26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 26:154–155

مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:154 in the Quran reader

تو بھی ایک آدمی ہے جیسے ہم سو لے آ کچھ نشانی اگر تو سچا ہے

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

کہا یہ58 اونٹنی ہے اس کے لیے پانی پینے کی ایک باری اور تمہارے لیے باری ایک دن کی مقرر

58:۔ مشرکین نے صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا تھا کہ ایک مخصوص پتھر میں سے اونٹنی پیدا ہوا اور اسی وقت اس کے ایک بچہ پیدا ہو جو جسم اور قد و قامت میں اس کے برابر ہو۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے نماز پڑھ کر اللہ سے دعا کی تو اللہ نے مشرکین کا منہ مانگا معجزہ ظاہر فرما دیا۔ روی انھم قالوا نرید ناقۃ عشراء تخرج من ھذہ الصخرۃ فتلد سقبا فجعل صلح یتفکر فقال جبریل صل رکعتین واسئل ربک النقۃ ففعل فخرجت الناقۃ ونتجت سقبا مثلھا فی العظم (مدارک ج 3 ص 147) ۔ اب بطور ابتلاء ان پر یہ پابندی لگا دی گئی کہ چشمے سے ایک دن وہ پانی پیا کریں اور اپنے مویشیوں کو پلایا کریں اور دن اونٹنی کے لیے مخصوص رہے ان کی باری میں اونٹنی نہ پیے گی اور اونٹنی کی باری میں وہ پانی استعمال نہ کریں۔ ” ولا تمسوھا بسوء الخ “ نیز اونٹنی کو کسی قسم کی تکلیف بھی مت دینا ورنہ سخت ترین عذاب میں مبتلا کیے جاؤ گے۔
Ayahs 26:156–157

وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:156 in the Quran reader

اور مت چھیڑیو اس کو بری طرح سے پھر پکڑ لے تم کو آفت ایک بڑے دن کی

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

پھر کاٹ ڈالا اس اونٹنی کو59 پھر کل کو رہ گئے پچتاتے

59:۔ پانی کے ایک دن کے ناغہ سے انہیں تکلیف ہونے لگی اس لیے انہوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا اور سب نے خوشی سے ایک آدمی کو اس کام پر مقرر کردیا جس نے اس کی ٹانگیں کاٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کے بعد جب اللہ کا عذاب آگیا تو اب اپنے کیے پر بہت پشیمان ہوئے مگر اب کیا فائدہ چناچہ عذاب صیحہ سے اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ ” ان فی ذلک لایۃ الخ “ اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔
Ayahs 26:158–160

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

پھر آپکڑا ان کو عذاب نے البتہ اس بات میں نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ماننے والے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم کرنے والا

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

جھٹلایا لوط کی قوم نے پیغام لانے والوں کو60

60:۔ یہ چھٹی نقلی دلیل اور تخویف دنیوی ہے۔ ” اذ قال لھم اخوھم لوط “ تا ” علی رب العلمین اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔ ” اتاتون الذکران الخ “ قوم لوط خلاف فطرت فعل کی عادی تھی حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں اس فعل بد سے منع کرتے ہوئے فرمایا کس قدر کم عقلی ہے کہ تم مردوں سے خلاف فطرت فعل کا ارتکاب کرتے ہو اور جنسی تسکین حاصل کرنے کے لیے اللہ نے تمہارے لیے جو بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو ” بل انتم قوم عٰدون الخ “ پھر اس فعل شنیع کے ارتکاب میں تم اس قدرت حد سے گذر چکے ہو کہ تمہاری فطرت ہی مسخ ہوچکی ہے اور تم بھری مجلس میں بھی یہ فعل کرتے ہوئے نہیں شرماتے ہو۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” وتاتون فی نادکم المنکر “ (عنکبوت رکوع 3) ۔
Ayahs 26:161–167

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جب کہا ان کو ان کے بھائی لوط نے کیا تم ڈرتے نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں تمہارے لیے پیغام لانے والا ہوں معتبر

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

اور مانگتا نہیں میں تم سے اس کا کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی پروردگار عالم پر

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کیا تم دوڑتے ہو جہان کے مردوں پر

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور چھوڑتے ہو جو تمہارے واسطے بنادی ہیں تمہارے رب نے تمہاری جو روئیں بلکہ تم لوگ ہو حد سے بڑھنے والے

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

بولے اگر نہ چھوڑے گا تو اے لوط61 تو تو نکال دیا جائے گا

61:۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی مشفقانہ پندو نصیحت کے جواب میں سرکش قوم نے نہایت تند اور طاغیانہ جواب دیا۔ اے لوط ! اگر تو اپنے دعوی نبوت سے اور اس وعظ و تبلیغ سے باز نہ آیا تو ہم تمہیں شہر بدر کردیں گے اور یہاں نہیں رہنے دیں گے۔ ” قال انی لعملکم من القالین “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے قوم کی دھمکی کی ذرا پروا نہ کی اور صاف فرمادیا مجھے تمہارے اس فعل سے سخت نفرت ہے اور میں خود تم سے بیزار ہوں اور تم سے دوری چاہتا ہوں۔ قابل (علیہ السلام) تہدید ھم ذلک بما ذکر تنبیھا علی عدم الاکثرات بہ وانہ راغب فی الخلاص من سوء جو ارھم لشدۃ بغضہ لعملہم (روح ج 19 ص 116) ۔
Ayahs 26:168–169

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

کہا میں تمہارے کام سے البتہ بیزار ہوں

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے رب خلاص کر مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کاموں سے جو یہ کرتے ہیں62

62:۔ اب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اس سے مناجات کی کہ پروردگار ! مجھے اور میرے اہل کو ان کے عمل بد کے وبال و عذاب سے محفوظ رکھیو۔ ” فنجینہ واھلہ الخ “ ہم نے لوط اور ان کے اہل بیت کو عذاب سے بچا لیا البتہ ایک بڑھیا جو مشرکہ تھی اسے اور باقی قوم کو ہلاک کردیا۔ یہ بڑھیا حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی تھی۔ ” وامطرنا علیھم الخ ” ان کی بستی کو تہ وبالا اور اوپر سے سخت پتھروں کی بارش برسا دی۔ ” ان فی ذلک لایۃ الخ “ قد مر تفسیرہ۔
Ayahs 26:170–176

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو سب کو

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا رہ گئی رہنے والوں میں

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر اٹھا مارا ہم نے ان دوسروں کو

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور برسایا ان پر ایک برساؤ سو کیا برا برساؤ تھا ان ڈرائے ہوؤں کا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

البتہ اس بات میں نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں تھے ماننے والے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

جھٹلایا بن کے رہنے والوں نے پیغام لانے والوں کو63

63:۔ یہ ساتویں نقلی دلیل اور تخویف اخروی ہے۔ ” اذ قال لھم شعیب “ تا ” علی رب العلمین “ اس کی تفسیر گذر چکی ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا نسبی تعلق چونکہ اہل مدین سے تھا اصحاب الایکہ سے نہیں تھا اس لیے یہاں ” اخوھم شعیب “ نہیں فرمایا اور جہاں اہل مدین کی طرف ان کی بعثت کا ذکر کیا وہاں فرمایا۔ ” والی مدین اخاھم شعیبا “ (ھود رکوع 8) لم یقل ھنا اخوھم شعیب لانہ لم یکن من نسبھم بل کان من نسب اھل مدین ففی الحدیث ان شعیبا اخا مدین ارسل الیھم والی اصحاب الایکۃ (مدارک ج 3 ص 148) ۔
Ayahs 26:177–181

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جب کہا ان کو شعیب نے کیا تم ڈرتے نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تم کو پیغام پہنچانے والا ہوں معتبر

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی پروردگار عالم پر

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

پورا بھر کر دو ناپ64 اور مت ہو نقصان دینے والے

64:۔ شرکم کے علاوہ ان لوگوں میں ایک خرابی یہ تھی کہ وہ ناپ تول میں بد دیانتی کرتے تھے۔ اس لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا ناپ درست رکھو اور کم ناپ کر لوگوں کی حق تلفی نہ کرو۔ ” و زنو بالقسطاس الخ “ اور صحیح ترازو سے تولا کرو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پیمانے اور باٹ کم و بیش مقدار کے بنا رکھے تھے۔ لیتے وقت زیادہ مقدار والے پیمانے اور باٹ استعمال کرتے اور دیتے وقت کم مقدار والے۔” ولا تبخسوا الناس الخ “ اس طرح بد دیانتی سے لوگوں کے حقوق غصب نہ کرو۔ ” ولا تعثوا فی الارض مفسدین “ اور قتل و غارت اور ڈکیتی سے ملک میں بد امنی اور بےچینی نہ پھیلاؤ۔ ” واتقوا اللہ الذی خلقکم الخ “ اس اللہ سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا فرمایا یہ حقیقت میں تخویف دنیوی ہے یعنی اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا جس طرح وہ پیدا کرنے پر قادر ہے اسی طرح وہ عذاب سے تمہیں ہلاک بھی کرسکتا ہے۔ وامرھم ثانیا بتقوی من اوجدھم و اوجد من قبلھم تنبیہا علی ان من اوجدھم قادر علی ان یعذبھم ویھلکہم (بحر ج 7 ص 38) ۔
Ayahs 26:182–185

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور تولو سیدھی ترازو سے

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور مت گھٹادو لوگوں کو ان کی چیزیں اور مت دوڑو ملک میں خرابی ڈالتے ہوئے

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور ڈرو اس سے جس نے بنایا تم کو اور اگلی خلقت کو

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

بولے65 تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے

65:۔ قوم نے جواب میں کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے جس سے (عیاذا باللہ) تیرا دماغ متاثر ہوگیا ہے اور تو نبوت کا دعوی کر بیٹھا ہے کیونکہ تو ہماری مانند بشر ہے بھلا بشر بھی نبی ہوسکتا ہے ؟ اس لیے تو تجھے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ اس پر مزید کلام حاشیہ 57 میں گذر چکا ہے۔ ” فاسقط علینا الخ “ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو آسمان ہم پر گرا کر ہمیں ہلاک کردے ” قال ربی اعلم الخ “ فرمایا عذاب لانا میرے اختیار میں نہیں، میرا رب تمہاری تمام بد اعمالیوں کو جانتا ہے وہ جب چاہے گا تمہیں پکڑ لے گا۔
Ayahs 26:186–189

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تو بھی ایک آدمی ہے جیسے ہم اور ہمارے خیال میں تو تو جھوٹا ہے

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

سو گرا دے ہم پر کوئی ٹکڑا آسمان کا اگر تو سچا ہے

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

کہا میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

پھر اس کو جھٹلایا پھر پکڑ لیا66 ان کو آفت نے سائبان والے دن کی بیشک وہ تھا عذاب بڑے دن کا

66:۔ آخر جب قوم تکذیب پر قائم رہی تو اللہ نے ان کو عذاب ظلہ سے ہلاک کردیا جو بڑا ہی دردناک عذاب تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے اللہ نے اصحاب الایکہ پر شدید گرمی مسلط کردی وہ گرمی سے بھاگ کر گھروں میں داخل ہوئے تو وہاں باہر سے بھی زیادہ گرمی تھی آخر پھر گھروں سے باہر نکل آئے۔ پھر اللہ نے ایک بادل (ظلہ) بھیج دیا سب اس کے سائے میں جمع ہونے شروع ہوگئے۔ جب سب اس کے نیچے جمع ہوگئے تو اللہ نے اس ظلہ سے آگ برسا دی جس سے سب جل کر ہلاک ہوگئے۔ ھی سحابۃ اظلہم بعد ما حبست عنھم الریح وعذبوا بالحر سبعۃ ایام فاجتمعوا تحتھا مستجیرین بھا مما نالھم من الحر فامطرت علیہم نارا فاحترقوا (مدارک ج 3 ص 149) ۔ ” ان فی ذلک لایۃ الخ “ ان دونوں سورتوں کی تفسیر پہلے گذر چکی ہے۔ اب آگے دعوی ” تبارک “ پر ایک دلیل وحی اور مزید دو نقلی دلیلیں ذکر کی گئی ہیں۔ ایک کتب سابقہ سے اور ایک علماء بنی اسرائیل سے۔
Ayahs 26:190–192

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

البتہ اس بات میں نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ماننے والے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور یہ قرآن ہے اتارا ہوا پروردگارِ عالم کا67

67:۔ یہ ابتدائے سورت میں ” وما یاتیہم من ذکر من الرحمن الخ “ سے متعلق ہے اور ” انہ “ میں ضمیر منصوب دعوی ” تبارک “ سے کنایہ ہے اور یہ دعوی ” تبارک “ پر دلیل وحی ہے یا ضمیر سے قرآن مراد ہے۔ مشرکین اس دعوے کی تکذیب اور اس سے استہزاء کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ دعوی تو رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ” نزل بہ الروح الخ “ جسے روح امین حضرت جبریل (علیہ السلام) نے آپ کے قلب مبارک پر اتارا ہے تاکہ آپ اس دعوے کی تبلیغ فرمائیں اور نہ ماننے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔ آپ کے اولین مخاطب چونکہ عرب ہیں اس لیے اسے فصیح عربی زبان کے الفاظ کا جامہ پہنا کر نازل کیا گیا۔