Ayahs 27:80–8168:۔ یہ تیسری تشبیہ ہے اس میں مشرکین کو اندھوں سے تشبیہ دی ہے۔ جس طرح ایک اندھا بینائی نہ ہونے کی وجہ سے راستہ نہیں دیکھ سکتا اسی طرح مشرکین بھی راہ ہدایت پر نہیں آتے۔ ان تسمع الا من یومن الخ آپ کی تبلیغ سے صرف وہ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو قرآن کو اللہ کا کلام سمھیں اور اخلاص کے ساتھ راہ حق کی تلاش کریں۔
Ayah 27:8269:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ قول سے قیام ساعت کا وعدہ اور وقوع قول سے قیامت کا قرب مراد ہے (مدارک وروح) یعنی آخر زمانے میں قرب قیامت کی علامت کے طور پر ہم زمین سے ایک عجیب و غریب جانور پیدا کریں گے جو لوگوں سے صاف صاف باتیں کرے گا۔ ان الناس الخ اس سے پہلے حرف جر مقدر ہے ای تکلمھم بانھم کانوا لا یتیقنون بایات اللہ تعالیٰ الناطقۃ بمجئ الساعۃ (روح ج 20 ص 24) ۔ یعنی وہ جانور لوگوں سے کہے گا کہ لوگ ان نشانیوں کو نہیں مانتے جو اللہ تعالیٰ نے قیامت کے لیے قائم فرمائی ہیں۔ اور حضرت شیخ (رح) تعالیٰ نے فرمایا۔ یہاں دابۃ سے کوئی خاص دابہ مراد نہیں بلکہ عام ہے۔ القول سے وعدہ عذاب مراد ہے یعنی جب کسی قوم پر انکار توحید کی وجہ سے عذاب الٰہی کا وقت آجائے تو اللہ تعالیٰ بطور اعجاز جانوروں کو قوت گویائی عطا فرما کر ان سے دین حق کی سچائی پر شہادت دلوا دیتا ہے۔ جیسا کہ خودحضور ﷺ کے زمانے میں ایک گواہ نے آپ کی صداقت کی گواہی دی تھی۔ اس قسم کے اور بھی کئی واقعات گذر چکے ہیں۔ جب ایسی معجزانہ شہادتوں کے بعد بھی لوگ دین حق کو نہ مانیں تو ان پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ تکلمھم یعنی وہ دابہ (جانور) دین حق کی سچائی اور دوسرے ادیان کے بطلان کی گواہی دیتا ہے۔ تکلمھم ببطلان الادیان کلہا سوی دین الاسلام (مدارک ج 3 ص 170) ۔ ان الناس کانوا الخ یہ ماقبل کی علت ہوگی۔ یعنی ہم دابہ اس لیے نکالیں گے کہ لوگ ہماری آیتوں کو نہیں مانتے۔ دابہ کا معجزانہ کلام ان کو ایمان کی طرف مائل اور راغب کرے گا۔
Ayahs 27:83–8470:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن جب ہم انکار کرنے والوں کو فوج در فوج میدان حشر میں جمع کریں گے تو انہیں ایک جگہ روک دیا جائے گا تاکہ پچھلے بھی ان کے ساتھ مل جائیں اور سب کو اکٹھا کر کے حساب کے لیے لیجا یا جائے۔ حتی اذا جاء وا قال اکذبتم الخ جب تمام کفار موقف میں جمع ہوجائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کیا میری آیتوں کو تم نے سرسری طور پر سن کر ہی انکا انکار کردیا اور ان میں غور و فکر کر کے ان کو سمجھنے اور ان کی حقیقت کو پانے کی کوشش نہ کی اکذبت بایاتی بادی الرای من غیر فکر ولا نظر یودی الی احاطۃ العلم بکنھھا وانھا حقیقۃ بالتصدیق (مدارک ج 3 ص 170) ۔ ام ما ذا کنتم تعملون جب ہماری آیتوں میں تم نے غور وفکر نہیں کیا تو بتاؤ تو سہی دنیا میں تم کرتے کیا رہے ہو۔ کیا میں نے تم کو عبث اور بیکار کاموں کے لیے پیدا کیا تھا ؟
Ayah 27:8571:۔ وعدہ عذاب پورا ہو کر رہے گا اور وہ کفر و شرک اور انکار وتکذیب کی پاداش میں عذاب میں مبتلا کردئیے جائیں گے اور کوئی جواب نہ دے سکیں گے اور نہ کوئی معقول عذر و معذرت پیش کرسکیں گے۔
Ayah 27:8672:۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے جو دوسرے دعوے سے متعلق ہے یعنی کارساز صرف الللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات بنائی تاکہ وہ اس میں آرام کریں اور دن بنایا تاکہ وہ اس میں اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں یہ رات دن کی آمد و رفت اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف میں ہے لہذا کارساز اور حاجت روا بھی وہی ہے۔ اس آیت میں صنعت احتیاک ہے یعنی پہلے جملے میں جعلنا کا مفعول ثانی مقدر ہے۔ یعنی مظلما اور دوسرے جملے میں مفعول ثانی کا متعلق محذوف ہے یعنی لینشروا فیہ والمشہوران فی الایۃ صنعۃ الاحتباک والتقدیر جعلنا اللیل مظلما لیسکنوا فیہ والنھار مبصرا لینشروا فیہ (روح ج 20 ص 69) ۔
73:۔ اس دلیل میں ایمان والوں کے لیے تو عظیم الشان نشانات موجود ہیں جن سے وہ اللہ کی توحید پر استدلال کرسکتے ہیں۔ ولما ذکر اشیاء من احوال یوم القیمۃ لیرتدع بسماعھا من اراد اللہ تعالیٰ ارتداعہ نبھھم علی ما ھو دلیل علی التوحید والحشر والنبوۃ بماھم یشاھدونہ فی حال حیاتہم وھو قتلیب اللیل والنھار (بحر ج 7 ص 99) ۔
Ayah 27:8774:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ یہاں نفخہ سے اکثر کے نزیدک نفخہ اولی مراد ہے یعنی جب پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان کی ساری مخلوق گھبرا اٹھے گی البتہ جن کے دلوں کو اللہ نے مضبوط رکھا وہ اس گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے۔ مثلاً جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت (علیہم السلام) (کبیر، مدارک وغیرہ) نفخات کی تعداد میں علماء کا اختلاف ہے دو ، تین اور چار کے اقوال موجود ہیں۔ ان میں زیادہ تر لوگ اس طرف گئے ہیں کہ نفخہ دو بار ہوگا ایک پہلا نفخہ جس سے ساری مخلوق ہلاک ہوجائے گی اس کا ذکر زیر تفسیر آیت کے علاوہ ایک دوسری آیت میں اس طرح آیا ہے۔ ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت و من فی الارض الخ (زمر رکوع 7) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفخہ فزع اور نفخہ صعق دونوں ایک ہی ہیں۔ دوسرا نفخہ وہ ہے جس کے بعد تمام لوگ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ چناچہ نفخہ صعق کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ثم نفخ فیہ اخری فاذا ھہم قیام ینظرون۔ امام قاضی عیاض فرماتے ہیں نفخات تین ہیں۔ نفخہ اولی یعنی نفخہ صعق، نفخہ ثانیہ یعنی نفخہ بعث، یہ دونوں آیت فنفخ فی الصور فصعق الخ میں مذکور ہیں اور نفخہ ثالثہ یعنی نفخہ فزع یہ زیر تفسیر آیت میں مذکور ہے۔ واللہ اعلم (روح) ۔
Ayah 27:8875:۔ قیامت کے دن تمہیں ایسا محسوس ہوگا کہ پہاڑ زمین پر جمے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی طرح ادھر سے ادھر اڑ رہے ہوں گے۔ صنع اللہ الذی الخ یہ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے برائے تاکید مضمون جملہ ای صنع اللہ تعالیی ذلک صنعا (روح) ۔ یعنی جس اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو بےمثال کریگری سے محکم و مضبوط بنایا ہے قیامت کے دن وہی پہاڑوں کو بادلوں کی طرح اڑائے گا یہ اسی کی قدرت و طاقت ہے۔
Ayah 27:8976:۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ جو لوگ توحید پر قائم رہے اور اس کے مطابق عمل کیا انہیں بہترین جزا ملے گی اور قیامت کی گھبراہٹ سے بھی وہ محفوظ رہیں گے۔ بالحسنۃ ای بکلمۃ الاخلاص وھی شہادۃ ان لا الہ الا اللہ (معالم و خازن ج 5 ص 132) ای بقول لا الہ الا اللہ عند الجمہور (مدارک ج 3 ص 171) ۔ وعن ابن عباس ؓ الحسنۃ کلمۃ الشہادۃ (ابو السعود ج 6 ص 635) ۔
Ayah 27:9077:۔ یہ تخویف اخروی ہے جن لوگوں نے شرک کیا انہیوں منہ کے بل جہنم میں پھینکا جائے گا اور کہا جائے گا یہ سزا تمہیں تمہارے اعمال ہی کی دی جارہی ہے۔ بالسیئۃ واھو الشرک و بہ فسرہ من فسر الحسنۃ بشہادۃ ان لا الہ الا اللہ الخ (روح ج 20 ص 37) ۔
Ayah 27:9178:۔ آخر میں تمام مذکورہ دلائل کے ثمرہ و نتیجہ کے طور پر دلیل وحی کا ذکر کیا گیا ہے کہ مجھے وحی کے ذریعہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ میں اس عزت و حرمت والے شہر مکہ کے رب کی عبادت کروں، اسی کو کارساز سمجھوں اور حاجات و مصائب میں صرف اسی کو پکاروں۔ ولہ کل شیء، کیونکہ ساری کائنات کا مالک اور سارے جہان میں وہی متصرف و مختار ہے۔ وامرت ان اکون، مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں زندگی کے ہر معاملہ میں اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردوں۔ وان اتلوا القران، اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں قرآن کی تبلیغ و اشاعت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھوں ای واظب علی قراءت ہ علی الناس بطریق تکریر الدعوۃ و تثنیۃ الارشاد (روح ج 20 ص 39) ۔
Ayah 27:9279:۔ میرا کام تو تبلیغ ہے۔ جو مان لے گا وہ اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو نہ مانے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا میرا فرض یہ ہے کہ میں نہ ماننے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤں اور تکذیب و انکار کے انجام بد سے انہیں خبردار کروں باقی اس چیز کا مجھے علم نہیں کہ وہ عذاب کب آئے گا کیونکہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں، میں غیب داں نہیں ہوں، عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ پہلے دونوں قصوں پر متفرع ہے۔ بطور لف و نشر مرتب۔
Ayah 27:9380:۔ یہ پچھلے دونوں قصوں پر متفرع ہے بطور لفط و نشر مرتب۔ یعنی صفات کارسازی اللہ کے لیے ہیں پیغمبروں کے لیے نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی مصائب و شدائد سے ان کو بچاتا اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے۔ سیریکم ایتہ الخ، آپ مشرکین سے فرما دیں آگے چل کر اللہ تعالیٰ تمہیں میری صداقت کے نشانات دکھائے گا جن کو دیکھ کر تم یقین کرلو گے کہ واقعی یہ وہی نشانات ہیں جن کی ہم کو خبر دی گئی لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس وقت تمہیں اس معرفت اور اقرار کا کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو۔ مراد دنیا وآخرت کے عذاب کی نشانیاں ہیں۔ سیریہم اللہ من ایاتہ فی الاخرۃ فیستیقنون بھا وقیل ھو انشقاق القمر والدخان وما حل بھم من نقمات اللہ فی الدنیا (مدارک ج 3 ص 172) ۔
81:۔ یہ وعد و وعید کی طرف نہایت لطیف اشارہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں وہ تمہارے تمام نیک و بد اعمال کو خوب جانتا ہے، اس لیے ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق اجر وثواب اور سزا و عذاب دے گا۔ کلام مسوق من جہتہ سبحانہ بطریق التذییل مقرر لما قبلہ متضمن للوعد والوعید (ابو السعود ج 6 ص 638) ۔
سورة النمل میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
1 ۔ یموسی انہ انا اللہ العزیزی الحکیم۔ نفی شرک فی التصرف۔
2 ۔ فلما راھا تہتز، تا، لا یخاف لدی المرسلون۔ نفی علم غیب از موسیٰ علیہ السلام۔
3 ۔ لا یحطمنکم سلیمن و جنودہ وھم لا یشعرون۔ (رکوع 2) ۔ نفی علم غیب از سلیمان (علیہ السلام) و اصحاب سلیمان علیہ السلام۔
4 ۔ الا یسجدوا للہ الذی، تا، ھو رب العرش العظیم۔ نفی شرک فی العلم و شرک فی التصرف۔
5 ۔ قال سننظر اصدقت ام کنت من الکذبین۔ نفی علم غیب از سلیمان علیہ السلام۔
6 ۔ انہ من سلیمن، تا، واتونی مسلمین۔ اللہ کے سوا کسی اور سے استعانت نہ کرو۔
7 ۔ ولقد ارسلنا الی ثمود، تا، فاذا ھم فریقان یختصمون (رکوع 4) ۔ نفی شرک فی التصرف۔
8 ۔ قل الحمد للہ، تا، اللہ خیر اما یشرکون۔ (رکوع 5) ۔ تمام صفات کارسازی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں لہذا وہی برکات دہندہ ہے۔
9 ۔ امن خلق السموات والارض، تا، قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین۔ نفی شرک فی التصرف پر پانچ عقلی دلیلیں علی سبیل الاعتراف من الخصم۔
10 ۔ قل لا یعلم من فی السموات، تا، ایان یبعثون، (رکوع 5) ۔ نفی شرک فی العلم۔
11 ۔ وان ربک لیعلم، تا، الا فی کتب مبین۔ (رکوع 6) ۔ نفی شرک فی العلم۔
12:۔ انک لا تسمع الموتی، تا، فھم مسلمون۔ کافروں کو مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے اس سے سماع موتی کی نفی ہوتی ہے۔
13 ۔ الم یروا انا جعلنا الیل۔ تا۔ لقوم یومنون (رکوع 7) ۔ نفی شرک فی التصرف۔
14 ۔ انما مرت ان اعبد۔ تا۔ و امرت ان اکون من المسلمین۔ نفی شرک فی التصرف۔
سورة نمل ختم ہوئی