26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 26:1–2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں کھلی کتاب کی2

2:۔ یہ تمہید ہے اس میں قرآن پر عمل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ یہ اس قرآن کی آیتیں ہیں جس کے مضامین خوب واضح، جس کا اعجاز اور جس کا من عنداللہ ہونا اس قدر عیاں ہے کہ اس کے لیے کسی بیرونی دلیل کی ضرورت نہیں۔ ” الکتاب “ کی صفت ” المبین “ لا کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس سورت میں زیادہ تر دلائل نقلیہ بیان کیے گئے ہیں۔
Ayah 26:3

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

شاید تو3 گھونٹ مارے اپنی جان اس بات پر کہ وہ یقین نہیں کرتے

3:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ دعوی توحید پر کچھ دلائل سورة الفرقان میں بیان ہوچکے ہیں اور کچھ اب سورة الشعراء میں بیان ہوں گے۔ ان دلائل کے باوجود بھی اگر مشرکین نہ مانیں تو آپ اپنی جان کو غم میں نہ ڈالیں۔ کیونکہ غرض تبلیغ تھی جو احسن طریق سے ہوچکی اور زبردستی منوانا مقصود نہیں۔ ” ان نشا ننزل علیھم الخ “ اگر ہم چاہتے تو آسمان سے ایک ایسی نشانی نازل کردیتے جس کے سامنے وہ عاجز ہو کر جھک جاتے اور مجبور ہو کر ایمان لے آتے مگر جبراً منوانا ہماری حکمت کے منافی ہے کیونکہ ہم امتحان لینا چاہتے ہیں کہ کون اپنے اختیار سے ایمان لاتا ہے اور کون انکار کرتا ہے۔ ” ان لا یکونوا ای لئلا یکونوا “ (مدارک) اور ” لھا خضعین “ کے بعد ” ولکن لنبلوھم “ مقدر ہے۔ ای لو نشاء لانزلنا ایۃ تضطرھم الی الایمان قھرا ولکن لا نفعل ذلک لانا نرید من احد الا الایمان الاختیاری۔ (ابن کثیر ج 3 ص 331) ۔
Ayahs 26:4–5

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں اتاریں ان پر آسمان سے ایک نشانی پھر رہ جائیں ان کی گردنیں اس کے آگے نیچی

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور نہیں پہنچتی ان کے پاس کوئی نصیحت4 رحمان سے نئی جس سے منہ نہیں موڑتے

4:۔ یہ زجر ہے۔ یعنی یہ مشرکین مسلسل توحید کا انکار کر رہے ہیں ! چناچہ اللہ کی طرف سے جب بھی مضمون توحید اور دعوت ” تبارک “ پر مشتمل کوئی تازہ آیت نازل ہوتی ہے تو وہ اس سے اعراض اور اس کا انکار کرتے ہیں۔ ” فقدکذبوا فسیاتھیہم الخ “ یہ تخویف دنیوی ہے یا اخروی۔ ان معاندین پر ہماری حجت قائم ہوچکی اور مسئلہ توحید ہر پہلو سے ان پر دلائل کے ساتھ واضح کیا جا چکا ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ انکار و اعراض کر رہے ہیں، اس لیے اب عنقریب ہی انہیں توحید سے اعراض و استہزاء کی سخت سزا دی جائے گی جس طرح اقوام سابقہ کو ان کے انکار و اعراض اور عناد و استہزاء کی سزا دی گئی تو اس وقت ان پر توحید کی حقانیت واجح ہوجائے گی جس کا زندگی بھر مذاق اڑاتے رہے۔ عذاب سے جنگ بدر کے دن کا عذاب مراد ہے یا آخرت کا۔ و ھذا وعید لھم وانذار بانھم سیعلمون اذا مسھم عذاب اللہ یوم بدرا ویوم القیمۃ الخ (مدارک ج 3 ص 136) ۔
Ayahs 26:6–7

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

سو یہ تو جھٹلا چکے اب پہنچے گی ان پر حقیقت اس بات کی جس پر ٹھٹھے کرتے تھے

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھتے وہ زمین کو5 کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر ایک قسم کی خاصی چیزیں

5:۔ یہ توحید پر عقلی دلیل ہے۔ وہ زمین کو نہیں دیکھتے کہ ہم اس میں انواع و اقسام کی پیداوار اگاتے ہیں جس میں ان کے لیے گوناگوں فوائد ہیں۔ ” ان فی ذلک لایۃ “ یہ اس بات کی واضح اور کافی دلیل ہے کہ سارے جہاں کا کارساز اور برکات دہندہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ دلائل تو اور بھی بہت ہیں لیکن اگر وہ غور و تدبر سے کام لیں تو حق سمجھنے کے لیے یہی ایک دلیل ہی کافی ہے۔ لیکن ان کی اکثریت کے دلوں پر ضد وعناد کی وجہ سے مہر جباریت لگ چکی، اس لیے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ آگے ہر نقلی دلیل کے بعد اس آیت کا اعادہ کیا گیا ہے جس سے یہ تنبیہ مقصود ہے کہ ان میں سے ہر دلیل فی نفسہ مستقل اور عبرت و نصیحت کے لیے کافی ہے مگر اس کے باوجود معاندین نہیں مانتے۔
Ayahs 26:8–9

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

اس میں البتہ نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ماننے والے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور تیرا رب6 وہی ہے زبردست رحم والا

6:۔ تیرا پروردگار بڑا زبردست ہے وہ جب چاہے منکرین کو پکڑ لے، لیکن وہ رحیم و مہربان ہے اس لیے مجرموں کو مہلت دیتا ہے تاکہ انہیں سوچنے سمجھنے کا مزید موقع مل جائے اور وہ راہ راست پر آجائیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ وہ کافروں سے انتقام لینے میں زبردست اور توبہ کرنے والوں کے لیے مہربان ہے۔ (مظہری) ۔
Ayah 26:10

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور جب پکارا تیرے رب نے7 موسیٰ کو کہ جا اس قوم گناہ گار کے پاس

7:۔ یہ پہلی نقلی دلیل ہے جس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں اول یہ کہ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ دوم یہ کہ نہ ماننے والوں کو دنیا ہی میں ہلاک کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرما کر حکم دیا کہ اس ظالم قوم یعنی قوم فرعون کے پاس جاؤ۔ ” الا یتقون “ وہ بڑے ہی بیباک ہوچکے ہیں وہ خدا سے نہیں ڈرتے، شرک کرتے، غریبوں پر ظلم ڈھاتے اور تمردو سرکشی میں بد مست ہیں۔
Ayahs 26:11–12

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

قوم فرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

بولا اے رب8 میں ڈرتا ہوں کہ مجھ کو جھٹلائیں

8:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ رسالت کے سلسلے میں جو مشکلات نظر آئیں اور فرعون سے جو انہیں خدشہ تھا اس کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے معاون حاصل کرنا اور فرعون کے شر سے تحفظ طلب کرنا مقصود تھا۔ امر الٰہی کے امتثال میں توقف مقصود نہیں تھا۔ ولم یکن ھذا الالتماس من موسیٰ (علیہ السلام) توقفا فی الامتثال بل التماس عون فی تبلیغ الرسالۃ (مدارک ج 3 ص 137) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا میرے پروردگار ! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے اور اس سے مجھے سخت ذہنی اذیت پہنچے گی طبیعت ملول و حزین ہوجائے گی اور دل میں انقباض پیدا ہوگا اور پھر میری تائید کرنے والا بھی کوئی نہ ہوگا اور میری زبان صاف نہ چل سکے گی اس لیے ہارون کے پاس پروانہ نبوت بھیج کر اسے معاون بنا دے کیونکہ اس کی زبان بھی صاف ہے اور وہ میری تائید بھی کرے گا زبان نہ چل سکنے کی وجہ یہ تھی کہ بچپن ہی سے آپ کی زبان میں رکاوٹ سی تھی عام گفتگو میں اگرچہ اس کا کوئی اثر ظاہر نہ تھا لیکن انہیں اندیشہ تھا کہ جب قوم کی تکذیب کی وجہ سے ان کی طبیعت میں انقباض رونما ہو تو کہیں ان کی زبان اس معمولی لکنت کی وجہ سے لڑکھڑا نہ جائے۔ التکذیب سبب لضیق القلب و ضیق القلب سبب لتعسر الکلام علی من یکون فی لسانہ حبسۃ الخ (کبیر ج 6 ص 508) ۔
Ayahs 26:13–14

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور رک جاتا ہے میرا جی اور نہیں چلتی ہے میری زبان سو پیغام دے ہارون کو

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور ان کو مجھ پر ہے ایک گناہ کا دعویٰ9 سو ڈرتا ہوں کہ مجھ کو مار ڈالیں

9:۔ اور ان کو مجھ پر ایک قبطی کے خون کا دعوی بھی ہے اس لیے مجھے اندیشہ ہے کہ فریضہ تبلیغ ادا کرنے سے پہلے ہی مجھے قتل کر ڈالیں کہ یہ وہی شخص ہے جو ہمارا ایک آدمی قتل کر کے کہیں بھاگ گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ظاہری اسباب کے تحت اللہ کے سوا کسی سے ڈرنا شرک نہیں۔
Ayah 26:15

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا کبھی نہیں10 تم دونوں جاؤ لے کر ہماری نشانیاں ہم ساتھ تمہارے سنتے ہیں

10:۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں دعائیں قبول فرما لیں ! تائید کے لیے ہارون علیہ السلالم کو بھی ساتھ کردیا اور فرعون کے شر سے بھی محفوظ رکھنے کا وعدہ فرمادیا۔ ” کلا “ یعنی تم بےفکر رہو وہ ہرگز تمہیں قتل نہیں کرسکیں گے۔ ” فاذھبا “ تم اور ہارون دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہہ دو کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو ۔ ” ان ارسل “ میں ان مفسرہ ہے ماقبل کے لیے۔ ان ارسل بمعنی ای ارسل لتضمن الرسول معنی الارسال وفیہ معنی القول (مدارک ج 3 ص 138) ۔ ” انا رسول رب العلمین “ اس میں رسالت کا دعوی اور دعوت توحید مذکور ہے اور ” ارسل معنا بنی اسرائیل “ میں قوم کی آزادی کا مطالبہ ہے۔
Ayahs 26:16–18

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

سو جاؤ فرعون کے پاس اور کہو ہم پیغام لے کر آئے ہیں پروردگار عالم کا

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

یہ کہ بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

بولا کیا نہیں پالا ہم نے تجھ کو اپنے اندر لڑکا سا اور رہا تو ہم میں اپنی عمر میں کئی برس تک11

11:۔ ان کی دعوت کے جواب میں فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر دو اعتراض کیے۔ یہ پہلا اعتراض ہے۔ فرعون نے کہا اے موسیٰ کیا حالت شیر خوارگی میں میں ہی نے تیری پرورش نہیں کی اور بچپن کا زمانہ تو نے میرے گھر ہی میں ناز و نعمت سے نہیں گذارا ؟ تجھے تو میرے احسانات کا شکر ادا کرنا چاہیے تھا لیکن تو بڑا احسان فرا موش ثابت ہوا کہ میرے سوا کسی اور کو اپنا رب اور الہ مانتا ہے۔ ” وفعلت فعلتک الخ “ یہ دوسرا اعتراض ہے اور پھر تو نے میرے احسانات کی نا شکری اور حق تربیت کو فراموش کرتے ہوئے ایک اور سنگین جرم کا ارتکاب کیا اور میری قوم کا ایک آدم بلا وجہ قتل کردیا۔ ” وانت من الکفرین “ یہ کفرانِ نعمت سے ہے اکثر المفسرین الجاحدین لنعمتی وحق تربیتی یقول بیناک فینا فکافیتنا ان قتلت منا نفسا و کفرت نعمتنا وھی روایۃ عن ابن عباس (خازن و معالم ج 5 ص 94) ۔
Ayahs 26:19–20

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور کر گیا تو اپنی وہ کرتوت جو کر گیا اور تو ہی ناشکر

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

کہا کیا تو تھا میں نے وہ کام اور میں تھا چوکنے والاف 12

12: یہ دوسرے اعتراض کا جواب ہے بطور لف و نشر غیر مرتب۔ دوسرا اعتراض چونکہ عصمت میں قادح تھا اس لیے اس کا جواب مقدم کیا۔ یعنی قتل کا فعل مجھ سے بلا قصد و ارادہ سرزد ہوا تھا۔ کیونکہ میں نے قبطی کو بطور تادیب مارا لیکن وہ ضرب اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ ” وانا من الضالین ای من الجاھلین۔ واراد (علیہ السلام) بذلک علی ما روی عن قتادہ انہ فعل ذلک جاھلا بہ غیر متعمد ایاہ فانہ (علیہ السلام) انما تعمد الوکز للتادیب فادی الی ما ادی (روح ج 19 ص 69) ۔
Ayah 26:21

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

پھر بھاگا میں13 تم سے جب تمہارا ڈر دیکھا پھر بخشا مجھ کو میرے رب نے حکم اور ٹھہرایا مجھ کو پیغام پہنچانے والا

13:۔ اس غیر ارادی قتل کی وجہ سے مجھے تم سے خطرہ لاحق ہوا تو میں یہاں سے بھاگ نکلا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت عطا فرمائی اور مجھے زمرہ مرسلین میں داخل فرما دیا۔ اس لیے نبوت سے پہلے اگر غیر ارادی طور پر مجھ سے قتل سرزد ہوگیا تو اس کی وجہ سے اب میری نبوت پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔ ” حکما “ سے نبوت یا عقل و حکمت مراد ہے۔ حکما ای حکمۃ او نبوۃ (ابو السعود ج 6 ص 520) ۔ اور یہ دلائل عقلیہ کی طرف اشارہ ہے اور ” وجعلنی من المرسلین “ یہ دلائل نقلیہ اور دلائل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی میں اللہ کی طرف سے جو پیغام اور دعوی لے کر آیا ہوں اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مجھے تینوں قسم کے دلائل بھی عطا فرمائے ہیں۔
Ayah 26:22

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور کیا14 وہ احسان ہے جو تو مجھ پر رکھتا ہے کہ غلام بنایا تو نے بنی اسرائیل کو

14:۔ یہ پہلے اعتراض کا جواب ہے . ای عبدت ای بان عبدت یہ ماقبل کا سبب ہے یعنی یہ تیرا کوئی احسان نہیں، اس لیے کہ تو نے میری قوم کو ذلیل و رسواکر رکھا تھا، تو ان پر ظلم وستم کرتا تھا۔ تو میری قوم کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کردیتا تھا اس لیے تو نے ظلم وعدوان سے ایسے حالات پیدا کردئیے کہ میرے والدین میری تربیت نہ کرسکے اگر تیرا یہ ظلم وجور نہ ہوتا تو میری پرورش میرے ماں باپ ہی کرتے۔ بین ان حقیقۃ انعامہ علیہ تعبید بنی اسرائیل لان تعبیدھم وقصدھم بذبح ابناءھم ھو السبب فی حصولہ عندہ و تربیتہ ولو ترکھم لرباہ ابواہ (مدارک ج 3 ص 138) ۔
Ayah 26:23

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

بولا فرعون15 کیا معنی پروردگارِ عالم کا

15:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دعوے میں کہا تھا ” انا رسول رب العلمین “ اب فرعون نے ان سے سوال کیا وہ ” رب العلمین “ کون ہے اور اس کی صفات کیا ہیں ؟ ” قال رب السموات الخ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ” رب العلمین “ وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان میں ہے ساری کائنات کا مالک ہے۔ اگر تم ماننا چاہو تو یہی کافی ہے کیونکہ جو ساری کائنات کا مالک ہو وہی کارساز، برکات دہندہ اور ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہوسکتا ہے۔
Ayahs 26:24–25

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

کہا پروردگار آسمان اور زمین کا اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے اگر تم یقین کرو

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

بولا16 اپنے گرد والوں سے کیا تم نہیں سنتے ہو

16:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کو بےاثر کرنے کے لیے فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا کیا سنتے نہیں ہوموسی کیا کہہ رہا ہے بھلا میرے سوا بھی کوئی رب ہے۔ ای الا تصغون الی ھذہ المقالہ اغراء بہ و تعجبا اذ کانت عقیدتھم ان فرعون ربھم و معبودھم (بحر ج 7 ص 13) ۔ ” قال ربکم و رب اباء کم الاولین “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت سنجیدگی اور متانت سے پھر فرمایا۔ ہاں ہاں دور کیوں جاتے ہو جس نے تمہیں اور تمہارے باپ دادا کو پیدا فرمایا اور جو سب کی پرورش کرتا ہے وہی سارے جہان کا رب اور کارساز ہے۔ ” قال ان رسولکم الخ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جس قدر سنجیدہ ہورہے تھے فرعون اسی قدر غیر سنجیدہ ہو رہا تھا۔ وہ خائف تھا کہ کہیں ان کی معقول باتوں سے اس کے درباری متاثر نہ ہوجائیں۔ اب کی بار تو وہ اوچھا پن پر اتر آیا اور درباریوں سے بطور استہزاء کہنے لگا یہ تمہارا رسول تو (عیاذا باللہ) دیوانہ ہے بھلا بتاؤ میرے سوا بھی کوئی رب اور معبود ہے۔ لمجنون حیث یزعم ان فی الوجود الھا غیری و کان فرعون ینکر الھیۃ غیرہ (مدارک ج 3 ص 139) ۔
Ayahs 26:26–28

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

کہا پروردگار تمہارا اور پروردگار تمہارے اگلے باپ دادوں کا

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

بولا تمہارا پیغام لانے والا جو تمہاری طرف بھیجا گیا ضرور باؤلا ہے

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

کہا پروردگار مشرق کا اور مغرب کا17 اور کچھ ان کے بیچ ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو

17:۔ اب بھی موسیٰ (علیہ السلام) برہم نہیں ہوئے بلکہ پوری سنجیدگی سے روز مرہ کے مشاہدات سے استدلال پیش کردیا مشرق سے طلوع شمس اور مغرب سے غروب شمس مراد ہے۔ اراد بالمشرق طلوع الشمس و ظہور النھار واراد بالمغرب غروب الشمس وزوال النھار (کبیر ج 6 ص 514) ۔ فرمایا تم روزانہ مشاہدہ کرتے ہو کہ سورج اپنے وقت پر نکلتا اور اپنے وقت پر ڈوبتا ہے۔ اس نظم عجیب اور نسق غریب کے ساتھ سورج کا طلوع غروب جس کے قبضہ قدرت میں ہے وہی رب العالمین ہے۔ اگر تم عقل و خرد سے کام لو تو یہ بات کس قدر واضح اور معقول ہے۔ اس پر فرعون کا مزاج شاہانہ برہم ہوگیا اور اب موسیٰ (علیہ السلام) کو قید کی دھمکی دیدی۔ ” قال لئن التخذت الھا غیری الک “ یعنی تم ان باغیانہ باتوں سے باز آجاؤ اور میری حکومت کو تسلیم کرلو اگر تم نے میری حکومت کو تسلیم نہ کیا تو تمہیں قید کردوں گا۔ ” الٰھا “ سے مراد حاکم ہے خدا مراد نہیں کیونکہ فرعون دہریہ تھا اور خدا کا قائل ہی نہ تھا۔
Ayahs 26:29–30

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

بولا اگر تو نے ٹھہرایا کوئی اور حاکم میرے سوا تو مقرر ڈالوں گا تجھ کو قید میں

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

کہا اور18 اگر لے کر آیا ہوں تیرے پاس ایک چیز کھول دینے والے

18:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ ناصح مشفق تھے اور چاہتے تھے کہ فرعون ایمان لے آئے اس لیے اس کی ہر اوچھی، غیر معقول اور متکبرانہ بات کا معقول اور حکیمانہ جواب دیا اور کسی موقع پر بھی متانت کا دامن نہ چھوڑا۔ فرعون کی دھمکی کے جواب میں کس قدر محکم بات ارشاد فرمائی۔ کیا اگر میرے پاس اپنے دعوے پر واضح دلائل موجود ہوں تب بھی تم مجھے قید کر ڈالو گے اور ان دلائل میں غور وفکر کر کے میری صداقت کو جانچنے کی کوشش نہیں کرو گے۔ والمعنی اتفعل ذلک ولو جئتک بحجۃ بینۃ وانما قال ذلک موسیٰ لان من اخلاق الناس السکون الی الانصاف والاجابۃ الی الحق بالبیان (معالم و خازن ج ص 96) ۔
Ayah 26:31

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

بولا تو وہ چیز لا اگر تو سچ کہتا ہے19

19:۔ فرعون نے کہا ہاں لاؤ وہ کونسی دلیل ہے۔ اگر اپنے اس قول میں سچے ہو تو وہ دلیل پیش کرو۔ فرعون کا مقصد یہ تھا کہ شاید اس کی پیش کردہ دلیل میں بھی کچھ اعتراض اور رد و قدح کی گنجائش مل جائے۔ ” فالقی عصاہ الخ “ موسیٰ (علیہ السلام) نے فوراً اپنی لاتھی زمین پر ڈالدی جو زمین پر گرتے ہی ایک ہیبتناک اژدہا بن گئی جو ہر ایک کو صاف نظر آرہا تھا۔ ” و نزع یدہ الخ “ اس کے بعد اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر جو باہر نکالا تو وہ جگمگا رہا تھا جسے تمام حاضرین نے صاف صاف دیکھا۔
Ayahs 26:32–34

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

پھر ڈال دیا اپنا عصا، سو اسی وقت وہ اژدہا ہوگیا صریح

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اندر سے نکالا اپنا ہاتھ، سو اسی وقت وہ سفید تھا دیکھنے والوں کے سامنے،

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

بولا اپنے گرد کے سرداروں سے20 یہ تو کوئی جادوگر ہے پڑھا ہوا

20:۔ اب فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پیش کردہ عقلی دلائل اور معجزوں کے سامنے بالکل بےبس اور لاجواب ہوچکا تھا اور اس نے خطرہ محسوس کیا کہ کہیں اہل دربار موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مائل نہ ہوجائیں اس لیے اس نے فورًا اپنے درباریوں اور مقربوں سے کہا اب حقیقت واضح ہوگئی کہ موسیٰ پیغمبر نہیں ہے وہ ایک ماہر جادوگر ہے جو جادو کے زور سے تمہارے ملک پر اور تخت و تاج پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اب تم مشورہ دو کہ اب اس سے نجات پانے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ قال ھذا القول علی سبیل التنفیر لا یقبلوا قول موسیٰ (خازن) ۔
Ayahs 26:35–36

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

چاہتا ہے کہ نکال دے تم کو تمہارے دیس سے اپنے جادو کے زور سے، سو اب کیا حکم دیتے ہو

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

بولے ڈھیل دے21 اس کو اور اس کے بھائی کو اور بھیج دے شہروں میں نقیب

21:۔ مقربین دربار نے مشورہ دیا کہ موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو قتل کرنے میں جلدی نہ کرو کیونکہ اس سے فتنے کا اندیشہ ہے۔ بلکہ فی الحال ان کو مہلت دو اور ان کے مقابلے کے لیے ملک کے کونے کونے سے ماہر جادوگروں اور ان کے استادوں کو جمع کرو جن کے مقابلے میں یہ مات کھا کر خود بخود رسوا ہوجائیں گے اور اپنی نبوت و رسالت کا نام بھی نہ لیں گے۔ ” فجمع السحرۃ الخ “ چناچہ مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کردیا گیا اور ملک بھر سے جادوگروں کو اکٹھا کرلیا گیا اور لوگوں کو بھی ترغیب دی گئی کہ وہ بھی مقررہ وقت پر جائے معہود میں پہنچ جائیں تاکہ وہ بھی یہ دلچسپ مقابلہ دیکھ سکیں۔ ” ھل انتم مجتمعون الاستفہام مجاز عن الحث والاستعجال “ (روح ج 19 ص 77) ۔ ” لعلنا نتبع السحرۃ الخ “ یہ مقابلہ نہایت اہم ہوگا کیونکہ ہم اپنے دین پر اطمینان قلب کے ساتھ صرف اسی صورت میں قائم رہ سکیں گے جب کہ ہمارے جادوگر غالب آجائیں۔ اس لیے سب لوگوں کو وہاں پہنچ کر جادوگروں کی ہمت افزائی کرنی چاہئے۔