25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 25:41–42

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور جہاں29 تجھ کو دیکھیں کچھ کام نہیں ان کو تجھ سے مگر ٹھٹھے کرنے کیا یہی ہے جس کو بھیجا اللہ نے پیغام دے کر

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

یہ تو ہم کو بچلا ہی دیتا ہمارے معبودوں سے اگر ہم نہ جمے رہتے ان پر اور آگے جان لیں گے جس وقت دیکھیں گے عذاب کہ کون بہت بچلا ہوا ہے راہ سے

29:۔ ” و اذا راوک الخ “ یہ شکوی ہے مشرکین جبحضور ﷺ کو دیکھتے تو بطور استہزاء کہتے کیا یہی ہے جسے اللہ نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اگر ہم مستقل مزاجی سے اپنے معبودوں کی عبادت و پکار پر جمے نہ رہتے تو اس نے تو ہمیں گمراہ کردیا تھا اور ہمیں اپنے معبودوں سے ہٹا دیا تھا شکر ہے کہ ہم پکے رہے یعنون انہ کاد یفتنھم عن عبادۃ الاصنام لو لا ان صبروا و تجلدو واستمروا علیھا (ابن کثیر ج 3 ص 319) ۔ وسوف یعلمون الخ “ تخویف اخروی ہے۔ مشرکین دنیا میں اپنے کو ہدایت پر سمجھتے ہیں اور توحید خالص کو گمراہی کا نام دیتے ہیں لیکن جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو انہیں اچھی طرح معلوم ہوجائیگا گمراہ کون ہے اور ہدایت پر کون ہے۔
Ayahs 25:43–49

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

بھلا دیکھ تو30 اس شخص کو جس نے پوجنا اختیار کیا اپنی خواہش کا کہیں تو لے سکتا ہے اس کا ذمہ

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

یا تو خیال رکھتا ہے کہ بہت سے ان میں سنتے یا سمجھتے ہیں اور کچھ نہیں وہ برابر ہیں چوپایوں کے بلکہ وہ زیادہ بہکے ہوئے ہیں راہ سے

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

تو نے نہیں31 دیکھا اپنے رب کی طرف کیسے دراز کیا سایہ کو اور اگر چاہتا تو اس کو ٹھہرا رکھتا پھر ہم نے مقرر کیا سورج کو اس کا راہ بتلانے والا

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر کھینچ لیا ہم نے اس کو اپنی طرف سہج سہج سمیٹ کر

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے بنا دیا تمہارے واسطے رات کو اوڑھنا اور نیند کو آرام اور دن کو بنا دیا اٹھ نکلنے کے لیے

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے چلائیں ہوائیں خوشخبری لانے والیاں اس کی رحمت سے آگے اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی پاکی حاصل کرنے کا

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

کہ زندہ کردیں اس سے مرے ہوئے دیس کو اور پلائیں اس کو اپنے پیدا کیے ہوئے بہت سے چوپایوں اور آدمیوں کو

30:۔ ” ارایت من الخ “ ان مشرکین سے قبول حق کی توقع بےسود ہے یہ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ محض ضد وعناد کی وجہ سے اپنی خواہشات نفسانیہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ نفس کے بندے ہیں اور خواہش نفس کو انہوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے یعنی اپنی خواہش سے معبودان باطلہ کو حاجت روا اور برکات دہندہ سمجھ رکھا ہے۔ وہ اپنی مرضی اور خواہش سے جس کو چاہتے ہیں اپنا کارساز اور معبود بنا لیتے ہیں۔ اس سے پہلے ” ان کاد لیضلنا عن الھتنا “ بھی قرینہ ہے کہ مشرکین اپنی خواہش سے جسے چاہتے برکات دہندہ بنا لیتے۔ فالایۃ شاملۃ لمن عبد غیر اللہ تعالیٰ حسب ھواہ ولمن اطاع الھوی فی سائر المعاصی وھو الذی یقتضیہ کلام الحسن (روح ج 19 ص 24) ۔ اسی مفہوم کی ایک آیت سورة جاثیہ (رکوع 3) میں ہے ” افرایت من اتخذ الھہ ھواہ الخ “ یعنی خواہش نفس سے غیر اللہ کو کارساز اور حاجت روا بنا لیا۔ آپ ان پر نگران نہیں ہیں کہ ان کو اس سے باز رکھ سکیں۔ آپ کا کام صرف تبلیغ ہے۔ ” ام تحسب الخ “ اور پھر کیا آپ کا خیال ہے کہ ان میں سے اکثر آپ کی باتیں توجہ سے سنتے اور ان میں غور و فکر کرتے ہیں ؟ نہیں نہیں ! ! وہ تو بےتوجہی، غفلت اور گمراہی میں چوپایوں سے بھی بڑھ کر ہیں، وہ نہ حق بات کو توجہ سے سنتے ہیں، نہ اس میں غور و تدبر کرتے ہیں۔ لانھم لا یلقون الی استماع الھق اذنا ولا الی تبدرہ عقلا و مشبھین بالانعام التیھی مثل فی الغفلۃ والضلالۃ الخ (مدارک ج 3 ص 129) ۔
Ayah 25:50

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور32 طرح طرح سے تقسیم کیا ہم نے اس کو ان کے بیچ میں تاکہ دھیان رکھیں پھر بھی نہیں رہتے بہت لوگ بدون ناشکری کیے

32:۔ ” ولقد صرفنہ الخ “ یہ زجر ہے یعنی ہم دعوی توحید کو گناگوں دلائل سے اور مختلف اسالیب بیان سے واضح کر کے بتاتے ہیں تاکہ وہ اس میں غور وکفکر کریں اور اسے سمجھ لیں مگر اکثر لوگ پھر بھی انکار کرتے ہیں۔
Ayahs 25:51–52

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر33 ہم چاہتے تو اٹھاتے ہر بستی میں کوئی ڈرانے والا

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

سو تو کہنا مت مان منکروں کا اور مقابلہ کر ان کا اس کے ساتھ بڑے زور سے

33:۔ ” ولو شئنا الخ “ یہ تسلی ہے یعنی اگر ہم چاہتے تو تبلیغ رسالت کا کام آپ سے ہلکا کردیتے اور مختلف شہروں میں متعدد انبیاء بھیج دیتے لیکن ہم نے فیصلہ کرلیا کہ اب سارے جہان کی رسالت کا شرف آپ ہی کو عطاء کیا جائے تاکہ آپ رتبہ تمام انبیاء (علیہم السلام) سے اعلیٰ اور آپ کا اجر وثواب سب سے اعظم ہو۔ اس لیے آپ کافروں کی کوئی بات نہ مانیں اور قرآن کے دلائل سے ان کے ساتھ خوب جہاد کریں اور ہر گزس ہمت نہ ہاریں کیونکہ سارے جہان کے ہادی ورہنما آپ ہی ہیں۔ حضرت (رح) تعالیٰ نے فرمایا ” بہ “ کی ضمیر قرآن مجید سے کنایہ ہے بہ ای بالقرآن یعنی بدلائلہ۔ یعنی قرآن کی دعوت اور اس کے دلائل کو خوب واضح کر کے ان تک پہنچائیں ” وجاھد ھم بہ ای بالقرآن (خازن ج 5 ص 86) ۔ لما علم تعالیٰ ما کا بدہ الرسول من اذی قومہ اعلمہ انہ تعالیٰ لو اراد لبعث فی کل قریۃ نذیرا فیخف عنک الامر ولکنہ اعظم اجرک واجلک اذ جعل انذارک عاما للناس کلھم و خصک بذلک لیکثر ثوابک الک (بحر ج 6 ص 506) ۔
Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے34 ملے ہوئے چلائے دو دریا یہ میٹھا ہے پیاس بجھانے والا اور یہ کھاری ہے کڑوا اور رکھا ان دونوں کے بیچ پردہ اور آڑ روکی ہوئی

34:۔ ” وھو الذی مرج الک “ یہ دعوی سورت پر نویں عقلی دلیل ہے یہ بھی اس کی توحید اور قدرت کاملہ کی دلیل ہے کہ دو سمندر ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ایک کا پانی نہایت میٹھا اور خوشگوار ہے اور دوسرے کا پانی نہایت تلخ ہے اور ان کے درمیان برزخ اور ایک ایسا پردہ حائل ہے جو کسی کو نظر نہیں آتا یعنی کوئی مرئی پردہ نہیں محض قدرتی پردہ ہے مگر اس کے باوجود دونوں آپس میں ملتے نہیں حاجز اغیر مرئی من قدرتہ (ابو السعود) جو اللہ ایسی زبردست قدرت والا ہے وہی برکات دہندہ ہے۔
Ayah 25:54

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے بنایا35 پانی سے آدمی پھر ٹھہرایا اس کے لیے جد اور سسرال اور تیرا رب سب کچھ کرسکتا ہے

35:۔ ” وھو الذی خلق الخ “ یہ دسویں عقلی دلیل ہے اللہ تعالیٰ نے کمال قدرت سے ایک قطرہ آب سے انسان کو پیدا فرمایا۔ پھر انسانوں کو دو قسم کے رشتوں سے آپس میں جوڑ دیا ایک نسبی رشتہ دوم مصاہرت کا رشتہ۔ یہ رشتے بھی اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ جو اللہ تعالیٰ ایسا قادر اور منعم ہے برکات دہندہ بھی وہی ہے۔
Ayah 25:55

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور پوجتے ہیں36 اللہ کو چھوڑ کر وہ چیز جو نہ بھلا کرسکے ان کا نہ برا اور ہے کافر اپنے رب کی طرف سے پیٹھ پھیر رہا

36:۔” و یعبدون الخ “ یہ شکوی ہے بطور زجر۔ یعنی اس قدر واضح دلائل کے باوجود مشرکین اللہ کے سوا ایسی عاجز مخلوق کو برکات دہندہ اور کارساز سمجھتے ہیں جنہیں اپنی ذات کو بھی نفع پہنچانے اور ضرر سے بچانے کا اختیار نہیں بھلا جو اس قدر عاجز ہوں کہ اپنے نفع و ضرر کے مالک نہ ہوں وہ دوسروں کو کیا برکات دے سکتے ہیں ” وکان الکافر علی ربہ ظھیرا “ علی ربہ میں تضمین ہے۔ ای عالیا علی مخالفۃ ربہ یا علی بمعنی الی ہے اور ظھیرا کے معنی ہیں پیٹھ پھیرنے والا یا ظہیرا کے معنی معاون اور مددگار کے ہیں یعنی کافر اسلام کی عداوت اور شرک سے شیطان کی معاونت کرتا ہے یقول عونا لی شیطان علی و بہ بالعداوۃ والشرک (ابن کثیر ج 3 ص 322) ۔
Ayahs 25:56–57

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور تجھ کو ہم نے بھیجا37 یہی خوشی اور ڈر سنانے کے لیے

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

تو کہہ میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کچھ مزدوری مگر جو کوئی چاہے کہ پکڑ لے اپنے رب کی طرف راہ

37:۔ ” و ما ارسلنک الخ “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ مشرکین ازراہِ ضد و مکابرہ کہتے کوئی معجزہ دکھا دو تو ہم مان لیں گے تو فرمایا ہم نے محمد ﷺ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے معجزات لانا ان کے اختیار میں نہیں۔ ہم مصالح کے تحت جب چاہتے اور مناسب سمجھتے ہیں اپنے پیغبر کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر کردیتے ہیں ” قل ما اسئلکم علیہ من اجر الخ “ آپ یہ بھی فرما دیں کہ آخر میری تبلیغ تمہیں شاق کیوں گذرتی ہے میں تم سے تبلیغ پر کوئی مزدوری یا تنخواہ تو نہیں مانگتا۔ میرا تم سے صرف یہی مطالبہ ہے کہ تم صدق نیت اور رضاء قلب سے توحید کی راہ اختیار کرو اور اللہ کے دین کو قبول کرلو۔
Ayah 25:58

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور بھروسہ کر38 اوپر اس زندہ کے جو نہیں مرتا اور یاد کر اس کی خوبیاں اور وہ کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار

38:۔ ” و توکل الخ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے یعنی آپ مشرکین کے عناد و انکار اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر کریں اس زندہ جاوید رب پر بھروسہ کریں جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا اور ہر قسم کی برکات و خیرات جس کے قبضہ و اختیار میں ہیں آپ اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہیں وہ آپ کا حافظ و ناصر ہے فانہ الحقیق بان یتوکل علیہ دون الاحیاء الذین من شانھم الموت فانھم اذا ماتوا ضاع من توکل علیھم (ابو السعود ج 6 ص 498) ۔ ” و کفی بہ الخ “ یہ کفار کیلئے تخویف اخروی ہے اللہ تعالیٰ ان معاندین کے جرم و گناہ سے بیخبر نہیں بلکہ خوب جانتا ہے اور ان کو پوری پوری سزا دے گا۔
Ayah 25:59

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

جس نے بنائے39 آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں پھر قائم ہوا عرش پر وہ بڑی رحمت والا سو پوچھ اس سے جو اس کی خبر رکھتا ہو

39:۔ ” الذی خلق الخ “ یہ دعوی سورت پر گیارہویں عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور ساری کائنات کو پیدا کر کے خود ہی اس میں متصرف ہے اور کوئی اختیار اس نے کسی کے حوالے نہیں فرمایا۔ لہذا برکات دہندہ بھی وہی ہے۔ ” الرحمن “ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے ای ھو الرحمن فالرحمن خبر مبتدا محذوف (مدارک) جو سارے جہان کا خالق ومالک اور ساری کائنات میں متصرف و حکمران ہے اس کا ایک نام رحمن ہے وہ بڑا ہی مہربان ہے اس لیے وہی برکات دہندہ ہے اور ہر قسم کی عبادت و تعظیم اور سجود اسی ہی کے لیے روا ہے۔ ای ھو الرحمن الذی لا ینبغی السجود والتعظیم الالہ (کبیر ج 6 ص 494) ۔ ” فسئل بہ خبیرا “ کسی عارف خبیر سے اس کی رحمت کے بارے میں پوچھ دیکھو۔ ای فسئل عنہ رجلا عارفا یخبرک برحمتہ (بحر ج 6 ص 509) ۔ یا ” خبیرا “ مراد اللہ تعالیٰ ہے۔ ” بہ “ کی ضمیر مذکورہ بالا اشیا کی طرف راجع ہے یعنی مذکورہ اشیاء کے بارے میں اللہ سے سوال کرو جو ان کو خوب جانتا ہے۔ ایھا الانسان لا تجع فی طلب العلم بھذا الی غیری وقیل معانہ فاسال عنہ خبیرا وھو اللہ تعالیٰ (خازن ج 5 ص 87) ۔
Ayah 25:60

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب40 کہیے ان سے سجدہ کرو رحمان کو کہیں رحمان کیا ہے کیا سجدہ کرنے لگیں ہم جس کو تو فرمائے اور بڑھ جاتا ہے ان کا بدکنا

40:۔ ” واذا قیل الخ “ یہ شکوی ہے۔ مشرکین سے جب کہا جاتا ہے کہ خدائے رحمن کو سجدہ کرو تو وہ کہتے ہیں وہ رحمن کون ہے ہم تو رحمن کو جانتے ہی نہیں۔ تو کیا جسے تو ہمیں سجدہ کرنے کا حکم دیتا ہے ہم اسے علم و معرفت کے بغیر ہی سجدہ کرنے لگیں ؟ مشرکین میں اللہ تعالیٰ کا یہ نام معروف نہیں تھا۔ اس لیے انہوں نے یہ سوال کیا۔ ای لتعرف الرحمن وکانوا ینکرون ان یسمی اللہ باسمہ الرحمن (ابن کثیر ج 3 ص 323) ۔ لانھم ماکانوا یطلقونہ علی اللہ وکانوا یقولون لا نعرف الرحمن الا رحمان الیمامۃ یعنون مسیلمۃ الکذاب یسمونہ رحمان الیمامۃ (مظہری ج 7 ص 39) ۔
Ayah 25:61

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

بڑی برکت ہے41 اس کی جس نے بنائے آسمان میں برج اور رکھا اس میں چراغ

41:۔ ” تبرک الخ “ یہ دعوی سورت کا دوسری بار اعادہ اور دعوے پر بارہویں عقلی دلیل ہے جس اللہ نے آسمان کو مختلف برجوں میں تقسیم فرمایا اور اس میں آفتاب عالم تاب ایسا چراغ روشن کیا اور رات کی تاریکی میں نور کی سفید چادر بچھانے والا چاند پیدا فرمایا وہی برکات دہندہ ہے دوسرا کوئی نہیں۔ بروج سے کواکب سیارہ کی منازل مراد ہیں ھی منازل الکواکب السیارۃ (مدارک ج 3 ص 133) ۔
Ayah 25:62

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور چاند اجالا کرنے اور وہی ہے42 جس نے بنائے رات اور دن بدلتے سدلتے اس شخص کے واسطے کہ چاہے دھیان رکھنا یا چاہے شکر کرنا

42:۔ ” وھوالذی الخ ” یہ دعوی سورت پر تیرہویں عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رات دن کو ایک دوسرے کے بعد آنے والا بنایا تاکہ جو شخص غور و تدبر کرنا چاہے وہ رات دن کے اختلاف میں غور و فکر کر کے عبرت حاصل کرے اور جو ان انعامات پر اللہ کا شکر کرنا چاہے وہ اس کا شکر بجا لائے۔
Ayah 25:63

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور بندے رحمان کے43 وہ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر دبے پاؤں اور جب بات کرنے لگیں ان سے بےسمجھ لوگ تو کہیں صاحب سلامت

43:۔ ” وعباد الرحمن الک “ پہلے یہ مذکور ہوا کہ دنیا میں برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہے، اب یہاں یہ ذکر کیا جا رہا ہے کہ آخرت میں بھی برکات دہندہ اور رحمت کنندہ اللہ تعالیٰ ہی ہوگا۔ ” عباد الرحمن “ مرکب اضافی مبتدا ہے اور اس کے بعد دس آیتیں چھوڑ کر گیارہویں آیت کی ابتدا میں اس کی خبر ذکر کی گئی ہے یعنی ” اولئک یجزون الخ “ درمیان میں اللہ کے نیک بندوں کی آٹھ صفتیں مذکور ہیں جن کی وجہ سے وہ آخرت میں اللہ کی رحمت و برکت کے مستحق ہوں گے اور ہر ایک کو اللہ تعالیٰ اخلاص عمل کے مطابق درجات عطا کرے گا۔ ” الذین یمشون الخ “ یہ عباد الرحمن کی پہلی صفت ہے، وہ غرور وتکبر نہیں کرتے بلکہ ان کی گفتار و رفتار سے بھی عجز و انکسار ظاہر ہوتا ہے وہ زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں اور گر احمق لوگ ان سے ناشائستہ گفتگو کریں تو صاف کہہ دیتے ہیں صاحب ! ہمیں ان باتوں سے معاف رکھیے ہم دوسرے خیال میں مصروف ہیں۔ یعنی ان کا تعلق خاطر ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے رہتا ہے۔
Ayahs 25:64–67

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور وہ لوگ44 جو رات کا ٹتے ہیں اپنے رب کے آگے سجدہ میں اور کھڑے

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ کہتے ہیں اے رب ہٹا ہم سے دوزخ کا عذاب بیشک اس کا عذاب چمٹنے والا ہے

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

وہ بری جگہ ہے ٹھہرنے کی اور بری جگہ رہنے کی

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرنے لگیں نہ بےجا اڑائیں اور نہ تنگی کریں اور ہے اس کے بیچ ایک سیدھی گزران

44:۔ ” والذین یبیتون الخ “ یہ دوسری صفت ہے۔ اللہ کے وہ نیک بندے رات بھر اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے اور ساری رات نماز میں گذار دیتے ہیں۔ ” والذین یقولون الخ “ تیسری صفت وہ ہر وقت اللہ کے عذاب سے خائف اور لرزاں رہتے اور اللہ سے دعا مانگتے رہتے ہیں اے اللہ ! ہمیں عذاب جہنم سے بچائیو۔ کیونکہ اس کا عذاب ہلاکت خیز اور تباہ کن ہے اور وہ رہنے کی نہایت ہی بری جگہ ہے۔ ” غرام “ شر لازم اور عذاب دائم۔ الغرام الشر اللازم والھلاک الدائم (خازن ج 5 ص 108) ۔ ” والذین اذا انفقوا الخ “ یہ چوتھی صفت ہے۔ وہ زندگی کے معاملات میں خصوصا مال خرچ کرنے میں راہ اعتدال پر چلتے ہیں۔ مال خرچ کرنے میں نہ اسراف کرتے ہیں نہ کنجوسی اور بخل سے کام لیتے ہیں جن مصارف میں خرچ کرنا شرعا ناجائز ہے ان میں خرچ نہیں کرتے اور اللہ کی راہ میں اور مفاد عامہ میں خرچ کرنے سے بخل نہیں کرتے۔ ناجائز جگہوں میں خرچ کرنا اسراف ہے اور جائز مصارف میں خرچ نہ کرنا اقتار ہے۔ الانفاق فی غیر طاعۃ اسراف والامساک عن طاعۃ اقتار (بحر ج 6 ص 514) ۔
Ayahs 25:68–71

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور وہ لوگ45 کہ نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ دوسرے حاکم کو اور نہیں خون کرتے جان کا جو منع کردی اللہ نے مگر جہاں چاہیے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو کوئی کرے یہ کام وہ جا پڑا گناہ میں

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

دونا ہوگا اس کو عذاب قیامت کے دن اور پڑا رہے گا اس میں خوار ہو کر

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی اور یقین لایا اور کیا کچھ کام نیک سو ان کو بدل دے گا اللہ برائیوں کی جگہ بھلائیاں اور ہے بخشنے والا مہربان

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جو کوئی توبہ کرے اور کرے کام نیک سو وہ پھر آتا ہے اللہ کی طرف پھر آنے کی جگہ

45:۔ ” والذین لا یدعون الخ “ یہ عباد الرحمن کی صفات کی پانچویں نوع ہے جس میں متعدد صفتیں مذکور ہیں (1) وہ اللہ کے سوا کسی اور کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھ کر اپنی حاجات و مشکلات میں ہرگز نہیں پکارتے (2) وہ ناحق قتل نہیں کرتے (3) وہ بدکاری کے نزدیک نہیں جاتے۔ اس کے بعد نافرمان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” ومن یفعل ذلک الخ “ جو شخص مذکورہ بالا اعمال شنیعہ اور افعال قبیحہ کا مرتکب ہوگا اسے سخت سزا سے دوچار ہونا پڑے گا اور قیامت کے دن اس کو دوہرا عذاب دیا جائیگا ایک کفر و شرک کی وجہ سے دوم دوسرے گناہوں کی وجہ سے اور وہ ذلت و رسوائی کے ساتھ اس عذاب میں ہمیشہ رہیگا الا من تاب وا من الخ یہ ماقبل سے مستچنی ہے اور توبہ کرنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے جن ہونے شرک سے توبہ کرلی اور توحید و رسالت پر ایمان لے آئے اور اعمال صالحہ بجا لائے، اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں کو بھی نیکیوں میں تبدیل کردیگا کیونکہ وہ بڑا ہی مہربان ہے ومن تاب و عمل صالحا الخ جس نے تمام عقائد باطلہ سے سچی توبہ کی اور اعمال صالحہ کو اپنی زندگی کا پروگرام بنا لیا موت کے بعد اللہ کی طرف اس کی واپسی بڑی شان اور عزت سے ہوگی۔ ای یعود الیہ بعد الموت (متابا) ای حسنا یفضل علی غیرہ الخ (خازن ج 5 ص 110) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ جو شخص سچی توبہ کرتا ہے وہ ایک ایسا کام کرتا ہے جو اللہ کو پسند ہے جس سے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور وہ ثواب عظیم کا مستحق ہوجاتا ہے معناہ ان من تاب الی اللہ فقد اتی بتوبۃ مرضیۃ للہ مکفرۃ للذنوب محصلۃ للثواب العظیم (کبیر ج 6 ص 500) ۔
Ayah 25:72

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور جو لوگ46 شامل نہیں ہوتے جھوٹے کام میں اور جب گزرتے ہیں کھیل کی باتوں پر نکل جائیں بزرگانہ

46:۔ ” والذین لا یشہدون الخ “ یہ عباد الرحمن کی چھٹی صفت ہے۔ ” الزور “ سے یا تو جھوٹی شہادت مراد ہے اس صورت میں ” ہشہدون “ شہادۃ سے ہوگا یا الزور سے مراد شرک ہے یا لہو ولعب اور گانا بجانا اس صورت میں ہشہدون، شھود سے ہوگا۔ والظاھر ان المعنی لا یشھدون بالزور او شہادۃ الزور قالہ علی والباقر فھو من الشھادۃ او المعنی لا یحضرون من المشاھدۃ و الزار الشر والصنم او الکذب او الۃ الغناء (بحر ج 6 ص 516) ۔ اور ” اللغو “ سے تمام معاصی مراد ہیں یعنی وہ شرک و معصیت کی مجالس میں ہرگز شریک نہیں ہوتے لیکن اگر اتفاق سے کبھی اہل شرک اور اہل معاصی کی مجالس کے پاس سے ان کا گذر ہوجائے تو دامن کو ان کی آلودگیوں سے پاک لے کر اور طبیعت کی سلامتی کے ساتھ گذر جاتے ہیں۔ المعاصی کلھا لغو۔ یعنی لم یحضروا مجالسہ واذا اتفق مرورھم بہ لم یتدنسوا بشیء (جامع ص 320) ۔ یعنی جب شرک کی مجالس سے اتفاقا گذرتے ہیں تو اپنا ایمان بچا کر گذر جاتے ہیں اور ایمان و عمل کو شرک سے متلوث نہیں ہونے دیتے۔ سی طرح جب کبھی لہو و لعب کی مجالس سے گذرتے ہیں تو باوقار گذر جاتے ہیں اور ان میں شرکت نہیں کرتے۔
Ayah 25:73

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ لوگ47 کہ جب ان کو سمجھائے ان کے رب کی باتیں نہ پڑیں ان پر بہرے اندھے ہو کر

47:۔ ” والذین اذا الخ “ یہ ساتویں صفت ہے۔ جب ان کے پاس اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان میں غور و فکر کرتے اور ان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بےسوچے سمجھے اندھا دھند نہیں گرے پڑتے یعنی اگر آیتیں سن کر شدت خوف یا فرط مسرت سے سجدے میں گر جاتے ہیں تو ان کے مفہوم و مطلب کو سمجھ کر ایسا کرتے ہیں۔ منافقوں کی طرح جھوٹے تاثر کو ظاہر کرنے کے لیے تکلف اور تصنع سے ایسا نہیں کرتے یعنی انھم اذا ذکروا بھا خرو سجدا و ب کیا سامعین باذان واعیۃ مبصرین بعیون راعیۃ لما امروا بہ و نھوا عنہ لا کالمنافقین واشباھھم (مدارک ج 3 ص 135) ۔
Ayah 25:74

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ لوگ48 جو کہتے ہیں اے رب دے ہم کو ہماری عورتوں کی طرف سے اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک اور کر ہم کو پرہیزگاروں کا پیشوا

48:۔ ” والذین یقولون الخ “ یہ عباد الرحمن کی آٹھویں صفت ہے وہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہتے ہیں اے پروردگار عالم ہماری بیویوں کو اور ہماری اولاد کو ایسا نیک بنا کہ انہیں دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دلوں کو راحت پہنچے اور ہمیں ورع وتقوی کے اس مقام پر پہنچا دے کہ ہم پرہیز گاروں کے امام ہوں۔ اور علم وتقوی میں ہماری اقتداء کی جائے اور ہم سے دوسروں کو دینی نفع حاصل ہو۔ قال ابن عباس والحسن والسدی وقتادۃ والربیع بن انس ائمۃ یقدی بنا فی الخیر (ابن کثیر ج 3 ص 330) ائمۃ یقتدی بنا فی الخیر ولنا نفع متعد الی غیرنا (جامع البیان) حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں للمتقین کا متعلق محذوف ہے یعنی تابعین جو اجعلنا کا مفعول ثانی ہے اور اماما، المتقین سے حال ہے ای حال کو نھم ائمۃ۔
Ayahs 25:75–76

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

ان کو49 بدلہ ملے گا کوٹھوں کے جھروکے اس لیے کہ وہ ثابت قدم رہے اور لینے آئیں گے ان کو وہاں دعا اور سلام کہتے ہوئے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

سدا رہا کریں ان میں خوب جگہ ہے ٹھہرنے کی اور خوب جگہ رہنے کی

49:۔ ” اولئک یجزون الک “ الئک، عباد الرحمن کی خبر ہے یعنی مذکورہ بالا صفات سے متصف اللہ کے بندوں کو جنت میں بطور جزا بالا خانے دئیے جائیں گے انہوں نے اپنے کو اللہ کی اطاعت و بندگی پر قائم رکھا اور نفس کو خواہشات سے روکا۔ جنت میں فرشتے مبارکباد اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال کرینگے۔ ” خلدین فیھا “ وہ جنت کی نعیم و راحت میں ہمیشہ رہیں گے، نہ جنت فنا ہوگی، نہ ان کو موت آئیگی اور نہ انہیں جنت سے نکالا جائیگا۔ تو یہ کیا ہی اچھا مقام اور عمدہ ٹھکانا ہے۔
Ayah 25:77

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

تو کہہ50 پروا نہیں رکھتا میرا رب تمہاری اگر تم اس کو نہ پکارا کرو سو تم تو جھٹلا چکے اب آگے کو ہونی ہے مٹھ بھیڑ

50:۔ ” قل ما یعبؤا بکم الخ “ یہ تخویف دنیوی ہے اور خطاب مشرکین مکہ سے ہے۔ بکم میں باء تعدیہ کیلئے ہے۔ ربی، یعبؤا کا فاعل ہے۔ دعاء کم مصدر مفعول کی طرف مضاف ہے اور فاعل اللہ ہے اور لولا کا جواب محذوف ہے ای لعذبکم۔ اصل عبادت اس طرح ہوگی۔ لو لا دعاء اللہ ایاکم لعذبکم۔ یعنی میرے پیغمبر آپ فرما دیں میرے رب کو تمہاری پروا نہیں اگر تمہیں اللہ کی طرف سے توحید کی دعوت نہ ہوتی تو تمہیں عذاب سے جلد ہلاک کردیا جاتا لیکن اللہ کی سنت جاریہ یہ ہے کہ تبلیغ دعوت سے پہلے وہ کسی کو نہیں پکڑتا۔ جیسا کہ ارشاد ہے ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “ یا ” ما یعبؤا بکم ربی “ لولا کا جواب ہے جیسا کہ امام نسفی، ابو السعود اور دیگر مفسرین کی تاویل سے مفہوم ہوتا ہے۔ ما یصنع بکم ربی لولا دعاءہ ایاکم الی الاسلام (مدارک، ابو السعود وغیرہما) ۔ ” فقد کذبتم الخ “ لیکن اب تمہیں دعوت توحید پہنچ چکی اور تم اس کی تکذیب بھی کرچکے لہذا اب عنقریب تم کو جزائے تکذیب لازم ہے۔ چناچہ جنگ بدر میں ان کو تکذیب کی عبرتناک سزا دی گئی۔ بعض کے نزدیک آخرت کا عزاب مراد ہے۔ ثم قیل ھذا العذاب فی الاخرۃ وقیل کان یوم بدر وھو قول مجاھد (کبیر ج 6 ص 504) ۔ ” فسوس یکون الخ “ یکون کی ضمیر سے مراد جزائے تکذیب ہے۔ سورة فرقان میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” تبرک الذی نزل الفرقان “ تا ” وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا “ نفی شرک فی التصرف، و نفی برکات از غیر اللہ۔ 2 ۔ ” لا یخلقون شیئا و ھم یخلقون “ تا ” ولا یملکون موتا ولا حیوۃ ولا نشورا “ معبودان باطلہ نہ خالق ہیں نہ مالک و متصرف، نفع نقصان اور موت وحیات بھی ان کے اختیار میں نہیں لہذا وہ برکات دہندہ بھی نہیں ہیں۔ 3:۔ ” الذی یعلم السر “ تا ” انہ کان غفورا رحیما “۔ اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے لہذا برکات دہندہ بھی وہی ہے۔ 4:۔ ” ویم یحشرھم و ما یعبدون “ تا ” فما تستطیعون صرفا و لا نصرا “ (رکوع 2) ۔ یہ سورت کی خصوصیت ہے مشرکین دنیا میں جن بزرگوں کو برکات دہندہ سمجھتے اور حاجات میں پکارتے ہیں، قیامت کے دن وہ اپنے کارساز اور برکات دہندہ ہونے سے صاف انکار کریں گے۔ 5:۔ ” و اذا راوک ان یتخذونک “ تا ” افانت تکون علیہ وکیلا “ (رکوع 4) ۔ خصوصیت سورت۔ جس نے بھی مسئلہ توحید پیش کیا لوگوں نے اس سے استہزاء کیا۔ مشرکین اپنی خواہش نفس سے جس کو چاہتے ہیں برکات دہندہ سمجھ کر پکارنے لگتے ہیں۔ 6:۔ ” الم تر الی ربک کیف مد الظل “ تا ” خلقنا انعاما و اناسی کثیرا “ (رکوع 5) ۔ جب یہ تمام تصرفات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں تو برکات دہندہ بھی وہی ہے۔ 7:۔ ” ویعبدون من دون اللہ “ تا ” علی ربہ ظھیرا “ خصوصیت سورت۔ جو نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ مشرکین ان و برکات دہندہ سمجھ کر پکارتے ہیں۔ سورة فرقان ختم ہوئی