28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 28:41–43

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور کیا ہم نے ان پیشوا کہ بلاتے ہیں دوزخ کی طرف اور قیامت کے دن ان کو مدد نہ ملے گی

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور پیچھے رکھ دی ہم نے ان پر اس دنیا میں پھٹکار اور قیامت کے دن ان پر برائی ہے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب40 بعد اس کے کہ ہم غارت کرچکے پہلی جماعتوں کو سجھانے والی لوگوں کو اور راہ بتانے والی اور رحمت تاکہ وہ یاد رکھیں

40:۔ القرون الاولیٰ سے گذشتہ اقوام متمردہ مراد ہیں۔ ان اقوام کے پاس اللہ کے پیغمبر پیغام توحید لے کر آئے اور انہیں توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے دعوت توحید کو نہ مانا اور اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ان کو دنیا ہی میں عذاب سے ہلاک کردیا گیا۔ اب اسی دین کے احیا کی خاطر موسیٰ کو بھیجا اور اسے تورت دی جس کی ہر آیت میں نور بصیرت کا سامان تھا وہ سراپا ہدایت اور باعث رحمت تھی کیونکہ اس کی ہدایات پر عمل کرنے سے انسان اللہ کی رحمت کا مستحق ہوجاتا تھا۔ اس زمانے کی ضرورت کے مطابق تورات نازل کی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعوت توحید فرعون اور اس کی قوم کے سامنے پیش کی لیکن انہوں نے اس کا انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو غرق کردیا۔ اب چونکہ پھر ضرورت تھی کہ دین حق جو علماء یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں مسخ و محو ہوچکا ہے اسے از سر نو زندہ کیا جائے اس لیے اب محمد رسول اللہ ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا گیا جس میں یہی دعوی توحید پیش کیا گیا ہے جو موسیٰ اور ان سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی قوموں کے سامنے پیش کیا تھا اب اہل عرب اس دعوے کا انکار کریں گے تو ان پر بھی دنیا ہی میں اللہ کا عذاب آجائے گا۔ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے پیغمبروں کو اللہ نے غلبہ دیا اسی طرححضور ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ مشرکین پر غلبہ عطا فرمائے گا۔ اب اس کا تعلق ابتداء سورت یعنی تلک ایت الکتب المبین سے ظاہر ہوگیا۔ والتعرض لبیان کون ایتاء ھا بعد اھلاکھم للاشعار بانھا نزلت بعد مساس الحاجۃ الیھا تمہیدا لم ایعقبہ من بیان الحاجۃ الداعیۃ الی انزال القران الکریم علی رسول اللہ صلی اللہ عیہ وآلہ وسلم الخ (روح ج 20 ص 84) ۔
Ayah 28:44

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور تو نہ تھا41 غرب کی طرف جب ہم نے بھیجا موسیٰ کو حکم اور نہ تھا دیکھنے والا

41:۔ یہاں سے لعلھم یتذکرون تک آنحضرت ﷺ کی صداقت کا بیان ہے حاصل یہ ہے کہ آپ گذشتہ زمانے کے احوال ظاہری اسباب علم کے بغیر صحیح صحیح بیان فرما رہے ہیں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے وحی کے ذریعہ سے یہ ساری باتیں آپ کو بتائی ہیں۔ ان الوقوف علی ما فصل من الاحوال لایتسنی الا بالمشاھدۃ او التعلم ممن شاھدھا وحیث انتفی کلاھما تبین انہ بوح من علام الغیون لا محالۃ (ابو لسعود ج 6 ص 60) ۔ یعنی جب ہم نے کوہ طور کی غربی جانب موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اس وقت آپ وہاں موجود نہ تھے، اسی طرح جب موسیٰ (علیہ السلام) میقات خداوندی کے لیے ستر آدمی منتخب کر کے طور پر لے گئے تھے آپ ان میں بھی شامل نہ تھے۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب ہم موسیٰ کی طرف وحی کر رہے تھے اس وقت آپ وہاں موجود نہ تھے۔ ای من جملۃ الحاجرین للوحی الیہ او الشاھدین علی الوحی الیہ علیہ الصلوۃ والسالم وھم السبعون المختارون للمیقات (روح ج 86) ۔
Ayah 28:45

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

لیکن ہم نے پیدا کیں کئی جماعتیں42 پھر دراز ہوئی ان پر مدت اور تو نہ رہتا تھا43 مدین والوں میں کہ ان کو سناتا ہماری آیتیں پر ہم رہے ہیں رسول بھیجتے

42:۔ لیکن آپ کے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان تو ہم نے کئی قرن پیدا کیے اور صدیوں زمانہ گزر گیا اس کے بعد ہم نے آپ کو مبعوث فرمایا۔ اس طرح فتطاول علیہم العمر کے بعد فارسلناک مقدر ہے بقرینہ ولکنا کنا مرسلین۔ 43:۔ ثاویا ای مقیما اسی طرح آپ اہل مدین یعنی قوم شعیب (علیہ السلام) میں بھی موجود نہ تھے اور نہ ان پر ہماری آیتیں پڑھتے تھے۔ لیکن ہم نے آپ کو منصب رسالت عطا کیا اور ذریعہ وحی گذشتہ واقعات کی آپ کو خبر دی۔ ولکنا ارسلناک و اخبرناک بھا و علیمنا کہا (مدارک ج 3 ص 182) ۔
Ayah 28:46

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور تو نہ تھا44 طور کے کنارے جب ہم نے آواز دی لیکن یہ انعام ہے تیرے رب کا تاکہ تو ڈر سنا دے ان لوگوں کو جن کے پاس نہیں آیا کوئی ڈر سنانے والا تجھ سے پہلے تاکہ وہ یاد رکھیں

44:۔ جب کوہ طور کے دامن میں ہم نے موسیٰ کو آواز دی اس وقت بھی آپ وہاں موجود نہ تھے لیکن یہ آپ پر اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو منصب نبوت پر فائز کیا تاکہ آپ ایک ایسی قوم کو توحید کی دعوت دیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی داعی نہیں آیا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد زمان فترت میں، فی زمان الفترۃ بینک و بین عیسیٰ وھو خمسمائۃ وخمسون سنۃ (مدارک ج 3 ص 182) ۔
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور اتنی بات45 کے لیے کبھی آن پڑے ان پر آفت ان کاموں کی وجہ سے جن کو بھیج چکے ہیں ان کے ہاتھ تو کہنے لگیں اے رب ہمارے کیوں نہ بھیج دیا ہمارے پاس کسی کو پیغام دے کر تو ہم چلتے تیری باتوں پر اور ہوتے ایمان والوں میں

45:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ لَوْ کا جواب آخر میں مقدر ہے ای لما ارسلنا رسولا اور فیقولوا ان تصیبہم الخ پر متفرع ہے۔ مصیبۃ دنیوی عذاب۔ ما قدمت ایدیہم اعمال مشرکانہ یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی کہ جب ان پر کفر و شرک کی وجہ سے عذاب آجاتا تو کہتے اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا جس کی ہم پیروی کرتے اور اس پر ایمان لاتے تو ہم کسی رسول بنا کر نہ بھیجتے۔ حاصل یہ ہے کہ مشرکین کا عذر قطع کرنے کے لیے ہم نے آپ کو اور دوسرے رسولوں کو بھیجا۔ والمعنی لولا انھم قائلون اذ عوقبوا بما قدموا من الشرک والمعاصی ھلا ارسلت الینا رسولا محتجین بذلک علینا ارسلناک ہوگا۔ یا جواب مقدر لعذبناھم ہے۔ یعنی ہم نے آپ کے مبعوث ہونے سے پہلے ہی مشرکین مکہ کو ان کے شرک کی وجہ سے ہلاک اس لیے نہیں کیا تاکہ وہ مذکورہ بالا عذر پیش نہ کرسکیں۔ ورنہ کفر و شرک اور دیگر معاصی کی وجہ سے وہ اس لائق تھے کہ انہیں ہلاک کردیا جاتا۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔
Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب پہنچی46 ان کو ٹھیک بات ہمارے پاس سے کہنے لگے کیوں نہ ملا اس رسول کو جیسا ملا تھا موسیٰ کو کیا ابھی منکر نہیں ہوچکے اس سے جو موسیٰ کو ملا تھا اس سے پہلے کہنے لگے دونوں جادو ہیں آپس میں موافق اور کہنے لگے ہم دونوں کو نہیں مانتے

46:۔ یہ شکوی ہے۔ پھر جب رسول صادق ﷺ کے ذریعے اللہ کا قرآن ان کے پاس آگیا تو اب ایمان لانے کے بجائے ضد وعناد اور مجادلے پر اتر آئے اب کہتے ہیں یہ قرآن تورات کی طرح ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا یہ سوال کرنے والے یا تو یہودی تھے یا مشرکین نے یہودیوں کے ایماء پر سوال کیا تھا۔ اولم یکفروا الخ یہ جواب شکوی ہے یعنی ان کا سوال محض ازراہ تعنت وعناد ہے، طلب حق کے لیے نہیں کیونکہ وہ اس سے پہلے تورات کا بھی انکار کرچکے ہیں۔ تورات اور قرآن کے بارے میں وہ کہتے ہیں، سحران تظاھرا، یہ دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی تصدیق وتائید کرتے ہیں۔ ایک قراءت میں ساحران ہے تو اس سے ان کا شارہ حضرت رسول اکرم اور موسیٰ (علیہما السلام) کی طرف ہوگا۔ وانا بکل کفرون الخ، چونکہ یہ دونوں کتابیں جادو ہیں اور ان کے لانے والے جادوگر ہیں (عیاذا باللہ) اس لیے ہم دونوں ہی کو نہیں مانتے۔
Ayah 28:49

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

تو کہہ اب تم لاؤ47 کوئی کتاب اللہ کے پاس کی جو ان دونوں سے بہتر ہو کہ میں اس پر چلوں، اگر تم سچے ہو

47:۔ اگر قرآن اور تورات جادو کی کتابیں اور تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو تم اللہ کی طرف سے کوئی اور کتاب لا کر ہمیں دیدو جو ان دونوں سے زیادہ رشد و ہدایت پر مشتمل ہو۔ فان لم یستجیبوا لک الخ، اگر تم ان سے بہتر کوئی کتاب نہ لاسکو اور نہ ان کی پیروی کرو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم محض ضد وعناد کی وجہ سے اعتراض کر رہے ہو اور اپنی خواہشات نفسانیہ کے غلام ہو۔ اس طرح یہ آیت سحران تظاھرا سے متعلق ہوگی۔ یا یہ آیت، تلک ایت الکتب المبین، اور، ولقد ایتنا موسیٰ الکتب الخ، سے متعلق ہے یعنی قرا ان رشد و ہدایت کی واضح اور بین کتاب ہے اور تورات بھی نور بصیرت اور ہدایت ور حمت کا سرچشمہ تھی اگر تمہارے خیال میں یہ دونوں کتابیں اللہ کی طرف سے نہیں ہیں تو تم ان سے کوئی بہتر کتاب اللہ کی طرف سے لے آؤ، ومن اضل حقیقت یہ ہے کہ تم طالب ہدایت نہیں بلکہ خواہشات نفس کے غلام ہو اور جو شخص محض خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے حق کو نہ مانے اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں ہوتا اور پھر ایسے ضدی اور معاند لوگوں کے دلوں پر مہر جباریت لگ جاتی ہے اس لیے انہیں ہدایت قبول کرنے کی توفیق ہی نہیں ملتی۔
Ayahs 28:50–51

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر نہ کر لائیں تیرا کہا تو جان لے کہ وہ چلتے ہیں نِری اپنی خواہشوں اور اس سے گمراہ زیادہ کون جو چلے اپنی خواہش پر بدون راہ بتلائے اللہ کے بیشک اللہ راہ نہیں دیتا بےانصاف لوگوں کو

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم پے درپے بھیجتے رہے ہیں48 ان کو اپنے کلام تاکہ وہ دھیان میں لائیں

48:۔ یہ ترغیب الی القرآن ہے۔ ہم نے کفار مکہ کے پاس پے بہ پے اور مسلسل آیات بھیجیں اور مسئلہ توحید کو ہر طرح واضح کیا تاکہ وہ سمجھیں اور مانیں لیکن اگر اس کے باوجود بھی وہ نہیں مانتے تو نہ مانیں جن کو اللہ نے توفیق دی ہے وہ تو مان ہی لیں گے۔
Ayah 28:52

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن کو ہم نے دی ہے کتاب49 اس سے پہلے وہ اس پر یقین کرتے ہیں

49:۔ یہ پہلی کتابوں کے علماء سے نقلی دلیل ہے۔ علماء اہل کتاب میں جو انصاف پسند اور خدا ترس ہیں وہ تو اس قرآن پر ایمان لا چکے ہیں اور اس پر کما حقہ عمل بھی کرتے ہیں جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا یتلونہ حق تلاوتہ اولئک یومنون بہ (بقرہ رکوع 14) ۔
Ayah 28:53

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب ان کو سنائے50 تو کہیں ہم یقین لائے اس پر، یہی ہے ٹھیک ہمارے رب کا بھیجا ہوا، ہم ہیں اس سے پہلے کہ حکم بردار

50:۔ یہ مومنین اہل کتاب کے اوساف ہیں۔ جب وہ قرآن حکیم کی آیتیں سنتے ہیں تو بےاختیار بول اٹھتے ہیں آمنا و صدقنا یہ قرآن سراپا حق ہے اور ہمارے رب کا کلام ہے ہم تو اس کے نزول سے پہلے ہی اللہ کی توحید پر قائم تھے اور محمد ﷺ اور ان پر نازل ہونے والی وحی پر ایمان لا چکے تھے۔ ہماری کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے۔ ای من قبل القران مسلمین مخلصین للہ بالتوحید مومنین بمحمد ﷺ انہ نبی حق (معالم ج 5 ص 147) ۔ انا کنا من قبلہ مسلمین لما شاھدوا ذکرہ فی الکتب المتقدمۃ وانھم علی دین الاسلام قبل نزول القران (روح ج 20 ص 94) ۔
Ayah 28:54

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

وہ لوگ پائیں گے اپنا ثواب51 دوہرا اس بات پر کہ قائم رہے اور بھلائی کرتے ہیں برائی کے جواب میں اور ہمارا دیا ہوا کچھ خرچ کرتے رہتے ہیں

ٖف 51:۔ ان لوگوں کو دوہرا اجر وثواب ملے گا کیونکہ پہلے وہ اپنی کتاب پر ایمان لائے اور پھر قرآن پر ایمان لائے۔ بما صبروا، اپنے دونوں ایمانوں پر قائم رہے اور دشمنوں کی ایذاؤں پر صبر کیا۔ ویدرءون بالحسنۃ السیئۃ الخ، گناہوں سے بچ کر اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں یا مشرکین کی تکلیف و ایذاء کا حلم و عفو سے جواب دیتے ہیں۔ یدفعون بالطاعۃ المعصیۃ و بالحلم الاذی (مدارک ج 3 ص 184) ۔
Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب سنیں52 نکمی باتیں اس سے کنارہ کریں اور کہیں ہم کو ہمارے کام اور تم کو تمہارے کام سلامت رہو ہم کو نہیں چاہیں بےسمجھ لوگ

52:۔ ہر بری اور فضول بات یا شرک جیسا کہ امام ضحاک نے فرمایا ہے (روح) یعنی جب وہ مشرکین سے لغو، بیہودہ اور مشرکانہ باتیں سنتے ہیں تو ان سے منہ موڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں تم ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں اور تم اپنے اعمال کے جواب دہ ہو، تمہیں سلام ہے ہم تم ایسے نادانوں کے پاس بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے۔ یہ سلام متارکہ ہے نہ کہ سلام تحیہ، قال الزجاج سلام المتارکۃ لا سلام تحیۃ (بحر ج 7 ص 126)
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

تو راہ پر نہیں لاتا53 جس کو چاہے پر اللہ راہ پر لائے جس کو چاہے اور وہ ہی خوب جانتا ہے جو راہ پر آئیں گے

ٖ 53:۔ یہ ولقد وصلنا لھم القول الخ سے متعلق ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب آیاتو حضور ﷺ نے بڑی کوشش کی کہ وہ اسلام لے آئے مگر آپ کی آرزو پوری نہ ہوسکی جس سے آپ کو سخت غم لاحق ہوا اس پر یہ آیت نازل ہوئی (بخاری، مسلم، نسائی، ترمذی، احمد وغیرہم رحمہم اللہ تعالی) ۔ یعنی ہم نے اہل مکہ کی راہنمائی کے لیے مسلسل آیتیں نازل کی اور نصائح بھیجے اور آپ نے بھی دعوت و ارشاد میں کوئی قصور نہیں کیا لیکن ہدایت تو اللہ کے اختیار میں ہے، اس لیے اگر بعض مشرکین آپ کی انتہائی ناصحانہ تبلیغ اور مشفقانہ دعوت اور ان سے قلبی محبت و انس کے باوجود ایمان نہیں لائے تو اس پر آپ غم نہ کریں۔ کیونکہ یہ معاملہ آپ کے اختیار سے باہر ہے۔ جن کی قسمت میں ہدایت لکھی ہے وہ اللہ کو معلوم ہیں اور صرف انہی کو ہدایت حاصل ہوگی۔ مساق الایۃ لتسلیتہ ﷺ حیث لم ینجع فی قومہ الذین یحبھم ویحرص علیھم اشد الحرص انذارہ (علیہ الصلوۃ والسلام) ایاھم (روح ج 20 ص 96) ۔
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور کہنے لگے54 اگر ہم راہ پر آئیں تیرے ساتھ اچک لیے جائیں اپنے ملک سے کیا ہم نے جگہ نہیں دی ان کو حرمت والے پناہ کے مکان میں کھینچے لے آتے ہیں اس کی طرف میوے ہر چیز کے روزی ہماری طرف سے پر بہت ان میں سمجھ نہیں رکھتے

ٖ 54:۔ یہ دوسرا شکوی ہے۔ بعض مشرکین نےحضور ﷺ سے آ کر کہا ہم جانتے ہیں کہ آپ رسول برحق ہیں لیکن بات یہ ہے کہ ہم سارے عرب کی مخالفت کی تاب نہیں رکھتے اگر آپ کو مان لیں تو سارا عرب ہم پر ٹوٹ پڑے اور ہمیں اپنے وطن سے نکال کر بےوطن کردے۔ اولم نمکن لہم الخ، یہ جواب شکوی ہے یعنی ان کا یہ خدشہ بےاصل ہے کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے انہیں حرم پاک میں جگہ دے رکھی ہے جو امن و سلامتی کا گھر ہے یہاں کے رہنے والوں پر کوئی دست ستم دراز نہیں کرسکتا۔ اور مزید برآن یہ کہ ہر جانب سے ہر قسم کے میوے اور پھل یہاں کھنچے چلے آرہے ہیں لیکن اکثر لوگ اس میں غور نہیں کرتے۔ حاصل یہ ہے کہ اب وہ شرک کرتے ہیں مگر اس کے باوجود حرم کی برکت سے امن میں ہیں اور آرام و راحت سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور اگر وہ ایمان لے آئیں تو حرمت مقام کے ساتھ حرمت ایمان بھی حاصل ہوجائے گی جس کی وجہ سے وہ پہلے سے بھی زیادہ مومن و محفوظ ہوجائیں گے۔ حاصل الرد انہ لا وجہ لخوف من التخطف ان امنوا فانھم لا یخافون منہ وھم عبدۃ اصنام صیف یخافون اذا امنوا و ضموا حرمۃ الایمان الی حرمۃ المقام (روح ج 20 ص 97) ۔
Ayah 28:58

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور کتنی غارت کردیں ہم نے55 بستیاں جو اترا چلی تھیں اپنی گزران میں اب یہ ہیں ان کے گھر آباد نہیں ہوئے ان کے پیچھے مگر تھوڑے اور ہم ہیں آخر کو سب کچھ لینے والے

55:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ بہت سے لوگ پہلے گذر چکے ہیں جو اہل مکہ کی طرح عیش و آرام کی زندگی بسر کرتے تھے۔ وہ اس امن و چین کی وجہ سے غرور میں آگئے اور اکڑ گئے اور ہماری نعمتوں کا شکر نہ کیا بلکہ اللہ کا رزق کھا کر اور اس کی نعمتیں استعمال کر کے اس کی توحید کا انکار کیا اور غیر اللہ کو اللہ کا شریک بنایا۔ ای اشرت و طغت قال عطاء عاشوا فی البطر فاکلوا رزق اللہ و عبدوا الاصنام (معالم و خازن ج 5 ص 148) ۔ تو ہم نے ان کو تباہ و برباد کردیا۔ دیکھ لو یہ ان کی بستیاں ابھی تک ویران اور غیر آباد پڑی ہیں۔ قریۃ سے اہل قریہ مراد ہیں۔
Ayah 28:59

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور تیرا رب نہیں56 غارت کرنے والا بستیوں کو جب تک نہ بھیج لے ان کی بڑی بستی میں کسی کو پیغام دے کر جو سنائے ان کو ہماری باتیں اور ہم ہرگز نہیں غارت کرنے والے بستیوں کو، مگر جب کہ وہاں کے لوگ گناہ گار ہوں

56:۔ ہماری سنت جاریہ یہ ہے کہ جب تک ہم مرکزی شہر میں اپنا رسول بھیج کر اس علاقے کی بستیوں تک اپنا پیغام نہ پہنچا دیں اور جب تک وہ لوگ ہماری آیتوں کا انکار نہ کریں اس وقت تک ہم ان کو ہلاک نہیں کرتے۔ اے اہل مکہ ! اب تمہاری ہلاکت کا وقت قریب آپہنچا ہے کیونکہ تم میں ہمارا رسول بھی آچکا جس نے کما حقہ ہمارا پیغام تمہیں پہنچا دیا اور تم اس کا انکار بھی کرچکے۔
Ayah 28:60

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو تم کو ملی ہے کوئی چیز سو57 فائدہ اٹھالینا ہے دنیا کی زندگی میں اور یہاں کی رونق ہے اور جو اللہ کے پاس ہے سو بہتر ہے اور باقی رہنے والا، کیا تم کو سمجھ نہیں

57:۔ یہ ترغیب الی الایمان ہے۔ یعنی آؤ مان لو اور ایمان لے آؤ اور دنیا کی عیش و راحت پر مغرور نہ رہو۔ کیونکہ یہ دولت اور یہ ساز و سامان چند روزہ اور حیات مستعار کی زینت و آرائش ہے اسے بقاء و دوام نہیں لیکن ایمان لانے کی صورت میں جو اجر وثواب ملے گا وہ اس دنیوی دولت سے ہزار درجہ بہتر ہوگا اور ابدی و دائمی بھی ہوگا۔ افلا تعقلون، کیا تم اتنا بھی نہیں سوچ سکتے کہ ان دونوں میں سے کونسا سودا نفع آور اور کونسا خسارے کا ہے۔
Ayah 28:61

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا ایک شخص جس سے ہم نے وعدہ کیا ہے اچھا وعدہ58 سو وہ اس کو پانے والا ہے برابر ہے اس کے جس کو ہم نے فائدہ دیا دنیا کی زندگانی کا پھر وہ قیامت کے دن پکڑا ہوا آیا

ف 58:۔ استفہام انکاری ہے۔ ایک وہ مومن ہے جس سے اللہ نے جنت اور نعیم دائم کا وعدہ فرمایا ہے اور لا محالہ وعدے کے مطابق اسے سب کچھ ملنے والا ہے اور ایک وہ مشرک ہے جو دولت ایمان سے محروم ہے لیکن دنیوی ساز و سامان اور دولت و ثروت سے مالا مال ہے اور آخر قیامت کے دن عذاب جہنم میں مبتلا ہونے والا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔
Ayah 28:62

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس دن ان کو پکارے گا59 تو کہے گا کہاں ہیں میرے شریک جن کا تم دعویٰ کرتے تھے

59:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ شرکاء سے وہ تمام معبودان غیر اللہ مراد ہیں جن کو مشرکین کارساز اور شفیع سمجھ کر پکارتے ہیں خواہ وہ جن ہوں یا انسان ہوں یا فرشتے۔ المراد بالشرکاء من عبد من دون اللہ تعالیٰ من ملک او جن او انس او کو کب او صنم او غیر ذلک (روح ج 20 ص 100، بحر ج 7 ص 128) ۔ قیامت کے دن مشرکین کی حسرت ویاس میں اضافہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ ان سے سوال کرے گا آج وہ تمہارے معبود کہاں ہیں جنہیں تم دنیا میں حاجت روا اور کارساز سمجاھ کرتے تھے اور جن کے بارے میں تمہارا عقیدہ تھا کہ وہ خدا کے یہاں تمہارے سفارشی ہیں۔ آج وہ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے اور تمہیں میرے عذاب سے کیوں نہیں چھڑاتے ؟ این ما کنتم تعبدونہ و تجعلونہ شریکا فی العبادۃ و تزعمون انہ یشفع این ھو لینصرکموی خلصکم من ھذا الذی نزل بکم (کبیر ج 6 ص 622) ۔
Ayah 28:63

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

بولے جن پر ثابت ہوچکی بات60 اے رب یہ لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکایا ان کو بہکایا جیسے ہم آپ بہکے ہم منکر ہوئے تیرے آگے وہ ہم کو نہ پوجتے تھے

60:۔ موصول سے کفر و شرک کے امام اور پیشوا مراد ہیں یعنی مشرک پیر جو دوسروں کو کفر و شرک اور باطل کی راہ پر چلاتے ہیں اور ھؤلاء سے ان کے مشرک پیرو اور متبع مراد ہیں۔ کما اغوینا ما قبل کے لیے بمنزلہ علت ہے الذین حق علیہم القول ای الشیاطین وائمۃ الکفر و ؤسہ (بحر) ۔ یعنی ہم چونکہ خود گمراہ تھے اس لیے ہم نے ان کو بھی گمراہ کردیا۔ انہیں معلوم تھا کہ ہم گمراہ ہیں اس لیے یہ ہمارے پیچھے کیوں چلے۔ لہذا اے ہمارے پروردگار ہم ان سے بری الذمہ ہیں۔ ماکانوا ایانا یعبدون، یہ لوگ ہماری پیروی اور اطاعت کر کے گمراہ نہیں ہوئے بلکہ یہ تو انی ہی خواہشات نفسانیہ کے بندے تھے اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ کر گمراہ ہوئے۔ بل یعبدون اھواءھم ویطیعون شھواتھم (مدارک ج 3 ص 186) ۔
Ayah 28:64

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور کہیں گے پکارو اپنے شریکوں کو61 پھر پکاریں گے ان کو تو وہ جواب نہ دیں گے ان کو اور دیکھیں گے عذاب کسی طرح وہ راہ پائے ہوئے ہوتے

ٖ 61:۔ انہیں پھر کہا جاوے گا جن معبودوں کو کارساز اور سفارشی سمجھتے تھے آج انہیں مدد کے لیے پکارو۔ چناچہ وہ پکاریں گے مگر کہیں سے کوئی جواب نہیں آئے گا۔ اب عذاب جہنم ان کے سامنے ہوگا اور حسرت و تاسف سے کہیں گے کاش ! وہ دنیا میں ہدایت قبول کرلیتے تو آج اس حسرت وندامت اور اس المناک عذاب سے دوچار نہ ہونا پڑتا۔ لَوْ شرطیہ ہے اور اس کا جواب لما راوا العذاب محذوف ہے (روح) یا لَوْ تمنی کیلئے ہے اس صورت میں جواب کی ضرورت نہیں اور لَوْ سے پہلے فعل تمنا مقدر ہوگا ای تمنوا لو انہم کانوا مہتدین فلا یحتاج الی الجواب (روح ج 20 ص 102) ۔
Ayah 28:65

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس دن ان کو پکارے گا62 تو فرمائے گا کیا جواب دیا تھا تم نے پیغام پہنچانے والوں کو

62:۔ قیامت کے دن مشرکین سے یہ سوال بھی ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں اللہ کے رسولوں کو کیا جواب دیا اور ان سے کس طرح پیش آئے جو انہیں شرک سے روکتے اور توحید کی دعوت دیتے تھے۔ فعمیت علیہم الانباء الخ، دہشت اور ہیبت کی وجہ سے انہیں سب کچھ بھول جائے گا اور وہ ایک دوسرے سے پوچھ کر بھی کوئی جواب نہ دے سکیں گے۔
Ayahs 28:66–67

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

پھر بند ہوجائیں گی ان پر باتیں اس دن سو وہ آپس میں بھی نہ پوچھیں گے

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

سو جس نے کہ توبہ کی63 اور یقین لایا اور عمل کیے اچھے سو امید ہے کہ ہو چھوٹنے والوں میں

63:۔ یہ مومنوں کے لیے بشارت ہے جن لوگوں نے شرک سے توبہ کی اور توحید و رسالت پر ایمان لائے اور نیک کام کیے ایسے لوگ آخرت میں کامیاب ہوں گے۔
Ayah 28:68

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور تیرا رب64 پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند کرے جس کو چاہے ان کے ہاتھ میں نہیں پسند کرنا اللہ نرالا ہے اور بہت اوپر ہے اس چیز سے کہ شریک بتلاتے ہیں

ٖ 64:۔ یہاں سے لے کر ولعلکم تشکرون تک وہی دعوی دلائل عقلیہ سے ثابت کیا گیا ہے جس کی تبلیغ و اشاعت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عمر بھر مصائب برداشت کیے اور جسے فرعون نے رد کیا اور مقابلے میں ما علمت لکم من الہ غیری کا دعوی کیا اور جس دعوے کی تبلیغ کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجا گیا اور مشرکین مکہ نے اس کا انکار کیا۔ وہ دعوی یہ تھی وھو اللہ لا الہ الا ھو الخ یعنی غائبانہ حاجات میں پکارنے کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہے اور کوئی نہیں۔ وربک یخلق الخ، یہ دعوی مذکورہ پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ یعنی ساری کائنات کا خالق اور سارے جہاں میں متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کی مخلوق میں سے کوئی مختار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اختیار و تصرف میں اس کا مزاحم ہو اور وہ مشرکین کے شرک سے برتر اور منزہ ہے۔ ای تنزہ بذاتہ تنزھا خاصا بہ من اینازعہ احدا ویزاحمہ اختیارہ (ابو لاسعود ج 6 ص 670) ۔
Ayah 28:69

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور تیرا رب جانتا ہے65 جو چھپ رہا ہے ان کے سینوں میں اور جو کچھ کہ ظاہر میں کرتے ہیں

65:۔ یہ دعوی توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی عالم الغہب ہے اور کوئی نہیں۔ وھو اللہ لا الہ الا ھو الخ یہ مذکورہ دونوں دلیلوں کا ثمرہ ہے یعنی جب متصرف و مختار بھی وہی ہے اور عالم الغیب بھی تو لا محالہ حاجات و مشکلات میں پکار کے لائق بھی وہی ہے۔ لہ الحمد فی الاولی الخ دنیا اور آخرت میں صفت کارسازی کا مالک وہی ہے اور کوئی نہیں، دنیا میں بھی وہی کارساز ہے اور آخرت میں بھی مذکورہ بالا دونوں دلیلوں کے درمیان علت و معلول کا رشتہ ہے۔ پہلی دلیل دوسری کے لیے علت ہے یعنی جب سب کچھ کرنے والا وہی ہے تو سب کچھ جاننے والا بھی وہی ہے۔ ثبوت دعوی کا مدار چونکہ امر اول (پہلی دلیل) پر ہے اس لیے اگلی تین دلیلوں سے اسی کو ثابت کیا ہے۔ ولہ الحکم الخ غائبانہ حکم یعنی قضا و قدر کا فیصلہ بھی اسی کے اختیار میں ہے اور اس کے سوا کسی کا اس میں دخل نہیں۔ برکات دہندہ اور حاجت روائی کا فیصلہ اسی کے قبضہ میں ہے۔
Ayahs 28:70–71

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور وہی اللہ ہے کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا اسی کی تعریف ہے دنیا اور آخرت میں اور اسی کے ہاتھ حکم ہے اور اسی کے پاس پھیرے جاؤ گے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو66 اگر اللہ رکھ دے تم پر رات ہمیشہ کو قیامت کے دن تک کون حاکم ہے اللہ کے سوائے کہ لائے تم کو کہیں سے روشنی پھر کیا سنتے نہیں

66:۔ یہ تیسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ یعنی یہ بات تم بھی جانتے اور مانتے ہو کہ دن رات اللہ کے قبضے میں ہیں۔ اگر وہ چاہے کہ قیامت تک رات ہی رہے اور دن کبھی نہ آئے تو کیا تمہارے معبودوں میں اللہ کے سوا کوئی ایسا کارساز ہے جو تمہیں دن کی روشنی مہیا کرسکے۔ قل ارایتم ان جعل اللہ علیکم النہار الخ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم، اسی طرح اگر وہ قیامت تک دن کو طویل کردے تو آرام و راحت کے لیے اللہ کے سوا کوئی رات لاسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ افلا تبصرون۔ کیا تم عقل و بصیرت سے کام نہیں لیتے ہو اور ان دلائل میں غور و فکر کر کے اللہ کی توحید کو نہیں مانتے ہو۔
Ayahs 28:72–73

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو اگر رکھ دے اللہ تم پر دن ہمیشہ کو قیامت کے دن تک کون حاکم ہے اللہ کے سوائے کہ لائے تم کو رات جس میں آرام کرو پھر کیا تم نہیں دیکھتے

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے67 بنا دئیے تمہارے واسطے رات اور دن کہ اس میں چین بھی کرو اور تلاش بھی کرو کچھ اس کا فضل اور تاکہ تم شکر کرو

67:۔ یہ پانچویں عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن کا سلسلہ بنایا ہے رات کو تم آرام کرتے ہو اور دن کو معاش طلب کرتے ہو۔ یہ دن رات بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جس کا شکر اس کے بندوں پر واجب ہے۔ اللہ کیساتھ شرک کرنا اور معبودانِ باطلہ کو کارساز سمجھنا اللہ کی سب سے بڑی ناشکری ہے۔
Ayah 28:74

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن ان کو پکارے گا68 تو فرمائے گا کہاں ہیں میرے شریک جن کا دعویٰ تم کرتے تھے

68:۔ یہ تخویف اخروی ہے قیامت کے دن مشرکین سے سوال ہوگا وہ میرے شریک کہاں ہیں ؟ جنہیں تم میرے سوا کارساز اور سفارشی سمجھتے تھے۔ آج وہ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے۔ یہ آیت نیک پیروں کے حق میں ہے جنہیں بعد کے لوگوں نے کارساز سمجھ کر حاجات میں غائبانہ پکارنا شروع کردیا۔
Ayah 28:75

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

جدا کریں گے ہم69 ہر فرقہ میں سے ایک احوال بتلانے والاف 70 پھر کہیں گے لاؤ اپنی سند تب جان لیں گے کہ سچ بات ہے اللہ کی اور کھوئی جائیں گی ان سے جو باتیں وہ جوڑتے تھے

69:۔ شہیدًا سے ہر امت کا نبی مراد ہے جو اپنی امت کے بارے میں بیان دے گا کہ اس نے اپنی امت کو دعوت پہنچا دی اور جب اس نے اپنی امت کو توحید کی دعوت دی امت نے کیا جواب دیا۔ یعنی نبی ہم لان الانبیاء للامم شہداء علیہم یشہدون بما کانوا علیہ (مدارک ج 3 ص 187) ۔ والشہید یشہد علی تلک المۃ بما صدر منہا وما اجابت بہ لما دعیت الی التوحید وانہ قد بلغہم رسالۃ ربہم (بحر ج 7 ص 131) ۔ ٖ 70:۔ مشرکین کو حکم ہوگا دنیا میں تم جو کچھ کفر و شرک تم کرتے رہے اس کی صحت پر کوئی دلیل یا اپنے جرائم و معاصی کے لیے کوئی عذر ہو تو پیش کرو۔ لیکن ان کے پاس نہ کوئی دلیل ہوگی نہ عذر اس لیے اب انہیں عین الیقین حاصل ہوجائے گا کہ الوہیت اور کارسازی کا حق تو اللہ تعالیٰ ہی کو تھا ہم بلا دلیل غیروں کو کارساز سمجھتے رہے۔ ان الحق للہ فی الالوھیۃ لا یشار کہ سبحانہ فیھا احد (روح ج 20 ص 109) ۔ غیر اللہ کو کارساز اور سفارشی سمجھنے کے من گھڑت خیال کا آخرت میں کوئی فائدہ نہ ہوگا اور ان کی تمام آرزوئیں باطل ہو کر رہ جائیں گی۔ ماکانوا یفترون من الوھیۃ غیر اللہ والشفاعۃ لھم (مدارک) ۔
Ayah 28:76

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

قارون جو تھا71 سو موسیٰ کی قوم سے پھر شرارت کرنے لگا ان پر اور ہم نے دیے تھے اس کو خزانے اتنے کہ اس کی کنجیاں اٹھانے سے تھک جاتے کئی مرد زور آور جب کہا اس کو اس کی قوم نے اترا مت اللہ کو نہیں بھاتے اترانے والے

ٖ 71:۔ یہ تخویف دنیوی ہے اور وما اوتیتم من شیء الخ سے متعلق ہے۔ دنیا کی ناپائیداری کا حال دیکھ لو۔ قارون کے پاس کس قدر دولت تھی مگر اس نے دولت میں اللہ کا حق ادا نہ کیا۔ اور کفر و شرک کرتا رہا اس لیے دولت کے ساتھ تباہ و ربرباد کردیا گیا۔ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے والد عمران اور قارون کا والد یصہر دونوں حقیقی بھائی تھے جو قاہث بن لادی بن یعقوب کے بیٹے تھے (روح) قارون منافق تھا اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ دریا سے پار ہوگیا ولم یکن فی بنی اسرائیل اقرا منہ للتوارۃ ولکنہ نافق کما نافق السامری (خازن ج 5 ص 150) ۔ وہ کثرت مال کی وجہ سے دوسرے اسرائیلیوں پر ظلم و زیادتی کرتا تھا۔ مفاتح سے مراد خزانے ہیں نہ کہ کنجیاں جیسا کہ حضرت ابن عباس اور دوسرے مفسرین نے کہا ہے قال السدی ای خزائنہ و فی معناہ قول الضحاک ای ظروفہ و اوعیتہ وروی نوح ذلک عن ابن عباس والحسن (روح ج 3 ص 110) ۔ اور ( علیہ السلام) سبۃ تین سے دس آدمیوں تک کی جماععت کو کہتے ہیں۔ یعنی ہم نے اسے اس قدر دولت دی تھی کہ اس کے خزانوں کو طاقتور آدمیوں کی جماعت بڑی مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔ اذ، قال الخ کے متعلق ہے یا اس کا متعلق مھذوف ہے ای اظہر التفاخر والفرح (روح) ۔
Ayah 28:77

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو تجھ کو72 اللہ نے دیا ہے اس سے کما لے پچھلا گھر اور نہ بھول اپنا حصہ دنیا سے اور بھلائی کر جیسے اللہ نے بھلائی کی تجھ سے اور مت چاہ خرابی ڈالنی ملک میں اللہ کو بھاتے نہیں خرابی ڈالنے والے

72:۔ قوم کے لوگوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی اور اس سے کہا اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں دولت دی ہے اس میں اللہ کا حق ادا کر کے اور اسے اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کر کے سامان آخرت تیار کر اور دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھا۔ جس طرح اللہ نے تجھ پر احسان فرمایا ہے اور تجھے دولت عطا فمرائی ہے اسی طرح تو اللہ کے بندوں پر احسان اور دولت کے بل پر زمین میں شر و فساد بپا مت کر کیونکہ اللہ تعالیٰ شر پسند لوگوں کو پسند نہیں فرماتا۔
Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

بولا73 یہ مال تو مجھ کو ملا ہے ایک ہنر سے جو میرے پاس ہے کیا اس نے یہ نہ جانا74 کہ اللہ، غارت کرچکا ہے اس سے پہلے کتنی جماعتیں جو اس سے زیادہ رکھتی تھیں زور اور زیادہ رکھتی تھیں مال کی جمع اور پوچھے نہ جائیں گناہ گاروں سے ان کے گناہ

73:۔ قارون نے اپنے ناصحین کو نہایت ہی سرکشانہ جواب دیا اور کہنے لگا اللہ کا کونسا اھسان ہے یہ دولت تو میں نے اپنے علم وہنر سے حاصل کی ہے۔ علم سے تجارت اور ذرائع معاش کا علم مراد ہے۔ بعض نے علم کیمیاء مراد لیا ہے۔ اراد بہ علمہ بوجوہ المکاسب والتجارات (کبیر ج 6 ص 629) قال ابن المسیب علم الیکیمیاء (روح) ۔ 74:۔ یہ قارون کے لیے تنبیہ و تہدید ہے۔ کیا تورات کی تلاوت سے اسے یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اس سے پہلے بڑی بڑی سرکش قوموں کو اللہ نے ہلاک کردیا جو دولت اور خدم و حشم میں اس سے کہیں زیادہ تھے۔ اور پھر ایسے سرکش اور متکبر مجرموں کے گناہوں کا کوئی حساب کتاب نہیں کیا جاتا اور انہیں بلا حساب ہی جہنم میں ڈال دیا جاتا ہے کیونکہ جرم و گناہ اور معاصی کے سوا ان کے پلے کچھ ہوتا ہی نہیں۔ لعلمہ تعالیٰ بہم بل یدخلون النار بغیر حساب (مدارک ج 3 ص 188) ۔
Ayah 28:79

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

پھر نکلا75 اپنی قوم کے سامنے اپنے ٹھاٹھ سے کہنے لگے جو لوگ طالب تھے دنیا کی زندگانی کے اے کاش ہم کو ملے جیسا کچھ ملا ہے قارون کو بیشک اس کی بڑی قسمت ہے

75:۔ قارون ایک دفعہ اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ، اپنے خدم و حشم کے جلو میں نہایت ہی بیش قیمت لباس اور ساز و سامان کے ساتھ نکلا۔ جب دنیا دار لوگوں نے اس کی شان اور آن بان دیکھی تو بول اٹھے ہائے کاش ! ہمارے پاس بھی اس قدرت دولت ہوتی۔ قارون تو بڑا ہی خوش قسمت ہے۔ وقال الذین اوتوا العلم الخ دنیاداروں کی باتیں سن کر دیندار اور اہل علم نے اس آرزو پر انہیں سرزنش کی اور کہا تم پر افسوس ! تم دنیا کی تمنا کرتے ہو حالانکہ ایمان اور عمل صالح کا ثواب واجر اس سے بدرجہا بہتر ہے۔ لیکن یہ خیال صرف انہی لوگوں کے دلوں میں آتا ہے جو ایمان وعمل صالح پر قائم ہوں اور شہوات و معاصی سے اپنے نفس امارہ کو قابو میں رکھ سکتے ہوں۔