25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsجواھر القرآن

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بڑی برکت ہے2 اس کی جس نے3 اتاری فیصلہ کی کتاب اپنے بندہ پر تاکہ رہے جہان والوں کے لیے ڈرانے والا

2:۔ ” تبارک الخ “ یہ دعوی سورت ہے۔ یعنی ہر خیر و برکت اور ہر منفعت اللہ ہی کی جانب سے وہی برکات دہندہ ہے۔ اس کے سوا خیر و برکت کسی کے اختیار و تصرف میں نہیں جاء بکل برکۃ وخیر (خازن ج 5 ص 93) ۔ عن ابن عباس معناہ جاء بکل برکۃ دلیلہ قول الحسن مجیئ البرکۃ من قبلہ (معالم بحاشیہ خازن) ۔ برکات دہندہ چونکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں اس لیے یہ لفظ (تبارک) غیر اللہ کیلئے استعمال نہیں ہوتا۔ وھذا الفعل لا یسند فی الاغلب الی غیرہ تعالیٰ (روح ج 18 ص 320) ۔ وھی کلمۃ تعظیم لہ لا تستعمل الا للہ وحدہ (مدارک ج 3 ص 121) ۔ 3:۔ ” الذی نزل الخ “ یہ دعوی سورت پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ موصول مع صلہ ما قبل کے لیے معرض علت میں ہیں۔ ” الفرقان “ مراد قرآن ہے کیونکہ قرآن حق و باطل، توحید و شرک اور حلال و حرام کو واضح کرتا اور ایک کو دوسرے سے جدا کرتا ہے سماہ ھھنا الفرقان لانہ یفرق بین الھق والباطل والھدی والضلال والغی والرشاد والحلال والحرام (ابن کثیر ج 3 ص 308) ۔ ” لیکون للعلمین نذیرا “۔ اللہ نے اپے بندے پر یہ فرقان نازل کیا تاکہ وہ لوگوں کو ڈرائے کہ اللہ تعالیٰ تم سے حساب لے گا اور مجرموں کو سزا دے گا جب حساب لینا اور سزا دینا اسی کا کام ہے تو بلا شبہ برکات دہندہ بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔
Ayah 25:2

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہ کہ جس کی ہے سلطنت4 آسمان اور زمین میں اور نہیں پکڑا اس نے بیٹا اور نہیں کوئی اس کا ساجھی سلطنت میں اور بنائی ہر چیز پھر ٹھیک کیا اس کو ناپ کر

4:۔ ” الذی لہ الخ “: یہ دوسری عقلی دلیل ہے زمین و آسمان کی سلطنت اور سارے جہان کا نظام کار اسی کے ہاتھ میں ہے۔ زمین و آسمان کی بادشاہی میں کوئی اس کا نائب اور شریک نہیں لہذا اس کے سوا برکات دہندہ بھی کوئی نہیں۔ ” وخلق کل شیء الخ “ یہ تیسری عقلی دلیل ہے اور اسی ہی نے ہر چیز کو اس کے صحیح معیار کے مطابق پیدا فرمایا۔ جب ہر چیز کا خالق ومالک وہی ہے اور تخت بادشاہی پر بھی بھی وہی متمکن ہے تو بتاؤ برکات دینے والا کوئی اور ہوگا ؟ ہرگز نہیں ! لہذا وہی برکات دہندہ ہے۔ ” لم یتخذ ولدا “ کی تعبیر بتا رہی ہے کہ یہاں نسبی ولدیت کی نفی مقصود ہے جو اللہ کے نیک بندوں کو اس کے لیے بمنزلہ اولاد سمجھتے تھے یعنی کسی کو اس نے اولاد کی طرح نائب اور کار مختار نہیں بنا رکھا، ای لم ینزل احدا منزلۃ الولد (روح ج 18 ص 232) ولم یخذ ولدا الظار نفی الاتخاذ ای لم ینزل احدا منزلۃ الولد (بحر ج 6 ص 480) ولم یتخذ ولدا فبین سبحانہ انہ ھو المعبود ابدا ولا یصح ان یکون غیرہ معبود او وارثا للملک عنہ (کبیر ج 6 ص 445) ۔ ” فقدرہ تقدیرا “ ہر چیز کو ٹھیک ٹھیک اندازے کیساتھ وہی رکھتا ہے تو کیا برکت ڈالنے والا کوئی اور ہوگا۔
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور لوگوں نے پکڑ رکھے ہیں اس سے ورے کتنے حاکم جو نہیں بناتے کچھ چیز5 اور وہ خود بنائے گئے ہیں اور نہیں مالک اپنے حق میں برے کے اور نہ بھلے کے اور نہیں مالک مرنے کے اور نہ جینے کے اور نہ جی اٹھنے کے

5:۔ ” واتخذوا من دونہ الخ “ یہ مشرکین پر زجر ہے اور اس کے ضمن میں چوتھی عقلی دلیل مذکور ہے۔ یہ مشرکین کیسے ضدی ہیں کہ ایسے واضح عقلی دلائل کی موجودگی میں بھی اپنے ایسے عاجز معبودوں کو برکات دہندہ سمجھتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا کرنا تو درکنار وہ خود مخلوق ہیں اور دوسروں کو نفع نقصان پہنچانا تو ایک طرف وہ خود اپنے نفع نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ نہ موت وحیات ان کے قبضے میں ہے نہ دوبارہ زندہ کرنا ان کے اختیار میں۔ حالانکہ الہ اور برکات دہندہ وہی ہوسکتا ہے جو ان مذکورہ بالا صفات سے متصف ہو، مشرکین کے خود ساختہ معبود چونکہ ان صفات سے عاری ہیں اس لیے خیر و برکت بھی ان کے اختیار میں نہیں۔
Ayahs 25:4–5

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کہنے لگے6 جو منکر ہیں اور کچھ نہیں ہے یہ مگر طوفان باندھ لایا ہے اور ساتھ دیا ہے اس کا اس میں اور لوگوں نے سو آگئے بےانصافی اور جھوٹ پر

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہنے لگے یہ نقلیں ہیں پہلوں کی جن کو اس نے لکھ رکھا ہے، سو وہ ہی لکھوائی جاتی ہیں اس کے پاس صبح اور شام

6:۔ ” وقال الذین کفروا الخ “ یہ پہلا شکوی ہے۔ مشرکین کہتے تھے محمد ﷺ کا یہ دعوی کہ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس کا خود ساختہ ہے، اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ ” واعانہ علیہ قوم اخرون “ یہ دوسرا شکوی ہے اور اس خیال کی ساخت پرداخت میں کئی دوسرے لوگ بھی اس کے معاون ہیں۔ ” فقد جاء وا ظلما و زورا “ یہ ادخال الٰہی ہے اس میں مشرکین کے قول مذکور کو سراسر بےانصافی اور جھوٹ قرار دیا گیا۔ ” وقالوا اساطیر الاولین الخ “ یہ تیسرا شکوی ہے۔ مشرکین کہتے یہ قرآن تو محض اگلے لوگوں کے قصے کہانیوں کا مجموعہ ہے جو اس نے کسی سے لکھوا رکھا ہے بس صبح و شام عبارت اور اسلوب کے الٹ پھیر سے وہی اس کے سامنے پڑھا اور رٹا جاتا ہے۔
Ayah 25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

تو کہہ7 اس کو اتارا ہے اس نے جو جانتا ہے چھپے ہوئے بھید آسمانوں میں اور زمین میں بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

ف 7:۔” قل انزلہ الخ “ یہ تینوں مذکورہ شکو وں کا جواب ہے نیز دعوی سورت پر چوتھی عقلی دلیل ہے یہ دعوی اور یہ قرآن جو اس دعوی کو بیان کر رہا ہے، کسی بشر کا خود ساختہ نہیں اور قرآن قصے کہانیوں کی کتاب ہے۔ بلکہ یہ قرآن جو دعوی مذکورہ کا حامل ہے اول سے آخر تک اس رب جہاں کا نازل کردہ ہے جو سارے جہان کی تمام پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے، وہ ایسا در گذر کرنے والا اور مہربان ہے کہ ایسے معاندین کو بھی مہلت دیتا ہے اور جلدی نہیں پکڑتا یمھلھم ولا یعاجلھم بالعقوبۃ وان اسوجبوھا بمکابرتھم (مدارک ج 3 ص 122) ۔ جب عالم الغیب بھی وہی ہے اور غفور رحیم بھی تو برکات دہندہ بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔
Ayah 25:7

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور کہنے لگے8 یہ کیسا رسول ہے کھاتا ہے کھانا اور پھرتا ہے بازاروں میں کیوں نہ اترا اس کی طرف کوئی فرشتہ کہ رہتا اس کے ساتھ ڈرانے کو

8:۔ ” وقالوا مال الخ “ یہ مشرکین پر چوتھا شکوی ہے۔ وہ کہتے یہ پیغمبر تو کھانے پینے کا محتاج ہے اور کسب معاش کے لیے بازاروں کا چکر بھی کاٹتا ہے پھر ہم ہیں اور اس میں کیا فرق باقی رہا اور اسے ہم پر کیا فوقیت حاصل ہے کہ اس کو نبوت مل گئی۔ و اذا کان کذلک فمن این لہ الفضل علینا ولا یجوز ان یمتاز عنا بالنبوۃ (خازن ج 5 ص 94) ۔ ” لولا انزل الیہ الخ “ یہ پانچواں شکوی ہے۔ ینی اول تو یہ چاہئے تھا کہ پیغمبر بشر نہ ہوتا بلکہ ہوتا ہی فرشتہ یا پھر کم از کم اس کے ساتھ کوئی فرشتہ آتا جو اس کی تصدیق و تائید کرتا ھلا انزل الیہ ملک من عند اللہ فیکون لہ شاھدا علی صدق ما یدعیہ (ابن کثیر ج 3 ص 310) ۔
Ayahs 25:8–9

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا آپڑتا اس کے پاس9 خزانہ یا ہوجاتا اس کے لیے ایک باغ کہ کھایا کرتا اس میں سے اور کہنے لگے بےانصاف تم پیروی کرتے ہو اس ایک مرد جادو مارے کی

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

دیکھ کیسی بٹھلاتے ہیں تجھ پر مثلیں سو بہک گئے اب پا نہیں سکتے راستہ

9:۔ ” او یلقی الخ “ یہ مشرکین پر چھٹا شکوی ہے اگر یہ واقعی اللہ کا رسول ہوتا تو اس کے پاس آسمانوں سے دولت کا خزانہ نازل کیا جاتا تاکہ وہ کسب معاش کا محتاج نہ رہتا یا اس کا کوئی باغ ہی ہوتا جس پر وہ باعزشت طور سے گذر بسر کرتا۔ ” وقال الظلمون الخ “ یہ مذکورہ تینوں شکو وں سے متعلق ہے یعنی یہ معاندین اور، بےانصاف لوگ محض ازراہ عناد و مکابرہ کہتے ہیں کہ تم جس شخص کو پیغمبر مان کر اس کی پیروی کر رہے ہو وہ تو آسیب زدہ ہے اور (عیاذا باللہ) اس کی عقل ٹھکانے نہیں۔ ” انظر کیف ضربوا الخ “ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ یہ ظالم محض ضد وعناد سے آپ کے لیے کیسی کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں وہ ضد اور ہٹ کی وجہ سے راہ راست سے بہت دور ہوچکے ہیں اور ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اس لیے اب انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔ آگے مذکورہ بالا تینوں شکو وں کے جوابات ذکر کیے گئے بطور لف و نشر غیر مرتب۔
Ayahs 25:10–11

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

بڑی برکت ہے اس کی جو چاہے تو10 کر دے تیرے واسطے اس سے بہتر باغ کہ نیچے بہتی ہیں ان کے نہریں اور کر دے تیرے واسطے محل

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

کچھ نہیں وہ جھٹلاتے ہیں قیامت کو اور ہم نے تیار کی ہے اس کے واسطے کہ جھٹلایا ہے قیامت کو آگ

10:۔ ” تبرک الذی الخ “ یہ دعوی سورت کا اعادہ ہے اور لف و نشر غیر مرتب کے طور پر چھٹے شکوے کا جواب ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آپ کو دولت کے خزانے اور باغات نہیں دئیے تو اس میں بھی اس کی حکمت پوشیدہ ہے وہ دنیا کے عوض آخرت میں آپ کو نہایت عمدہ باغات اور عالیشان محلات عطا کرے گا۔ ” بل کذبوا بالساعۃ الخ “ یہ ماقبل سے ترقی ہے اس میں مشرکین کے شکوے کی وجہ بتائی گئی ہے یعنی وہ چونکہ آخرت کے منکر ہیں اس لیے کہتے ہیں کہ پیغمبر کو دنیا میں دولت اور باغات کیوں نہیں دئیے گئے یا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف غیر اللہ کو برکات دہندہ سمجھتے ہیں بلکہ وہ تو قیامت کا بھی انکار کرتے ہیں۔ ” واعتدنا لمن کذب “ سے ” وادعوا ثبورا کثیرا “ تک منکرین کے لیے تخویف اخروی ہے۔
Ayahs 25:12–14

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جب وہ دیکھے گی ان کو دور کی جگہ سے سنیں گے اس کا جھنجھلانا11 اور چلانا

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب ڈالے جائیں گے اس کے اندر ایک جگہ تنگ میں ایک زنجیر میں کئی کئی بندھے ہوئے پکاریں گے اس جگہ موت کو

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

مت پکارو آج ایک مرنے کو اور پکارو بہت سے مرنے کو

11:۔ ” اذا راتھم الخ “ یہ آتش جہنم کی شدت کا بیان ہے۔ ” رات “ کی ضمیر جہنم کی طرف راجع ہے۔ قیامت کے دن جب جہنم کی آگ دور سے دوزخیوں کے سامنے ہوگی اور وہ اسے دیکھ لیں گے تو اس کا غیظ و غضب اس قدر جوش میں آجائے گا کہ وہ دور ہی سے اس کی غضبناک آوازیں اور خوفناک پھنکاریں سن کر دہشت زدہ ہوجائیں گے ” زفیر “ سے آتش جہنم کی وہ خوفناک آواز مراد ہے جو اس کے شدید جوش اور غلیان سے پیدا ہوگی۔ سمعوا صوت طیبھا واشتعالھا (بحر ج 6 ص 485) ۔ ” واذا القوا منہا الخ “ ” مکانا “ مفعول فیہ ہے اور ” منھا “ اس سے حال مقدم ہے۔ ای فی مکان فھو منصوب علی الظرفیۃ و (منھا) حال منہ (روح ج 18 ص 243) ۔ ” مقرنین “ القوا کے نائب فاعل سے حال ہے ” ثبورا “ ہلاکت اور موت، جب مجرموں کو زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی نہایت تنگ کوٹھڑیوں میں ڈال دیا جائے گا تو وہ مضطربانہ موت کو پکاریں گے تاکہ ان کی زندگیوں کا خاتمہ ہوجائے اور وہ عذاب سے بچ جائیں۔ ” لا تدعو الیوم ثبورا واحدا الخ “ ان کے جواب میں فرشتے کہیں گے یعنی ایک بار مریں تو چھوٹ جائیں، دن میں ہزار بار مرنے سے بد تر حال ہوتا ہے (موضح القرآن) ۔
Ayahs 25:15–16

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

تو کہہ12 بھلا یہ چیز بہتر ہے یا باغ ہمیشہ رہنے کا جس کا وعدہ ہوچکا پرہیزگاروں سے وہ ہوگا ان کا بدلہ اور پھرجانے کی جگہ

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

ان کے واسطے وہاں ہے جو وہ چاہیں رہا کریں ہمیشہ ہوچکا تیرے رب کے ذمہ وعدہ مانگا ملتا

12:۔ ” قل اذلک خیر “ تا ” وعدا مسئولا “ بشارت اخروی ہے اور استفہام تنبیہ کے لیے ہے۔ کیا یہ دردناک عذاب اچھا ہے یا وہ جنت جس کا شرک اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچنے والوں سے وعدہ کیا گیا ہے جو انہیں بطور جزاء ملے گا اور جس میں ان کا آخر کار ٹھکانا ہوگا ؟ ہر ذی عقل فیصلہ کرسکتا ہے کہ جنت ہی بہتر ہے۔ اس لیے ہر دانشمند کو وہی راستہ اختیار کرنا چاہئے جو جنت کی طرف لے جائے۔ ” لھم فیھا الخ “ جنت کے مزید عیش و آرام کا بیان ہے اس میں اہل جنت کو ہر چیز ملے گی اور ان کی ہر خواہش پوری ہوگی۔ ” خالدین “ مذکورہ بالا ضمائر میں سے کسی ایک سے حال ہے۔ ترجیح اس کو ہے کہ ” یشاءون “ کی ضمیر سے حال ہو (مدارک) ۔ ” وعدا مسئولا “ اللہ تعالیٰ مالک حقیقی اور غنی وحمید ہے اس لیے اس پر کسی چیز کی مسئولیت عائد نہیں ہوتی لہذا مسئولیت یہاں وعدے کی عظمت سے کنایہ ہے یا مطلب یہ ہے کہ وعدہ اس لائق ہے کہ لوگ اپنی دعاؤں میں اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کریں۔ مسوئلیۃ کنایۃ عن کونہ امرا عظیما ویجوز ان یراد کون الموعود مسئولا حقیقۃ بمعنی یسالہ الناس فی دعائھم بقولھم ربنا اتینا ما وعدتنا علی رسلک الخ (روح ج 18 ص 247) ۔
Ayah 25:17

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن جمع کر بلائے گا ان کو اور جن کو وہ پوجتے ہیں اللہ کے سوائے پھر ان سے کہے گا کیا تم نے بہکایا میرے13 ان بندوں کو یا وہ آپ بہکے راہ سے

13:۔ ” ویوم یحشرھم الخ “ یہ تخویف اخروی ہے اور خصوصیت سورت کا ذکر ہے۔ ” و یعبدون من دون اللہ “ سے یہاں انبیاء علیہم السلام، فرشتے اور اللہ کے نیک بندے مراد ہیں جن کی دنیا میں پرستش کی گئی اور جنہیں برکات دہندہ سمجھ کر پکارا گیا۔ یرید المعبودین من الملائکۃ والمسیح و عزیر (مدارک ج 3) ۔ ” وال الجمہور من عبد ممن یعقل ممن لم یامر بعبادتہ کالملائکۃ و عیسیٰ و عزیر وھو الاظہر (بحر ج 6 ص 488) ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان معبودین سے پوچھے گا کیا میرے ان بندوں کو جو دنیا میں تمہیں کارساز اور برکات دہندہ سمجھتے تھے تم نے گمراہ کیا تھا اور اپنی الوہیت کی ان کو تعلیم دی تھی ؟ یا وہ خود ہی گمراہ ہوئے تھے ؟ ” قالوا سبحنک الخ “ اللہ کے وہ نیک بندے بصد عجز و نیاز عرض کریں گے بارے الٰہا ! تو پاک ہے اور تیری شان اس سے برتر ہے کہ تیرا کوئی شریک ہو۔ ہمارے لیے تو یہ بھی جائز نہ تھا کہ ہم تیرے سوا خود اپنے لیے بھی کسی اور کو کارساز اور برکات دہندہ تجویز کرتے تو پھر یہ کیونکر ہوسکتا تھا کہ ہم دوسروں کو اپنی کارسازی اور الوہیت کی تلقین کرتے۔ ماکان لنا ان نامرھم بعبادتنا و نحن نعبد و نحن عبیدک (معالم و خازن ج 5 ص 96) ۔
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

بولیں گے تو پاک ہے ہم سے بن نہ آتا تھا کہ پکڑلیں کسی کو تیرے بغیر رفیق لیکن تو ان کو فائدہ14 پہنچاتا رہا اور ان کے باپ دادوں کو یہاں تک کہ بھلا بیٹھے تیری یاد اور یہ تھے لوگ تباہ ہونے والے

14:۔ ” ولکن متعتھم الخ “ اے ہمارے پروردگار ان گمراہ لوگوں کو تو نے دنیوی منافع عطا کیے۔ یہ ظالم پکارتے تو رہے ہم کو لیکن بطور آزمائش ان کی حاجت روائی تو کرتا رہا اور دنیوی منافع بھی تو ہی ان کو عطا فرماتا رہا یہانتک کہ وہ تیری الوہیت سے غافل ہوگئے اور تیرے سوا اوروں کو برکات دہندہ سمجھنے لگے۔ ” وقوما بورا “ اس طرح شقاوت اور بدبختی ان پر غالب آگئی اور وہ گمراہ ہو کر ہلاک ہوگئے۔ الٰھی انت الذی اعطیتہ جمیع مطالبہ من الدنیا حتی صار کا لغریق فی بحر الشھوات واستغراقہ فیھا صار صادا لہ عن التوجہ الی طاعتک والاشتغال بخدمتک (کبیر ج 6 ص 459) ۔
Ayah 25:19

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

سو وہ تو جھٹلا چکے تم کو تمہاری بات میں15 اب نہ تم لوٹا سکتے ہو اور نہ مدد کرسکتے ہو اور جو کوئی تم میں گناہ گار ہے اس کو ہم چکھائیں گے بڑا عذاب

15:۔ ” فقد کذبوک الخ “ اس سے پہلے فیقال لھم مقدر ہے یعنی نیک بندوں کے جواب کے بعد مشرکین سے کہا جائے گا کہ دیکھ لو جن کو تم برکات دہندہ سمجھ کر پکارا کرتے تھے انہوں نے بھی تمہیں جھٹلا دیا ہے تمہارا دعوی تھا کہ وہ تمہارے کارساز اور برکات دہندہ ہیں مگر انہوں نے اپنی الوہیت کا صاف انکار کردیا ہے اور یہ بھی اعلان کردیا ہے کہ انہیں تمہاری پکار کی خبر تک نہ تھی۔ جیسا کہ دوسری جگہ ان کا قول نقل کیا گیا ہے۔ ” فکفی باللہ شہیدا بیننا و بینک ان کنا عن عبادتکم لغفلین “ ( سورة یونس رکوع 3) ۔ ” فما تستطیعون الخ “ جن کو تم برکات دہندہ سمجھتے تھے آج وہ تم سے عذاب کو نہیں ہٹا سکیں اور نہ کسی اور طریقے سے تمہاری کچھ مدد کرسکیں گے۔ ” ویظلم منکم الخ “ خطاب عام ہے تمام مکلفین سے یعنی تم میں سے جو بھی ان مشرکین کی طرح کفر و شرک کرے گا اسے ہم بہت سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ ومن یظلم ای کفر منکم ایھا المکلفون و یعبد من دون اللہ تعالیٰ الھا اخر کھؤلاء الکفرۃ الخ (روح ج 18 ص 2) ۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور جتنے بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے16 رسول سب کھاتے تھے کھانا اور پھرتے تھے بازاروں میں اور ہم نے رکھا ہے تم میں ایک دوسرے کے جانچنے کو دیکھیں ثابت بھی رہتے ہو اور تیرا رب سب کچھ دیکھتا ہے

16:۔ ” وما ارسلنا الخ یہ چوتھے شکوے کا جواب ہے۔ یعنی رسل سابقین علیہم السلام، جن کو تم بھی رسول مانتے ہو، لوازم بشریہ ان کے ساتھ بھی لگے ہوئے تھے وہ کھانا بھی کھاتے اور کسب معاش کے لیے بازاروں کے چکر بھی کاٹتے تھے اس لیے اگر تمہاری بات مان لی جائے تو پھر رسل سابقین (علیہم السلام) کی رسالت کی بھی نفی ہوجائیگی حاصل یہ ہے کہ ہماری سنت مستمرہ ہی یہی ہے کہ انسانوں کے پاس انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا جائے اس لیے حضرت محمد ﷺ کا بشر اور انسان ہونا کوئی اور اچنبھے کی بات نہیں کہ اس کی وجہ سے آپ کی رسالت ہی کا انکار کردیا جائے۔ ” وجعلنا بعضکم الخ “ یہ جواب کا تتمہ اور آنحضرت ﷺ کیلئے تسلی ہے یعنی کسی کو غنی اور کسی کو فقیر کرنے سے امتحان و ابتلاء مقصود ہے۔ ” اتصبرون “ کیا تم اس ابتلاء پر صبرو کرو گے ؟ استفہام سے مقصود امر ہے یعنی صبرو کرو۔ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھر رہا ہے وہ صابر اور غیر صابر کو جانتا ہے اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دے گا۔ فتنۃ ای محنۃ وابتلاء وھذا تصبیر لرسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم عما عیروہ بہ من الفقر و مشیہ فی السواق یعنی انہ جعل الاغنیاء فتنۃ للفقراء فیغنی من یشاء و یفقر من یشاء (مدارک ج 3 ص 124) ۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور بولے17 وہ لوگ جو امید نہیں رکھتے کہ ہم سے ملیں گے کیوں نہ اترے ہم پر فرشتے یا ہم دیکھ لیتے اپنے رب کو بہت بڑائی رکھتے ہیں اپنے جی میں اور سر چڑھ رہے ہیں بڑی شرارت میں

17:۔ ” وقال الذین الخ “ یہ پانچویں شکوے کا اعادہ ہے برائے بیان زیادت یعنی ” او نری ربنا “ مشرکین جو منکرین بعث بھی ہیں کہتے ہیں ہمارے پاس فرشتے بھیجے جائیں جو پیغمبر (علیہ السلام) کے دعوے کی تصدیق وتائید کریں۔ یا ہم خود اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور وہ خود پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت کی تصدیق کرے اور ہمیں ایمان لانے کا بالمشافہہ حکم صادر فرمائے۔ لولا انزل علینا الملائکۃ فتخبرنا انک رسول حقا او نری ربنا فیخبرنا بذلک (بحر ج 6 ص 491) ۔ ”’ لقد استکبروا فی انفسہم الخ “ یہ زجر ہے یہ ان معاندین کے عناد و استکبار اور ان کی بغاوت سرکشی کی انتہا ہے۔
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن18 دیکھیں گے فرشتوں کو کچھ خوشخبری نہیں اس دن گناہ گاروں کو اور کہیں گے کہیں روک دی جائے کوئی آڑ

18:۔ ” یوم یرون الخ “ یہ پانچویں شکوے کا جواب ہے یہ مطالبہ محض ان کی ضد اور سرکشی ہے ورنہ جس دن وہ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن انہیں کوئی خوشی حاصل نہیں ہوگی۔ اس دن فرشتے کہیں گے آج مجرموں کو ہر خوشی اور مسرت سے کوسوں دور رکھا جائے گا۔ ” حجرا “ مفعول مطلق ہے اور اس کا فعل متروک ہے۔ اور ” محجورا “ اس کی تاکید ہے وھو من المصار المنصوبۃ بافعال متروک اظھارھا و محجورا لتاکید معنی الحجر کما قالوا موت مائت (مدارک ج 3 ص 125) ۔
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور ہم پہنچے19 ان کے کاموں پر جو انہوں نے کیے تھے پھر ہم نے کر ڈالا اس کو خاک اڑتی ہوئی

19:۔ ” وقدمنا الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” قدمنا “ ارادہ کریں گے اور متوجہ ہوں گے قدمنا ای عمدنا (مظہری ج 7 ص 13) ۔ ” ھباء “ غبار یہ باطل کرنے اور ثواب نہ دینے سے کنایہ ہے ای باطلا لا ثواب لہ (معالم و خازن ج 5 ص 98) ۔ مشرکین و کفار دنیا میں جو نیک کام کرتے ہیں مثلاً صدقہ و خیرات اور صلہ رحم وغیرہ ان کا بدلہ ان کو کسی نہ کسی صورت میں دنیا ہی میں دے دیا جائیگا اور آخرت میں ان پر کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا کیونکہ قبول اعمال کے لیے ایمان خالص شرط ہے جس سے مشرکین و کفار محروم ہیں۔ اس لیے ان کے تمام اعمال خیر باطل ہیں۔ ھباء منثورا ای باطلا لا ثواب لہ لفوات شرط الثواب علیہ من الایمان والاخلاص للہ تعالیٰ (مظہری) ۔
Ayahs 25:24–26

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

بہشت کے لوگوں20 کا اس دن خوب ہے ٹھکانا اور خوب ہے جگہ دوپہر کے آرام کی

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن پھٹ جائے آسمان بادل سے اور اتارے جائیں فرشتے تار لگا کر

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

بادشاہی اس دن سچی ہے رحمان کی اور ہے وہ دن منکروں پر مشکل

20:۔ ” اصحب الجنۃ الخ “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ ” مستقرا “ رہنے سہنے کی جگہ۔ ” مقیلا “ استراحت کی جگہ۔ قیامت کے دن ایمان والوں کو رہنے سہنے اور استراحت کیلئے جنت میں جو مقام عطا ہوگا وہ کافروں کے ٹھکانے سے بدرجہا بہتر ہوگا۔ ” ویم تشقق السماء الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” الغمام “ سفید بادل مراد فرشتے ہیں۔ فرشتے اس کثرت سے نازل ہوں گے کہ ان کی مجموعی ہیئت سفید بادلوں کی طرح نظر آئیگی اس طرح ” سنزل الملئکۃ تنزیلا “ ما قبل کا بیان ہے اور واؤ تفسیریہ ہے یعنی قیامت کے دن آسمان پھٹ پڑے گا اور اس طرح فرشتوں کے بادلوں کے بادل نازل ہوں گے۔ ” الملک یومئذ الحق الخ “ بادشاہ تو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن یہاں مجازی بادشاہ بھی موجود ہیں۔ قیامت کے دن اللہ کے سوا کوئی بادشاہ نہ ہوگا۔ اس دن سب پر ظاہر ہوجائیگا کہ بیشک آج بادشاہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے آج دنیا کے بادشاہ بھی اس شہنشاہ حقیقی کے سامنے سر افگندہ کھڑے ہیں۔ ” وکان یوما الخ “ کان کا اسم اس میں ضمیر مستتر ہے جو یوم مذکور کی طرف راجع ہے اور علی الکفرین، عسیرا کے متعلق ہے۔
Ayahs 25:27–29

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن کاٹ کاٹ کھائے گا گناہ گار21 اپنے ہاتھوں کو کہے گا اے کاش کہ میں نے پکڑا ہوتا رسول کے ساتھ راستہ

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

اے خرابی میری کاش کہ نہ پکڑا ہوتا میں نے فلانے کو دوست

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس نے تو بہکا دیا مجھ کو نصیحت سے مجھ تک پہنچ چکنے کے پیچھے اور ہے شیطان آدمی کو وقت پر دغا دینے والا

21:۔ ” ویم یعض الخ “ قیامت کے دن مشرکین و کفار حسرت و ندامت سے انگلیاں کاٹیں گے اور کہیں گے کاش ! ہم نے پیغمبروں پر ایمان لا کر اللہ کی توحید اور اس کے برکات دہندہ ہونے کو مان لیا ہوتا۔ ” یویلتی لیتنی الخ “ کاش میں فلاں فلاں داعیان شرک اور صنادید کفر سے دوستی نہ گانٹھتا اور ان کی پیروی نہ کرتا۔ ” لقد اضلنی الخ “ ان ظالموں نے تو مجھے راہ توحید اور دعوی تبارک سے ہٹا دیا۔ ” خذولا “ خوار کرنے والا۔ شیطان جب انسان کو گمراہ کرتا ہے تو اسے بڑے خوبصورت سبز باغ دکھاتا ہے لوگوں کے دلوں میں توحید کے بارے میں عجیب شکوک پیدا کر کے ان کو شرک میں مبتلا کرتا ہے۔ مثلاً لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسے ڈالتا ہے کہ اللہ کے نیک بندے قیامت کے دن تمہارے کام آئیں گے، اللہ کے ہاں تمہاری سفارش کریں گے۔ وہ دنیا اور آخرت میں برکات دہندہ ہیں اس لیے تم ان کو پکارا کرو۔ لیکن قیامت کے دن ان مشرکین کو اپنی مدد کے لیے نہ شیطان کہیں نظر آئے گا نہ ان کے خود ساختہ معبود اور برکات دہندے دکھائی دیں گے۔ خذولا ھو مبالغۃ من الخذلان ای من عادۃ الشیطان ترک من یوالیہ (مدارک ج 3 ص 126) ۔
Ayah 25:30

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور کہا رسول نے22 اے میرے رب میری قوم نے ٹھہرایا ہے اس قرآن کو جَھک جَھک

22:۔ ” وقال الرسول الخ “ الرسول سے حضرت محمد ﷺ مراد ہیں۔ قیامت کے دن آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی اپنی قوم کی شکایت کریں گے کہ اے میرے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا، نہ اس کو مانا اور نہ اس پر عمل کیا۔ یا یہ جملہ معترضہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے دنیا میں اپنی قوم کا انکار و طغیان اور عناد وعدوان دیکھ کر اظہار افسوس کے طور پر اللہ تعالیٰ سے کہا کہ میری قوم ضد وعناد اور رد و انکار میں انتہا کو پہنچ چکی ہے اور کسی صورت میں قرآن کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ان لما اکثروا من الاعتراضات الفاسدۃ ووجوہ التعنت ضاق صدر الرسول ﷺ و شکاھم الی اللہ تعالیٰ وقال یا رب اکثر المفسرین انہ قول واقع من الرسول ﷺ وقال ابو مسلم بل المراد ان الرسول (علیہ السلام) یقول فی الاخرۃ والاول اولی لانہ موافق للٖظ الخ (کبیر ج 6 ص 470) ۔
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی طرح23 رکھے ہیں ہم نے ہر نبی کے لیے دشمن گناہ گاروں میں سے اور کافی ہے تیرا رب راہ دکھلانے کو اور مدد کرنے کو

23:۔ ” وکذلک الخ “ کاف بیان کمال کے لیے ہے۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے نیز مشرکین کی طرف سے بےجا اعتراضات کی وجہ بیان کی گئی ہے یعنی مشرکین آپ سے یہ حجت بازی محض عداوت اور ضد وعناد کی بنا پر کرتے ہیں۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں، ہر زمانے میں ہر پیغمبر کے ایسے دشمن ہوئے ہیں اور ہر زمانے میں مشرکوں نے پیغمبروں کو اسی طرح ستایا ہے۔ اس لیے جس طرح انہوں نے صبر کیا اسی طرح آپ بھی صبر کریں۔ مدد کیلئے اور ان سے انتقام لینے کی راہ بتانے کے لیے میں آپ کو کافی ہوں۔ ای کذلک کان کل نبی قبلک مبتلی بعداوۃ قومہ وکفاک بی ھادیا الی طریق قھرہم والانتصار منھم وناصرا لک علیھم (مدارک ج 3 ص 126) ۔ وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین تسلیۃ للرسول ﷺ (کبیر) ۔
Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کہنے لگے24 وہ لوگ جو منکر ہیں کیوں نہ اترا اس پر قرآن سارا ایک جگہ ہو کر اسی طرح اتارا تاکہ ثابت رکھیں ہم اس سے تیرا دل اور پڑھ سنایا ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر

24:۔ ” وقال الذین الخ “: ساتواں شکوی۔ یہ قرآن اگر واقعی اللہ کا کلام ہے تو اللہ نے ایک بار سارا کیوں نہ نازل کردیا، تھوڑا تھوڑا کر کے کیوں نازل کرتا ہے ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد ﷺ خود ہی تھوڑا تھوڑا کر کے بناتا اور لوگوں کو سناتا ہے۔ ” کذلک لنثبت بہ الخ “ کذلک فعل مقدر سے متعلق ہے۔ ” ای انزلناہ “ یہ شبہہ مذکورہ کا جواب ہے یعنی بالتدریج نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے دل کو تقویت حاصل ہو اور آپ اسے آسانی کے ساتھ یاد کرسکیں۔ ” ورتلناہ ترتیلا “ یہ فعل مقدر مذکور الصدر پر معطوف ہے یعنی اور مذکورہ بالا مقصد کے پیش نظر ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے ترسل و ترتیل کے ساتھ آپ پر قرآن اتارا ہے۔ (مدارک) ۔
Ayah 25:33

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور25 نہیں لاتے تیرے پاس کوئی مثل کہ ہم نہیں پہنچا دیتے تجھ کو ٹھیک بات اور اس سے بہتر کھول کر

25:۔ ” ولا یاتونک الخ “ مثل سے مشرکین کا عجیب و غریب اور باطل سوال مراد ہے اور ” الحق “ سے اس کا جواب با صواب مراد ہے۔ بمثل اور بالحق میں باء تعدیہ کیلئے ہے۔ یعنی جس طرح ہم نے مشرکین کے مذکورہ بالا سات شکو وں کے نہایت عمدہ جوابات دئیے ہیں اسی طرح آئندہ بھی ان کی طرف سے آپ پر جو بھی سوال باطل اور اعتراض فاسد وارد کیا جائیگا ہم اس کا ایسا عمدہ اور صحیح جواب دیں گے جو آپ کے مقصد رسالت کو بھی احسن طریق سے واضح کردے گا۔ ولا یاتونک بمثل بسؤال عجیب من سؤالاتھم الباطلۃ کانہ مثل فی البطلان الا اتیناک نحن بالجواب الحق الذی لا محیل عنہ۔ وما ھو احسن تکشیفا لما بعثت علیہ و دلالۃ علی صحتہ (بحر ج 6 ص 497) ۔
Ayah 25:34

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ کہ گھیر کر لائے جائیں گے26 اوندھے پڑے ہوئے اپنے منہ پر دوزخ کی طرف انہی کا برا درجہ ہے اور بہت بہکے ہوئے ہیں راہ سے

26:۔ ” الذین یحشرون الخ “ : یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ محض ضد وعناد اور بےانصاری سے انکار کرتے اور لا یعنی اعتراض کرتے ہیں قیامت کے دن انہیں مونہوں کے بل گھسیٹا جائیگا اور ان کا ٹھکانا بہت ہی برا ہوگا یہ لوگ راہ راست اور ہدایت سے بہت ہی دور ہیں ضد وعناد نے ان کو راہ حق سے اس قدر دور کردیا ہے کہ اب ان کے راہ راست پر آنے کا امکان ختم ہوچکا ہے۔
Ayahs 25:35–39

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور ہم نے دی27 موسیٰ کو کتاب اور کردیا ہم نے اس کے ساتھ اس کا بھائی ہارون کام بٹانے والا

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

پھر کہا ہم نے تم دونوں جاؤ ان لوگوں کے پاس جنہوں نے جھٹلا یا ہماری باتوں کو پھر دے مارا ہم نے ان کو اکھاڑ کر

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور نوح کی قوم کو جب انہوں نے جھٹلایا پیغام لانے والوں کو ہم نے ان کو ڈبا دیا اور کیا ان کو لوگوں کے حق میں نشانی، اور تیار کر رکھا ہے ہم نے گناہ گاروں کے واسطے عذاب دردناک

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور عاد کو اور ثمود کو اور کنوئیں والوں کو اور اس کے بیچ میں بہت سی جماعتوں کو

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور سب کو کہہ سنائیں ہم نے مثالیں اور سب کو کھو دیا ہم نے غارت کر کر

27:۔ ” ولقد اتینا الخ “ یہ دعوی سورت پر پہلی نقلی دلیل ہے نیز منکرین دعوی کے لیے تخویف دنیوی ہے۔ یہاں اور اسی طرح اگلی نقلی دلیلوں میں اگرچہ دعوے کی صراحت نہیں لیکن جب ابتداء سورت میں تبارک سے دعوی ذکر کردیا گیا تو اب سورت میں جس قدر بھی دلائل مذکور ہوں گے خواہ عقلیہ ہوں خواہ نقلیہ وہ سب اسی دعوے کیلئے ہوں گے۔ فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جس میں مسئلہ توحید کو واضح کیا گیا اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت دے کر انکا معاون بنا دیا لیکن قوم نے ان کی تکذیب کی اور دلائل توحید کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں تباہ و برباد کردیا۔ ” وقوم نوح الخ “ یہ دوسری نقلی دلیل ہے اسی طرح حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کے پاس پیغام توحید لائے، قوم نے تکذیب کی تو انہیں بھی غرق کر کے آئندہ نسلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔ ” وعادا و ثمودا “ تا ” وقرونا بین ذلک کثیرا “ یہ تیسری تا چھٹی نقلی دلیلیں ہیں قوم عاد کی طرف ہود (علیہ السلام) کو، قوم ثمود کی طرف صالح (علیہ السلام) کو اصحاب الرس کی طرف شعیب (علیہ السلام) کو اور ان اقوام کے درمیانی زمانوں میں کئی دوسری قوموں کے پاس کئی پیغمبروں کو بھیجا گیا ان قوموں نے اللہ کے پیغمبروں کو جھٹلایا اور دعوت توحید کو ٹھکرایا تو ان سب کو ہلاک کردیا گیا۔ ” وکلا ضربنا لہم الخ “ ان تمام قوموں کے پاس ہم نے پیغمبروں کے ذریعے دلائل وبراہین اور امثال و اشباہ سے مسئلہ توحید کو واضح کیا مگر ان معاند اقوام نے پھر بھی انکار کردیا تو ہم نے ان کو اس طرح تباہ و برباد کیا کہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا۔
Ayah 25:40

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ لوگ28 ہو آئے ہیں اس بستی کے پاس جن پر برسا برا برساؤ کیا دیکھتے نہ تھے اس کو نہیں پر امید نہیں رکھتے جی اٹھنے کی

28:۔ ” ولقد اتوا الخ “ یہ ساتویں نقلی دلیل ہے ” اتو “ کی ضمیر اہل مکہ سے کنایہ ہے اور ” القریۃ “ سے قوم لوط کی بستیاں مراد ہیں جن پر پتھروں کی بارش کر کے اللہ نے ان کو برباد کیا تھا مشرکین ملک شام کی طرف جاتے ہوئے ان بستیوں کے پاس سے گذرتے تھے۔ ” افلم یکونوا یرونھا “ کیا مشرکین مکہ نے ان تباہ شدہ بستیوں کو نہیں دیکھا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی خوب دیکھا ہے مگر پھر بھی عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرتے یعنی اذا مرو بھم فی اسفارھم فیعتبروا و یتفکروا لن مدائن قوم لوط کنت علی طریقھم عند ممرھم الی الشام (معالم و خازن ج 5 ص 102) ۔ ” بل لا یرجون نشورا “ ہلاک شدہ اقوام کی بستیوں کو دیکھ کر بھی عبرت نہیں پکڑتے کیونکہ حشر و نشر پر ان کا ایمان نہیں، وہ آخرت کے حساب و عذاب سے مطمئن ہیں اور عذاب جہنم کا ان کو دلوں میں کوئی خوف نہیں بل کانوا قوما کفرۃ بالبعث لا یخافون بعثا فلا یومنون (مدارک ج 3 ص 128) لا یرجون ای لا یخافون او لا یعتقدون۔