28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 28:80–81

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور بولے جن کو ملی تھی سمجھ اے خرابی تمہاری اللہ کا دیا ثواب بہتر ہے ان کے واسطے جو یقین لائے اور کام کیا بھلا اور یہ بات انہی کے دل میں پڑتی ہے جو سہنے والے ہیں

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پھر دھنسا دیا ہم نے اس کو76 اور اس کے گھر کو زمین میں پھر نہ ہوئی اس کی کوئی جماعت جو مدد کرتی اس کی اللہ کے سوائے اور نہ وہ خود مدد لاسکا

76:۔ قارون کی سرکشی اور اس کے عناد و استکبار اور انکار و جحود کی وجہ سے ہم نے اس کو اور اس کے عالیشان محلات کو خزائن دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ فما کان لہ من فئۃ الخ، دنیا میں ہزاروں افراد اس کی خدمت اور امداد و اعانت کرنے والے موجود تھے مگر عذاب خداوندی سے اسے کوئی بھی نہ بچا سکا۔ قارون کے بارے میں کئی بےسرو پا قصے مشہور ہیں جن میں سے کوئی بھی صحیح نہیں۔ مثلاً خزانے اس قدر زیادہ تھے کہ ان کی چابیاں ساٹھ یا چالیس خچریں اٹھا سکتی تھیں جب کہ ایک چابی صرف انگلی کی مقدار لمبی تھی اور اتنی ہلکی کہ چمڑے سے بنائی گئی تھی۔ اسی طرح جب وہ شان و شوکت سے نکلا تو اس کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں ستر ہزار پیادوں، چار ہزار گھوڑ سواروں اور تین سو لونڈیوں کا جلوس تھا۔ علی ہذا قارون اس وقت سے لے کر اب تک زمین میں دھنس رہا ہے اور قیامت تک دھنستا رہے گا وغیرہ وغیرہ یہ سب بےسند اور جھوٹے قصے ہیں۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں کہ فلکیات کے ماہرین کے مطابق زمین کے قطر کی مقدار معین ہے اس لیے یہ دھنسنے کا واقعہ اشکال سے خالی نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بصحۃ ذلک بل ھو مشکل ان صح ما قالہ الفلالسفۃ فی مقدار قطر الارض (روح ج 20 ص 123) ۔
Ayah 28:82

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور فجر کو لگے کہنے جو کل شام آرزو کرتے تھے77 اس کا سا درجہ ارے خرابی یہ تو اللہ کھول دیتا ہے روزی جس کو چاہے اپنے بندوں میں اور تنگ کردیتا ہے اگر نہ احسان کرتا ہم پر اللہ تو ہم کو بھی دھنسا دیتا اے خرابی یہ تو چھٹکارا نہیں پاتے منکر

77:۔ کل جن لوگوں نے قارون کی شان و شوکت دیکھ کر اس جیسی دولت اور شان کی تمنا کی تھی اب وہ اپنی باتوں پر ندامت کا اظہار کرنے لگے اور کہا دولت کی فراخی اور تنگی اللہ کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے دولتمند بنائے اور جسے چاہے تنگدست کرے اور اس کی حکمتیں بھی وہی جانتا ہے۔ اللہ کا شکر اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس قدر دولت نہیں دی ورنہ ہم بھی قارون کی طرح سرکش اور خدا کے نافرمان اور باغی ہوجاتے اور ہمارا بھی وہی حشر ہوتا جو قارون کا ہوا۔
Ayah 28:83

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

وہ گھر78 پچھلا ہے ہم دیں گے وہ ان لوگوں کو جو نہیں چاہتے اپنی بڑائی ملک میں اور نہ بگاڑ ڈالنا اور عاقبت بھلی ہے ڈرنے والوں کی

78:۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ شروع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا گیا اور بتایا گیا کہ انہوں نے دعوت توحید کی خاطر بہت مصائب اٹھائے اسی طرح اے پیغمبر آپ پر بھی اس دعوت کی وجہ سے مصائب آئیں گے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح آخر کامیابی آپ ہی کو ہوگی۔ اب سورت کے آخر میں چھ امور ایسے مذکور ہوں گے جن سے موسیٰ (علیہ السلام) اورحضور ﷺ کے درمیان مماثلت و مشابہت ظاہر ہوگی۔ یہ امر اول ہے موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر میں فرمایا، ان فرعون علا فی الارض الخ، جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون ایسے سرکش اور متمرد سے واسطہ پڑاحضور ﷺ کو بھی ایسے متمردین سے واسطہ پڑا۔ اس آیت میں بطور بشارت ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جو تمردو سرکشی نہیں کرتے یعنی آخرت کی راحت ایسے ہی لوگوں کو حاصل ہوگی لیکن متمردین کو المناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔
Ayah 28:84

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو لے کر آیا بھلائی79 اس کو ملنا ہے اس سے بہتر اور جو کوئی لے کر آیا برائی سو برائیاں کرنے والے ان کو وہی سزا ملے گی جو کچھ کرتے تھے

79:۔ یہ نیک لوگوں کے لیے بشارت اور بروں کے لیے تخویف ہے یعنی نیکی کا بدلہ تو اصل نیکی سے زیادہ دیا جائے گا لیکن برے کاموں کسی سزا ان کے مطابق ہوگی اس میں زیادتی نہ ہوگی۔
Ayah 28:85

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

جس نے80 حکم بھیجا تجھ پر قرآن کا وہ پھیر لانے والا ہے تجھ کو پہلی جگہ تو کہہ81 میرا رب جانتا ہے کون لایا ہے راہ کی سوجھ اور کون پڑا ہے صریح گمراہی میں

80:۔ یہ امر دوم ہے جو انا رادوہ الیک، پر متفرع ہے یا موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے مدین جانے اور وہاں سے واپس مصر آنے سے متعلق ہے۔ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خوف سے مدین کو ہجرت کر گئے لیکن ہم انہیں واپس مصر لائے اسی طرح آپ کو بھی اعزاز واکرم کے ساتھ مکہ واپس لاؤں گا۔ ابن عباس فرماتے ہیں مراد فتح مکہ ہے۔ فرض، کے معنی انزل کے ہیں۔ قال مقاتل انزلہ علیک وکذا قال افراء و ابو عبدیۃ وقال ابن عباس ایضا و مجاھد المعاد مکۃ واراد ردہ الیہا یوم الفتح (بحر ج 7 ص 136) گویا یہحضور ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ آپ مطمئن رہیں آخر آپ کے دشمن مغلوب ہوں گے اور آپ غالب ہوں گے۔ 81:۔ یہ امر سوم ہے جو وقال موسیٰ ربی اعلم بمن جاء بالہدی الخ پر متفرع ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے معاندانہ کلام کا جو جواب دیا تھاحضور ﷺ کو بھی وہی جواب دینے کا حکم دیا گیا۔
Ayah 28:86

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور تو82 توقع نہ رکھتا تھا کہ اتاری جائے تجھ پر کتاب مگر مہربانی سے تیرے رب کی سو تو مت ہو83 مددگار کافروں کا

82:۔ یہ امر چہارم ہے جو، وجاعلوہ من المرسلین، پر متفرع ہے۔ یہ امر ثانی کے لیے بمنزلہ دلیل ہے یعنی جس طرح آپ کو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ آپ پر اللہ کی وحی نازل ہوگی اور آپ منصب نبوت پر فائز ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنی رحمت سے آپ کو یہ منصب عطا فرمایا اسی طرح وہ محض اپنے فضل و احسان سے عزت و شان کے ساتھ مکہ میں داخل فرمائے گا۔ اس میں بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے مماثلت ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے جب انہیں بچپن میں صندوق میں بند کر کے دریا کی لہروں کے حوالے کردیا تھا اس وقت کسی کے زاویہ خیال میں بھی یہ بات نہ تھی کہ وہ پیغمبر ہوگا۔ علی ہذا جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے روانہ ہوئے اور راستے میں آگ دیکھی اور وہاں سے آگ لینے کے لیے گئے اس وقت انہیں خیال تک نہ تھا کہ میں منصب نبوت پر سرفراز ہونے والا ہوں۔ 83:۔ یہ امر پنجم ہے اور فلن اکون ظہیرا للمجرمین پر متفرع ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عہد کیا تھا کہ وہ مجرموں کا تعاون نہیں کریں گے یہاںحضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ بھی مشرکین سے تعاون اور موافقت نہ کریں۔ ولا یصدنک الخ، آپ نہ تو کسی معاملے میں کافروں کے معاون بنیں اور نہ ان کے کہنے سے اللہ کے قرآن کی تبلیغ سے رکیں جبکہ اللہ نے قرآن کی آیتیں تبلیغ کی خاطر آپ پر نازل فرما دیں۔ آپ اللہ کی توحید کی دعوت دئیے جائیں اور دین میں مشرکین سے ہرگز موافقت نہ کریں۔ یہ خطابات اگرچہ بظاہرحضور ﷺ سے ہیں کیونکہ قرآن کے مخاطب اول آپ ہی ہیں لیکن اس سے مراد آپ کی امت ہے۔ الی ربک میں مضاف مقدر ہے ای الی عبادتہ جل و علا وتوحیدہ سبحانہ (روح ج 20 ص 130) (الی ربک) الی معفتہ و توحیدہ (ولا تکونن من المشرکین) قال ابن عباس ؓ الخطاب فی الظاھر للنبی ﷺ والمراد بہ اھل دینہ ای لاتظاھروا الکفار ولا توافقوھم (معالم ج 5 ص 154) ۔
Ayahs 28:87–88

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور نہ ہو کہ تجھ کو روک دیں اللہ کے حکموں سے بعد اس کے اتر چکے تیری طرف اور بلا اپنے رب کی طرف اور مت ہو شریک والوں میں

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور مت پکار84 اللہ کے سوائے دوسرا حاکم کسی کی بندگی نہیں اس کے سوائے85 ہر چیز86 فنا ہے مگر اس کا منہ اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے

84:۔ یہ امر ششم ہے جو وھو اللہ لا الہ الا ھو الخ، پر متفرع ہے یہی وہ دعوت ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے پیش کی اور جس کی خاطر عمر بھر مصائب اٹھائے۔ یہ تمام سورت کے بیان کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ یہ خطاب بدستور امت سے ہے۔ سورت میں بیان کردہ دلائل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ خالق ومالک، متصرف و مختار اور عالم الغیب صرف اللہ ہی ہے۔ نفع نقصان اور منع وعطاء اسی کے اختیار میں ہے لہذا اللہ کے سوا کسی کو کارساز نہ سمجھو، مصائب و مشکلات اور حاجات و بلیات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارو۔ لا تتخذ غیرہ وکیلا علی امورک کلہا ولا تعتمد علی غیرہ (خازن ج 5 ص 155) ۔ ویجوز ان یکون المعنی لا تعمتد علی غیر اللہ ولا تتخذ غیرہ وکیلا فی امورک فان من وثق بغیر اللہ تعالیٰ فکانہ لم یکمل طریقہ فی التوحید (کبیر ج 6 ص 634) ۔ 85:۔ اللہ کے سوا حاجات میں مافوق الاسباب کسی اور کو مت پکارو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی کارساز، نافع و ضار اور مانع و معطی نہیں۔ اور اس کے سوا ہر چیز فانی ہے۔ لا الہ الا ھو ای لا نافع ولا ضار ولا معطی ولا مانع الا ھو کقولہ رب المشرق والمغرب لا الہ الا ھو فاتخذہ وکیلا۔ 86:۔ وجھہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہے۔ لفظ وجہ ذات باری تعالیٰ سے کنایہ یعنی اللہ کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاک اور فانی ہے۔ الا وجہہ ای الا ذاتہ عزو جل (روح) ومعنی الا وجہہ الا ایہ قالہ الزجاج (بحر ج 7 ص 137) ۔ لہ الحکم قضاء وقد اس کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے اس کے ارادہ و مشیت سے ہوتا ہے۔ اور قیامت کے دن تم سب جزاء وسزا کے لیے اسی کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے۔ جس طرح قضاء وقدر اس کے ہاتھ میں ہے اسی طرح قیامت کے دن فصل قضاء بھی اسی کے ہاتھ میں ہوگا اور وہاں کوئی دم بھی نہیں مار سکے گا۔ سورة القصص میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ قالتا لا نسقی حتی یصدر الرعاء الخ (رکوع 3) ۔ خاندان شعیب (علیہ السلام) پر یہ تنگی قوم نے محض توحید سے ضد کی بنا پر کر رکھی تھی۔ 2 ۔ تمشی علی استحیاء۔ عورت کو ہر حال میں شرم و حیاء سے رہنا چاہیے۔ 3 ۔ قال انی ارید ان انکحک الخ، دس سال موسیٰ (علیہ السلام) کو اس خدمت کے ذریعہ تربیت دی گئی تاکہ وہ آئندہ مصائب برداشت کرنے کے قابل ہوجائیں۔ 4 ۔ قال لاہلہ امکثوا۔۔ تا۔ لعلکم تصطلون۔ (رکوع 4) نفی علم غیب از موسیٰ علیہ السلام۔ 5 ۔ انی انا اللہ رب العلمین۔ سارے جہانوں کا پروردگار اور سارے عالم میں متصرف و مختار صرف اللہ ہی ہے۔ 6 ۔ فلما راھا تہتز۔ تا۔ انک من الامنین۔ نفی علم غیب از موسیٰ علیہ السلام۔ 7 ۔ وما کنت بجانب الغربی۔ تا۔ لعلہم یتذکرون (رکوع 7) نفی علم غیب و حاضر وناظر از نبی اکرم ﷺ 8 ۔ و یوم ینادیہم۔ تا۔ لوانہم کانوا یہتدون۔ (رکوع 5) نفی شرک فی التصرف۔ 9 ۔ وربک یخلق ما یشاء و یختار۔ تا۔ و لعلکم تشکرون۔ نفی شرک فی التصرف و شرک فی العلم۔ 10 ۔ ان الذی فرض علیک القران الخ۔ توحید کی خاطر مصائب برداشت کرنے کے بعد آخر غلبہ آپ ہی کو ملے گا۔ 11 ۔ وما کنت ترجوا ان یلقی الخ، نفی علم غیب از نبی کریم ﷺ ۔ اللہ تعالیٰ توحید کو ماننے کی توفیق دے تو مشرکین سے تعاون نہ کرنا چاہیے۔ 12 ۔ ولا تدع مع اللہ الھا اخر نفی شرک فی التصرف۔ سورة القصص ختم ہوئی