32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 32:1–2

الٓمّٓۚ Open ayah 32:1 in the Quran reader

الف لام میم

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اتارنا کتاب کا2 اس میں کچھ دھوکا نہیں پروردگار عالم کی طرف سے ہے

3:۔ تنزیل الکتب الخ۔ یہ تمہید مع ترغیب ہے۔ یہ رب العالمین اور شہنشاہ کا حکم نامہ ہے اس غور سے سنو اور دل و جان سے اس پر عمل کرو اس کے من جانب اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ تنزیل الکتب مبدا، لاریب فیہ جملہ معترضہ اور من رب العلمین خبر محققین نے اسی ترکیب کو اختیار کیا ہے علامہ زمخشری، ابو حیان اور آلوسی نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ قال ابو حیان الذی اختارہ ان یکون (تنزیل) مبتدا و (لا ریب فیہ) اعتراض لا محل قیل من الاعراب و (من رب العلمین) الخبر و ضمیر (فیہ) راجع لمضمون الجمۃ اعنی کونہ منزلا من رب العلمین لا للتنزیل ولا للکتاب کانہ قبل لا ریب فی ذلک ای فی کونہ منزلا من رب العلمین وھذا ما اعتمد علیہ الزمخشری (روح ج 21 ص 117) ۔
Ayah 32:3

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں3 کہ جھوٹ باندھ لایا ہے کوئی نہیں وہ ٹھیک ہے تیرے رب کی طرف سے تاکہ تو ڈر سناوے ان لوگوں کو جن کے پاس نہیں آیا کوئی ڈرانے والا تجھ سے پہلے تاکہ وہ راہ پر آئیں

3:۔ ام یقولون الخ۔ یہ شکوی ہے۔ یہ قرآن بلا شک و شبہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے لیکن مشرکین ماننے کے بجائے اسے اللہ کا کلام ہی نہ سمجھتے بلکہ اسے پیغمبر خدا ﷺ کا افتراء کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی طرف سے تصنیف کر کے عیاذا باللہ غلط طور سے اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے۔ بل ھو الحق یہ جواب شکوی ہے۔ یہ قرآن کسی کا ساختہ پرداختہ نہیں۔ بلکہ وہ سراپا حق ہے اور تیرے پروردگار کی طرف سے ہے پہلی صورت میں من ربک ربک خبر بعد خبر ہے اور دوسری صورت میں الھق کے متعلق ہے لتنذر الخ کتاب کا مقصد یہ ہے کہ آپ ایک ایسی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ شرک و ضلالت کو چھوڑ کر توحید و ہدایت کی راہ اختیار کریں۔ عرب میں قریش کی طرف حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کے بعد کوئی پیغمبر مبعوث نہیں ہوا۔ حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد زمان فترت میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔ واما العرب غیر المعاسرین فلم یاتھم من عہد اسمعیل (علیہ السلام) نبی منہم بل لم یرسل الیہم نبی مطلقا و موسیٰ و عیسیٰ و غیرہما من انبیاء بنی اسرائیل علیہم الصلوہ والسلام لم یبعثوا الیہم علی الاظہر (روح ج 21 ص 119) ۔ وقال ابن عباس و مقاتل و ذلک فی الفترۃ التی کان بین عیسیٰ و محمد ﷺ (خازن و معالم ج 5 ص 183، قرطبی ج 14 ص 85) ۔
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ ہے جس نے بنائے آسمان4 اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن کے اندر پھر قائم ہوا عرش پر کوئی نہیں تمہارا اس کے سوائے حمایتی اور نہ سفارشی پھر تم کیا دھیان نہیں کرتے

4:۔ اللہ الذی الخ یہ دعوی سورت پر پہلی عقلی دلیل ہے زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ساری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سارے نظام عالم کی تدبیر اور عنان اقتدار و تصرف بھی اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے اور نظام کائنات میں تصرف کا کوئی اختیار اس نے کسی کو نہیں دیا۔ استوی علی العرش کی پوری تحقیق سورة اعراف کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو ص 366 و حاشیہ 63 ۔ مالکم من دونہ الخ، یہ سورت کا مقصودی حصہ ہے اللہ تعالیٰ خود ہی سارے عالم میں متصرف و مختار ہے اور اس نے اپنے اختیارات کسی کے سپرد نہیں کر رکھے تو جس طرح اس کے سوا کوئی کارساز نہیں اسی طرح اس کے یہاں کوئی شفیع غالب بھی نہیں جو اس سے کام کرا سکے۔ اس لیے تم نے اپنے معبودانِ باطلہ کو کیوں شفعاء بنا رکھا ہے۔ ای مالکم اذا جاوزتم رضا تعالیٰ احد ینعرکم ویشفع لکم و یجیرکم من باسہ الخ (ابو السعود ج 6 ص 749) ۔
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

تدبیر سے اتارتا ہے کام آسمان سے5 زمین تک پھر چڑھتا ہے وہ کام اس کی طرف ایک دن میں جس کا پیمانہ ہزار برس کا ہے تمہاری گنتی میں

5:۔ یدبر الامر الخ نظام عالم کی تدبیر اور کائنات کا نظم و نسق اسی کے ہاتھ میں ہے وہ اپنے تکوینی احکام بندوں پر نازل کرتا ہے اور بندوں کے اعمال صالحہ اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ یہ سب کچھ روازنہ ہوتا ہے حالانکہ نزول و عروج کی مسافت ہمارے حساب سے ایک ہزار برس کا راستہ ہوگ۔ معناہ واللہ اعلم ان امرہ ینزل من السماء علی عبادہ و تعرج الیہ اعمالہم الصالحۃ الصادرۃ علی موافقۃ ذالک الامر ان نزول الامر و عروج العمل فی المسافۃ الف سنۃ مما تعدون۔۔۔ یوم فان بین السماء والارض مسیرۃ خمسمائۃ سنۃ فینزل فی مسیرۃ خمسمائۃ سنۃ و یعرف فی مسیرۃ خمسمائۃ فھو مقدار الف سنۃ (کبیر ج 6 ص 755) ۔
Ayah 32:6

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

یہ ہے جاننے والا چھپے6 اور کھلے کا زبردست رحم والا

6:۔ ذالک عالم الغیب الخ۔ اللہ تعالیٰ جس طرح خالق کائنات اور مدبر عالم ہے اسی طرح عالم الغیب بھی وہی ہے الذی احسن الخ اس نے ہر چیز کو حکمت و اتقان کے ساتھ بنایا اور کوئی چیز بھی حکمت و مصلحت سے خالی نہیں اور اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز بھی خوبی سے خالی نہیں و معنی احسن حسن لانہ ما من شیء خلقہ الا وھو مرتب علی ما تقتضیہ الحکمۃ فالمکلوقات کلہا حسنۃ الخ (بحر ج 7 ص 199) ۔
Ayah 32:7

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے خوب بنائی جو چیز بنائی اور شروع کی7 انسان کی پیدائش ایک گارے سے

7:۔ و بدا الخ اور انسان کی پیدائش مٹی سے شروع کی یعنی سب سے پہلے انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا۔ ثم جعل نسلہ الخ، اس کے بعد نطفہ سے اس کی نسل کا سلسلسہ شروع فرمایا۔ سلالۃ، خلاصہ، غذا کا خلاصۃ خون ہے اور منی خون کا خلاصہ اور لب لباب ہے اس لیے سلالہ سے تعبیر فرمایا۔ ثم سواہ الخ رحم مادر میں نطفہ بیمقدار سے انسان کے تمام اعضاء درست کیے اور پھر ان میں جان ڈالی اور اسے سننے دیکھنے اور سمجھنے سوچنے کی قوتیں عطا فرمائیں تاکہ تم اللہ کے ان انعامات کا شکر بجا لاؤ۔ اس کی توحید کو مانو۔ تمام انواع عبادت صرف اسی کے لیے بجا لاؤ۔ اور اس کے احکام کی تعمیل کرو۔ مگر اس کے باوجود تم اس کی ناشکری کرتے ہو اور تم نے اس کے سوا اوروں کو کارساز اور شفعاء بنا رکھا ہے۔
Ayahs 32:8–10

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر بنائی اس کی اولاد نچڑے ہوئے بےقدر پانی سے

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اس کو برابر کیا اور پھونکی اس میں اپنی ایک جان اور بنا دئیے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا شکر کرتے ہو

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور کہتے ہیں8 کیا جب ہم رل گئے زمین میں کیا ہم کو نیا بننا ہے کچھ نہیں وہ اپنے رب کی ملاقات سے منکر ہیں

8:۔ وقالوا الخ۔ یہ شکوی ہے۔ مشرکین ایسے ناشکر گزار اور کج فہم ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ایسی قدرت کاملہ اور ایسی نعمت شاملہ کے باوجود حشر و نشر کا انکار کرتے اور کہتے ہیں جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے جسموں کا ذرہ ذرہ مٹی میں مل کر گم ہوجائے گا تو پھر دوبارہ کس طرح زندہ ہوں گے ؟ بل ھم بلقاء الخ وہ نہ صرف بعث و نشور کے منکر ہیں بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے روبرو حساب کتاب کے بھی منکر ہیں ای لیس لھم جحود قدرۃ اللہ عن الاعادۃ لانہم یعترفون بقدرتہ ولکنہم اعتقدوا ان لا حساب علیہم وانہم لا یلقون اللہ تعالیٰ (قرطبی ج 14 ص 92) ۔
Ayah 32:11

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

تو کہہ قبض کرلیتا ہے تم کو9 فرشتہ موت کا جو تم پر مقرر ہے پھر اپنے رب کی طرف پھر جاؤ گے

9:۔ قل یتوفکم الخ، یہ جواب شکوی ہے۔ تمہارا یہ خیال ہے کہ تم محض اجساد ہو جو مٹی میں مل جاتے ہیں لیکن یہ خیال غلط ہے تم حقیقت میں روح اور جان ہو جسے ملک الموت تمہارے بدنوں سے نکال لیتا ہے اور روح فنا نہیں ہوتی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہارے بدنوں کے اجزائے منتشرہ کو یکجا کر کے تمہاری جانیں ان میں لوٹا دے گا تو تم دوبارہ زندہ ہوجاؤ گے شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں تم آپ کو محض دھڑا اور بدن سمجھتے ہو کہ خاک میں رل مل کر برابر ہوگئے ایسا نہیں تم حقیقت میں جان ہو جسے فرشتہ لے جاتا ہے بالکل فنا نہیں ہوجاتے۔ (موضح القرآن) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ جس نے تمہیں پہلے پیدا کرلیا وہ موت کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ اہل بدعت اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ جب ملک الموت ایک ہے اور وہ بیک وقت دنیا کے مختلف حصوں میں ہزاروں کی جانیں قبض کرسکتا ہے تو حضرت نبی کریم ﷺ اور اولیاء اللہ بھی اسی طرح بیک وقت مختلف جگہوں میں حاضر ہوسکتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جان قبض کرنے والے فرشتے ہزاروں ہیں جو عزرائیل کے ماتحت ہیں اور اس کے حکم سے دنیا کے مختلف علاقوں میں لوگوں کی جانیں قبض کرتے ہیں۔ لفظ ملک الموت اسم جنس ہے جو ان سب کو شامل ہے قرآن مجید کی دوسری آیتوں میں بھی اس کی تائید ہوتی ہے حتی اذا جاء کم الموت توفتہ رسلنا (الانعام رکوع 19) اور ولو تری اذ یتوفی الذین کفروا الملئکۃ (انفال رکوع 7) ۔ اس لیے یہاں لفظ ملک الموت سے مخصوص فرشتہ عزرائیل مراد نہیں بلکہ جنس ملک الموت مراد ہے لہذا اہل بدعت کا استدلال ساقط ہے۔
Ayah 32:12

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور کبھی تو دیکھے10 جس وقت کہ منکر سر ڈالے ہوئے ہوں گے اپنے رب کے سامنے اے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو پھر بھیج دے کہ ہم کریں بھلے کام ہم کو یقین آگیا

10:۔ ولو تری الخ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن یہ مجرمین یعنی منکرین بعث ندامت اور شرمساری کی وجہ سے سر جھکائے کھڑے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ بارے خدایا ! آج ہم نے قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اب ہم تیرے پیغمبروں کی باتیں دل وجان سے سنیں گے ہمیں ایک بار دنیا میں واپس بھیجدے ہم نیک عمل کریں گے آج ہمیں حشر و نشر اور حسان کتاب کا پورا پورا یقین ہوگیا ہے۔ ابصرنا البعث و ما وعدتنا بہ و سمعنا قول الرسل ای سمعناہ سمع طاعۃ (روح ج 21 ص 127) ۔
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے11 تو سجھا دیتے ہر جی کو اس کی راہ لیکن ٹھیک پڑچکی میری کہی بات کہ مجھ کو بھرنی ہے دوزخ جنوں سے اور آدمیوں سے اکٹھے

11:۔ ولو شئنا الخ۔ یہ مشرکین کے قول فارجعنا کا جواب ہے حاصل یہ ہے کہ اگر انہیں دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تو پھر بھی وہ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے کیونکہ انہوں نے ضد اور عناد اور سوء اختیار سے گمراہی کا راستہ اختیار کیا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو زبردستی ہر انسان کو راہ ہدایت پر جمع کردیتے۔ لیکن یہ حکمت ابتلاء کے خلاف تھا نیز ہم فیصلہ کرچکے ہیں کہ شیطان کی پیروی کرنے والے انسانوں اور جنوں سے جہنم کو بھرنا ہے اس لیے یہ ناممکن ہے کہ یہ کفار و مشرکین دوبارہ دنیا میں جا کر راہ ہدایت اختیار کریں فموجب ذالک القول نشا اعطاء الھدی علی العموم بل منعناہ من اتباع ابلیس الذین انتم من جملتہم حیث صرفتم اختیارکم الی الغی باغوائہ الخ (ابو السعود ج 6 ص 755) ۔
Ayah 32:14

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سو اب چکھو مزہ12 جیسے تم نے بھلا دیا تھا اس دن کے ملنے کو ہم نے بھی بھلا دیا تم کو اور چکھو عذاب سدا کا عوض اپنے کیے کا

12:۔ فذوقوا الخ۔ چونکہ تم نے قیامت کے دن کو اور اس کے حساب کتاب اور جزا وسزا کو بھلا دیا تھا اور توحید اور اعمال صالحہ سے اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ اس لیے آج ہم نے بھی تمہیں عذاب میں چھوڑ دیا ہے۔ لہذا اب اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے دائمی عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔
Ayah 32:15

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری باتوں کو13 وہی مانتے ہیں جب ان کو سمجھائے ان سے گر پڑیں سجدہ کر کے اور پاک ذات کو یاد کریں اپنے رب کی خوبیوں کے ساتھ اور وہ بڑائی نہیں کرتے

13:۔ انما یومن الخ مشرکین کے مقابلے میں مومنین کی صفات کا ذکر۔ ایمان صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جن کے دلوں میں انابت ہو۔ وہ اللہ کی آیتوں کے ساتھ فورًا ایمان لے آتے ہیں۔ اور جب انہیں آیات خداوندی سنائی جاتی ہیں تو وہ اللہ کے خوف سے سراپا عجز و نیاز بن جاتے ہیں وسبحو بحمد ربھم، وہ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے شریکوں سے پاک اور منزہ سمجھتے اور اس کو تمام صفات کارسازی سے متصف مانتے ہیں قرآن مجید ہر جگہ لفظ تسبیح سے نفی عن الشریک اور حمد سے صفات کارسازی مراد ہیں یعنی اللہ تعالیی ہر شریک سے پاک اور تمام صفات کارسازی سے متصف ہے لہذا سارے عالم میں وہی متصرف و مختار اور کارساز ہے ای نزھوہ و حمدوہ (قرطبی ج 14 ص 99) ۔ وھم لا یستکبرون اور وہ اللہ کی عبادت اور اس کی تسبیح و تمجید سے استکبار نہیں کرتے۔
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

جدا رہتی ہیں14 ان کی کروٹیں اپنے سونے کی جگہ سے پکارتے ہیں اپنے رب کو ڈر سے اور لالچ سے اور ہمارا دیا ہوا کچھ خرچ کرتے ہیں

14:۔ تتجافی الخ۔ یہ بھی ان مومنین کاملین کی صفت ہے کہ وہ میٹھی اور پرسکون نیند پر اللہ کی عبادت کو ترجیح دیتے ہیں۔ جمہور کے نزدیک اس سے نماز تہجد مراد ہے۔ التنفل باللیل قالہ الجمہور من المفسرین وعلیہ اکثر الناس (ایضا ص 100) ۔ یدعون ربھم الخ، ان کاملین کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈر کر اور اس کی رحمت کی امید میں دن رات اپنی حاجات و مشکلات میں صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور اللہ کی دی ہوئی دولت میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

سو کسی جی کو معلوم نہیں15 جو چھپا دھری ہے ان کے واسطے آنکھوں کی ٹھنڈک بدلہ اس کا جو کرتے تھے

15:۔ فلا تعلم الخ یہ ان مومنین کاملین کے لیے بشارت ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آرام و آسائش کا جو سامان عالم آخرت میں تیار کر رکھا ہے اس کی تفصیلات کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ سب کچھ ان کے ایمان خالص اور عمل صالح کی جزا ہے نعیم جنت کا اجمالی ذکر تو قرآن و حدیث میں موجود ہے اس لیے یہاں نفی علم سے علم علی سبیل التفصیل کی نفی مراد ہے۔
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا ایک جو ہے16 ایمان پر برابر ہے اس کے جو نافرمان ہے نہیں برابر ہوتے

16:۔ افمن کان الخ یہ لف و نشر غیر مرتب کے طریق پر تخویف و بشارت کے اجمالی اعادہ ہے جس طرح صفات بالا میں مومن و فاسق برابر نہیں اسی طرح جزاء آخرت میں بھی وہ برابر نہیں ہوں گے مومنین الطاف ربانیہ کے مستحق اور فساق غضب خداوندی کے مورد ٹھہریں گے آگے فریقین کی جزاء تفصیل مذکور ہے۔
Ayah 32:19

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

سو وہ لوگ جو یقین لائے17 اور کیے کام بھلے تو ان کے لئے باغ ہیں رہنے کے مہمانی ان کاموں کی وجہ سے جو کرتے تھے

17:۔ اما الذین امنوا الخ۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ یہ فریقین کے مراتب اخرویہ کی تفصیل ہے نسخ میں مراتب الفریقین بعد نفی استوائہما (روح ج 21 ص 133) ۔ مومنین کاملین دنیا کے آرام و آسائش کو عبادت الٰہی پر قربانی کرتے ہیں اس لیے اس کے بدلے اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں جنت الماوی عطا فرمائے گا جس میں ہر قسم کی راحت اور آسائش میسر ہوگی اور وہ اس میں معزز مہمانوں کی طرح رہیں گے۔
Ayah 32:20

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو نافرمان ہوئے18 سو ان کا گھر ہے آگ جب چاہیں کہ نکل پڑیں اس میں سے الٹا دئیے جائیں پھر اسی میں اور کہیں ان کو چکھو آگ کا عذاب جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

18:۔ واما الذین فسقوا الخ یہ تخویف اخروی ہے۔ لیکن فساق و کفار کا ٹھکانا جہنم ہے جس سے وہ کبھی باہر نہیں نکل سکیں گے۔ وہ اس سے نکلنے کی ہزار کوشش کریں گے لیکن ہر بار ان کی کوشش ناکام ہوگی اور دوبارہ جہنم میں دھکیل دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا آج اس عذاب جہنم کا مزہ چکھو جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔
Ayah 32:21

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور البتہ چکھائیں گے ہم ان کو19 تھوڑا عذاب ورے اس بڑے عذاب سے تاکہ وہ پھر آئیں

19:۔ ولنذیقنہم الخ۔ یہ تخویف دنیوی ہے عذاب ادنای سے مصائب دنیا اور عذاب اکبر سے عذاب جہنم مراد ہے یعنی ہم دنیا میں ان فساق و کفار کو مبتلائے مصائب کریں گے تاکہ وہ اس سے عبرت حاصل کریں اور توبہ کر کے راہ ہدایت اختیار کرلیں۔ قال الحسن و ابو العالیۃ والضحاک و ابی بن کعب و ابراہیم النخعی العذاب الادنی مصائب الدنیا واسقامھا مما یبتلی بہ العبید حتی یتوبوا وقالہ ابن عباس ولا خلاف انا العذاب الاکبر عذاب جہنم الخ (قرطبی ج 14 ص 107) ۔
Ayah 32:22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور کون بےانصاف زیادہ اس سے20 جس کو سمجھایا گیا اس کے رب کی باتوں سے، پھر ان سے منہ موڑ گیا مقرر ہم کو ان گناہ گاروں سے بدلہ لینا ہے

20:۔ ومن اظلم الخ، زجر مع تخویف دنیوی۔ ایک وہ مومنین کاملین ہیں جو آیات الٰہی سن کر سر بسجود ہوجاتے ہیں اور اللہ کی تسبیح و تمجید کرتے ہیں۔ اور ایک وہ مجرمین ہیں جو آیات الٰہی کو سن کر کمال بےاعتنائی کے ساتھ ان سے اعراض کرتے ہیں یہ لوگ سے سے بڑے بےانصاف ہیں اور ہم ان سے اس اعراض و انکار کا ضرور انتقام لیں گے۔ ای لا اظلم ممن ذکرہ اللہ بایاتہ وبینہا لہ ووضحہا ثم بعد ذلک ترکہا وجحدہا واعرض عنہا وتناساہا کانہ لا یعرفھا (ابن کثیر ج 3 ص 462) ۔ مجرمین سے مشرکین مراد ہیں من المجرمین یعنی المشرکین (خازن و معالم ج 5 ص 88) ۔
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور ہم نے دی ہے21 موسیٰ کو کتاب سو تو مت رہ دھوکے میں اس کے ملنے سے اور کیا ہم نے اس کو ہدایت بنی اسرائیل کے واسطے

21:۔ ولقد اتینا الخ، یہ توحید پر نقلی دلیل ہے۔ یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کتاب دی اور اس میں بھی یہی دعوی مذکور تھا کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز اور عالم الغیب نہیں۔ اس لیے صرف اسی ہی کو پکارو اور اس کے سامنے شفیع غالب بھی کوئی نہیں۔ جو اس سے کام کراسکے۔ تو جس طرح مشرکین قرآن کے من جانب اللہ ہونے میں شک کرتے ہیں اسی طرح منکرین نے تورات کے بارے میں بھی شک کیا حالانکہ دونوں یعنی قرآن اور تورات من جانب اللہ ہیں لہذا تورات کے منزل من اللہ ہونے میں بھی کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ لقائہ لقاء مصدر اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے یا فاعل کی طرف پہلی صورت میں فاعل مقدر ہوگا اور دوسری صورت میں مفعول۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے کتاب (تورات) کو پالینے یا کتاب کے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہنچنے میں کوئی شک نہ کرے ولقاء مصدر مضاف الی مفعولہ وفاعلہ موسیٰ ای من لقاء موسیٰ الکتاب او مضاف الی فاعلہ و مفعولہ موسیٰ ای من لقاء الکتاب موسیٰ ووصولہ الیہ (روح ج 21 ص 127) ۔ اور فلا تکن کا خطاب ہر مخاطب سے ہے اس سے ہر مخاطب کو شک کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ وجعلنہ ہدی الخ۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل رکوع 1 میں فرمایا۔ وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل ان لا تتخذوا من دونی وکیلا۔ یعنی تورات میں ہم نے بنی اسرائیل کے لیے یہ ہدایت نازل کی ہے کہ میرے سوا کسی کو کارساز مت سمجھو اور مصائب و حاجات میں میرے سوا کسی کو مت پکارو۔ بعینہ یہی مضمون اب قرآن میں نازل کیا گیا ہے۔
Ayah 32:24

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور کیے ہم نے ان میں22 پیشوا جو راہ چلاتے تھے ہمارے حکم سے جب وہ صبر کرتے رہے اور رہے ہماری باتوں پر یقین کرتے

22:۔ وجعلنا منھہم الخ، موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہم نے بنی اسرائیل میں ایسے ائمہ اور پیشوا پیدا کیے جو تورات میں ہمارے احکام کے مطابق لوگوں کو توحید اور صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے تھے اور توحید کی تبلیغ اور اشاعت پر تکلیفیں اور مصیبتیں برداشت کرتے تھے اور خود بھی ایمان ویقین میں مضبوط اور ثابت قدم تھے۔
Ayah 32:25

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

تیرا رب جو ہے23 وہی فیصلہ کرے گا ان میں دن قیامت کے جس بات میں کہ وہ اختلاف کرتے تھے

23:۔ ان ربک الخ، مومنین اور منکرین کے درمیان الہ تعالیٰ قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔ اور ہر فریق کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دے گا۔ ای یقضی و یحکم بین المومنین والکفار، فیجازی کلا بما یستحق (قرطبی ج 14 ص 109) ۔
Ayah 32:26

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان کو سوجھ نہ آئی24 اس بات سے کہ کتنی غارت کر ڈالیں ہم نے ان سے پہلے جماعتیں کہ پھرتے ہیں یہ ان کے گھروں میں اس میں بہت نشانیاں ہیں کیا وہ سنتے نہیں

24:۔ اولم یھدلم الخ، یہ تخویف دنیوی ہے۔ کیا یہ چیز ان کی ہدایت کا باعث نہ ہوئی کہ ان سے پہلے ہم نے توحید کا انکار کرنے والوں کے قرنوں کے قرن تباہ وبرباد کردئیے۔ حالانکہ یہ لوگ اپنے تجارتی سفروں میں ان تباہ شدہ قوموں کے ویران شہروں کے کھنڈروں پر اکثر گذرتے ہیں اور ان کی تباہی وہلاکت کے آثار کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ان اقوام متمردہ کی تباہی و بربادی میں عبرت و نصیحت کے بیشمار نشان موجود ہیں۔ بشرطیکہ ان میں فکر و تدبر سے کام لیا جائے۔
Ayah 32:27

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا دیکھا نہیں انہوں نے25 کہ ہم ہانک دیتے ہیں پانی کو ایک زمین چٹیل کی طرف پھر ہم نکالتے ہیں اس سے کھیتی کہ کھاتے ہیں اس میں سے انکے چوپائے اور خود وہ بھی پھر کیا دیکھتے نہیں

25:۔ اولم یروا الخ۔ یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے اور حشر و نشر پر بھی دلیل ہے کیا یہ لوگ مشاہدہ نہیں کرتے کہ ہم بےآب وگیاہ زمین پر مینہ برسا کر اس میں لہلہاتے کھیت پیدا کردیتے ہیں اور اس طرح ان کے اور ان کے مویشیوں کے لیے روزی مہیا کرتے ہیں۔ مینہ برسانا اور کھیتیاں اگانا جس خدائے قادر وقیوم کے اختیار و تصرف میں ہے وہی ساری کائنات کا کارساز ہے اور جو زمین سے انواع و اقسام نبات پیدا کرسکتا ہے وہ مردوں کو بھی دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔
Ayah 32:28

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور کہتے ہیں26 کب ہوگا یہ فیصلہ اگر تم سچے ہو

26:۔ ویقولون الخ۔ یہ شکوی ہے۔ ان منکرین کا حال بھی عجیب ہے کہ قیامت کو ماننے اور احوال قیامت اور عذاب جہنم سے ڈرنے کے بجائے تمسخر اڑاتے اور استہزاء کرتے ہیں کہ وہ فیصلہ کا دن کب آئے گا اگر تم سچے ہو تو اس کی معین تاریخ بتاؤ۔
Ayah 32:29

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

تو کہہ کر فیصلہ کے دن27 کام نہ آئے گا منکروں کو ان کا ایمان لانا اور نہ ان کو ڈھیل ملے گی

27:۔ قل یوم الخ یہ جواب شکوی اور تخویف ہے ان استہزاء کرنے والوں سے کہہد یجئے کہ عجلت سے کام نہ لو۔ بلکہ صبر کرو جب قیامت کا دن آجائے گا اس دن تم دنیا میں ایمان نہ لانے اور اعمال صالحہ بجا نہ لانے پر حسرت و ندامت کا اظہار کروگے اور اب جن حقائق کا انکار کر رہے ہو قیامت کے دن ان کی سچائی کا تمہیں خود بخود یقین ہوجائے گا۔ مگر اس ایمان اور یقین سے کچھ فائدہ نہ ہوگا اور انہیں جہنم میں داخل کردیا جائیگا۔ اور ذرا مہلت نہ دی جائیگی (لاینظرون) لا یمہلون لیتوبوا و یعتذروا (معالم و خازن جلد 5 ص 189) ۔
Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

سو تو خیال چھوڑ ان کا28 اور منتظر رہ وہ بھی منتظر ہیں

28:۔ فاعرض الخ، آپ ان سے اعراض فرمائیں اور ان کے انکار و استہزاء کی پروا نہ کریں اور اللہ کی مدد ونصرت اور اعداء دین کی ہلاکت کا وقت قریب ہے۔ آپ میرے وعدے کا انتظار کریں۔ مشرکین بھی اس انتظار اور آرزو میں ہیں مسلمان حوادث زمان اور مصائب دہر سے نیست و نابود ہوجائیں گے (وانتظر) ای موعدی لک (انھم منتظرون) ای ینتظرون بکم حوادث الزمان (قرطبی ج 14 ص 112) ۔ آخر جنگ بدر میں اللہ کا وعدہ نصرت پورا ہوا۔ کلمہ اسلام بلند ہوا۔ اور مسلمانوں کو فتح و کامرانی نصیب ہوئی۔ اور ان کے مقابلے میں کفر سرنگوں ہوا۔ مشرکین خائب و خاسر ہوئے۔ اور ان کی تمام آرزوئیں خاک میں مل گئیں۔ فالحمد للہ علی ذلک حمدا کثیرا۔ سورة سجدہ کی خصوصیات اور اس میں آیات توحید 1 ۔ اللہ الذی خلق السموات والارض۔ تا۔ افلا تتذکرون۔ (رکوع 1) ۔ نفی شفاعت قہریہ 2 ۔ یدبر الامر من السماء۔ تا۔ العزیز الرحیم۔ نفی شرک فی التصرف والعلم۔ 3 ۔ اولم یروا انا نسوق الماء۔ تا۔ افلا یبصرون۔ نفی شرک فی التصرف۔ سورة الم السجدۃ ختم ہوئی