26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 26:114–116

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں ہانکنے والا نہیں ایمان لانے والوں کو

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو بس یہی ڈر سنا دینے والا ہوں کھول کر

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

بولے اگر تو نہ48 چھوڑے گا اے نوح تو ضرور سنگسار کردیا جائے گا

48:۔ حضرت نوح (علیہ السلام) عرصہ دراز تک اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیتے رہے اور قوم ضد پر اڑی رہی آخرت قوم کے سرداروں نے نوح (علیہ السلام) کو قتل کی دھمکی دی کہ اے نوح اگر اتو اپنے اس عقیدے اور اس وعظ سے باز نہ آیا تو ہم تجھے سنگسار کردیں گے۔ ” قال رب ان قومی کذبون “ اب نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ میرے پروردگار میری مسلسل تبلیغ کے باوجود میری قوم تکذیب پر قائم ہے اس لیے اب میرے اور ان کے درمیان آخری فیصلہ فرما دے یعنی ان پر عذاب نازل کر کے ان کو ہلاک کردے اور مجھ کو اور ایمان والوں کو اس عذاب سے بچا لے۔
Ayahs 26:117–119

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

کہا اے رب میری قوم نے تو مجھ کو جھٹلایا

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

سو فیصلہ کر دے میرے ان کے بیچ میں کس طرح کا فیصلہ اور بچا لے مجھ کو اور جو میرے ساتھ ہیں ایمان والے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

پھر بچا دیا ہم نے49 اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے اس لدی ہوئی کشتی میں

49:۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعاء کے مطابق ہم نے ان کی قوم پر طوفان بھیج دیا۔ نوح اور اس کے مومن ساتھیوں کو کشتی میں محفوظ رکھا اور طوفان سے بچا لیا لیکن باقی تمام مشرکوں کو غرق کر کے ہلاک کردیا اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے نوح (علیہ السلام) اور مومنوں کو طوفان سے بچایا اور یہی نوح (علیہ السلام) کی دعوت تھی نیز مشرکین قوم نوح کے اس انجام بد سے مشرکین مکہ کو عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
Ayahs 26:120–123

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

پھر ڈبا دیا ہم نے اس کے پیچھے ان باقی رہے ہوؤں کو

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

البتہ اس بات میں نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ہیں ماننے والے،

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

جھٹلایا عاد نے پیغام لانے والوں کو50

50:۔ یہ چوتھی نقلی دلیل اور تخویف دنیوی ہے۔ ” اذ قال لھم اخوھم ھود “ تا ” ان اجری الا علی رب العلمین “ اس کی تفسیر ابھی گذری ہے۔ ” اتبنون بکل ریع الخ “ ریع بلند جگہ، آیۃ علامت، مینار، مصانع، عالیشان محلات۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم کو دعوت توحید دینے کے بعد متنبہ فرمایا کہ تم ہر بلند پہاڑ اور ٹیلے پر شان و شوکت کے اظہار کے لیے بےمقصد اونچے اونچے مینار بنا رہے ہو اور بڑی عالیشان عمارتیں تعمیر کر رہے ہو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم دنیا میں ہمیشہ رہنے کی امیدیں باندھے بیٹھے ہو۔ ” واذا بطشتم الخ “ پہلا ’ بطشتم “ ‘ شرط اور دوسرا جزا ہے اور جبراین، بطشتم ثانی کے فاعل سے حال ہے یعنی دولت وریاس کے خمار میں غریبوں میں پر ٖظلم و جبر بھی کرتے ہو۔
Ayahs 26:124–126

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جب کہا ان کو ان کے بھائی ہود نے کیا تم کو ڈر نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

میں تمہارے پاس پیغام لانے والا معتبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو51

51:۔ اس لیے تم اللہ سے ڈرو اور ان تمام عبث اور ظالمانہ افعال کو چھوڑ دو اور اللہ کی طرف سے جو احکام میں لایا ہوں ان کی پیروی کرو۔ ” واتقوا الذی امدکم الخ “ قوم کو اللہ کے انعامات یاد دلائے تاکہ ان کے دلوں میں جذبہ تشکر پیدا ہو۔ یعنی اس اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں وہ تمام نعمتیں عطا کیں جو تمہیں خوب معلوم ہیں اور جن سے تم دن رات فائدہ اٹھاتے ہو۔ ” امدکم بانعام الخ “ یہ ” امدکم بما تعملون “ سے بدل ہے۔ یعنی جس نے تمہیں چوپائے عطا کیے جن سے تم گوناگوں فوائد حاصل کرتے ہو۔ اس نے تمہیں فرند عطا فرمائے جن سے تمہاری زندگی کی رونق اور تمہاری نسل کا بقاء ہے۔ اس نے تمہارے لیے باغ اگائے اور پانی کے چشمے جاری فرمائے۔
Ayahs 26:127–135

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی جہان کے مالک پر

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

کیا بناتے ہو ہر اونچی زمین پر ایک نشان کھیلنے کو

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

اور بناتے ہو کاریگریاں شاید تم ہمیشہ رہو گے

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب ہاتھ ڈالتے ہو تو پنجہ مارتے ہو ظلم سے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور ڈرو اس سے جس نے تم کو پہنچائیں وہ چیزیں جو تم جانتے ہو

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

پہنچائے تم کو چوپائے اور بیٹے

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

اور باغ اور چشمے

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

میں ڈرتا ہوں52 تم پر ایک بڑے دن کی آفت سے

52:۔ میری قوم ! مجھے خطرہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے مسلسل انعامات کے باوجود کفران نعمت کرو گے اور اللہ کے سوا اوروں کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھد کر پکارتے رہوگے تو آخر ایک دن نہایت ہی دردناک عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے۔” قالوا سواء علینا الخ “ سرکش اور معاند قوم نے جواب دیا اے ہود ! تیرے وعظ و تبلیغ کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوگا نہ ہم تیری بات مانیں گے، اس لیے تیرا وعظ کرنا اور نہ کرنا ہمارے لیے برابر ہے۔ ای لانقبل کلامک و دعوتک وعظت ام سکت (مدارک ج 3 ص 146) ۔
Ayahs 26:136–137

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

بولے ہم کو برابر ہے تو نصیحت کرے یا نہ بنے تو نصیحت کرنے والا

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

اور کچھ نہیں یہ باتیں عادت ہے اگلے لوگوں کی53

53:۔ ” خلق، یعنی عادت۔ یہ عالیشان محل بنانا اور یادگاریں تعمیر کرنا اور دنیوی نعمتوں سے متمتع ہونا یا ایسا توحید کا وعظ سننا سنانا کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ تو ایک پرانی ریت اور ڈگر ہے جس پر پہلے لوگ چلے آرہے ہیں۔ تم سے پہلے کئی وعظ سنانے والے آئے مگر ہمارے باپ دادا اپنے دین پر قائم رہے اور ہم بھی ان کے دین پر قائم ہیں۔ وہ آئے اور چلے گئے، ہم بھی آئے ہیں اور آخر مرجائیں گے یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ کوئی حشر و نشر نہیں اور نہ کوئی جزاء و سزا ہے۔ ما ھذا الذی نحن علیہ من الدین الا خلق الاولین و عادتھم کانوا بہ یدینون و نحن بہم مقتدون او ما ھذا الذی نحن علیہ من الحیاۃ والموت الا عادۃ لم یزل علیہا الناس فی قدیم الدھر او ما ھذا الذی جئت بہ من الکذب الاعادۃ الاولین کانوا یلفقون مثلہ ویسطرونہ (کبیر ج 6 ص 536) ۔
Ayah 26:138

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم پر آفت نہیں آنے والی54

54:۔ یہ مرنا جینا دنیا کا پرانا دستور ہے اس کے بعد کوئی حشر و نشر اور ثواب و عقاب نہیں۔ ” فکذبوہ الخ “ آخرت قوم نے ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو انہیں ہلاک کردیا گیا۔ اس واقعہ میں کافی عبرت و نصیحت ہے۔
Ayahs 26:139–141

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

پھر اس کو جھٹلانے لگے تو ہم نے ان کو غارت کردیا اس بات میں البتہ نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ماننے والے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

جھٹلایا ثمود نے پیغام لانے والوں کو55

55:۔ یہ پانچویں نقلی دلیل اور تخویف اخروی ہے۔ ” اذ قال لھم اخوھم صلح “ تا ” علی رب العلمین “ اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔ ” اتترکون الخ ” ما موصولہ ” ھہنا “ صلہ۔ ” اٰمنین “ ، ” تترکون “ کے نائب فاعل سے حال ہے۔ ” فی جنت الخ “ ” فی ما ھہنا “ سے بدل ہے (روح) ۔ کیا تم یہاں دنیا میں، ان باغوں اور چشموں میں، ان سرسبزو شاداب کھیتوں، تروتازہ اور گھنے گچھوں سے لدی ہوئی کھجوروں میں ہمیشہ ہی داد عیش دیتے رہو گے اور خدا کے یہاں حاضر نہیں ہوگے ؟ ” وتنحتون الخ “ یہ ” تترکون “ پر معطوف ہے۔ ” فارھین “ ای اشرین بطرین کما روی عن ابن عباس۔ قال ابو صالح حاذقین وبذالک فسرہ الراغب (روح ج 19 ص 113) ۔ یعنی کیا تم دنیا میں ہمیشہ ہی پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر فخر و مباہات کے طور پر یا اظہار مہارت و فن کاری کے لیے عظیم الشان گھر بناتے رہو گے۔
Ayahs 26:142–144

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جب کہا ان کو ان کے بھائی صالح نے کیا تم ڈرتے نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

میں تمہارے پاس پیغام لانے والا ہوں معتبر

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو56

56:۔ تمہیں دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا اس لیے خدا سے ڈرو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو اور میری اطاعت کرو، میں حکم خداوندی سے صراط مستقیم کی طرف تمہاری راہنمائی کر رہا ہوں۔ ” ولا تطیعوا امر المسرفین “ مسرفین سے کفر و شرک میں قوم کے راہنما اور رؤساء مراد ہیں۔ والمسرون ھم کبراءھم واعلامھم فی الکفر والاضلال وکانو تسع ۃ رھط یفسدون فی الارض (بحر ج 7 ص 35) المسرفین قال ابن عباس المشرکون (خازن و معالم ج 5 ص 102) جو لوگ کفر و شرک اور گمراہی کی اشاعت کر کے ملک میں شر و فساد پھیلا رہے ہیں ان کی پیروی مت کرو۔
Ayahs 26:145–153

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی جہان کے پالنے والے پر

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

کیا چھوڑے رکھیں گے تم کو یہاں کی چیزوں میں بےکھٹکے،

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

باغوں میں اور چشموں میں

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کا گابھا ملائم ہے

وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ Open ayah 26:149 in the Quran reader

اور تراشتے ہو پہاڑوں کے گھر تکلف کے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:150 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 26:151 in the Quran reader

اور نہ مانو حکم بیباک لوگوں کا

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 26:152 in the Quran reader

جو خرابی کرتے ہیں ملک میں اور اصلاح نہیں کرتے

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ Open ayah 26:153 in the Quran reader

بولے تجھ پر تو کسی نے57 جادو کیا ہے

57:۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جواب دیا اے صالح ! تیرے پاس کوئی وحی نہیں آئی اصل بات یہ ہے کہ تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کی وجہ (العیاذ باللہ) تیری عقل میں خلل واقع ہوگیا اور تو نے نبوت کا دعوی کردیا ہے ورنہ ” مانت الا بشر مثلنا “ تو بھی ہم جیسا بشر اور انسان ہی تو ہے پھر تم میں کونسی امتیازی خوبی ہے کہ تمہیں نبوت کے لیے چن لیا گیا ہے۔ ” فات بایۃ الخ “ لہذا اگر واقعی تم سچے ہو تو اپنے دعوے کی سچائی پر کوئی عجیب و غریب نشان پیش کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین اپنی کم عقلی اور کوتاہ فہمی کی وجہ سے نبوت اور بشریت میں منافات سمجھتے تھے ان کا خیال تھا کہ نبوت ایک ایسا بلند پایہ اعزاز ہے جو کسی بشر کو نہیں مل سکتا۔ اس لیے نبی تو نوری فرشتہ ہونا چاہیے نہ کہ خاکی بشر۔ انک بشر مثلنا فکیف تکون نبیا وھذا بمنزلۃ ماکانوا یذکرون فی الانبیاء انھم لوکانوا صادقین لکانوا من جنس الملائکۃ کبیر ج 6 ص 537) ۔