Ayahs 27:41–4236:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس تخت میں کچھ جزوی تبدیلیاں کر کے اس کی شکل بدل دو تاکہ بلقیس کی عقل و فراست کا امتحان کریں آیا وہ اسے پہچان لیتی ہے یا نہیں۔ فلما جاءت الخ، جب بلقیس پہنچ گئی تو اس سے پوچھا گیا کیا تمہارا تخت بھی ایسا ہی ہے ؟ سوال میں یہ نہیں کہا گیا، اھکذا عرشک، کیا یہ تمہارا تخت ہے ؟ تاکہ یہ سوال اور پیچیدہ ہوجائے۔ قالت کانہ ھو، بلقیس نے نہایت دانشمندانہ جواب دیا کہ بالکل ویسا ہی ہے۔ یہ نہیں کہا کہ بالکل وہی ہے یا وہ نہیں ہے کیونکہ دونوں جواب سوال کے مطابق نہیں تھے۔ واوتینا العلم الخ، یہ بلقیس کا کلام ہے، من قبلھا کی ضمیر سے احضار عرش کا معجزہ مراد ہے۔ یعنی اس سے پہلے ہدہد کے ذریعہ خط ملنے سے اور اپنے سفیروں سے آپ کے تفصیلی حالات سن کر ہی ہم اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر اور آپ کی نبوت پر ایمان لا چکے تھے اور آپ کی اطاعت قبول کرچکے تھے اب اس معجزے کے اظہار کی کیا ضرورت تھی۔ من تتمۃ کلامھا علی اما اختارہ جمع من المفسرین۔ واوتینا العلم بکمال قدرۃ اللہ تعالیٰ وصحۃ نبوتک من قبل ھذہ المعجزۃ بما شاھدناہ من امر الھدھد وما سمعناہ من رسلنا الیک من الایات الدالۃ علی ذلک وکنا مومنین من ذلک الوقت فلا حاجۃ الی اظھار ھذہ المعجزۃ (روح ج 19 ص 207) ۔
Ayah 27:4337:۔ ماکانت تعبد الخ جملہ صدھا کا فاعل ہے یعنی قدیم دستور کے مطابق ستاروں کی پرستش نے اس کو توحید سے روک رکھا تھا۔ اس کی پیدائش اور نشو و نما چونکہ مشرکین میں ہوئی تھی اس لیے اس ماحول نے اس کو اب تک اسلام کی آغوش میں آنے سے روکے رکھا۔ صدھا عن التقدم الی الاسلام عبادۃ الشمس و نشؤھا بین اظھر الکفرۃ (مدارک ج 3 ص 163) ۔ یا صد کا فاعل حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہیں۔ ماکانت سے پہلے حرف جار مقدر ہے یعنی انہوں نے اس کو سورج پرستی سے روک دیا۔ وصدھا اللہ او سلیمان عما کانت تعبد بتقدیر حرف الجار (کبیر ج 6 ص 568) ۔
Ayah 27:4438:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کے سامنے اپنی عظمت شان اور برتری ظاہر کرنے کے لیے ایک محل بنوایا جس کا فرش شیشے کی موٹی چادر سے بنوایا گیا اس کے نیچے پانی کا حوض تھا جس میں مچھلیاں اور دیگر پانی کے جانور چھوڑ دئیے۔ اسی محل میں تخت بچھوایا اور بلقیس کو اس میں داخل ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔ بلقیس جب اس میں داخل ہونے لگی تو اس نے سمجھا کہ اس میں پانی ہے اس لیے پنڈلیوں سے کپڑا سمیٹ لیا۔ قال انہ صرح الخ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا یہ پانی نہیں بلکہ صاف و شفاف فرش ہے اور شیشے سے تیار کیا گیا ہے۔ قالت رب انی ظلمت نفسی الخ، بلقیس نے جب یہ دیکھا تو فورًا بول اٹھی میرے پروردگار ! میں شرک کی وجہ سے اپنے اوپر ظلم کرتی رہی۔ اب میں اس سے توبہ کرتی ہوں اور سلیمان کے ساتھ رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا انی ظلمت نفسی الخ، یعنی جس طرح میں نے یہاں غلطی کھائی ہے کہ شیشے کے فرش کو پانی سمجھ لیا اسی طرح سورج کی پرستش میں بھی میں غلطی پر تھی بعض روایتوں میں ہے کہ جنوں کو خطرہ لاحق ہوگیا کہ کہیں سلیمان (علیہ السلام) بلقیس سے شادی نہ کرلیں اس لیے انہوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس سے متنفر کرنے کے لیے کہا کہ بلقیس کے پاؤں نہایت بھدے ہیں اور اس کی پنڈلیوں پر بال ہیں اس لیے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مذکورہ بالا محل بنوایا تاکہ جب وہ پنڈلیوں سے کپڑا اوپر کرے وہ اس کی پنڈلیا اور پاؤں دیکھ سکیں۔ یہ سراسر غلط اور بےاصل روایت ہے اور عصمت انبیاء (علیہم السلام) کے منافی ہے۔
Ayah 27:4539:۔ یہ تیسرا قصہ ہے اور دوسرے دعوے سے متعلق ہے یعنی کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اعبدو اللہ حاجات میں غائبانہ صرف اللہ کو پکارو اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں۔ اعبدوا اللہ ای وحدوہ ولا تشرکوا بہ شیئا (خازن ج 5 ص 126) ، قوم نے نہ مانا تو اللہ تعالیٰ نے ماننے والوں کو بچا لیا اور نہ ماننے والوں کو ہلاک کردیا۔ مومنوں کو بچانا اور نہ ماننے والوں کو ہلاک کردیا۔ مومنوں کو بچانا اور منکروں کو ہلاک کرنا اللہ کے اختیار میں تھا حضرت صالح (علیہ السلام) کو اس کا اختیار نہ تھا اس طرح اس واقعہ میں ہدایت بھی ہے اور بشارت بھی۔
40:۔ جب حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے دعوت توحید پیش کی تو قوم دو گروہوں میں بٹ گئی کچھ لوگوں نے ان کی دعوت قبول کرلی اور کچھ لوگ کفر و شرک پر قائم رہے دونوں گروہ آپس میں جھگڑنے لگے اور ہر فریق اپنے حق پر اور فریق مخالف کے باطل پر ہونے کا دعویدار تھا۔ والمعنی فاذا قوم صالح فریقان مومن بہ و کافر بہ یختصمون فیقول کل فریق الحق مع الخ (مدارک ج 3 ص 164) اس سے معلوم ہوا کہ جب مسئلہ توحید بیان کیا جاتا ہے تو یہ گروہ بندی لازمی طور پر معرض وجود میں آجاتی ہے اس کو فتنہ انگیزی اور افتراق مذموم سے تعبیر کرنا سراسر غلطی اور نادانی ہے۔
Ayah 27:4641:۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں فریق مشرک نے عذاب کا مطالبہ کیا اور کہا ہم تمہاری بات نہیں مانتے اگر واقعی تم سچے پیغمبر ہو تو جس عذاب سے ہمیں ڈراتے ہو وہ لے آؤ جیسا کہ دوسری جگہ ان کا قول نقل کیا گیا ہے یصالح ائتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین (اعراف رکوع 10) تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا۔ میری قوم ! تم اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی کیوں نہیں مانتے ہو تاکہ وہ مہربانی فرما کر تمہارے گناہ معاف فرما دے تم توبہ و استغفار سے پہلے اللہ کا عذاب و غضب کیوں مانگتے ہو ؟ السیئۃ عذاب و عقوبت۔ الحسنۃ، توبہ و استغفار (روح) ۔
Ayah 27:4742:۔ جب قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر قحط مسلط کردیا اور ان میں اختلاف تو پہلے ہی پیدا ہوچکا تھا۔ اب وہ حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے ہم تمہاری بات کس طرح مان لیں تم اور تیرے پیروکار عیاذا باللہ کیسے نامبارک ہو کہ جب سے تم نے یہ نیا دین (صرف ایک اللہ کی عبادت و پکار) ایجاد کیا ہے تب سے ہم قحط کا شکار ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں۔ تشاء منابک لانھم قحطوا عند مبعثہ لتکذیبھم فنسبوہ الی مجیئہ (مدارک) ۔
43:۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا یہ خیر و شر اور نفع و نقصان تو اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے ہے۔ شر کو ہماری طرف منسوب کرنا تمہاری جہالت و نادانی ہے شیطان نے تمہیں ورغلا کر اس فتنے اور گمراہی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ طائرکم عند اللہ ای السبب الذی منہ یجئ خیرکم و شرکم عنداللہ وھو قضاءہ وقدرہ ان شاء رزقکم وان شاء احرمکم (کبیر ج 6 ص 570) ۔
Ayahs 27:48–4944:۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے شہر میں نو آدمی رہتے تھے جو بڑے فسادی اور غنڈے تھے انہوں نے سارے علاقے میں شر و فساد بپا کر رکھا تھا وہ کوئی تعمیری یا نیک کام نہیں کرتے تھے یہ ان کی عادت مستمرہ تھی۔ قالوا تقاسموا الخ، ان غنڈوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے متبعین پر جو مسئلہ توحید مان چکے تھے شب خون مارنے کا پروگرام بنایا اور آپس میں خدا کے نام کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ رات کو حملہ کر کے صالح اور اس کے متبعین کو قتل کردیں اور جب ہم سے پوچھ گچھ ہو تو صاف کہہ دیں کہ ہم تو اس کے قتل کے موقع پر موجود ہی نہ تھے۔ تقاسموا جمہور مفسرین کے نزدیک فعل امر کا صیغہ ہے اور قالوا کا مقولہ ہے اور بعض نے اس کے فعل ماضی ہونے کو بھی جائز کہا ہے اس صورت میں وہ قالوا سے بدل ہوگا یا اس کے فاعل سے حال ہوگا۔ امر من التقاسم ای التحالف وقع مقول القول وھو قول الجمہور و جوز ان یکون فعلا ماضیا بدل من (قالوا) او حالا من فاعلہ الخ (روح ج 15 ص 213) ۔
Ayah 27:5045:۔ قوم ثمود کے غنڈوں نے صالح کو اور ان کے اہل و عیال کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ادھر ہم نے ان کو بچانے اور ان کے دشمنوں اور قوم کے سرکشوں کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے پروگرام اور منصوبے کا تو ہمیں علم تھا مگر ہمارے فیصلے سے وہ بالکل بیخبر تھے۔ ومکرھم ما اخفوہ من تدبیر الفتک بصالح واھلہ و مکر اللہ اھلاکھم من حیث لا یشعرون (بحر ج 7 ص 85) ۔ ومکروا مکرا و مکرنا مکرا دونوں فعلوں کیساتھ مفعول مطلق کی تنوین تعظیم و تفخیم کے لیے یعنی مشرکین نے بھی نہایت پختہ اور مضبوط منصوبہ بنایا اور ہم نے بھی نہایت مضبوط اور ناقابل تسخیر منصوبہ بنایا۔
Ayahs 27:51–5264:۔ یہ ان کے مکر و فریب کے انجام کا بیان ہے۔ اور خطاب ہر مخاطب سے ہے۔ دیکھ لو ان کے مکر و فریب کا انجام کیا ہوا ہم نے نہ صرف ان بد معاشوں کو بلکہ ان کی ساری قوم کو تباہ و برباد کردیا۔ فتلک بیوتہم خاویۃ الخ ان کے گھر ویران پڑے ہیں یہ سزا ان کو ان کے ظلم وعدوان کی وجہ سے ملی۔ اس واقعہ میں علم وفہم رکھنے والوں اور غور وفکر کرنے والوں کے لیے بہت بڑی عبرت ہے۔
Ayah 27:5347:۔ ایمان والوں اور کفر و شرک سے بچنے والوں کو ہم نے بچا لیا۔ مشرکین اور مفسدین کو ہلاک بھی ہم نے کیا اور ایمان والوں کو بچایا بھی ہم نے اس میں صالح (علیہ السلام) کے تصرف و اختیار کو کوئی دخل نہ تھا۔ انا دمرنھم اور انجینا جمع متکلم کے صیغوں سے جو عظمت و جبروت ظاہر کرنے کے لیے ہیں معلوم ہوا کہ منکرین کو ہلاک کرنا اور حضرت صالح (علیہ السلام) اور مومنوں کو نجات دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ برکات دہندہ بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔
Ayah 27:5448:۔ یہ چوتھا قصہ ہے اور دوسرے دعوے سے متعلق ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو افعال قبیحہ سے منع کیا مگر وم نے ان کی اطاعت نہ کی اور سرکشی پر ڈٹے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ اتاتون الفاحشۃ وانتم تبصرون، بصر سے بصر قلب مراد ہے یعنی علم، مطلب یہ ہے کہ تم اس بےحیائی کے فعل کا ارتکاب کرتے ہو حالانکہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ یہ سراسر بےحیائی ہے۔ من بصر القلب ای اتفعلونھا کذلک (روح ج 19 ص 216) ۔
Ayahs 27:55–5849:۔ یہ اس فاحشہ یعنی فعل قبیح کا بیان ہے۔ فما کان جواب قومہ الخ، اس ناصحانہ تبلیغ کے جواب میں قوم نے کہا لوط اور اس کے ماننے والوں کو شہر سے نکال دو کیونکہ وہ بڑے پاک بنتے ہیں اور ہمارے افعال سے نفرت کرتے ہیں۔ فانجینہ واھلہ الخ، آخر اس سرکش اور معاند قوم پر اللہ تعالیٰ نے خوفناک عذاب نازل کر کے اسے ہلاک کردیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔ لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی چونکہ کافرہ تھی اس لیے وہ بھی کافروں کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوئی۔ فامطرنا علیہم مطرًا الخ، قوم لوط کی بستی کو تہ وبالا کر کے اس پر پتھروں کی بارش کی گئی جیسا کہ سورة ہود رکوع 7 میں فرمایا فلما جاء امرنا جعلنا عالیہا سافلہا وامطرنا علیہا حجارۃ من سجیل الخ۔ فانجینہ اور امطرنا سے معلوم ہوا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو اللہ تعالیٰ ہی نے عذاب سے بچایا اور کافروں کو اسی ہی نے ہلاک کیا تو اس سے واضح ہوگیا کہ کارساز اور برکات دہندہ بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔
Ayah 27:5950:۔ یہ تیسرے اور چوتھے قصے کا ثمرہ ہے۔ ان دونوں قصوں سے واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے نیک اور برگزیدہ بندوں کو مصائب و عقوبات سے بچانا اور وہی معاندین کو ہلاک کرتا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ تمام صفات کارسازی کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس وہی برکات دہندہ ہے کوئی پیغمبر یا ولی برکات دہندہ نہیں۔ وسلام علی عبادہ الخ، اللہ کے برگزیدہ بندے صفات کا رسازی کے مالک نہیں ہیں بلکہ انہیں مصائب و بلیات سے جو سلامتی اور امان نصیب ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ اللہ خیر اما یشرکون اپنے برگزیدہ بندون کو بچانے اور کافروں کو ہلاک کرنے کے بعد الزام اور اتمام حجت کے طور پر فرمایا کیا اللہ بہتر ہے جو سب کچھ کرسکتا ہے یا وہ معبودانِ باطلہ جن کے اختیار میں کچھ نہیں۔ فیہ تبکیت للمشرکین والزام الحجۃ علیھم بعد ہلاک الکفار الخ (خازن ج 5 ص 127) ۔ اما یشرکون میں ام متصلہ ہے اس کے بعد بطور تنویر دوسرے دعوے پر پانچ عقلی دلیلیں ذکر کی گئی ہیں علی سبیل الاعتراف من الخصم۔
Ayah 27:6051:۔ یہ پہلی عقلی دلیل ہے۔ یہاں اور اسی طرح اگلی چاروں دلیلوں میں ام منقطعہ ہے بمعنی بل اور اس سے ایک دلیل ہے دوسری دلیل کی طرف انتقال مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اچھا اس کے علاوہ یہ بتاؤ تمہارے معبود اپنے پجاریوں کے حق میں اچھے ہیں یا اللہ تعالیٰ اپنے عابدین کے حق میں اچھا ہے۔ تم جن پیغمبروں اور ولیوں کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ تم سے ضرر دور کرسکتے ہیں اس لیے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر ہے۔ والمعنی اللہ خیر لمن عبدہ ام الاصنام لمن عبدھا فان اللہ خیر لمن عبدہ وامن بہ لا غنائہ من الھلاک والاصنام لم تغن عن عابد یھا شیئا عند نزول العذاب و لہذا السبب ذکر انواعا تدل علی وحدانیتہ و قدرتہ (خازن ج 5 ص 127) ۔
52:۔ یہ خطاب مخصوص لوگوں سے نہیں بلکہ ساری جنس مخلوق سے ہے۔ ما کان لکم ای لجمیع جنسکم یعنی تمام جنس مخلوق کو یہ اختیار نہیں۔ جیسا کہ بنی اسرائیل رکوع 11 میں ہے۔ قللو انتم تملکون الخ اور سورة یسین رکوع 3 میں ہے وما عملتہ ایدیھم یہاں بھی جنس مخلوق مراد ہے۔ ء الہ مع اللہ ہر دلیل کے بعد یہ سوال دہرایا گیا ہے جس سے مشرکین کے لاجواب ہونے کا اظہار مقصود ہے۔ دلیل میں جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے مشرکین بھی مانتے تھے کہ وہ اللہ کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں۔ اور الٰہ وہی ہوسکتا ہے جو ان صفات سے متصف ہو۔ اب مشرکین سے سوال کیا گیا۔ ء الہ مع اللہ کیا یہ صفات اللہ کے سوا کسی اور میں پائی جاتی ہیں اور کیا اللہ کے سوا کوئی اور کارساز ہے ؟ بل ھم قوم یعدلون اس کا جواب وہ خوب جانتے ہیں کہ نفی میں ہے لیکن سرکشی اور ضد وعناد کی وجہ سے حق کا اعتراف نہیں کرتے بلکہ حق یعنی توحید سے اعراض کرتے ہیں۔ یعدلون عن الحق الذی ھو التوحید (مدارک و روح) ۔ یا اس کے معنی برابر کرنے کے ہیں یعنی وہ اپنے خود ساختہ معبودوں کو عبادت اور پکار میں اللہ کے برابر سمجھتے ہیں ای یساو ون بہ غیرہ تعالیٰ من الھتہم (روح ج 20 ص 50) ۔
Ayah 27:6153:۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ جس نے زمین کو پرسکون بنایا، اس میں دریا اور ندیاں بہا دیں، اس کے اضطراب کو دور کرنے کے لیے اس پر پہاڑ رکھ دئیے اور دو مختلف الذائقہ سمندروں میں پردہ حائل کردیا۔ کیا وہ بہتر ہے یا تمہارے عاجز و بےبس معبود۔ اب تم خود ہی بتاؤ کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ اور کارساز ہے جو یہ مذکورہ کام کرسکے ؟
Ayah 27:6254:۔ یہ تیسری عقلی دلیل ہے یہ دلیل مقصودی ہے۔ یعنی جو بےچین اور پریشان مخلوق کی پکاریں سنتا اور قبول کرتا ہے اور مصائب و بلیات سے بچاتا ہے، جو سب کا خالق اور سب کو ان کی ضرورتیں مہیا کرتا ہے وہی سب کا کارساز اور حاجت روا ہے اور اس کے سوا کوئی حاجت روا اور کارساز نہیں۔
Ayah 27:6355:۔ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے۔ جب تم جنگلوں اور سمندروں میں راستہ بھول جاتے ہو تو اللہ تعالیٰ ہی تمہاری راہنمائی فرماتا ہے۔ اس نے زمین و آسمان میں ایسی علامتیں مقرر فرما دی ہیں جن سے تم اپنی منزل مقصود کی صحیح سمت معلوم کرسکتے ہو۔ باران تحمت سے پہلے بارش کی خوشخبری لانے والی ہوائیں بھی وہی چلاتا ہے۔ کیا یہ صفتیں اللہ کے سوا کسی اور میں موجود ہیں اور کیا اللہ کے سوا کوئی اور کارساز ہے ؟ جب اللہ کے سوا یہ صفتیں کسی اور میں موجد نہیں ہیں تو پھر کارساز بھی اور کوئی نہیں۔ کیا اس میں اب بھی کوئی شک ہے۔ بلا شبہہ اللہ تعالیٰ ان تمام شریکوں سے پاک ہے جن کو مشرکین اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنگلوں اور دریاؤں میں اللہ تعالیٰ ہی راہنمائی فرماتا ہے۔ باقی رہی حدیث اعینونی یا عباد اللہ تو اس میں عباد اللہ سے اولیاء اللہ مراد نہیں ہیں بلکہ فرشتے مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے جنگلوں میں اسی مقصد سے مقرر فرما رکھے ہیں۔ جیسا کہ ابو یعلی کی روایت میں یہ الفاظ موجود ہیں ان للہ ملکا الخ۔
Ayah 27:6456:۔ یہ پانچویں عقلی دلیل ہے۔ جس نے سب کو پیدا فرمایا، جو سب کو دوبارہ پیدا کرے گا اور جو زمین و آسمان سے مخلوق کی روزی کا انتظام کرتا ہے کیا اس کے سوا کوئی اور کارساز ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ قل ھاتوا برھانکم، یہ مذکورہ پانچوں دلیلوں سے متعلق ہے۔ یعنی ہم نے تو اپنے دعوے پر دلائل واضحہ بیان کردئیے ہیں اگر اب بھی تم نہیں مانتے ہو تو اپنے شرک پر کوئی دلیل پیش کرو۔ پہلی دلیل کے آخر میں فرمایا۔ بل ھم قوم یعدلون، یہ لوگ توحید سے اعراض کرتے ہیں۔ دوسری دلیل کے بعد اس سے ترقی کر کے فرمایا بل اکثرھم لا یعلمون بلکہ ان کی اکثریت تو بالکل جاہل ہے توحید کو جانتی ہی نہیں۔ تیسری دلیل کے بعد اس سے ترقی کر کے فرمایا قلیلا ما تذکرون، ان کی ضد و جہالت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ایسے واضح دلائل کے باوجود وہ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ چوتھی دلیل کے بعد فرمایا تعالیٰ اللہ عما یشرکون، مذکور بیان سے واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ہر شریک سے پاک ہے آخر میں پانچویں دلیل کے بعد مشرکین کو چیلنج دیدیا کہ ھا توا برھانکم الخ اگر اب بھی تم نہیں مانتے ہو تو اپنے دعوے پر کوئی دلیل تو پیش کرو۔
Ayah 27:6557:۔ یہ پہلے دونوں قصوں کا ثمرہ ہے اور لف و نشر غیر مرتب کے طور پر پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ من فی السموات، فرشتے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ارواح انبیاء علیہم السلام، والارض یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا نہ آسمان والے نہ زمین والے بلکہ ان کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ حشر و نشر کب ہوگا۔ جب اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں تو اس کے سوا برکات دہندہ بھی کوئی نہیں۔ یعنی ان من فی السموت وھم الملائکۃ و من فی الارض وھم بنو ادم لا یعلمون متی یبعثون واللہ تعالیٰ تفرد بعلم ذلک (خازن ج 5 ص 128) ۔
Ayah 27:6658:۔ ادارک، بمعنی فنی واضمحل یعنی قیامت قائم ہونے کا وقت جاننا تو درکنار آخرت کے بارے میں انہیں کچھ بھی علم نہیں۔ یہاں سے کلام کا رخ اہل مکہ کی طرف ہے۔ وقد فسرھا الحسن باضمحل علمھم فی الاخرۃ وتدارک (مدارک ج 3 س 168، بحر ج 7 ص 93) ۔ یا اس کے معنی استحکام و تکامل کے ہیں اور یہ بطور استہزاء و تہکم کہا گیا ہے جیسا کہ جاہل کو بطور استہزاء کہا جائے وہ بہت بڑا عالم ہے۔ ان وصفہم باستحکام العلم تہکم کما تقول لا جہل الناس ما اعلمک علی سبیل الھزء (کبیر ج 6 ص 577) ۔ بل ھم فی شک منھا، یہ ماقبل سے ترقی ہے یعنی ان کو تو قیامت قائم ہونے میں شک ہے۔ بل ھم منھا عمون یہ اس سے بھی ترقی ہے۔ یعنی شک بھی نہیں بلکہ مہر جباریت کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔
Ayahs 27:67–6859:۔ یہ شکوی ہے۔ مشرکین کہتے یہ تو بڑے تعجب کی بات ہے کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ لقد وعدنا ھذا الخ، آج محمد ﷺ ہم سے یہ بات کہتا ہے اس سے پہلے ہمارے باپ دادا کو بھی کہنے والوں نے اس بات سے ڈرایا ہمیں تو یہ بات بالکل ایک افسانہ اور بےحقیقت معلوم ہوتی ہے جو پہلے لوگوں کی من گھڑت ہے۔ آج تک ہم نے اس کا کوئی اثر اور نتیجہ تو نہیں دیکھا۔ ذکروا انھم وعدوا ذلک ھم واباءھم فلم یقع شیء من ھذا الموعود ثم جزموا و حصروا ان ذلک من اکاذیب من تقدم (بحر ج 7 ص 94) ۔
Ayah 27:6960:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ یعنی تم زمین میں چلو پھرو اور ان مجرمین کا انجام دیکھو جو شرک کرتے اور حشر و نشر کا انکار کرتے تھے انہی جرموں کی پاداش میں ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کردیا۔ ان کے آثار باقیہ کو دیکھ کر عبرت پکڑو اور شرک اور انکار بعث سے باز آجاؤ۔
Ayah 27:7061:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے دوسری بار تسلی کا ذکر ہے۔ یعنی آپ پر ہم نے عظیم الشان قرآن نازل کیا ہے آپ اس کی تعلیمات و ہدایات کے مطابق مسئلہ توحید کی تبلیغ کریں۔ اگر مشرکین نہ مانیں اور کفر و انکار پر اصرار کریں تو آپ اس سے غمگیں نہ ہوں اور نہ دشمنوں کی سازشوں سے آزردہ خاطر ہوں آپ حق پر ہیں اس لیے اللہ پر بھروسہ کر کے اپنا کام کیے جائیں اللہ آپ کا حافظ و ناصر ہے۔
Ayahs 27:71–7262:۔ یہ دوسرا شکوی ہے۔ مشرکین بطور استہزاء و تخفیف کہتے وہ عذاب کہاں ہے جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو ہم تمہیں نہیں مانتے صاف انکار کرتے ہیں پھر وہ عذاب کیوں نہیں آتا۔ قل عسی ان یکون الخ، یہ جواب شکوی ہے۔ فرمایا اتنی عجلت مت کرو، صبر کرو، جس عذاب سے تمہیں ڈرایا گیا ہے وہ قریب آپہنچا ہے۔ ردف لکم ای تبع والمراد بہ ھنا لحق و وصل وھو مما یتعدی بنفسہ وباللم کنصح (روح ج 20 ص 16) ۔ اور عذاب سے یوم بدر کا عذاب مراد ہے۔ (روح وغیرہ) ۔ عسی اور اسی طرح لعل اور سوف شاہوں کے کلام میں امید و شک کے لیے نہیں بلکہ حتمی وعد و وعید کے لیے ہوتے ہیں۔ ان عسی ولعل فی وعد الملوک ووعیدھم یدلان علی صدق الامر وانما یعنون بذلک اظھار وقارھم وانھم لا یعجلون بالانتقام لوثوقہم بان عدوھم لا یفوتہم فعلی ذلک جری وعد اللہ ووعیدہ (کبیر ج 6 ص 579) ۔
Ayah 27:7363:۔ یہ لوگوں پر اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ کفر و شرک اور انکار و تکذیب پر جلدی ان کو نہیں پکڑتا تاکہ ان کو سوچنے سمجھنے کا موقع مل جائے۔ لیکن پھر بھی اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور اس کی نافرمانیوں میں منہمک رہتے ہیں۔
Ayahs 27:74–7564:۔ آخر میں دونوں دعو وں پر لف و نشر مرتب کے طور پر مزید ایک ایک عقلی دلیل ذکر کی گئی۔ یہ پہلی عقلی دلیل ہے جو پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ یعنی غیب داں صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ ہر ایک کے سینے میں چھپی باتوں کو بھی جانتا ہے اور ہر ایک کے ظاہری اعمال سے باخبر ہے اس لیے ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دے گا۔ وما من غائبۃ الخ، کتاب مبین سے علم الٰہی یا لوح محفوظ مراد ہے۔ وھو اللوح المھفوظ، وقیل المراد بالکتاب المبین علمہ تعالیٰ الازلی الذی ھو مبدا لاظھار الاشیاء بالارادۃ والقدرۃ (روح ج 20 ص 17) ۔
Ayah 27:7665:۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور اس سے حضرت نبی اکرم ﷺ کی صداقت کا بیان مقصود ہے۔ یعنی یہ قرآن بہت سے ایسے مسائل کا صحیح صحیح فیصلہ کرتا ہے جن میں بنی اسرائیل آپس میں مختلف تھے اور کوئی حتمی فیصلہ نہ کر پاتے تھے۔ مثلاً حضرت مسیح اور حضرت مریم کے بارے میں ان کا اختلاف وہ ان کے بارے میں افراط وتفریط میں گرفتار تھے قرآن نے اس معاملے میں افراط وتفریط کے درمیان صحیح راہ بتائی۔ یہودی ان کو برا جانتے تھے اور طعن کرتے تھے۔ عیسائی ان کو خدا اور خدا کا بیٹا اور دونوں کو کارساز سمجھتے تھے قرآن نے دونوں نظریوں کو باطل ٹھہرا کر صحیح فیصلہ دیا کہ وہ دونوں ہمارے نیک اور برگزیدہ بندے ہیں وہ نہ خدا ہیں، نہ خدا کے نور سے ہیں اور نہ کارساز ہیں ایسے امور غیبیہ صحیح صحیح بتا دینا یہحضور ﷺ کے صدق نبوت کی دلیل ہے۔
Ayahs 27:77–7866:۔ یہ قرآن ماننے والوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور سراپا رحمت ہے۔ ان ربک لیقضی الخ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے۔ وہ بڑا زبردست ہے اس کا فیصلہ رد نہیں کیا جاسکتا اور وہ سب کچھ جانتا ہے اس لیے اس کا فیصلہ سراپا حق ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن کے ذریعہ بنی اسرائیل کے باہمی مختلف فیہ مسائل میں اس نے حق و انصاف اور حکمت بالغہ کے ساتھ فیصلہ فرمایا ہے۔
Ayah 27:7967:۔ یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علی ہو سلم کے لیے تسلی ہے یعنی اگر مشرکین نہیں مانتے تو آپ غم نہ کریں اللہ پر بھروسہ کر کے اپنا کام کیے جائیں کیونکہ آپ حق پر ہیں۔ انک علی الحق المبین۔ یہ ماقبل کی علت اولی ہے۔ انک لا تسمع الموتی یہ تسلی کی دوسری علت ہے۔ یعنی اگر یہ مشرکین نہیں مانتے تو آپ غم کیوں کرتے ہیں آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں ان مشرکین کے دلوں اور کانوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اس لیے ان پر آپ کی تبلیغ کا کوئی اثر نہ ہوگا اور وہ کبھی حق کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کی مثال تو مردوں کی سی ہے جو نہ سن سکتے ہیں۔ یہی حال ان کا ہے مہر جباریت کی وجہ سے ان کے تمام حواس معطل ہوچکے ہیں یا ان کی مثال ایسے بہروں کی سی ہے جو بہرے بھی ہیں اور پھر پیٹھ پھیر کر دور بھاگ جائیں۔ جس طرح یہ آپ کی بات نہیں سن سکتے ایسے ہی ان مشرکین پر بھی آپ کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس آیت میں کافروں کو مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے جس طرح مردوں کے تمام حواس معطل ہوجاتے ہیں وہ نہ سمجھ سکتے ہیں اور نہ دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ اسی طرح کافر چونکہ اپنے ان حواس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اس لیے ان کو مردوں سے تشبیہ دی گئی گویا ان کے یہ حواس مردوں کی طرح معطل اور بیکار ہوچکے ہیں۔ اس سے صاف صاف سماع موتی کی نفی ہوتی ہے اگر مردے سنتے ہوں تو یہ تشبیہ صحیح نہیں ہوگی واستدل بقولہ سبحانہ (انک لا تسمع الموتی) علی ان المیت لا یسمع کلام الناس مطلقا (روح ج 20 ص 21) ۔ سماع موتی کی پوری تحقیق سورة روم کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ تعالی۔