Ayahs 30:1–22:۔ رومیوں اور فارس کے مجوسیوں کے درمیان اذرعات اور بصری یا اردن اور فلسطین کے درمیان جنگ ہوئی جس میں رومی مغلوب ہوگئے۔ مسلمانوں کی خواہش تھی کہ رومی غالب ہوں کیونکہ وہ اہل کتاب (نصاری) ہیں اس لیے اہل کتاب پر فارس کے مشرکوں (مجوسیوں) کے غلبے کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت صدمی اور غم لاحق ہوا اور دوسری طرف مشرکین مکہ بہت خوش ہوئے کہ ان کے بھائی (مجوسی) اہل کتاب پر غالب آگئے۔ فی ادنی الارض الخ یعنی ایسی زمین میں جو فارس کی نسبت ارض مکہ سے زیادہ قریب ہے۔ وا دنی الارض اقربھا فان کانت الواقعۃ فی اذرعات فھی ادنی الارض بالنظر الی مکۃ) (بحر ج 7 ص 162) ۔ وقدجاء من طرق عدیدۃ ان الحرب وقع بین اذرعات و بصری وقال ابن عباس والسدی بالاردن و فلسطین (روح ج 21 ص 17) ۔
Ayah 30:33:۔ یہ بشارت ہے کہ ایک دن رومی بھی مجوسیوں پر غالب ہوں گے۔ یہ ایک ایسی پیشگوئی ہے جو حضور ﷺ کی صداقت پر بہت بڑی دلیل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے۔ من بعد غلبھم یہ مصدر مبنی للمفعول ہے اور نائب فاعل کی طرف مضاف ہے اور ھم ضمیر رومیوں سے کنایہ ہے ای من بعد مغلوبیتہم یا مصدر مبنی للفاعل ہے ور مفعول کی طرف مضاف ہے اور ھم ضمیر فارسیوں سے کنایہ ہے پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ روزمی اپنے مغلوب ہوجانے کے بعد عنقریب فارسیوں پر غالب ہوں گے۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا رومی فارسیوں کے ان پر غلبہ کے بعد عنقریب ہی فارسیوں پر غالب ہوں گے۔ ای غلب فارس ایاھم علی انہ مصدر مضاف الی مفعولہ او الی نائب فاعلہ ان کان مصدر المجہود و رجحہ بعضہم بموافقتہ للنظم الجلیل (روح ج 21 ص 17) ۔
Ayah 30:44:۔ بضع عدد مبہم ہے اور تین سے نو تک کے لیے استعمال ہوتا ہے اس آیت کے نزول کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ابی بن خلف مشرک سے کہا مجوسیوں کی فتح پر اتنی خوشی نہ کرو عنقریب ہی رومی مجوسیوں پر غالب آجائیں گے۔ چناچہ دونوں نے دس دس اونٹ شرط پر لگا دئیے اور رومیوں کے غلبے کی میعاد تین سال مقرر کی جبحضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے ابوبکر سے فرمایا لفظ بضع تو تین سے ون تک کے لیے ہوتا ہے اس لیے تم اس کے ساتھ شرط اور مدت میں اضافہ کرلو۔ حضرت ابوبکر ؓ دوبارہ ابی بن خلف سے ملے اور سو اونٹ شرط پر لگادئیے اور میعاد نو سال تک بڑھا دی جسے اس نے منظور کرلیا۔ یہ واقعہ تحریم قمار (شرط وغیرہ) سے پہلے کا ہے (روح وغیرہ) ۔ یہ پیش گوئی حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی اور اس پیش گوئی کے چھ سال بعد اللہ نے رومیوں کو مجوسیوں پر فتح دی۔ اس طرح یہ پیش گوئیحضور ﷺ کی نبوت کی دلیل ہے۔ اس وقت ابی بن خلف مرچکا تھا اس لیے حضرت ابوبکر صدیق نے شرط کا مال اس کے وارثوں سے وصول کیا۔ لیکنحضور ﷺ نے وہ مال صدقہ کرنے کا حکم دے دیا۔ اخذ ابوبکر الخطر من ذریۃ ابی فقال (علیہ الصلوۃ والسلام) تصدق بہ وھذہ ایۃ بینۃ علی صحۃ نبوتہ وان القران من عند اللہ لانھا انباء عن علم الغیب وکان ذلک قبل تحریم القمار عن قتادۃ (مدارک ج 3 ص 204) ۔
5:۔ اہل فارس کے غلبہ سے پہلے بھی معاملہ اللہ کے اختیار میں تھا اور اس کے بعد بھی یعنی اہل فارس کو رومیوں پر اللہ ہی نے غلبہ عطا فرمایا اور آئندہ رومیوں کو اہل فارس پر جو غلبہ نصیب ہوگا وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی مدد سے ہوگا اسی طرح پہلے بھی اللہ کے اختیار میں ہے کہ وہ مومنوں کو بطور آزمائش مصائب و تکالیف میں مبتلا کردے اور اس کے بعد بھی اسی کو اختیار ہے کہ وہ مصائب کے بعد مومنوں کو دشمنوں پر غلبہ عطا کر کے انہیں خوش و خرم کردے۔
6:۔ جس دن رومیوں کو فارس کے مجوسیوں پر فتح ہوگی اس دن مسلمان بہت خوش ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی مدد اور نصرت سے فتح عطا فرمائی اللہ تعالیٰ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے غلبہ عطا فرماتا ہے۔ چناچہ جس دن رومیوں کو فارس کے مشرکین پر غلبہ حاصل ہوا اس دن مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے دوگنا خوشی عطا فرمائی ایک رومیوں کی فارسیوں پر فتح کی وجہ سے کیونکہ یہ دونوں واقعے ایک ہی دن یعنی جنگ بدر کے دن رونما ہوئے۔ فرح النبی ﷺ والمومنون بظھورھم علی المشرکین یوم بدر و ظھور اھل الکتاب علی اھل الشرک (معالم و خازن ج 5 ص 168) ۔ و عن ابی سعید الکدری انہ وافق ذلک یوم بدر و فیہ من نصر اللہ تعالیٰ العزیز للمومنین و فرحھم بذلک ما لا یخفی (روح ج 21 ص 21) ۔
Ayahs 30:5–67:۔ مفعول مطلق کا مفعل ناصب حذف کر کے اسے فاعل کی طرف مضاف کردیا گیا ہے یعنی وعدھم اللہ وعدا (کبیر ج 6 ص 696) اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ رومیوں کو ایران کے آتش پرستوں پر ضرور فتح دے گا اس میں ہرگز تخلف نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ایمان والوں سے بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر وہ توحید پر قائم رہیں گے اور توحید کی خاطر مشرکین کی ایذاؤں پر صبر کریں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں مشرکین پر غلبہ عطا فرمائے گا اللہ تعالیی نے یہ دونوں وعدے پورے فرما دئیے۔
Ayah 30:78:۔ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ یہ لوگ آخرت کی زندگی سے بالکل غافل ہیں اور اس کے لیے کچھ بھی تیاری نہیں کر رہے وہ صرف دنیا کی زندگی کی ظاہری ٹیپ ٹاپ کو جانتے ہیں اور صرف دنیوی زندگی کے عیش و آرام ہی کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کی ساری تگ و دو بس دنیا میں زیست کا ساز و سامان مہیا کرنے کے لیے ہے۔
Ayah 30:89:۔ یہ بھی زجر و تنبیہ ہے۔ کیا وہ اس میں غور و فکر نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سارا نظام عالم اظہار حق کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ وہ اس سے اللہ تعالیی کی قدرت و صنعت، وسعت علم اور اس کی وحدانیت پر استدلال کریں۔ اور پھر اس عالم آب و گل کی ایک انتہاء ہے جس کے بعد قیامت آئے گی اور سب اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے۔ لیکن اکثر لوگ غور و فکر نہیں کرتے وہ اللہ کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں اور آخرت کا بھی انکار کرتے ہیں۔
Ayah 30:910:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ کیا ان معاندین نے زمین چل پھر کر پہلے زمانے کے معاندین حق کا انجام نہیں دیکھا ؟ جو جسمانی طاقت اور قوت میں ان سے کہیں زیادہ تھے۔ اور زراعت، باغبانی اور تعمیرات وغیرہ فنون میں ان سے زیادہ ماہر تھے۔ وہ دنیا میں بڑی شان و شوکت کے مالک تھے، عالیشان محلوں اور قلعوں میں رہتے تھے۔ جب ان کے پاس ہمارے پیغمبر پیغام توحید لے کر آئے تو انہوں نے اپنی دولت و شوکت کے غرور میں ان کو جھٹلا دیا تو ہم نے ان کو دردناک عذاب میں مبتلا کر کے ہلاک کردیا۔ یہ عذاب ان کے اعمال کا نتیجہ تھا ہم نے ان پر ظلم و زیادتی نہیں کی۔ ثم کان عاقبۃ الذی الخ۔ یہ ان معاندین کے انجام بد کا بیان ہے۔ عاقبۃ الذین اساء وا، کان کی خبر مقدم ہے اور السوای اس کا اسم مؤخر ہے۔ اور ان کذبوا الخ ماقبل کا سبب ہے ان سے پہلے باء سببیہ یا لام تعلیل مقدر ہے ای بان اولان (روح) اور السوای سے مراد عقوبت ہے۔ یعنی دنیا میں سخت ترین سزا کی صورت میں وہ اپنے انجام سے دو چار ہوئے اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کی تکذیب کی اور ہماری آیتوں اور ہمارے پیغمبروں سے استہزاء کرتے تھے۔
Ayahs 30:10–1111:۔ یہ حشر و نشر کے اثبات پر عقلی دلیل ہے۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ انسانوں کو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے وہ ان کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ اس لیے قیامت کے دن وہ سب کو دوبارہ زندہ کرے گا اور سب اس کے سامنے حساب کتاب کے لیے حاضر ہوں گے۔
Ayah 30:1212:۔ اثبات قیامت کے بعد قیامت کے بعد قیامت کے دن مجرمین اور مومنین کے احوال کا ذکر کیا گیا۔ یہ مجرمین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن مجرمین ہر طرف سے مایوس و ناامید ہوں گے۔ پلے میں کوئی عمل نہیں ہوگا شرک کی وجہ سے تمام اعمال ضائع ہوچکے ہوں گے اور جن معبودوں کی سفارش پر اعتماد تھا وہ بھی کام نہ آئیں گے اور اللہ کے عذاب سے ان کو بچا نہ سکیں گے اور اس وقت انہیں یقین ہوگا کہ دنیا میں جن کو کارساز اور شفیع غالب سمجھ کر پوجتے رہے وہ تو عبادت کے لائق ہی نہ تھے اور نہ وہ کارسازی اور مشکل کشا ہی تھے۔ ولم یکن لھم من شرکاء ھم شرکاء سے تمام معبودان غیر اللہ مراد ہیں جن کو مشرکین کارساز اور سفارشی سمجھ کر پکارا کرتے تھے۔ من شرکاءھم من الذین عبدوھم من دون اللہ (مدارک ج 3 ص 205) شفعاء یجیرونھم من عذاب اللہ تعالیٰ کما کانوا یزعمونہ (ابو لاسعود ج 6 ص 713) ۔ امام مقاتل فرماتے ہیں شرکاء سے ملائکہ مراد ہیں جنہٰں مشرکین سفارشی سمجھتے تھے۔ وقال مقاتل الملائکۃ (علیہم السلام) (روح) ۔
Ayah 30:1313:۔ قیامت کے دن جب مشرکین اپنے خود ساختہ سفارشیوں کی امداد سے مایوس ہو کر حقیقت حال پر آگاہ ہوجائیں گے تو معبودانِ باطلہ کی الوہیت کا انکار کریں گے۔ بشرکائہم کافرین ای بالہتہم و شرکتہم ھیث یئسوا منھم ووقفوا علی کنہ امرھم (روح ج 21 ص 25) ۔
Ayah 30:1414:۔ یہ قیامت کے دن مومنوں اور کافروں کے انجام کی تفصیل ہے۔ یتفرقون یعنی اہل جنت اور اہل جہنم جدا جدا ہوجائیں گے۔ ای یتمیز اھل الجنۃ من اھل النار (خازن و معالم ج 5 ص 169) ۔ فاما الذین امنوا الخ بشارت اخروی ہے اس میں ایمان والوں کے انجام کا ذکر ہے کہ وہ جنت میں انعام واکرام سے نوازے جائیں گے اور وہاں خوش و خرم رہیں گے۔ واما الذین کفروا الخ یہ تخویف اخروی ہے اس میں منکرین توحید اور جاحدین آخرت کا انجام مذکور ہے کہ وہ عذاب جہنم میں مبتلا کیے جائیں گے۔
Ayahs 30:15–1715:۔ فاء فصیحہ ہے اور یہ ابتدائے سورت سے متعلق ہے یعنی اللہ تعالیٰ توحید کی وجہ سے تمہیں کفار پر غلبہ ضرور عطا کرے گا لہذا تم اللہ تعالیٰ کو شریکوں سے پاک سمجھو اور پنج وقتہ نمازوں میں اس کی تسبیح و تقدیس بیان کرو۔ فسبحن اللہ اگرچہ لفظًا جملہ انشائیہ ہے کیونکہ اصل میں فسبحوا سبحانا تھا لیکن معنی خبریہ ہے بقرینہ ولہ الحمد لاخ اور مطلب یہ ہوگا کہ دلائل مذکورہ کی وجہ سے ان اوقات میں شرک سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس ظاہر ہو رہی ہے یا یہ دونوں جملے ہی انشائیہ ہیں۔ فسبحن اللہ کا انشائیہ ہونا تو ظاہر ہے اور جملہ لہ الحمد اگرچہ لفظًا خبر ہے لیکن معنی انشاء ہے کیونکہ اس سے زمین و آسمان کے باسیوں کو اللہ کی حمد و ثنا کرنے کا حکم دینا مقصود ہے۔ لہ الحمد و ان کانت خبریۃ الا ان الاخبار بثبوت الحمد لہ تعالیٰ ووجوبہ علی المیزین من اھل السموات والارض فی معنی الامر بہ علی ابلغ وجہ فکانہ قیل فسبحو اللہ تعالیٰ تسبیحہ اللائق بہ سبحانہ فی ھذہ الاوقات واحمدوہ (روح ج 21 ص 28) ۔ مفسرین کرام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں پانچوں نمازیں مذکور ہیں اور حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ قرآن مجید میں پانچوں نمازوں کا یکجا ذکر صرف اسی جگہ ہے۔ اتفق المفسرون علی ان الخمس داخلۃ فی ھذہ الایۃ و عن ابن عباس ما ذکرت الخمس الا فیھا (بحر ج 7 ص 166) ۔ حین تمسون میں مغرب اور عشاء، حین تصبحون میں صبح، عشیا میں عصر اور حین تظہرون، میں ظہر کی نماز کا ذکر ہے۔ (بحر، مدارک، روح وغیرہ) ۔ سورة عنکبوت میں (واقم الصلوۃ) (رکوع 5) فرمایا تھا ان آیتوں میں اس کی تفصیل فرما دی۔ یہاں یہ شبہہ کیا جاتا ہے کہ ان آیتوں میں نماز کا تو کوئی ذکر ہی نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں تسبیح سے نماز ہی مراد ہے کیونکہ نماز اول سے آخرت تک قولاً و فعلاً اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس پر مشتمل ہے اسی لیے قرٓان میں اکثر نماز کو تسبیح سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مثلا و سبحوہ بکرۃ واصیلا (احزاب رکوع 6) ۔ و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس و قبل غروبہا (طہ رکوع 7) ۔ سورة عنکبوت میں اقم الصلوۃ کی تعبیر اختیار کی گئی اور یہاں فسبحن اللہ الخ سے اس مضمون کو ادا کیا گیا۔ ولہ الحمد الخ یعنی زمین و آسمان میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو تمام صفات کارسازی سے متصف ہے اور ان صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔
Ayahs 30:18–1916:۔ یہ بھی بعث و نشور پر عقلی دلیل ہے یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ بےجان سے جاندار کو اور جاندار سے بےجان کو پیدا کرسکتا ہے اور خشک زمین کو زندہ اور زرخیز بنا دیتا ہے اسی طرح وہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے وعدہ فرمایا کہ وہ توحید پر قائم رہیں آخر اللہ تعالیٰ ان کو مشرکین پر غلبہ عطا کرے گا۔ مسلمانوں کا مشرکین پر غلبہ جہاں ایمان والوں کے لیے خوشی کا باعث ہوگا وہ مشرکین کے حق میں عذاب خداوندی ہوگا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کی بھلائی کے لیے آگے توحید پر تیری عقلی دلیلیں ذکر کیں تاکہ مسئلہ خوب واضح ہوجائے مسلمانوں کی بھلائی یہ ہے کہ وہ اس مسئلہ کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں اور اس پر قائم رہیں کیونکہ ان کو غلبہ اسی کی بدولت حاصل ہوگا۔ مشرکین کی بھلائی یہ ہے کہ تیرہ دلائل عقلیہ کے ساتھ اس مسئلہ کو خوب واضح کردیا گیا ہے تاکہ کسی شک و شبہہ کی گنجائش باقی نہ رہے اور وہ اس مسئلہ کو سمجھ کر مان لیں اور اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔
Ayah 30:2017:۔ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے جد اعلی ٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا پھر ان سے ان کی اولاد کا سلسلہ جاری کیا اور ان کو زمین میں آباد کیا۔ و من ایتہ ان خلق لکم الخ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ من انفسکم ای من شکل انفسکم و جنسھا (مدارک ج 3 ص 306) ۔ یعنی تمہاری جنس میں سے اور انسانی شکل و صورت میں تمہاری بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے ساتھ سکون و راحت حاصل کرو اور رشتہ ازدواج کی بنا پر تمہارے درمیان محبت و شفقت کے تعلقات پیدا کردئیے۔ ان فی ذلک الخ بشر کو مٹی سے پیدا کرنے، اس کی نسل پھیلانے، اس کی جنس سے اس کا جوڑ پیدا کرنے اور زوجین کے درمیان محبت و الفت ڈالنے میں غور وفکر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت کے دلائل نظر آئیں گے۔
Ayahs 30:21–2218:۔ یہ تیسری عقلی دلیل ہے۔ آسمانوں اور زمین کی پیدائش، اور دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے انسانوں کی زبانوں اور ان کے رنگوں کا اختلاف بھی دلائل قدرت میں سے ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ علم والوں کے لیے اس میں عبرت کا بہت سامان ہے۔ ومن ایتہ منامکم الخ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے تم دن اور رات میں آرام و راحت کے لیے نیند بھی کرتے ہو اور ان اوقات میں اپنی روزی بھی تلاش کرتے ہو۔ غور سے سننے والوں کے لیے اس میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور کارسازی کے دلائل موجود ہیں۔ یہ تمام انعامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں لہذا اس کا شکر ادا کرنا، اسی کو کارساز سمجھ کر حاجات میں پکارنا بندوں پر فرض ہے۔
Ayahs 30:23–2419:۔ یہ توحید پر پانچویں عقلی دلیل ہے۔ خوفا وطمعا دونوں یریکم کے مفعول لہ ہیں ای لالقاء الخوف و الطمع یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں بادلوں کی چمک دکھاتا ہے جس سے تمہارے دلوں میں خوف وامید کے ملے جلے جذبات رونما ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف بجلی گرنے کا ڈر ہوتا ہے اور دوسری طرف باران رحمت کے نزول کی امید ہوتی ہے۔ خوفا من الصاعقۃ و طمعا فی الغیث (مدارک ج 3 ص 207) ۔ پھر آسمان سے باران رحمت نازل فرما کر بنجر اور ناکارہ زمین کو زندہ اور زرخیز بنا دیتا ہے۔ عقل فہم والوں کے لیے اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت کے بیشمار دلائل موجود ہیں۔ یہاں جو دلائل مذکور ہوئے وہ اعلی سے ادنی کی طرف تنزل کے طور پر مذکور ہوئے کیونکہ سب سے اعلی درجہ گہرے غور و فکر کا ہے، اس کے بعد علم بلا تفکیر کا درجہ ہے، اس کے بعد سماع کا درجہ ہے اور اس کے بعد عقل یعنی حواس کی درستگی کا درجہ ہے اور اس کے بعد عقل یعنی حواس کی درستگی کا درجہ ہے الفکر اعلی والمتفکرون قلیلون وادنی منہ العالمون وادنی منہ الفہم بمجرد السماع وادنی منہ العقل و عدم الجنون کما قال العارف الرومی۔
فکر آن باشد بکشاید رہے
راہ آن باشد کہ پیش آید شہے
یعنی فکر وہی ہے جس سے توحید کی راہ کھلے اور راہ وہی سیدھی ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچائے۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔
Ayah 30:2520:۔ یہ توحید پر چھٹی عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی عظمت و وحدانیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ سارا نظام کائنات اسی کے حکم سے قائم ہے اور دنیا کی میعاد ختم ہونے کے بعد قیامت کے دن جب وہ تمہیں بلائے گا یعنی اس کے حکم سے قائم ہے۔ اور دنیا کی میعاد ختم ہونے کے بعد قیامت کے دن جب وہ تمہیں بلائے گا یعنی اس کے حکم سے جب اسرافیل صور پھونکے گا تو تم سب زندہ ہو کر قبروں سے باہر نکل آؤ گے۔ ولہ من فی السموات الخ یہ ساتویں عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان کی تمام مخلوق کا وہی خالق ومالک ہے اور تمام جن و انس انبیاء (علیہم السلام) اور ملائکہ کرام سب اس کے مطیع فرمانبردار ہیں اور سب خالصۃً اسی کو کارساز سمجھ کر پکارتے ہیں لہذا وہی سب کا کارساز اور حاجت روا ہے۔ قانتون مخلصون (روح) کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی وحدانیت کی گواہی دے رہا ہے۔ قانتون قائمون بالشھادۃ علی وحدانیتہ تعالیٰ کما قال الشاعر۔ و فی کل شیء لہ ایۃ تدل علی انہ واحد۔
Ayahs 30:26–2721:۔ یہ توحید پر آٹھویں عقلی دلیل ہے۔ ساری کائنات کو ابتداء اسی نے پیدا کیا اور وہی دوبارہ مخلوق کو زندہ کرے گا یہ اس کے لیے بہت ہی آسان ہے جو اللہ ایسا قادر و متصرف ہے وہی کارساز اور برکات دہندہ ہے۔ ولہ المثل الاعلی الخ سب سے بڑی صفت ہے یعنی وحدانیت اللہ تعالیٰکے لیے مخصوص ہے۔ وہ ذات وصفات میں متفرد اور یگانہ ہے اور زمین و آسمان میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ عن مجاھد المثل الاعلی قول لا الہ الا اللہ ولہ الوصف بالوحدانیۃ (بھر ج 7 ص 170) ۔ عن قتادۃ و مجاھد ان (المث الاعلی) لا الہ الا اللہ و عللہما اراد بذلک الواحدانیۃ فی ذاتہ تعالیٰ و صفاتہ سبحانہ (روح ج 21 ص 37) ۔ وھو العزیز الحکیم۔ اس کی قدرت کاملہ تمام ممکنات پر حاوی اور اس کا علم محیط تمام موجودات کو شامل ہے۔
Ayah 30:2822:۔ یہ معبود برحق اور معبود باطل کی تمثیل ہے جس سے شرک کا بطلان واضح ہوتا ہے۔ من انفسکم یعنی یہ تمثیل تمہارے ہی احوال سے منتزع ہے (ضرب لکم مثلا) یتبین بہ بطلان الشرک (من انفسکم) ای منتزعا من احوالہا التیھی اقرب الامور الیکم واعرفہا (روح ج 21 ص 37) ۔ کخیفتکم انفسکم میں انفسکم سے اپنی جنس کے آزاد لوگ مراد ہیں مثل خیفتکم من ھو من نوعکم من الاحرار المساھمین لکم (روح) ۔ حاصل تمثیل یہ ہے کہ ہم نے تمہیں جو اموال و املاک عطا کیے ہیں ان میں تم اپنے غلاموں کو شریک کر کے ان کو اپنے برابر کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہو یہاں تک کہ وہ ملک و تصرف میں دیگر آزاد لوگوں کی سطح پر آجائیں اور انہیں بھی وہی شوکت وہیبت حاصل ہوجائے جو تمہاری سطح کے لوگوں کو حاصل ہے۔ اسی طرح اللہ کے نیک بندے، اولیاء کرام، انبیاء اور ملائکہ (علیہم السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے غلام اور اس کے عبید ہیں اس لیے یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات الوہیت میں انہیں شریک کرلے یا اپنے بعض اختیارات انہیں سونپ دے۔ فاذا لم ترضوا بذلک لانفسکم فکیف ترضون لرب الارباب ومالک الاحرار والعبید ان تجعلوا بعض عبیدہ لہ شرکاء (مدارک ج 3 ص 208) ۔ قال ابن عباس تخافونہم ان یرثوکم کما یرث بعضکم بعضا فاذا لم تخافوا ھذا من ممالیککم ولم ترضوا ذلک لانفسکم فکیف رضیتم ان تکون الھتکم التی تعبدونہا شرکائی وھم عبیدی (معالم و خازن ج 55) ۔
Ayah 30:2923:۔ یہ ماقبل سے اضراب ہے یعنی اس قدر دلائل کے بعد مسئلہ توحید میں شک و شبہہ کی کوئی گنجائش نہیں لیکن اس کے باوجود مشرکین ان میں غور و فکر نہیں کرتے بلکہ خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرتے ہوئے بلا دلیل وحجت اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ الذین ظلموا سے مشرکین مراد ہیں والذین ظلموا ھم المشرکون (بحر ج 7 ص 171) ۔ ان معاندین کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اور ان سے توفیق ہدایت سلب کرلی گئی ہے اس لیے اب انہیں کوئی بھی راہ راست پر نہیں لاسکتا اور نہ ان کو اللہ کے عذاب سے کوئی بچا سکتا ہے۔ فمن یھدی الخ استفہام انکاری ہے۔ ای لایقدر علی ہدایتہ احد (ابو السعود ج 5 ص 722) ۔
Ayah 30:3024:۔ فاء فصیحہ ہے، خطاب واحد براہ راست آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن معنی عام ہےحضور ﷺ اور تمام مومنین کو شامل ہے۔ اس میں توحید پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ مذکورہ بیان دلائل اور تمثیل پر مرتب ہے۔ نیز ابتدائے سورت میں مذکورہ وعدہ نصرت سے متعلق ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی فتح و نصرت اس پر موقوف ہے کہ تم توحید پر قائم رہو اور اس کی خاطر مصائب برداشت کرو۔ اب مسئلہ توحید کو براہین و بینات سے مزید واضح کردیا گیا ہے لیکن مشرکین پھر بھی حد سے تجاوز کر رہے ہیں اور شرک میں منہمک ہیں حق واضح ہوچکا اور توحید لائل سے ثابت ہوچکی لہذا آپ تمام باطل ادیان سے منہ کوڑ کر توحید پر قائم رہیں۔ اذا تبین الھق وظھرت الواحدانیۃ فاقم الخ (نیسا پوری) ۔ یہ مسئلہ توحید ففطری دین ہے جس پر اللہ نے تمام انسانوں کو پیدا فرمایا۔ اس لیے اللہ کی فطرت کو مت بدلو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ یہ توحید ہی دین قیم اور صراط مستقیم ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے جاہل اور بیخبر ہیں۔ فاقم وجہک الخ یہ دین توحید پر قائم رہنے اور اپنی توجہ کو اس پر مرکوز کرنے سے کنایہ ہے۔ والمراد الا قبال علی دین الاسلام والاستقامۃ والثبات علیہ (روح ج 21 ص 39) ۔ حنیفا، فاقم کی ضمیر فاعل سے حال ہے۔ فطرت اللہ فعل مقدر کا مفعول ہے۔ ای الزموا فطرت اللہ (مدارک ج 3 ص 208) ۔ فطرت اللہ سے اللہ کی توحید مراد ہے جس کی قابلیت و استعداد اللہ تعالیٰ نے ہر بچے کی فطرت اور خلقت میں ودیعت فرمائی جیسا کہحضور ﷺ کا ارشاد ہے کل مولود یولد علی الفطرۃ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ یہاں فطرت اللہ کو الدین القیم فرمایا اور سورة یوسف میں فرمایا ان الحکم الا للہ، امر ان لا تعبدوا الا ایاہ، ذلک الدین القیم (یوسف رکوع 5) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں فطرۃ اللہ سے دین توحید، اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت اور پکار ہی مراد ہے۔ المعنی انہ خلقہم قابلین للتوحید والاسلام (مدارک ج 3 ص 208) ۔ ای الزموا فطرۃ اللہ وھی التوحید (کبیر ج 6 ص 715) ۔ لا تبدیل لخلق اللہ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ دین توحید اٹل ہے اس میں آج تک تبدیلی نہ ہوئی نہ آئندہ ہوگی۔ یا نفی بمعنی نہی ہے یعنی اللہ کے دین توحید کو مت بدلو وقیل ھو نفی معناہ النہی ای الا تبدلوا ذلک الدین (بحر ج 7 ص 172) ۔ الزموا فطرۃ اللہ ولا تبدلوا التوحید بالشرک (خازن و معالم ج 5 ص 173) ۔
Ayah 30:3125:۔ ایہ الزموا مقدر کے فاعل سے حال ہے (مدارک) یعنی غیر اللہ سے کٹ کر صرف اللہ کی طرف رجوع کرنے والے اور حاجات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارنے والے۔ ای راجعین الیہ تعالیٰ بالتوبۃ واخلاص العمل و قیل ای امنقطعین الیہ تعالیٰ (روح ج 21 ص 41) ۔ ولا تکونو من المشرکین یہ منیبین کی تفصیل ہے یعنی حاجات میں صرف اللہ کی طرف رجوع کرو اور اس کی عبادت، دعاء اور پکار میں کسی کو شریک نہ بناؤ۔ بعض لوگوں نے اس کو اقیموا الصلوۃ کے ساتھ متعلق کیا ہے یعنی نماز چھوڑ کر مشرک نہ بنو لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ ترک نماز اگرچہ کبیرہ گناہ ہے لیکن شرک نہیں۔ علامہ ابو السعود فرماتے ہیں ولا تکونوا من المشرکین المبدلین لطفرۃ اللہ تعالیٰ تبدیلا (ابو السعود ج 6 ص 724) ۔ یہ اعادہ جار کے ساتھ المشرکین سے بدل ہے یعنی ان مشرکین کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے اپنی خواہشات کے مطابق اپنا اپنا الگ معبود بنا لیا اور پھر ہر فریق اپنے خود ساختہ دین پر خوش اور مطمئن ہے۔ انہوں نے مختلف فرقے بنا لیے ہیں لیکن اے ایمان والو ! تم توحید پر قائم اور متحد رہنا اور اس میں اختلاف نہ ڈالنا۔
Ayahs 30:32–3326:۔ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ اس سے پہلے مومنوں کو پند و نصیحت تھی اب یہاں سے مشرکین پر زجریں ہیں۔ مشرکین کا یہ حال ہے کہ جب ان پر کوئی مسیبت آجاتی ہے تو وہ معبودان باطلہ سے مایوس ہو کر اللہ کی طرف راغب ہوجاتے اور خالص اسی کو پکارنے لگتے ہیں کیونکہ وہحضور ﷺ سے سنتے تھے کہ اگر توحید کی مخالفت کرو گے تو اللہ کا عذاب آجائے گا۔ تو جب ان پر کوئی مصیبت آپڑتی تو سمجھتے شاید یہ اللہ کا عذاب ہے اس لیے اس وقت خالصۃً اللہ کو پکارنے لگتے۔ ثم اذا الخ لیکن اللہ تعالیٰ محض اپنی مہربانی اور رحمت سے انہیں اس مصیبت سے نجات وخلاصی دیدیتا ہے تو فورًا شرک کرنے لگتے ہیں اور اپنی نجات اور کامیابی کو غیر اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں وزلک بنسبۃ خلاصھم الی غیرہ تعالیٰ من صنم او کو کب او نحو ذلک من المخلوقات (روح ج 21 ص 42) قال ابن عطیۃ ویلحق من ھذہ الالفاظ شیٗ للمومنین اذ جاٗھم فرج بعد شدۃ علقوا ذلک بمخلوقین الخ (بحر ج 7 ص 143)
Ayah 30:34ف 27: لام بمعنی کَیْ ہے یعنی وہ اپنی کامیابی کو غیر الہ کی طرف منسوب کر کے کے اللہ کے انعام و احسان کی نا شکری کرتے ہیں۔ اچھا دنیا کی چند روزہ زندگی میں ہماری نعمتوں سے فائدہ اٹھا لو اور کفرانِ نعمت کرلو عنقریب اس کا انجام دیکھ لو گے۔ ام انزلنا الخ ام منقطعہ ہے بمعنی بل والہمزۃ اور استفہام انکاری ہے اور اس میں خطاب سے غیبت کی طرف الفتفات ہے۔ کیا ان مشرکین کے پاس ہماری طرف سے کوئی دلیل و حجت موجود ہے جس سے شرک کا ثبوت ہوتا ہو ؟ ہرگز نہیں ان کے پاس ایسی کوئی دلیل موجود نہیں محض اہواء و ظنون کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ ام بمعنی بل والہمزۃ للاضراب عن الکلام السابق والاستفہام عن الحجۃ استفہام انکار و توبیخ (بحر) ۔
Ayahs 30:35–3628:۔ واذا اذقنا الناس الخ سے مشرکین مراد ہیں یعنی جب ہم لوگوں کو بارش، صحت، وسعت رزق وغیرہ کی صورت میں اپنی رحمت سے بہروہ ور کرتے ہیں تو وہ خوش ہوجاتے ہیں اور اترانے لگتے ہیں۔ لیکن اگر اپنی ہی بد اعمالیوں کی وجہ سے کوئی مصیبت آگئی تو اپنے معبودوں سے مایوس ہوگئے کیونکہ ان کے مزعومہ معبود اور کارساز اس مصیبت سے ان کو بچانے میں ناکام رہے۔
Ayah 30:3729:۔ یہ توحید پر نویں عقلی دلیل ہے یعنی رزق کی فرخی اور تنگی تو اللہ کے اختیار میں ہے لہذا جب وہ اپنی رحمت سے روزی میں وسعت عطا کرے تو اس کا شکر کرنا چاہئے اور اگر وہ روزی تنگ کردے تو صبر و استقلال کے ساتھ اسی کو پکارنا چاہیے۔
Ayah 30:3830:۔ دفع عذاب کے لیے امور ثلاثہ کا ذکر، شرک نہ کرو، مذکورہ بالا تفصیلات میں یہی مذکور ہوا، ظلم نہ کرو اور احسان کرو یہاں یہ دونوں باتیں مذکور ہیں۔ دوسری صراحۃ اور پہلی ضمنا۔ تمام حقداروں کے حقوق ادا کرو اس کے ضمن میں بےانصافی اور حق تلفی کی ممانعت آگئی۔ ذلک خیر الخ، اہل حقوق کے حقوق ادا کرنا ہی ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ وما اتیتم من ربا الخ، دولت کا صحیح مصرف یہ ہے کہ اس میں واجب حقوق پر اسے صرف کیا جائے لیکن لوگوں سے سود پر قرض لینا اور سود ادا کر کے ان کی دولت میں اضافہ کرنا اللہ کی دی ہوئی دولت کا جائز اور صحیح مصرف نہیں۔ اس سے لوگوں کی دولت میں تو ضرور اضافہ ہوگا لیکن اللہ کے وہاں اس میں کوئی خیر و برکت نہ ہوگی اور نہ اس پر کوئی اجر وثواب مرتب ہوگا۔ و اما اتیتم من زکوہ الخ البتہ جو کچھ تم محض اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کروگے اس میں برکت ہوگی اور اس کے اجر وثواب میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔ اس آیت کو بعض مفسرین نے مکی اور بعض نے مدنی کہا ہے پہلی صورت میں زکوۃ سے نفلی صدقہ اور دوسری صورت میں اس سے زکوۃ مفروضہ مراد ہوگی۔
Ayahs 30:39–4031:۔ یہ توحید پر دسویں عقلی دلیل ہے۔ تم سب کا خالق و رازق اللہ تعالیٰ ہے اور موت وحیات بھی اسی کے قبضے میں ہے۔ اب تم خود ہی بتاؤ کہ جن برگزیدہ ہستیوں اور اللہ کے جن نیک اور صالح بندوں کو تم نے اللہ کے سوا کارساز سمجھ رکھا ہے کیا ان میں سے کسی ایک نے اس سارے جہان میں کوئی ایک ہی چیز پیدا کی ہے یا پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یا کسی کی روزی ان میں سے کسی کے اختیار میں ہے یا کسی کی موت اور زندگی ان میں سے کسی کے قبضہ و تصرف میں ہے ؟ ظاہر ہے ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے مشرکین کا بھی اعتقاد تھا کہ ان کے مزعومہ کارساز ان کاموں میں سے کوئی کام کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ سبحانہ وتعالی الخ۔ جب یہ صفتیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں تو پھر وہ ہر قسم کے شرک سے پاک ہے، صفات کارسازی اور کمالاتِ الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔