Ayahs 28:80–8176:۔ قارون کی سرکشی اور اس کے عناد و استکبار اور انکار و جحود کی وجہ سے ہم نے اس کو اور اس کے عالیشان محلات کو خزائن دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ فما کان لہ من فئۃ الخ، دنیا میں ہزاروں افراد اس کی خدمت اور امداد و اعانت کرنے والے موجود تھے مگر عذاب خداوندی سے اسے کوئی بھی نہ بچا سکا۔ قارون کے بارے میں کئی بےسرو پا قصے مشہور ہیں جن میں سے کوئی بھی صحیح نہیں۔ مثلاً خزانے اس قدر زیادہ تھے کہ ان کی چابیاں ساٹھ یا چالیس خچریں اٹھا سکتی تھیں جب کہ ایک چابی صرف انگلی کی مقدار لمبی تھی اور اتنی ہلکی کہ چمڑے سے بنائی گئی تھی۔ اسی طرح جب وہ شان و شوکت سے نکلا تو اس کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں ستر ہزار پیادوں، چار ہزار گھوڑ سواروں اور تین سو لونڈیوں کا جلوس تھا۔ علی ہذا قارون اس وقت سے لے کر اب تک زمین میں دھنس رہا ہے اور قیامت تک دھنستا رہے گا وغیرہ وغیرہ یہ سب بےسند اور جھوٹے قصے ہیں۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں کہ فلکیات کے ماہرین کے مطابق زمین کے قطر کی مقدار معین ہے اس لیے یہ دھنسنے کا واقعہ اشکال سے خالی نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بصحۃ ذلک بل ھو مشکل ان صح ما قالہ الفلالسفۃ فی مقدار قطر الارض (روح ج 20 ص 123) ۔
Ayah 28:8277:۔ کل جن لوگوں نے قارون کی شان و شوکت دیکھ کر اس جیسی دولت اور شان کی تمنا کی تھی اب وہ اپنی باتوں پر ندامت کا اظہار کرنے لگے اور کہا دولت کی فراخی اور تنگی اللہ کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے دولتمند بنائے اور جسے چاہے تنگدست کرے اور اس کی حکمتیں بھی وہی جانتا ہے۔ اللہ کا شکر اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس قدر دولت نہیں دی ورنہ ہم بھی قارون کی طرح سرکش اور خدا کے نافرمان اور باغی ہوجاتے اور ہمارا بھی وہی حشر ہوتا جو قارون کا ہوا۔
Ayah 28:8378:۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ شروع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا گیا اور بتایا گیا کہ انہوں نے دعوت توحید کی خاطر بہت مصائب اٹھائے اسی طرح اے پیغمبر آپ پر بھی اس دعوت کی وجہ سے مصائب آئیں گے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح آخر کامیابی آپ ہی کو ہوگی۔ اب سورت کے آخر میں چھ امور ایسے مذکور ہوں گے جن سے موسیٰ (علیہ السلام) اورحضور ﷺ کے درمیان مماثلت و مشابہت ظاہر ہوگی۔ یہ امر اول ہے موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر میں فرمایا، ان فرعون علا فی الارض الخ، جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون ایسے سرکش اور متمرد سے واسطہ پڑاحضور ﷺ کو بھی ایسے متمردین سے واسطہ پڑا۔ اس آیت میں بطور بشارت ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جو تمردو سرکشی نہیں کرتے یعنی آخرت کی راحت ایسے ہی لوگوں کو حاصل ہوگی لیکن متمردین کو المناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔
Ayah 28:8479:۔ یہ نیک لوگوں کے لیے بشارت اور بروں کے لیے تخویف ہے یعنی نیکی کا بدلہ تو اصل نیکی سے زیادہ دیا جائے گا لیکن برے کاموں کسی سزا ان کے مطابق ہوگی اس میں زیادتی نہ ہوگی۔
Ayah 28:8580:۔ یہ امر دوم ہے جو انا رادوہ الیک، پر متفرع ہے یا موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے مدین جانے اور وہاں سے واپس مصر آنے سے متعلق ہے۔ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خوف سے مدین کو ہجرت کر گئے لیکن ہم انہیں واپس مصر لائے اسی طرح آپ کو بھی اعزاز واکرم کے ساتھ مکہ واپس لاؤں گا۔ ابن عباس فرماتے ہیں مراد فتح مکہ ہے۔ فرض، کے معنی انزل کے ہیں۔ قال مقاتل انزلہ علیک وکذا قال افراء و ابو عبدیۃ وقال ابن عباس ایضا و مجاھد المعاد مکۃ واراد ردہ الیہا یوم الفتح (بحر ج 7 ص 136) گویا یہحضور ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ آپ مطمئن رہیں آخر آپ کے دشمن مغلوب ہوں گے اور آپ غالب ہوں گے۔
81:۔ یہ امر سوم ہے جو وقال موسیٰ ربی اعلم بمن جاء بالہدی الخ پر متفرع ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے معاندانہ کلام کا جو جواب دیا تھاحضور ﷺ کو بھی وہی جواب دینے کا حکم دیا گیا۔
Ayah 28:8682:۔ یہ امر چہارم ہے جو، وجاعلوہ من المرسلین، پر متفرع ہے۔ یہ امر ثانی کے لیے بمنزلہ دلیل ہے یعنی جس طرح آپ کو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ آپ پر اللہ کی وحی نازل ہوگی اور آپ منصب نبوت پر فائز ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنی رحمت سے آپ کو یہ منصب عطا فرمایا اسی طرح وہ محض اپنے فضل و احسان سے عزت و شان کے ساتھ مکہ میں داخل فرمائے گا۔ اس میں بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے مماثلت ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے جب انہیں بچپن میں صندوق میں بند کر کے دریا کی لہروں کے حوالے کردیا تھا اس وقت کسی کے زاویہ خیال میں بھی یہ بات نہ تھی کہ وہ پیغمبر ہوگا۔ علی ہذا جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے روانہ ہوئے اور راستے میں آگ دیکھی اور وہاں سے آگ لینے کے لیے گئے اس وقت انہیں خیال تک نہ تھا کہ میں منصب نبوت پر سرفراز ہونے والا ہوں۔
83:۔ یہ امر پنجم ہے اور فلن اکون ظہیرا للمجرمین پر متفرع ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عہد کیا تھا کہ وہ مجرموں کا تعاون نہیں کریں گے یہاںحضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ بھی مشرکین سے تعاون اور موافقت نہ کریں۔ ولا یصدنک الخ، آپ نہ تو کسی معاملے میں کافروں کے معاون بنیں اور نہ ان کے کہنے سے اللہ کے قرآن کی تبلیغ سے رکیں جبکہ اللہ نے قرآن کی آیتیں تبلیغ کی خاطر آپ پر نازل فرما دیں۔ آپ اللہ کی توحید کی دعوت دئیے جائیں اور دین میں مشرکین سے ہرگز موافقت نہ کریں۔ یہ خطابات اگرچہ بظاہرحضور ﷺ سے ہیں کیونکہ قرآن کے مخاطب اول آپ ہی ہیں لیکن اس سے مراد آپ کی امت ہے۔ الی ربک میں مضاف مقدر ہے ای الی عبادتہ جل و علا وتوحیدہ سبحانہ (روح ج 20 ص 130) (الی ربک) الی معفتہ و توحیدہ (ولا تکونن من المشرکین) قال ابن عباس ؓ الخطاب فی الظاھر للنبی ﷺ والمراد بہ اھل دینہ ای لاتظاھروا الکفار ولا توافقوھم (معالم ج 5 ص 154) ۔
Ayahs 28:87–8884:۔ یہ امر ششم ہے جو وھو اللہ لا الہ الا ھو الخ، پر متفرع ہے یہی وہ دعوت ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے پیش کی اور جس کی خاطر عمر بھر مصائب اٹھائے۔ یہ تمام سورت کے بیان کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ یہ خطاب بدستور امت سے ہے۔ سورت میں بیان کردہ دلائل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ خالق ومالک، متصرف و مختار اور عالم الغیب صرف اللہ ہی ہے۔ نفع نقصان اور منع وعطاء اسی کے اختیار میں ہے لہذا اللہ کے سوا کسی کو کارساز نہ سمجھو، مصائب و مشکلات اور حاجات و بلیات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارو۔ لا تتخذ غیرہ وکیلا علی امورک کلہا ولا تعتمد علی غیرہ (خازن ج 5 ص 155) ۔ ویجوز ان یکون المعنی لا تعمتد علی غیر اللہ ولا تتخذ غیرہ وکیلا فی امورک فان من وثق بغیر اللہ تعالیٰ فکانہ لم یکمل طریقہ فی التوحید (کبیر ج 6 ص 634) ۔
85:۔ اللہ کے سوا حاجات میں مافوق الاسباب کسی اور کو مت پکارو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی کارساز، نافع و ضار اور مانع و معطی نہیں۔ اور اس کے سوا ہر چیز فانی ہے۔ لا الہ الا ھو ای لا نافع ولا ضار ولا معطی ولا مانع الا ھو کقولہ رب المشرق والمغرب لا الہ الا ھو فاتخذہ وکیلا۔
86:۔ وجھہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہے۔ لفظ وجہ ذات باری تعالیٰ سے کنایہ یعنی اللہ کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاک اور فانی ہے۔ الا وجہہ ای الا ذاتہ عزو جل (روح) ومعنی الا وجہہ الا ایہ قالہ الزجاج (بحر ج 7 ص 137) ۔ لہ الحکم قضاء وقد اس کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے اس کے ارادہ و مشیت سے ہوتا ہے۔ اور قیامت کے دن تم سب جزاء وسزا کے لیے اسی کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے۔ جس طرح قضاء وقدر اس کے ہاتھ میں ہے اسی طرح قیامت کے دن فصل قضاء بھی اسی کے ہاتھ میں ہوگا اور وہاں کوئی دم بھی نہیں مار سکے گا۔
سورة القصص میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
1 ۔ قالتا لا نسقی حتی یصدر الرعاء الخ (رکوع 3) ۔ خاندان شعیب (علیہ السلام) پر یہ تنگی قوم نے محض توحید سے ضد کی بنا پر کر رکھی تھی۔
2 ۔ تمشی علی استحیاء۔ عورت کو ہر حال میں شرم و حیاء سے رہنا چاہیے۔
3 ۔ قال انی ارید ان انکحک الخ، دس سال موسیٰ (علیہ السلام) کو اس خدمت کے ذریعہ تربیت دی گئی تاکہ وہ آئندہ مصائب برداشت کرنے کے قابل ہوجائیں۔
4 ۔ قال لاہلہ امکثوا۔۔ تا۔ لعلکم تصطلون۔ (رکوع 4) نفی علم غیب از موسیٰ علیہ السلام۔
5 ۔ انی انا اللہ رب العلمین۔ سارے جہانوں کا پروردگار اور سارے عالم میں متصرف و مختار صرف اللہ ہی ہے۔
6 ۔ فلما راھا تہتز۔ تا۔ انک من الامنین۔ نفی علم غیب از موسیٰ علیہ السلام۔
7 ۔ وما کنت بجانب الغربی۔ تا۔ لعلہم یتذکرون (رکوع 7) نفی علم غیب و حاضر وناظر از نبی اکرم ﷺ
8 ۔ و یوم ینادیہم۔ تا۔ لوانہم کانوا یہتدون۔ (رکوع 5) نفی شرک فی التصرف۔
9 ۔ وربک یخلق ما یشاء و یختار۔ تا۔ و لعلکم تشکرون۔ نفی شرک فی التصرف و شرک فی العلم۔
10 ۔ ان الذی فرض علیک القران الخ۔ توحید کی خاطر مصائب برداشت کرنے کے بعد آخر غلبہ آپ ہی کو ملے گا۔
11 ۔ وما کنت ترجوا ان یلقی الخ، نفی علم غیب از نبی کریم ﷺ ۔ اللہ تعالیٰ توحید کو ماننے کی توفیق دے تو مشرکین سے تعاون نہ کرنا چاہیے۔
12 ۔ ولا تدع مع اللہ الھا اخر نفی شرک فی التصرف۔
سورة القصص ختم ہوئی