤ۔ اور کھانا تیار ہونے کا انتظار کرنے لگو۔ تیسرا ادب، ولکن اذا دیتم فادخلوا، جب کھانا تیار ہونے کے بعد تم کو بلایا جائے اس وقت آپ کے گھر میں جاؤ۔ چوتھا ادب فاذا طعمتم فانتشروا الخ اور جب کھانے سے فارغ ہوجاؤ تو فورًا چلے جاؤ اور وہاں بیٹھ کر باتوں میں مصروف نہ ہوجاؤ۔ ان ذلک کان یؤذی النبی الخ، کیونکہ ان آداب کے خلاف کرنے کو پیغمبر (علیہ السلام) گراں اور ناگوار محسوس فرماتے ہیں۔ لیکن بتقاضائے مروت زبان سے کچھ نہیں کہتے۔ یہ آداب مجلس اگرچہ حضور ﷺ کے بارے میں نازل ہوئے ہیں لیکن اب یہ مسلمانوں کے لیے عام ہیں وھذا الحکم وان نزل خاصا فی النبی صلی اللہ علیہ وازواجہ فالمعنی عام فیہ وغیرہ (جصاص) ۔
55:۔ و اذا سالتموھن الخ، یہ ازواج مطہرات کے بارے میں ادب سکھایا۔ جب ازواج مطہرات سے کوئی چیز مانگنا ہو تو پردے سے ورے باہر ہی سے آواز دو ۔ تاکہ تمہارے اور ان کے قلوب ہر قسم کے وساوس و خطرات سے محفوظ رہیں۔
56:۔ و ما کان لکم ان تؤذوا الخ، اے ایمان والو ! تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم ایسا رویہ اختیار کرو جس سے رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچے اور نہ تمہارے لیے یہ جائز ہے کہ تم پیغمبر خدا ﷺ کے بعد آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے اسی سورت کے رکوع اول میں گذر چکا ہے وازواجہ امہاتہم پیغمبر (علیہ السلام) کی بیویاں تعظیم اور حرمت نکاح میں مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ جو چیز وازواجہ امہاتہم سے مفہوم تھی اس آیت میں اس کی تصریح فرما دی پیغمبر (علیہ السلام) کی بیویاں چونکہ مسلمانوں کی مائیں ہیں اس لیے ان کے لیے جائز نہیں کہ وہحضور ﷺ کی بیوہ سے نکاح کریں۔ و لہذا اجمع العلماء قاطبۃ علی ان من توفی عنہا رسول اللہ ﷺ من ازواجہ انہ یحرم علی غیرہ تزوجہا من بعدہ لانہن ازواجہ فی الدنیا والاخرۃ و مہات المومنین کما تقدم (ابن کثیر ج 3 ص 506) ۔
Ayah 33:54ٖ 57:۔ ان تبدوا الخ، بعض منافقین نے مذکورہ بالا حکم نازل ہونے سے پہلے دل میں تہیہ کر رکھا تھا کہحضور ﷺ کی وفات کے بعد وہ آپ کی زوجہ مطہرہ سے نکاح کرے گا۔ اور بعض خبیث منافقین نے برملا اس کا اظہار کیا تھا تو اللہ نے فرمایا۔ میں تو تمہاری ہر ظاہر و باطن کی حرکت کو جانتا ہوں۔ اگر تم شرارتوں سے باز نہیں آؤ گے تو سخت سزا دوں گا۔ فیجازیکم بما صدر منکم من المعاصی البادیۃ والخافیۃ لا محالۃ (روح جلد 22 ص 74) ۔
Ayah 33:55ٖ 58:۔ لا جناح الخ، یہاں ان رشتہ داروں کا ذکر کیا گیا ہے جن سے ازواج مطہرات پر حجاب لازم نہ تھا۔ اور وہ یہ ہیں، باپ، بیٹا، بھائی، بھتیجا، بھانجہ، ایمان والی عورتیں اور باندیاں واتقین اللہ۔ اس میں خطاب ازواج مطہرات سے ہے۔ فرمایا تم بھی اللہ سے ڈرتی رہو اور اللہ کے اوامرو نواہی میں اس کی اطاعت کرتی رہو۔ اللہ تعالیی ہر چیز سے باخبر ہے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دے گا۔
Ayah 33:5659:۔ ان اللہ الخ یہ ایمان والوں سے آٹھواں خطاب ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ نے چونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور دعوت توحید کی تبلیغ و اشاعت میں اور رسوم جاہلیت کو تورنے میں پوری ہمت و جرات اور کامل ثبات و استقلال سے کام لیا۔ اور حق تبلیغ ادا کردیا توا للہ تعالیٰ نے آپ کو خراج تحسین پیش کیا اور فرشتوں کے سامنے آپ مدح و ثنا اور عظمت کا اظہار فرمایا اور آپ کی قدر و منزلت سے بندوں کو بھی آگاہ کیا۔ تاکہ وہ بھی آپ کی قدر و منزلت کو پہچانیں اور آپ کو خراج تحسین پیش کریں والمقصود من ھذہ الایۃ ان اللہ سبحانہ وتعالیٰ اخبر عبادہ بمنزلۃ عبدہ و نبیہ فی الملا الاعلی بانہ یثنی علیہ عند الملائکۃ المقربین وان الملائکۃ تصلی علیہم ثم امر تعالیٰ اھل العالم السفلی بالصلوۃ والتسلیم علیہ لیجتمع الثناء علیہ من اھل العالمین العلوی والسفلی (ابن کثیر ج 3 ص 507) ھی (الصلوۃ) عند عز وجل ثناء علیہ عند ملئکۃ و تعظیمہ (رواہ البخاری عن ابی العالیۃ وغیرہ عن الربیع بن انس و جری علیہ الحلیمی فی شعب الایمان (روح ج 22 ص 76) فصلوۃ اللہ ثناءہ علیہ عند ملئکتہ (خازن جلد 5 ص 225) قال البخاری قال ابو العالیۃ صلوۃ اللہ تعالیٰ ثناءہ علیہ عند الملائکۃ وصلوۃ الملائکۃ الدعاء ولاوی مثلہ عن الربیع ایجا (ابن کثیر جلد 3 ص 506) ۔ بعض قاصرین نے جنہیں اعتراض کرنے کا شوق ہوتا ہے حضرت شیخ کے کلام کا مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے اعتراض کیا ہے کہ صلوۃ کا یہ معنی صحیح نہیں حالانکہ متعدد بزرگوں سے یہ منقول ہے جیسا کہ حوالہ بالا سے ظاہر ہے کہ امام ابو العالیہ، ربیع بن انس اور حلیمی نے یہی معنی مراد لیے ہیں۔ لیکن اکثر مفسرین اس طرح گئے ہیں کہ صلوۃ اللہ کی طرف سے رحمت و خوشنودی، فرشوں کی طرف سے دعاء و استغفار اور بندوں کی طرف سے دعا و تعظیم ہے۔ والصلوۃ من اللہ رحمتہ ورضوانہ و من الملائکۃ الدعاء والاستغفار و من الامۃ الدعاء والتعظیم المرہ (قرطبی ج 4 ص 232) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ حضرت پیغمبر (علیہ السلام) پر رحم و برکت نازل فرماتا ہے اور فرشتے بھی آپ کے لیے اللہ سے رحمت اور رفع درجات کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے اے ایمان والو ! تم بھی آپ کے لیے اللہ سے رحمت و برکت کی دعا مانگا کرو۔ اور آپ کی مدح و ثنا کیا کرو۔
Ayah 33:5760:۔ ان الذین الخ، یہ کفار و منافقین کے لیے دنیوی اور اخروی تخویف ہے اللہ اور اس کے رسول کی ایذا سے مراد ہے کہ ان کے احکام کی مخالفت کی جائے اور ان کے ناپسندیدہ افعال و اعمال کا ارتکاب کیا جائے عبر بایذاء اللہ ورسولہ عن فعل ما لا یرضی بہ اللہ ورسولہ کالکفر (مدارک) ارید بالایذاء ارتکاب مالا یرضیانہ من الکفر وکبائر المعاصی مجاز لانہ سب او لازم لہ (روح ج 22 ص 87) ۔ لعنہم اللہ الخ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت میں اپنی رحمت و برکت سے محروم کر دے گا۔ اور ان کو آخرت میں رسوا کن عذاب میں مبتلا کرے گا۔ یا اللہ کی ایذا سے شرک کرنا اورحضور ﷺ کی ایذاء سے آپ کو ساحر و مجنون وغیرہ کہنا مراد ہے۔ قال الجمہور معناہ (ایذاء اللہ) بالکفر و نسبۃ الصاحبۃ والولد والشریک الیہ ووصفہ بما لا یلیق بہ الخ (قرطبی ج 14 ص 237) ۔
Ayah 33:5861:۔ والذین یوذوان الخ، یہاں ایمان والوں کو ایذا دینے کی مذمت فرمائی جو لوگ مومن مروں اور عورتوں کو بلا وجہ اور بلا قصور ایذاء پہنچاتے ہیں وہ بہت بڑا گناہ اور صریح جرم اپنے ذمے لیتے ہیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جو لوگ پیغمبر (علیہ السلام) اور مومنین و مومنات پر ناحق اور ناکردہ گناہ کا اتہام دھرتے ہیں وہ صریح گناہ کرتے ہیں ای ینسبون الیھم ما ھم برء اء منہ لم یفعلوہ و لم یعملوہ (ابن کثیر ج 3 ص 517) ۔
Ayah 33:5962:۔ یا ایہالنبی الخ۔ یہ آنحضرت ﷺ سے ساتواں خطاب ہے۔ نزول حجاب سے قبل جب مسلمان عورتیں رات کو قضائے حاجت کے لیے باہر جاتیں تو منافقین انہیں تنگ کرتے اور آوازیں دیتے جب ان سے کہا جاتا تم ایسا کیوں کرتے ہو تو کہتے ہم نے سمجھا فلاں عورت ہے۔ آں حضرت ﷺ تک یہ شکایت پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ مسلمان عورتیں جب باہر نکلیں تو چادریں اوڑھ لیا کریں۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ آزاد اور شریف عورت ہے۔ کان للمراۃ من نساء المومنین قبل نزول ھذہ الایۃ تتبرز للحاجۃ فیتعرض لھا بعض الفجار یظن انھا امۃ فتصیح بہ فیذھب فشکوا ذلک الی النبی ﷺ و نزلت الایۃ بسسب ذلک (قرطبی ج 4 ص 243) اے پیغمبر اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور تمام مسلمان عورتوں کو یہ حکم دے دو کہ وہ چادریں اوڑھ کر گھروں سے نکلا کریں۔ اس طرح ان میں اور باندیوں میں امتیاز ہوجائے گا اور منافقین و فجار ان کی ایذاء کے درپے نہ ہوں گے۔ کیونکہ وہ عام طور پر لونڈیوں سے تعرض کرتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بناتک فرمایا ہے لفظ بنات جو بنت کی جمع ہے اس کو ضمیر خطاب کی طرف مضاف کیا ہے جس سے آں حضرت ﷺ مخاطب ہیں اس طرح قرآن کی نص صریح سے حضور ﷺ کی صاحبزادیوں کا تعدد ثابت ہوگیا اور معلوم ہوگیا کہ آپ کی صرف ایک صاحبزادی نہ تھی۔ بلکہ ایک سے زیادہ تھیں۔ اور جمع کا صیغہ کم از کم تین کے لیے ہوتا ہے اس لیے قرآن سےحضور ﷺ کی صاحبزادیوں کی تعداد کم از کم تین ثابت ہوتی ہے اس سے کم نہیں اور تاریخ و مستند روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی صاحبزادیاں چار تھیں۔ سنی اور شیعہ مورخین و محدثین کا اس پر اتفاق ہے خود شیعہ مصنفین نے تسلیم کیا ہے کہ حضور ﷺ کی صاحبزادیوں کی تعداد چار تھی۔ اور چاروں ہی حضرت خدیجہ ؓ کے بطن سے تھیں۔ چناچہ علامہ یعقوب کلینی شیعہ محدث نے لکھا ہے تو زوج خدیجۃ وھو ابن بضع و عشرین سنۃ فولد لہ منہا قبل مبعثہ (علیہ السلام) القاسم ورقیۃ وزینبت وام کلثوم وولد لہ بعد المبعث الطیب والطاھر وفاطمۃ علیہا السالم۔ کافی کلینی اصول ج 1 ص 439 طبع طہران) (ترجمہ)حضور ﷺ نے کچھ اوپر بیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ سے نکاح کیا تو ان کے بطن سے قبل از نبوت قاسم، رقیہ، زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئی اور ابعد از نبوت طیب، طاہر اور فاطمہ پیدا ہوئی۔ اور ملا باقر مجلسی شیعہ لکھتے ہیں در قرب الاسناد بسند معتبر از حضرت صادق روایت کردہ است کہ از برائے رسول خدا از خدیجہ متولد شدند طاہر و قاسم و فاطمہ و ام کلثوم و رقیہ و زینب (حیات القلوب ج 2 ص 588 مطبوعہ طہران) ۔ بعض روافض کہتے ہیں بنات سے یہاں امت کی عورتیں مراد ہیں کیونکہ وہحضور ﷺ کی روحانی بیٹیاں ہیں۔ اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ امت کی عورتوں کا بعد میں بصراحت ذکر موجود ہے۔ ونساء المومنین اس لیے لفظ بنات کو اس پر محمول کرنا غلط ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ بنات سے ات کی عورتیں مراد لینا مجازی معنی ہے۔ اور حقیقی معنی صلبی بیٹیاں ہیں۔ اور یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ مجازی معنی اس وقت مراد لیا جاتا ہے جب حقیقی معنی مراد لینا متعذر ہو۔ لیکن یہاں حقیقی معنی متعذر نہیں کیونکہ جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت آپ کی تین صاحبزادیاں بقید حیات موجود تھیں۔ حضرت زینب ؓ جو سہ 8 ہجری میں اللہ کو پیاری ہوئیں حضرت ام کلثوم ؓ جن کا سن 9 ھجری میں انتقال ہوا۔ اور حضرت فاطمہ ؓ جن کیحضور ﷺ کے بعد وفات ہوئی۔ یہ آیت سن 8 ہجری سے بہت پہلے نازل ہوئی۔ اس لیے بنات سے یہاںحضور ﷺ کی صلبی بیٹیاں ہی مراد ہیں نہ کہ روحانی۔
Ayahs 33:60–6163:۔ لئن لم ینتہ الخ، یہ منافقین پر زجر اور تخویف دنیوی ہے۔ والذین فی قلوبھم مرض سے بدکار اور فجار مراد ہیں جن کے دلوں میں بدکاری کے خیالات کی بیماری تھی۔ والمرجفون فی المدینۃ۔ یہود مدینہ جو عام مسلمانوں اور خصوصاً مسلمان عورتوں کے بارے میں غلط افواہیں اڑاتے تھے تاکہ ان کے خلاف بدگمانی پھیلے اور انہیں ذہنی اذیت پہنچے۔ والمرجفون فی الدینۃ من الیھود المج اور ین لھا عما ہم علیہ من نشر اخبار السوء عن سرایا المسلمین وغیر ذلک من الاراجیف الملفقۃ المستبعۃ للاذیۃ سالت عکرمۃ عن الذین فی قلوبھم مرض فقال ھم اصحاب الفواحش و عن عطاء انہ فسرھم بذلک ایضا (روح ج 22 ص 90) ۔ اس آیت میں ان افراد کو متنبہ فرمایا۔ اور شرارتوں سے باز نہ آنے کی صورت میں سخت سزا کی تہدید فرمائی۔ حکم حجات نازل کرنے سے ان منافقین و فجار کا یہ عذر تو باطل ہوگیا کہ ان سے غلطی ہوئی وہ پہچان نہیں سکے۔ کیونکہ اب مسلمان عورتوں کا بڑی بڑی چادریں اوڑھ کر گھر سے نکلنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شریف مسلمان آزاد عورتیں ہیں۔ اس لیے اگر اب بھی یہ اشرار اپنی شرارتوں اور خباثتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کو دنیا ہی میں ذلیل ورسوا کردیں گے۔ لنغرینک بہم، ہم آپ کو ان پر تسلط و اختیار دے دیں گے۔ اور انہیں میدنہ اور اس کے قرب و جوار سے جلا وطن کرنے کے احکام صادر کردیں گے۔ اور وہ ہمیشہ کے لیے یہاں سے دور ہوجائیں گے اور آپ کے قرب و جوار میں نہیں رہ سکیں گے۔ الا قلیلا صرف اتنی دیر اس علاقے میں رسکیں گے جتنی دیر سامان اور اہل و عیال کو دوسری جگہ منتقل کرنے میں لگے گی۔ یا اس قلیل وقت سے اخراج کا حکم آنے تک کا وقت مراد ہے۔ ملعونین یہ لا یج اور نک کے فاعل سے حال ہے۔ یعنی جو تھوڑا سا وقت وہ مدینہ کے قریب رہیں گے خدا کی رحمت اور آپ کے حسن سلوک سے مطرود ہی رہیں گے اور جب جلا وطن کردئیے جائیں گے اس کے بعد بھی ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی۔ جہاں ملیں گے انہیں قید و قتل کرنے کی اجازت ہوگی۔ ای فی ذلک الوقت الذی یج اور ونک فیہ یکونون ملعونین مطرودین من باب اللہ وبابک و اذ اخرجوا لا ینفکون عن المذلوۃ ولا یجدون ملجا بل انما یکونون یطلبون و یوخذون و یقتلون (کبیر ج 6 ص 799)
Ayah 33:6264:۔ سنۃ اللہ الخ، شر پسند اور فساد انگیز عناصر اور باغیوں کے بارے میں گذشتہ شریعتوں میں بھی اللہ کا یہی دستور تھا اور اب بھی یہی دستور ہے۔ اب کوئی نیاز طریق کار نافذ نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 33:6365:۔ یسئلک الناس الخ، یہ تخویف اخروی ہے۔ مشرکین ازراہ طنز و استہزاء سوال کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی فرمایا جواب میں کہہ دو آئے گی ضرور لیکن اس کے آنے کا معین وقت صرف اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں تمہیں کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی ہو۔
Ayahs 33:64–6866:۔ ان اللہ الخ، قیامت جب بھی آئے، آئے گی ضرور، اس دن کفار و مشرکین کا ھشر یہ ہوگا کہ وہ خدا کی رحمت سے محروم ہوں گے اور بھڑکتی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں ان کا کوئی ھامی و مددگار نہ ہوگا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لے۔ یوم تقلب الخ قیامت کے جب ان کے چہروں کو آگ پر الٹ پلٹ کیا جائے گا تو وہ حسرت و ندامت سے کہیں گے۔ کاش ! ہم نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔ اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر بطور معذرت کہیں گے۔ ربنا انا اطعنا الخ، اے ہمارے پروردگار ! ہم اس معاملے میں بےقصور ہیں۔ ہم دنیا میں علماء دین اور پیشوایان مذہب ہی کی اطاعت اور پیروی کرتے رہے مگر ان ظالموں نے ہمیں ہدایت اور توحید کی راہ دکھانے کے بجائے توحید سے گمراہ کردیا اور شرک و کفر کی راہ پر لگا دیا۔ سادۃ اور کبراء سے علماء سوء اور پیشوایانِ دین مراد ہیں جو کفر و شرک کی تبْلیغ کرتے تھے۔ والمراد بہم العلماء الذین لقنوھم الکفر و زینوہ لہم و عن قتادۃ رؤساءھم فی شلر والشرک (روح ج 22 ص 93) والاظہر العموم فی القادۃ والرؤساء فی الشرک والضلالۃ ای اطعناہم فی معصیتک وما دونا الیہ فاضلونا السبیلا ای عن السبیل وھو التوحید (قرطبی ج 14 ص 249) ۔ ربنا اتھم الخ، یہ بھی ماقبل ہی سے متعلق ہے۔ اے ہمارے پروردگار ! یہ ظالم خود بھی گمراہ تھے اور انہوں نے ہمیں بھی گمراہ کردیا۔ اس لیے انہیں دگنا عذاب دے۔ اور اپنی رحمت سے انہیں کوسوں دور فرما دے۔
Ayah 33:6967:۔ یا ایہا الذین اٰمنوا الخ۔ یہ مومنوں سے نواں خطاب ہے۔ مومنوں کو تلقین فرمائی کہ خبردار رہو۔ منافقین اور فجار کی غلط افواہوں اور جھوٹی رپورٹوں سے متاثر ہو کر کہیں وہ کچھ نہ کر بیٹھنا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت کے لوگوں نے کیا تھا اور انہیں سخت ایذا پہنچائی تھی۔ ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جھوٹی تہمت لگا کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی براءت اور پاکدامنی کا اظہار فرما دیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) خدا کے یہاں بلند قدر و منزلت کے مالک تھے۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں قارون اور اس کے ہمنواؤں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر زنا کی جھوٹی تہمت لگا کر انہیں ایذاء دی تھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو وعظ فرمایا کہ زنا سے بچو۔ جو شخص زنا کرے گا اسے قتل کیا جائے گا۔ قارون نے کہا اگرچہ تو ہو ؟ فرمایا یہ حکم سب کے لیے یکساں ہے۔ قارون نے ایک فاحشہ عورت کو کثیر دولت کا لالچ دے کر تیار کیا۔ تاکہ وہ برسر عام اقرار کرے کہ (عیاذا باللہ) موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے ساتھ برا کیا ہے۔ چناچہ قارون نے مجمع عام میں کہا۔ فلاں عورت کہتی ہے کہ تم نے اس کے ساتھ بدکاری کی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس عورت کو خدا کی قسم دلا کر پوچھا سچ سچ بتاؤ۔ تو اس عورت نے اقرار کیا کہ قارون نے مجھے دولت کا لاچ دے کر اکسایا ہے۔ کہ میں آپ پر جھوٹا بہتان باندھوں۔ اس طرح تمام لوگوں کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی براءت ظاہر ہوگئی۔ اور قارون کا منصوبہ خاک میں مل گیا۔ وقال بعضہم قارون قرر مع امراۃ فاحشۃ حتی تقول عند بنی اسرائیل ان موسیٰ زنی بی فلما جمع قارون القوم والمراۃ حاضرۃ القی اللہ فی قلبھا انہا صدقت ولم تقل مالقنت (کبیر ج 6 ص 801) قال ابو العالیۃ ھو ان قارون استاجر مومسۃ ای زانیۃ لتقذف موسیٰ بنفسہا علی راس الملا فعصمہا اللہ تعالیٰ وبرا موسیٰ من ذلک وکان ذلک سبب الخسف بقارون و من معہ (السراج المنیر ج 3 ص 258) وھم قارون وقومہ اذ رموہ بالزنا بامراۃ مومسۃ استاجروھا لتقذفہ بنفہا (فرباہ اللہ مما قالو) باقرارھا انھم استاجروھا لہذا القذف فخسف اللہ بہم الارض (مہائمی ج 2 ص 165) ۔
Ayahs 33:70–7168:۔ یا ایہا الذین امنوا الخ، اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو۔ غلط بیانی اور اتہام تراشی سے دور رہو۔ اور ہمیشہ صدق اور راست گوئی کو اپنا شعار بناؤ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو قبول فرمائے گا اور ان کا اجر عطا کرے گا۔ یصلح لکم اعمالکم بالقبول والاثابۃ علیہا علی ما روی عن ابن عباس و مقاتل (روح ج 22 ص 95) اور تمہارے گناہ معاف فرمائے گا۔ دارین میں سب سے بڑی کامیابی اسے نصیب ہوگی جو اللہ اور اس کے رسول کا مطیع و فرمانبردار ہوگا۔
Ayah 33:7269:۔ انا عرضنا الخ، یہ منافقین و مشرکین پر زجر اور ان کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ہم نے زمین و آسمان پر ان کے مناسب حال جو احکام مقرر کیے انہوں نے ان کو بخوشی قبول کرلیا اور ان کی تعمیل کی۔ چناچہ ارشاد ہے۔ فقال لہا وللارض ائتیا طوعا او کرھا۔ قالتا اتینا طائعین (حم السجدہ رکوع 1) لیکن کافر و مشرک اور منافق انسان نے امانت میں خیانت کی اور احکام خداوندی کو پس پشت ڈال دیا۔ امانت سے مراد کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ سب سے بہتر اور جامع قول یہ ہے کہ اس سے تمام احکام الٰہی اور تکالیف شرعیہ مراد ہیں۔ قال ابن عباس یعنی بالامانۃ الطاعۃ (ابن کثیر ج 3 ص 522) ۔ قال مجاھد الامانۃ الفرائض و حدود الدین وقال ابو العالیۃ ما امروا بہ و نھو عنہ (معالم ج 5 ص 229) والامانۃ تعم جمیع وظائف الدین علی الصحیح من الاقوال وھو قول الجمہور (قرطبی ج 14 ص 253) ، لیکن غیر ذوی العقول کے لیے امانت سے تکوینی فرائض مراد ہونے چاہئیں۔
70:۔ فابین الخ، ابین کی ضمیر جمع مونث سموات، ارض اور جبال کی طرف راجع ہے۔ حضرت شیخ قد سرہ فرماتے ہیں ان یحملن، حمل سے ہے۔ جس کے معنی یہاں خیانت کے ہیں۔ قولہ تعالیٰ فابین ان یحملنہا و اشفقن منہا و حملہا الانسان ای یخنہا و خانہا الانسان و نص الازہری عرفنا تعالیٰ انہا لم تحملہا ای اد تھا وکل من خان الامانۃ فقد حملہا (تاج العروس ج 7 ص 288) و حمل الامانۃ و محتمل لھا یرید انہ لا یودیہا الی صاحبہا الخ (بحر ج 6 ص 254) ۔ یرید بالامانۃ الطاعۃ للہ و بحمل الامانۃ الخیانۃ یقال فلان حامل للامانۃ و محتمل لھا ای لایودیہا الی صاحبہا حتی تزول عن ذمتہ الخ (مدارک) ۔ اور الانسان سے کافر و منافق انسان مراد ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ہم نے ساری مخلوق پر بار امانت پیش کیا۔ زمین و آسمان اور پہاڑوں نے اس امانت کو اٹھاتے ہوئے عہد کیا کہ وہ اس امانت کا حق ادا کریں گے اور اس میں ہرگز خیانت نہیں کریں گے اور مفوضہ فرائض احسن طریق سے انجام دیں گے۔ واشفقن منہا یعنی امانت میں خیانت کرنے سے ڈر گئے (اسی طرح مومنین نے بھی امانت کو اٹھا لیا اور اسے پورا کرنے کا عہد کیا) ۔ لیکن کافر و منافق انسان نے اس امانت میں خیانت کی۔ اور اللہ کی اطاعت کا حق ادا نہ کیا۔ اور اس خیانت کی وجہ سے اس نے اپنے اوپر بہت بڑا ظلم کیا اور جہالت و نادانی سے اس میں خیانت کی (و حملہا الانسان) ای خان فیہا وابی ان یودیہا (انہ کان ظلوما) لکونہ تارکا لاداء الامانۃ (جہولا) لاخطائہ ما یسعدہ مع تمکنہ منہ وھو اداءھا قال الزجاج الکافر والمنافق حملا الامانۃ ای خانا ولم یطیعاھا ومن اطاع من الانبیاء و المومنین فلا یقال کان ظلوما جہولا (مدارک) ۔ حضرت شیخ کے نزدیک حمل بمعنی خیانت راجح ہے۔ اگرچہ اکثر مفسرین نے حمل کو اٹھانے کے معنی پر محمول کیا ہے۔
Ayah 33:7371:۔ لیعذب الخ، لام برائے عاقبت ہے۔ منافق و مشرک انسان کے امانت میں خیانت کرنے اور مومنوں کے حق امانت ادا کرنے کا انجام یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ منافق اور مشرک مردوں اور عورتوں کو عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اور ایمان والے مردوں اور عورتوں کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اور ان کے اعمال کا ان کو اجر وثواب عط کرے گا۔ کیونکہ وہ غفور رحیم ہے۔ اور اس کی بخشش و رحمت کا تقاضا یہی ہے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
سورة احزاب میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
1 ۔ یا ایہا النبی اتق اللہ ولا تطع الکفرین والمنفقین (رکوع 1 آپ کافروں اور منافقوں کی بات ہرگز نہ مانیں۔ اور ان کے مزعومہ معبودوں شفاعت قہری کی نفی کرتے رہیں۔
2 ۔ وما جعل ازواجکم۔ تا۔ ذلکم قولکم بافواھکم۔ (رکوع 1) جن بیویوں سے تم نے ظہار کیا ہے، وہ تمہاری مائیں نہیں بن سکیں۔ اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹے بن سکتے ہیں۔ اسی طرح زبانی دعوی سے تمہارے مزعومہ معبود شفیع غالب نہیں بن سکتے۔
3 اس سورت سے متبنی کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح کو حرام سمجھنے کی جاہلانہ رسم کو موقوف کیا گیا ہے۔
سورة احزاب ختم ہوئی