29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 29:1–2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا یہ سمجھتے ہیں لوگ2 کہ چھوٹ جائیں گے اتنا کہہ کر کہ ہم یقین لائے اور ان کو جانچ نہ لیں گے

2:۔ سورت کا پہلا دعوی۔ کیا لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اللہ رضامندی اور نعیم جنت حاصل کرنے کے لیے دعوی توحید کو صرف مان لینا ہی کافی ہے اور اس کے بعد وہ آزاد ہیں اور آزمائشوں اور تکلیفوں کی کسوٹی پر انہیں پرکھا نہیں جائے گا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی لوگوں کا یہ خیال صحیح نہیں بلکہ دعوی توحید کی وجہ سے انہیں مشرکین کے ہاتھوں مصائب و مشکلات کا سامنا بھی کرنا ہوگا۔ ولقد فتنا الخ۔ جیسا کہ انبیاء سابقین (علیہم السلام) کو بھی ایسا کرنا پڑا۔ جب انہوں اپنی قوموں کے سامنے دعوت توحید پیش کی تو قوموں نے انہیں گوناگوں مصائب کا تختہ مشق بنایا اسی طرح ان کے متبعین کو بھی الآم ومصائب میں مبتلا کیا گیا۔ فلیعلمن اللہ الخ یہ ابتلاء و امتحان کی حکمت اور علت ہے۔ اور علم یہاں بمعنی اظہار و تبیین ہے۔ و معنی الایۃ فلیظہرن اللہ الصادقین من الکاذبین (خازن و معالم ج 5 ص 155) ۔ یعنی ہم ہجرت سے، مصائب و مشکلات سے اور اقامت فرائض و واجبات سے مسلمانوں کی آزمائش کریں گے تاکہ مخلص اور منافق، راسخ الایمان اور ضعیف الایمان میں امتیاز ہوجائے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا وسزا دی جائے انہ تعالیٰ یمتحنھم بمشاق التکالیف کالمہاجرۃ والمجاہدۃ و رفض الشھوات و وظائف الطاعات و فنون المصائب فی الانفس والاموال لیتمیز المخلص من المنافق والراسخ فی الایمان من المتزلزل فیہ فیعامل کال بما یقتضیہ ویجازیہم سبحانہ بحسب مراتب اعمالہم (روح ج 20 ص 134) ۔
Ayahs 29:3–4

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور ہم نے جانچا ہے ان کو جو ان سے پہلے تھے سو البتہ معلوم کرے گا اللہ جو لوگ سچے ہیں اور البتہ معلوم کرے گا جھوٹوں کو

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا یہ سمجھتے ہیں3 جو لوگ کہ کرتے ہیں برائیاں کہ ہم سے بچ جائیں بری بات طے کرتے ہیں

3:۔ یہ دوسرا دعوی ہے۔ مشرکین کا خیال باطل ہے کہ وہ ہمارے عذاب سے بچ جائیں گے۔ السیات کفر و شرک و معاصی۔ السیات ای الشرک و المعاصی (مدارک ج 3 ص 191) ۔ فعل مضارع حدوث و تجدد پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی جو لوگ ہر وقت کفر وشرک اور فسق و فجور میں منہمک رہتے اور غیر اللہ کو پکارتے رہتے ہیں کیا ان کا خیال ہے کہ ہم ان کو ان کی بد اعمالیوں کی سزا نہیں دے سکیں گے اور وہ ہمارے عذاب سے بچ نکلیں گے ؟ ساء ما یحکمون یہ بہت بری بات اور صریح غلط خیال ہے۔ جب اللہ کا عذاب آگیا تو وہ اس سے ہرگز نہیں بچ سکیں گے۔
Ayah 29:5

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو کوئی توقع رکھتا ہے4 اللہ کی ملاقات کی سو اللہ کا وعدہ آرہا ہے اور وہ ہے سننے والا جاننے والا

4:۔ یہاں سے لے کر رکوع کے آخر تک پہلے دعوے سے متعلق بشارت و تخویف وغیرہ ہے۔ من کان یرجوا الخ مسئلہ توحید کی وجہ سے تم پر مصائب آئیں گے، لیکن جن کے دلوں میں آخرت کا خوف ہے انہیں توحید کی خاطر ہر قسم کی مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ انہیں کافروں کی ایذاء سے ہجرت بھی کرنا ہوگی۔ اس وقت انہیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ گھروں سے نکل کر بھوک سے اور دیگر مصائب و آلام سے ہلاک ہوجائیں گے، کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے اور وہ اپنے وقت پر ضرور آئے گی خواہ وگھروں ہی میں کیوں نہ بیٹھے رہیں۔ ومن جاھد الخ، ہاں جو لوگ محض دین حق کی خاطر ترک وطن کی مشکلات اور اس کے علاوہ دوسری تکلیفیں اٹھائیں گے اس سے فائدہ انہی کا ہوگا اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف کر کے انہٰں اجر عظیم اور مراتب بلند عطا فرمائے گا۔ جہاد سے یہاں جہاد کفار مراد نہیں کیونکہ یہ سورت مکیہ ہے بلکہ جہاد سے ایذاء کفار پر صبر کرنا مراد ہے (موضح) ۔ ای ومن جاھد فی الدین و صبر علی قتال الکفار وا اعمال الطاعات فانما یسعی لنفسہ ای ثواب ذلک کلہ لہ (قرطبی ج 13 ص 327) ۔
Ayahs 29:6–7

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو کوئی محنت اٹھائے سو اٹھاتا ہے اپنے ہی واسطے اللہ کو پروا نہیں جہان والوں کی

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ5 یقین لائے اور کئے بھلے کام ہم اتار دیں گے ان پر سے برائیاں ان کی اور بدلہ دیں گے ان کو بہتر سے بہتر کاموں کا

5:۔ یہ ان مومنوں کے لیے بشارت اخروی ہے جنہوں نے توحید کی خاطر مصائب و آلام پر صبر کیا۔ اٰمنوا، اللہ کی توحید پر ایمان لائے۔ وعملوا الصلحت، اور توحید کی راہ میں مصائب برداشت کیے۔ ولنجزینہم احسن الخ، ان کے اعمال کی ہم ان کو احسن (سب سے بہتر) جزاء دیں گے یعنی ایک نیکی کے بدلے دس گنا یا اس سے زیادہ ثواب جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالہا ای احسن جزاء اعمالھم والجزاء الحسن ان یجازی بحسنۃ حسنۃ واحسن الجزاء ان تجازی الحسنۃ الواحدۃ بالعشر وزیادۃ (روح ج 20 ص 138) ۔ حضرت شیخ (رح) نے فرمایا، یا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کو احسن اعمال یعنی ہجرت کی جزاء دیں گے کیونکہ ہجرت کا ذکر اشارۃً پہلے گذر چکا ہے۔ یعنی ہم ان کو ان کے اس بتہرین عمل کی پوری پوری جزاء دیں گے اور مفہوم مخالف مراد نہیں ہوگا۔ یعنی یہ مفہوم مراد نہ ہوگا کہ جو عمل احسن نہ ہو بلکہ حسن ہو اس کی جزاء نہیں ملے گی۔ اس کی جزاء یا عدم جزاء سے یہاں تعرض نہیں کیا گیا۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے تاکید کردی6 انسان کو اپنے ماں باپ سے بھلائی سے رہنے کی اور اگر وہ تجھ سے زور کریں کہ تو شریک کرے میرا جس کی تجھ کو خبر نہیں تو ان کا کہنا مت مان مجھی تک پھر آنا ہے تم کو سو میں بتلا دوں گا تم کو جو کچھ تم کرتے تھے

6:۔ اے ایمان والو ! مسئلہ توحید کی وجہ سے تم پر کئی آزمائشیں آئیں گی۔ یہ ایک نہایت اہم اور عظیم الشان دعوی ہے یہی وجہ ہے کہ ایک طرف تو ہم نے تمہیں حکم دیا کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ اور ساتھ ہی حکم دیا ہے کہ توحید پر قائم رہو۔ لیکن اگر تمہارے ماں باپ مشرک ہوں اور تمہیں شرک کرنے پر مجبور کریں اور تمہارے انکار پر تمہیں تکلیف و اذیت پہنچائیں تو اس معاملے میں ان کی اطاعت ہرگز نہ کرنا اور ہر قسم کی تکلیف و اذیت کو استقلال سے برداشت کرنا۔
Ayah 29:9

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ یقین لائے7 اور بھلے کام کیے ہم ان کو داخل کریں گے نیک لوگوں میں

7:۔ یہ بشارت اخروی ہے جو لوگ اللہ کی توحید پر ایمان لائے اور توھید کی راہ میں آنے والی ہر مصیبت اور تکلیف میں ثابت قدم رہے ان کو ہم صالحین میں شمار کریں گے اور انہیں ان جیسی ہی جزاء دیں گے۔ ای یجعلہم منھم و یدخلہم فی عدادھم کما یقال الفقیہ من العلماء (کبیر ج 6 ص 647) ۔
Ayah 29:10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور ایک وہ لوگ ہیں8 کہ کہتے ہیں یقین لائے ہم اللہ پر پھر جب اس کو ایذاء پہنچے اللہ کی راہ میں کرنے لگے لوگوں کے ستانے کو برابر اللہ کے عذاب کی اور اگر آپہنچے مدد9 تیرے رب کی طرف سے تو کہنے لگیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں کیا یہ نہیں کہ اللہ خوب خبردار ہے جو کچھ سینوں میں ہے جہان والوں کے

8:۔ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے الایۃ نزلت فی المنافقین (قرطبی ج 13 ص 339) ۔ اوذی فی اللہ الخ یعنی اللہ کی توحید کی خاطر اور اس کی راہ میں ای لاجلہ عز وجل علی ان فی للسببیۃ او المراد فی سبیل اللہ بان عذبھم المشرکون علی الایمان بہ تعالیٰ (روح ج 20 ص 139 ایمان والوں کو توحید کی وجہ سے بڑی مشکلات پیش آئیں گی انہیں صبر و استقلال سے ان کا مقابلہ کرنا ہوگا اور ان منافقوں کی طرح کمزوری کا اظہار نہیں کرنا ہوگا جو زبان سے تو ایمان کا دعوی کرتے ہیں لیکن جب اللہ کی توحید اور اللہ کے دین کی خاطر مشرکین کی طرف سے ایذاء پہنچی تو اسے اللہ کا عذاب سمجھ کر جزع فزع اور بےصبر کا اظہار کرنے لگے اور ایمان کو خیرباد کہہ دیا۔ ای نزلوا ما یصیبہم من اذہتہم منزلۃ عذابہ تعالیٰ ی الاخرۃ فجزعوا من ذلک ولم یصبروا علیہ واطاعوا الناس وکفروا باللہ تعالیٰ (روح ج 20 ص 140) ۔ 9:۔ لیکن اگر مسلمانوں کو فتح و غنیمت حاصل ہوجائے تو مال کے لالچ میں ان سے کہتے ہیں کیا دین میں ہم تمہارے ساتھی نہیں ؟ اس لیے مال غنیمت میں سے ہمیں بھی حصہ دیجئے۔ اولیس اللہ باعلم الخ، اللہ نے فرمایا جھوٹ کہتے ہیں کیا میں ان کے سینوں کی باتیں نہیں جانتا ؟ جس طرح میں مومنوں کے اخلاص کو جانتا ہوں اسی طرح ان کے نفاق کو بھی جانتا ہوں۔ ما فی صدور ھؤلاء من النفاق و ما فی صدور المومنین من الاخلاص (مدارک ج 3 ص 193) ۔
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور البتہ10 معلوم کرے گا اللہ ان لوگوں کو جو یقین لائے ہیں اور البتہ معلوم کرے گا جو لوگ دغا باز ہیں

10:۔ یہ مومنوں کے لیے بشارت اور منافقوں کے لیے تخویف ہے اور علم سے مجازاۃ مراد ہے۔ والمراد بالعلم المجازاۃ ای لیجزینہم بمالھم من الایمان والنفاق (روح) ۔
Ayah 29:12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور کہنے لگے منکر11 ایمان والوں کو تم چلو ہماری راہ اور ہم اٹھا لیں تمہارے گناہ اور وہ کچھ نہ اٹھائیں گے ان کے گناہ بیشک وہ جھوٹے ہیں

11:۔ کفار پر شکوی اور تخویف اخروی ہے۔ کافروں کی سرکشی اور بیباکی ملاحظہ ہو خود کفر و شرک کرتے ہیں اور مسلمانوں سے بھی کہتے ہیں کہ وہ بھی ان کی راہ پر چلیں اور جس عذاب کا تمہیں خطرہ ہے اس کا بوجھ ہم اٹھا لیں گے۔ حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ نہیں اٹھا سکیں گے۔ ولنحمل، اتبعوا پر معطوف ہے اور امر بمعنی خبر ہے۔ قول ابن عطیۃ قولہ ولنحمل خبر یعنی امرا ومعناہ الخبر (بحر ج 7 ص 144) ۔
Ayah 29:13

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور البتہ اٹھائیں گے اپنے12 بوجھ اور کتنے بوجھ ساتھ اپنے بوجھ کے اور البتہ ان سے پوچھ ہوگی قیامت کے دن جو باتیں کہ جھوٹ بناتے تھے

12:۔ وہ دوسروں کا بوجھ کیا اٹھائیں گے وہ تو اپنے گناہوں کے بوجھ تلے دبے ہوں گے۔ ایک تو خود ان کے اپنے کفر و شرک اور فسق وفجور کا بوجھ ہوگا اور دوسروں کو گمراہ کرنے اور کفر و شرک پر اکسانے سے گناہ کا بوجھ اس پر مستزاد ہوگا۔ دنیا میں جو وہ افتراء کرتے رہے اور جھوٹی باتیں بناتے رہے آخرت میں ان کے بارے میں ان کی جواب طلبی ہوگی۔
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا13 نوح کو اس کی قوم کے پاس پھر رہا ان میں ہزار برس پچاس برس کم پھر پکڑا ان کو طوفان نے اور وہ گناہ گار تھے

13:۔ یہ پہلا قصہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے یعنی دیکھو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی توحید کا پیغام دیا اور وہ توحید کی خاطر ساڑھے نو سو سال تکلیفیں اٹھاتے اور مشرکین کی ایذائیں برداشت کرتے رہے۔ اے ایمان والو ! تم پر بھی مصائب آئیں گے ان سے گھبرانا نہیں بلکہ ان پر صبر کرنا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے قوم میں ساڑھے نو سو برس رہنے کا ذکر صرف اس جگہ آیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ انہوں نے عرصہ دراز تک توحید کی خاطر مشرکین کے ہاتھوں مصائب برداشت کیے۔ واخذھم الطوفان الخ یہ ضمنا دوسرے دعوے سے متعلق ہے۔ مشرکین ہمارے پیغمبر کو ساڑھے نو سو سال ستاتے اور شرک میں لگے رہے ان کا خیال تھا کہ اللہ ان کو پکڑ نہیں سکے گا لیکن اللہ نے ان کو طوفان میں غرق کردیا اور ان میں سے ایک بھی عذاب خداوندی سے بچ نہ سکا۔ فانجینہ الخ نوح کو اور اس پر ایمان لانے والوں کو جو کشتی نوح میں سوار تھے ہم نے طوفان سے تو بچا لیا لیکن وہ ساڑھے نو سو سال مشرکین کے ہاتھوں تکلیفیں اٹھاتے رہے۔
Ayahs 29:15–16

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور جہاز والوں کو اور رکھا ہم نے جہاز کو نشانی جہان والوں کے واسطے

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو جب کہا اس نے اپنی قوم14 کو بندگی کرو اللہ کی اور ڈرتے رہو اس سے یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم سمجھ رکھتے ہو

14:۔ یہ دوسرا قصہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے دعوت توحید پیش کی لیکن اس کی وجہ سے وقت کے بادشاہ نمرود، اپنی قوم اور خود اپنے باپ کے مسلسل مصائب و مشکلات کا نشانہ بنے۔ من دون اللہ اوثانا، اوثانا، تعبدون کا مفعول اور ذو الحال موخر ہے اور من دون اللہ حال مقدم ہے۔ اے میری قوم ! صرف اللہ کی عبادت کرو اور حاجات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارو اور شرک کرنے میں اللہ سے ڈرو۔ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ٹھاکر ہی تو ہیں وہ کب الوہیت کے سزاوار ہیں تم انہیں کارساز سمجھ کر ایک صریح غلط اور جھوٹا نظریہ پیش کرتے ہو۔ ای تکذبون کذبا حیث تسمونہا الہۃ و تدعون انہا شفعاء کم عند اللہ سبحانہ (روح ج 20 ص 144) ۔
Ayah 29:17

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

یہی بتوں کے تھان اور بناتے ہو جھوٹی باتیں بیشک جن کو15 تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے وہ مالک نہیں تمہاری روزی کے سو تم ڈھونڈو اللہ کے یہاں روزی اور اس کی بندگی کرو اور اس کا حق مانو اسی کی طرف پھر جاؤ گے

15:۔ یہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر کا حصہ ہے۔ فرمایا اللہ کے سوا تم جن معبودوں کو پوجتے اور پکارتے ہو وہ تو تمہاری سب سے بنیادی ضرورت ہی پوری کرنے کی قدرت نہیں رکھتے یعنی تمہاری روزی ان کے اختیار میں نہیں باقی حاجات میں وہ کیا کام آئیں گے۔ سب کا رازق اللہ تعالیٰ ہے اس لیے روزی بھی اسی سے مانگو اور ہر قسم کی عبادت بھی اسی ہی کے لیے بجا لاؤ اور تمام حاجات و بلیات میں غائبانہ پکارو بھی اسی کو۔ اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔ سب سے بڑا شکر یہ ہے کہ اس کے ساتھ شرک نہ کرو۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

تم تو پوجتے ہو اللہ کے سوائے اور اگر تم جھٹلاؤ گے16 تو جھٹلا چکے ہیں بہت فرقے تم سے پہلے اور رسول کا ذمہ تو بس یہی ہے پیغام پہنچا دینا کھول کر

16:۔ یہاں سے لے کر لھم عذاب الیم تک یا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کا کلام چل رہا ہے یا یہ جملہ معترضہ ہے اور اس میںحضور ﷺ اور آپ کی امت کا حال مذکور ہے۔ وھذہ الایات محتملۃ ان تکون من جملۃ قول ابراہیم (علیہ السلام) لقومہ وان تکون معترضہ وقعت فی شان رسول اللہ ﷺ و شان قریش (مدارک ج 3 ص 194) ۔ یعنی اگر تم میری تکذیب کر رہے ہو تو یہ کوئی نئی بات نہیں تم سے پہلی امتوں نے بھی اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا۔ پیغمبروں کا کام منوانا نہیں بلکہ پیغام الٰہی پہنچانا ہی ان کے ذمہ ہے۔
Ayah 29:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا دیکھتے نہیں17 کیونکر شروع کرتا ہے اللہ پیدائش کو پھر اس کو دہرائے گا یہ اللہ پر آسان ہے

17:۔ کیا وہ غور نہیں کرتے اللہ نے کس طرح اپنی قدرت کاملہ سے مخلوق کو پہلی بار پیدا فرمایا اسی طرح وہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے، یہ کام تو اس کے لیے بہت ہی آسان ہے۔ قل سیروا الخ، یہ خطاب اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ہو تو اس سے پہلے وقلنا لہ محذوف ہوگا اور اگر خطابحضور ﷺ سے ہو تو حذف کی ضرورت نہیں۔ یعنی زمین میں چل پھر کر اللہ کو گوناگوں مخلوق کو دیکھو۔ مخلوق کی انواع و اقسام کا کوئی حساب نہیں۔ جنسیں اور قسمیں مختلف، شکلیں اور طبیعتیں مختلف، رنگ اور زبانیں مختلف، جس قادر و توانا اور حکیم و دانا نے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے وہی انسانوں کو دوبارہ پیدا کرے گا کیونکہ اس کی قدرت کاملہ تمام ممکنات پر حاوی ہے۔
Ayahs 29:20–21

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

تو کہہ ملک میں پھرو پھر دیکھو کیونکر شروع کیا ہے پیدائش کو پھر اللہ اٹھائے گا پچھلا اٹھان بیشک اللہ ہر چیز کرسکتا ہے

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

دکھ دے گا جس کو چاہے18 اور رحم کرے گا جس پر چاہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے

18:۔ وہ قانون عدل کے تحت جسے چاہے سزا دے اور اپنی مہربانی سے جس پر چاہے رحمت فرمائے۔ تم سب میدان حشر میں اللہ کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے۔ وما انتم بمعجزین تم زمین و آسمان میں کہیں بھاگ کر اللہ کے عذاب سے اپنے کو نہیں بچا سکتے اور نہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی حامی و مددگار ہے جو تمہیں اس کے عذاب سے نجات دلا سکے۔ والذین کفروا الخ، تخویف اخروی ہے۔ جو لوگ اللہ کی توحید، اس کے رسولوں اور حشر و نشر کا انکار کرتے ہیں وہ میری رحمت سے محروم ہوچکے ہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔
Ayahs 29:22–24

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم عاجز کرنے والے نہیں زمین میں اور نہ آسمان میں اور کوئی نہیں تمہارا اللہ سے ورے حمایتی اور نہ مددگار

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جو لوگ منکر ہوئے اللہ کی باتوں سے اور اس کے ملنے سے وہ ناامید ہوئے میری رحمت سے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

پھر کچھ جواب نہ تھا19 اس کی قوم کا مگر یہی کہ بولے اس کو مار ڈالو یا جلا دو پھر اس کو بچا دیا اللہ نے آگ سے اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین لاتے ہیں

19:۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ناصحانہ تبلیغ کا جواب قوم نے یہ دیا کہ اسے قتل کر ڈالو یا اس سے بھی زیادہ عبرتناک ایذاء دو اور اسے آگ میں ڈال کر جلا دو ۔ فانجہ اللہ الخ مشرکین نے آخر انہیں آگ میں ڈال دیا لیکن اللہ نے ان کو آگ سے بچا کر صحیح سلامت باہر نکال لیا۔
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور ابراہیم بولا20 جو ٹھہرائے ہیں تم نے اللہ کے سوا بتوں کے تھان سو دوستی کر کر آپس میں دنیا کی زندگانی میں پھر دن قیامت21 کے منکر ہوجاؤ گے ایک سے ایک اور لعنت کرو گے ایک کو ایک اور ٹھکانا تمہارا آگ ہے اور کوئی نہیں تمہارا مددگار

20:۔ مودۃ، مفعول لہ ہے اور مابعد کی طرف مضاف ہے، بین اسم ہے بمعنی وصلۃ (پیوستگی) یعنی تم نے غیر اللہ کو معبود اس لیے بنا رکھا ہے تاکہ اس بنا پر تمہاری دنیا میں باہمی محبت و پیوستگی اور اتحاد باقی رہے اور مخالفت پیدا نہ ہو ای لیتوادوا ویتواصلوا و یجتمعوا علی عبادتہا کما یجتمع ناس علی مذھب فیقع التحاب بینہم (بحر ج 7 ص 148) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنے اسلام کے ساتھ محبت و عقیدت کی وجہ سے ان کے ٹھاکر بنا رکھ لیے اور ان کی عبادت کرتے ہو۔ ان الاوثان اول ما تخذت بسبب المودۃ وذلک انہ کان اناس صالحون فماتوا واسف علیہم اھل زمانہم فصوروا احجار ابصورھم حبالھم فکانوا یعظمونہا فی الجملۃ ولم یزل تعظیمہا یزداد جیلا فجیلا حتی عبدت فا الایۃ اشارۃ الی ذلک فالمعنی انما اتخذتم اسلافکم من دون اللہ اوثانا الخ۔ (روح ج 20 ص 150) ۔ 21:۔ دنیا میں تو تم مودت و الفت کے لیے معبودان باطلہ کی عبادت کرتے ہو لیکن قیامت کے دن تم ایک دوسرے سے بیزار ہوگے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔ یعنی معبود اپنے پجاریوں سے اور گمراہ پیشوا اپنے پیروکاروں سے بیزار ہوں گے اور عوام اپنے گمراہ پیروں اور شرک سکھانے والے پیشوؤں پر لعنت بھیجیں گے۔ تتبرا الاوثان من عبادیہا وتتبرا القادۃ من الاتباع و یلعن الاتباع القادۃ (خازن و معالم ج 5 ص 158) اور تم سب جہنم میں جاؤ گے اور جہنم کی آگ سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکے گا (وما لکم من نصرین) یخلصونکم منہا کما خلصنی ربی من النار التی القتیمونی فیہا (ابو السعود ج 6 ص 690) ۔
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پھر مان لیا اس کو لوط نے22 اور وہ بولا میں تو وطن چھوڑتا ہوں اپنے رب کی طرف بیشک وہ ہی ہے زبردست حکمت والا

22:۔ لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھائی ہاران بن تارح کے بیٹے تھے وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت پر بلا تامل ایمان لے آئے اور ان کی تمام باتوں کی تصدیق کی۔ وقال انی مہاجر الخ الی ربی ای الی الجہۃ التی امرنی ربی بالہجرۃ الیھا (روح ج 20 ص 152) ۔ یعنی میں اللہ کے حکم کے مطابق ہجرت کر رہا ہوں۔ جہاں جانے کا حکم ہوگا وہاں جا رہا ہوں۔ اس ہجرت میں لوط (علیہ السلام) اور آپ کی بیوی سارہ آپ کے ساتھ تھیں آپ نے کو ثی سے حران اور پھر حران سے ملک شام کی طرف ہجرت کی اور فلسطین کے ایک شہر میں قیام پذیر ہوئے (روح وغیرہ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مسئلہ توحید کی خاطر مشرکین کی ایذاؤں کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑ دیا اور ہجرت کر کے ارض شام میں چلے گئے۔ اے ایمان والو ! تم بھی تیار رہو تمہیں بھی اپنے دین و ایمان اور توحید کی خاطر ہجرت کرنا پڑے گی۔
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور دیا ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب23 اور رکھ دی اس کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب اور دیا ہم نے اس کو اس کا ثواب دنیا میں اور وہ آخرت میں البتہ نیکوں سے ہے

23:۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کی خاطر بڑی مصیبتیں اٹھائیں، ہم نے بھی دین و دنیا کی نعمتیں ان پر پوری کردیں۔ اسحاق ایسا لائق فرزند اور یعقوب ایسا پوتا عطا کیا اور نبوت کو اس کی اولاد کے ساتھ مختص کردیا اور دنیا کی دولت بھی وافر عطا فرمائی اور دنیا میں ان کے نام کو زندہ جاوید بنا دیا تمام اہل ادیان ان کو اپنا پیشوا سمجھتے ہیں۔ فلم یبعث اللہ نبیا بعد ابراہیم الا من صلبہ اھل الملل کلہا تدعیہ و تقول ھو منا۔ ان اھل کل دین یتولونہ (قرطبی ج 13 ص 340) ۔ اور آخرت میں وہ مقربین بارگاہِ خداوندی کے درجات پر فائز ہوں گے۔
Ayah 29:28

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور بھیجا لوط کو جب کہا اپنی قوم کو24 تم آتے ہو بےحیائی کے کام پر تم سے پہلے نہیں کیا وہ کسی نے جہان میں

24:۔ یہ تیسرا قصہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے قوم لوط خلاف فطرت فعل کی عادت میں مبتلا تھی۔ دنیا میں اس فاحشہ کی ابتداء اس قوم سے ہوئی۔ ما سبقکم بہا الخ۔ یعنی تم سے پہلے کسی نے بھی یہ برا کام نہیں کیا۔ ائنکم لتاتون الخ، تم اس قدر بیباک ہوچکے ہو کہ مسافروں کا راستہ روک لیتے ہو اور انہیں بھی اپنی ہوس کا شکار بناتے ہو۔ یا مراد ڈاکہ ہے۔ تقطعون السبیل بالقتل واخذ المال کما ھو عمل قطاع الطریق وقیل اعتراضہم السابلۃ بالفاحشۃ (مدارک ج 3 ص 196) ۔
Ayah 29:29

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم دوڑتے ہو مردوں پر اور راہ مارتے ہو25 اور کرتے ہو اپنی مجلس میں برا کام پھر کچھ جواب نہ تھا اس کی قوم کا مگر یہی کہ بولے لے آ ہم پر عذاب اللہ کا اگر تو ہے سچا

25:۔ تمہاری بےحیائی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ تم بھری مجلس میں بھی اس فعل بد کے ارتکاب سے نہیں شرماتے ہو۔ ای اتیان الرجال فی مجالسہم یری بعضہم بعضا قالہ منصور و مجاھد والقاسم بن محمد و قتادۃ وابن زید (بحر ج 7 ص 150) ۔ لیکن حضرت لوط (علیہ السلام) کی پند و نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ فماکان جواب قومہ الخ، اور انہوں نے لوط (علیہ السلام) کو جواب دیا تو یہ کہ ہم اس فعل کو تو چھوڑنے والے نہیں اگر تو سچ کہتا ہے کہ اس فعل کی وجہ سے ہم پر اللہ کا عذاب آئے گا تو وہ عذاب لے آ اس میں دیر کیوں کر رہا ہے قال رب النصرنی الخ آخر لوط (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اس مفسد اور سرکش قوم کو ہلاک کرنے کی درخواست کی۔
Ayahs 29:30–31

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

بولا اے رب میری مدد کر ان شریر لوگوں پر

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب پہنچے26 ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر بولے ہم کو غارت کرنا ہے اس بستی والوں کو بیشک اس کے لوگ ہو رہے ہیں گناہ گار

26:۔ البشریٰ سے یا تو بیٹے کے تول کی بشارت مراد ہے یا قوم لوط کی ہلاکت اور لوط (علیہ السلام) کی نجات کی بشارت مراد ہے بالبشری ای بالبشارۃ بالولد والنافلۃ (روح ج 20 ص 154) استنصر لوط (علیہ السلام) ربہ فبعث علیہم ملائکۃ لعذابہم فجاء وا ابراہیم اولا مبشرین بنصرۃ لوط علی قومہ (قرطبی ج 13 ص 343) ۔ جب ہمارے فرشتے خوشخبری لے کر ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو ان سے کہنے لگے ہم لوط کی بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے آئے ہیں کیونکہ یہ لوگ حد سے تجاوز کرچکے ہیں اور بڑے بےانصاف ہیں۔ قال ان فیہا لوطاً الخ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اس میں تو لوط بھی موجود ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا لوط (علیہ السلام) اور ان کے علاوہ بھی جو ایمان والے اس بستی میں موجود ہیں، ہم ان سب کو جانتے ہیں۔ ہم ان سب کو بچائیں گے البتہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی مشرکین کے ساتھ ہلاک ہوگی کیونکہ وہ بھی مشرکہ ہے۔ قوم لوط دوسری برائیوں کے ساتھ ساتھ شرک بھی کرتی تھی۔ شرک اور دوسری برائیوں کی پاداش میں اللہ نے ان کو ہلاک کیا۔ عن ابن عباس قال ان قوم لوط کانت فیہم ذنوب غیر الفاحشۃ و مع ھذا کلہ کانوا یشرکون باللہ (قرطبی ج 13 ص 342) ۔
Ayahs 29:32–33

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

بولا اس میں تو لوط بھی ہے وہ بولے ہم کو خوب معلوم ہے جو کوئی اس میں ہے ہم بچا لیں گے اس کو اور اس کے گھر والوں کو مگر اس کی عورت کہ رہے گی رہ جانے والوں میں

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب پہنچے27 ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس ناخوش ہوا انکو دیکھ کر، اور تنگ ہوا دل میں اور وہ بولے مت ڈر اور غم نہ کھا ہم بچائیں گے تجھ کو اور تیرے گھر کو مگر عورت تیری رہ گئی رہ جانے والوں

27:۔ جب فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ چونکہ نہایت خوبصورت نوجوانوں کی شکلوں میں تھے اس لیے وہ انہیں پہچان نہ سکے کہ یہ فرشتے ہیں اور اپنی قوم کی عادت بد کے پیش نظر بہت غمگین ہوئے اور مہمانوں کی بےعزتی کے ڈر سے سخت آزردہ خاطر ہوئے۔ قالوا لا تخف الخ۔ فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کا اندیشہ بھانپ لیا اور کہا آپ مت ڈریں اور نہ غم کریں کہ ہم تو اللہ کے فرشتے ہیں۔ انا منزلون الخ اور آپ کی قوم کے فسق و فجور کی وجہ سے ان کے لیے اللہ کا عذاب لے کر آئے ہیں۔ آپ کو اور آپ کے متبعین کو بچائیں گے اور باقی ساری قوم کو آپ کی بیوی سمیت ہلاک کر ڈالیں گے۔
Ayahs 29:34–35

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم کو اتارنی ہے اس بستی والوں پر ایک آفت آسمان سے اس بات پر کہ وہ نافرمان ہو رہے تھے

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور چھوڑ رکھا ہم نے اس کا نشان28 نظر آتا ہوا سمجھ دار لوگوں کے واسطے

28:۔ ہم نے اس قوم کی ہلاکت و تباہی کی نشانی باقی چھوڑ دی تاکہ عقل و بصیرت رکھنے والے اس سے عبرت حاصل کریں۔ نشانی سے ان کی برباد شدہ بستی کے آثار باقیہ مراد ہیں۔ یا سیاہ پانی جو وہاں زمین سے نمودار ہوا یا وہ پتھر جو ان پر برسائے گئے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سب مراد ہوں تو ان میں کوئی تعارض نہیں (قرطبی) یہاں تک حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ تھا جو بالذات پہلے دعوے سے متعلق ہے اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ لوط (علیہ السلام) کو دین حق کی خاطر سرکش قوم کے ہاتھوں کیسی کیسی مصیبتیں اور ایذائیں پہنچیں۔ اے ایمان والو ! تم پر بھی آزمائشیں آئیں گی۔ ضمنا دوسرا دعوی بھی اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ سرکش اور فسق و فجور میں منہم قوم ہمارے عذاب سے نہ بچ سکی۔
Ayah 29:36

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور بھیجا مدین کے پاس29 ان کے بھائی شعیب کو پھر بولا اے قوم بندگی کرو اللہ کی اور توقع رکھو پچھلے دن کی اور مت پھرو زمین میں خرابی مچاتے

29:۔ یہ چوتھا قصہ ہے اور دوسرے دعوے سے متعلق ہے یعنی مشرکین کا یہ خیال غلط ہے کہ وہ ہماری گرفت سے بچ کر نکل جائیں گے۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم جو بڑی طاقتور اور سرکش تھی۔ شرک کے علاوہ ظلم و بےانصافی، بد دیانتی اور لوگوں کی حق تلفی ان کا شیوہ تھا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں ان کاموں سے منع کیا اور فرمایا صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو، یوم قیامت کے حساب سے ڈرو اور ظلم و بےانصافی سے زمین پر شر و فساد مت بپا کرو۔ وارجوا الیوم الاخر اخشو الیوم الاخر وخافوہ (خازن ج 5 ص 160) ۔
Ayah 29:37

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

پھر اس کو جھٹلایا30 تو پکڑ لیا ان کو زلزلے نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے

30:۔ وہ اپنی طاقت و قوت اور دولت و شوکت کے نشے میں بد مست تھے۔ شعیب (علیہ السلام) کی ناصحانہ تبلیغ و تلقین کا ان پر کوئی اثر نہ ہو اور وہ بدستور تکذیب و انکار پر اڑے رہے۔ فکذبوہ ای اصروا علی التکذیب (قالہ الشیخ (رح)) ان کا خیال تھا کہ وہ اللہ کی گرفت سے بالا تر ہیں۔ فاخذتہم الرجفۃ الخ لیکن اللہ تعالیٰ نے الرجفۃ کی صورت میں ان پر عذاب نازل فرما دیا جس سے ان کے گجر پھٹ گئے اور وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل مردہ ہو کر گر پڑے۔ الرجفۃ سے شدید زلزلہ یا جبریل (علیہ السلام) کی مہیب اور خارا شگاف آواز مراد ہے۔ الرجفۃ الزلزلۃ الشدیدۃ او صیحۃ جبریل (علیہ السلام) لان القلوب رجفت بہا (مدارک ج 3 ص 197) ۔
Ayah 29:38

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور ہلاک کیا عاد کو اور ثمود کو31 اور تم پر حال کھل چکا ہے ان کے گھروں سے اور فریفتہ کیا ان کو شیطان نے ان کے کاموں پر پھر روک دیا ان کو راہ سے اور تھے ہوشیار

31:۔ یہ قوم عاد اور ثمود کے قصوں کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ دونوں قصے بھی دوسرے دعوے سے متعلق ہیں۔ یہ مشہور و معروف قومیں ہیں، ان کا بھی خیال تھا کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن اے مشرکین مکہ ! ان کی تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈر آج بھی زبان حال سے ان کی بربادی کی کہانی دہرا رہے ہیں۔ وزین لہم الخ شیطان نے ان کے اعمال مشرکانہ اور افعال قبیحہ کو ان کی نظروں میں مزین و مستحسن بنا دیا اور انہیں راہ راست پر آنے سے روک دیا حالانکہ وہ عقلمند تھے۔ اگر وہ عقل و فکر سے کام لیتے تو حق و باطل میں امتیاز کرسکتے تھے۔ مستبصرین ای عقلاء یمکنہم التمییز بین الحق والباطل بالاستدلال والنظر الکنہم اغفلوا ولم یتدبروا (روح ج 20 ص 158) ۔
Ayah 29:39

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور ہلاک کیا قارون اور فرعون اور ہامان کو32 اور ان کے پاس پہنچا موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر، پھر بڑائی کرنے لگے ملک میں اور نہیں تھے ہم سے جیت جانے والے

32:۔ یہ ساتواں قصہ ہے اور دوسرے دعوے سے متعلق ہے۔ ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) دلائل و بینات لے کر آئے یہ لوگ دولت و حکومت کے نشے میں چور ان کی بات کب سننے والے تھے۔ انہوں نے قبول حق سے استکبار کیا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ خدا کی گفرت سے نکل جائیں گے اور اس کے ہاتھ نہیں آئیں گے لیکن ان میں سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ فکلا اخذنا بذنبہ، ہم نے سب کو پکڑ لیا اور ان کے گناہوں کی دنیا میں بھی انہیں عبرتناک سزا دی۔ ان چاروں قوموں کے ذکر کے بعد فرمایا، وما کانوا سبقین، اس سے معلوم ہوگیا کہ یہ چار قصے، ام حسب الذین یعملون السیات ان یسبقونا، سے متعلق ہیں۔ کسی قوم کو حاصب یعنی طوفان باد سے ہلاک کیا، مراد قوم لوط ہے۔ کسی کو صیحۃ (چنگھاڑ) سے، اس سے مدین اور ثمود مراد ہیں۔ کسی کو زمین میں دھنسا دیا یعنی قارون کو اور کسی کو پانی میں غرق کردیا اور اس سے فرعون اور اس کی قوم مراد ہے۔ وما کان اللہ لیظلمہم الخ، ان قوموں کو گوناگوں عذابوں سے ہلاک کر کے اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود کفر و شرک اور معاصی کو اختیار کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے تو پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر ان پر حق کو واضح فرمایا مگر انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔ یہ اسی استکبار اور انکار حق کی سزا ہے۔