Ayahs 26:193–19668:۔ یہ دلیل نقلی از کتب سابقہ کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ دعوی کوئی نیا نہیں بلکہ کتب سابقہ میں بھی مذکور ہے اور اگر ضمیر سے قرآن مراد ہو تو اس میں تاویل کرنی پڑے گی یعنی ذکر القرآن۔ یا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن کے اغلب مضامین کتب سابقہ میں موجود ہیں ای وان ذکر القران لفی الکتب المتقدمۃ و قیل وان معناہ لفی الکتب المتقدمۃ وھو باعتبار الاغلب فان التوحید وسائر ما یتعلق بالذات والصفات و کثیر من المواعظ والقصص مسطور فی الکتب السابقۃ (روح 19 ص 125) ۔ چونکہ اس صورت میں تاویل کرنی پڑتی ہے اس لیے انسب یہی ہے کہ ضمیر منصوب سے دعویٰ ” تبارک “ مراد ہو جیسا کہ حضرت شیخ قدس سرہ کی رائے ہے۔ ” اولم یکن لھم ایۃ الخ “ یہ علماء بنی اسرائیل سے دلیل نقلی کی طرف اشارہ ہے۔ کیا ان کے لیے یہ دلیل کافی نہ تھی کہ اس دعوے کو علماء بنی اسرائیل بھی مانتے ہیں اور اس کی حقانیت کا اعتراف کرتے ہیں۔ علماء بنی اسرائیل سے وہ علماء مراد ہیں جو ایمان لا چکے تھے۔ علماء بنی اسرائیل عبداللہ بن سلام و نحوہ قالہ ابن عباس و مجاھد (بحر ج 7 ص 41) ۔
Ayahs 26:197–19869:۔ یہ مشرکین کے فرط عناد کا بیان ہے جو دلائل عقلیہ و نقلیہ کے باوجود نہیں مانتے۔ ان کی ضد وعناد کا یہ عالم ہے کہ اگر ہم یہ فصیح وبلیغ عربی قرآن کسی عجمی پر نازل کردیتے جو عربی زبان سے بالکل نابلد ہوتا اور اس کے باوجود معجزانہ طور پر صحیح صحیح پڑھ کر ان کو سنا دیتا تو وہ پھر بھی نہ مانتے اور نہ ماننے کے لیے کئی بہانے تراش لیتے۔ المراد بیان فرط عنادھم و شندۃ شکیمتھم فی المکابرۃ (روح ج 19 ص 127) ۔ ” ولو نزلنہ علی بعض الاعاجم الذی لا یحسن العربیۃ فضلا ان یقدر علی نظم مثلہ فقراہ علیھم ھکذا معجزا الکفروا بہ کما کفروا و لتمحلوا لجحودھم عذرا و سموہ سحر (مدارک ج 3 ص 150) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم یہ قرآن کسی عجمی پر عجمی زبان میں نازل کردیتے تو غرور و استکبار کی وجہ سے اس پر ایمان نہ لاتے اور عذر کرتے کہ ہم اس کی زبان ہی نہیں سمجھتے وقیل المعنی ولو نزلناہ علی بعض الاعجمین بلغۃ العجم فقراہ علیھم ما کانوا بہ مومنین لعدم فھمہم واستنکافہم من اتباع العجم (ابو السعود ج 6 ص 558) ۔ لیکن علامہ ابو السعود اس معنی کو مناسب مقام نہیں سمجھتے چناچہ وہ معنی مذکور کے بعد فرماتے ہیں ولیس بذلک فانہ بمعزل من المناسبۃ لمقام بیان تمادیھم فی المکابرۃ والعناد۔
Ayahs 26:199–20070:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” سلکنہ “ میں ضمیر مفعول شرک و تکذیب یا استہزاء سے کنایہ ہے۔ قال ابن عباس والحسن و مجاھد ادخلنا الشرک والتکذیب (معالم و خازن ج 5 ص 105) ، مشرکین کے دلوں میں شرک کی بیماری اور پھر توحید کی تکذیب اور اس سے استہزاء کا روگ سرایت کرچکا ہے اور وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ المناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔ ” فیاتیہم بغتۃ الخ “ لیکن عذاب اچانک انہیں آ لے گا اور اس سے پہلے انہیں اس کا علم نہ ہوگا تاکہ اس کی آمد سے پہلے وہ ایمان لے آئیں۔ ” فیقولوا الخ “ جب عذاب آپہنچے گا تو اب حسرت و افسوس کے ساتھ تمنا کریں گے کہ انہیں مہلت مل جائے تاکہ وہ اپنی گذشتہ بد اعمالیوں کی تلافی کرسکیں۔
Ayahs 26:201–204ٖف 71:۔ یہ مشرکین پر زجر ہے یعنی یہ ظالم ایک طرف تو مطالبہ کرتے ہیں کہ عذاب جلدی آئے اور دوسری طرف جب عذاب آجاتا ہے تو پھر مہلت مانگتے ہیں۔ ” افرایت ان متعنہم “ تا ” ما کانوا یمتعون “ یہ مشرکین کے عناد و مکابرہ کی مزید و ضاحت ہے نیز یہ بتانا مقصود ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے بغیر عمر میں اضافہ انہیں عذاب خداوندی سے ہرگز نہیں بچا سکے گا۔ یعنی اگر ہم ان کو سالہا سال مزید مہلت دیدیں اور وہ عیش و عشرت کے مزے لے لیں۔ اس کے بعد ان کے مسلسل کفر و شرک کی وجہ سے موعود عذاب آجائے تو اس مہلت سے انہیں کیا فائدہ پہنچے گا۔ نہ وہ ضد وعناد کی وجہ سے کفر و انکار سے باز آئیں گے، نہ خدا کا عذاب ان سے ٹل سکے گا۔
Ayahs 26:205–20872:۔ تخویف دنیوی ہے۔ یعنی ہم نے اپنی حجت قائم کرنے سے پہلے کسی قوم کو ہلاک نہیں کیا۔ ہم نے ہر قوم میں دعوت توحید پیش کرنے والے اور ہمارے عذاب سے ڈرانے والے پیغمبر بھیجے۔ جب قوم نے مسلسل ان کی تکذیب کی تو ہم نے اس کو ہلاک کردیا۔ ہم نے کسی قوم پر ظلم نہیں کیا اور حجت قائم کرنے سے پہلے کسی قوم کو عذاب نہیں دیا۔
Ayahs 26:209–21073:۔ یہ ” وانہ لتنزیل رب العلمین “ سے متعلق ہے۔ اس کے بارے میں مشرکین نے دو شب ہے ظاہر کیے تھے اول یہ کہ محمد ﷺ کے تابع جن ہیں جو اس کے پاس خبریں لاتے ہیں۔ دوم یہ کہ وہ شاعر ہے اور اس کا کلام شاعرانہ ہوتا ہے جو سننے والوں کو فوراً متاثر کردیتا ہے۔ یہ مشرکین کے پہلے شبہہ کا جواب ہے۔ وھو رد لقول مشرکی قریش ان لمحمد ﷺ تابعا من الجن یخبرہ کما تخبر الکھنۃ وان القران مما القاہ الیہ (علیہ الصلوۃ والسلام) (روح ج 19 ص 132) ۔ یعنی اس قرآن کو جو دعوی ” تبارک “ پر مشتمل ہے شیاطین لے کر نہیں آئے۔ کیونکہ شیاطین جو سراسر ناپاک اور خبیث ہیں اس لائق ہی نہیں اور نہ ان میں اس کی طاقت ہی ہے اس لیے کہ ملا اعلی کی باتیں سننے سے انہیں دور کردیا گیا ہے اور ان کی وہاں تک رسائی ممکن ہی نہیں۔
Ayahs 26:211–21374:۔ فاء فصیحہ ہے اور یہ ماقبل کا ثمرہ اور نتیجہ ہے جو پانچ امور پر مشتمل ہے یہ امر اول ہے۔ یعنی جب ثابت ہوگیا کہ برکات دہندہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں اور یہ دعوی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اب اللہ کے سوا حاجات میں کسی کو مت پکارو ورنہ سخت عذاب ہوگا۔ ” وانذر عشیرتک الاقربین “ یہ دوسرا امر ہے اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی ڈراؤ کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو برکات دہندہ نہ سمجھیں۔ ” واخفض جناحک الخ “ یہ تیسرا امر ہے جو ایمان لا چکے ہیں ان سے نرمی کا برتاؤ کریں۔ ” فان عصوک الخ “ یہ چوتھا امر ہے مشرکین جو آپ کی بات نہیں مانتے ان سے آپ صاف کہہ دیں کہ میں تمہارے مشرکانہ اعمال سے بیزار ہوں۔ ” و توکل علی العزیز الخ “ یہ پانچواں امر ہے اور اس میں آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ اگر مشرکین آپ کی بات نہیں مانتے تو آپ فکر نہ کریں وہ آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے آپ اللہ پر بھروسہ کریں وہ آپ کو مشرکین پر غلبہ عطا فرمائے گا۔ کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے وہ اپنے دشمنوں کو مغلوب اور اپنے دوستوں کو غالب کرتا ہے۔
Ayahs 26:214–21875:۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہے جو آپ کی تمام نقل و حرکت کو دیکھات ہے ” حین تقوم “ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ ” وتقلبک فی السجدین “ اور جب صحابہ کو نماز پڑھاتے ہیں اس وقت ایک حالت نماز سے دوسری حالت میں آپ کے تقلب کو بھی جانتا ہے یعنی قیام، رکوع، سجود اور قعود وغیرہ حالات میں۔ (حین تقوم) ای الی الصلوۃ (و تقلبک) ای ویری سبحانہ تعیرک من حال کالجلوس والسجود والی اخر کالقیام (فی السجدین) ای فیما بین المصلین اذا اممتھم (روح ج 19 ص 137) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب آپ نماز تہجد کے لیے اٹھتے ہیں اس وقت بھی وہ آپ کو دیکھتا ہے ” وتقلبک فی السجدین “ اور نماز تہجد پڑھنے والوں میں آپ کے چلنے پھرنے کو بھی دیکھتا ہے۔ ” الساجدین “ سے صحابہ کرام ؓ مراد ہیں جو نماز تہجد پڑھتے تھے آنحضرت ﷺ رات کو چکر لگا کر معلوم کرتے کہ صحابہ ؓ کس طرح اللہ کی عبادت میں مصروف ہیں۔ وھو ذکر ما کان یفعلہ فی جوف اللیل من قیامہ للتھجد و تقلبہ فی تصفح احوال المتھجدین من اصحابہ لیطلع علیھم من حیث لایشعرون و لیعلم کیف یعبدون اللہ و یعملون لاخرتھم (مدارک ج 3 ص 152) ۔ ” انہ ھو السمیع العلیم “ یہ ما قبل کے لیے علت ہے یعنی وہ آپ کے تمام احوال کو جانتا ہے اس لیے کہ وہ سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ سیوطی وغیرہ اور شیعوں نے ” ساجدین “ سےحضور ﷺ کے آباء و اجداد مراد لیے ہیں اور اس سے یہ ثابت کیا ہے کہحضور ﷺ کے آباء و اجداد میں کوئی مشرک نہیں ہوا۔ لیکن یہ مفہوم خلاف ظاہر ہے اور نہ اس سے اس پر استدلال صحیح ہے جیسا کہ علامہ آلوسی فرماتے ہیں۔ انی لا اقول بحجیۃ الایۃ علی ھذا المطلب (روح ج 19 ص 138) ۔
Ayahs 26:219–22176:۔ یہ پہلے جواب ہی سے متعلق ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر شیاطین کا نازل ہونا محال ہے۔ یعنی شیاطین تو کاہنوں کے پاس آتے ہیں جو بڑے ہی جھوٹے اور بد عمل ہوتے ہیں۔ وہ شیطانوں کی باتیں غور سے سنتے ہیں اور ان کی اکثر باتیں جھوٹی اور بےاصل ہوتی ہیں۔ لیکن اس کے برعکس محمد ﷺ سراپا صدق و صفا ہیں، انہوں نے آج تک ساری زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا، ان کا کردار بھی آئینے کی مانند پاک اور شفاف ہے اس لیے شیاطین کا آپ کے پاس آنا ناممکن اور محال ہے۔ وحیث کانت ساحۃ رسول اللہ ﷺ منزھۃ عن ان یحوم حولھا شائبۃ شیء من تلک الاوصاف اتضح استحالۃ تنزلھم علیہ (علیہ الصلوۃ والسلام) (ابو السعود ج 6 ص 564) ۔
Ayahs 26:222–22477:۔ یہ مشرکین کے دوسرے شب ہے کا جواب ہے۔ مشرکین نے کہا تھا کہ محمد ﷺ شاعر ہے اور شعراء کی طرح شعر بناتا ہے تو یہاں اس کا جواب دیا گیا۔ مسوق لتنزیھہ (علیہ الصلوۃ والسلام) ایضا عنان یکون و حاشاہ من الشعراء و ابطال زعم الکفرۃ ان القران من قبیل الشعر (روح ج 19 ص 145) ۔ یعنی شاعروں کی پیروی تو گمراہ لوگ کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ شعراء چونکہ خود گمراہ ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنے اشعار میں کفر و شرک اور ضلالت وغوایت کے جو مضامین بیان کرتے ہیں، گمراہ لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔
Ayah 26:22578:۔ یہ شاعروں کے گمراہ ہونے کی پہلی دلیل ہے۔ یہ بات مشاہدے میں آچکی ہے کہ شعراء ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ وہ حق و باطل ایک ہی چیز کی مدح و ہجاد اور افراط وتفریط غرضیکہ ہر میدان میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ” وانھم یقولون الخ “ یہ ان کے غاوی (گمراہ) ہونے کی دوسری دلیل ہے کہ ان کے قول اور عمل میں موافقت نہیں ہوتی وہ زبان سے کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ان دونوں گمراہیوں سے پاک ہے۔ آپ کی زبان سے صرف حق ہی نکلتا ہے اور آپ جو کچھ زبان سے فرماتے ہیں اس کے موافق عمل بھی کرتے ہیں۔ فقد ظھر بہذا ان حال محمد ﷺ ما کان یشبہ حال شعراء (کبیر ج 6 ص 594) ۔
Ayahs 26:226–22779:۔ مومن اور نیک شعراء کو ماقبل سے مستثنی کردیا گیا۔ وہ شعراء جو مومن اور صالح ہیں اور اپنے اشعار میں اللہ کی توحید، اس کی حمد و ثنا، مدح پیغمبر (علیہ السلام) اور ترغیب و ترہیب کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کسی کی ہجو میں ابتداء نہیں کرتے ہاں اگر کوئی اسلام پر یا پیغمر خدا ﷺ کی ذات پر حملہ کرے تو اس کا جواب دیتے ہیں۔ ای کان ذکر اللہ وتلاوۃ القران اغلب علیہم من الشعر واذا قالو شعرا قالوہ فی توحید اللہ تعالیٰ والثناء علیہ والحکمۃ والموعظۃ والزھد والادب و مدح رسول اللہ ﷺ والصحابۃ و صلحاء الامۃ ونحو ذلک مما لیس فیہ ذنب (مدارک ج 3 ص 153) ۔
80:۔ یہ تخویف دنیوی ہے ” الذین ظلموا “ سے مشرک مراد ہیں جو توحید کا انکار کرتے اورحضور ﷺ پر طرح طرح کے طعن کرتے تھے ای اشرکوا وھجوا رسول اللہ صلی اللہ علی ہو سلم وھو الطاھر المطہر من الھجاء (خازن و معالم ج 5 ص 110) ۔ اب مشرکین طرح طرح کے اعتراض کرتے ہیں اور ضد وعناد سے دعوی توحید کو نہیں مانتے لیکن عنقریب ہی جان لیں گے کہ ان کا کیا انجام ہونے والا ہے۔ یہ مشرکین کے لیے وعید شدید ہے ولما ذکروا انتصروا من بعد ما ظلموا توعد الظالمین ھذا التوعد العظیم الھائل الصادع للاکباد دابھم فی قولہ ای منقلب ینقلبون (بحر ج 7 ص 79) تہدید شدید و وعید اکید (روح ج 19 ص 153) (و اخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین)
سورة الشعراء میں آیات توحید
1 ۔ ” اولم یروا الی الارض “ تا ” من کل زوج کریم “ جب سارے کام اللہ تعالیٰ کرتا ہے تو برکات دہندہ بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔
2 ۔ ” اذ قال لابیہ و قومہ “ تا ” وجدنا اباء نا کذلک یفعلون “ (رکوع 5) نفی شرک فی التصرف۔
3 ۔ ” الذی خلقنی فھو یہدین “ تا ” والذی یمیتنی ثم یحیین “۔ یہ سارے کام اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں اس لیے کارساز اور برکات دہندہ بھی وہی ہے۔
4 ۔ ” وقیل لھم اینما کنتم تعبدون “ تا ” وما اضلنا الا المجرمون “۔ مشرکین جن کو برکات دہندہ اور سفارشی سمجھتے ہیں قیامت کے دن وہ ان کو خدا کے عذاب سے نہیں چھڑا سکیں گے۔ معلوم ہوا کہ دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ ہی برکات دہندہ ہے اور کوئی نہیں۔
5 ۔ ” وانہ لتنزیل رب العلمین “ تا ” علمؤا بنی اسرائیل “ (رکوع 11) ۔ دعوی ” تبارک “ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، وہ پہلی کتابوں میں بھی مذکور ہے اور علماء اہل کتاب بھی اس کی صداقت کو جانتے ہیں۔
6 ۔ ” فلا تدع مع اللہ الھا اخر فتکون من المعذبین “ جب ثابت ہوگیا کہ اللہ کے سوا کوئی برکات دہندہ نہیں تو حاجات و بلیات میں اس کے سوا کسی کو مت پکارو۔
سورة شعراء ختم ہوئی