26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 26:76–78

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

تم اور تمہارے باپ دادے اگلے

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

سو وہ میرے غنیم ہیں مگر جہان کا رب

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

جس نے مجھ کو بنایا سو وہی مجھ کو راہ دکھلاتا ہے36

36:۔ اسی نے پیدا کیا ہے اور وہی دین و دنیا کے منافع و مصالح کی طرف راہنمائی فرماتا ہے ” والذی ہو یطعمنی الخ “ میرا روزی رساں بھی وہی ہے ” واذا مرضت الخ “ بیماری سے شفاء بھی وہی عطا کرتا ہے۔ ” والذی یمیتنی الخ “ موت وحیات بھی اسی کے قبضے میں ہے۔ ” والذی اطمع الخ “ اور اسی سے امید ہے کہ قیامت کے دن وہ میری خطا سے درگذر فرمائے گا۔ خطا سے کوئی خاص خطا مراد نہیں ملکہ مطلب یہ ہے کہ اگر مجھ سے کوئی خلاف اولیٰ کام سرزد ہوگیا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر مواخذہ نہ فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر چونکہ اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ فرمانبردار اور اس سے بہت زیادہ ڈرتے ہیں اس لیے وہ عمل کی معمولی فروگذاشت کو بھی گناہ سمجھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی یہ صفات بیان کر کے قوم پر حجت قائم کی تمہارے معبود عاجز و بےبس ہیں اس لیے وہ کارساز اور برکات دہندہ نہیں ہوسکتے اور اللہ تعالیٰ سب کی فریادیں سنتا ہے اور سب کچھ اس کی قدرت میں ہے اور ہر ایک کا نفع نقصان اس کے اختیار میں ہے اس لیے وہی سب کا کارساز اور وہی برکات دہندہ ہے۔ وھذا کلہ احتجاج من ابراہیم علی قومہ انہ لایصلح للالھیۃ الا من یفعل ھذہ الافعال (خازن و معالم ج 5 ص 99) ۔
Ayahs 26:79–83

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

اور وہ جو مجھ کو کھلاتا ہے اور پلاتا ہے

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار ہوں تو وہی شفا دیتا ہے

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

اور وہ جو مجھ کو مارے گا پھر جلائے گا

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور وہ جو مجھ کو توقع ہے کہ بخشے میری تقصیر انصاف کے دن

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

اے میرے رب دے مجھ کو حکم اور ملا مجھ کو نیکوں میں37

37:۔ ” حکما “ سے کمال علمی ” والحقنی بالصلحین “ سے کمال عملی کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی مجھے حکمت اور کمال علم عطا فرما اور کمال عمل کی توفیق عطا فرما کر اپنے برگزیدہ بندوں کی معیت سے سرفراز فرما۔ ” واجعل لی لسان صدق الخ “ ” لسان صدق “ یعنی ذکر خیر، آئندہ نسلوں میں میرا ذکر خیر باقی رکھنا تاکہ وہ نیک کاموں میں میری اقتداء کرتی رہیں اور مجھے اجر ملتا رہے۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں ” لسان صدق “ سے کلمہ صادقہ یعنی دعوی توحید مراد ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ لعلھم یرجعون “ (زخرف رکوع 3) ۔ ممکن ہے آخرین سے امت محمدیہ مراد ہو اور مطلب یہ ہو کہ آخر زمانہ میں ایک پیغمبر معبوث فرما جو میرے اصول دین کی تجدید کرے اور میری طرح لوگوں کو توحید کی دعوت دے۔ التاویل الثانی انہ سال ربہ ان یجعل من ذریتہ فی اخر الزمان من یکون داعیا الی اللہ تعالیٰ وذلک ھو محمد ﷺ (کبیر ج 6 ص 530) ویحتمل ان یراد بالاخرین اخر امۃ یبعث فیھا نبی وانہ (علیہ السلام) طلب ؟ ؟ الحسن والذکر الجمیل فیھم ببعثۃ نبی یجدد اصل دینہ و یدعو الناس الی ما کان یدعوھم الیہ من التوحید معلما لھم ان ذلک ملۃ ابراہیم (علیہ السلام) (روح ج 19 ص 98) ۔
Ayahs 26:84–85

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور رکھ میرا بول سچا پچھلوں میں

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور کر مجھ کو وارثوں میں38 نعمت کے باغ کے

38:۔ اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ ” واغفر لابی الخ “ اور میرا باپ مشرکین میں سے ہے اسے ایمان واسلام کی توفیق عطا فرما کر اس کے گناہ معاف فرما دے۔ واغفر لابی بالھدایۃ والتوفیق للایمان (ابو السعود ج 6 ص 539) ۔ ” و لا تخزنی یوم یبعثون “ اور قیامت کے دن سر محشر مجھے رسوا نہ کیجیو۔ انبیاء (علیہم السلام) کو تو قیامت کے دن سب سے زیادہ اعزازو اکرام سے نوازا جائے گا، ان کی رسوائی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شدت خوف سے بطور تواضع یا بغرض تعلیم غیر یہ دعا مانگی۔
Ayahs 26:86–88

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور معاف کر میرے باپ کو وہ تھا راہ بھولے ہوؤں میں

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور رسوا نہ کر مجھ کو جس دن سب جی کر اٹھیں

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جس دن نہ کام آئے کوئی مال اور نہ بیٹے39

39:۔ یہ ادخال الٰہی ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کلام نہیں۔ یہاں یوم حشر کے شدت ہول کا بیان ہے۔ ” بقلب سلیم “ ایسا دل جو شرک و شک سے محفوظ اور اخلاص سے لبریز ہو۔ ای خالص من الشرک والشک (خازن و معالم ج 5 ص 100) ۔ ” وازلفت الجنۃ الخ “ جنت پرہیز گاروں کے نزدیک کردی جائے گی اور دوزخ کافروں کے لیے ظاہر کردی جائے گی۔ ” وقیل لھم “ اور مشرکین سے کہا جائے گا آج وہ تمہارے معبود کہاں ہیں جن کو تم دنیا میں کارساز اور برکات دہندہ سمجھ کر پکارا کرتے تھے اور انہیں خدا کے یہاں سفارشی سمجھتے تھے ای این الھتکم الذین کنتم تزعمون انھم شفعاء کم فی ھذا الموقف (روح ج 19 ص 301) ۔ کیا آج وہ تمہارے کام آئیں گے یا عذاب سے اپنے کو بچا سکیں گے ؟ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ وہ نہ تمہیں عذاب سے بچا سکیں گے نہ اپنے کو۔
Ayahs 26:89–94

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

مگر جو کوئی آیا اللہ کے پاس لے کر دل چنگا

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور پاس لائیں بہشت کو واسطے ڈر والوں کے

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور نکالیں دوزخ کو سامنے بےراہوں کے

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور کہیں ان کو کہاں ہیں جن کو تم پوجتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

اللہ کے سوائے کیا کچھ مدد کرتے ہیں تمہاری یا بدلہ لے سکتے ہیں

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پھر اوندھے ڈالیں اس میں ان کو اور سب بےراہوں کو40

40:۔ ان مشرکوں اور ان کو گمراہ کرنے والوں کو اور ابلیس کے سارے لشکر کو جو انسانوں کو گمراہ کرتا رہا جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ” قالوا وھم فیھا یختصمون “ مشرکین جہنم میں داخل ہونے کے بعد معبودان باطلہ سے جھگڑیں گے اور حسرت و ندامت سے اپنی غلطی کا اعتراف کریں گے اور معبودان باطلہ سے کہیں گے کہ ہم تو بہت بری گمراہی میں تھے جب استحقاق عبادت میں تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھتے تھے ” وما اضلانا الا المجرمون “ اور ہماری گمراہی کا سبب مشرک پیشوا بنے انہوں ہی ہمیں گمراہ کیا المجرمون من دعاھم الی عبادۃ الاصنام من الجن والانس (بحر ج 7 ص 27)
Ayahs 26:95–99

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور ابلیس کے لشکر کو سبھوں کو

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

کہیں گے جب وہ وہاں باہم جھگڑنے لگیں

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

قسم اللہ کی ہم تھے صریح غلطی میں

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جب ہم تم کو برابر کرتے تھے پروردگارِ عالم کے

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور ہم کو راہ سے بہکایا سو ان گناہ گاروں نے41

41:۔ افسوس جن کو دنیا میں ہم خدا کے یہاں سفارشی سمجھتے تھے آج ان میں سے کوئی بھی ہماری سفارش نہیں کر رہا اور نہ کوئی دوست کام آتا نظر آرہا ہے۔ ” فما لنا من شافعین ولا صدیق حمیم من الذین کنا نعدھم شفعاء واصدقاء لانھم کانوا یعتقدون فی اصنامہم انھم شفعاءھم عند اللہ تعالیٰ وکان لھم اصدقاء من شیاطین الجن (کبیر ج 6 ص 532) ۔
Ayahs 26:100–102

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

پھر کوئی نہیں ہماری سفارش کرنے والے

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی دوست محبت کرنے والا

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

ف 42 سو کسی طرح ہم کو پھرجانا ملے تو ہم ہوں ایمان والوں میں

42:۔ کاش ! ہمیں ایک بار پھر دنیا میں بھیجا جائے تو ہم اخلاص اور صدق نیت سے ایمان لائیں، توحید کو مانیں اور شرک سے دور بھاگیں اور پھر ہمیں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے تو ہم اس عذاب میں مبتلا نہ ہوں۔ ” ان فی ذلک لایۃ الخ “ ان دونوں آیتوں کی تفسیر گذر چکی ہے۔
Ayahs 26:103–105

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

اس بات میں نشانی ہے اور بہت لوگ ان میں نہیں ماننے والے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

جھٹلایا43 نوح کی قوم نے پیغام لانے والوں کو

43:۔ یہ تیسری نقلی دلیل ہے مع تخویف دنیوی۔ اس آیت میں قوم نوح کی طرف بہت سے رسولوں کی تکذیب منسوب کی گئی ہے حالانکہ انہوں نے صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی۔ اسی طرح آگے چل کر عاد وثمود، قوم لوط اور اصحاب الایکہ کے بارے میں یہی کہا گیا ہے کہ انہوں نے بہت سے رسولوں کی تکذیب کی حالانکہ انہوں نے ایک پیغمبر ہی کو جھٹلایا جو ان کے پاس بھیجا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام انبیاء و رسل (علیہم السلام) توحید اور دیگر اصول دین میں متفق تھے اور سب کی دعوت ایک تھی اس لیے ان میں سے ایک کو جھٹلانا اور اس کی دعوت کو نہ ماننا ایسا ہی ہے جیسا سب کو جھٹلا دیا و تکذیبھم المرسلین باعتبار اجماع الکل علی التوحید و اصول الشرائع التی لا تختلف باختلاف الازمنۃ والاعصار (روح ج 15 ص 109) ۔
Ayah 26:106

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے44 کیا تم کو ڈر نہیں

44:۔ ” اخوھم نوح “۔ ضمیر مجرور قوم کی طرف راجع ہے اور اخوت سے قومی اور خاندانی اخوت مراد ہے کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) ان مشرکین ہی کی قوم اور انہی کے خاندان سے تھے اخوھم نسبا لا دینا (مدارک ج 3 ص 154) ۔ حقیقی اخوت کے علاوہ اخوت کی اور بھی کئی قسمیں ہیں مثلا قومی اخوت یعنی ہم قوم ہونا اس میں ہم مذہب ہونا ضروری نہیں، جیسا کہ حضرت نوح، ہود، صالح اور لوط (علیہم السلام) کو اپنی اپنی مشرک قوم کا بھائی کہا گیا۔ اور جنسی اخوت اس لحاظ سے تمام بنی آدم آپس میں بھائی بھائی ہیں اور دینی اخوت یعنی ایک دین و مذہب کے پیرو آپس میں دینی بھائی جیسا کہحضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا تھا ” اعبدوا ربکم واکرموا اخاکم “ یعنی عبادت تو اپنے رب کی کرو اور میں تمہارا بھائی ہوں میرا جو احترام اللہ نے تم پر فرض کیا ہے وہ بجا لاؤ لیکن میری عبادت نہ کرو۔ یہاں اخوت سے دینی اخوت مراد ہے جب آنحضرت ﷺ اپنی امت کے دینی بھائی ٹھہرے تو ظاہر ہے کہ اس ساری دینی برادری میں آپ سب سے بڑے بھائی اور سب سے افضل و اشرف قرار پائے۔ تقویۃ الایمان میں شاہ اسمعیل شہید (رح) کی عبارت کا یہی مفہوم ہے۔
Ayahs 26:107–108

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

میں تمہارے واسطے پیغام لانے والا ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

معتبر45 سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

45:۔ انبیاء (علیہم السلام) ہمیشہ نبوت سے پہہلے بھی اخلاقی محاسن و فضائل سے آراستہ ہوتے ہیں اور اپنی قوموں اور اپنے ماحول میں دیانت و امانت اور دوسری اخلاقی خوبیوں کے ساتھ معروف ہوتے ہیں اس لیے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) نے جن کا ذکر آگے آرہا ہے اپنی اپنی قوم کو اس مسلمہ حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ میری دیانت و امانت کو تو تم پہلے ہی سے جانتے ہو اس لیے میں جو کچھ کہوں گا وہ حقیقت ہوگی میں اللہ کا رسول ہوں اس لیے تم میری اطاعت کرو اور اللہ سے ڈرو، اس کی توحید کو مانو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو۔ فاتقوا اللہ واطیعون فیما امرکم بہ من التوحید والطاعۃ للہ تعالیٰ (روح ج 19 ص 107) اور پھر یہ بھی سوچو اس وعظ و تبلیغ پر میں تم سے کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کر رہا ہوں۔ اس لیے مجھ پر کسی لالچ وغیرہ کا الزام لگانے میں اللہ سے ڈرو اور میری بات مان لو۔
Ayahs 26:109–111

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور مانگتا نہیں میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی پروردگار عالم پر

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

بولے کیا ہم تجھ کو مان لیں46 اور تیرے ساتھ ہو رہے ہیں کمینے

46:۔ مشرکین نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو جواب دیا کہ تجھے ماننے والے تو بہت گھٹیا اور پست طقبہ کے لوگ ہیں اگر ہم بھی تم پر ایمان لے آئیں تو پھر ہمیں ان رذیل لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا ہوگا۔ یہ بات ہم برداشت نہیں کرسکتے سرمایہ دار اور دولت مند طبقے کی خواہ وہ حسب و نسبت کے اعتبار سے کتنا ہی پست ہو ہمیشہ سے یہی ذہنیت رہی ہے کہ غریب اور مفلس طبقہ کو انہوں نے ہمیشہ حقیر و ذلیل سمجھا ہے۔ خواہ حسب و نسب اور محاسن اخلاق کے اعتبار سے وہ کتنا ہی شریف اور بلند ہو۔ یا ” ارذلون “ سے منافق مراد ہیں۔ یعنی یہ لوگ صرف ظاہر میں تجھ پر ایمان لائے ہیں اور باطن میں تیرے دین کے مخالف ہیں وہ حاصلہ و ما وظیفتی الا اعتبار الظواھر دون الشق عن القلوب والتفتیش عما فی السرارئر فما یضرنی عدم اخلاصھم فی ایمانہم کما تزعمون (روح ج 19 ص 108) ۔
Ayahs 26:112–113

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

کہا مجھ کو کیا جاننا ہے اس کا جو کام وہ کر رہے ہیں

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا47 حساب پوچھنا میرے رب کا ہی کام ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو

47:۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا میرا کام ظاہر حال پر حکم لگانا ہے باطن کا حال مجھے معلوم نہیں۔ ” ان حسابھم الخ ‘ تمہیں اتنا بھی شعور نہیں کہ باطن کا حساب کتاب تو اللہ کو معلوم ہے۔ میرا کام ظاہر پر حکم لگانا ہے اس لیے جو لوگ شرک سے تائب ہو کر توحید پر ایمان لا چکے ہیں میں ان کو اپنے پاس سے ہٹا نہیں سکتا۔ ” ان انا الا نذیر مبین “ کیونکہ میرا کام لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچانا اور اس کے عذاب سے ڈرانا ہے خواہ وہ اشراف ہوں یا ارذال اور پھر ان دونوں فریقوں میں سے جو بھی میری دعوت قبول کرلے گا وہ مومن ہے اور میرا ساتھی۔