24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsجواھر القرآن

Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا جیسے اندھیرے گہرے دریا میں چڑھی آتی ہے اس پر ایک لہر46 اس پر ایک اور لہر اس کے اوپر بادل اندھیرے ہیں ایک پر ایک جب نکالے اپنا ہاتھ لگتا نہیں کہ اس کو وہ سوجھے اور جس کو اللہ نے47 نہ دی روشنی اس کے واسطے کہیں نہیں روشنی

46:۔ ” اَوْ کَظُلُمٰتٍ الخ یہ مشرکین کے دوسری قسم کے اعمال کی تمثیل ہے جو بظاہر بھی برے ہوں اور حقیقت میں بھی۔ یعنی ان کے بعض اعمال تو ظلمات در ظلمات ہیں جس طرح ایک بہت ہی گہرے سمندر کی تہ جس کے اوپر پانی کے بیشمار موجیں ہوں اور پھر سیاہ بادل چھائے ہوئے ہوں۔ ایسا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہو کہ اپنا ہاتھ دکھائی نہ دے۔ مشرکین، شرک و جہالت کے ایسے ہی تہ بتہ اور موج در موج اندھیروں میں غرق ہیں اور رشد و ہدایت کی روشنی کی کوئی کرن ان تک نہیں پہنچ سکتی شرک و ضلالت کے ان دبیز اندھیروں میں وہ جو اعمال بجا لاتے ہیں وہ بھی سراپا ظلمت ہی ہوتے ہیں نہ ان کا ظاہر اچھا ہوتا ہے نہ باطن۔ ” شبھھا (اعمالھم) فی ظلم تھا وسودھا لکونھا باطلۃ و خلوھا عن نور الحق بظلمات متراکمۃ من لج البحر والامواج والسحاب (مدارک ج 3 ص 113) ۔ مشرکین کے ان اعمال کی فہرست کا صی طویل ہے جو ظاہر میں بھی قبیح اور شرمناک ہیں اور ان کا انجام بھی تاریک ہے مثلاً کنجروں اور کنجریوں کا بزرگوں کی رضا جوئی کے لیے ناچ و گانے کی نذر و منت ماننا اور پھر ان کے مزاروں پر ایفاء نذر کے طور پر ناچ گانے کا مظاہرہ کرنا۔ اسی طرح بعض مشرک عورتوں کا بعض بزرگوں کے مزارات پر ایسی ایسی چیزوں کا چڑھاوا چڑھانا جن کا نام زبان و قلم کی نوک پر لانے سے شرم و حیاء مانع ہے۔ 47:۔ ” ومن لم یجعل الخ “ : جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں نور توحید عطاء نہیں فرمایا اور جس نے دنیا میں نیک کام نہیں کیے وہ آخرت میں بھی نور رحمت اور مغفرت سے محروم رہے گا۔ یا مطلب یہ ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے نور ہدایت عطا نہیں فرما ای اسے اور کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ای من لم یشا اللہ تعالیٰ ان یھدیہ اللہ سبحانہ لنورہ فی الدنیا فما لہ ھدایۃ ما من احد اصلا فیھا وقیل و معنی الایۃ من لم یکن لہ نور فی الدنیا فلا نور لہ فی الاخرۃ (روح ج 18 ص 185) ۔
Ayahs 24:41–42

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ کی یاد کرتے ہیں جو کوئی ہیں48 آسمان و زمین میں اور اڑتے جانور پر کھولے ہوئے ہر ایک نے جان رکھی ہے اپنی طرح کی بندگی اور یاد اور اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کرتے ہیں

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور اللہ کی حکومت ہے آسمان اور زمین میں اور اللہ ہی تک پھرجانا ہے

48:۔ ” الم تر الخ “: یہ دعوی توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے زمین و آسمان کی ساری ذی عقل اور غیر ذی عقل مخلوق اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ ” وللہ ملک السموت الخ “ : زمین و آسمان کا مالک و مختار بھی وہی ہے اور ہر کام اور ہر معاملہ اسی کے اختیار میں ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ معبود برحق اور متصرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ” الطیر “ ، ” من “ پر معطوف ہے۔ اور صافات اس سے حال ہے یہ جو پرندے ہوا میں اڑتے اپنے پروں کو کھولتے اور سمیٹتے ہیں اور جس رخ چاہتے ہیں مڑ جاتے ہیں وہ بھی اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں ” کل “ کی تنوین مضاف الیہ سے عوض ہے ای کل واحد ممن ذکر یعنی اللہ کی مخلوق میں سے ہر ایک اللہ کی عبادت اور اس کی تسبیح و تمجید کے طریقے جانتا ہے انسانوں کو انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ تعلیم دی گئی اور باقی مخلوق کو بذریعہ الہام ذکر اللہ کے طریقے بتا دئیے گئے۔ المعنی قد علم کل مصل و مسبح صلاۃ نفسہ وتسبیحہ الخ (قرطبی ج 12 ص 287) ۔ ویراد بافرادھا (الطیر) بالصلوۃ والتسبیح ما الھم اللہ تعالیٰ کل واحد منھا من الدعاء والتسبیح (ابو السعود ج 6 ص 350) ۔
Ayahs 24:43–44

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

تو نے نہ دیکھا کہ اللہ ہانک لاتا ہے بادل کو پھر ان کو ملا دیتا ہے پھر ان کو رکھتا ہے49 تہ بتہ پھر تو دیکھے مینہ نکلتا ہے اس کے بیچ سے اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو پہاڑ ہیں اولوں کے پھر وہ ڈالتا ہے جس پر چاہے اور بچا دیتا ہے جس سے چاہے ابھی اس کی بجلی کی کوند لے جائے آنکھوں کو

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ بدلتا ہے رات اور دن کو اس میں دھیان کرنے کی جگہ ہے آنکھ والوں کو

49:۔ ” الم تر ان اللہ یزجی الخ “ : یہ دوسری عقلی دلیل ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ مختلف سمتوں سے بادلوں کو چلا کر ایک جگہ جمع کرتا ہے پھر اس کی قدرت سے ان بادلوں سے بارش برستی ہے وہ آسمان کی طرف سے پہاڑوں کی مانند بادلوں میں سے اولے برساتا ہے جن کی وجہ سے بعض لوگوں کا جانی اور مالی نقصان ہوجاتا ہے اور بعض اس سے محفوط رہتے ہیں۔ بادلوں جب بجلی کوندتی ہے اس کی روشنی اس قدرت تیز ہوتی ہے کہ آنکھوں کی روشنی ہی سلب کرلے۔ یہ سارا نظام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔ ” یقلب اللیل والنھار الخ “ : اس کے علاوہ رات دن کا انقلاب یعنی رات دن کی یکے بعد دیگرے آمد و رفت اور ان کی کمی بیشی بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ ” ان فی ذالک الخ “: جو لوگ عقل و بصیرت رکھتے ہیں ان کے لیے ان تمام تکوینی دلائل میں عبرت ہے ان سے اللہ تعالیٰ کی کارسازی، اس کا معبود برحق ہونا اور سارے عالم میں متصرف و مختار ہونا ثابت ہوتا ہے۔ (لعبرۃ لاولی الابصار) ای دلالۃ لاھل العقل و البصائر علی قدرۃ اللہ وتوحیدہ (خازن ج 5 ص 83) ۔ یہی وہ دعوی ہے جس کی وجہ سے منافقین نبی (علیہ السلام) پر بدنامیاں لگا رہے ہیں۔ ” من السماء “ یعنی اوپر کی جانب سے مراد بادل ہیں۔ ” من جبال “ ، من السماء سے بدل ہے اور جبال بادلوں سے کنایہ ہے کیونکہ بادل سفید پہاڑوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ من السماء ای من السحاب فان کل ما علاک سماء من جبال ای من قطع عظام تشبہ الجبال فی العظم (روح ج 18 ص 190) ۔
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ نے بنایا50 ہر پھرنے والے کو ایک پانی سے پھر کوئی ہے کہ چلتا ہے اپنے پیٹ پر اور کوئی ہے کہ چلتا ہے دو پاؤں پر اور کوئی ہے کہ چلتا ہے چار پر بناتا ہے اللہ جو چاہتا ہے بیشک اللہ ہر چیز کرسکتا ہے

50:۔ ” واللہ خلق الخ “ : یہ دعوی توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت پر ایک واضح دلیل ہے کہ اس نے ہر جاندار کو قطرہ آب سے پیدا فرمایا اور پھر ان کو کئی انواع و اقسام میں تقسیم کردیا۔ کچھ جاندار ایسے پیدا کیے جن کے پاؤں نہیں وہ پیٹ کے بل چلتے ہیں۔ جیسا کہ سانپ کچھ دو پاؤں پر چلتے ہیں جیسے انسان اور پرندے اور کچھ چار [ اؤں پر چلتے ہیں جیسے چوپائے۔ وہ جو چاہے پیدا کرے۔ اگر چار سے زیادہ بھی کسی کے پاؤن ہوں تو اس کی قدرت سے بعید نہیں کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہی قادر مطلق معبود برحق اور سارے جہان میں متصرف ہے۔
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم نے اتاریں آیتیں51 کھول کھول کر بتلانے والی اور اللہ چلائے جس کو چاہے سیدھی راہ پر

51:۔ ” ولقد انزلنا الخ “ : یہ ترغیب الی القرآن کا تیسری بار اعادہ ہے۔ فرمایا ہم نے قرآن مجید میں دلائل توحید کو واضح کر کے بیان کردیا ہے لیکن اس کے باوجود ہدایت کی توفیق صرف انہی لوگوں کو ملے گی جو صدق دل اور اخلاص نیت سے ہدایت کے طالب و متلاشی ہوں گے۔
Ayahs 24:47–49

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور لوگ کہتے ہیں52 ہم نے مانا اللہ کو اور رسول کو اور حکم میں آگئے پھرجاتا ہے ایک فرقہ ان میں سے اس کے پیچھے اور وہ لوگ نہیں ماننے والے

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو بلائے اللہ اور رسول کی طرف کہ ان میں قضیہ چکائے تبہی ایک فرقہ کے لوگ ان میں منہ موڑتے ہیں

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر ان کو کچھ پہنچتا ہو تو چلے آئیں اس کی طرف قبول کر کر

52:۔ ” ویقولون اٰمنا الخ “ : یہ منافقین پر شکویٰ ہے اور منافقین کے حال کا اعادہ ہے کہ زبان سے تو وہ ایمان و اطاعت کا دعوی کرتے ہیں مگر ان کے کرتوت یہ ہیں کہ پیغمبر خدا ﷺ کی کی عزت و آبرو تک کا لحاظ نہیں کیا اور جھوٹی تہمت لگا دی اس لیے یہ لوگ ہرگز ایمان والے نہیں اور ان کا دعوی ایمان سراسر جھوٹا ہے۔ ” واذا دعوا الخ “ یہ منافقین کی عام عادت کا بیان ہے جب ان کا کسی سے کسی معاملے میں جھگڑا ہوجائے اور فریق ثانی ان سے کہے کہ چلو اللہ اور اس کے رسول (علیہ السلام) کے فیصلے سے کیوں اعراض کرتے ہیں۔ ” وان یکن لھم الحق الخ “ : لیکن اگر انہیں معلوم ہو کہ فیصلہ انہی کے حق میں ہوگا تو دوڑ کرحضور ﷺ کے پاس جاتے ہیں۔ اس صورت میں وہ محض دنیا طلبی کے لیےحضور ﷺ کے پاس جاتے ہیں نہ اس لیے کہ ان کو آپ کا فیصلہ پسند ہے۔ ای مسرعین فی الطاعۃ طلبا لحقھم لا رضا بحکم رسولھم (مدارک ج 3 ص 115) ۔
Ayah 24:50

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں روگ ہے53 یا دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، یا ڈرتے ہیں کہ بےانصافی کرے گا ان پر اللہ اور اس کا رسول کچھ نہیں وہ ہی لوگ بےانصاف ہیں

53:۔ ” ا فی قلوبھم الخ “: یہ لوگ حکم اسلام کے سامنے کیوں سر نہیں جھکاتے کیا ان کے دلوں میں شک و نفاق کی بیماری ہے اور خدا اور رسول پر ان کا ایمان ہی نہیں یا انہیں اللہ کی توحید اور پیغمبر (علیہ السلام) کی نبوت میں شک ہے یا انہیں خطرہ ہے کہ فیصلہ کرنے میں اللہ کا رسول (علیہ السلام) ان پر زیادتی کرے گا اور انصاف نہیں کرے گا۔ بل اولئک ھم الظلمون “: یہ بات نہیں یعنی ان کے اعراض کی وجہ یہ نہیں کہ انہیں اپنے اوپر ظلم کا اندیشہ ہے کیونکہ وہاں تو ظلم و بےانصافی کا احتمال بھی نہیں اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود بےانصاف ہیں انہوں نے ظلم و بےانصافی پر کمر باندھ رکھی ہے اور دوسروں کے حقوق پامال کرتے ہیں اس لیے پیغمبر (علیہ السلام) کے سامنے معاملہ پیش کرنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ وہ ناحق پر ہیں اور آپ کا فیصلہ ان کے خلاف ہوگا۔
Ayahs 24:51–52

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

ایمان والوں کی بات یہی54 تھی کہ جب بلائے ان کو اللہ اور رسول کی طرف فیصلہ کرنے کو ان میں تو کہیں ہم نے سن لیا اور حکم مان لیا اور وہ لوگ کہ انہی کا بھلا ہے

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو کوئی حکم پر چلے اللہ کے اور اس کے رسول کے اور ڈرتا ہے اللہ سے اور بچ کر چلے اس سے سو وہ ہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے

54:۔ ” انما کان الخ “ : منافقین کا حال بیان کرنے کے بعد ان کے مقابلے میں مخلص مومنوں کا حال بیان کیا گیا اور انہیں اخروی بشارت دی گئی۔ منافقین کا حال تم نے سن لیا اب مخلصین کا حال بھی سن لو۔ مخلصین کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول ﷺ کے فیصلوں کو بلا چون و چرا دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں اور ان کے قبول کرنے میں ذرا تامل اور پس و پیش نہیں کرتے اور آخرت کی فلاح بھی ان ہی لوگوں کے لیے ہے۔ ” ومن یطع اللہ الخ “ اور جو لوگ اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اور اللہ سے ڈریں اور ہر قسم کے شرک سے بچیں وہ لوگ آخرت میں کامیاب و کامران ہوں گے ” یخش اللہ “ یعنی جو گناہ وہ کرچکا ہے ان پر گرفت سے ڈرے ” ویتقہ “ اور آئندہ کے لیے گناہ کرنے سے بچے ” ویخش اللہ فیما مضی من عمرہ و یتقہ فیما بقی من عمرہ (قرطبی ج 12 ص 295) ۔
Ayah 24:53

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی اپنی تاکید کی قسمیں کہ اگر تو حکم کرے تو سب55 کچھ چھوڑ کر نکل جائیں، تو کہہ قسمیں نہ کھاؤ حکم برداری چاہیے جو دستور ہے البتہ اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو

55:۔ ” واقسموا الخ “ منافقین پر زجر ہے مع شکوی منافقین کی غلط بیانی کا یہ حال ہے کہ وہ پیغمبر (علیہ السلام) کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا کر وعدہ کرتے ہیں کہ جب آپ کا حکم ہوگا ہم فورًا جہاد کے لیے دشمن کے مقابلے میں نکلنے کے لیے تیار ہوجائینگے مگر جب جہاد کا وقت آتا ہے تو جھوٹے بہانے بنا کر کنی کترا جاتے ہیں۔ ” قل لا تقسموا الخ “ : اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کو حکم دیا جب منافقین قسمیں کھا کر آپ سے وعدہ کریں تو آپ ان سے فرما دیا کریں کہ یہ بےفائدہ قسمیں مت کھاؤ کیونکہ تمہاری اطاعت اور فرمانبرداری مجھے پہلے ہی سے معلوم ہے کہ یہ محض زبانی دعوی ہی ہے۔ اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ زبان سے تم جھوٹی قسمیں کھا کر محض جھوٹے وعدے کرتے ہو لیکن تمہارے دل میں کفر و نفاق جاگزیں ” طاعۃ معروفۃ “ مرکب توصیفی مبتدا محذوف کی خبر ہے اور یہ جملہ ما قبل کی تعلیل ہے خبر مبتدا محذوف ای طاعتکم طاعۃ والجلمۃ تعلیل للنھی کانہ قیل لا تقسموا علی ما تدعون من الطاعۃ لان طاعتکم طاعۃ معروفۃ بانھا واقعۃ باللسان فقط من غیر مواطاۃ من القلب الخ (روح ج 18 ص 199) ۔
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

تو کہہ حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا56 پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو اس کا ذمہ ہے جو بوجھ اس پر رکھا اور تمہارا ذمہ ہے جو بوجھ تم پر رکھا اور اگر اس کا کہا مانو تو راہ پاؤ اور پیغام لانے والے کا ذمہ نہیں مگر پہنچا دینا کھول کر

56:۔ ” قل اطیعوا الخ “ آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا آپ ان منافقین سے فرما دیں اگر واقعی تم مخلص ہو تو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول (علیہ السلام) کی دل و جان سے اطاعت کرو۔ ” فان تولوا الخ “ لیکن اگر تم نے خدا اور رسول کی اطاعت سے روگردانی کی تو اس سے تم صرف اپنا ہی نقصان کرو گے اور کسی کا کچھ نہیں بگاڑو گے ” تولوا “ جمع مذکر مخاطب فعل مضارع کا صیغہ ہے ایک تاء بغرض تخفیف حذف کردی گئی ہے۔ ای فان تتولوا محذف احدی التائین (قرطبی ج 12 ص 296) ۔ یرید فان تتولوا فما ضررتموہ وانما ضررتم انفسکم (مدارک ج 3 ص 116) ۔ کیونکہ پیغمبر (علیہ السلام) صرف اس ذمہ داری کے جوابدہ ہیں جو ان کے ذمہ لگائی گئی ہے یعنی اوامرو احکام خداوندی کی تبلیغ اور تم اپنی ذمہ داری کے جوابدہ ہو یعنی خدا اور رسول کی اطاعت و فرمانبرداری۔ اس لیے اگر تم اپنا فریضہ اطاعت ادا کرو گے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ گے اور ان کے احکام کی تعمیل کرو گے تو فلاح دارین کی راہ پاؤ گے اور دنیا و آخرت میں خوش و خرم رہو گے۔ ورنہ تمہاری سرکشی، شرارت اور منافقت سے پیغمبر کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ اس کے ذمہ فریضہ تبلیغ تھا جو اس نے احسن طریق سے ادا کردیا۔ وما علی الرسول الا البلغ المبین التبلیغ الموضح فضرر عدم القبول لیس الا لکم (جامع ص 311) ۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

وعدہ کرلیا اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے ہیں اور کیے ہیں57 انہوں نے نیک کام، البتہ پیچھے حاکم کر دے گا ان کو ملک میں جیسا حاکم کیا تھا ان سے اگلوں کو اور جمادے گا ان کے لیے دین ان کا جو پسند کردیا ان کے واسطے اور دے گا ان کو ان کے ڈر کے بدلے میں امن میری بندگی کریں گے58 شریک نہ کریں گے میرا کسی کو اور جو کوئی ناشکری کرے گا اس کے پیچھے سو وہ ہی لوگ ہیں نافرمان

57:۔ ” وعد اللہ الخ “ یہ مخلصین مومنین کے لیے بشارت دنیوی ہے منافقین کے ذکر کے بعد مخلص مومنوں کو دنیوی حکومت و سلطنت ملنے کی خوشخبری سنائی۔ یہ آیت اصل میں صحابہ کرام ؓ کے بارے میں ہے جو اصل اور حقیقت میں اس آیت کے مخاطب ہیں۔ اس آیت میں ان سے تین وعدے کیے گئے ہیں اول یہ کہ ان کو رزمین عرب میں حکومت و خلافت دی جائے گی۔ دوم یہ کہ جو دین اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے پسند کیا ہے اس دین کو ان کے زمانے میں قوت و سطوت اور غلبہ دیا جائے گا۔ اور وہ اس دین پر قائم رہیں گے اور توحید سے شرک کی طرف نہیں لوٹیں گے۔ سوم یہ کہ کسی اندرونی یا بیرونی طاقت سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہوگا اور وہ بالکل مامون و محفوظ رہیں گے۔ یہ تینوں وعدے اللہ تعالیٰ نے خلفاء راشدین کو خلافت عطاء فرما کر پورے فرما دئیے البتہ حضرت علی ؓ کے زمانے میں تیسری بات مفقود ہوگئی۔ یعنی امن اٹھ گیا اور خانہ جنگی شروع ہوگئی اس سے معلوم ہوا کہ خلفاء راشدین ؓ کی خلافت برحق اور اللہ تعالیٰ کی موعود خلافت تھی۔ (کبیر و روح) ۔ ” کما استخلف الخ “ میں خلافت بنی اسرائیل سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی جس طرح اللہ نے جبابرہ مصر اور عمالقہ شام کو ہلاک کر کے بنی اسرائیل کو ان کے علاقے اور ان کے اموال و دیار پر قابض کردیا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کر کے تمہیں حکومت عطا فرمائے گا۔ کماستخلف الذین من قبلھم ای بنی اسرائیل حین اور ثھم مصر و الشام بعد ھلاک الجبابرۃ (بحر ج 6 ص 469) ۔ 58:۔ ” یعبدوننی الخ “ یہ ” الذین ُُ ‘ سے حال ہے یا بدل یا جملہ مستانفہ ہے یہ ان خلفاء کی مزید خوبیوں کا بیان ہے۔ فرمایا وہ صرف میری ہی عبادت کرینگے اور مجھے ہی سارے جہان کا متصرف و کارساز سمجھیں گے اور حاجات و مہمات میں صرف مجھے ہی پکاریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرینگے حاصل یہ کہ وہ توحید پر قائم رہیں گے اور شرک کی طرف رجوع نہیں کریں گے۔ اما قولہ یعبدوننی لا یشرکون بی شیئا ففیہ دلالۃ علی ان الذین عناھم لا یتغیرون عن عبادۃ اللہ الی الشرک (کبیر ج 6 ص 429) ۔ ” ومن کفر الخ “ یہ جملہ معترضہ ہے اس میں ان لوگوں کے لیے تخویف و تہدید ہے جو اس نعمت خلافت کی ناشکری اور ناقدری کریں گے اس خلافت کے زمانے میں لوگوں کا دین بھی اپنی اصلی شکل میں محفوظ رہے گا اور ان کا مال و جان اور ان کی عزت و آبرو بھی محفوظ ہوگی۔ اس لیے جو لوگ اس خلافت کے خلاف علم بغاوت بلند کریں گے وہ فاسق اور اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے نافرمان ہوں گے سب سے پہلے قاتلان حضرت عثمان ؓ نے اس نعمت کی ناشکری کی اور فاسقین میں شمار ہوئے اس بغاوت اور ناشکری کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے امن کو اٹھا لیا اور مسلمانوں میں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ قال اھل التفسیر اول من کفر بھذہ النعمۃ وجحد حقھا الذین قتلوا عثمان فلما قتلوہ غیر اللہ ما بھم وادخل علیھم الخوف حتی صاروا یقتتلون بعد ان کانوا اخوان (خازن ج 5 ص 87) ۔
Ayah 24:56

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور قائم رکھو نماز59 اور دیتے رہو زکوٰۃ اور حکم پر چلو رسول کے تاکہ تم پر رحم ہو

59:۔ ” واقیموا الصلوۃ الخ “ اس سے پہلے ” واقول لکم “ محذوف ہے۔ یا یہ ” اطیعوا اللہ “ پر معطوف ہے۔ پہلے اطاعت کا حکم دیا گیا اس کے بعد مطیعین کو خوشخبری دی گئی اور پھر نماز اور زکوۃ ادا کرنے کا خصوصی حکم دیا گیا۔ کیونکہ یہ دونوں عبادتیں تمام شرائع میں سب سے زیادہ اہم ہیں معطوف علی اطیعوا اللہ واطیعو الرسول ولا یضر الفصل وان طال (مدارک ج 3 ص 117) ۔
Ayah 24:57

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

نہ خیال کر کہ یہ جو کافر ہیں تھکا دیں گے60 بھاگ کر ملک میں اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور وہ بری جگہ ہے پھرجانے کی

60:۔ ” لا تحسبن الخ “ یہ منکرین توحید کے لیے تخویف اخروی ہے۔ مشرکین اس طرح بےفکر سے کفر و شرک میں منہمک اور ہمارے احکام سے بغاوت و سرکشی میں غرق ہیں گویا وہ کہیں بھاگ کر ہماری گرفت سے بچ جائینگے انہیں اس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے۔ وہ جہاں بھی ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں حاضر کرلے گا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بہت ہی بری جگہ ہے اس سے وہ ہرگز بچ نہیں سکیں گے۔
Ayah 24:58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمان والو اجازت لے کر آئیں61 تم سے جو تمہارے ہاتھ کے مال ہیں اور جو کہ نہیں پہنچے تم میں عقل کی حد کو تین بار فجر کی نماز سے پہلے اور جب اتار رکھتے ہو اپنے کپڑے دوپہر میں اور عشاء کی نماز سے پیچھے یہ تین وقت بدن کھلنے کے ہیں تمہارے کچھ تنگی نہیں تم پر اور نہ ان پر ان وقتوں کے پیچھے پھرا ہی کرتے ہو ایک دوسرے کے پاس یوں کھولتا ہے اللہ، تمہارے آگے باتیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

61:۔ دوسرا حصہ : اصلاح و تطہیر معاشرہ کے لیے تین قوانین، مخلصین اور منافقین کے اعمال کا تقابل، آداب رسول ﷺ اور دعوی توحید کا دوسری بار ذکر جس کی وجہ سے منافقین نے تہمت لگائی تھی۔ ” یا ایہا الذین اٰمنوا الخ “: یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔ پہلے معاشرت کے تین آداب بیان کیے گئے ہیں جو بدکاری سے روکنے والے اور عفت و عصمت کی حفاظت میں ممد و معاون ہیں گویا یہ آداب ان احکام وہدایات کا تتمہ ہیں جو پہلے حصے میں مذکور ہوچکی ہیں۔ قیل ھذا رجوع الی تتمۃ الاحکام السابقۃ بعد الفراغ من الایات الدالۃ علی وجوب الطاعۃ (جامع ص 312) ۔ یہ پہلا قانون معاشرت ہے۔ تین وقت ایسے ہیں جن میں عموماً زائد کپڑے اتار دئیے جاتے ہیں یا شب باشی کا لباس پہن لیا جاتا ہے۔ خاوند بیوی میں مخالطت بھی عموماً انہی اوقات میں ہوتی ہے اس لیے ان اوقات میں نابالغ لڑکوں اور لونڈیوں کو بھی باقاعدہ اجازت لینی چاہیے وہ اوقات یہ ہیں۔ نماز صبح سے قبل، دوپہر کے وقت، اور نماز عشاء کے بعد ” لیس علیکم جناح الخ “ ان تینوں وقتوں کے علاوہ نابالغ لڑکوں اور لونڈی غلاموں کو اجنبیوں کی طرح اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔” طوافوان علیکم الخ “ ان کی ہر وقت گھر میں آمد و رفت ہوتی ہے اس لیے ہر بار اذن لینے میں حرج ہے ” یطوفون علیکم للخدمۃ و تطوفون علیھم لل اس خدام فلو جزم الامر بالاستیزان فی کل وقت لافضی الی حرج وھو مدفوع فی الشرع بالنص (مدارک ج 3 س 118) ۔
Ayah 24:59

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب پہنچیں لڑکے62 تم میں کے عقل کی حد کو تو ان کو ویسی ہی اجازت لینی چاہیے جیسے لیتے رہے ہیں ان سے اگلے یوں کھول کر سناتا ہے اللہ تم کو اپنی باتیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

62:۔ ” واذا بلغ الاطفال الخ “۔ لیکن جب نابالغ لڑکے بلوغ کو پہنچ جائیں تو اب ان پر بھی لازم ہے کہ وہ بھی اسی طرح اجازت لے کر گھر میں داخل ہوا کریں جس طرح دوسرے بالغ مرد اجازت لیتے ہیں جن کا حکم پہلے بیان ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے وہ تمہیں معاشرت کے ایسے سنہرے اصول تعلیم دیتا ہے جن میں تمہارا دینی اور دنیوی فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم ھکمت اور مصلحت سے خالی نہیں۔
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور جو بیٹھ رہی ہیں گھروں میں تمہاری عورتوں میں سے63 جن کو توقع نہیں رہی نکاح کی ان پر گناہ نہیں کہ اتار رکھیں اپنے کپڑے یہ نہیں کہ دکھاتی پھریں اپنا سنگار اور اس سے بھی بچیں تو بہتر ہے ان کے لیے اور اللہ سب باتیں سنتا جانتا ہے

63:۔ ” والقواعد الخ “ یہ دوسرا قانون معاشرت ہے یہاں بوڑھی عورتوں کے پردے کا بیان کیا گیا ہے یعنی وہ بوڑھی عورتیں جو سن رسیدہ ہوں اور ان کے جنسی جذبات بالکل ختم ہوچکے ہوں اگر وہ گھر میں تھوڑے کپڑوں میں رہیں تو کچھ حرج نہیں لیکن اگر پورا پردہ رکھیں تو بہت اچھا ہے اور گھر سے باہر نکلتے وقت بھی اگر زائد کپڑا مثلاً برقع یا چادر نہ پہنیں تو جائز ہے بشرطیکہ ان اعضاء اور اس زینت کا اظہار نہ ہو، جس کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہیں ہے اندھے پر64 کچھ تکلیف اور نہ لنگڑے پر تکلیف اور نہ بیمار پر تکلیف اور نہیں تکلیف تم لوگوں پر کہ کھاؤ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ کے گھر سے یا اپنی ماں کے گھر سے یا اپنے بھائی کے گھر سے یا اپنی بہن کے گھر سے یا اپنے چچا کے گھر سے یا اپنی پھوپھی کے گھر سے یا اپنے ماموں کے گھر سے یا اپنی خالہ کے گھر سے یا جس گھر کی کنجیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوست کے گھر سے نہیں گناہ تم پر کہ کھاؤ آپس میں مل کر یا جدا ہو کر پھر جب کبھی جانے لگو65 گھروں میں تو سلام کہو اپنے لوگوں پر نیک دعا ہے اللہ کے یہاں سے برکت والی ستھری یوں کھولتا ہے اللہ تمہارے آگے اپنی باتیں تاکہ سمجھ لو

64:۔ ” لیس علی الاعمی الخ “ : یہ تیسرا قانون معاشرت ہے یہاں کھانے کے کچھ آداب کا ذکر کیا گیا ہے نیز اس شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے کہ پہلے دوسروں کے گھر میں داخل ہونے سے منع کیا گیا تو اس سے یہ شبہ ہوتا تھا کہ شاید یہ ممانعت مطلق ہو اور ہر حال میں منع ہو تو فرمایا دعوت طعام ہو تو جانا منع نہیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ معذور لوگ تندرست لوگوں کے ساتھ مل کر کھانے ہچکچاتے تھے کہ مبادا وہ ان سے نفر کریں اور انہیں تکلیف ہو۔ نیز بعض معذورین نابینا لنگڑے اور مریض وغیرہ اپنے بےتکلف دوستوں کے پاس جاتے تاکہ ان کے یہاں کچھ کھانے کو مل جائے مگر دوست کے گھر کھانے کی کوئی چیز موجود نہ ہوئی تو وہ انہیں لے کر اپنے عزیز یا بےتکلف دوست کے گھر لے گیا اور انہیں کھانا کھلا دیا۔ اس طرح ان معذورین کے دل میں خیال گذرتا کہ ہم آئے تو تھے اس کے پاس مگر وہ ہمیں لے کر دوسرے کے گھر چل دیا اس قسم کے اوہام و وساوس کو رفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور بےتکلف دوستوں کے گھروں سے کھا پی لینے میں کوئی حرج نہیں اس لیے اگر معذوروں کو ان کا کوئی دوست اپنے عزیزوں یا دوستوں کے گھروں سے کھانا کھلا دے تو وہ اس بات کو مھسوس نہ کریں اسی طرح مل کر کھانے میں کوئی حرج نہیں (روح وغیرہ) جن رشتہ داروں کے گھروں سے بےتکلف کھا پی لینے کی اجازت ہے وہ حسب ذیل ہیں ماں اور باپ کا گھر جبکہ بیٹا ان سے علیحدہ رہتاہو، بھائی، بہن، چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ، ” او ما ملکتم مفاتحہ “ یعنی جس شخص نے تم کو اپنے گھر کا کنجی بردار اور محافظ بنا رکھا ہو اور تمہارے تصرف میں دے رکھا ہو اس کے گھر سے بھی تم بقدر ضرورت کھا پی سکتے ہو۔ ” او صدیقکم ‘ اسی طرح اپنے گہرے اور بےتکلف دوستوں کے گھروں سے بھی کھانے پینے کی اجازت ہے۔ ” لیس علیکم جناح الخ “ اور اس میں بھی کوئی تنگی نہیں کہ تم سب مل کر ہی کھاؤ یا جدا جدا کھاؤ یعنی دونوں طرح اجزت ہے اگرچہ مل کر کھانا افضل اور باعث برکت ہے۔ فھذہ رخصۃ من اللہ تعالیٰ فی ان یا کل الرجل وحدہ و مع الجماعۃ وان کان الاکل مع الجماعۃ ابرک و افضل (ابن کثیر ج 3 ص 305) ۔ 65:۔ ” فاذا دخلتم الخ “ یہاں گھر میں داخل ہونے کا ادب سکھایا گیا۔ ” علی انفسکم “ آپس میں ایک دوسرے پر جیسا کہ بنی اسرائیل کو حکم دیا۔ ” فاقتلوا انفسکم یعنی توبہ یہ ہے کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو۔ عن الحسن المنعی فلیسلم بعضکم علی بعض نظیر قولہ تعالیٰ فاقتلوا انفسکم (روح ج 18 ص 322) ۔ حاصل یہ کہ جب تم ایک دوسرے کے گھر میں اجازت لے کر داخل ہونے لگو تو اندر، داخل ہو کر گھروالوں کو سلام دو یہ سلام ایک خدائی تحفہ ہے، اس سے اللہ کی طرف سے برکت نازل ہوتی ہے نیز گھروالوں کے دلوں میں خوشی کا جذبہ ابھر آتا ہے۔ وصفہا بالبرکۃ لان فیھا الدعاء واستجلاب مودۃ المسلم علیہ و و صفہا ایضا بالطیب لان سامعھا یستطیبھا (قرطبی ج 12 ص 319) ۔ ” کذالک یبین اللہ الخ “ یہ ترغیب الی القرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ اس طرح دلائل توحید، احکامِ شریعت اور آداب معاشرت کھول کر اور واضح کر کے بیان کرتا ہے تاکہ ان کو سمجھو اور ان پر عمل کرو۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر گھر میں کوئی آدمی نہ ہو تب بھی سلام دینا چاہئے کیونکہحضور ﷺ کی روح مبارک وہاں حاضر ہوتی ہے یہ محض باطل اور بےاصل ہے شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

ایمان والے وہ ہیں جو یقین لائے ہیں اللہ پر اور اس کے رسول پر66 اور جب ہوتے ہیں اس کے ساتھ کسی جمع ہونے کے کام میں تو چلے نہیں جاتے جب تک اس سے اجازت نہ لے لیں جو لوگ تجھ سے اجازت لیتے ہیں وہ ہی ہیں جو مانتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو پھر جب اجازت مانگیں تجھ سے اپنے کسی کام کے لیے تو اجازت دے جس کو ان میں سے تو چاہے اور معافی مانگ ان کے واسطے اللہ سے، اللہ بخشنے والا مہربان ہے

66:۔ ” انما المومنون الخ “: یہ دوسرے حصے میں مومنین اور منافقین کی صفات کا تقابل ہے ایمان والوں کی صفت یہ ہے کہ وہ مجلس رسول اللہ ﷺ کے آداب کی پابندی کرتے ہیں۔ جب وہ کسی اہم کام اور ضروری مقصد کے لیے پیغمبر (علیہ السلام) کے پاس ہوتے ہیں تو آپ سے اجازت لیے بغیر وہاں سے نہیں جاتے اس لیے ایسے مواقع میں جو لوگ آپ سے اجازت لے کر مجلس سے نکلتے ہیں یہی لوگ صحیح معنوں میں مخلص مومن ہیں اس لیے جب کبھی وہ آپ سے اپنے کسی نجی کام کے لیے جانے کی اجازت طلب کریں تو جس کا عذاب آپ معقول جانیں یا جسے مناسب سمجھیں اجازت فرما دیا کریں اور ان کے لیے استغفار بھی کریں کیونکہ نجی کام کے لیے اٹھ کر جانا اپنے اندر دنیا کو دین پر ترجیح دینے کا شائبہ رکھتا ہے تاکہ آپ کے استغفار کی برکت سے اس قصور کی تلافی ہوسکے۔
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

مت کرلو بلانا رسول کا اپنے اندر برابر اس کے جو بلاتا ہے67 تم میں ایک دوسرے کو اللہ جانتا ہے68 ان لوگوں کو تم میں سے جو سٹک جاتے ہیں آنکھ بچا کر سو ڈرتے رہیں وہ لوگ جو خلاف کرتے ہیں اس کے حکم کا اس سے کہ آپڑے ان پر کچھ خرابی یا پہنچے ان کو عذاب دردناک

67:۔ ” لا تجعلوا الخ “ یہ بھی ادب رسول ہے ﷺ یعنی جب خدا کا پیغمبر تمہیں بلائے تو فوراً حاضر ہوجایا کرو اور آپ کے ارشاد کی تعمیل میں تاخیر یا سستی نہ کیا کرو۔ جس طرح آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہو جب آپ کے بلانے پر حاضر ہوجاؤ تو جہاں آپ حکم دیں وہاں بیٹھو اور جب اجازت دیں تب اٹھو۔ اس صورت میں دعاء مصدر کی طرف مضاف ہوگا۔ ای اذا احتاج رسول اللہ ﷺ الی اجتماعکم عندہ لامر فدعاکم فلا تقربوا منہ الا باذنہ ولا تقیسوا دعاءہ ایاکم علی دعاء بعضکم بعضا لاخ (مدارک ج 3 ص 120) یا دعاء اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے یعنی پیغمبر (علیہ السلام) کو آواز دیتے وقت آپ کے ادب و تعظیم کا خیال رکھو۔ نہ آپ کا نام لے کر آواز دو نہ دور سے اور بلند آواز سے پکارو۔ بعض لوگ آپ کو یا محمد کہہ کر آواز دیتے تھے اور بعض دیہاتی چلا کر آپ کو پکارتے ان باتوں سے منع کیا گیا کیونکہ ادب پیغمبر کے خلاف ہیں۔ یردید یصیح من بعید یا ابا القاسم بل عظموہ کما فی الحجرات ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اللہ الایۃ وقال سعید بن جبیر و مجاھد المعنی قولوا یا رسول اللہ فی رفق ولین ولا تقولوا یا محمد بتجھم (قرطبی ج 12 ص 322) ۔ 68:۔ ” قد یعلم الخ “ : مخلصین کے مقابلے میں منافقین کا رویہ بیان کیا گیا ہے۔ مخلص مومن تو اجازت کے بغیرحضور ﷺ کی مجلس سے نہیں اتھتے لیکن منافقین موقع پا کر کسی دوسرے اجازت لے کر جانے والے کی آڑ میں چھپ کر کھسک جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے وہ یہ نہ سمجھیں ان کی خفیف حرکتیں اس سے چھپی ہوئی ہیں۔ ” لو اذا ‘ مصدر بمعنی اسم فاعل ” یتسللون “ کے فاعل سے حال ہے یعنی دوسروں کی آڑ میں چھپ کر نکلتے ہیں بان یستتر بعضھم ببعضہم حتی یخرج (روح ج 18 ص 226) ۔ ” فلیحذر الذین یخالفون الخ “ یہ ان منافقین کے لیے تخویف دنیوی و اخروی ہے جو دوسروں کی آڑ لے کر نکل جاتے اور پیغمبر خدا ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہئے کہ کہیں انہیں دنیا ہی میں اس کی سزا نہ مل جائے یا آخرت میں انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کردیا جائے (ان تصیبھم فتنۃ ای بلاء (عذاب الیم) ای وجع فی الاخرۃ ّ (خازن ج 5 ص 92) ۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

سنتے ہو اللہ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں69 اس کو معلوم ہے جس حال پر تم ہو اور جس دن70 پھیرے جائیں گے اس کی طرف تو بتائے گا ان کو جو کچھ انہوں نے کیا، اور اللہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے

69:۔ ” الا ان للہ الخ “ آخر میں دعویٰ توحید کا ذکر کیا گیا جس کی وجہ سے منافقین نے تہمت لگائی تھی یعنی سارے جہان کا مالک، متصرف فی الامور اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے اور کوئی نہیں۔ ” للہ ما فی السموت والارض “ یعنی زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کا مخلوق و مملوک اور اسی کے زیر تصرف ہے من الموجودات باسرھا خلقا و ملکا و تصرفا ایجادا واعدا ما بدا واعادۃ لا لاحد غیرہ شرکۃ او استقلالا (روح ج 18 ص 228) ۔ 70:۔ ” قد یعلم الخ “ وہ تمہارے تمام موجودہ حالات و کوائف کو بخوبی جانتا ہے تمہارا اخلاص و نفاق بھی اسے معلوم ہے اس لیے قیامت کے دن جب تم سب اس کے پاس جمع ہوگے تو وہ تمہارے اعمال ظاہرہ و باطنہ کی پوری تفصیلات سے تمہیں آگاہ کردے گا کیونکہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور قیامت کے دن ہر ایک کو اس کے اخلاص و نفاق کے مطابق اس کے اعمال کی جزاء و سزا دے گا۔ یہ منافقین کے لیے تخویف و تہدید ہے قد یعلم ما انتم علیہ ای من مخالفۃ امر اللہ و امر رسولہ وفیہ تہدید و وعید والظاھر انہ خطاب للمنافقین (بحر ج 6 ص 477) ۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین سورة نور میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1:۔ ” ان الذین جاء وا بالافک عصبۃ الخ “ (رکوع 2) ۔ نفی علم غیب از نبی کریم ﷺ ۔ 2:۔ ” اللہ نور السموت والارض الخ “ (رکوع 5) ۔ عالم الغیب اور کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ 3:۔ ” الم تر ان اللہ یزجی سحابا “ تا ” ان اللہ علی کل شیء قدیر “ (رکوع 6) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 4:۔ ” وعد اللہ الذین اٰمنوا “ تا ” لا یشرکون بی شیئا “ (رکوع 7) ۔ ہر قسم کے شرک سے بچنے والوں کیلئے بشارت دنیوی۔ 5:۔ حد زنا، حد قذف، لعان اور دیگر آداب معاشرت کا بیان۔ 6:۔ مخلصین اور منافقین کے اعمال کا تقابل 7:۔ آداب و حقوق رسول ﷺ ۔ سورة نور ختم ہوئی