Ayah 24:12:۔ پہلا حصہ : تمہید، ترغیب الی القرآن، اصلاح معاشرہ کے لیے چار احکام، تہمت لگانے والوں پر زجریں، پھر اصلاح و تطہیر معاشرہ کے لیے چھ قوانین، دعوی توحید جس کی وجہ سے منافقوں نے تہمت لگائی، دعوی توحید پر ایک نقلی اور تین عقلی دلیلیں۔
” سورة انزلنھا الخ “: ” سورة “ مبتدا محذوف کی خبر ہے ای ھذہ سورة اور انزلنھا مع معطوفات، سورة کی صفت ہے (مدارک) یہ سورت میں بیان کردہ احکام کی تمہید اور ان کی تعمیل کی ترغیب ہے یعنی اس عظیم القدر سورت میں مسئلہ توحید اور ستر و عفاف کے بارے میں احکام بیان کیے گئے ہیں ان کو ماننا اور ان پر عمل کرنا ہم نے تم پر فرض کردیا ہے۔ ” انزلنا “ ماضی بمعنی حال ہے یعنی یہ سورت جو اس وقت ہم نازل کر رہے ہیں۔ فرضنھا “ ضمیر مفعول سے پہلے مضاف مقدر ہے ای فرضنا احکامھا (روح) احکام ستر وعفاف کے واضح احکام مراد ہیں یہ احکام چار ہیں جو اس کے بعد بالتفصیل مذکور ہیں۔ ” وانزلنا فیھا الخ “: ” انزلنا “ کا اعادہ بعد عہد کی وجہ سے ہے مقسود ذکر مفعول ہے۔ ” ایت بینت “ سے توحید کے روشن دلائل مراد ہیں۔ وفرضناھا اشارۃ الی الاحکام التی بینھا اولا ثم قولہ وانزلنا فیھا ایت بینت اشارۃ الی ما بین من دلائل التوحید (کبیر ج 6 ص 310) ۔
Ayah 24:23:۔ ” الزانیۃ والزانی الخ “: یہ ستر و عفاف اور تطہیر معاشرہ سے متعلق احکام اربعہ میں سے پہلا حکم ہے یعنی زانی اور زنایہ کو سو سو درہ مارو۔ ان پر یہ شرعی حد قائم کرو تاکہ لوگ بدکاری سے باز آجائیں لیکن ان پر حد جاری کرتے وقت دو باتوں کا خاص خیال رکھو۔ اول : ” ولا تاخذکم بھما رافۃ الخ “۔ اگر واقعی تم اللہ پر اور آخرت پر یقین رکھتے تو زانی اور زانیہ پر حد قائم کرتے وقت کسی قسم کی نرمی نہ کرونہ ان پر ترس کھا کر حد کو روکو، نہ کوڑوں کی تعداد میں کمی کرو اور نہ اس قدر ہلکے کوڑے مارو کہ ان کو پتہ بھی نہ چلے۔ ان کے لیے معافی یا رعایت کی سفارش کرنا بھی اس نہی کے تحت داخل ہے۔ دوم : ” لیشھد عذابھما الخ “: حد جاری کرتے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت وہاں موجود ہونی چاہئے تاکہ ان مجرموں کی مزید رسوائی ہو اور آئندہ کے لیے وہ گناہ کی جرات نہ کریں یہ کنوارے زانی اور زانیہ کی سزا ہے اگر کوئی شادی شدہ مرد و عورت زنا کریں تو ان کی سزا رجم ہے۔ رجم کا حکم آنحضرت ﷺ سے تواتر کے ساتھ منقول ہے اور دیگر محکمات کی طرح قطعی اور محکم ہے رجم کا حکم بالکل اسی طرح متواتر ہے جس طرح عدد رکعات اور مقادیر زکوۃ متواتر ہیں۔ ثبوت الرجم منہ (علیہ الصلوۃ والسلام) متواتر المعنی کشجاعۃ علی کرم اللہ تعالیٰ وجھہ وجود حاتم (روح ج 18 ص 79) ۔ اس کے علاوہ رجم خود قرآن کے اشارے سے بھی ثابت ہےحضور ﷺ کے زمانے میں ایک شادی شدہ یہودی اور یہودیہ نے زنا کیا۔ تورات میں چونکہ رجم کا حکم تھا اس لیے رجم سے بچنے کے لیے وہحضور ﷺ کے پاس مقدمہ لے آئے ان کا خیال تھا کہ اسلام میں رجم کی سزا نہیں ہےحضور ﷺ نے ان سے پوچھا تورات میں شادی شدہ زانی کی سزا کیا ہے انہوں نے کہا کوڑے لگانا اور منہ کالا کرنا۔ آپ نے فرمایا میں تم پر تورات کا حکم نافذ کروں گا۔ اور تورات میں اس جرم کی سزا رجم ہے۔ چناچہ آپ نے یہودیوں کے ایک عالم ابن صوریا کو حلف دے کر پوچھا سچ بتاؤ تورات میں اس گناہ کی سزا کیا ہے اس نے اقرار کرلیا کہ رجم ہے۔ چناچہ آپ نے رجم کا حکم نافذ کردیا اس پر سورة مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی ” وکیف یحکمونک وعندھم التوراۃ فیھا حکم اللہ الخ “ (رکوع 6) گذشتہ شرائع کے احکام کو قرآن میں بلا نکیر ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری شریعت میں بھی وہ نافذ ہیں۔
Ayah 24:34:۔ ” الزانی لا ینکح الخ “ یہ دوسرا حکم یہ زنا کی سزا کے بعد زانی اور زانیہ کی عادت بد کا ذکر کیا گیا ہے یعنی جو مرد اور عورت زنا کی عادت بد میں مبتلا ہوجائیں اور زنا کو عیب نہ سمجھیں وہ اس لائق نہیں رہتے کہ کسی پاک دامن مومن مرد یا عورت سے ان کا تعلق ازدواج قائم کیا جاسکے ان کی ناپاک اور ذلیل طبیعت کا تقاضا تو یہ ہے کہ کسی ایسے ہی بدکار مرد و عورت یا ان سے بھی بدتر کسی مشرک و مشرکہ کے ساتھ نکاح ناجائز قرار دیا ہے۔ اسی طرح اگر کسی بدکار مسلمان مرد و عورت کا کسی پارسا عورت و مرد سے عقد ہوجائے تو اسے باطل نہیں قرار دیا۔ اس آیت سے زنا کی عادت شنیعہ کی برائی اور قباحت کو واضح کرنا مقصود ہے اس صورت میں ” لاینکح “ کے معنی یہ ہوں گے کہ اس کے لیے لائق نہیں کہ وہ نکاح کرے یعنی عدم لیاقت فعل کو عدم فعل سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ محاورہ ہے ” السلطان لایکذب “ یعنی جھوٹ بولنا بادشاہ کے شایان شان نہیں۔ یہ مطلب نہیں کہ بادشاہ جھوٹ بول ہی نہیں سکتا۔ تقبیح الامر الزانی اشد تقبیح ببیان انہ بعد ان رضی بالزنا لا یلیق بہ ان ینکح الفیفۃ المومنۃ وانما یلیق بہ ان ینکح زانیۃ ھی فی طبقتہ (فلا ینکح) خبر مزاد منہ لا یلیق بہ ان ینکح کما تقول السلطان لا یکذب ای لایلیق بہ ان یکذب نزل فیہ عدم لیاقۃ الفعل منزلۃ عدمہ (روح ج 18 ص 84) یا نکاح سے یہاں وطی مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ جس مرد و عورت کو یہ عادت بد چمٹ جائے وہ ایسے ہی بدکار مرد و عورت سے یا ان سے بھی بدتر مشرک و مشرکہ کے ساتھ ہی زنا کرتے ہیں کیونکہ پارسا مرد و عورت تو اس فعل بد سے کلی اجتناب کرتے ہیں۔ فالمعنی الزانی لایطا فی وقت الزنا الا زانیۃ من المسلمین او منھی احسن منھا من المشرکات وقد روی عن ابن عباس و اصحابہ ان النکاح فی ھذہ الایۃ الوطء (قرطبی ج 12 ص 167) یا نکاح سے عقد شرعی مراد ہے اور آیت منسوخ ہے ب آیت وانکحوالایامی منکم (قرطبی ج 12 ص 169) لیکن پہلا مطلب ارجح اور دوسرا راجح ہے۔ حضرت شیخ (رح) نے ان دونوں کو پسند فرمایا۔
5:۔ ” وحرم ذلک الخ “ : ” ذلک “ سے زنا کی طرف اشارہ ہے جو ماقبل سے مفہوم ہے۔ اس صورت میں حرمت سے حرمت شرعیہ مراد ہوگی اور یہ جملہ ماقبل کی علت ہوگا۔ والاشارۃ یحتمل ان تکون للزنا المفھوم مما تقدم والتحریم علیہ علی ظاھرہ و لعل ھذا الجملۃ وما قبلھا متضمنۃ لتعلیل ما تقدم الخ (روح ج 18 ص 84) یا اشارہ مذکورہ بالا نکاح کی طرف ہے اور تحریم بمعنی منع ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” وحرمنا علیہ المراضع الخ “ اور مومنین سے افراد کاملہ مراد ہیں اور مطلب یہ کہ ہم نے تکوینی طور پر مومنین کاملین کے دلوں کو ایسے بدکار مردوں اور عورتوں کے نکاح سے متنفر کردیا ہے اور ان کے دل ایسے گندے لوگوں کی طرف مائل ہی نہیں ہوتے، ویحتمل ان تکون لنکاح الزانیۃ وعلیہ فالمراد من التحریم المنع وبالمومنین المومنون الکاملون و معنی منعھم عن نکاح الزوانی جعل نفوسھم ابیۃ عن المیل الیہ فلا یلیق ذلک بھم الخ (روح) ۔
Ayahs 24:4–56:۔ ” والذین یرمون الخ “ یہ تیسرا حکم ہے جب یہ بات واضح ہوگئی کہ مومنوں کی شان سے بعید ہے کہ وہ زنا ایسے برے فعل کا ارتکاب کریں تو اب اگر کوئی شخص کسی پاک دامن عورت یا پارسا مرد پر زنا کی تہمت لگا دے تو اس سے چار گواہوں کا مطالبہ کیا جائے اگر وہ چار قابل اعتماد گواہ پیش نہ کرسکیں تو انہیں حد قذف یعنی تہمت لگانے کی سزا کے طور پر اسی درے مارے جائیں۔ ” ولا تقبلوا لھم الخ “ اور آئندہ کے لیے کسی معاملہ میں کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کی جائے۔ ” اولئک ھم الفسقون “ یہ تہمت لگانے والوں کے حال کا بیان ہے اور جملہ مستانفہ ہے کلام مستانف غیر داخل فی حیز جزاء الشرط کانہ حکایۃ حال ارامین عند اللہ بعد انقضاء الجملۃ الشرطیۃ (مدارک ج 3 ص 102) کذا فی البحر المحیط ج 6 ص 432 ۔ ” الا الذین قالوا الخ “ یہ ” الفسقون “ سے استثناء ہے یعنی اگر تہمت لگانے والوں نے توبہ کرلی اور اپنے کیے پر نادم ہوگئے اور آئندہ کے لیے اپنے اعمال کی اصلاح کرلی تو ان سے فسق کا نام اٹھ جائیگا ای رجعوا عما قالوا و ندموا علی ما تکلموا استثنا من الفاسقین کما صرح بہ اکثر الاصحاب۔ کون الاستثناء من الجملۃ الاخیرۃ مذھب الحنفٰہ فندھم بل الظاھر ھو ما یعضدہ کلام العرب وھو الرجوع الی الجملۃ التی تلیھا الخ (بحر ج 6 ص 433) جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے ان چار اشخاص (عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین) حضرت حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش پر حد قذف قائم فرمائی جنہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے قذف میں حصہ لیا تھا کما فی التفسیر الکبیر ج 6 ص 353 و ارشاد العقل السلیم لابی السعود ج 6 ص 343) ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ آپ نے کسی پر بھی حد قائم نہیں فرمائی (کما فی روح المعانی ج 8 ص 116) ۔
Ayahs 24:6–77:۔ ” والذین یرمون ازواجھم الخ “ یہ چوتھا حکم ہے۔ پہلے اجنبی پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کا حکم بیان کیا گیا اب اس کی مناسبت سے اپنی بیویوں پر تہمت زنا لگانے کا حکم بیان کیا جاتا ہے لما ذکر حکم قذف الاجنبیات بین حکم قذف الزوجات (مدارک ج 3 ص 102) ۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر تہمت زنا لگا دے اور گواہ پیش نہ کرسکے تو اس پر حد قذف نہیں بلکہ ان دونوں میاں بیوی کے درمیان لعان ہوگا یعنی دونوں میاں بیوی چار چار بار قسم کھا کر اپنی سچائی کی گواہی دیں اور پانچویں بار اپنے اوپر بد دعا کریں کہ وہ اگر جھوٹے ہوں تو خدا ان پر لعنت کرے۔ ” فشھادۃ احدھم “ یہ تہمت لگانے والے کیلئے چار شہادتوں کا طریقہ ہے کہ وہ چار بار قسم کھا کر شہادت دے کہ وہ تہمت میں سچا ہے۔ والخامسۃ الخ اور پانچویں بار یوں کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت۔ اگر خاوند اس طرح لعان کرے تو اس پر حد قذف نہیں ہوگی۔
Ayahs 24:8–98:۔ ” و یدرء عنھا الخ “: ” ان تشھد میں اَنْ مصدریہ ہے اور جملہ بتاویل مصدر یدرء کا فاعل ہے اور العذاب سے حد زنا مراد ہے یعنی اگر عورت بھی بطریق ذیل لعان کرے تو اس سے حد زنا ساقط ہوجائے گی پہلے چار بار خدا کی قسم کھا کر کہے کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے اور پانچویں بار یوں کہے کہ اگر اس کا خاوند اپنے دعوی میں سچا ہو تو اس (مراد بیوی) پر خدا کا غضب نازل ہو جب خاوند بیوی دونوں بطریق بالا لعان کرلیں تو ان دونوں کے درمیان زوجیت کے حقوق ختم ہوجائیں گے اور قاضی کی تفریق سے ان کے درمیان طلاق بائن واقع ہوجائے گی (روح و مدارک) ۔
Ayah 24:109:۔ ” ولو لا فضل الخ “ تمہید کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے والوں پر زجریں ہو رہی ہیں۔ مومنوں کی شان سے بعید ہے کہ وہ پاک دامن مومن عورتوں پر تہمت لگائیں مگر اس کے باوجود تم نے صدیقہ پر تہمت لگائ۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی شامل حال نہ ہوتی تو تمہیں فورًا عذاب سے ہلاک کردیا جاتا۔ ” لَوْ “ کی جزا یہاں مذکور نہیں وہ آگے آرہی ہے۔ اس سورت میں لَوْ چار بار آیا ہے لیکن اس کا جواب صرف دو جگہ مذکور ہے یعنی پہلے اور دوسرے لَوْ کا جواب ایک ہے اسی طرح تیسرے اور چوتھے کا جواب ایک ہے۔
Ayah 24:1110:۔ ” ان الذین جاء وا الخ “ یہ منافقین پر زجر ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت کے بارے میں لوگ تین قسموں میں منقسم ہوگئے۔ اول وہ منافقین جنہوں نے یہ تہمت گھڑی اور اس کی تشہیر کی۔ ان کا سرغنہ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین تھا۔ دوم وہ مخلص مومنین جو غلط فہمی سے منافقوں کی باتوں سے متاثر ہوگئے اور ان کی زبانوں سے بھی نامناسب باتیں نکل گئیں۔ حضرت حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ ایسے ہی تھے۔ سوم عام مخلص مومنین جنہوں نے یہ باتیں سن کر خاموشی اختیار کی نہ ان کی تائید کی نہ تردید۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں جماعتوں پر زجر فرمایا۔ پہلے گروہ پر سب سے زیادہ زجر کیا گیا۔ یہ پہلی دونوں جماعتوں پر زجر ہے منکم میں خطاب تمام مسلمانوں سے ہے۔ ” عصبۃ “ سے وہ منافقین اور مومنین مراد ہیں جنہوں نے اس تہمت میں حصہ لیا۔ منافقین اپنے کو مسلمانوں میں شمار کرتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بظاہر مسلمانوں میں شمار کر کے ” منکم “ کا لفظ استعمال فرمایا۔ ومعنی ” منکم “ من اھل ملتکم و ممن ینتھی الی الاسلام سواء کان کذالک فی نفس الامر ام لا فیشمل ابن ابی لانہ ممن ینتھی الی الاسلام ظاھرا وان کان کافرا فی نفس الامر (روح ج 18 ص 115) ۔
11:۔ ” لا تحسبوہ الخ “ اس افک اور تہمت کو تم برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لیے خیر و برکت کا پیش خیمہ ہے کیونکہ حضرت عائشہ ؓ کو اللہ تعالیٰ نے تہمت سے پاک ثابت کردیا اور اس کے ساتھ گذشتہ چار احکام بھی نازل فرما دئیے جو معاشرے کے لیے امن و سلاماتی اور طہارت و پاکیزگی کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ بل ھو خیر لکم لاکتسابکم بہ الثواب العظیم فظہور کر امتکم علی اللہ عز وجل بانزال ثمانی عشرۃ ایۃ فی نزاھۃ ساحتکم الخ (ابو السعود ج 6 ص 336) ۔ ” لکل امرئ منھم الخ “ اور جنہوں نے اس تہمت میں حصہ لیا ہے انہوں نے اپنے جرم کی نوعیت کے مطابق گناہ کا بوجھ اٹھا لیا ہے۔
ٖ 12:۔ ” والذی تولی الخ “ اس سے عبداللہ بن ابی رائیس المنافقین مراد ہے اس واقعہ میں شر و فساد کا سرغنہ اور لیڈر یہی تھا اس لیے جنہوں نے اس میں حصہ لیا ہے وہ محض غلط فہمی کا شکار ہوئے۔ والاقرب فی الروایۃ ان المراد بہ عبداللہ بن ابی ابن سلول فانہ کان منافقا یطلب ما یکون قدحا فی الرسول (علیہ السلام) وغیرہ کان تابعا لہ فیما کان یاتی الخ (کبیر ج 6 ص 351) (والذی تولی کبرہ) ھو عبداللہ بن ابی ابن سلول (معالم و خازن ج 5 ص 62) ۔ جمہور اور محقق مفسرین نے یہی لکھا ہے کہ یہاں موصول سے عبداللہ بن ابی ابن سلول ہی مراد ہے مزید حوالوں کے لیے ملاحظہ ہوں :۔ مدارک ج 3 ص 103، جامع البیان ص 306، ابو السعود ج 6 ص 336، روح ج 18 ص 115، بحر ج 6 ص 437 وغیرہ۔
Ayah 24:1213:۔ ” لو لا اذ سمعتموہ الخ “ یہ تیسرے گروہ پر زجر ہے۔ ” قالوا ظن “ پر معطوف ہے یعنی جب تم نے یہ تہمت سنی تو اس وقت تم نے تمام مردوں اور عورتوں کے بارے میں حسن سے کیوں کام نہ لیا اور فورًا ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ محض بہتان اور جھوٹی تہمت ہے کیونکہ ہم کسی مخلص اور سچے مومن مرد اور عورت کے بارے میں یہ گمان نہیں کرسکتے کہ وہ زنا ایسا برا کام کر گذریں۔
Ayah 24:1314:۔ ” لولا جاء وا الخ “ یہ عام مسلمانوں پر زجر ہے تہمت لگانے والوں نے چار گواہ پیش کیوں نہیں کیے ؟ جب وہ چار گواہ پیش نہیں کرسکے تو ظاہر ہے کہ وہ جھوٹے ہیں لہذا اے ایمان والو تمہارا فرض تھا کہ تم یہ غلط بات سنتے ہی اعلان کردیتے کہ یہ سراسر جھوٹی تہمت ہے اور اس میں سچائی کا شائبہ تک نہیں مگر اس کے باوجود تم نے خاموشی اختیار کی۔ وھذا توبیخ و تعنیف للذین سمعوا الفک و لم یجدوا فی دفعہ وانکارہ الخ (بحر ج 6 ص 438) ۔
Ayah 24:1415:۔ ” ولا لوا فضل الخ “: اعادہ بعد عہد کی وجہ سے ہے پہلے ” ولولا فضل اللہ الخ “ گذر چکا ہے وہاں ” لو “ کا جواب مذکور نہیں تھا یہاں ” لمسکم فی ما افضتم الخ “۔ لَوْ “ کا جواب ہے اور خطاب دونوں گروہوں سے ہے یعنی تم نے جو ایک پاک دامن اور عفیفہ عورت اور پھر پیغمبر (علیہ السلام) کی بیوی پر تہمت لگائی ہے اس کی وجہ سے تم مستحق تو اس بات کے تھے کہ تمہیں فورًا ہی عبرتناک عذاب سے ہلاک کردیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے تم پر مہربانی فرمائی اور فوراً نہیں پکڑا بلکہ مہلت دیدی اس معاملہ میں جو مخلص مومنین ملوث تھے ان کے لیے یہ تاخیر حقیقتًا اللہ کی رحمت ثابت ہوئی انہیں موقع مل گیا اور انہوں نے سچی توبہ کرلی اور آخرت کے عذاب سے بھی بچ گئے لیکن رئیس المنافقین کو اس مہلت سے صرف وقتی فائدہ ہوا لیکن آخرت میں دردناک عذاب میں گرفتار ہوگا۔
Ayah 24:1516:۔ ” اذتلقونہ الخ “ یہ دوسرے گروہ کیلئے زجر ہے۔ ” اذ “ ” لمسکم “ کے متعلق ہے۔ (روح) ۔ یعنی تمام منافقین کی پھیلائی ہوئی خبر کو ہاتھوں ہاتھ لے رہے تھے اور بلا تحقیق اس کی اشاعت کر رہے تھے اس وقت ہی اگر تم پر اللہ کا عذاب آجاتا تو ایسا ہوسکتا تھا لیکن اللہ نے محض اپنی رحمت سے عذاب نازل کرنے میں عجلت نہیں فرمائی ” تحسبونہ ھینا الخ “ تم اس معاملہ کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ معاملہ بہت ہی سنگین اور بہت بڑا جرم تھا۔ اے ایمان والو ! تمہیں اس معاملے کی سنگینی کا احساس ہونا چاہیے تھا اور تمہارے لیے اس معاملے میں لب کشائی مناسب نہ تھی۔
Ayahs 24:16–1817:۔ ” ولو لا اذ سمعتموہ الخ “۔ یہ بھی دوسرے گروہ پر زجر ہے جب تم نے یہ بات سنی تھی تو تم نے یہ کیوں نہ کہا کہ ہمیں اس قول باطل کی اشاعت میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ اے اللہ بیشک تو ہر عیب سے پاک ہے لیکن یہ بھی ایک صریح بہتان ہے جو ایک پاک دامن اور پارسا عورت پر لگایا گیا ہے۔ ” یعظکم ان تعودوا الخ “ اگر واقعی تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ ایسی حرکت مت کرو۔ ” و یبین اللہ الخ “ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے اس لیے وہ ایسے احکام نازل فرماتا ہے جس میں تمام بنی آدم کی فلاح و بہبود ہو۔
Ayah 24:1918:۔ ” ان الذین الخ “ یہ گروہ منافقین کے لیے دنیوی اور اخروی تخویف ہے نیز تہمت لگانے کی علت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ منافقین تہمت اس لیے لگا رہے ہیں تاکہ مسلمانوں میں فحش اور بےحیائی پھیل جائے اور لوگ بد اعتقاد ہو کر توحید کو نہ مانیں۔
Ayah 24:2019:۔ ” ولو لا فضل اللہ الخ “ لَوْ کا جواب محذوف ہے اس انعام و احسان کی اہمیت کا احساس دلانے اور مسلمانوں کو تنبیہ کرنے کے لیے اس کا دوبارہ اعادہ فرمایا یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور اللہ تعالیٰ مہربان نہ ہوتا تو اس جرم کی پاداش میں تمہیں فورًا ہلاک کردیتا اور مہلت دنہ دیتا لعجل لکم العذاب وکردرد المنۃ بترک المعاجلۃ بالعقاب مع حذف الجواب مبالغۃ فی المنۃ علیھم والتوبیح لھم (مدارک ج 3 ص 105) ۔
Ayah 24:2120:۔ ” یا ایھا الذین الخ “ ایمان والوں کو نصیحت فرمائی کہ پاک دامن مومنوں پر تہمت لگانا بہت برا اور فحش کام ہے اور بےحیائی اور فحش کاموں کی ترغیب و اشاعت تو شیطان کا کام ہے، ایمان والوں کو ایسے کاموں سے دور رہنا چاہئے اور شیطان کی پیروی نہیں کرنی چاہئے۔ من یتبع الشیطان ارتکب الفحشاء والمنکر فانہ لا یامر الا بھما ومن کان کذلک لا یجوز اتباعہ وطاعتہ (روح ج 18 ص 124) ۔
21:۔ ” ولو لا فضل اللہ الخ “ اعادہ بعد عہد کی وجہ سے ہے اور مقصد ذکر جزاء ہے۔ ” ما زکی منکم الخ “ جزاء ہے یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ اس بےحیائی اور بہتان تراشی کو روکنے کے لیے احکام وحدود مقرر فرمادئیے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو منافقین کی شرارتوں سے کسی عزت بھی محفوظ نہ رہتی وہ آج ایک کو بدنام کرتے کل دوسرے کی ہتک پر آمادہ ہوجاتے لیکن اللہ نے حد قذف مقرر فرما کر ان کے منہ بند کردئیے ہیں یا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیات بینات نازل فرما کر توحید اور شریعت کی راہ واضح کردی ہے تاکہ ایمان والے اس پر چل کر اللہ کا قرب حاصل کریں پھر اس نے توبہ کا دروازہ بھی ل کھول دیا ہے تاکہ گنہ گار توبہ کر کے گناہوں سے اپنے کو پاک کرسکیں تو یہ سب اللہ کی مہربانی ہے اگر وہ ایسا نہ کرتا تو کوئی بھی گناہوں سے پاک نہ ہوسکتا۔ ” ولکن اللہ یزکی الخ “ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مہربانی ہی سے انسان کو عمل اور توبہ کی توفیق ملتی ہے اور اس کا فضل وکرم شامل حال ہو تب ہی انسان گناہوں سے پاک ہوسکتا ہے ای ان تزکیتہ لکم وتطھیرہ وھدایتہ انماھی بفضلہ لا باعمالکم (قرطبی ج 12 ص 207) ۔
Ayah 24:2222:۔ ” ولا یاتل اولوا الفضل الخ “۔ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئی۔ مسطح بن اثاثہ ؓ حضرت ابوبکر صدیق کے قریبی رشتہ دار تھے یہ مہاجرین اولین میں سے تھے، ان کی مالی ھالت کمزور تھی۔ حضرت صدیق ؓ حضرت مسطح ؓ کے دینی شرف اور صلہ رحمی کی بناء پر ان کی مالی امداد کیا کرتے تھے واقعہ افک میں مسطح ؓ سے بھی غلطی ہوگئی اور وہ دوسرے گروہ میں شامل تھے جب حضرت عائشہ ؓ کی براءت نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے قسم کھالی کہ آئندہ کے لیے وہ مسطح ؓ پر خرچ نہیں کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ بخشش و عطا تو اسباب مغفرت میں سے ہے تم اس کو بند کیوں کرتے ہو، کیا تم مغفرت نہیں چاہتے ہو ؟ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ فورًا بول اٹھے بلی واللہ یا ربنا انا لنحب ان تغفرلنا (روح) اس کے بعد مسطح کا وظیفہ بحال کردیا۔
Ayahs 24:23–2523:۔ ” ان الذین یرمون الخ “ یہ منافقین کے لیے تخویف دنیوی و اخروی ہے وہ دنیا اور آخرت میں خداوند تعالیٰ کی لعنت کا مورد ہیں اور آخرت میں انہیں ہولناک عذاب میں بھی مبتلا کیا جائیگا اس سے عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین مراد ہے جو واقعہ افک کا سرغنہ تھا۔ قال مقاتل ھذا خاص فی عبداللہ ابن ابی المنافق (معالم ج 5 ص 64، خازن ص 65) ۔ ” یوم تشھد الخ “ ظرف لغو یا ” عذاب عظیم “ سے متعلق ہے قیامت کو جب یہ منافق اپنے افعال قبیحہ اور اعمال شنیعہ کے ارتکاب سے انکار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے گویائی کا اختیار سلب کرلے گا اور ان کے جوارح کو بولنے کی قوت عطاء فرما دے گا۔ چناچہ ان کے ہاتھ پاؤں اور زبان ان کے اختیار کے بغیر بول کر ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ ابن انطقھن اللہ من غیر اختیارھم (جامع ص 307) ۔ ” یومئذ یوفیھم اللہ الخ “ دینھم، دین کے معنی حساب اور جزاء کے ہیں یعنی قیامت کے دن اللہ عدل و انصاف کے ساتھ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور ان پر ظلم نہیں کرے گا ای حسابھم وجزاءھم (قرطبی) ومعنی الھق الثابت الذی ھوم اھلہ (مدارک) و یعلمون ان اللہ الخ دنیا میں منافقین اللہ کی توحید اور دین اسلام کی سچائی سے شک میں تھے لیکن قیامت کے دن ان کے تمام شکوک رفع ہوجائیں گے اور ان پر واضح ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید حق ہے اور اس کا دین سچا ہے۔ عن ابن عباس انھا نزلت فی عبداللہ بن ابی کان یشک فی الدین فاذا کان یوم القیامۃ علم حیث لا ینفعہ (بحر ج 6 ص 440) ۔
Ayah 24:2624:۔ ” الخبیثت للخبیثین الخ “ پارسا ایمان والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ الخبیثات، ناپاک عادتیں اور گندی باتیں مراد ہیں اور الطیبات سے پاکیزہ اور نیک عادتیں اور باتیں مراد ہیں یعنی گندی باتیں اور عادتیں، گندے اور بدکار لوگوں کے لائق ہیں اور پاکیزہ عادتیں اور ستھری باتیں نیکو کار اور پاکیزہ لوگوں کی شان کے شایان ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ایک پاکیزہ عورت ہیں اس لیے بدکاری ایسی بری اور ناپاک بات کو ان کی ذات سے کوئی نسبت نہیں۔ اسی طرح حضرت صفوان ؓ (جن سے منافقین نے حضرت عائشہ پر تہمت لگائی تھی) بھی ایک پاکباز اور عفیف انسان ہیں اور زنا ایسی خباثت سے مبرّا ہیں۔ قال مجاھد وابن جبیر وعطاء و اکثر المفسرین المعنی الکلمات الخبیثات من القول للخبیثین من الرجال وکذا الخبیثون من الناس للخبیثات من القول الخ (قرطبی ج 12 ص 211) ۔ یا الخبیثت سے بدکار عورتیں اور الطیبات سے پارسا عورتیں مراد ہیں اور مطلب یہ ہوگا کہ بدکار اور گندی عورتیں بدکار اور گندے مردوں کے لائق ہیں، اسی طرح بدکار مرد اس لائق ہیں کہ ان کا تعلق بھی اپنے جیسی گندی عورتوں سے ہو اور پاک اور ستھرے مرد اپنے جیسی پارسا اور ستھری عورتوں کے لائق و بالعکس۔ ستھرے اور پاکباز انسانوں کا بدکار اور گندی عورتوں سے کیا جوڑ ؟ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ طیب و طاہر پیغمبر ﷺ کی بیوی ہیں لہذا یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اللہ کے پیغمبر کی بیوی بدکاری کی نجاست و خباثت سے پاک اور طیبہ اور طاہرہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی ناموس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کی آبرو پر آنچ نہیں آنے دیتا۔ کان تعالیٰ یبین ان الطیبات من النساء لطیبین من الرجال ولا احد طیب ولا اطھر من الرسول فازواجہ اذن لا یجوز ایکن الا طیبات (کبیر ج 6 ص 369) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے پہلے مطلب کو راجح قرار دیا اور فرمایا ” اولئک مبرءون مما یقولون الخ “ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے یعنی پاک لوگ ان ناپاک اور خبیث باتوں سے مبرا ہیں۔ جن کو خبیث لوگ ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
25:۔ ” اولئک مبرءون الخ “ یعنی طیبات (پاکیزہ عورتیں) اور طیبون (پاک دامن مرد) ان ناپاک اور خبیث باتوں سے مبرا ہیں جو منافقین ان کی طرف منسوب کرتے ہیں حضرت عائشہ ؓ اور حضرت صفوان ؓ منافقین کے اس خبیثبہتان سے بری اور پاک ہیں اور اللہ کا رسول ﷺ بھی اس خباثت سے پاک ہے کہ اس کی بیوی فاحشہ ہو۔ الاشارۃ قیل الی رسول اللہ ﷺ والصدیقۃ وصفوان (روح ج 18 ص 131) ۔ اولئک مبرءون مما یقولون ای عائشۃ و صفوان مما یقول الخبیثوان والخبیثات (قرطبی) پاکیزہ لوگ دنیا میں بھی ان خباثتوں سے پاک ہیں اور آخرت میں ان پر اللہ کی بےپایاں بخشش ہوگی اور باعزت مقام کے مستحق ہوں گے۔
Ayah 24:2726:۔ ” یا ایہا الذین امنوا الخ “ قصہ افک کی تفصیل کے بعد اب آگے چھ قوانین اور آداب معاشرت بیان کیے جاتے ہیں تاکہ بدکاری اور بدکاری کی تہمت کے اسباب و دواعی کا سد باب ہوجائے اور آئندہ کے لیے کسی کو کسی پر الزام و بہتان لگانے کا موقعہ ہی نہ مل سکے یہ پہلا قانون ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ وہ کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوا کریں۔ ” حتی تستانسوا ای تستاذنوا من یملک الاذن من اصحابھا (روح ج 18 ص 133) ۔ یعنی جب دوسرے کے گھر میں داخل ہونا چاہو تو دستک یا آواز دے کر صاحب خانہ سے اجازت لے لو۔ ” وتسلموا علی اھلہا “ جب اجازت مل جائے تو گھر میں داخل ہو کر گھر میں رہنے والوں کو سلام مسنون کہو۔
Ayah 24:2827:۔ ” فان لم تجدوا الخ “ لیکن اگر گھر میں کوئی بھی موجود نہ یا گھر میں صرف مستورات اور بچے ہی ہو تو جب تک صاحب خانہ آکر اجازت دے اس وقت تک گھر میں مت گھسو۔
” وان قیل لکم ارجعوا الخ “ ان سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملے تو واپس چلے آؤ۔ ” ھو ازکی لکم “۔ اجازت نہ ملنے کی صورت میں تمہارا واپس آجانا ہی بہتر ہے اس میں تمہارے دین کا بھی فائدہ ہے اور دنیا کا بھی۔ کیونکہ اس طرح تم لوگوں کے شکوک و شبہات سے بالا رہو گے اب دروازے پر چمٹ کر کھڑے رہنا مناسب نہیں۔ لما فیہ من سلامۃ الصدور والبعد عن الریبۃ (مدارک ج 3 ص 107)
Ayah 24:2928:۔ ” لیس علیکم الخ “ یہاں ان گھروں اور مکانوں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں بلا اجازت داخل ہونا جائز ہے وہ یہ جگہیں ہیں جن میں کسی کے اہل و عیال سکونت پذیر نہ ہوں بلکہ وہ عوامی منافع اور کاروبار کے لیے مختص ہوں مثلاً ہوٹل دکانیں اور سرائیں وگیرہ قال محمد بن الحنفیۃ وقتادۃ و مجاھدھی الغنادق التی فی طرق السابلۃ قال مجاھد لا یسکنھا احد بلھی موقوفۃ لیاوی الیھا کل ابن السبیل (قرطبی ج 12 ص 221) ۔ ھی الخافات و المنازل المبنیۃ للسابلۃ۔ وقیل بیوت التجار وحوانیتھم (خازن ج 5 ص 68) ۔
Ayah 24:3029:۔ ” قل للمومنین الخ “ یہ دوسرا قانون ہے ایمان والوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ نظریں جھکا کر چلا کریں تاکہ اجنبی عورتوں سے ان کی نگاہیں محفوظ رہیں نیز فرمایا وہ اپنی شرمگاہوں کو بدکاری سے محفوظ رکھیں۔ یہ ان کے لیے طہارت و عفاف کا باعث غیر محرم عورت کی طرف دیکھنا دواعی زنا میں سے ہے اس لیے پہلے اس سے منع فرمایا کیونکہ جب آدمی اس کے اسباب و محرکات سے دور رہے گا تو اس سے بھی محفوظ رہے گا۔
Ayah 24:3130:۔ ” وقل للمومنات الخ “: یہ تیسرا قانون ہے اس میں عورتوں کو غض بصر اور حفظ فرج کا حکم دیا گیا ہے اس کے بعد عورتوں کو مزید ہدایات دی گئی ہیں۔ ” ولا یبدین زینتھن الخ “ زینت سے نفس زینت یا اعضاء زینت مراد ہیں۔ عورتیں اپنی زینت و آرائش کو یا ان اعضاء کو جو محل زینت و آرئش ہیں اجنبی مردوں کے سامنے ظاہر ہی نہ کریں البتہ جن اعضاء کے ڈھانپنے میں حرج اور ان کے ظاہر کرنے میں مجبوری ہو ان کو ظاہر کرسکتی ہیں جو عورتیں باقاعدہ حجاب میں نہیں رہتیں بلکہ اپنے کام کاج کے لیے انہیں گھر سے نکلنا پڑتا ہے انہیں ہاتھ ظاہر کرنے کی بھی اجازت ہے بشرطیکہ خوف فتنہ نہ ہو لیکن آج کل جو فیشن ایبل لڑکیاں ہاتھوں اور چہروں کو میک اپ سے سجا بنا کر بےپردہ باہر نکلتی ہیں اس کی ہرگز اجازت نہیں کیونکہ اس میں سراسر فتنہ ہی فتنہ ہے۔
31:۔ ” ولیضربن بخمرھن الخ “ عورت کے خلقی، حسن و جمال میں سینہ نمایاں حیثیت رکھتا ہے اس لیے اس کے ستر کی خاص طور سے تاکید فرمائی کہ اوڑھنی کو سر پر سے لا کر سینے پر ڈال دیں تاکہ سینے کا ستر بخوبی ہوجائے۔ یہ گھر میں ستر کا حکم ہے اگر گھر سے باہر جانے کی ضرورت پیش آئے تو برقع یا چادر اوڑھ کر نکلیں جس سے سارا بدن مستور ہوجائے یہ حکم ” یدنین علیہن من جلا بیبھن “ (احزاب رکوع 8) میں مذکور ہے۔ ” ولا یبدین الخ “ اور اپنی زیبائش کو کسی اجنبی کے سامنے ظاہر نہ کریں البتہ اپنے خاوند کے علاوہ مندرجہ ذیل مردوں کے سامنے آرائش کا اظہار جائز ہے کیونکہ یہ ان کے ذی رحم محرم ہیں باپ، خسر، بیٹا، خاوند، خاوند کا دوسری بیوی سے بیٹا، بھائی، بھتیجا اور بھانجا ” او نساء ھن “ ان رشتہ دار مردوں کے علاوہ ان عورتوں کے سامنے بھی اپنی آرائش کو ظاہر کرسکتی ہیں جو مسلمان ہوں اور اچھے کیریکٹر کی ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر عورتوں کے سامنے اسی طرح فاحشہ اور گندے کردار اور کمینہ صفت عورتوں کے سامنے زینت کی نمائش جائز نہیں کیونکہ ایسی عورتیں باپردہ عورتوں کی زینت و آرائش اور حسن و جمال کا غیر مردوں کے سامنے ذکر کریں گی اس میں خوف فتنہ ہے۔ قال ابن عباس ؓ لا یحل للمسلمۃ ان تراھا یھودیۃ او نصرانیۃ لئلا تصفھا لزوجھا (قرطبی ج 2 ص 233) ۔
32:۔ ” او ما ملکت الخ “ اس سے مراد لونڈیاں ہیں کیونکہ غلام غیر محرم کے حکم میں ہیں ای من الاماء ولو کو افروا ما العبید فھم کلا جانب (روح ج 18 ص 143) ۔ ” او التابعین الخ “ یعنی وہ نوکر چاکر یا وہ مرد جو گھروالوں کے ساتھ رہتے ہوں اور بچا کھچا کھا کر گذارہ کرتے ہوں اگر وہ عمر رسیدہ ہوں اور عورتوں سے انہیں رغبت نہ ہو بس اپنے کام سے کام رکھیں اور ان کی طبیعت میں شوخی وغیرہ نہ ہو یا اس سے وہ فاتر العقل مراد ہیں جن کے حواس بجا نہ ہوں تو ان کے سامنے بھی آرائش ظاہر کرسکتی ہیں الرجل یتبع القوم فیاکل معھم و یرتفق بھم وھو ضعیف لا یکثرت للنساء ولا یشتھیھن (قرطبی ج 12 ص 234) ۔ المراد بالتابعین غیر اولی الاربۃ ھم الذین یتبعون القوم لیصیبوا من فضل طعامہم لا ھمۃ لھم الا ذلک ولا حاجۃ لھم فی النساء (خازن ج 5 ص 70) ۔ ” او الطفل الذین الخ “ اسی طرح وہ چھوٹے بچے جو ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچے ان کے سامنے بھی آرائش ظاہر کرنے کی اجازت ہے۔ ” ولا یضربن بارجلہن الخ ” چلتے وقت اپنے پاؤں زمین پر آہستہ آہستہ رکھیں اور زور سے زمین پر نہ ماریں تاکہ پاؤں میں پہنے ہوئے زیوروں کی جھنکار غیر محرم نہ سن لیں کیونکہ اس سے وہ عورت کے کردار پر شبہ کریں گے اور ممکن ہے کہ ان کے اپنے دلوں میں خیالات فاسدہ کروٹیں لینے لگیں۔ ” وتوبوا الی اللہ الخ “ انسان خطا کا پتلا ہے انتہائی کوشش کے باوجود اوامرو نواہی اس سے قصور اغلب ہے اس لیے اپنے گناہوں سے توبہ کرنے اور معافی مانگنے کا حکم فرمایا۔ العبد لا یخلو عن سھو و تقصیر فی اوامرہ و نواھیہ وان اجتھدوا فلذا وصی المومنین جمیعا بالتوبۃ و بتامیل الفلاح اذا تابوا (مدارک ج 3 ص 109) ۔
Ayah 24:32ٖ 33:۔ ” وانکحوا الایامی الخ ” یہ چوتھا قانون ہے اس کا تعلق بھی صلاح و عفاف اور تطہیر معاشرہ سے ہے۔ ایامی ایم کی جمع ہے اور ایم غیر شادی شدہ مرد و عورت کو کہتے ہیں یا وہ مرد و زن جن کا رفیق زندگی فوت ہوچکا ہو الایم قال نضر بن شمیل کل ذکر لا انثی معہ و کل انثی لا ذکر معھا بکرا کان او ثیبا۔ وفی شرح کتاب سیبویہ لابی بکر الخفاف الایم التی لا زوج لھا واصلہھی التی کانت متزوجۃ ففقدت زوجھا برزء طرا علیھا الخ (روح ج 8 ص 147) ۔ یعنی جس عورت و مرد کا ابھی تک نکاح نہیں ہوا یا ہو کر بیوہ یا رنڈوا ہوگیا ہے تو موقع مناسب دیکھ کر ان کا نکاح کردو۔ اسی طرح غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو نیک ہیں ان کا نکاح بھی کردو کیونکہ نکاح ہوجانے سے ان میں زنا کا داعیہ کمزور ہوجائیگا اور نکاح نہ کرنے میں بہت سی خرابیاں ہیں۔ ” الصالحین “ سے یا تو شرعی معنی مراد ہے یعنی نیک اور پرہیزگار ہوں یہ قید اس لیے لگائی گئی کہ وہ حقوق زوجیت صحیح طور سے ادا کریں اور زوجین اور ان کی اولاد کا دین محفوظ رہے لیحصن دینھم ویحفظ علیھم صلاحہم (کبیر ج 6 ص 385) ۔ یا صلاح سے اس کا لغوی معنی صلاحیت مراد ہے یعنی اگر غلاموں اور لونڈیوں میں نکاح کی صلاحیت ہو۔ وہ بالغ ہوں اور حقوق زوجیت ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ وقیل المراد بالصلاح معنا واللغوی ای الصالحین للنکاح والقیام بحقوقہ (روح ج 8 ص 14) ۔
34:۔ ” ان یکونوا الخ “ غربت اور افلاس کی وجہ سے ان کے نکاح میں تاخیر نہ کرو کیونکہ فقر و غنا اللہ کے قبضے میں ہے اگر اللہ کو منظور ہوگا تو وہ ان کے افلاس کو غنا سے بدل دے گا۔ ” واللہ واسع علیم “ اس کے خزانے غیر محدود ہیں جو ختم نہیں ہوسکتے اور وہ اپنی حکمت و مصلحت کے تحت جسے چاہتا ہے فقیر یا غنی کردیتا ہے۔
Ayah 24:3335:۔ ” ویستعفف الخ “: نکاح سے یہاں اسباب نکاح مراد ہیں۔ (لایجدون نکاحا) استطاعۃ تزوج من المہر والنفقۃ (مدارک ج 3 ص 109) ۔ یعنی جو لوگ اس قدر محتاج ہیں کہ بیوی کے مہر اور اس کے نان و نفقہ کا بھی انتظام کرنے سے عاجز ہیں وہ صبر و ضبط سے اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید رکھیں جب اللہ تعالیٰ ان کے لیے نکاح کے اسباب مہیا کردے تو نکاح کرلیں۔
36:۔ ” والذین یبتغون الخ “ یہ پانچواں قانون ہے نکاح کی صلاحیت رکھنے والے غلاموں اور لونڈیوں کی تزویج کا حکم دینے کے بعد مستحق کتابت غلاموں کو مکاتب کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ بدل کتابت ادا کر کے آزاد ہوجائیں اور اپنے تصرفات نکاح، تجارت وغیرہ کے مختار ہوجائیں۔ مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جسے اس کا مالک کہہ دے کہ تم اتنی رقم ادا کردو تو تم آزاد ہو۔ ” خیرا “ سے مراد قدرت اور امانت ہے یعنی اگر تم سمجھو کہ غلام کمانے کی قدرت رکھتا ہے اور بد دیانت نہیں کہ مال میں خیانت کرے تو اس کو مکاتب کردو۔ ایا مانۃ وقدرۃ علی لکسب (روح) ۔ ” واتوھم الخ “۔ جب ان کو مکاتب کرو تو ان کی کچھ مالی امداد بھی کرو تاکہ وہ کوئی کام شروع کریں بدل کتابت میں سے کچھ تخفیف بھی اس میں شامل ہے (روح، معالم، خازن) ۔
37:۔ ” ولا تکرھوا فتیتکم الخ “ یہ صلاح و عفاف کا چھٹا قانون ہے زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ لونڈیوں کو زنا پر مجبور کرتے اور ان کی کمائی کھاتے تھے مفسرین نے کہا ہے یہ آیت عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کی دو لونڈیاں تھیں جن کی وہ کمائی کھاتا تا حرمت زنا کے نزول کے بعد ان لونڈیوں نے زنا کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ اب اسلام نے زنا حرام کردیا ہے اس لیے اب ہم یہ کام نہیں کریں گی ابن ابی نے ان کو مجبور کیا تو وہ دونوںحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس کی شکایت کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ قال المفسرون نزلت فی عبداللہ بن ابی سلول المنافق کانت لہ جاریتان یقال لھما سیکۃ و معاذۃ وکان یکرھھما علی الزنا لضریبۃ یاخذ منھما الخ (خازن ج 5 ص 75) ۔ آیت کا مورد اگرچہ خاص ہے مگر اس کا حکم عام ہے۔ لا اختصاص للخطاب بمن نزلت فیہ الایۃ بلھی عامۃ فی سائر المکلفین (روح ج 18 ص 157) ۔
38:۔ ” ان اردن الخ “: اس سے بظاہر شبہ ہوتا ہے کہ نہی ارادہ تحصن کے ساتھ مشروط ہے یعنی اگر لونڈیاں پاک دامن رہنے کا ارادہ کریں تو ان کو زنا پر مجبور نہ کیا کرو اس سے مفہوم یہ نکلا کہ ارادہ تحصن نہ ہو تو اکراہ کی اجازت ہے حالانکہ یہ درست نہیں اس کے متعدد جواب ہیں۔ اول ارادہ تحصن کا ذکر محض مزید تغلیظ اور تقبیح فعل کے لیے ہے یعنی جب وہ پاک رہنا چاہتی ہوں تو پھر ان پر جبر کرنا بہت ہی برا فعل ہے جیسا کہ موجودہ زمانہ میں کئی ایک ایسے واقعات سامنے آچکے ہیں کہ بعض بےغیرت خاوند اپنی بیویوں کو بدکاری پر مجبور کرتے ہیں۔ اس لیے بطور تغلیظ فرمایا جب وہ پاک رہنے کا ارادہ کریں تو تمہیں بطریق اولیٰ انہیں پاک رہنے کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” لا تاکلوا الربا اضعافا مضاعفۃ (آل عمران) ۔ یہاں ” اضعافا مضاعفۃ “ کا اضافہ بطور تغلیظ ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ سود در سود ناجائز ہے اور سود مفرد جائز ہے۔ فیہ توبیخ للموالی ای اذا رغبن فی التحصن فانتم احق بذالک (مدارک ج 3 ص 110) ۔ دوم ارادہ تحصن کا ذکر اغلب حالات کی رعایت سے کیا گیا ہے۔ کیونکہ جبر واکراہ صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب لونڈی اپنی آبرو محفوط رکھنے کا تہیہ کرے اور زنا پر رضامند نہ ہو لیکن اگر وہ خود ہی رضامند ہو تو جبر واکراہ کی نوبت نہیں آئے گی۔ انما شرط ارادۃ التحصن لان الاکراہ لا یتصور الا عند ارادۃ التحصن فما اذا لم تروا لتحصن فنھا تبغی بالطبع (خازن ج 5 ص 76) ۔ سوم ” لا تکرھوا فتیتکم الخ “۔ نکاح کردینے سے کنایہ ہے مطلب یہ ہے کہ جب تمہاری لونڈیاں پاکیزہ زندگی بسر کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں تو ان کا نکاح کردو اور نکاح سے ان کو نہ روکو کیونکہ اس صورت میں ان کے زنا میں واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ خواہش نکاح کے وقت کسی کو نکاح سے روکنا بھی اس باب داعیہ الی الزنا میں سے ہے اس لیے جو شخص اپنی لونڈیوں کو نکاح سے روکتا ہے گویا وہ ان کو زنا پر مجبور کرتا ہے جبکہ وہ زنا سے عفاف و طہارت کی زندگی بسر کرنا چاہتی ہیں۔ قالہ الشیخ قدس سرہ بعض امراء اور بڑے بڑے پیران سوء کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادی صرف اس لیے نہیں کرتے کہ ان کی شان کے انہیں داماد نہیں ملتے حالانکہ صرف دین کو دیکھنا چاہیے یہ لوگ بھی اس آیت کے تحت داخل ہیں۔
39:۔ ” ومن یکرھہن الخ “ ” من “ کی جزاء محذوف ہے ای فلا اثم علیھن اسی نہی کے بعد جو ان کو بدکاری پر مجبور کرے گا اس کا جرم و گناہ جبر کرنے والے پر ہے لونڈیوں پر نہیں۔ ہاں جبر واکراہ کے بعد بتقاضائے بشریت ان (لونڈیوں) سے جو مطاوعت سرزد ہوگی اس کی اللہ تعالیٰ معافی دے گا۔ تعلیق المغفرۃ لن مع کو نھن مکرھات لا اچم لھن لاعتبار انھن وان کن مکرھات لا یحلون فی تضاعیف الزنا عن شائبۃ مطاوعۃ بحکم الجبلۃ البشریۃ (روح ج 18 ص 158) ۔
Ayah 24:3440:۔ ” ولقد انزلنا الخ “۔ دوسری بار ترغیب مع تخویف دنیوی ” ایت مبینت “ دلائل توحید، اصلاح معاشرہ کے لیے احکام بیان کرنے بعد اصل مدعا کی طرف اشارہ ہے ” ومثلا من الذین الخ “ گذشتہ لوگوں کے قصص و امثال تاکہ خدا سے ڈرنے والے اور انابت کرنے والے لوگ ان سے نصیحت و عبرت حاصل کریں۔
Ayah 24:3541:۔ ” اللہ نور السموت الخ “: حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے سے منافقین کا مقسد یہ تھا کہ اس سے مسلمان آنحضرت ﷺ کے خلاف ہوجائیں گے اور مسئلہ توحید اور دین اسلام سے پھر جائینگے تہمت سے متعلقہ احکام اور اصلاح و تطہیر معاشرہ کے قوانین بیان کرنے کے بعد اب یہاں اصل دعوی توحید کا ذکر کیا گیا ہے۔ ” اللہ نور السموت والارض “ اللہ تعالیٰ سارے جہان کا نور ہے سارے جہان کی رونق اور چہل پہل اسی کی ذات سے قائم ہے۔ سارے عالم کا کاروبار اسی کی تدبیر اور تصرف سے چل رہا ہے اور کائنات کے ہر ذرے سے اس کی قدرت ظاہر و ہویدا ہے۔ وہی سارے جہان کا مدبر اور تمام جہان والوں کا کارساز ہے قال مجاھد و ابن عباس فی قولہ (اللہ نور السموات والارض) یدبر الامر فیھا (ابن کثیر ج 3 ص 289، روح ج 18 ص 164) ۔ قال مجاھد مدبر الامور فی السموت والارض (قرطبی ج 12 ص 257) ۔ اسی کے قدرت و تصرف زمین و آسمان کی رونق اور سارے جہان کا نظام قائم ہے ہر چیز اس سے منور اور موجود ہے المعنی ای بہ وبقدرتہ انارت اضواءھا و استقامت امورھا وقامت مصنوعا تھا (قرطبی ج 12 ص 256) ۔ الواجب الوجود الموجد لما عداہ (روح) ۔ حاصل یہ ہے کہ سارے جہان میں جو حسن و خوبی اور جمال و کمال ہے وہ اسی کی ذات سے ہے۔
42:۔ ” مثل نورہ الخ “ : پہلے فرمایا اللہ نور ہے اور زمین و آسمان میں ظاہر وعیاں ہے اب اس کے واضح ہونے کی مثال بیان فرمائی۔ مثال کی تقریر اس طرح ہے کہ ایک طاق ہو جس میں نہایت صاف و شفاف شیشے کا شمعدان ہو جو درخشاں ستارے کی طرح جگمگا رہا ہو اور اس میں بتی ہو جو کثیر الفوائد درخت زیتون کے تیل سے جل رہی ہو اور تیل بھی ایسا عمدہ ہو جو زیتون کے اس درخت سے حاصل کیا گیا ہو جو صبح شام دھوپ میں رہے۔ وہ تیل ایسا صاف اور لطیف ہو کہ ایسے معلوم ہو کہ آگ دکھائے بغیر ہی جل اٹھے گا۔ ” مشکوۃ “ طاقچہ جس میں چراغ رکھا جاتا ہے۔ ” مصباح “ چراغ، ” زجاجۃ “ شیشہ، ” کو کب دری “ چمکنے والا ستارہ، ” لاشرقیۃ ولا غربیۃ “ یعنی وہ نہ باغ کی شرقی جانب ہو نہ غربی جانب بلکہ کھلے میدان اور صحرا میں ہو تاکہ سارا دن اس پر دھوپ پڑے کیونکہ ایسے درخت کا روغن نہایت صاف و شفاف لطیف اور عمدہ ہوتا ہے۔ ای ضاحیۃ للشمس لا یظلہا جبل ولا شجر ولا یحجبھا عنھا شیء من حین تطلع الی ان تغرب وذالک احسن لزی تھا۔ (روح ج 18 ص 168) ۔ ” یوقد من شجرۃ الخ “ ، المصباح سے حال ہے اور شجرۃ سے پہلے مضاف مقدر ہے ای من زیت شجرۃ نور علی نور۔ یعنی اس طرح بہت سی روشنیاں جمع ہوگئیں۔ چراغ میں تیل بھی زیتون کا ہو جو نہایت صاف اور لطیف ہو۔ پھر چراغ اعلی درجے کے شفاف اور چمکدار شیشے کے قندیل ہو پھر وہ قندیل ایک محفوظ طاق میں ہو جس سے روشنی سمٹ کر اور تیز ہوجائے اس طرح بہت سی روشنیاں جمع ہوجائیں یہی مثال مسئلہ توحید کی ہے اللہ تعالیی کی وحدانیت اور اس کی کارسازی سارے جہان کے ذرے ذرے سے ظاہر وعیاں تھی پھر انبیاء سابقین (علیہم السلام) کی تعلیمات اور کتب سابقہ کی آیات بینات کی روشنیوں نے اس کو اور واضح اور روشن کیا پھر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور قرآنی تعلیما کی ضیا پاشیوں سے یہ مسئلہ اور زیادہ روشن ہو کر جگمگا اٹھا اور پھر ” نور علی نور “ کا مصداق بن گیا۔ ” یہدی اللہ لنورہ من یشاء “ اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات کے اعتبار سے سارے جہان میں ظاہر وعیاں ہے۔ جہان کے ذرے ذرے سے اس کی معرفت حاصل ہوسکتی ہے مگر اس کے باوجود راہ توحید دکھانا اور ہدایت دینا اللہ کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے ہدایت دے۔ مثال کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح مذکورہ بالا چراغ کی روشنی وضوع و انجلاء کی آخری حد ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا کارساز اور متصرف ہونا واضح اور عیاں ہے یہاں تک کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ ” ویضرب اللہ الامثال الخ “: اللہ تعالیٰ لوگوں کو سمجھانے کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے اسے معلوم کون ہدایت کا مستحق ہے اور کون غیر مستحق۔ ہو اعلم بمن یستحق الھدایۃ ممن یستحق الاضلال (ابن کثیر ج 3 ص 292) ۔
Ayahs 24:36–3843:۔ ” فی بیوت الخ “: دعوی توحید پر ان لوگوں سے دلیل نقلی ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو مدبر عالم، متصرف و مکتار اور کارساز سمجھ کر پکارتے ہیں اور ہر قسم کے شرک سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس کرتے ہیں۔ ” فی بیوت “ ظرف ” یسبح “ کے متعلق ہے۔ ” بیوت “ موصوف ” اذن اللہ الخ “ جملہ صفت، ” رجال “ ” یسبح “ کا فاعل ہے۔ ” فیھا “ ، ” فی بیوت “ کا تکرار ہے برائے تاکید، ای یسبح لہ رجال فی بیوت و فیھا تکریر کقولک زید فی الدار جالس فیھا (بحر ج 6 ص 458) ۔ یا ” فی بیوت “ جز مقدم ہے۔ ” رجال “ نکرہ موصوفہ مبتداء موخر ہے۔ ” رجال “ سے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین مراد ہیں۔ ” اذن “ سے امر اور ” رفع “ سے تعظیم مراد ہے اور اللہ کے اسم کے ذکر سے اس کی توحید مراد ہے۔ والمراد بالاذن الامر و بالرفع التعظیم (روح ج 18 ص 174) ۔ وعن ابن عباس ؓ تعالیی عنھما المراد بہ (بذکر اسمہ) توحیدہ عز وجل وھو قول لا الہ الا اللہ (روح ج 18 ص 186) ۔ یعنی جن گھروں کی عزت کرنے اور جن میں توحید کا ذکر اذکار کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ان میں اللہ کے ایسے بندے اس کا ذکر کرتے اور صبح و شام اس کی تسبیح و تقدیس کا ورد کرتے رہتے ہیں جن کو دنیا کا کاروبار اللہ کے زکر سے اور نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے سے مانع نہیں ہوتا یعنی وہ دنیا کے کاروبار میں ایسے منہمک نہیں ہوتے کہ اللہ کی عبادات ہی سے غافل ہوجائیں بلکہ کاروباری مصروفیت کے باوجود اللہ کی یاد اور اس کے فرائض کی ادائیگی میں سستی نہیں کرتے۔ ” یخافون یوما الخ “ یہ بھی انہی لوگوں کی صفت ہے۔ وہ لوگ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن خوف کے مارے دل بےچین اور مضطرب ہوجائینگے مراد قیامت کا دن ہے۔ ” لیجزیھم “ یہ مذکورہ افعال سے متعلق ہے یعنی اللہ کی تسبیح و تقدیس اس کی توحید کا ذکر، اقامت صلوۃ، ایتاء زکوۃ اور خوف اس لیے بجا لاتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزاء دے اور مزید فضل و مہربانی سے نوازے (روح) ۔ ” واللہ یرزاق الخ “ : یہ ماقبل کی علت ہے یعنی اللہ تعالیٰ جسے چاہے محض اپنے فضل و کرم سے اصل استحقاق سے زیادہ جزا دیدے۔ اس دلیل نقلی میں بتایا گیا کہ اللہ کے نیک بندے یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین ہر وقت اس کو یاد کرتے رہتے ہیں وہ اس کی یاد اور اس کی توحید سے کبھی غافل نہیں ہوتے وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو متصرف و مختار و کارساز سمجھ کر پکارتے ہیں وہ قیامت کے دن سے بھی ڈرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ اللہ ہی معبود برحق، مختار مطلق اور مالک روز جزا ہے۔
Ayah 24:3944:۔ ” والذین کفروا الخ “ یہ دلیل نقلی مذکور پر ایک شب ہے کا جواب ہے دلیل مذکور پر شبہہ وارد ہوتا تھا کہ دونوں کی عبادت اور پکار میں زمین و آسمان کا فرق ہے مسلمان صرف اور صرف اللہ کی عبادت کرتے اور صرف اسی کو پکارتے ہیں اور اس کی عبادت و دعا میں کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اس کے برعکس مشرکین اللہ کی عبادت کے ساتھ اوروں کی بھی عبادت کرتے ہیں اور اللہ کے سوا اپنے کود ساختہ معبودوں کو بھی کارساز سمجھ کر پکارتے ہیں اس لیے ان کے تمام اعمال بےسود اور رائیگاں ہیں۔ مشرکین کے اعمال دو قسم کے ہیں۔ اول وہ جو بظاہر اچھے ہیں مگر حقیقت میں بےفائدہ ہیں جیسا کہ مشرکین خیرات کرتے، سرائیں اور مسافر خانے بنواتے ہیں۔ دوم وہ جو بظاہر بھی برے ہوں اور حقیقت میں بھی ضرر رساں ہوں جیسا کہ اللہ کے سوا اوروں کو کارساز اور حاجت روا سمجنا وغیر۔ ” اعمالھم کسراب الخ “ میں پہلی قسم کے اعمال کی مثال بیان کی گئی ہے۔ ” سراب “ وہ ریت جو دھوپ میں چمکتی ہوئی نطر آتی ہے۔ ” قیعۃ “ صاف میدان۔ ایک مسافر جو لق و دق صحرا میں سفر کر رہا ہو۔ سورج کی گرمی تیز ہو اور وہ پیاس سے بدحال ہوچکا ہو، دور سے اسے سراب نظر آئے جو سورج کی شعاعوں کی وجہ سے پانی معلوم ہو لیکن جب وہاں پہنچے تو سوا ریت کے کچھ بھی نہ ہو۔ مشرکین اپنے ان اعمال خیر سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں لیکن خدا کے یہاں جب حاضر ہوں گے تو اعمال کا نام و نشان تک نہ دیکھیں گے۔ اذا رای السراب من ھو محتاج الی الماء یحسبہ ماء قصد یشرب منہ فلما انتھی الیہ (لم یجدہ شیئا) فکذالک الکافر یحسب ان عمل عملا وانہ قد حصل شیئا فاذا وافی اللہ یوم القیمۃ وحاسبہ علیھا ونوقش علی افعالہ لم یجد شیئا بالکلیۃ (ابن کثیر ج 3 ص 296) ۔
45:۔ ” حتی اذا الخ “۔ حتی غایت کے لیے ہوتا ہے مگر اس کا ربط ماقبل سے ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ پہلے سراب کی مثال بیان کی گئی ہے اور اس کے بعد شبہات کا ذکر ہے اس لیے یہاں یہ محذوف ہوگا کہ کافر اب تو نہیں مانتے لیکن جب وہ اللہ کے پاس جائینگے اور وہاں اپنے معبودان باطلہ کو نہیں پائیں گے، انہیں امید تھی ثواب کی مگر اللہ تعالیٰ انہیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔