29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 29:40–41

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

پھر سب کو پکڑا ہم نے اپنے اپنے گناہ پر پھر کوئی تھا کہ اس پر ہم نے بھیجا پتھراؤ ہوا سے اور کوئی تھا کہ اس کو پکڑا چنگھاڑ نے اور کوئی تھا کہ اس کو دھنسا دیا ہم نے زمین پر اور کوئی تھا کہ اس کو ڈبا دیا ہم نے اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے پر تھے وہ اپنا آپ ہی برا کرتے

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

مثال ان لوگوں کی33 جنہوں نے پکڑے اللہ کو چھوڑ کر اور حمایتی جیسے مکڑی کی مثال بنا لیا اس نے ایک گھر اور سب گھروں میں بودا سو مکڑی کا گھر اگر ان کو سمجھ ہوتی

33:۔ یہ سورت کا مرکزی دعوی ہے یعنی جب سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے تو مصائب و مشکلات میں حمایتی اور کارساز بھی وہی ہے۔ اس دعوے کو ایک نہایت ہی واضح مثال کے ساتھ سمجھایا گیا ہے۔ جو لوگ مصائب و مشکلات میں اللہ کے سوا اوروں کو حمایتی اور کارساز سمجھتے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے۔ جو نہایت ہی باریک اور کمزور تاروں سے جالا بن کر اپنے لیے گھر بناتی ہے۔ مکڑی کا یہ گھر نہایت ہی کمزور ہوتا ہے جو نہ سردی سے بچا سکتا ہے نہ گرمی سے، نہ بارش سے نہ آندھی سے۔ بعینہ یہی حال غیر اللہ کی پناہ اور معبودان باطلہ کے سہاروں کا ہے وہ بھی اس قدر کمزور ہیں کہ کسی مصیبت اور مشکل میں کام نہیں آسکتے۔ اس مثال میں مشرک کو مکڑی کے ساتھ اور غیر اللہ کی پناہ اور حمایت کو مکڑی کے جالے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ (اتخذت بیتا) لنفسہا تادی الیہ وان بیتہا فی غایۃ الضعف والوھن لا یدفع عنہا حرا ولا بردا فکذلک الاوثان لا تملک لعابدیہا نفعا ولا ضرا۔ (معالم و خازن ج 5 ص 160) ۔
Ayah 29:42

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

اللہ جانتا ہے34 جس جس کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوائے کوئی چیز ہو اور وہ زبردست ہے حکمتوں والا

34:۔ یعنی سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہے اور جن کو مشرکین پکارتے ہیں وہ تو ان پکارنے والوں کے احوال سے بھی باخبر نہیں ہیں پھر انہیں کیوں پکارتے ہیں۔ پھر وہ غالب اور حکیم بھی ہے اس لیے علیم وخبیر اور عزیز و قدیر کو چھوڑ کر عاجز مخلوق کو کارساز سمجھ کر حاجات میں پکارنا کونسی عقلمندی ہے۔ وتلک الامثال الخ ہم مثالیں دے کر لوگوں کو مسئلہ توحید سمجھاتے ہیں لیکن ان میں غور و فکر صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو راسخ فی العلم ہوں اور عقل و بصیرت رکھتے ہوں۔
Ayahs 29:43–44

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

اور یہ مثالیں بٹھلاتے ہیں ہم لوگوں کے واسطے اور ان کو سمجھتے وہی ہیں جن کو سمجھ ہے

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ نے بنائے آسمان اور زمین35 جیسے چاہئیں اس میں نشانی ہے یقین لانے والوں کے لیے

35:۔ یہ مرکزی دعوی توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو پیدا ہی اظہار حق کے لیے فرمایا ہے کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتا ہے (بالحق) ای للحق و اظہار الحق (معالم و خازن ص 161 ج 5) ۔ انہا مع اشتمالہا علی جمیع ما یتعلق بہ معاشہم شواھد دالۃ علی شئونہ تعالیٰ المتعلقۃ بذاتہ و صفاتہ (ابو السعود ج 6 ص 696) ۔ ایمان والوں کے لیے اس میں بہت بڑی دلیل ہے۔ مومنوں کی تخصیص اس لیے کی گئی کہ اس سے استفادہ صرف وہی کرتے ہیں ویسے تو ہر غور و فکر کرنے والے کا ذہن اس سے اللہ کی وحدانیت اور اس کی عظیم قدرت تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔
Ayah 29:45

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

تو پڑھ جو اتری تیری طرف36 کتاب اور قائم رکھ نماز بیشک نماز روکتی ہے بےحیائی اور بری بات سے اور اللہ کی یاد ہے سب سے بڑی اور اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو

36:۔ یہ دعوی توحید پر دلیل وحی ہے۔ یہ مسئلہ توحید وحی کے ذریعہ سے آپ پر نازل کیا گیا ہے۔ اس لیے جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے آپ اس مسئلہ توحید کو بیان کرتے رہیں اور کتاب اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے رہیں۔ واقم الصلوۃ الخ، یہ امر مصلح ہے یعنی مسئلہ توحید بیان کرنے کی وجہ سے کفار کی طرف سے آپ کو جو تکلیف وا یذاء پہنچے اس کا اثر کم کرنے کے لے آپ نماز قائم کریں۔ نماز سے اللہ کے ساتھ خصوصی تعلق قائم رہے گا، صبر و ہمت کا جذبہ پیدا ہوگا اور مصائب و مشکلات کی اہمیت دل سے کم ہوجائے گی۔ الفحشاء سے کافروں کی خباثتیں اور ان کی ایذائیں مراد ہیں۔ یعنی نماز کافروں کی خباثتوں اور ایذاؤں کا اثر دل سے زائل کردے گی۔ المنکر خلاف شریعت امور۔ نماز سے آدمی کے دل میں خوف خدا، خشوع و خضوع اور عجز و انکسار وغیرہ صفات حمیدہ پیدا ہوتی ہیں اس لیے نمازی آدمی طبعاً خلاف شریعت امور سے متنفر و مجتنب ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ خوبی صرف اسی صورت میں پیدا ہوسکتی ہے جب آدمی اس شعور کے ساتھ نماز پڑھے کہ وہ احکم الحاکمین کے حضور کھڑا ہو کر فریضہ نماز ادا کر رہا ہے۔ ساری نماز میں اس کی توجہ نماز ہی میں رہے۔ توجہ اور شعور کے بغیر صرف ظاہری ارکان نماز ادا کرلینے سے یہ آثار ظاہر نہیں ہوسکتے۔ ولذکر اللہ اکبر۔ ذکر سے نماز یا عام ذکر اللہ مراد ہے۔ یعنی نماز یا ہر وقت ہر معاملے میں اللہ کو یاد رکھنا اور اس کی نافرمانی سے بچنا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ اہم کام ہے اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور وہ ہر عمل کے مطابق اس کی جزا و سزا دے گا۔
Ayah 29:46

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور جھگڑا نہ کرو37 اہل کتاب سے مگر اس طرح پر جو بہتر ہو مگر جو ان میں بےانصاف ہیں اور یوں کہو38 کہ ہم مانتے ہیں جو اترا ہم کو اور اترا تم کو اور بندگی ہماری اور تمہاری ایک ہی کو ہے اور ہم اسی کے حکم پر چلتے ہیں

37:۔ یہ طریق تبلیغ ہے۔ مشرکین مکہ کی طرح اگرچہ اہل کتاب بھی ایذاء رسانی میں پیش پیش ہیں لیکن پھر بھی تبلیغ میں نرمی اختیار کرو اور درشتی سے کام نہ لو۔ الا الذین ظلموا الخ البتہ ان میں جو ضد وعناد اور بےانصافی پر اتر آئیں اور نرمی کا ان پر کوئی اثر نہ ہو ان کے ساتھ ذرا سخت لہجہ اختیار کرلو تاکہ ان کے غرور و استکبار کا جواب ہوجائے۔ الا الذین ظلموا منھم بالافراد فی العتداء والعناد ولم یقلبوا النصح ولم ینفع فیھم الرفق فاستعملوا معہم الغلظۃ (روح ج 31 ص 2) ۔ یا استثناء منقطع ہے یعنی اگر آپ نرمی سے تبلیغ کریں گے تو اس سے وہ زیادہ متاثر ہوں گے۔ الا الذین ظلموا منہم البتہ ان میں سے جو ضدی اور بےانصاف ہیں وہ نہیں مانیں گے، قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ 38:۔ یہ تبلیغ کا طرق احسن ہے۔ اہل کتاب سے یوں کہو کہ ہم اس وحی پر بھی ایمان لائے ہیں جو ہم پر نازل ہوئی اور اس پر بھی جو تم پر نازل ہوئی، ہمارا اور تمہارا معبود اور کارساز بھی ایک ہی ہے اور ہم تو اسی معبود برحق کے فرمانبردار ہیں۔ اس لیے اے اہل کتاب ! تم بھی اس کے پورے پورے فرمانبردار بن جاؤ اور اس کی آخری کتاب اور اس کے آخری پیغمبر ﷺ پر ایمان لے آؤ۔
Ayah 29:47

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور ویسی ہی39 ہم نے اتاری تجھ پر کتاب سو جن کو40 ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو مانتے ہیں اور ان مکہ والوں میں بھی بعضے ہیں کہ اس کو مانتے ہیں اور منکر وہی ہیں ہماری باتوں سے جو نافرمان ہیں

39:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے اور یہ الکتاب یعنی قرآن کو ماننے کی ترغیب ہے۔ ایسی عظیم الشان، مدلل اور محکم کتاب نازل کرنا ہمارا ہی کمال ہے۔ اب تمہیں اس کتاب پر عمل کرنا چاہیے۔ 40:۔ یہ دعوی توحید پر نقلی دلیل ہے مؤمنین اہل کتاب سے۔ یعنی اہل کتاب میں سے جو حق پسند اور منصف مزاج ہیں وہ قرآن پر ایمان لا چکے ہیں یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن اور اس کا بیان کردہ مسئلہ توحید ہے۔ ومن ھؤلاء سے اہل عرب یا اہل مکہ مراد ہیں۔ یعنی اہل کتاب کے علاوہ خود ان مشرکین میں سے بھی بہت سے لوگ ایمان لا چکے ہیں۔ وما یجحد، یہ زجر ہے۔ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ انصاف پسند تھے وہ تو ایمان لا چکے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو ضدی اور معاند ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے بہت سے لوگ حق کو سمجھنے کے باوجود محض ضد وعناد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 29:48

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور تو پڑھتا نہ تھا41 اس سے پہلے کوئی کتاب اور نہ لکھتا تھا اپنے داہنے ہاتھ سے تب تو البتہ شبہ میں پڑتے یہ جھوٹے

41:۔ یہ آنحضرت ﷺ کی نبوت اور دعوی توحید میں سچا ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی قرآن کے نزول سے پہلے نہ تو آپ پہلی کتابیں پڑھا کرتے تھے اور نہ کچھ تحریر کیا کرتے تھے یعنی آپ پڑھنا اور لکھنا جانتے ہی نہ تھے۔ اگر آپ لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تو باطل پرست یعنی مشرکین مکہ کو شکوک و شبہات کی ایک اور راہ مل جاتی اور وہ کہتے محمد ﷺ کتب سابقہ کا مطالعہ کرتا رہتا ہے اور پھر اپنے ہاتھ سے مضامین لکھ کر وحی الٰہی کے نام سے ہمارے سامنے پیش کردیتا ہے۔ لیکن اب اس شب ہے کی کوئی گنجائش نہیں اس لیے اب ماننا پڑے گا کہ آپ جو کچھ بیان کرتے ہیں وہ اللہ کی وحی سے کرتے ہیں اور آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ قال النحاس دلیلا علی نبوتہ لقریش لانہ لا یقرا و لا یکتب ولا یخالط اھل الکتاب ولم یکن بمکۃ اھل الکتاب فجاء ھم باخبار الانبیاء و الامم و زالت الریبۃ والشک (قرطبی ج 13 ص 351) ۔ اذًا لارتاب المبطلون یہ منفی پر متفرع ہے۔
Ayah 29:49

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ قرآن تو آیتیں ہیں صاف42 ان لوگوں کے سینوں میں جن کو ملی ہے سمجھ اور منکر نہیں ہماری باتوں سے مگر وہی جو بےانصاف ہیں

42:۔ یہ ماقبل سے اضراب ہے۔ یعنی اس کتاب مبارک میں شک و ریب کا کیا سوال وہ تو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہوچکی ہے اور ایمان والوں نے اسے اپنے سینوں میں محفوط کر کے ہر قسم کی تحریف و تبدیل اور شک و ریب کی دسترس سے مامومن کردیا ہے۔ وما یجحد الخ، ہماری آیتیں جو سراپا نور ہدایت اور واضح دلائل وبراہین پر مشتمل ہیں ان کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو ضد اور عناد و مکابرہ میں حد سے گذر چکے ہیں۔
Ayah 29:50

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کیوں نہ اتریں اس پر کچھ نشانیاں اس کے رب سے تو کہہ نشانیاں تو ہیں43 اختیار میں اللہ کے اور میں تو بس سنا دینے والا ہوں کھول کر

43:۔ یہ شکوی ہے مشرکین اہل کتاب کے اکسانے پرحضور ﷺ سے مطالبہ کرتے تھے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے ید بیضا اور عصا کے معجزے دکھائے تھے آپ بھی ایسے معجزے دکھائیں۔ قل انما الایت الخ یہ جواب شکوی ہے۔ یعنی معجزے لانا میرے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ کے اختیار میں ہے وہ جب چاہتا ہے کوئی معجزہ اپنے پیغمبر کے ہاتھ پر ظاہر فرما دیتا ہے میں تو اس کے حکم سے اس کا پیغام پہنچاتا اور نہ ماننے والوں کو اسکے عذاب سے ڈراتا ہے۔ (انما الایت عند اللہ) ینزل ایتھا شاء و لست املک شیئا منہا (مدارک ج 3 ص 200) ۔
Ayah 29:51

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر اتاری کتاب44 کہ ان پر پڑھی جاتی ہے بیشک اس میں رحمت ہے اور سمجھانا ان لوگوں کو جو مانتے ہیں

44:۔ یہ بھی جواب شکوی میں داخل ہے۔ مشرکین اگر واقعی حق کے جو یا ہیں اور اطمینان کے لیے معجزہ طلب کر رہے ہیں تو کیا ان کے اطمینان اور رفع شکوک و شہبات کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر قرآن نازل کردیا ہے جو ہر وقت انہیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے۔ اس کی آیات بینات اور حجج واضحہ آپ کی صداقت کو روز روشن کی طرح واضح کر رہی ہیں اور ہر قسم کے شکوک و شبہات کو زائل کر رہی ہیں۔ اگ روہ واقعی ایمان لانا چاہتے ہیں اور ضد و تعنت مقصود نہیں تو یہ قرآن سراپا رحمت و عبرت ہے وہ اس میں غور و فکر کریں اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ ای اولم یکفہم ایۃ مغنیۃ عن سائر الایات ان کانوا طالبین للحق غیر متعنتین ھذا القران الذی تدوم تلاوتہ علیھم فی کل مکان و زمان فلا تزال معہم ایۃ ثابتۃ لا تزول ول اتضمحل الخ (بحر ج 7 ص 156) ۔
Ayah 29:52

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

تو کہہ کافی ہے اللہ45 میرے اور تمہارے بیچ گواہ جانتا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں اور جو لوگ یقین لاتے ہیں جھوٹ پر اور منکر ہوئے ہیں اللہ سے وہی ہیں نقصان پانے والے

45:۔حضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اگر اتنے دلائل وبراہین کے باوجود بھی نہیں مانتے تو آپ فرما دیں میرے اور تمہارے درمیان میری سچائی پر اللہ سب سے بڑا گواہ ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اس سے پوشیدہ نہیں۔ وہ تمہیں اس کی سخت سزا دے گا۔ والذین امنوا بالباطل، باطل سے معبودانِ غیر اللہ مراد ہیں وھو ما یعبد من دون اللہ تعالیٰ (ابو السعود ج 6 ص 700) قال ابن عباس ؓ ای بغیر اللہ عز و جل وھو شامل لنحو عیسیٰ والملائکۃ (علیہم السلام) والباطل فی الھقیقۃ عبادتہم الخ (روح ج 21 ص 8) ۔
Ayah 29:53

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور جلدی مانگتے ہیں46 تجھ سے آفت اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ مقرر) ٹھہرا ہوا (تو آپہنچتی ان پر آفت اور البتہ آئے گی ان پر اچانک اور ان کو خبر نہ ہوگی

46:۔ یہ زجر مع تخویف دنیوی و اخروی ہے یہ معاندین عذاب کے جلدی آنے کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن عذاب کا وقت مقرر ہے اگر اس کا وقت مقرر و معین نہ ہوتا تو اب تک وہ عذاب سے ہلاک ہوچکے ہوتے۔ عذاب کا وقت ہمارے علم میں معین ہے لیکن انہیں اس کا علم نہیں اس لیے وہ اچانک ہی اپنے وقت پر انہیں آ لے گا۔ اس سے قیامت یا جنگ بدر کا عذاب مراد ہے۔ وھو یوم القیمۃ او یوم بدر (مدارک) یستعجلونک الخ۔ یہ زجر مذکور کا اعادہ ہے۔ وہ عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آپ فرما دیں عذاب آئے گا یہ تمام مشرکین و کفار جہنم میں ڈالے جائیں اور جہنم کی آگ ہر طرف سے انہیں گھیرے میں لے لیگی اور اس وقت ان سے کہا جائے گا آج اپنے مشرکانہ اعمال کا خوب مزہ چکھ لو۔ یہ وہی عذاب ہے جس کے لیے تم بیتاب تھے اور بطور استہزاء ہمارے پیغمبر سے اسے جلدی لانے کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔
Ayahs 29:54–56

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

جلدی مانگتے ہیں تجھ سے عذاب اور گھیر رہی ہے منکروں کو

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن گھیر لے گا ان کو عذاب ان کے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے اور کہے گا چکھو جیسا کچھ تم کرتے تھے

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے بندوں میرے جو یقین لائے ہو47 میری زمین کشادہ ہے سو میری ہی بندگی کرو

47:۔ یہ پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ ابتداء سورت میں کہا گیا توحید کی خاطر مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا اور ان منافقین کی طرح نہ ہونا جو معمولی تکلیف پر توحید کا نام لینا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ اب یہاں فرمایا اگر مشرکین اس قدر ایذائیں دیں کہ وطن میں رہنا مشکل ہوجائے تو میری زمین فراخ ہے وطن سے ہجرت کر کے کسی دوسری جگہ چلے جاؤ جہاں ت میری خالص عبادت بجا لا سکو۔ کل نفس الخ۔ یہ دنیا چند روزہ ہے آخر ہر ایک کو موت آئے گی اور تم سب میرے پاس آؤ گے۔
Ayahs 29:57–58

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

جو جی ہے سو چکھے گا موت پھر ہماری طرف پھر آؤ گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ یقین لائے اور کیے بھلے کام48 ان کو ہم جگہ دیں گے بہشت میں جھروکے نیچے بہتی ہیں ان کے نہریں سدا رہیں ان میں خوب ثواب ملا کام والوں کو

48:۔ یہ ہجرت کرنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ جو لوگ توحید پر ایمان لائے اور توحید کی خاطر تکلیفیں اٹھائیں، اپنی جائیدادیں اور مکان چھوڑے آخرت میں ہم انہیں شاندار بالا خانے عطا کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ الذین صبروا الخ یہ ان ایمان والوں کا اجر ہے جنہوں نے اپنی عملی زندگی میں توحید کا نمونہ پیش کیا اور دین حق کی خاطر مصائب برداشت کیے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد رکھا۔
Ayahs 29:59–60

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسہ رکھا

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور کتنے جانور ہیں49 جو اٹھا نہیں رکھتے اپنی روزی دیتا ہے ان کو اور تم کو بھی اور وہی ہے سننے والا جاننے والا

49:۔ وطن چھوڑنے سے فقر و فاقہ کا اندیشہ تھا جیسا کہ بعض مسلمانوں نے اس کا اظہار بھی کیا تھا کہ ہجرت کر کے مدینہ جائیں گے تو وہاں کھائیں گے کیا اس پر فرمایا اللہ پر بھروسہ کرو جو تمام جانوروں کو روزی دیتا ہے وہی تمہارا بھی رازق ہے تم دیکھتے ہو تمام جانور خالی ہاتھ ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سب کو روزی پہنچاتا ہے تو وہ تمہیں کیوں روزی نہیں دے گا۔ لما امر رسول اللہ ﷺ من اسلم مکۃ بالہجرۃ خافوا الفقر والضیعۃ فنزلت (مدارک ج 3 ص 201) ۔ الہ تعالیٰ ہر بات سننے والا اور ہر چیز جاننے والا ہے۔ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ وہ تمہاری پکاریں سنتا اور تمہاری حاجتوں کو جانتا ہے اس لیے اس پر بھروسہ کر کے اس کے دین کی خاطر ہجرت کرو وہ تمہارے تمام کام آسان فرمائے گا۔
Ayah 29:61

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر50 تو لوگوں سے پوچھے کہ کس نے بنایا ہے آسمان اور زمین کو اور کام میں لگایا سورج اور چاند کو تو کہیں اللہ نے پھر کہاں سے الٹ جاتے ہیں

50:۔ یہ دعوی توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ جب مشرکین خود تسلیم کرتے ہیں کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور یہ سارا نظام شمسی بھی اسی کے تصرف و اختیار میں ہے تو پھر کہاں ان کی عقلیں ماری گئیں کہ اللہ کے سوا اوروں کو کارساز سمجھ کر پکارتے ہیں۔
Ayah 29:62

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ پھیلاتا ہے روزی51 جس کے واسطے چاہے اپنے بندوں میں اور ناپ کردیتا ہے جس کو چاہے بیشک اللہ ہر چیز سے خبردار ہے

51:۔ یہ تیسری عقلی دلیل ہے۔ رزق جو انسان کی سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ وہ اللہ کے قبضے میں ہے۔ رزق کی فراخی اور تنگی اس کے اختیار میں ہے اور وہ عالم الغیب بھی ہے لہذا تمام حاجات و مصائب میں وہی کارساز ہے اور وہی برکات دہندہ ہے اور کوئی نہیں۔
Ayah 29:63

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور جو تو پوچھے ان سے52 کس نے اتارا آسمان سے پانی پھر زندہ کردیا اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد تو کہیں اللہ نے تو کہہ سب خوبی اللہ کو ہے پر بہت لوگ نہیں سمجھتے

52:۔ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ مشرکین مانتے ہیں کہ آسمان سے بارانِ رحمت نازل فرما کر زمین سے انواع و اقسام کے غلے اور بھل وہی پیدا کرتا ہے تو پھر ان پر حیف ہے کہ وہ اللہ کے سوا اوروں کو برکات دہندہ اور کارساز سمجھ کر پکارتے ہیں۔ قل الحمد للہ الخ۔ یہ دلائل یہ دلائل عقلیہ مذکورہ کا ثمرہ ہے۔ جب مشرکین کے اپنے اقرار و اعتراف ہی سے ثابت ہوگیا کہ ساری کائنات کا خالق اور اس میں متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے تو آپ اعلان فرما دیجئے کہ اس سے معلوم ہوا کہ تمام صفات کارسازی ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں اور ان صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ لیکن دلائل کے اس قدر وضوح و ظہور کے باوجود اکثر لوگ ان میں غور و تدبر نہیں کرتے۔
Ayah 29:64

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور53 یہ دنیا کا جینا تو بس جی بہلانا اور کھیلنا ہے اور پچھلا گھر جو ہے سو وہی ہے زندہ رہنا اگر ان کو سمجھ ہوتی

53:۔ دنیا کی تحقیر و تقلیل کا بیان ہے۔ مشرکین اور اہل دنیاجس دولت اور شان دنیا پر مغرور ہو کر توحید کا مغرور ہو کر توحید کا انکار کر رہے ہیں اس کی حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ بچوں کا ایک کھیل تماشا ہے جس سے محض چند روز دل بہلایا جاسکتا ہے یہ اصل زندگی نہیں اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جو کبھی فنا نہیں ہوگی اس لیے آخرت کے لیے توشہ تیار کرنا چاہئے۔ ای ماھی سرعۃ زوالہا عن اھلہا و موتھم الا کما یلعب الصبیان ساعۃ ثم یتفرقون (بحر ج 7 ص 158) ۔ اگر وہ اس حقیقت کو جانتے ہوتے تو دنیا کو آخرت پر کبھی ترجیح نہ دیتے۔
Ayah 29:65

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب سوار ہوئے کشتی میں54 پکارنے لگے اللہ کو خالص اسی پر رکھ کر اعتقاد پھر جب بچا لایا ان کو زمین کی طرف اسی وقت لگے شریک بنانے

54:۔ یہ زجر ہے۔ مشرکین جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں اس وقت اگر ان کی کشتیاں گرداب میں پھنس جائیں یا طوفانِ باد میں گھر جائیں تو وہ ہر طرف سے مایوس ہو کر خالص اللہ تعالیٰ ہی کو مدد کے لیے پکارتے ہیں اور اپنے مزعومہ مددگاروں اور خود ساختہ کارسازوں کو بھول جاتے ہیں۔ مشرکینحضور ﷺ سے سنا کرتے تھے کہ اگر شرک چھوڑ کر توحید پر ایمان نہ لاؤ گے تو اللہ کا عذاب آئے گا۔ اس لیے جب وہ کشتیوں کو خطرے میں دیکھتے تو خیال کرتے شاید وہ عذاب آگیا ہے جس سے محمد ﷺ ہمیں ڈراتا تھا۔ اس لیے خالص اللہ کو پکارنے لگتے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ ان کی کشتیوں کو صحیح سلامت کنارے لگا دیتا ہے تو خشکی پر اتر کر وہ پھر شرک کرنے لگتے ہیں اور پہلے کی طرح حاجات میں وہ غیر اللہ کو پکارتے ہیں۔
Ayah 29:66

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ مکرتے رہیں55 ہمارے دئیے ہوئے سے اور مزے اڑاتے رہیں سو عنقریب جان لیں گے

55:۔ دونوں صیغوں میں لام بمعنی کَیْ ہے یعنی وہ شرک کرتے ہیں تاکہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کریں اور شرک پر اتحاد و اتفاق کا فائدہ اٹھائیں ای یشرکون لیکونوا کافرین بما اتیناھم من نعمۃ النجاۃ بسبب شرکھم ولیتمتعوا باجتماعہم علی عبادۃ الاوثان و توادھم علیہا (روح ج 21 ص 13) ۔ یا دونوں میں لام امر کا ہے قرینہ یہ ہے کہ ایک قراءت میں ولیتمتعوا کا لام ساکن ہے اور سکون لام امر ہی پر جائز ہے لام کَیْ ہے جائز نہیں اس صورت میں یہ تہدید و وعید ہوگی وقیل ھما لام امر معناہ التہدید والوعید۔ ومن قرا و لیتمتعوا باسکان اللام لم یجعلھا لام کی لان لام کی لایجوز اسکانھا (قرطبی ج 13 ص 363) ۔ فسوف یعلمون۔ اب کفرانِ نعمت اور شرک کرلیں عنقریب اس کا انجام دیکھ لیں گے۔
Ayah 29:67

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھتے56 کہ ہم نے رکھ دی ہے پناہ کی جگہ امن کی اور لوگ اچکے جاتے ہیں ان کے آس پاس سے کیا جھوٹ پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ کا احسان نہیں مانتے

56:۔ اہل مکہ پر ایک اور بہت بڑے انعام کا ذکر فرمایا یعنی وہ دلائل میں بھی غور و تدبر کریں اور ہمارے احسانات بھی دیکھیں کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے ان کے شہر کو حرم محترم اور مقام امن بنا دیا ہے سارا عرب بیت اللہ کی وجہ سے مکہ والوں کی عزت کرتا اور ان کے مال و جان اور عزت و آبرو کو ہاتھ نہیں ڈالتا جبکہ ان کے گرد و نواح میں رہنے والے دوسرے لوگوں کا مال و جان محفوظ نہیں۔ آئے دن قتل و غارت کا بازار گرم رہتا ہے۔ مگر یہ اہل مکہ اللہ تعالیٰ کے عظیم احسانات کی قدر بھی نہیں کرتا اور خود ساختہ معبودوں کو کارساز سمجھتے اور اللہ کی نعمتوں کی بےقدری کرتے ہیں۔ افبالباطل یومنون الخ کیا ان دلائل اور احسانات کے باوجود وہ باطل یعنی خود ساختہ معبودوں کو کارساز سمجھتے رہیں گے اور ہمارے احسانات کی ناشکری کرتے رہیں گے۔
Ayah 29:68

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ بےانصاف کون ہے جو باندھے اللہ پر جھوٹ57 یا جھٹلائے سچی بات کو جب اس تک پہنچے کیا دوزخ میں بسنے کی جگہ نہیں58 منکروں کے لئے

57:۔ یہ مشرکین ایسے ظالم اور بےانصاف ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کے باوجود اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ اور یہ سب سے بڑے ظالم ہیں کیونکہ جو شخص اللہ پر افتراء کرے کہ اس کا کوئی شریک ہے یا اللہ کے رسول اور اس کی کتاب کا انکار کرے وہ سب سے بڑا بےانصاف ہے۔ افتری علی اللہ کذبا بان زعم ان لہ شریکا۔ ام کذب بالحق ای بالرسول او بالقران (ابو السعود ج 6 ص 705) ۔ 58:۔ استفہام انکاری ہے، ہمزہ انکار اگر مثبت پر آئے تو مراد نفی ہوگی اور اگر منفی پر آئے تو مراد اثبات ہوگا۔ یہاں منفی پر داخل ہے اس لیے مراد اثبات ہوگا۔ یعنی کافروں کا ٹھکانا یقینا جہنم میں ہوگا۔ ھذا تقرر لثوائہم فی جہنم لان ہمزۃ الانکار اذا ادخلت علی النفی صار ایجابا (مدارک ج 3 ص 202) ۔
Ayah 29:69

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جنہوں نے59 محنت کی ہمارے واسطے ہم سجھا دیں گے ان کو اپنی راہیں اور بیشک اللہ ساتھ ہے نیکی والوں کے60

59:۔ جہاد سے یہاں جہاد کفار مراد نہیں بلکہ مجاہدٔ نفس اور مقاساتِ مصائب مراد ہے۔ یہ سورت کی ابتداء یعنی دعوی اولی سے متعلق ہے۔ دین حق اور مسئلہ توحید کی وجہ سے مصائب آئیں گے یہاں تک کہ اپنا وطن بھی چھوڑنا پڑے گا۔ جو لوگ راہ حق میں مصائب و شدائد پر صابر و شاکر رہے اور دین توحید کی خاطر صبر و استقلال کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کیا ہم انہیں راہ حق پر قائم رکھیں گے اور انہٰں توحید پر ثبات و استقلال عطا کریں گے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دیں گے۔ (والذین جاھدوا فینا) فی شاننا و من اجلنا ولو جہنا خالصا۔ لنہدینہم سبلنا والمراد نزیدنہم ھدایۃ الی سبیل الخیر وتوفیقا لسلو کہا (روح ج 21 ص 14) ۔ 60:۔ یہ جملہ ماقبل کے لیے بمنزلہ تعلیل ہے اور محسنین سے وہی لوگ مراد ہیں جو اللہ کی راہ میں تکلیفیں اٹھاتے ہیں (روح) یعنی ہم ان لوگوں کو دین حق اور صراط مستقیم پر قائم رکھیں گے اس لیے کہ ہماری مدد اور نصرت ہمیشہ ان لوگوں کے شامل حال رہتی ہے جو دین حق کی خاطر پورے اخلاص کے ساتھ مصائب برداشت کرتے ہیں۔ سورة عنکبوت کی خصوصیات اور اس میں آیات توحید 1 ۔ احسب الناس۔ تا۔ ولیعلمن الکذبین۔ اے ایمان والو ! جس طرح پہلے لوگوں پر توحید کی وجہ سے آزمائشیں آئٰں اسی طرح تم پر بھی آئیں گی۔ (خصوصیت) 2 ۔ ام حسب الذین۔ تا۔ ساء ما یحکمون۔ مشرکین کا یہ خیال غلط ہے کہ وہ کہیں بھاگ کر ہمارے عذاب سے اپنی جان بچا لیں گے (خصوصیت) ۔ 3 ۔ ومن الناس من یقول۔ تا۔ انا معکم۔ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو توحید کی خاطر تھوڑی سی تکلیف بھی برداشت نہیں کرسکتے اور معمولی تکلیف آنے پر بھی توحید کو چھور بیٹھتے ہیں۔ (خصوصیت) ۔ فانجینہ واصحب السفینۃ وجعلنہا ایۃ للعلمین۔ مصائب و مشکلات میں کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ 5 ۔ انما تعبدون من دون اللہ۔ تا۔ الیہ ترجعون۔ نفی شرک فی التصرف۔ 6 ۔ و قال انما تخذتم من دون اللہ۔ تا۔ ومالکم من نصرین۔ (رکوع 3) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 7 ۔ ولما ان جاءت رسلنا۔ تا۔ کانت من الغبرین (رکوع 4) ۔ نفی علم غیب و تصرف از لوط علیہ الصلوۃ والسلام۔ 8 ۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ۔ تا۔ لوکانو یعلمون۔ نفی تصرف و اختیار از معبودانِ باطلہ۔ 9 ۔ ان اللہ یعلم۔ تا۔ وھو العزیز الحکیم۔ نفی شرک فی العلم۔ 10 ۔ خلق اللہ السموت۔ تا۔ لایۃ للمومنین۔ نفی شرک فی التصرف۔ 11 ۔ اتل ما اوحی الیک من الکتب (رکوع 5) ۔ قرآن کے ذریعہ سے مسئلہ توحید بیان کرتے رہئے۔ 12 ۔ ولئن سالتھم من خلق السموت۔ تا۔ بل اکثرھم لا یعقلون (رکوع 6) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 13 ۔ فاذا رکبوا فی الفلک۔ تا۔ فسوف یعلمون (رکوع 7) ۔ جب کشتیوں کو خطرے میں دیکھتے ہیں تو ہر طرف سے مایوس ہو کر خالص اللہ کو پکارتے ہیں۔ (خصوصیت) ۔ سورٔ عنکبوت ختم ہوئی