Ayahs 31:1–22:۔ تلک ایت الخ۔ یہ تمہید مع ترغیب ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ اس کتاب حکیم سے محسنین کیا اثر قبول کرتے ہیں اور ان کی جزاء کیا ہوگی نیز معاندین پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے اور ان کی سزا کیا ہوگی۔ الحکیم ای ذی الحکمۃ (روح ج 21 ص 65) ۔ یعنی یہ قرآن حکمت و دانائی سے لبریز مضامین پر مشتمل ہے۔ الکتاب کی صفت الحکیم سے اس طرف اشارہ ہے کہ اس سورت میں زیادہ تر دلائل عقلیہ مذکور ہوں گے۔ چناچہ اس سورت میں آٹھ دلائل عقلیہ اور صرف ایک دلیل نقلی مذکور ہے۔
3:۔ ھدی الخ، المحسنین نیک روی اختیار کرنے والے اور اخلاص کے ساتھ اعمال حسنہ بجا لانے والے۔ المحسنین الذین یعملون الحسنات (بحر ج 7 ص 183) یعنی جو بیان آگے آرہا ہے وہ محسنین کے لیے سراپا ہدایت و رحمت ہے۔ اس سورت کو رحمت و ہدی اس لیے کہا گیا کہ اس میں توحید کا علی وجہ الکمال، بیان ہے اور غیر اللہ سے بالتفصیل علم غیب کی نفی کی گئی ہے۔ الذین یقیمون الصلوۃ الخ یہ المحسنین کی صفت کاشفہ ہے۔ زکوۃ سے یا زکوۃ اموال مراد ہے کیونکہ زکوۃ کی نفس فرضیت مکہ میں ہوچکی تھی البتہ تعیین نصابات مدینہ میں ہوئی۔ ان الزکوۃ ایجابھا کان بمکۃ کا لصلوۃ وتقدیر الا نصبا ھوالذی کان بالمدینۃ (روح ج 21 ص 64) ۔ یا زکوۃ سے عقائد و اعمال کی طہارت مراد ہے یعنی وہ اپنے عقائد و اعمال کو شرک کی پلیدی سے پاک رکھتے ہیں۔
Ayahs 31:3–54:۔ اولئک علی ھدی الخ، یہ محسنین کے لیے بشارت اخروی ہے یعنی مذکورہ بالا اوصاف والے لوگ واقعی اللہ کی توفیق سے سیدھی راہ پر ہیں اور آخرت میں نجات و فلاح کے مستحق بھی یہی لوگ ہوں گے۔
Ayah 31:65:۔ ومن الناس الخ، یہ محسنین کے مقابلے میں معاندین پر زجر اور ان کے لیے تخویف اخروی ہے محسنین کے مقابلے میں کچھ ایسے بد کردار اور ضدی لوگ بھی موجود ہیں جو ہر باطل اور بیہودہ بات کی پیروی کرتے اور لوگوں کے دلوں میں شبہات شرکیہ ڈال کر ان کو راہ راست سے بہکاتے ہیں۔ لھو الحدیث کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں اس سے گانا اور آلات لہو مراد ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ھو الغناء واشباھہ، یعنی اس سے گانا بجانا اور اسی طرح کے دیگر باطل اور بیہودہ کام مراد ہیں۔ حضرت حسن (رح) کہتے ہیں ہر وہ بیہودی اور خرافات جو اللہ کی عبادت سے روک دے۔ کل ما شغلک عن عبادۃ اللہ تعالیٰ وذکرہ من السمر والاضاحیک والخرافات والغناء ونحوھا۔ امام ضحاک کہتے ہیں اس سے مراد شرک ہے۔ ان لھو الحدیث الشرک (الکل من الروح ج 21 ص 67) ۔ اسی طرح حضرت حسن بصری سے بھی منقول ہے۔ وعن الھسن ایضا ھو الکفر والشرک (قرطبی ج 14 ص 52) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ گانا بجانا اور ہر قسم کے آلات لہو و لعب مثلاً سارنگی، طاؤس و رباب وغیرہ سب حرام اور ناجائز ہیں گانا بجانا اور آلات لہو کی حرمت پر تمام اماموں کا اجماع ہے۔ بلکہ یہ ہر دین میں حرام رہا ہے جیسا کہ فتاوے تاتار خانیہ میں ہے۔ اعلم ان التغنی حرم فی جمیع الادیان (روح ج 21 ص 68) ۔ امام ابو حنیفہ، سفیان ثوری، حماد بن ابی سلیمان، ابراہیم نخعی، امام شعبی، تمام علماء کوفہ اور تمام علماء بصرہ کے نزدیک گانا بجانا بالاتفاق حرام ہے۔ ان الامام ابا حنیفۃ یکرہ الغناء و یجعلہ من الذنوب وکذلک مذھب اھل الکوفۃ سفیان و حماد و ابراہیم و الشعبی وغیرہم لا اختلاف بینہم فی ذلک ولا نعلم خلافا بین اھل البصرۃ فی کراھۃ ذلک والمنع منہ انتہی وکان مرادہ بالکراھۃ الحرمۃ (روح ج 21 ص 69) ۔ امام مالک (رح) سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا یہاں کے فاسق وفاجر لوگ یہ کام کرتے ہیں۔ انما یفعلہ عندنا الفساق (قرطبی ج 14 ص 55 وروح) ۔ امام شافعی نے فرمایا گانا بجانا ایک ناپسندیدہ لہو ہے جو باطل سے مشابہ ہے ان الغناء لہو مکروہ یشبہ الباطل (روح و قرطبی) ۔ امام احمد بن حنبل سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اس سے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے۔ وعن عبداللہ بن الامام احمد انہ قال سالت ابی عن الغناء فقال ینبت النفاق فی القلب (روح) طبری کہتے ہیں تمام علماء امصار کا غناء کی حرمت پر اجماع ہے۔ قال الطبری فقد اجمع علماء الامصار علی کراھۃ الغناء والمنع منہ (قرطبی ج 14 ص 56) ۔ ابن الصلاح نے بھی اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ قال ابن الصلاح فی فتاواہ بعد کلام طویل فاذن ھذا السماع حرام باجماع اھل الحل والعقد من المسلمین انتہی (روح) اسی طرح یہ صوفیوں کا سماع جسے قوالی کہا جاتا ہے بدعت سیئہ اور حرام ہے۔ فاما ما ابتدتعتہ الصوفیۃ الیوم من الادمان علی سماع المغانی بالالات المطربۃ من الشبابات والظار والمعازف والاوتار فحرام (قرطبی ج 14 ص 54) ۔
آیت کا حاصل یہ ہوا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو قرآن سننے کے بجائے لہو ولعب میں منہمک رہتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں شبہات شرکیہ ڈال کر ان کو راہ توحید سے برگشتہ کرتے ہیں اور آیات قرانیہ کا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے قرآن عمی اور وقر ہے ان کے لیے ذلت آمیز اور رسوا کن عذاب تیار ہے۔
Ayah 31:76:۔ واذا تتلی الخ، ان معاندین پر جب اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ کبر و غرور اور کمال بےاعتنائی کے ساتھ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں گویا کہ وہ کانوں سے بہرے ہیں اور انہوں نے ان کو سنا ہی نہیں۔ فبشرہ بعذاب الیم، معاندین کے لیے تخویف اخروی ہے یعنی جس طرح دنیا میں اللہ کی آیتیں سننے سے انہیں تکلیف ہوتی تھی اسی طرح وہ آخرت میں عذاب جہنم کی تکلیف میں مبتلا ہوں گے ای یوم القیامۃ یؤلمہ کما تالم بسماع کتاب اللہ وایاتہ (ابن کثیر ج 3 ص 443) ۔
Ayah 31:87:۔ ان الذین الخ، یہ محسنین کے لیے بشارت اخروی ہے یعنی جو لوگ اللہ کی خالص توحید پر ایمان لائے اور پورے اخلاص کے ساتھ نیک عمل کیے ان کیلئے بیشمار نعمتوں کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ اللہ تعالیٰ کا نہایت ہی پختہ وعدہ ہے جو لامحالہ پورا ہوگا۔
Ayahs 31:9–108:۔ خلق السموت الخ تمہید کے بعد توٰد پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو پیدا کیا اور ستونوں کے بغیر ان کو تھام رکھا ہے، زمین پر پہاڑ رکھ دئیے تاکہ وہ ڈانواں ڈول نہ ہو اور اس پر ہر قسم کی مخلوق پیدا کی اور آسمان سے بارش برسا کر زمین سے انواع و اقسام کی عمدہ اور نفع بخش نباتات پیدا کی۔ بغیر عمد ترونہا۔ یعنی وہاں سرے سے ستون ہیں ہی نہیں اس لیے نظر کیا آئیں۔ ان تمید بکم بمعنی لئلا تمید بکم (قرطبی ج 14 ص 58) ۔
Ayah 31:119:۔ ھذا خلق اللہ الخ۔ یہ تمام مذکورہ چیزیں تو اللہ کی مخلوق ہیں اے مشرکین ! اللہ کے سوا جن کو تم نے متصرف و کارساز سمجھ رکھا ہے ذرا دکھاؤ تو سہی انہوں نے کیا کچھ پیدا کیا ہے جب ساری کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیی ہی ہے تو لامحالہ سب کا کارساز بھی وہی ہے اور وہی ہر قسم کی عبات اور پکار کا مستحق ہے اور معبودان باطلہ چونکہ ایک ذرے کے بھی خالق نہیں اس لیے وہ معبود اور کارساز ہونے کے لائق بھی نہیں۔ ماذا خلق الذین من دونہ مما اتخذتموھم شرکاء لہ سبحانہ فی العبادۃ حتی استحقوا بہ المعبودیۃ (روح ج 21 ص 82) ۔ بل الظلمون الخ یہ ماقبل سے اضراب ہے یعنی یہ بات نہیں کہ معبودان باطلہ کی کوئی مخلوق دیکھ کر انہوں نے ان کے مستحق عبادت ہونے پر استدلال کیا ہے بلکہ یہ صریح گمراہی میں ہیں اور ان سے قوت فہم سلب کرلی گئی ہے اور وہ ٖلالت و جہالت کی اس حد کو پہنچ چکے ہیں کہ مخلوق کی عبادت اور پکار میں مصروف ہیں۔
Ayah 31:1210:۔ ولقد اتینا الخ، یہ توحید پر نقلی دلیل ہے یعنی جس طرح عقل سے بطلان شرک واضح ہے اسی طرح نقل بھی بطلان شرک پر شاہد ہے۔ چناچہ لقمان جو محسنین میں سے تھا اس کو ہم نے حکمت اور دانائی عطا کی تو اس نے اپنے بیٹے کو حکیمانہ پند و نصائح کرتے وقت سب سے پہلے شرک سے بچنے کی نصیحت کی جمہور مفسرین کا قول ہے کہ لقمان ولی تھا نبی نہیں تھا عکرمہ اور شعبی کا قول ہے کہ وہ نبی تھے وعلی ھذا جمہور اھل التاویل انہ کان ولیا ولم یکن نبیا وقال بنبوتہ۔۔۔ والشعبی (قرطبی ج 14 ص 59) ۔ ان اشکر لی سے پہلے قلنا مقدر ہے۔ ہم نے لقمان کو حکمت دی اور کہا اس نعمت عظمی کا شکر ادا کرو جو شخص اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو کفران نعمت کرتا ہے اس کا نقصان بھی اسی ہی کو ہوگا۔ اللہ تعالیٰ تو بےنیاز ہے اور صفات کمال کا مالک ہے اس کا اس سے کچھ نقصان نہیں۔ ثواب الشکر لا یحصل الا للشاکرین اذ ھو تعالیٰ غنی عن الشکر فشکر الشاکر لا ینفعہ وکفر من کفر لایضرہ (بحر ج 7 ص 186) ۔
Ayah 31:1311:۔ واذ قال لقمان الخ، یہاں سے لے کر رکوع کے آخر تک لقمان کی حکیمانہ پند و نصائح کا ذکر ہے۔ پند و نصیحت میں حضرت لقمان نے بلاشبہ حکیمانہ انداز اختیار کیا۔ سب سے پہلے خالق حقیقی کا حق بتایا۔ اس کے بعد عوسری باتوں کی وصیت کی۔ لا تشرک باللہ اللہ کے عبادت، دعاء اور پکار میں کسی کو شریک مت بنانا بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ امالاشراک فوضع المعبودیۃ فی غیر اللہ تعالیٰ ولا یجوز ان یکون غیرہ معبودا اصلا (کبیر ج 6 ص 735) ۔
Ayah 31:1412:۔ ووصینا الخ :۔ یہ ادخال الٰہی ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ کا حق ادا کرنے کی نصیحت کی تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے والدین کے حقوق ادا کرنے اور ان سے حسن سلوک کا حکم دیا اور ساتھ ہی فرما دیا کہ والدین کا اگرچہ بہت حق ہے انہوں نے تیری پرورش کی اور تیری خاطر بڑی تکلیفیں اٹھائیں اس لیے ان کی اطاعت اور ان سے نیک سلوک تجھ پر فرض ہے لیکن اگر وہ تجھ کو شرک پر مجبور کریں تو اس معاملے ہرگز ان کی اطاعت نہ کرنا۔ وھنا علی وھن، کمزوری پر کمزری یعنی جس قدر جنین سے نشو و نما پاتا ہے اسی قدر والدہ کمزوری کا شکار ہوتی جاتی ہے۔ پھر دو سال بچے کو دودھ پلاتی ہے۔ والدہ چونکہ بچے کی خاطر بہت تکلیف اٹھاتی ہے اس لیے وہ زیادہ شکر گزاری کی مستحق ہے۔ ان اشکر لی الخ۔ ان تفسیریہ ہے اور یہ وصینا کا بیان ہے۔ تفسیر لووصینا کما اختارہ النحاس فان تفسیریۃ (روح ج 21 ص 86) ۔
Ayah 31:1513:۔ وان جاھداک الخ، اگر ماں باپ تجھ پر زور ڈالیں اور تجھے شرک پر مجبور کریں تو اس معاملے میں ان کی ہرگز اطاعت نہ کر البتہ دنیا میں ان کے دوسرے حقوق ادا کرتا رہ اور اطاعت صرف اسی کی کر جو توحید پر قائم ہو اور شرک سے بیزار ہو۔ ای رجع الی بالتوحید والاخلاص بالطاعۃ (روح ج 21 ص 87) ۔ پھر قیامت کے دن تم سب میرے سامنے حاضر ہوگے تو وہاں ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دی جائیگی۔
Ayah 31:1614:۔ یبنی انہا الخ۔ یہ کلام لقمان ہے اس میں ایک طرف تو جزاء وسزا کی طرف اشارہ ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیی کے علم غیب کلی اور اس کی قدرت کاملہ کا بیا ہے۔ انہا کی ضمیر سے حسنۃ اور سیئہ مراد ہے یعنی نیکی (توحید وغیرہ) اور گناہ (شرک وغیرہ) اگر رائی کے برابر بھی ہوگا اور زمین و آسمان میں کہیں بھی ہوگا اللہ تعالیٰ اسے حاضر کرلے گا اور اس پر جزا، و سزا دے گا کیونکہ وہ باریک سے باریک چیزوں کو جانتا ہے اور ہر چیز سے باخبر ہے۔ انہا ای الحسنۃ والسیئۃ ان کانت فی الصغر مثل حبۃ خردل۔ لاتخفی علی اللہ (کبیر ج 6، ص 736) ۔
Ayah 31:1715:۔ یبنی اقم الخ، بیان توحید کے بعد بیٹے کو امر مصلح یعنی نماز قائم کرنے کا حکم دیا جو توحید پر قائم رہنے اور اعمال صالحہ بجا لانے میں ممد و معاون ہے۔ وامر بالمعروف الخ اپنی تکمیل کے بعد دوسروں کی تکمیل کی طرف قدم اٹھاؤ توحید اور حسنات کی طرف دوسروں کو دعوت دو اور شرک اور دیگر منکرات سے دوسروں کو منع کرو۔ عن ابی جبیر انہ قال وامر بالمعروف یعنی التوحید وانہ عن المنکر یعنی الشرک (روح ج 21 ص 89) ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلے میں تمہیں جس قدر مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑے ان کو صبر وہمت سے برداشت کرنا۔ راہ حق میں اور تبلیغ و ارشاد پر، مصائب و آلام پر صبر کرنا نہایت اہم امور اور بلند مکارم اخلاق میں سے ہے۔
Ayah 31:1816:۔ ولا تصعر خدک الخ، عبادات کے بعد حضرت لقمان نے اپنے فرزند ارجمند کو مکارم اخلاق اور حسن معاشرت کی نصیحت فرمائی۔ یعنی دوسروں کو حقیر سمجھ کر اور کبر و غرور کی بناء پر ان سے منہ نہ موڑ بلکہ عاجزی، تواضع اور انس و محبت کے ساتھ ان سے برتاؤ کر۔ یقول لا تتکبر فتحتقر عباد اللہ وتعرض عنہم بوجھک اذا کلموک (ابن کثیر ج 3 ص 446) ۔ فالمعنی اقبل علیہم متواضعا مؤنسا مستانسا (قرطبی ج 14 ص 70) ۔
17:۔ ولا تمش الخ، اور زمین میں اکڑ کر اور اترا کر نہ چل کیونکہ اللہ تعالیٰ تکبر کی چال چلنے والے اور لاف و گزاف مارنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ ان اللہ لا یحب الخ۔ جملہ ماقبل کے لیے تعلیل ہے۔
Ayah 31:1918:۔ واقصد الخ، چلنے میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز بھی قدرے پست رکھ کیونکہ سب سے قبیح اور کریہہ آواز گدھوں کی آواز ہے۔ گویا بلند اور کریہہ آواز سے گفتگو کرنا آداب کلام اور حسن معاشرت کے خلاف ہے۔ ان ان کر الاصوات الخ، جملہ ماقبل کے لیے تعلیل ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے فرزند کو افعال و اقوال میں میانہ روی اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی۔ واقصد فی مشیک اشارۃ الی الافعال واغضض من صوتک اشارۃ الی الاقوال فنبیہ علی التوسط فی الافعال وعلی الاقلال من فضول الکلام (بحر ج 7 ص 189) ۔
Ayah 31:2019:۔ الم تر الخ، یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے جس سے نفی شرک فی التصرف مقصود ہے تم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت سے زمین و آسمان کی ہر چیز کو تمہارے کاموں میں لگا دیا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں بتمام و کمال تمہیں عطاء فرمائی ہیں ان تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں لہذا وہی سب کا کارساز ہے اور وہی عبادت اور پکار کے لائق ہے اور کوئی نہیں۔
20:۔ ومن الناس الخ، یہ معاندین پر زجر ہے یعنی ہم تو مسئلہ توحید کو عقل و نقل کے دلائل واضحہ کے ساتھ بیان کرتے ہیں لیکن لوگ ماننے کے بجائے الٹا توحید میں مجادلہ کرتے ہیں حالانکہ ان کے پاس نہ عقل و نقل کی کوئی دلیل ہے نہ وحی کی۔ فی اللہ، یعنی اللہ کی توحید اور اس کے کمال قدرت میں ای فی توحیدہ عز وجل و صفاتہ جل شانہ کالمشرکین المنکرین وحدتہ سبحانہ و عموم قدرتہ جلت قدرتہ وشمولہا للبعث (روح ج 21 ص 94) ۔ علم سے دلیل عقلی، حدی سے دلیل وحی اور کتاب منیر دلیل نقلی مراد ہے۔
Ayah 31:2121:۔ واذا قیل الخ، یہ شکوہ ہے اور جب ان مشرکین سے کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نور ہدایت نازل فرمایا اس کی پیروی کرو اور اسے مان لو تو صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے دین پر ہی چلیں گے۔ اولو کان الشیطان الخ۔ اس کا معطوف علیہ مقدر ہے ای ایتبعونہم ولو کان الشیطان یدعوھم فیما ھم علیہ من الشرک الی عذاب السعیر (ابو السعود ج 6 ص 742) ۔ یہ مشرکین پر انکار و تعجب ہے یعنی اگرچہ شیطان ان کے باپ دادا کو شرک میں مبتلا کر کے جہنم کی طرف بلاتا رہا ہو تو کیا پھر بھی وہ انہی کے دین پر چلیں گے۔
Ayah 31:2222:۔ ومن یسلم الخ، محسنین کے لیے بشارت اخروی ہے یعنی باپ دادا کی اندھادھند پیروی سے آخرت میں نجات نہیں ہوگی بلکہ فلاح و نجات نیک روسی سے ملے گی۔ جس شخص نے اپنے تمام امور کو اللہ کے سپرد کردیا اور اپنے ارادوں سے دستبردار ہوگیا۔ وھو محسن اور وہ تمام اعمال میں مخلص اور رضا الٰہی کا طالب ہو تو اس نے سب سے مضبوط کڑی کو پکڑ لیا۔ بس فلاح و نجات ایسے محسنین کے لیے ہے۔ والی اللہ عاقبۃ الامور تمام معاملات اللہ کے سپرد ہیں وہی ہر چیز میں متصرف ہے اور ہر چیز کا انجام بھی اسی کے اختیار میں ہے اس لیے اس کے سوا کوئی متصرف و مختار نہیں۔ تقدیم ظرف حصر کیلئے ہے۔ و تقدیم (الی اللہ) للحصر ردا علی الکفرۃ فی زعمھم مرجعیۃ الہتھم لبعض الامور (روح ج 21 ص 95) ۔
Ayah 31:2323:۔ ومن کفر الخ، یہ معاندین کے لیے تخویف اخروی اور آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ یعنی اگر مشرکین ضد وعناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں تو اس سے آپ غمگین نہ ہوں قیام تکے دن یہ سب میرے سامنے حاضر ہوں گے تو میں ان کے تمام اعمال ان کے سامنے رکھوں گا میں تو ان کے دلوں کی باتیں بھی جانتا ہوں۔ تمتعہم قلیلا الخ۔ دنیا میں ان کو جو میں نے زندگی دے رکھی ہے یہ تو صرف چند روزہ ہے اس کے بعد انہیں چار و ناچار شدید ترین عذاب میں مبتلا ہونا ہے وہاں اپنے تمام کرتوتوں کی پوری پوری سزا پائیں گے۔
Ayahs 31:24–2524:۔ ولئن سالتھم الخ، یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ یعنی مشرکین کو خود اس بات کا اعتراف ہے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیی ہے جب ہر چیز کا خالق اللہ ہے تو لا محالہ ہر چیز میں متصرف اور سب کا کارساز بھی وہی ہوگا۔ قل الحمد للہ یہ دلائل مذکورہ کا ثمرہ ہے یعنی دلائل مذکورہ سے ثابت ہوا کہ تمام صفات کارسازی کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی کارساز اور متصرف و مختار نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق ہے لیکن مشرکین کی جہالت و نادانی کا یہ عالم ہے کہ وہ اس حقیقت سے سراسر جاہل ہیں۔
Ayah 31:2625:۔ للہ ما فی السموت الخ، یہ توحید پر چوتھی عقلی دلیل ہے۔ ساری کائنات کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور اس کا مالک اور اس میں متصرف بھی وہی ہے اور پھر وہ سب سے بےنیاز بھی اور تمام صفات کمال سے متصف بھی۔ لہذا عبادت اور پکار کے لائق بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔ للہ ما فی السموات والارض خلقا و ملکا و تصرفا لیس لاحد سواہ عز وجل استقلالا ولا شرکۃ فلا یستحق العبادۃ فیھما غیرہ سبحانہ وتعالیٰ بوجہ من الوجوہ (روح ج 21 ص 96) ۔
Ayah 31:2726:۔ ولو ان الخ، یہ توحید پر پانچویں عقلی دلیل ہے اور اس سے نفی شرک فی العلم مقصود ہے یعنی جس طرح سب کچھ کرنے والا اللہ تعالیی ہے اسی طرح سب کچھ جاننے والا بھی وہی ہے۔ لو شرطیۃ، ما فی الارض اسم ان، من شجرۃ بیان ما، اقلام خبر ان، والبھر مبتدا، یمدہ الخ جملہ خبر، یہ جملہ ما موصولہ سے یا فی الارض کے متعلق مقدر کے فاعل سے حال ہے۔ ما نفدت الخ لو کا جواب ہے۔ اور ما نفدت الخ لو کا جواب ہے اور ما نفدت سے پہلے کلام مقدر ہے۔ ای وکتبت بتلک الاقلام وبذلک المداد کلمات اللہ ما نفدت الخ (الکل من الروح) یہاں اللہ تعالیٰ کے معلومات کے لا محدود اور غیر متناہی ہونے کا بیان ہے یعنی دنیا کے تمام درختوں کی قلمیں بنا لی جائیں اور بحر محیط سیاہی بن جائے اور پھر ایسے ہی سات سمندر اور سیاہی کے ہوں پھر ان قلموں سے اس سیاہی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے معلومات کو لکھا جائے تو سب قلمیں گھس جائیں گی اور تمام سیاہی ختم ہوجائے گی لیکن اللہ تعالیٰ کے معلومات حیطہ تحریر میں نہیں آسکیں گے۔
Ayah 31:2827:۔ ما خلقکم الخ، یہ تخویف اخروی ہے۔ تم سب کو پہلے پیدا کرنا اور پھر دوبارہ پیدا کرنا اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ ساری مخلوق کی پیدائش یا بعث اور ایک جان کی پیدائش یا بعث اللہ کے لیے یکساں ہے اس لیے وہ ضرور سب کو دوبارہ پیدا کرے گا اور ہرا یک کو اس کے اعمال کی جزاء سزا دے گا۔ ان اللہ سمیع بصیر یہ ما قبل کے لیے علت ہے یعنی جس طرح وہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے اسی طرح اس کی قدرت کاملہ ہر کام پر حاوی ہے۔
Ayah 31:2928:۔ الم تر الخ، یہ توحید پر چھٹی دلیل ہے۔ یعنی یہ حقیقت اس قدر واضح اور روشن ہے کہ اسے ہر کس و ناکس جانتا ہے کہ یہ سارا نظام عالم (نظام شمسی) اللہ کے اختیار و تصرف میں ہے۔ دن کے بعد رات، رات کے بعد دن، دن رات میں کمی بیشی، سورج اور چاند کا طلوع و غروب ہر ایک کا ایک معین اور مقرر پروگرام کے مطابق چلنا یہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے جب سارا نظام کائنات اس کے تصرف میں ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر بھی ہے اور کوئی چیز اس کے تصرف و اختیار اور اس کے علم سے باہر نہیں تو لامحالہ اس کے سوا کارساز اور معبود بھی کوئی نہیں وہ سارے جہان کا کارساز ہے اور ہر قسم کی عبادت اور دعاء کا مستحق بھی وہی ہے۔
Ayah 31:30ٖف 29:۔ ذلک الخ، یہ دلائل مذکورہ کا تفصیلی ثمرہ ہے۔ بان کا متعلق محذوف ہے ای ذلک البیان بالا۔۔۔ لتستیقنوا بان اللہ الخ۔ یہ تمام دلائل واضحہ اس لیے ذکر کیے گئے ہیں تاکہ تمہیں یقین ہوجائے کہ معبود برحق اور حاجات میں غائبانہ پکارے جان کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اللہ کے سوا مشرکین جن معبودوں کو پکارتے ہیں ان کی عبادت اور پکار باطل ہے اور وہ پکار کے لائق نہیں ہیں اللہ تعالیٰ جو اپنی صفات میں برتر اور ذات میں سب سے بڑا ہے وہی عبادت کے لائق ہے یعنی ذلک الذی ھو قادر علی ھذہ الاشیاء التی ذکرت ھو الحق المستحق للعبادۃ (و ان ما یدعون من دونہ الباطل) یعنی لا یستحق العبادۃ (وان اللہ ھو العلی) یعنی فی صفاتہ لہ الصفات العلیا والاسماء الحسنی (الکبیر) فی ذاتہ لانہ اکبر من کل کبیر (خازن ج 5 ص 182) ۔
Ayah 31:3130:۔ الم تر الخ، یہ توحید پر ساتویں عقلی دلیل ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی رحمت شاملہ سے ہماری کشتیاں دریاؤں اور سمندروں میں صحیح سلامت سفر کرتی ہیں اس میں ہر صابر و شاکر بندے کے لیے عبرت ہے اور اس میں اللہ کی وحدانیت کا واضح نشان موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری کشتیوں کو صحیح سلامت کنارے لگا کر ہمیں اپنی وحدانیت اور قدرت کاملہ کا مشاہدہ کرانا چاہتا ہے لیریکم من ایتہ ای بعض دلائل الوہیتہ تعالیٰ ووحدتہ سبحانہ و قدرتہ جل شانہ و علمہ عز وجل (روح ج 21 ص 105 و ابو السعود ج 6 ص 746) ۔
Ayah 31:3231:۔ واذا غشیہم الخ، یہ زجر ہے۔ دریاؤں اور سمندروں میں اگر ان کی کشتیوں کو پہاڑوں ایسی بلند وبالا موجیں گھیر لیں تو وہ اپنے تمام خود ساختہ کارسازوں سے مایوس ہو کر خالص اللہ کو پکارنے لگتے ہیں موحدین لہ لا یدعون لخلاصہم سواہ (قرطبی ج 14 ص 80) ۔ فلما نجھم الخ جب اللہ تعالیٰ ان کو طوفان سے بچا کر کنارے لگا دیتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ تو راہ اعتدال اختیار کرلیتے ہیں اور حق یعنی توحید پر قائم ہوجاتے ہیں فمہم مقیم علی التوحید (روح ج 21 س 106) ۔ البتہ عہد شکنی اور ناشکری جن کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہو وہ ایسے واضح اور روشن دلائل سے بھی نہیں سمجھتے بلکہ ضد اور عناد کی وجہ سے جحود و انکار پر ڈٹے رہتے ہیں۔
Ayah 31:3332:۔ یا ایہا الناس الخ، یہ تخویف اکروی ہے قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے ڈروا۔ اس دن میں باپ بیٹے کے کام نہیں آئیگا اور بیٹا باپ کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکے گا اور نہ دنیا کا ساز و سامان اور مال و زر ہی کسی کام آئی گا جس پر آج تم نازاں ہو اور جس پر مغرور ہو کر توحید سے منہ موڑ رہے ہو۔ الغرور دھوکہ دینے والا یعنی شیطان اور شیطان کے دھوکے میں بھی نہ آنا جو تمہیں جھوٹی آرزوئیں اور تمنائیں دلا کر اس کی توحید، اسلام اور آخرت سے غافل کرتا ہے۔
Ayah 31:3433:۔ ان اللہ الخ، یہ توحید پر آٹھویں عقلی دلیل ہے اور اس سے بھی نفی شرک فی العلم مقصود ہے۔ اس آیت میں پانچ امور کے علم کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونا ذکر کیا گیا ہے۔ (1) قیامت کب آئیگی۔ (2) بارش کب ہوگی ؟ (3) مادہ کے رحم میں کیا ہے۔ (4) آدمی کل کیا کرے گا ؟ اور (5) اسے موت کہاں آئے گی ؟ ان پانچوں امور کو مفاتح الغیب یعنی غیب کے خزانے کہا جاتا ہے۔ اور اللہ کے سوا ان کو کوئی نہیں جانتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ قیامت کب آئیگی تو آپ نے فرما ای فی خمس لا یعلمہن الا اللہ ثم تلا النبی ﷺ ان اللہ عندہ علم الساعۃ الایۃ (صحیح بکاری ص 12، صحیح مسلم ج 1 ص 29، نسائی ج 2 ص 263، ابن ماجہ ص 7) ۔ یعنی قیامت کا علم ان پانچ امور میں سے ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے سورة لقمان کی یہی آیت تلاوت فرمائی۔ ایک حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم ﷺ نے فرمایا مفاتح الغیب خمس لا یعلمہا الا اللہ (صحیح بخاری ج 2 ص 68) ۔ یعنی غیب کے خزانے پانچ ہیں اور ان کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اس کے بعد آپ نے مذکورہ بالا پانچ امور گنائے۔ حضرات صحابہ ؓ سے بھی اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ ان پانچ امور کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی نبی مرسل اور کسی ملک مقرب کو بھی عطاء نہیں فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے۔ ھذہ الخمسۃ لا یعلمہا الا اللہ تعالیٰ ولا یعلمہا ملک مقرب ولا نبی مرس فمن ادعی انہ یعلم شیئا من ھذہ فقد کفر بالقران لانہ خالفہ (قرطبی ج 14 ص 82، خازن ج 5 ص 183) ۔ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں وھی مفاتیح الغیب التی قال اللہ تعالیٰ وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمہا الا ھو (ابن کثیر ج 3 ص 455) ۔ امام قتادہ (رح) فرماتے ہیں۔ اشیاء استاثر اللہ بھن فلم یطیع علیہن ملکا مقربا ولا نبیا مرسلا (ابن کثیر ج 3 ص 455، روح ج ج 21 ص 111) ۔
ایک بار خلیفہ منصور نے خواب میں ملک الموت کو دیکھا تو اس سے پوچھا میری عمر کتنی باقی رہ گئی ہے ؟ تو ملک الموت نے پانچ انگلیوں سے اشارہ کیا اور غائب ہوگیا۔ منصور نے اپنا خواب علماء تعبیر کے سامنے بیان کیا تو کسی نے کہا اس میں اشارہ ہے کہ آپ کی عمر پانچ سال باقی ہے کسی نے کہا پانچ ماہ مراد ہیں اور کسی نے کہا پانچ دن مراد ہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہ سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا۔ ھو اشارۃ الی ھذہ العلوم الخمسۃ لایعلمہا الا اللہ (مدارک ج 3 ص 219) یعنی ملک الموت نے پانچ انگلیوں سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ ان پانچ علوم میں سے ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔
مذکورہ احادیث، اقوال صحابہ وتابعین وعبارات مفسرین سے ثابت و واضح ہوگیا کہ ان پانچوں چیزوں کا علم اللہ کے ساتھ خاص ہے اور اللہ کے سوا ان کو کوئی نہیں جانتا۔ البتہ ان پانچوں علوم میں سے چار علوم کے بعض جزئیات کا حصول بشر کے لیے ممکن ہے اس کی تفصیل آگے آرہی ہے لیکن پہلی چیز یعنی قیامت کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو عطا نہیں کیا۔ اس کا صرف ایک ہی فرد ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں اس کی صراحت ہے (1) یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسہا قل انما علمہا عند ربی الایۃ (اعراف رکوع 23) ۔ (2) ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیہا (طہ رکوع 1) ۔ (3) یسئل الناس عن الساعۃ قل انما علمہا عند اللہ الایۃ (احزاب رکوع 8) ۔ (4) وما یدریک لعل الساعۃ قریب (شوری رکوع 2) ۔ (5) الیہ یرد علم الساعۃ (حم السجدہ رکوع 6) ۔ (6) ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین۔ قل انما العلم عند اللہ (رکوع 2، یونس) ۔ (7) یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسہا، فیم انت من ذکراھا الی ربک منتہاھا (نازعات رکوع 2) ۔
ان تمام آیتوں میں اس بات کی صراحت ہے کہ قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے۔ قیام قیامت کے معین وقت کا علم اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بھی عطاء نہیں فرمایا ان آیتوں کی تفسیر اپنی اپنی جگہ مزکور ہے۔ قیامت کے بارے میں خودحضور ﷺ سے بھی منقول ہے کہ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور آپ کو اس کا علم نہیں دیا گیا۔ چناچہ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہو حالانکہ اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ قال سمعت النبی صلی اللہ علی ہو سلم یقول قبل ان یموت بشہر تسئلونی عن الساعۃ وانما علمہا عنداللہ (صحیح مسلم ج 2 ص 310) چند حدیثیں مذکور ہوچکی ہیں۔
تمام مفسرین نے بھی اس بات کی تصریح کی ہے کہ قیامت کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی نبی مرسل اور کسی ملک مقرب کو بھی نہیں دیا۔ قدوۃ المفسرین، حبر الامت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی اجل یوم القیامۃ لا یدریہ احد لا نبی مرسل ولا ملک مقرب (قرطبی ج 11 ص 350) ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں لقد اخفا ھا اللہ من المئکۃ المقربین ومن الانبیاء المرسلین (ابن جریر ج 16 ص 99) ۔ امام سدی کبیر سے منقول ہے لم یعلم قیامہا متی تقوم لک مقرب ولا نبی مرسل (ابن جریر ج 9 ص 88) ۔ امام بغوی رقمطراز ہیں۔ استاثر اللہ بعلمہا ولا یعلمہا الا ھو (معالم ج 2 ص 265) ۔ ابن کثیر فرماتے ہیں ای لا یعلم وقت ذلک علی التعیین الا اللہ عز وجل (ابن کثیر ج 4 ص 399) ۔ قاضی بیضاوی لکھتے ہیں قل انما علمہا عند اللہ لم یطلع علیہا ملکا ولا نبیا (تفسیر بیضاوی) ۔ امام نسفی فرماتے ہیں ای علم وقت ارسائہا عندہ قد استثر بہ ولم یخبر بہ احدا من ملک مقرب ولا نبی مرسل (مدارک ج 2 ص 67) ۔ مفسر ابن صفی حنفی فرماتے ہیں قل انما علمہا عنداللہ لم یطلع علیہ احدا (جامع البیان ص 366) ۔ ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں الخفاء مستمر الی یوم القیامۃ۔ امام ابو السعود فرماتے ہیں معنی کونہ عندہ تعالیٰ خاصۃ انہ قد استثر بہ بحیث لم یخبر بہ احدا من ملک مقرب او نبی مرسل (ارشاد العقل السلیم بر حاشیہ کبیر ج 4 ص 482) ۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ان اللہ تعالیٰ قد استاثر بہ ولم یطلع علیہ نبیا ولا ملکا (ایضا ج 6 ص 802، خازن ج 5 ص 228 واللفظ لہ) نیز مفسر خازن رقمطراز ہیں ای لا یعلم الوقت الذی تقوم فیہ الا اللہ استثر اللہ بعلمہا فلم یطلع علیہ احد (خازن ج 2 س 265) ۔ علامہ سید محمود آلوسی حنفی فرماتے ہیں ای العلم بوقتہ عنداللہ عز وجل لا یطلع علیہ غیرہ عز وجل (روح ج 29 ص 20) ۔
مذکورہ بالا احادیث صحیحہ، اقوال صحابہ وتابعین اور تصریحات مفسرین سے یہ بات صاف معلوم ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے علم قیامت پر کسی نبی مرسل کسی ملک مقرب اور کسی ولی کامل کو بھی مطلع نہیں فرمایا اور اسے اپنی ذات کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔
اعتراض :۔ اہل بدعت کی طرف سے اعتراض کیا جاتا ہے کہ غزوہ بدر میں آغاز جنگ سے ایک دن پہلے ہی آنحضرت ﷺ نے خبر دے دی کہ فلاں فلاں رؤساء مشرکین کل قتل ہوں گے اور ان کے قتل ہونے کی جگہیں بھی متعین فرما دیں ھذا مصرع فلان غدا انشاء اللہ (صحیح بخاری) ۔ اسی طرح حضرت حسین ؓ کی پیدائش سے پہلے ہی آنحضرت ﷺ نے اطلاع دیدی تھی کہ فاطمہ ؓ کے بیٹا پیدا ہوگا چناچہ آپ نے ام الفضل ؓ سے فرمایا رایت خیر تلد فاطمۃ انشاء اللہ غلاما۔ ایک موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کل میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عطاء فرمائیگا اگلے دن آپ نے حضرت علی کو جھنڈا دیا۔ لاعطین الریۃ غدا رجلا یفتح اللہ علی یدیہ یحب اللہ ورسولہ (مشکوۃ) ۔ اسی طرح حضور نے قرب قیامت کی نشانیاں بیان فرمائیں مثلا آپ نے فرمایا قیامت سے پہلے خروج یاجوج و ماجوج کے بعد ایک عالمگیر بارش ہوگی جس سے کوئی بستی اور کوئی جگہ خالی نہ رہے گی تو اس سے معلوم ہوا کہ ان غیوب کا علم اللہ کے سوا آنحضرت ﷺ کو بھی حاصل تھا اسی طرح آج کل ماہرین موسمیات پہلے ہی بتادیتے ہیں کہ فلاں وقت بارش ہوگی۔
جواب : مفاتح الغیب یعنی مذکورہ پانچوں امور میں سے چار امور تو کلی ہیں اور ہر کلی کے تحت بیشمار افراد ہیں، لیکن قیامت امر اجزئی اور فرد معین ہے، اس لیے قیامت کا علم تو اللہ تعالیٰ نے کسی کو دیا ہی نہیں اسی طرح باقی چاروں امور کلیہ کا بالاستیعاب اور کلی علم بھی اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا۔ البتہ ان چار امور کلیہ کے بعض جزئیات کا علم بطور معجزہ آنحضرت ﷺ کو دیا گیا۔ اعتراض میں جن علوم کا ذکر کیا گیا ہے وہ اسی قبیل سے ہیں اللہ تعالیٰ نے بہت سے جزئیات کا علم وحی کے ذریعہحضور ﷺ کو عطاء فرمایا لیکن آپ کو یہ قدرت نہ دی کہ آپ جب چاہیں، جس فرد کو چاہیں جان لیں اس لیے اگر بعض جزئیات غیب کا علم آنحضرت ﷺ کو بواسطہ وحی حاصل ہوجائے تو وہ اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ آیت کا مفاد یہ ہے کہ ان امور غیب کی تمام اور مکمل تفصیلات کلی طور پر اور بالاستیعاب کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ المراد بالعلم الذی استاثر سبحانہ بہ العلم الکامل باحوال کل علی التفصیل (روح ج 21 ص 112) ۔ باقی رہی یہ بات کہ ماہرین وقت سے پہلے آمد باراں کی خبر دے دیتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ماہرین آلات و علامات کے ذریعہ بارش کی پیشگوئی کرتے ہیں اس لیے اسے علم غیب نہیں کہا جائیگا کیونکہ علم غیب تو وہ ہوتا ہے جو بلا توسط اسباب حاصل ہو اور بطور ملکہ ہو کہ جب چاہے اور جو کچھ چاہے اس کا علم حاصل ہوجائے۔
یہاں ایک بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ تمام غیوب جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ ان پانچ امور کلیہ میں منحصر نہیں ہیں۔ یہ آیت ایک سوال کے جواب میں نازل ہوئی، سوال میں چونکہ ان پانچ امور کا ذکر تھا اس لیے آیت میں بھی انہی پانچ امور کے ذکر پر اکتفا کیا گیا۔ ایک شخص حارث نامیحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ ! قیامت کب آئیگ، ملک میں قحط ہے بارش کب ہوگی، میری عورت امید سے ہے اس کے لڑکا ہوگا یا لڑکی، یہ تو مجھے معلوم ہے میں کہا پیدا ہوا یہ بتائیے میں کہاں مروں گا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں ینبغی ان یعلم ان کل غیب لا یعلمہ الا اللہ عز وجل ولیس المغیبات محصورۃ بھذہ الخمس وانما خصت بالذکر لوقوع السؤال عنہا (روح ج 21 ص 112) ۔ اسی طرح قاضی ثناء اللہ پانی پتی فرماتے ہیں ولیست خزائن الغیب منحصرۃ فی الخمس المذکورۃ بل کل ما لم یوجد اولم یظھر بعد (مظہری ج 3 ص 274) ۔
سورة لقمان میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
1 ۔ ھذا خلق اللہ فارونی ماذا خلق الذین من دونہ (رکوع 1) نفی شرک فی التصرف
2:۔ یبنی لا تشرک باللہ (رکوع 2) ۔ نفی شرک ہر قسم
3 ۔ وان جاھداک علی ان تشرک (رکوع 2) ۔ والدین کا اولاد پر بہت بڑا حق ہے لیکن اگر وہ اولاد کو شرک پر مجبور کریں تو اس معاملے میں ان کی اطاعت جائز نہیں۔
4 ۔ ولئن سالتھم من خلق السموت۔ تا۔ ھو الغنی الحمید (رکوع 3) نفی شرک فی التصرف۔
5 ۔ ولو ان ما فی الارض۔ تا۔ ان اللہ عزیز حکیم۔ نفی شرک فی العلم۔
6 ۔ ذلک بان اللہ ھو الحق۔ تا۔ وان اللہ ھو العلی الکبیر۔ (رکوع 3) ۔ نفی معبودیت و الوہیت از معبودان باطلہ۔
7 ۔ ان اللہ عندہ علم الساعۃ۔ تا۔ ان اللہ علیم خبیر (رکوع 4) ۔ نفی شرک فی العلم۔
سورة لقمان ختم ہوئی