28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 28:1–2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں کھلی کتاب کی2

2:۔ یہ تمہید مع ترغیب ہے یعنی یہ کتاب مبین کی آیتیں ہیں انہیں توجہ سے سنیں اور ان پر عمل کریں۔ الکتاب کی صفت المبین سے اس طرف اشارہ ہے کہ اس سورت میں اگرچہ عقلی دلیلیں بھی مذکور ہیں لیکن زیادہ زور دلیل نقلی پر دیا گیا ہے۔
Ayah 28:3

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم سناتے ہیں تجھ کو کچھ احوال موسیٰ3 اور فرعون کا تحقیقی ان لوگوں کے واسطے جو یقین کرتے ہیں

3:۔ یہاں سے لے کر، ماکانوا یحذرون، تک میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ مجملا ذکر کیا گیا ہے آگے اس کی تفصیل آرہی ہے۔ لقوم جار مجرور نتلوا کے متعلق ہے۔ ہم موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا عجیب و غریب قصہ صحیح صحیح آپ کو سناتے ہیں تاکہ مومنین اس سے عبرت و نصیحت حاصل کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ انہوں نے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے دعوت توحید پیش کی اور اس کی خاطر طویل عرصہ تک تکلیفیں اٹھاتے رہے آخر وہ کامیاب ہوئے۔ اے پیغمبر آپ بھی ہمت و استقلال سے دعوت کا کام جار رکھیں اور جس قدر مصائب آئیں حوصلہ مندی سے ان کا مقابلہ کریں آخر آپ کامیاب ہوں گے اور آپ کا دشمن نامراد و سرنگوں ہوگا۔ انبیاء (علیہم السلام) پر ہمیشہ مصیبتیں آئی ہیں۔ آن بلا ہا کہ شدہ با انبیاء ہیچ کس نہ دہد نشاں در کربلاء۔
Ayah 28:4

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

فرعون چڑھ رہا تھا4 ملک میں اور کر رکھا تھا وہاں کے لوگوں کو کئی فرقے کمزور کر رکھا تھا ایک فرقہ کو ان میں 5 ذبح کرتا تھا ان کے بیٹوں کو اور زندہ رکھتا تھا اُ ن کی عورتوں کو بیشک وہ تھا خرابی ڈالنے والا

4:۔ فرعون ارض مصر میں سرکش ہوگیا ہے اور ظلم وعدوان کی انتہا کو پہنچ گیا۔ وجعل اھلہا شیعا الخ، مصر کے لوگوں کو مختلف جماعتوں میں تقسیم کردیا اور ان سے مختلف قسم کی شدید اور شاق خدمات لیتا تھا یا مطلب یہ ہے کہ رعیت کو مختلف فرقوں میں پارہ پارہ کردیا اور ان کے درمیان بغض و عداوت کا بیج بو دیا تاکہ وہ متفق نہ ہوسکیں اور آپس کے اختلافات میں لگے رہیں اور اس کے نیک وبد کاموں پر کسی کو نقد و تبصرہ کا موقع ہی نہ ملے۔ انگریزوں کی بعینہ یہی پالیسی تھی بلکہ ہر ظالم اور جابر حکمران یہی پالیسی اختیار کرتا ہے۔ اصنافا فی است خدا مہ لیستعمل کل صنف فی عمل من بناء و حرث و حفر وغیر ذلک من الاعمال الشاقۃ او فرقا مکتلفۃ قد اغری بینھم العداوۃ والبغضاء لئلا تتفق کلمتھم (روح ج 20 ص 43) ۔ 5:۔ طائفۃ، سے بنی اسرائیل مراد ہیں جو عرصہ دراز تک قوم فرعون کے ہاتھوں مصائب میں مبتلا رہے اس جماعت کو اس نے بالکل ضعیف بےبس اور مغلوب کر رکھا تھا اور ان کو ہر نوع ستم کا نشانہ بنایا تھا۔ یذبح ابناء ھم، یہ ماقبل کی تفسیر ہے یا، یستضعف، کی ضمیر سے حال ہے۔ یذبح تبیین للاستضاعف و تفسیرہ او فی موضع الحال من ضمیر یستضعف الخ (بحر ج 7 ص 104) ۔ فرعون بنی اسرائیل کے گھروں میں پیدا ہونے والی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا کہ وہ بڑی ہو کر اس کی قوم کی خدمت کریں گی لیکن لڑکوں کو قتل کرا دیتا تھا کیونکہ فرعون نے خوب میں دیکھا کہ بیت المقدس سے آگ نکل کر سارے مصر پر چھا گئی ہے اور اس نے تمام قبطیوں (قوم فرعون) کو جلا دیا ہے لیکن بنی اسرائیل اس سے بالکل محفوظ و مامون رہے۔ فرعون نے تعبیر جاننے والوں سے اس کی تعبیر پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ جس شہر سے بنی اسرائیل آئے ہیں اس میں ایک شخص پیدا ہوگا مصر کی تباہی اس کے ہاتھ پر ہوگی اس لیے فرعون نے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔ یا وجہ یہ تھی کہ پہلے انبیاء (علیہم السلام) نے بنی اسرائیل میں اس جلیل القدر پیغمبر کے پیدا ہونے کی خوشخبری دے رکھی تھی۔ فرعون کو یہ بات معلوم تھی اس لیے وہ بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرتا تھا۔ یہ دونوں قول نقل کرنے کے بعد امام رازی فرماتے ہیں وھذا الوجہ ھو الاولی بالقبول (کبیر ج 6 ص 587) ۔
Ayah 28:5

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم چاہتے ہیں کہ احسان کریں6 ان لوگوں پر جو کمزور ہوئے پڑے تھے ملک میں اور کردیں ان کو سردار اور کردیں ان کو قائم مقام

6:۔ اب مشیت ایزدی کو منظور ہوا کہ ان مظلوم و مقہور لوگوں پر نظر کرم ہو، انہیں دین و دنیا کے مقتدا بنایا جائے، انہیں فرعون کی حکومت و سلطنت کا وارث بنایا جائے اور ملک مصر پر انہیں حکومت دی جائے۔ فرعون، ہامان اور ان کے لاؤ لشکر کو ان کا وہ انجام دکھایا جائے جس کا انہیں خطرہ تھا۔ ائمۃ مقتدی بھم فی الدین والدنیا علی ما فی البحر (روح ج 20 ص 44) ای قادۃ فی الخیر یقتدی بہم وقیل ولاۃ ملوکا (خازن ج 5 ص 134) ۔ ما کانوا یحذرون۔ جس چیز کا ان کو ڈر اور خطرہ تھا یعنی بنی اسرائیل کے ایک مولود کے ہاتھوں ان کی تباہی اور سلطنت سے محرومی۔
Ayahs 28:6–7

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور جما دیں ان کو ملک میں اور دکھا دیں فرعون اور ہامان کو اور ان کے لشکروں کو ان کے ہاتھ سے جس چیز کا ان کو خطرہ تھا

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے حکم بھیجا7 موسیٰ کی ماں کو کہ اس کو دودھ پلاتی رہ پھر جب تجھ کو ڈر ہو اس کا تو ڈال دے اس کو دریا میں اور نہ خطرہ کر اور نہ غمگین ہو ہم پھر پہنچا دیں گے اس کو تیری طرف اور کریں گے اس کو رسولوں سے

7:۔ اب یہاں سے اس اجمال کی تفصیل شروع ہوتی ہے جو پہلی آیتوں میں تھا یعنی ان مستضعفین کی سربلندی اور ان سرکشوں کی پستی کا آغاز اس طرح ہوتا ہے۔ وہ مولود مسعود پیدا ہوچکا ہے جس کے ہاتھ پر بنی اسرائیل کا غلبہ اور قوم فرعون کی تباہی اور رسوائی ہونے والی تھی۔ اوحینا میں وحی سے الہام اور القاء فی القلب مراد ہے یعنی ہم نے موسیٰ کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ابھی اسے اپنے پاس چھپائے رکھو اور اسے دودھ پلاتی رہو اگر اس کے قتل کا خطرہ لاحق ہو تو اسے صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دینا اور پھر اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ اور اس کی جدائی کا غم نہ کرنا میں جلد ہی اسے تیرے پاس واپس لاؤں گا اور میں اسے منصب رسالت پر بھی فائز کرنے والا ہوں۔ یہی معاملہ حضور علیہی السلام کو پیش آیا آپ کو مشرکین کی ایذاؤں کی وجہ سے مجبوراً مکہ چھوڑنا پڑا لیکن آخر اللہ نے آپ کو مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل فرمایا۔
Ayah 28:8

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

پھر اٹھا لیا8 اس کو فرعون کے گھر والوں نے کہ ہو ان کا دشمن اور غم میں ڈالنے والا بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر تھے چوکنے والے

8:۔ فاء فصیحہ ہے یعنی جب والدہ موسیٰ (علیہ السلام) کو خطرہ لاحق ہوا تو بچے کو الہام ربانی کے مطابق صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دیا۔ اتفاق سے اس روز فرعون نے دریا کے کنارے اپنا دربار لگا رکھا تھا اسی اثنا میں وہ صندوق تیرتا ہوا اس کی نشست گاہ کے قریب ہی ایک درخت کے ساتھ جا لگا۔ فرعون کے لوگوں نے اسے نکال لیا۔ جب صندوق کھولا گیا تو اس میں نہایت ہی حسین و جمیل بچہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔ لیکون لھم میں لام عاقبت کا ہے۔ یعنی انہوں نے اس کو اٹھا لیا جو انجام کار ان کا دشمن اور ان کے لیے غم واندوہ کا باعث بننے والا تھا حالانکہ ان کی غرض یہ نہ تھی۔ خطئین کفر و شرک اور انکار حق کی وجہ سے مجرم اور گنہگار تھے۔
Ayah 28:9

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور بولی فرعون9 کی عورت یہ تو آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میرے اور تیرے لیے اس کو مت مارو، کچھ بعید نہیں جو ہمارے کام آئے یا ہم اس کو کرلیں بیٹا اور ان کو کچھ خبر نہ تھی

9:۔ فرعون کے دل میں خود بخود یا کسی کو توجہ دلانے سے یہ خیال پیدا ہوا ممکن ہے یہ وہی مولود ہو جس کے ہاتھ اس کی سلطنت کا زوال مقدر ہو اس لیے اسے قتل کردینا چاہیے۔ لیکن فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم نے سفارش کی اور کہا یہ تو میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس لیے آپ اسے قتل نہ کرائیں ممکن ہے اس کے ذریعہ سے ہمیں کوئی فائدہ پہنچ جائے یا اسے ہم اپنا بیٹابنا لیں گے کیونکہ ہمارے بیٹا بھی تو نہیں ہے۔ فرعون نے آسیہ کی بات مان لی اور بچے کے قتل سے دستکش ہوگیا۔ وھم لا یشعرون، یہ سب کچھ ہوا مگر ان میں سے کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ یہ وہی مولود ہے جس کے ہاتھ پر ان کا زوال و ہلاک ہوگا۔ ای لایشعرون انہ الذی یفسد ملکھم علی یدیہ قالہ قتادہ (بحر ج 7 ص 106) ۔
Ayah 28:10

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور صبح کو موسیٰ کی ماں کے دل میں قرار نہ رہا10 قریب تھی کہ ظاہر کر دے بےقراری کو اگر نہ ہم نے گرہ دی ہوتی اس کے دل پر11 اس واسطے کہ رہے یقین کرنے والوں میں

10:۔ فارغاً ، یعنی صبر سے خالی یا خیال فرزند کے سوا ہر خیال سے خالی (روح) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ محترمہ (محیانۃ بنت یصہر بن لادی) کو جب معلوم ہوا کہ فرعون نے ان کے فرزند ارجمند کو اٹھا لیا ہے اور وہ صحیح سلامت اور زندہ بچ گیا ہے تو ان کا دل صبر و استقلال سے خالی ہوگیا اور قریب تھا کہ مارے خوشی کے وہ فرعون کو بتا دیں کہ اس کا بیٹا ہے۔ قیل المعنی انھا کا دت تظہر امرہ من شدۃ الفرح بنجاتہ و تنبئ فرعون ایاہ (روح ج 20 ص 49) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب بچے کو صندوق میں بند کر کے انہوں نے دریا میں ڈال دیا تو موجوں نے اس کو ادھر سے ادھر پھینکنا شروع کیا یا جب وہ فرعون کے ہاتھ آگیا تو والدہ کو غم لاحق ہوا کہ فرعون اسے ضرور قتل کر ڈالے گا تو شدت غم سے قریب تھا کہ اس کی چیخیں نکل جاتیں اور راز فاش ہوجاتا۔ قیل لما رات الامواج تلعب بالتابوت کا دت تصیح و تقول وا ابناہ وقیل لما سمعت ان فرعون اکذ التابوت لم تشک انہ یقتلہ فکات تقول وا ابناہ شفقۃ علیہ (مدارک ج 3 ص 174) ، 11:۔ لیکن ہم نے والدہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں گرہ لگا دی اور اس کے دل کو مزید صبر عطا کر کے مضبوط کردیا۔ لتکون من المومنین، یہ ماقبل کی علت ہے یعنی ہم نے اس کے دل کو مضبوط اس لیے کیا تاکہ ہمارے وعدے کی اسے مزید تصدیق ہوجائے ای من المصدقیین وعد اللہ ایاھا (خازن ج 5 ص 137) ۔ یا مطلب یہ ہے تاکہ وہ ایمان پر ثابت قدم رہے کیونکہ مون تو وہ پہلے بھی تھی قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ لولا کا جواب مقدر ہے ای لابدتہ بقرینۃ ان کا دت لتبدی بہ (روح ) ۔
Ayah 28:11

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور کہہ دیا12 اس کی بہن کو پیچھے چلی جا پھر دیکھتی رہی اس کو اجنبی ہو کر اور ان کو خبر نہ ہوئی

12:۔ ماں کی مامتا کو کب قرار آتا ہے فورًا اپنی بیٹی موسیٰ (علیہ السلام) کی ہمشیرہ حضرت مریم بنت عمران (یہ مریم بنت عمرا والدہ مسیح (علیہ السلام) کے علاوہ ہیں) کو تفتیش احوال کے لیے فرعون کے گھر اس کے پیچھے پیچھے بھیجا تاکہ معلوم کرے کہ وہ اس کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں۔ چناچہ وہ گئیں اور دور سے سب کچھ دیکھتی رہیں اس طرح کہ کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ تفتیش احول کے لیے وہاں کھڑی ہیں۔ عن جنب ای عن بعد یعنی دور سے (بحر) ۔
Ayah 28:12

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور روک رکھا تھا ہم نے موسیٰ سے دائیوں کو پہلے سے13 پھر بولی میں بتلاؤں تم کو ایک گھر والے کہ اس کو پال دیں تمہارے لیے اور وہ اس کا بھلا چاہنے والے ہیں

13:۔ تحریم منع سے کنایہ ہے۔ مراضع، مرضع کی جمع ہے یعنی مریم کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دائیوں کا دودھ پینے سے روک دیا۔ اب وہ سب پریشان تھے کہ کیا کریں بچہ کسی دایہ کا دودھ منہ سے بھی نہیں لگاتا۔ جب مریم نے یہ صورت حال دیکھی تو جرات کر کے قریب چلی گئیں اور کہا اگر اجازت ہو تو ایک بی بی کا میں بھی پتہ دئیے دیتی ہوں شاید یہ بچہ اس کا دودھ پی لے وہ بی بی اور اس کے گھر والے سب ہی اس بچے کی پیار محبت اور خیر خواہی سے تربیت کریں گے۔
Ayah 28:13

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

پھر ہم نے پہنچا دیا اس کو14 اس کی ماں کی طرف کہ ٹھنڈی رہے اس کی آنکھ اور غمگین نہ ہو اور جانے کہ اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے پر بہت لوگ نہیں جانتے

14:۔ فاء فصیحہ ہے یعنی انہوں نے اس کی بات مان لی اور وہ ان کے کہنے پر اپنی والدہ کو ان کے پاس لے آئی جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ کی خوشبو سونگھی تو فورًا اس کا دودھ پینا شروع کردیا چناچہ فرعون نے بچے کی پرورش اسی کے حوالے کردی۔ اس طرح ہم نے موسیٰ کو اس کی والدہ کے پاس واپس کردیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور اس کی جدائی کا اسے غم نہ ہو نیز اسے یقین ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا تھا۔
Ayah 28:14

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب پہنچ گیا15 اپنے زور پر اور سنبھل گیا دی ہم نے اس کو حکمت اور سمجھ اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکی والوں کو

15:۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) سن نمو کی انتہا کو پہنچ گئے اور ان کی ذہنی اور جسمانی قوتیں حد کمال کو پہنچ گئیں تو ہم نے ان کو عقل اور علم و فہم کی دولت عطا کی یعنی دین کے معاملات میں گہری سمجھ اور حکمت یعنی صحیح قوت فیصلہ سے سرفراز فرمایا ای الفقہ والعقل والعلم فی الدین فعلم موسیٰ و حکم قبل ان یبعث نبیا (معالم ج 5 ص 138) ۔ بعض نے حکم و علم سے نبوت اور علم نبوت مراد لیا ہے لیکن اس صورت میں ترتیب قصہ میں تقدیم و تاخیر ہوگی کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت مدین سے واپسی پر راستے میں ملی اور قتل قبطی اور سفر مدین وغیرہ واقعات نبوت سے پہلے کے ہیں لیکن پہلی صورت میں تقدیم و تاخیر ماننے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 28:15

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور آیا شہر کے اندر16 جس وقت بیخبر ہوئے تھے وہاں کے لوگ پھر پائے اس میں دو مرد لڑتے ہوئے یہ ایک اس کے رفیقوں میں اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں پھر فریاد کی اس سے اس نے جو تھا اس کے رفیقوں میں اس کی جو تھا اس کے دشمنوں میں پھر مکا مارا اس کو موسیٰ نے پھر اس کو تمام کردیا بولا یہ ہوا شیطان کے کام سے17 بیشک وہ دشمن ہے بہکانے والا صریح

16:۔ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) شہر میں ایسے وقت میں داخل ہوئے جبکہ سب لوگ دوپہر کے وقت باہر کے حالات سے بیخبر اپنے گھروں میں قیلولہ کر رہے تھے۔ آپ نے کیا دیکھا کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں ان میں سے ایک تو ان کے اپنے قبیلے یعنی بنی اسرائیل کا ہے اور دوسرا ان کی دشمن قوم قبط کا ہے۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ والسلام کو دیکھتے ہی قبطی کے مقابلے میں انہیں مدد کے لیے پکارا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے تو قبطی کو زبانی سمجھایا کہ وہ اسرائیلی کو چھوڑ دے لیکن وہ الٹا گستاخی سے پیش آیا اس پر انہوں نے آگے بڑھ کر اس کے ایک گھونسہ رسید کیا۔ اس سے ان کا ارادہ ظالم کے ظلم سے مظلوم کو بچانے کا تھا۔ قتل کا ارادہ ہرگز نہ تھا اور نہ عادۃ گھونسہ قتل کا باعث ہوتا ہے لیکن قبطی اس کی تاب نہ لاسکا اور مرگیا۔ اس تقریر سے معلوم ہوگیا کہ یہ واقعہ عصمت انبیاء (علیہم السلام) از کبائر قبل نبوت کے منافی نہیں کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں انہوں نے ایک مظلوم کی امداد کی تھی جس سے بلا ارادہ ایک آدمی مرگیا۔ لا یشکل ایضا علی القول بعصمتھم عن الکبائر والصغائر مطلقا لجواز ان یکون (علیہ السلام) قد رای ان فی الوکز دفع ظالم عن مظلوم ففعلہ غیر قاصد بہ القتل وانما وقع مترتبا علیہ لا عن قصد (روح ج 20 ص 54) ۔ 17:۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ارادہ قتل کا ہرگز نہ تھا۔ جب ان کے گھوسہ مارنے سے غیر متوقع طور پر قبطی کی موت واقع ہوگئی تو بہت نادم ہوئے اور بول اٹھے یہ تو ایک شیطانی فعل ہے شیطان انسان کا علانیہ دشمن ہے جو اسے ورغلا کر غلط راستے پر ڈالتا ہے۔ قال رب انی ظلمت الخ، اس غیر ارادہ لغزش پر اللہ سے معافی کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے معافی دیدی کیونکہ معاف کرنے والا اور مہربان حقیقت میں وہی ہے۔
Ayahs 28:16–17

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

بولا اے میرے رب میں نے برا کیا اپنی جان کا، سو بخش مجھ کو پھر اس کو بخش دیا بیشک وہی ہے بخشنے والا مہربان

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

بولا اے رب جیسا تو نے فضل کردیا مجھ پر18 پھر میں کبھی نہ ہوں گا مددگار گنہگاروں کا

18:۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں، بما انعمت علی کے بعد فلا تھنی محذوف ہے یعنی مجھے رسوا نہ کرنا۔ یا بما میں باء قسمیہ ہے اور جواب قسم محذوف ہے اور فلن اکون الخ جواب پر معطوف ہے ای اقسم بانعامک علی لا متنعن عن مثل ھذا الفعل الخ (روح ج 20 ص 55) ۔ اور انعام سے یا تو فرعون کے شر سے محفوظ رہنا مراد ہے یا مذکورہ لغزش پر مغفرت کیونکہ الہام یا رویائے صادقہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا تھا کہ اللہ نے ان کی لغزش معاف فرما دی ہے (ایضا) ۔ اس پر امر خامس یعنی فلا تکونن ظھیرا للکفرین متفرع ہوگا۔
Ayah 28:18

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پھر صبح کو اٹھا19 اس شہر میں ڈرتا ہوا انتظار کرتا ہوا پھر ناگہاں جس نے کل مدد مانگی تھی اس سے آج پھر فریاد کرتا ہے اس سے کہا موسیٰ نے بیشک تو بےراہ ہے صریح

19:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے رات اسی امید و بیم اور کشمکش میں گذار دی کہ دیکھیں فرد جرم کس پر عائد ہوتی ہے۔ اگلے روز جب وہ گھر سے باہر نکلے تو دیکھا کہ وہی اسرائیلی آج ایک دوسرے قبطی سے گتھم گتھا ہے۔ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر آج پھر مدد کے لیے پکارا موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر آج پھر مدد کے لیے پکارا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تو بڑا بیہودہ آدمی ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ تیرا روزانہ کام ہی یہی ہے۔ فلما ان اراد الخ، اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) جب قبطی کو پکڑ کر پیچھے ہٹانے کے ارادے سے آگے بڑھے تو اسرائیلی سمجھا کہ وہ مجھے پکڑنے لگے ہیں کیونکہ انہوں نے اسے ملامت کی تھی اس لیے فوراً بول اٹھا۔ اے موسیٰ ! جس طرح کل تو نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا اسی طرح آج مجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔ تو لوگوں کے جھگڑے صلح صفائی سے ختم کرنے کے بجائے جبر و تشدد سے بڑا بننا چاہتا ہے۔
Ayahs 28:19–20

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پھر جب چاہا کہ ہاتھ ڈالے اس پر جو دشمن تھا ان دونوں کا بول اٹھا اے موسیٰ کیا تو چاہتا ہے کہ خون کرے میرا جیسے خون کرچکا ہے کل ایک جان کا تیرا یہی جی چاہتا ہے کہ زبردستی کرتا پھرے ملک میں اور نہیں چاہتا کہ ہو صلح کرا دینے والا

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور آیا20 شہر کے پرلے سرے سے ایک مرد دوڑتا ہوا کہا اے موسیٰ دربار والے مشورہ کرتے ہیں تجھ پر کہ تجھ کو مار ڈالیں سو نکل جا میں تیرا بھلا چاہنے والا ہوں

20:۔ اسرائیلی کی گفتگو سے قبطی کے قتل کا معمہ حل ہوگیا اور یہ خبر فورًا فرعون تک پہنچ گئی۔ فروعن اور اس کے مشیروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ فرعون کے رشتہ داروں میں ایک نیک دل انسان (جو بعد میں موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا اور قرآن میں جسے مومن آل فرعون کہا گیا ہے) شمعون یا حزقیل کو اس کی اطلاع ہوگئی وہ دوڑتا ہوا موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا اور دربار فرعون کے فیصلے سے انہیں آگاہ کیا اور مشورہ دیا کہ وہ فورًا اس شہر سے ہجرت کر جائیں۔
Ayah 28:21

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

پھر نکلا وہاں سے ڈرتا ہوا21 راہ دیکھتا بولا اے رب بچا لے مجھ کو اس قوم بےانصاف سے

21:۔ موسیٰ (علیہ السلام) بلا توقت شہر سے نکل کھڑے ہوئے مگر یہ خوف بھی دامنگیر ہے کہ کہیں فرعون کے آدمی ان کو گرفتار نہ کرلیں یا قتل نہ کر ڈالیں اس کے ساتھ ہی اللہ کی طرف متوجہ ہو کر التجا کرتے ہیں کہ میرے پروردگار مجھے ظالموں سے بچانا کیونکہ اس کے سوا کوئی ملجا و ماوی نہیں یعنی ینتظر الطلب ھل یلحقہ فیاخذہ ثم لجا الی اللہ تعالیٰ لعلمہ انہ لا ملجا الا الیہ (خازن ج 5 ص 140) ۔
Ayah 28:22

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب منہ کیا22 مدین کی سیدھ پر بولا امید ہے کہ میرا رب لے جائے مجھ کو سیدھی راہ پر

22:۔ مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کا شہر تھا۔ یہ شہر فرعون کی سلطنت سے باہر تھا اور مصر سے قریب بھی تھا اس لیے مدین کا رخ کیا۔ و مدین قریۃ شعیب (علیہ السلام) سمیت بمدین بن ابراہیم ولم تکن فی سلطان فرعون و بینہا و بین مصر مسیرۃ ثمانیۃ ایام (مدارک ج 3 ص 176) ۔ راستہ چونکہ صحیح معلوم نہ تھا اس لیے محض اندازے سے ایک راستہ پکڑ لیا اور خدا کے بھروسے پر چل دئیے کہ وہ اپنی مہربانی سے سیدھی راہ پر ڈال دے گا۔
Ayah 28:23

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب پہنچا23 مدین کے پانی پر پایا وہاں ایک جماعت کو لوگوں کی پانی پلاتے ہوئے اور پایا ان سے ورے دو عورتوں کو کہ روکے ہوئے کھڑی تھیں اپنی بکریاں، بولا تمہارا کیا حال ہے بولیں ہم نہیں پلاتیں پانی چرواہوں کے پھیر لیجانے تک اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا

23:۔ خدا خدا کر کے مدین پہنچ گئے۔ ابھی شہر سے باہر ہی تھے کہ ایک کنویں پر لوگوں کا ہجوم دیکھا جو اپنے چوپایوں کو پانی پلا رہے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ دو عورتیں دور پرے اپنا ریوڑ روکے کھڑی ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی حالت عجیب سی معلوم ہوئی، آگے بڑھ کر ان سے پوچھا کیا بات ہے تم اپنا ریوڑ اس طرح دور کیوں روکھے کھڑی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا جب تک یہ لوگ اپنے مویشیوں کو پانی پلا کر فارغ نہ ہوجائیں اس وقت تک ہم اپنی بکریں کو پانی نہیں پلا سکتیں۔ کیونکہ ہم خود کنویں سے پانی نہیں نکال سکتیں اور ہمارا والد بھی بوڑھا ضعیف ہے وہ بھی اس کام سے عاجز ہے، اس لیے جب یہ لوگ اپنے مویشیوں کو پانی پلا کر چلے جائیں گے تو حوض میں بچا کھچا پانی ہم اپنی بکریں کو پلا لیں گی۔ انا امراتان لا نطیق ان نستسقی ولا نستطیع ان نزاحم الرجال فاذا صدروا سقینا مواشینا ما افضلت مواشیہم فی الحوض (معالم ج 5 ص 140) ۔ مشہور قول یہی ہے کہ یہ دونوں عورتیں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹیاں تھیں۔ مسئلہ توحید کی وجہ سے مشرکین کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھ اس قدر ضد تھی کہ انہوں نے انسانی مروت اور اخلاق کو بھی بالائے طاق رکھ دیا تھا۔ وہ نہ تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بڑھاپے کا خیال کرتے نہ ان کی بیٹیوں کے ضعف صنفی کا لحاظ کرتے بلکہ اپنے مویشیوں کو پانی پلا کر کنویں کا منہ بھی نہایت وزنی پتھر سے بند کردیتے اور ڈول بھی اس قدر وزنی تھا جسے کئی طاقتور آدمی ہی کھینچ سکتے تھے۔
Ayah 28:24

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

پھر اس نے پانی پلا دیا ان کے جانوروں کو24 پھر ہٹ کر آیا چھاؤں کی طرف، بولا اے رب تو جو چیز اتارے میری طرف اچھی میں اس کا محتاج ہوں

24:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے حال پر رحم آگیا آپ آگے بڑھے اور لوگوں کو ایک طرف ہٹا کر اکیلے ہی ڈول بھر کر نکالا اور ان کے مویشیوں کو پانی پلا کر انہیں روانہ کیا اور خود قریب ہی کسی درخت یا دیوار کے سائے میں جا بیٹھے۔ کہتے ہیں ڈول اس قدر وزنی تھا کہ کئی آدمی مل کر نکال سکتے تھے۔ روی انہ نحی القوم عن راس البئر و سالھم دلوا فاعطوہ دلوھم وقالوا استق بھا وکانت لاینزعھا الا اربعون فاستقی بھا و صبھا فی الحوض الخ (مدارک ج 3 ص 177) ۔ سائے میں بیٹھ کر اپنے مولی سے بھوک کی شکایت کی کہ میرے مولی ! اس وقت جو بھی تو مجھے تھوڑا بہت کہیں سے بھجوا دے میں اس کا محتاج ہوں۔
Ayah 28:25

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

پھر آئی اس کے پاس ان دونوں میں سے ایک چلتی تھی شرم سے25 بولی میرا باپ تجھ کو بلاتا ہے کہ بدلے میں دے حق اس کا کہ تو نے پانی پلا دیا ہمارے جانوروں کو پھر جب پہنچا اس کے پاس اور بیان کیا اس سے احوال کہا مت ڈر بچ آیا تو اس قوم بےانصاف سے

25:۔ اسی خیال ہی میں تھے کہ ان دونوں عورتوں میں سے ایک آئی، اس کی چال ہی سے شرم و حیا اور شرافت نمایاں تھی، اس نے آکر کہا میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ کے احسان کا آپ کو بدلہ دیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ساتھ ہو لیے اور لڑکی سے کہا تم میرے پیچھے پیچھے چلو تاکہ تمہارے بدن پر میری نگاہ نہ پڑے اور دائیں بائیں مجھے راستہ بتاتی جاؤ روی انہ (علیہ السلام) اجابھا فقام معھا فقال لھا مشی خلفی وانعتی لی الطریق فانی اکرہ ان تصیب الریح ثیابک فتصف لی جسد ففعلت الخ (روح ج 20 ص 65) ۔ جب انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس پہنچ کر سارا ماجرا بیان کیا تو انہوں نے فرمایا اب بےخوف ہوجاؤ یہاں فرعون کا کوئی تسلط نہیں اور اللہ نے تمہاری دعا قبول فرما لی اور ظالموں سے تمہیں بچا لیا۔
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

بولی ان دونوں میں سے ایک اے باپ اس کو نوکر رکھ لے26 البتہ بہتر نوکر جس کو تو رکھنا چاہے وہ ہے جو زور آور ہو امانت دار

26:۔ دونوں بہنوں میں سے ایک بولی، اور یہ وہی تھی جو انہیں بلانے گئی تھی، ابا جان ! اس نوجوان کو آپ ملازم رکھ لیں جو ریوڑ کو چرانے، اسے پانی پلانے اور اس کی دیکھ بھال کا کام کیا کرے، کیونکہ آپ کو ملازم ایسا چاہیے جو طاقت ور بھی ہو اور نیک بھی اور اس نوجوان میں یہ دونوں صفتیں موجود ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت کا اندازہ اس نے اس سے لگایا کہ انہوں نے تنہا ڈول کھینچ لیا جو کئی آدمی مل کر کھینچ سکتے تھے اور ان کی امانت اور نیکی کا اندازہ اس سے لگایا جب وہ انہٰں ساتھ لے کر گھر آرہی تھی تو انہوں نے اسے کہا تھا تم میرے پیچھے پیچھے چلو تاکہ تمہارے بدن پر میری نگاہ نہ پڑے۔
Ayah 28:27

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

کہا میں چاہتا ہوں27 کہ بیاہ دوں تجھ کو ایک بیٹی اپنی زن دونوں میں سے اس شرط پر کہ تو میری نوکری کرے آٹھ برس پھر اگر تو پورے کر دے دس برس تو وہ تیری طرف سے ہے اور میں نہیں چاہتا کہ تجھ پر تکلیف ڈالوں تو پائے گا مجھ کو اگر اللہ نے چاہا نیک بختوں سے

27:۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جب موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت اور دیانت و امانت کا علم ہوگیا تو فرمایا میں چاہتا ہوں اگر تو آٹھ برس میری نوکری کرے تو میں ایک بیٹی تیرے نکاح میں دے دوں۔ اگر تو آٹھ کے بجائے دس سال پورے کردے تو یہ تیری طرف سے احسان و تفضل ہوگا اور کام کاج میں میں تجھ پر سختی کرنے اور زیادہ مشقت ڈالنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتا۔ اور انشاء اللہ تو مجھے اس معاملے میں اچھا پائیگا۔ قال ذلک بینی و بینک الخ، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ ہوگیا کہ مجھے اختیار ہے آٹھ سال پورے کروں یا دس سال اور دس سال پورے کرنے کے سلسلے میں مجھ پر دباؤ نہ ڈالا جاسکے گا اور ہمارے اس معاہدے پر خدا گواہ ہے۔ مقصود یہ ہے کہ یہ معاہدہ پختہ ہوچکا ہے ہم میں سے کوئی اپنے معاہدے سے پھر نہیں سکے گا۔ یہ اصول ہے کہ اگر گذشتہ شرائع کو بلا انکار نقل کیا جائے تو وہ ہمارے لیے بھی حجت ہوں گی۔ اسی لیے حنفیہ نے یہاں سے استدلال کیا ہے کہ ایسی خدمت زوج مہر بن سکتی ہے۔ صاحب مدارک نے اس پر اجماع کا دعوی کیا ہے۔ والتزوج علی رعی الغنم جائز بالاجماع لانہ من باب القیام بامر الزوجیۃ (روح ج 20 ص 69) لیکن ایک شبہ ہوسکتا ہے کہ رعی غنم کی میعاد تو معین ہے لیکن منکوحہ مبہم ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو صرف وعدہ ہے عقد نکاح نہیں عقد نکاح کے وقت منکوحہ کی تعیین لا محالہ کرنی ہوگی۔ وھذہ مواعدۃ منہ ولم یکن ذلک عقد نکاح اذ لو کان عقدا لقال قد انکحتک (مدارک ج 3 ص 158) ۔
Ayahs 28:28–29

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

بولا یہ وعدہ ہوچکا میرے اور تیرے بیچ جونسی مدت ان دونوں میں پوری کر دوں سو زیادتی نہ ہو مجھ پر اور اللہ پر بھروسہ اس چیز کا جو ہم کہتے ہیں

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

پھر جب پوری کرچکا28 موسیٰ وہ مدت اور لے کر چلا اپنے گھر والوں کو دیکھی کوہ طور کی طرف سے ایک آگ کہا اپنے گھر والوں کو ٹھہرو میں نے دیکھی ہے ایک آگ شاید لے آؤں تمہارے پاس وہاں کی کچھ خبر یا انگارا آگ کا تاکہ تم تاپو

28:۔ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس سال کی مدت پوری کی۔ اتمام میعاد کے بعد اپنی بیوی کو ساتھ لے کر مصر کا رخ کیا تاکہ وہاں اپنی والدہ، ہمشیرہ اور بھائی کی ملاقات کریں۔ ان کا خیال تھا کافی عرصہ گذر چکا ہے اب قبطی کے قتل کا معاملہ فع دفع ہوچکا ہوگا۔ راستے میں جب وادی طوی میں پہنچے جو کوہ طور کے دامن میں ہے تو راستہ بھول گئے۔ رات کا وقت تھا اور سردی بھی پڑ رہی تھی۔ اچانک کوہ طور کی جانب سے آگ دیکھی تو بیوی سے فرمایا تم یہیں ٹھہرو مجھے آگ نظر آئی ہے۔ میں وہاں جاتا ہوں، وہاں کوئی آدمی ہوگا اس سے راستہ پوچھوں گا یا کم از کم تمہارے تاپنے کے لیے وہاں سے آگ ہی لے آؤں گا۔
Ayah 28:30

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

پھر جب پہنچا اس کے پاس29 آواز ہوئی میدان کے داہنے کنارے سے برکت والے تختہ میں ایک درخت ہے کہ اے موسیٰ میں ہوں اللہ جہان کا رب

29:۔ من شاطئ، مبدل منہ اور من الشجرۃ اس سے بدل ہے جب وہ آگ کے قریب پہنچے تو اس بابرکت اور سر سبز و شاداب کطے میں وادی کے دائیں کنارے کی جانب سے ایک درخت میں سے آواز آئی اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں یعنی ساری کائنات میں متصرف اور سارے جہاں کا مالک ہوں۔ ان یاموسی میں اَن تفسیریہ ہے جو نداء کی تفسیر کر رہا ہے۔ وان الق عصاک یہ ان یموسی پر معطوف ہے۔ فلما راھا تہتز الخ جب انہوں نے دیکھا کہ لاٹھی کا بہت بڑا اژدھا بن گیا ہے اور وہ سپولے کی مانند بڑی تیزی سے حرکت کر رہا ہے تو خوف سے پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ یموسی اقبل الخ، پھر آواز آئی اے موسیٰ ! آگے بڑھو اور مت ڈرو اور اسے پکڑ لو تم ہر خوف و خطر سے محفوظ ہو اس اژدہا سے تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔ اژدہا اگرچہ بہت بڑا تھا لیکن چھوٹے سانپوں کی سی تیزی سے حرکت کررہا تھا اس لیے اسے جآن (چھوٹے سانپ) کے ساتھ تشبیہ دی گئی۔ کانہا جان ای فی سرعۃ الحرکۃ مع غایۃ عظم جث تھا (ابو السعود ج 6 ص 656) ۔ سانپ کو دیکھ کر بتقاضائے بشریت موسیٰ (علیہ السلام) ڈر گئے اس سے معلوم ہوا کہ معجزہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور پیغمبروں کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
Ayahs 28:31–32

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ کہ ڈال دے اپنی لاٹھی پھر جب دیکھا اس کو پھنپھناتے جیسے سانپ کی سٹک الٹا پھرا منہ موڑ کر اور نہ دیکھا پیچھے پھر کر اے موسیٰ آگے آ اور مت ڈر تجھ کو کچھ خطرہ نہیں

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

ڈال اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں30 نکل آئے سفید ہو کر نہ کہ کسی برائی سے اور ملا لے اپنی طرف اپنا بازو ڈر سے سو یہ دو سندیں ہیں31 تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں پر بیشک وہ تھے لوگ نافرمان

30:۔ یہ دوسرا معجزہ ہے۔ من غیر سوء الخ، یعنی ہاتھ کا سفید ہونا کسی بیماری کی وجہ سے نہ ہوگا۔ واضمم الیک الخ، یعنی اگر خوف وغیرہ ہو تو ہاتھ سینے پر رکھ لیا کرو اس سے خوف وہراس جاتا رہے گا۔ خوف و ہراس کے وقت اگر آدمی ہاتھ سینے پر رکھ لے تو اس سے دل کو تقویت ملتی ہے اور گھبراہٹ کم ہوجاتی ہے۔ من الرھب ای من اجل المخافۃ ومن شان الانسان اذا فعل ذلک فی وقت فزعہ ان یقوی قلبہ (روح ج 20 ص 75) ۔ یا یہ عدم خوف سے کنایہ ہے کیونکہ پرندے ب خوف و خطر سے مامون ہوتے ہیں تو پروں کو اطمینان سے سمیٹ لیتے وھو ماخوذ من فعل الطائر عند الامن بعد الخوف وھو فی الاصل مستعار من فعل الطائر عند ھذہ الحالۃ الخ (روح) ۔ 31:۔ یہ دونوں معجزے عصا اور ید بیضا تمہاری رسالت کی واضح دلیلیں ہیں، اب فرعون اور اس کے اہل دربار کے پاس جاؤ اور یہ دونوں معجزے اپنی سچائی پر دلیل کے طور پر ان کے سامنے پیش کرو اور ان کو توحید کی دعوت دو ، وہ اللہ کی نافرمانی اور عصیان و فجور میں انتہاء کو پہنچ چکے ہیں۔
Ayah 28:33

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

بولا اے رب32 میں نے خون کیا ہے ان میں ایک جان کا سو ڈرتا ہوں کہ مجھ کو مار ڈالیں گے

32:۔ منصب رسالت پر فائز ہونے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین تھا کہ اب اللہ تعالیٰ کی تائید و حمایت ہر وقت ان کے شامل حال رہے گی لیکن وہ قتل قبطی کے معاملے کو اللہ کے سامنے پیش کر کے اللہ کی جانب سے حفظ وامان کے وعدے کی صراحت چاہتے تھے اس لیے اس کا ذکر کیا۔ اس سے ان کا یہ مطلب ہرگز نہ تھا کہ وہ رسالت سے استعفاء چاہتے ہیں۔ طلب من اللہ تالیٰ ما یقوی قلبہ و یزیل خوفہ (کبیر ج 6 ص 606) ولمراد بہذا الخبر طلب الحفظ والتائید لا بلاغ الرسالۃ علی اکمل وجہ لا الاستعفاء من الارسال (روح ج 20 ص 77) ۔
Ayah 28:34

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرا بھائی ہارون33 اس کی زبان چلتی ہے مجھ سے زیادہ سو اس کو بھیج میرے ساتھ مدد کو کہ میری تصدیق کرے میں ڈرتا ہوں کہ مجھ کو جھوٹا کریں

33:۔ یہ دوسری درخواست تھی کہ ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اور قادر الکلام ہے اسے میرا معاون بنا کر میرے ساتھ بھیجا جائے تاکہ وہ میری تائید کرے اور میری تقریر کو بسط و تفصیل کے ساتھ پیش کرسکے اور کافروں کے مجادلے کا منہ توڑ جواب دے سکے۔ و معنی تصدیقہ موسیٰ اعانتہ ایاہ بزیادۃ البیان فی مظان الجدال ان احتاج الیہ لیثبت دعواہ (مدارک ج 3 ص 180) ۔
Ayah 28:35

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

فرمایا ہم مضبوط کردیں گے تیرے بازو کو تیرے بھائی سے34 اور دیں گے تم کو غلبہ پھر وہ نہ پہنچ سکیں گے تم تک ہماری نشانیوں سے تم اور جو تمہارے ساتھ ہو غالب رہو گے

34:۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں درخواستیں منظور فرما لیں اور فرمایا تیرے بھائی کو تیرا معاون بھی بنا دوں گا اور تمہیں ایسا غلبگہ دوں گا کہ وہ تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچا سکیں گے اور تمہیں ایسا رعب عطا کردوں گا کہ وہ مارے خوف وہیبت کے برے ارادے سے تمہارے قریب بھی نہ آسکیں گے۔ بایاتنا کا متعلق محذوف ہے ای اذھبا بایاتنا، یا نجعل یا سلطانا، یا لا یصلون کے متعلق ہے، یا یہ ظرف الغالبون کے متعلق ہے اور ظرف کی تقدیم رعایت فاصلہ یا حصر کے لیے ہے (روح) ۔
Ayah 28:36

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پھر جب پہنچا ان کے پاس35 موسیٰ لے کر ہماری نشانیاں کھلی ہوئی بولے اور کچھ نہیں یہ جادو ہے باندھا ہوا اور ہم نے سنا نہیں یہ اپنے اگلے باپ دادوں میں

35:۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب ان کے پاس گئے اور انہیں معجزے دکھائے تو وہ کہنے لگے یہ تو بڑا زبردست جادو ہے جو موسیٰ نے خود ایجاد کیا ہے ایسا جادو تو آج تک ہمارے باپ دادا کے زمانے میں بھی کہیں دیکھنے سننے میں نہیں آیا۔ (بحر) یا اس سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت اور دعوت ہے کہ اللہ کے سوا سارے جہاں کا کوئی مالک و کارساز نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی دعاء اور پکار کے لائق ہے۔ وما سمعنا بہذا یعنی بالذی تدعونا الیہ (معالم و خازن ج 5 ص 114) ۔
Ayah 28:37

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ نے36 میرا رب تو خوب جانتا ہے جو کوئی لایا ہے ہدایت کی بات اس کے پاس سے اور جس کو ملے گا آخرت کا گھر بیشک بھلا نہ ہوگا بےانصافوں کا

36:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انکے جواب میں فرمایا جسے اللہ تعالیٰ نے رسالت و نبوت کا اہل سمجھ کر ہدایت کا پیغام دے کر بھیجا ہے اور جسے اس نے حسن عاقبت کا وعدہ دیا ہے اللہ اسے تم سے زیادہ جانتا ہے۔ اگر وہ ساحر و مفتری ہوتا جیسا کہ تمہارا خیال ہے تو وہ اسے منصب نبوت پر فائز نہ فرماتا کیونکہ ایسے مفتری اس کے نزدیک فوز و فلاح کے مستحق نہیں (روح و مدارک) ۔ امر ثالث یعنی قل ربی اعلم من جاء بالہدی الخ اس پر متفرع ہے۔ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا تھا ایسا ہی جواب دینے کاحضور ﷺ کو حکم دیا گیا۔
Ayah 28:38

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور بولا فرعون اے دربار والو37 مجھ کو تو معلوم نہیں تمہارا کوئی حاکم ہو میرے سوا سو آگ دے اے ہامان میرے واسطے گارے کو پھر بنا میرے واسطے ایک محل تاکہ میں جھانک کر دیکھ لوں موسیٰ کے رب کو اور میری اٹکل میں تو وہ جھوٹا ہے

37:۔ فرعون کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں بعض لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت سے متاثر نہ ہوجائیں اس لیے اصل حقیقت پر پردہ اور ان کے دلوں میں شبہات ڈالنے کے لیے ازراہ خیر خواہی لوگوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا اے شرفاء قوم ! گذشتہ زمانے میں تو مجھے اپنی ذات کے سوا تمہارا کوئی معبود معلوم نہیں ہوسکا اگر کوئی ہوتا تو میں تمہیں ضرور بتاتا۔ اور اب میں اس کی مزید تحقیق کرتا ہوں۔ فاوقد لی یہامن علی الطین الخ ارے ہامان فورًا پختہ اینٹوں کی بھٹی چڑھاأ اور ایک بہت ہی بلند مقام پر نہایت اونچی رصد گہ تعمیر کرو تاکہ میں اس پر چڑھ کر دیکھوں موسیٰ کا خدا کہاں ہے جسے وہ رب العالمین کہتا ہے۔ مجھے تو موسیٰ کا یہ دعوی سراسر غلط اور جھوٹا معلوم ہوتا ہے (العیاذ باللہ) ۔ اعلم ان فرعون کانت عادتہ متی ظھرت حجۃ موسیٰ ان یتعلق فی دفع تلک الحجۃ بشبھۃ یروجھا علی اغمار قومہ وذکر ھھنا شبہتین الاولی قولہ ما علمت لکم من الہ غیر الشبہۃ الثانیۃ قولہ فاوقد لی یہامن علی الطین الخ (کبیر ج 6 ص 608) ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فرعون کے حکم کے مطابق ہامان نے ایک نہایت ہی بلند وبالا عمارت تعمیر کی لیکن یہ صحیح نہیں۔ فرعون نے صرف دفع الوقتی کے لیے یہ بات کہی تھی نہ اس نے بنوائی اور نہ اس کا ارادہ ہی تھا۔ الاقرب انہ کان اوھم البناء ولم یبن (کبیر) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں سورة مومن میں اس قصے کے انداز بیان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ محل وغیرہ کوئی نہیں بنایا گیا کیونکہ وہاں فرعون کے حکم یاھامن ابن لی صرحا لعلی الخ کے بعد مومن آل فرعون کی تقریر ہے اور اس کے بعد فرعون اور اس کی قوم کے گرفتار عذاب ہو کر ہلاک ہونے کا ذکر ہے۔
Ayah 28:39

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور بڑائی کرنے لگے وہ اور اس کے لشکر38 ملک میں ناحق اور سمجھے کہ وہ ہماری طرف پھر کر نہ آئیں گے

38:۔ یہ فرعون اور اس کی قوم کی سرکشی اور ان کے کبر و غرور کا بیان ہے فرعون اور اس کی قوم کے لوگ دوسروں کو نہایت حقیر و ذلیل سمجھتے ان کا خیال تھا کہ دنیا میں عزت و عظمت انہی کا حق ہے حالانکہ انہیں اپنے کو بڑا اور دوسروں کو غلاموں کی طرح ذلیل سمجھنے کا کوئی حق نہ تھا اسی کبر و نخوت کی وجہ سے انہوں نے حق کو نہا مان یعنی تعظموا عن الایمان ولم ینقادو للحق (خازن ج 5 ص 145) ۔ وہ دولت و حکومت کے نشے میں اس قدر بد مست تھے کہ انہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کا بھی یقین نہ تھا۔ بڑائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو زیبا ہے اور صرف اسی کا حق ہے۔ فی الحدیث القدسی الکبریاء ردائی والعظمۃ ازاری فمن نازعنی واحدا منھما القیتہ فی النار (روح ج 20 ص 83) ۔
Ayah 28:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

پھر پکڑا ہم نے اس کو39 اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام گناہ گاروں کا

39:۔ فرعون، اس کے امراء دربار، اس کی فوجوں اور اس کی ساری قوم نے استکبار و غرور سے حق کو ٹھکرایا تو ہم نے سب کو پکڑلیا اور دریا میں غرق کردیا۔ اب دیکھ لو آخر ان ظالموں کا انجام کیا ہوا۔ نہ حکومت کام آئی دولت، نہ جتھہ، نہ لاؤ لشکر، وجعلنھم ائمۃ یدعون الی النار الخ، وہ کیا تھے ؟ کفر و ضلال کے امام اور پیشوا۔ وہ لوگوں کو کفر و شرک کی طرف بلاتے اور لوگوں کو دین حق اور اللہ کی توحید سے گمراہ کرتے تھے۔ ویوم القیمۃ لا ینصرون دنیا میں جن کے بل بوتے پر کفر و شرک کی تبلیغ کرتے رہے آخرت میں وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکیں گے اور نہ انہیں عذاب سے بچا سکیں گے۔ واتبعنہم فی ھذہ الدنیا الخ دنیا میں ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور ساری مخلوق کی لعنت اور پھٹکار کا نشانہ بنا دیا اور آخرت میں بھی وہ مطرود و ملعون ہوں گے۔