Ayahs 27:1–32:۔ یہ تمہید اور ترغیب الی القرآن ہے۔ ” کتاب مبین “ سے مراد قرآن ہے از قبیل عطف صفت علی الصفۃ کیونکہ القرآن اور کتاب مبین دونوں ایک ہی چیز کی صفتیں ہیں۔ والمراد بہ القران و عطفہ علیہ مع اتحادہ معہ فی الصدق کعطف احدی الصفتین علی الاخری کما فی قولھم ھذا فعل السخی والجواد الکریم (روح ج 19 ص 155) ، ” کتاب مبین “ سے جنس کتاب مراد ہے جو تمام کتب سابقہ کو شامل ہے اس صورت میں ” ایت القران “ سے اس طرف اشارہ ہوگا کہ اس سورت میں بعض مضامین ایسے مذکور ہیں جو کتب سابقہ میں نہیں تھے جیسا کہ ” ان ھذا القران یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون “ سے معلوم ہوتا ہے۔ اور ” کتاب مبین “ سے ان مضامین کی طرف اشارہ ہے جو کتب سابقہ میں مذکور تھے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔
3:۔ یہ ” ایت القران “ سے حال ہے یا ” تلک “ کے لیے خبر بعد خبر ہے (مدارک) یعنی اس سورت کے مذکور چاروں قصوں کے ضمن میں توحید کے جو مضامین مذکور ہیں ان میں مومنوں کے لیے ہدایت اور صراط مستقیم کی طرف صحیح راہنمائی ہے نیز مذکورہ اوصاف سے متصف مومنوں کے لیے بشارت کا ذکر ہے۔ ” الذین یقیمون الصلوۃ الخ “ یہ سورت ان مومنوں کے لیے ہدایت و بشارت ہے جو نماز قائم کریں، زکوۃ ادا کریں اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہوں۔
Ayahs 27:4–54:۔ یہ منکرین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں وہ اس کے علاوہ شرک بھی کرتے ہیں اور اپنے مشرکانہ اعمال کو بہت عمدہ خیال کرتے ہیں۔ وہ غیر اللہ کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھ کر پکارنے کو بہت بڑا عمل صالح تصور کرتے ہیں ان کو اس کی سخت ترین سزا دی جائیگی اور آخرت میں وہ سب سے زیادہ خسارے میں رہیں گے۔ کیونکہ وہ اجر وثواب سے محروم رہیں گے اور عذاب میں مبتلا ہوں گے اور یہی سب سے بڑا خسارہ ہے۔ ای اشد الناس خسرانا لفوات الثواب و استحقاق العقاب (ابو السعود ج 6 ص 572) ۔
Ayah 27:65:۔ یہ ترغیب الی القران ہے۔ یہ قرآن ایک عظیم الشان کتاب ہے جو حکیم وعلیم خدا نے اپنے پیغمبر پر نازل فرمائی اس لیے اس کو ضرور ماننا اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اس میں آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے۔ سورت کے آخر میں بھی دو بار تسلی کا ذکر ہے ” ولا تحزن علیہم الخ “ اور فتوکل علی اللہ الخ “ (رکوع 6) یعنی یہ رفیع المنزلت کتاب اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی ہے، آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اگر معاندین نہیں مانتے تو آپ غم نہ کریں اور اللہ پر بھروسہ کر کے اس کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف رہیں۔ آپ کی دعوت سراپا حق ہے اور آخر کار فتح و کامرانی آپ ہی کو نصیب ہوگی۔
Ayah 27:76:۔ یہ پہلا قصہ ہے اور پہلی علت جو پہلے دعوے سے متعلق ہے اس قصے کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) عالم الغیب تھے۔ اس واقعہ میں ایمان والوں کے لیے ہدایت بھی ہے اور بشارت بھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدت اجارہ پوری کر کے جب اپنے اہل بیت یعنی بیوی کو ساتھ لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے تو راستے میں وادی طوی میں رات آگئی رات اندھیری تھی اس لیے راستہ بھول گئے اور سردی بھی شدت کی تھی۔ اسی اثنا میں ایک طرف آگ دکھائی دی تو بیوی سے فرمایا تم یہاں ٹھہرو میں آگ کے پاس جاتا ہوں وہاں کوئی آدمی ہوگا اس سے راستہ پوچھوں گا اگر کوئی موجود نہ ہوا تو کم از کم سینکنے تاپنے کے لیے انگارا ہی لے آؤں گا۔ شھاب ای شعلۃ مضیئۃ (مدارک ج 3 ص 154) ۔ ” قبس “ اسم مفعول کے معنوں میں ہے اور ” شھاب “ کی صفت ہے یا اس سے بدل ہے ای بشعلۃ نار مقبوسۃ ای ماخوذۃ من اصلھا فقبس صفۃ شھاب او بدل منہ (روح ج 19 ص 159) ۔
Ayah 27:87:۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ جسے وہ آگ سمجھے تھے وہ دنیوی آگ نہیں بلکہ وہ نورانی آگ ہے اور نور الٰہی کی بجلی ہے۔ ” ان بورک “ ، ان مخففہ من المثقلہ ہے۔ اس کا اسم مقدر ہے اور اس سے پہلے باء مقدر ہے۔ مخففۃ من الثقیلۃ وتقدیرہ نودی بانہ بورک والضمیر ضمیر الشان (مدارک ج 3 ص 155) ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے تو آواز آئی اس آگ میں جس کی تجلی کا نور ظہور ہے وہ مبارک ہے اور اس کے ارد گرد جو زمین کا خطہ ہے یا اس کے چاروں طرف جو فرشتے ہیں وہ بھی مبارک ہیں۔ اصل برکات دہندہ وہی ہے جس کا یہاں نور تجلی ظاہر ہورہا ہے اور باقی چیزوں کو بھی اسی ہی نے برکت عطا فرمائی۔ من فی النار ھو نور اللہ و من حولھا الملائکۃ وھو مروی عن قتادۃ والزجاج (کبیر ج 6 ص 554) ۔
8:۔ اس سے پہلے ” اقول “ مقدر ہے یا یہ نووی کے تحت داخل اور ” ان بورک “ پر معطوف ہے والظاھر ان قولہ ” وسبحن اللہ رب العلمین “ داخل تحت قولہ نودی الخ (بحر ج 7 ص 56) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ مکان، جہت، جسم و رنگ اور دیگر صفات مخلوقین سے پاک اور منزہ ہے۔ آگ میں اس کے ظہور کا مطلب یہ نہیں کہ معاذ اللہ اس کی ذات میں حلول کر آئی بلکہ مراد یہ ہے کہ اس میں اس کی تجلی کا ظہور ہوا۔
Ayah 27:99:۔ اے موسیٰ اس وقت تم سے کلام کرنے والا میں ہوں جو سارے جہاں میں متصرف اور فاعل مختار ہوں “ العزیز الحکیم ” یہ ماقبل کے لیے بمنزلہ علت ہے۔ کیونکہ میں قدرت کے اعتبار سے سب پر غالب اور علم و حکمت کے اعتبار سے ہر چیز پر حاوی ہوں۔ “ والق عصاک ” یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت کا ذکر کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی لاٹھی زمین پر پھینکنے کا حکم دیا تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ معجزہ عصا اور ید بیضاء اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے لیکن ان کا ظہور محض اللہ کی قدرت سے ہوا اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کے اختیار و تصرف کو کوئی دخل نہیں۔
Ayahs 27:10–1110:۔ وہ چھوٹا سانپ جو تیزی سے حرکت کرے۔ دوسری جگہ اس سانپ کو “ ثعبان ” (اژدہا) سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہاں اسے بہت بڑا اژدھا بن گیا لیکن حرکت کی تیزی میں چھوٹے سانپ کی مانند تھا۔ شبھھا سبحانہ فی شدۃ حرکتہا واضطرابھا مع عظم جث تھا بصغار الحیات السریعۃ الحرکۃ الخ (روح ج 19 ص 163) ۔
11:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اژدہا کو دیکھا تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا تو ارشاد ہوا اے موسیٰ ! مت ڈرو، کیونکہ میرے قرب میں پیغمبر کسی چیز سے نہیں ڈرا کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو باین جلالت شان یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ سانپ ان کو ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ اس سے واضح ہوگیا کہ وہ عالم الغیب نہ تھے اور ہر چیز کو جاننا اللہ تعالیٰ کی خصوصیت ہے۔ اس سے ایمان والوں کو ہدایت اور راہنمائی ملتی ہے کہ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ ” الا من ظلم الخ “ استثناء منقطع ہے اور ” الا “ بمعنی ” لکن “ ہے اور ” بدل “ بمعنی ” تاب “۔ قال صاحب المطلع والمعنی علیہ لکن من ظلم من سائر العباد ثم تاب فانی اغفر لہ (روح ج 19 ص 165) ۔ یا “ لایخاف ” بمعنی “ لا یتضرر ”۔ یعنی تکلیف نہیں اٹھاتا اور “ الا ” بمعنی “ بل ” ہے جو ترقی کے لیے ہوتا ہے۔ اس صورت میں حاصل یہ ہوگا، اے موسیٰ ! میں کسی پر ظلم نہیں کرتا تاکہ کوئی مجھ سے ڈر کر بھاگے بلکہ اگر کوئی ظلم کرنے کے بعد توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلے تو میں اسے بھی معاف کردیتا اور اس پر رحم کرتا ہوں کیونکہ میں غفور رحیم ہوں۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔
Ayahs 27:12–1312:۔ یہ دوسرا معجزہ ہے۔ “ من غیر سوء ” یعنی یہ ہاتھ کا سفید نمودار ہونا برص وغیرہ کسی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک معجزہ ہے۔ من غیر سوء من غیر برص (معالم و خازن ج 5 ص 112) ۔ “ فی تسع ایت الخ ” یہ فعل مقدر کے متعقل ہے ای ارسلنا یعنی ہم نے ان کو نو معجزے دے کر بھیجا۔ دو یہاں مذکور ہیں اور سات ان کے علاوہ ہیں۔ “ فلما جاء تھہم الخ ”: “ مبصرۃ ”، “ اٰیتنا ” سے حال ہے۔ یہ فرعون اور قوم فرعون کے فسق و فجور اور ان کی ضد وعناد کی حد تھی جب انہوں نے واضح اور روشن معجزات کو دیکھ لیا تو ماننے کے بجائے صاف کہہ دیا یہ سب جادو کے کرتب اور کرشمے ہیں۔
Ayah 27:1413:۔ “ ظلما و علوا ” یہ دونوں “ جحدوا ” کے مفول لہ ہیں اور “ واستیقنتہا انفسہم ” جملہ “ جحدوا ” کے فاعل سے حال ہے۔ قوم فرعون کو دل سے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کے برحق ہونے کا پورا پورا یقین تھا لیکن انہوں نے محض بےانصافی اور غرور و استکبار کی وجہ سے ان کا انکار کیا۔ “ فانظر کیف کان الخ ”: پھر دیکھ لو ان معاندوں اور سرکشوں کا کیا حشر ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کو غرق کر کے ان کا سارا غرور خاک میں ملا دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے مصیبتوں سے نجات دی اور دنیا و آخرت میں آرام و راحت اور اعزازو اکرام عطا فرمایا۔ اس میں مومنوں کے لیے بشارت کا پہلو ہے۔
Ayah 27:1514:۔ یہ دوسرا قصہ ہے اور اس کے ضمن میں بھی پہلی علت کا بیان مقصود ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بڑے جلیل الشان پیغمبر تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑا علم و فضل عطا فرمایا تھا۔ انسانوں کے علاوہ وحوش و طیور اور جن بھی ان کے تابع تھے مگر اس کے باوجود وہ غیب داں نہ تھے انہیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ ہدہد کہاں غائب ہوگیا ہے نیز وہ ملکہ سبا اور اس کی قوم کے حالات سے بھی واقف نہ تھے۔ اسی طرح ملکہ سبا کا تخت لانے پر بھی قادر نہ تھے۔ اسی لیے “ یا ایہا الملا ایکم یاتینی بعرشھا الخ ” فرمایا۔ اس واقعہ میں بھی مومنوں کے لیے رہنمائی اور ہدایت ہے کہ سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں “ علماً ” سے علم دین اور دوسرے علوم مراد ہیں جن کی ان کو ضرورت تھی۔ تنوین تقلیل کے لیے یا تعظیم و تفخیم کے لیے۔ یعنی علوم و فنون کا ایک حصہ جو ان کے مناسب حال تھا۔ یا عظیم الشان اور کثیر المنفعت علم ای اتینا کل واحد منہما طائفۃ من العلم لائقۃ من علم الشرائع والاحکام وغیر ذلک مما یختص بکل منہما کصنعۃ لبوس و منطق الطیر او علما سن یا غزیرا فالتنوین علی الاول للتقلیل و علی الثانی للتعظیم (روح ملخصا ج 19 ص 169) ۔ “ و قال الحمد للہ الذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المومنین ” داؤود و سلیمان دونوں ہمارا شکر بجا لاتے تھے۔
Ayah 27:1615:۔ یہاں وراثت سے علمی وراثت مراد ہے وراثت مال مراد نہیں یا وراثت قائم مقام ہونے سے کنایہ ہے اس صورت میں علم، نبوت اور ملک سب اس میں داخل ہوں گے۔ ای نبوتہ وعلمہ و ملکہ دون سائر اولادہ و کان لداود (علیہ السلام) تسعۃ عشر ابنا (معالم و خازن ج 5 ص 112) ای قام مقامہ فی النبوۃ والملک و صار نبیا ملکا بعد موت ابیہ داود (علیہا السلام) فوراثتہ ایاہ مجاز عن قیامہ مقامہ فیما ذکر بعد موتہ (روح ج 19 ص 170) ۔
16:۔ تحدیث بالنعمۃ کے طور پر لوگوں کو خطاب کر کے انعامات خداوندی کا ذکر کیا۔ یعنی اللہ کا شکر ہے جو مجھے حسب ضرورت پرندوں کی باتوں سے آگاہ فرما دیتا ہے اور اس کے علاوہ بھی اس کے انعامات بےحساب ہیں یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے “ علمنا منطق الطیر ” کا مفہوم یہی ہے کہ حسب مواقع اللہ تعالیٰ مجھے پرندوں کی باتوں سے آگاہ فرما دیتا ہے یعنی بطور معجزہ کانت الطیر تکلمہ معجزۃ لہ کقصۃ الھدھد (بحر ج 7 ص 59) ۔ “ من کل شیء ” میں کل استغراق اضافی کے لیے ہے یعنی تمام ضرورت کی اشیاء جیسا کہ “ و اوتیت من کل شیء ” میں ہے۔ عن ابن عباس ؓ ھو ما یھمہ (علیہ السلام) من امر الدنیا والاخرۃ و قد یقال انہ ما یحتاجہ الملک من الات الحرب وغیرھا (روح ج 19 ص 172) ۔ یا یہ کثرت سے کنایہ ہے اور استغراق حقیقی مراد نہیں۔ المراد بہ کثرۃ ما اوتی کما تقول فلان یعلم کل شیء و مثلہ واوتیت من کل شیء (مدارک ج 3 ص 156) ۔
Ayah 27:1717:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا جنوں، انسانوں اور پرندوں کا لشکر جمع کیا گیا اور کوچ سے پہلے اسے ایک خاص ترتیب سے مرتب کر کے متعدد دوستوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر دستے پر ایک سردار مقرر کردیا گیا تاکہ کثرت ازدحام کی وجہ سے نقل و حرکت میں آسانی ہو اور نظم و ضبط قائم رہ سکے۔
Ayah 27:1818:۔ “ حتی ” ابتدائیہ ہے جو ابتداء کلام میں آتا ہے لیکن اس میں غایت کا مفہوم بھی ہے۔ “ یوزعون ” سے جس روانگی اور کوچ کی طرف اشارہ ہے یہ اس کی غایت ہے کانہ قیل فساروا حتی اذا اتوا الخ (روح) یا یہ “ اتینا داود و سلیمان علما ” کی غایت ہے یعنی القصہ ان کے علم کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو چیونٹی کی بات بھی سنادی۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔
19:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کے ساتھ آنے کا علم اللہ تعالیٰ نے بطور الہام چیونٹی کے دل میں ڈالدیا تو اس نے دوسری چوٹیوں سے کہا تم فورًا اپنے سوراخون میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں روند ڈالیں کیونکہ ان کو تمہارے یہاں موجود ہونے کا علم نہیں۔ الظاھر ان علم النملۃ بان الاتی ھو سلیمان (علیہ السلام) و جنودہ کان عن الہام منہ عز و جل الخ (روح ج 19 ص 176) اس سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ چیونٹی بھی جانتی تھی کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب مومنین جن و انس غیب داں نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ایک چیونٹی کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ اصحاب پیغمبر جان بوجھ کر ایک چیونٹی کو بھی نہیں روند سکتے۔ البتہ لا علمی سے اگر ایسا ہوجائے تو یہ ایک جدا بات ہے۔ جو لوگ خاتم النبیین ﷺ کے صحابہ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں انہیں اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے ولیت من طعن فی اصحاب النبی ﷺ و ؓ تاسی بھا فکف عن ذالک واحسن الادب (روح ج 19 ص 178) ۔
Ayah 27:1920:۔ اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعے چیونٹی کی بات حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دل میں ڈال دی تو اس کی بات پر تعجب سے مسکرائے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ انہ (علیہ السلام) لم یسمع صوتا اصلا وانما فھم ما فی نفس النملۃ الھاما من اللہ تعالیٰ (روح ج 19 ص 176) ۔ “ رب اوزعنی ” میرے پروردگار مجھے توفیق عطا فرما کہ میں ہمیشہ ان انعامات کے شکر میں مصروف رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائے مثلاً میری آمد کا علم چیونٹی کے دل میں ڈال دیا اور چیونٹی کی بات میرے دل میں ڈال دی یہ بھی اس کا انعام ہے اور بقیہ زندگی میں اعمال صالحہ کی بجا آوری پر قائم رکھ اور محض اپنی مہربانی سے مجھے زمرہ صالحین یعنی انبیاء سابقین (علیہم السلام) میں شامل فرما۔
Ayahs 27:20–2121:۔ اسی اثنا میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کی پڑتال کی تو ہدہد کو نہ پایا۔ فرمایا کیا بات ہے ہدہد مجھے ہی نظر نہیں آرہا ہے یا وہ ہے ہی غیر حاضر۔ “ لاعذبنہ الخ ” جب معلوم ہوا کہ وہ غیر حاضر ہے تو فرمایا میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا پھر وہ اپنی غیر حاضری کی کوئی معقول اور واضح دلیل پیش کرے گا اس سے واضح ہوگیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) غیب داں نہ تھے۔
Ayah 27:2222:۔ بس تھوڑی دیر کے بعد ہدہد واپس آگیا اور آتے ہی حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کہنے لگا میں ایسے معلومات حاصل کر کے آیا ہوں جن کا آپ کو علم نہیں میں ملک سبا کے حالات کی پختہ اور صحیح خبر لایا ہوں۔ ہد ہد کے اس کلام سے معلوم ہوا کہ اس کا بھی عقیدہ یہ تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) عالم الغیب نہ تھے۔
Ayahs 27:23–2423:۔ یہ ہدہد کا کلام ہے اب وہ ملک سبا کے حالات بیان کر رہا ہے۔ میں نے وہاں دیکھا کہ ایک عورت ان پر حکمران ہے، حکومت و سلطنت کی تمام ضروریات اس کے پاس موجود ہیں اور کسی چیز کی کمی نہیں اور اس کا تخت نہایت عالیشان ہے۔ “ و جد تھا و قومہا الخ ” سبا کی سیاسی حالت بیان کرنے کے بعد اب اس کی مذہبی حالت بیان کرتا ہے کہ وہ لوگ مشرک ہیں۔ ملکہ سبا اور اس کی قوم سب سورج دیوتا کی پوجا کرتے ہیں۔ شیطان نے ان کو ورغلا کر اور ان کے مشرکانہ اعمال کو ان کی نظروں میں مستحسن بنا کر انہیں راہ توحید سے روک رکھا ہے۔ اس لیے وہ راہ راست پر نہیں آتے۔ یہ قوم مجوسی تھی اور ستاروں کی پرستش کرتی تھی انھم کانوا مجوسا یعبدون الانوار (بحر ج 7 ص 68) کانتھی وقومھا مجوسا یعبدون الشمس (کبیر ج 6 ص 560) ۔
Ayah 27:2524:۔ اس سے پہلے لام تعلیل مقدر ہے اور وہ “ فصدھم ” کے متعلق ہے ای فصدھم عن السبیل لئلا یسجدوا فحذف الجار مع ان وادغمت النون فی اللام (مدارک ج 3 ص 159) ۔ ہدہد نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا شیطان نے ان کو راہ توحید سے روک رکھا ہے تاکہ وہ اس خالق کائنات اور مالک ارض و سماء کو سجدہ نہ کریں جو آسمان اور زمین سے پوشیدہ چیزیں ظاہر کرتا اور ہر ظاہر و باطن کو جانتا ہے۔ آسمان کی پوشیدہ چیز سے بارش اور زمین کی پوشیدہ چیز سے نبات مراد ہے۔ قال اکثر المفسرین خبء السماء المطر و خبء الارض النبات (معالم ج 5 ص 119) ۔ ہدہد کا چونکہ کام ہی یہی ہے کہ وہ زمین کو کرید کر اس میں چھپے ہوئے کیڑے مکوڑوں کو نکال کر کھاتا ہے اس لیے اس نے اللہ تعالیٰ کی یہی صفت بیان کی کہ یہ چھپی چیزیں وہی نکالتا ہے۔
Ayah 27:2625:۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ عالم الغیب اور کارساز اللہ تعالیٰ ہی ہے تو معلوم ہوا کہ پکارنے کے لائق بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔ ہدہد نے یہ ثمرہ اپنی دلیل عقلی پر بیان کیا ہے۔
Ayahs 27:27–2826:۔ ہدہد نے اس عجیب و غریب انکشاف کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا اچھا اب میں تحقیقات کرتا ہوں تم سچ کہہ رہے ہو یا جھوٹ بول رہے ہو۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) غیب داں نہ تھے ورنہ تحقیقات کی کیا ضرورت تھی۔ “ اذھب بکتابی ھذا الخ ” حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ایک خط لکھ کر ہدہد کے حوالے کیا اور فرمایا یہ خط لے جاؤ اور ملکہ سبا سے اس کا جواب لے کر آؤ۔
Ayahs 27:29–31ف 27:۔ اس سے پہلے اندماج ہے یعنی ہدہد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لے بلقیس کے پاس پہنچا۔ بلقیس نے خط پڑھ کر اپنے مشیروں کو بلایا اور ان سے کہا الخ جب ہدہد خط لے کر پہنچا اس وقت بلقیس اپنے محل میں سو رہی تھی تمام دروازے مقفل تھے ہدہد نے ایک روشن دان سے داخل ہو کر خط اس کے سینے پر ڈال دیا۔ بلقیس نے بیدار ہو کر جب خط دیکھا تو کانپ اٹھی کہ دروازے مقفل ہونے کے باوجود یہ خط کس طرح اندر پہنچ گیا۔ جب اس نے خط پڑا تو اس پر مزید رعب وہیبت کا غلبہ ہوگیا۔ مشیروں کو جمع کر کے خط کے بارے میں بتایا کہ میرے پاس ایک سر بمہر خط آیا ہے، وہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون یہ ہے۔ خدائے رحمن و رحیم کے نام سے۔ تم میرے سامنے اپنی بڑائی اور کبر و غرور کا اظہار مت کرو اور مومن ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ کریم کے معنی سر بمہر کے ہیں و قد فسر ابن عباس وقتادۃ و زھیر بن محمد (الکریم) ھنا بالمختوم (روح ج 19 ص 104) ۔ انہ اول کی ضمیر کتاب کی طرف راجع ہے اور انہ دوم کی ضمیر مضمون کتاب سے کنایہ ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا بسم اللہ کا متعلق صیغہ امر ہے یعنی استعینوا بسم اللہ خاصۃ ولا تشرکوا یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے نام سے استعانت کیا کرو اور غیر اللہ (جنات اور ستاروں) کی عبادت مت کرو۔
Ayahs 27:32–3328:۔ خط کا مضمون اپنے وزراء اور مشیروں کو سنانے کے بعد بلقیس نے دوبارہ سب کو متوجہ کر کے کہا اے امراء مجھے اس معاملے میں مشورہ دو کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔ تمہارے مشورے کے بغیر میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گی۔ اس سے ملکہ سبا کے طرز حکومت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مشیروں کی رائے کا کس قدر احترام کرتی ہے۔ قالوا نحن اولوا قوۃ الخ : مشیروں کا جواب کوئی دانشمندانہ نہیں، اس سے خوشامد اور نیاز مندی کی بو آتی ہے۔ درباریوں نے مشورہ دیا کہ ہم سلیمان سے لڑیں گے کیونکہ ہماری جنگی اور فوجی طاقت نہایت مضبوط ہے اور ہم لڑائی میں بڑے بہادر اور دلیر ہیں ہم تو آپ کے حکم کے منتظر ہیں جو حکم ہوگا اس کی اطاعت کریں گے۔
Ayah 27:3429:۔ بلقیس نہایت زیرک حکمران تھی۔ وہ جنگ کے عواقب کو خوب جانتی تھی۔ وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے خط سے ان کی قوت اور ہیبت و سطوت کا اندازہ بھی لگا چکی تھی اس لیے اس نے درباریوں کے مشورے کو ناپسند کیا اور اس کی خرابی کا اظہار اس طرح کیا کہ جنگ کوئی اچھی چیز نہیں اس کا انجام نہایت خوفناک اور عبرتناک ہوتا ہے۔ جب کوئی بادشاہ کسی شہر پر حملہ آور ہوتا ہے تو اسے تباہ و برباد کردیتا ہے اور وہاں کے معززین اور شرفاء کی عزت و آبرو کو خاک میں ملا دیتا ہے اور ان کو ذلیل ورسوا کردیتا ہے۔ بادشاہوں کی عادت ہی یہی ہے، اس لیے جنگ کرنا اچھا مشورہ نہیں۔
Ayah 27:3530:۔ بلقیس نے امراء سے کہا میں سلیمان کے پاس تحفے تحائف بھیج کر معلوم کرلوں کہ وہ محض ایک بادشاہ ہے یا واقعی اللہ کا پیغمبر ہے۔ اگر اس نے میرے تحائف قبول کرلیے تو وہ ایک بادشاہ ہے میں اس سے مقابلہ کروں گی اور اگر اس نے تحائف واپس کردئیے تو وہ اللہ کا پیغمبر ہے پھر ہمیں اس کی پیروی اور اس کی اطاعت قبول کرلینی چاہیے۔ قالت لقومہا ان کان ملکا دنیویا ارضاہ المال وعملنا معہ بحسب ذلک وان کان نبیا لم یرضہ المال و ینبغی ان نتبعہ علی دینہ (روح ج 19 ص 198) ۔
Ayah 27:3631 جب بلقیس کے ایلچی تحائف لے کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان سے خطاب کر کے فرمایا کیا تم مجھے مال و دولت کا محتاج سمجھ کر میری مالی امداد کرنا چاہتے ہو ؟ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دین و دنیا کی نعمتوں سے جو کچھ مجھے عطا فرمایا ہے وہ تمہاری دولت و سلطنت سے کہیں زیادہ اور فزوں تر ہے۔ تم یہ ہدیہ دے کر بڑے خوش ہو رہے ہو۔ مجھے تمہارے تحائف کی ضرورت نہیں نہ میں دولت دنیا کا طالب ہوں میرا مطالبہ صرف یہ ہے کہ تم ایمان لائے آؤ۔ وما ارضی منکم بشیء ولا افرح بہ الا بالایمان و ترک المجوسیۃ (مدارک ج 3 ص 162) ۔
Ayah 27:3732:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کے ایلچیوں کے لیڈر کو حکم دیا کہ تم واپس جاؤ اور بلقیس اور امراء سلطنت سے کہہ دو کہ وہ مومن ہو کر میرے پاس آجائیں ورنہ ایسے بےحساب لشکروں سے ان پر چڑھائی کروں گا جن کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں اور ان کو ملک سبا سے ذلیل و رسوا کر کے نکال دوں گا۔ یہاں عبارت میں حذف و تقدیر ہے کانہ قیل ارجع الیھم فلیاتونی مسلمین والا فلناتینھم الخ (روح ج 19 ص 201) ۔
Ayah 27:3833:۔ اس سے پہلے اندماج ہے جب بلقیس کے فرستادوں نے واپس پہنچ کر تمام سرگذشت سنائی تو وہ سمجھ گئی کہ سلیمان (علیہ السلام) واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں اس لیے اس نے ایمان لانے اور سلیمان (علیہ السلام) کی اطاعت قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے آدمی بھیج کر پہلے اپنے ارادے سے سلیمان (علیہ السلام) کی اطاعت قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے آدمی بھیج کر پہلے اپنے ارادے سے سلیمان (علیہ السلام) کو آگاہ کیا اور پھر امراء سلطنت اور رؤساء ملک کو ساتھ لے کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف روانہ ہوگئی۔ جب ان کو اس کی آمد کی اطلاع ملی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کے یہاں پہنچنے سے پہلے اس کا تخت یہاں آجائے اس سے مقصد یہ تھا تاکہ اس کے حیرت واستعجاب میں اضافہ ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مشاہدہ کرلے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے دربار کے حاضرین سے فرمایا تم میں سے کون ہے جو ان کے یہاں پہنچنے سے پہلے بلقیس کا تخت اٹھا کر یہاں لے آئے۔
Ayah 27:3934:۔ ایک بہت بڑے طاقت ور جن کہا آپ کے مجلس برخاست کرنے سے پہلے میں تخت آپ کے پاس لاسکتا ہوں۔ کیونکہ میں طاقتور بھی ہوں اور امین بھی ہوں اور اس کے زر و جواہر میں کسی قسم کی خیانت بھی نہیں کروں گا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو چونکہ اس سے بھی پہلے تخت درکار تھا اس لیے آپ نے اس کی بات کو کوئی وقعت نہ دی۔ قال الذی عندہ الخ۔ ایک شخص بولا جس کے پاس کتاب کا علم تھا میں آنکھ جھپکنے سے بھی پہلے لاسکتا ہوں۔ الذی عندہ علم من الکتاب، سے یا تو آصف بن برخیا مراد ہے جو سلیمان (علیہ السلام) کا وزیر تھا اور اسم اعظم کا عامل تھا لیکن اس پر اعتراض لازم آتا ہے کہ اس طرح ایک امتی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے فضل و کمال میں ان سے بڑھ گیا اسی طرح آیت میں اس شخص کو علم الکتاب سے متصف کہا گیا ہے اور اس صفت میں لا محالہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) فائق تھے۔ ان سلیمان (علیہ السلام) کان اعرف بالکتاب منہ لانہ ھو النبی فکان صرف ھذا اللفظ الی سلیمان (علیہ السلام) اولی (الثانی) ان احضار العرش فی ذلک الساعۃ اللطیفۃ درجۃ عالیۃ فلو حصلت لاصف دون سلیمان لاقتضی ذلک تفضیل اصف علی سلیمان (علیہ السلام) وانہ غیر جائز (کبیر ج 6 ص 566) لیکن اگر بالفرض اس سے آصف بن برخیا ہی مراد ہو تو یہ ان کی کرامت ہوگی اور کرامت ولی کے اختیار و تصرف میں نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی قدرت اور اس کے تصرف سے ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتی ہے۔ اہل بدعت کہتے ہیں، انا اتیک بہ میں آصف نے لانے کی نسبت اپنی طرف کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام اس کے تصرف یہاں اسناد حقیقی نہیں بلکہ مجازی ہے۔ یہ کرامت چونکہ آصف بن برخیا کے ہاتھ پر ظاہر ہوئی اور بظاہر لانے والا ہی تھا اس لیے لانے کی نسبت مجازًا اس کی طرف کردی گئی۔ بعض کا خیال ہے کہ اس سے خود سلیمان (علیہ السلام) مراد ہیں اس صورت میں یہ ان کا معجزہ ہوگا۔ امام نخعی فرماتے ہیں اس سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں (روح، کبیر، مدارک) حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک یہی قول راجح ہے۔ بعض جہلا علم من الکتاب سے کالا علم نکالتے ہیں حالانکہ کا لاا علم سراسر کفر ہے کیونکہ اس میں غیر اللہ سے استعانت ہوتی ہے اس لیے یہ بالکل بےاصل اور صریح غلط بلکہ کفر ہے۔
Ayah 27:4035:۔ بہر صورت جب چشم زدن میں بلقیس کا تخت ان کے سامنے موجد ہوگیا تو اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائے اور اتنے قلیل وقت میں اتنی بعید مسافت سے تخت کے آجانے کو اللہ کا فضل و احسان قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تخت کو لانے والا بظاہر خواہ کوئی تھا مگر حقیقت میں معجزانہ طور پر اس کی موجودگی محض اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے تصرف سے تھی۔ لیبلونی الخ، اللہ تعالیٰ نے ان انعامات سے مجھے اس لیے نوازا ہے تاکہ میری آزمائش فرمائے کہ میں اس کا شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔ جو شخص اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے کیونکہ دنیا و آخرت میں اس کا نفع اسے ہی ملتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے وہ نقصان بھی اپنا ہی کرتا ہے اللہ تعالیٰ تو بندوں کے شکر و کفران سے بےنیاز ہے اور ایسا کریم ہے کہ ناشکری کرنے والوں کو نہ جلدی پکڑتا ہے نہ انعامات کے دروازے ان پر بند فرماتا ہے۔