26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 26:37–41

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

لے آئیں تیرے پاس جو بڑا جادوگر ہو پڑھا ہوا

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

پھر اکٹھے جادوگر وعدہ پر ایک مقرر دن کے

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور کہہ دیا لوگوں کو کیا تم بھی اکٹھے ہو گے

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

شاید ہم راہ قبول کرلیں جادوگروں کی اگر ہو ان کو غلبہ

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

پھر جب آئے22 جادوگر کہنے لگے فرعون سے بھلا کچھ ہمارا حق بھی ہے اگر ہو ہم کو غلبہ

22:۔ جادوگروں نے فرعون کے پاس پہنچ کر سب سے پہلے یہ سوال کیا حضور ! اگر ہم مقابلے میں غالب آگئے اور موسیٰ وہارون کو ہم نے ہرا دیا تو کیا ہمیں اس پر کچھ انعام بھی ملے گا ؟ ” قال نعم الخ “ فرعون نے کہا ضرور۔ انعام بھی ملے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تمہیں مقربین دربار میں شامل کرلیا جائے گا۔ ظالم و جابر حکمران ہمیشہ اہل حق کے مقابلے کے لیے اس قسم کے کرایہ کے علماء کو اپنے گرد جمع رکھا کرتے ہیں۔
Ayahs 26:42–43

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

بولا البتہ اور تم اس وقت مقربوں میں ہو گے

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

کہا ان کو23 موسیٰ نے ڈالو جو تم ڈالتے ہو

23:۔ مقابلے کے لیے جب موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگر آمنے سامنے ہوئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے فرمایا جو کچھ لائے ہو میدان میں ڈالو ” فالقوا حبالھم وعصیھم الخ “ چناچہ انہوں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں میدان میں ڈالدیں تو وہ سانپوں کی طرح حرکت کرنے لگیں۔ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ سارا میدان سانپوں سے بھر گیا ہے جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکتے وقت فرعون کی عزت اور اس کے غلبہ و سلطان کی قسم کھائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنی مہارت فن پر اس قدر اعتماد تھا کہ وہ اپنی کامیابی یقینی سمجھتے تھے۔ ” فالقی موسیٰ عصاہ “ اب موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی لاٹھی ڈالدی جو زمین پر گرتے ہی ایک بہت بڑے اژدہا کی صورت میں منقلب ہوگئی جس نے جادوگروں کے تمام سنپولوں کو ہڑپ کرلیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے لاٹھی پھینکی تھی جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” فاوحینا الی موسیٰ ان الق عصاک “۔
Ayahs 26:44–46

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

پھر ڈالیں انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں اور بولے فرعون کے اقبال سے ہماری ہی فتح ہے

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر ڈالا موسیٰ نے اپنا عصا تبھی وہ نگلنے لگا جو سانگ انہوں نے بنایا تھا

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

پھر اوندھے گرے جادوگر سجدہ میں24 بولے

24:۔ جب انہوں نے اس معجزے کا مشاہدہ کیا تو فوراً سمجھ گئے یہ جادو نہیں بلکہ یہ امر الٰہی ہے اس لیے بلا توقف اور بلا تامل اس طرح سجدے میں گر پڑے گویا کسی نے ان کو پکڑ کر گرا دیا ہو۔ اور زبان سے اعلان کردیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے جو موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا رب ہے۔ ای خروا ساجدین اثر ما شاھدوا ذلک من غیر تلعثم و تردد لعلمھم بان مثل ذلک خارج عن حدود السحر وانہ امر الہی قد ظھر علی یدہ (علیہ السلام) لتصدیقہ (روح ج 19 ص 87) ۔
Ayahs 26:47–49

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

ہم نے مان لیا جہان کے رب کو

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

بولا25 تم نے اس کو مان لیا ابھی میں نے حکم نہیں دیا تم کو مقرر وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو سکھلایا جادو سو اب معلوم کرلو گے البتہ کاٹوں گا تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں اور سولی پر چڑھاؤں گا تم سب کو26

25:۔ فرعون جادوگروں کی ناکامی پر سخت پریشان اور پھر ان کے ایمان لانے پر بہت برہم ہوا اور اپنی خفت مٹانے اور رعیت پر اپنی خدائی کا رعب جمانے اور لوگوں کے دلوں سے اس ناکامی کا اثر زائل کرنے اور جادوگروں کو خوف زدہ کرنے کے لیے اس نے کہا۔ تم میری اجازت کے بغیر ہی موسیٰ پر ایمان لے آئے ہو معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ تم سب کا اس فن میں استاد ہے اور تم سب نے مل کر ایک منصوبہ بنا رکھا ہے اور تم جادو کے زور سے میری سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتے ہو۔ اچھا دیکھو ابھی میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں اور میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔ اب تمہارے الٹے ہاتھ پاؤں (یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں) کٹوا کر تمہیں سولی پر لٹکا دوں گا۔ اس سے اس کا مقصد یہ تھا کہ شاید جادوگر اس سزا کے ڈر سے ایمان لانے سے باز آجائیں نیز رعیت کو باور کرانا مقصود تھا کہ ناکامی اس لیے ہوئی ہے کہ جادوگر اندر سے موسیٰ کے ساتھ ملے ہوئے تھے اس لیے انہوں نے اپنے فن کا پورا مظاہرہ کیا ہی نہیں۔ 26:۔ جادوگروں نے فرعون کی دھمکی کے جواب میں کہا ہمیں سولی پر چڑھائے جانے کی پرواہ نہیں کیونکہ آخر ایک دن مرنا تو ہے ہی اگر ہم اس طرح اللہ کی راہ میں شہید کردئیے جائیں تو ہمیں اور کیا چاہئے۔ ” انا الی ربنا منقلبون “ ما قبل کے لیے تعلیل ہے۔ تعلیل لنفی الضیر ای لا ضیر فی ذلک بل لنا فیہ نفع عظیم لما یحصل لنا من الصبر علیہ لوجہ اللہ تعالیٰ من الثواب العظیم (روح ج 19 ص 80) ۔
Ayahs 26:50–51

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

بولے کچھ ڈر نہیں ہم کو اپنے رب کی طرف پھرجانا ہے

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہم غرض رکھتے ہیں27 کہ بخش دے ہم کو رب ہمارا تقصیریں ہماری اس واسطے کہ ہم ہوئے پہلے قبول کرنے والے

27:۔ یہ ” لا ضیر “ کی دوسری تعلیل ہے۔ ” ان کنا “ ای لان کنا۔ اور ہمیں اس لیے بھی پرواہ نہیں کیونکہ ہمیں اس بات کی آرزو ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہ معاف فرمادے کیونکہ ہم سب سے پہلے ایمان لا رہے ہیں۔
Ayah 26:52

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو28 کہ رات کو لے نکل میرے بندوں کو البتہ تمہارا پیچھا کریں گے

28:۔ جب قوم فرعون پر حجت خداوندی تام ہوگئی اور قوم فرعون کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات و آزادی کا وقت آگیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تم راتوں رات بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر شام کی طرف روانہ ہوجاؤ۔ فرعون لاؤ لشکر کے ساتھ تمہارا تعاقب کرے گا۔ ” فارسل فرعون “ جب فرعون کو معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل کو موسیٰ لے بھاگا ہے تو ان کا تعاقب کرنے کے لیے ملک کے تمام بڑے شہروں سے آدمی اکٹھے کیے۔ ” ان ھؤلاء الخ “ یہ ہیں کیا چیز تھوڑے سے تو ہیں لیکن ہمارے غلام اور ماتحت ہو کر ہماری اجازت کے بغیر ہی نکل کھڑے ہوئے ہیں جس سے ہمارا غضب جوش میں آگیا ہے۔ ” وانا لجمیع حاذرون “ اور اب ہم حزم و احتیاط کے طور پر ان کا تعاقب کر رہے ہیں کہ ان کو پکڑ کر سخت سزا دیں۔
Ayahs 26:53–57

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

پھر بھیجے فرعون نے شہروں میں نقیب

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

یہ لوگ جو ہیں سو ایک جماعت ہے تھوڑی سی

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور وہ مقرر ہم سے دل جلے ہوئے ہیں

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور ہم سارے ان سے خطرہ رکھتے ہیں

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

پھر نکال باہر کیا ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے29

29:۔ فاء فصیحہ ہے۔ فرعون مع لاؤ لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں چل نکلا، اس طرح ہم نے ان کو باغوں اور ٹھنڈے چشموں سے، دولت سے لبریز خزانوں اور شاندار محلات سے نکال باہر کی اور باقیماندہ بنی اسرائیل کو ان کی تمام املاک کا مالک بنا دیا۔ ” کذالک “ کاف بیان کمال کے لیے ہے۔ یعنی قوم فرعون کو سلطنت اور تمام املاک سے محروم کرنا اور بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنا دینا ہمارا ہی کام تھا۔
Ayahs 26:58–60

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

اسی طرح اور ہاتھ لگا دیں ہم نے یہ چیزیں بنی اسرائیل کے

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

پھر پیچھے پڑے ان کے سورج نکلنے کے وقت30

30:۔ جب سورج طلوع ہورہا تھا اس وقت فرعون مع قوم ان کے تعاقب میں روانہ ہوگیا۔ بنی اسرائیل بحیرہ قلزم کے کنارے پہنچے تو پیچھے سے فرعونیوں نے ان کو آلیا۔ ” فلما تراء الجمعن “ جب دونوں لشکروں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو بنی اسرائیل نے کہا ہم تو پکڑے گئے۔ ” قال کلا الخ “ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہرگز نہیں۔ میرا رب حافظ و ناصر ہے وہ دریا کو عبور کرنے کی مجھے کوئی تدبیر بتائے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ تو یقین تھا کہ فرعون انہیں پکڑ نہیں سکے گا اور وہ دریا کو صحیح سلامت عبور کر جائیں گے لیکن ابھی تک انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ اس کی صورت کیا ہوگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غیب دان نہ تھے۔
Ayahs 26:61–63

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

پھر جب مقابل ہوئیں دونوں فوجیں کہنے لگے موسیٰ کے لوگ ہم تو پکڑے گئے

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ ہے میرا رب وہ مجھ کو راہ بتلائے گا

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

پھر حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو31 کہ مار اپنے عصا سے دریا کو پھر دریا پھٹ گیا تو ہوگئی ہر پھانک جیسے بڑا پہاڑ

31:۔ اب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اپنی لاٹھی سمندر پر ماریں۔ ” فانفلق الخ “ چناچہ انہوں نے لاٹھی ماری تو پانی کے درمیان سمندر کی تہ تک بارہ راستے بن گئے اور پانی کا ہر ٹکڑا پہاڑ کی مانند اونچا نظر آنے لگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ برکات دہندہ بھی نہ تھے۔
Ayah 26:64

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور پاس پہنچا دیا ہم نے32 اسی جگہ دوسروں کو

32:۔ جب بنی اسرائیل سمندر کے خشک راستوں سے گذر رہے تھے اس وقت ہم نے دوسروں یعنی قوم فرعون کو بھی سمندر کے قریب کردیا۔ جب انہوں نے یہ راستے دیکھے تو وہ بھی سمندر میں گھس گئے۔ ” فانجینا موسیٰ الخ “ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے صحیح سلامت دوسرے کنارے پہنچا دیا ” ثم اغرقنا الاخرین “ لیکن فرعون اور اس کی قوم کو غرق کردیا۔ ” ان فی ذلک لایۃ الخ “ عبرت حاصل کرنے کے لیے یہ کافی دلیل ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ضد وعناد کی وجہ سے نہیں مانتے۔ اللہ تعالیٰ ایسا غالب ہے کہ وہ سرکش اور معاند لوگوں کو فوراً پکڑ سکتا ہے لیکن یہ اس کی مہربانی ہے کہ وہ مہلت دیدیتا ہے تاکہ مزید سوچنے سمجھنے کا موقع مل جائے۔ بنی اسرائیل کو سمندر میں خشک راستے بنا کر اللہ ہی نے پار اتارا اور قوم فرعون کو بھی اسی ہی نے غرق کیا اس سے معلوم ہوا کہ جب یہ سارے کام اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے تو برکات بھی وہی دیتا ہے اور کوئی نہیں۔
Ayahs 26:65–69

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور بچا دیا ہم نے موسیٰ کو اور جو لوگ تھے اس کے ساتھ سب کو

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر ڈبا دیا ہم نے ان دوسروں کو

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

اس چیز میں ایک نشانی ہے اور نہیں تھے بہت لوگ ان میں ماننے والے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

اور سنا دے ان کو خبر ابراہیم33 کی

33:۔ یہ دوسری نقلی دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی برکات دہندہ نہیں۔ اس سے تخویف دنیوی مطلوب نہیں۔ کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم پر انکار دعوی کی وجہ سے اس وقت عذاب نہیں آیا۔ ” اذ قال لابیہ وقومہ الخ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے سوال کیا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم تو تھا وہ کس چیز کی عبادت کرتے ہیں لیکن وہ اس مکالمے سے ان پر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ جن معبودوں کی وہ عبادت و دعاء میں مصروف ہیں وہ معبود ہونے کے مستحق نہیں ہیں۔ و ابراہیم (علیہ السلام) یعلم انہم عبدۃ الاصنام ولکنہ سالھم لیریھم ان ما یعبدونہ لیس بمستحق للعبادۃ (مدارک ج 3 ص 143) ۔
Ayahs 26:70–71

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

جب کہا اپنے باپ کو اور اس کی قوم کو تم کس کو پوجتے ہو

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

وہ بولے34 ہم پوجتے ہیں مورتوں کو پھر سارے دن انہی کے پاس لگے بیٹھے رہتے ہیں

34:۔ مشرکین نے کہا ہم ٹھاکروں کی عبادت کرتے اور ہر وقت انہی کی پرستش میں لگے رہتے ہیں۔ ” قال ھل یسمعونکم “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اب دوسرا سوال کیا کہ کیا یہ تمہارے معبود تمہاری پکار کو سنتے ہیں، پکارنے کی صورت میں تمہیں نفع پہنچاتے اور نہ پکارنے کی صورت میں تمہیں نقصان پہنچاتے ہیں ؟ ” قالوا بل وجدنا الخ “ یہ مشرکین کا جواب ہے۔ ” بل ‘ ما قبل سے اضرا ہے یعنی وہ نہ سنتے ہیں اور نہ نفع و ضرر ان کے اختیار میں ہے ہم تو محض اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی ان کی پرستش کرتے ہیں ان کے پاس ان معبودوں کے سمیع اور نافع و ضار ہونے کی چونکہ کوئی دلیل نہ تھی اس لیے مجبوراً انہیں اعتراف کرنا پڑا کہ باپ دادا کے عمل کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اضربوا عن ان یکون لھم سمع او نفع او ضرا اعترافا بما لا سبیل لھم الی انکارہ واضطروا الی اظھار ان لا سند لھم سوی التقلید فکانہم قالوا لا یسمعون ولا ینفعونا ولا یضرون وانما وجدنا اباڑنا یفعلون مثل فعلنا ویعبدونھم مثل عبادتنا فاقتدینا بھم (روح ج 19 ص 94) ۔
Ayahs 26:72–75

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

کہا کچھ سنتے ہیں تمہارا کیا جب تم پکارتے ہو

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا کچھ بھلا کرتے ہیں تمہارا یا برا

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

بولے نہیں پر ہم نے پایا اپنے باپ دادوں کو یہی کام کرتے

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

کہا بھلا دیکھتے ہو35 جن کو پوجتے رہے ہو

35:۔ جب مشرکین نے اپنے معبودوں کے عجز کا اعتراف کرلیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا جن معبودوں کی تم اور تمہارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے چونکہ وہ نہ اپنے پجاریوں کی پکار سنتے ہیں، نہ ان کا نفع نقصان ان کے اختیار میں ہے اس لیے مجھے ایسے معبودوں کی عبادت سے سخت نفرت اور عداوت ہے ” الا رب العلمین “ مستثنی منقطع ہے ہاں رب العالمین کی عبادت اور پکار سے نفرت نہیں کیونکہ وہ تو اپنے پجاریوں کا والی ہے، سب کا کارساز اور سب کے نفع نقصان کا مختار ہے، اس کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفتیں ذکر کی ہیں جو معبودانِ باطلہ میں نہیں پائی جاتیں تو اس سے ثابت ہوا کہ اللہ کے سوا کوئی برکات دہندہ نہیں۔