30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsجواھر القرآن

Ayah 30:41

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

پھیل پڑی ہے32 خرابی جنگل میں اور دریا میں لوگوں کے ہاتھ کی کمائی سے چکھانا چاہیے ان کو کچھ مزہ ان کے کام کا تاکہ وہ پھر آئیں

32:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ دنیا میں جو شر و فساد بپا ہوتا ہے اور مصائب و بلیات کے جو طوفان آتے ہیں اس کی وجہ لوگوں کی بد اعمالیاں ہیں یہ شرک، یہ معاصی اور یہ عصیان و طغیان ہی دنیا میں سارے فساد کی جڑ (بما کسبت ایدی الناس) بسبب معاصیہم و شرکہم (مدارک ج 3 ص 210) ۔ شرک و معاصی کی وجہ سے گناہوں کا وبال دنیا میں بھی ان پر آتا ہے تاکہ وہ شرک و عصیان سے باز آجائیں۔
Ayah 30:42

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

تو کہہ پھرو33 ملک میں تو دیکھو کیسا ہوا انجام پہلوں کا2 بہت ان میں تھے شرک کرنے والے

33:۔ یہ تخویف دنیوی ہے شرک و معاصی کے وبال کا انجام دیکھنا ہو تو زمین میں چل پھر کر گذشتہ زمانے کے معاندین کی ہلاکت و تباہی کے آثار دیکھو۔ وہ بھی مشرک ہی تھے اور نہوں نے توحید کا پیغام لانے والوں کو جھٹلایا اور دعوت توحید کو قبول نہ کیا تو دنیا ہی میں ان کو ذلت آمیز اور رسوا کن عذاب سے ہلاک کردیا گیا۔
Ayah 30:43

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

سو تو سیدھا رکھ34 اپنا منہ سیدھی راہ پر اس سے پہلے کہ آپہنچے وہ دن جس کو پھرنا نہیں اللہ کی طرف سے اس دن لوگ جدا جدا ہوں گے

34:۔ یہ پہلے فاقم وجہک الخ کے مضمون کا اعادہ اور اس کی تاکید ہے۔ قیامت کا دن جو لا محالہ آ کر رہے گا اور کسی کے روکے سے رک نہیں سکے گا اس کی آمد سے پہلے توحید پر قائم ہوجاؤ۔ دنیا میں توحید کو مان لینا آخرت میں فائدہ دے گا لیکن آخرت کا ایمان و یقین بےسود ہوگا۔ یومئذ یصدعون وہاں تو مومنوں اور مشرکوں کو الگ الگ کردیا جائے گا فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر من کفر فعلیہ الخ، یہ تخویف اخروی ہے جس نے دنیا میں کفر و شرک اختیار کیا آخرت میں اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ ومن عمل صالحا الخ۔ یہ بشارت اخروی ہے اور جن لوگوں نے دنیا میں توحید کو مان لیا اور اعمال صالحہ بجا لائے وہ اپنی ہی آخرت سنوار رہے ہیں۔ لیجزی الذین الخ یہ ماقبل کی علت ہے۔ وہ نیک عمل اس لیے کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کو آخرت میں ثواب جمیل اور جزائے جزیل عطا فرمائے۔ انہ لایحب الکافرین اس کی رضاء و محبت صرف ایمان والوں کے لیے کافر و مشرک اس کے غضب و سخط کے مستحق اور اس کی محبت سے محروم ہیں۔
Ayahs 30:44–46

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جو منکر ہوا سو اس پر پڑے اس کا منکر ہونا اور جو کوئی کرے بھلے کام سو وہ اپنی راہ سنوارتے ہیں

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

تاکہ وہ بدلہ دے ان کو جو یقین لائے اور کام کئے بھلے اپنے فضل سے بیشک اس کو نہیں بھاتے انکار والے

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں35 ایک یہ ہے کہ چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والیاں اور تاکہ چکھائے تم کو کچھ مزہ اپنی مہربانی کا اور تاکہ چلیں جہاز اس کے حکم سے اور تاکہ تلاش کرو اس کے فضل سے اور تاکہ تم حق مانو

ف 35 یہ توحید پر گیارہویں عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت اور اس کی وحدانیت کہ ایک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ بارانِ رحمت کی خوشخبری لانے والی ہوائیں چلاتا ہے اور بارانِ رحمت سے سرسبز و شاداب اور لہلہاتے کھیت اگاتا ہے۔ اللہ کے حکم سے ہوا بادبانی کشتیوں کو ادھر سے ادھر لیجاتی ہے جس سے ہم آسانی سے سفر کرتے ہیں اور تجارتی سفروں میں نفع کماتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اس کے ساتھ شرک نہ کریں۔
Ayah 30:47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور ہم بھیج چکے ہیں36 تجھ سے پہلے کتنے رسول اپنی اپنی قوم کے پاس سو پہنچے ان کے پاس نشانیاں لے کر پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے جو گناہ گار تھے اور حق ہے ہم پر مدد ایمان والوں کی

36:۔ یہ مشرکین کے لیے تخویف دنیوی ہے، مومنین کے لیے بشارت دنیوی اور آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے مشرکین مکہ نے آپ کے ساتھ عند و تکذیب کا جو رویہ اختیار کر رکھا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ آپ سے پہلے بھی جو انبیاء و رسل (علیہم السلام) دلائل وبینات لے کر اپنی وموں کے پاس گئے ان کے ساتھ ان کی اقوام نے بھی یہی سلوک کیا آخر ہم نے مجرمین کو ہلاک کردیا اور ایمان والوں کو بچا لیا۔ وکان حق علینا نصر المومنین یہ وعدہ نصرت کا اعادہ ہے جس کا ابتدائے سورت میں وعد اللہ لا یخلف اللہ وعدہ سے ذکر کیا گیا۔ یعنی میرا وعدہ ہے کہ اگر تم توحید پر قائم رہو گے اور اس کی خاطر مصائب کا مقابلہ کرتے رہو گے تو میں تمہیں فتح دوں گا۔ ایمان والوں کی امداد و نصرت تو میں نے محض اپنے فضل سے اپنے ذمہ لے رکھی ہے اس لیے آخر مشرکین مکہ مغلوب ہوں گے اور آپ کو ان پر غلبہ حاصل ہوگا۔
Ayah 30:48

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ ہے37 جو چلاتا ہے ہوائیں پھر وہ اٹھاتی ہیں بادل کو پھر پھیلا دیتا ہے اس کو آسمان میں جس طرح چاہے اور رکھتا ہے اس کو تہ بہ تہ پھر تو دیکھے مینہ کو کہ نکلتا ہے اسکے بیچ میں سے پھر جب اس کو پہنچاتا ہے جس کو کہ چاہتا ہے اپنے بندوں میں تبھی وہ لگتے ہیں خوشیاں کرنے

37:۔ یہ توحید پر بارہویں عقلی دلیل ہے۔ اور دلیل مذکور کے ایک جزو کی تفصیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو ہانک کر اللہ کے حکم سے آسمانی فضا میں پھیلا دیتی ہیں اور بادلوں کے ٹکڑوں کو دنیا کے مختلف خطوں پر لیجاتی ہیں اور سب دیکھتے ہیں کہ اللہ کی قدرت سے ان بادلوں کے بیچ میں سے بارش برس رہی ہے۔ جہاں بارش ہوجاتی ہے وہاں کے لوگ خوشی سے پھولے نہیں سماتے وان کانو الخ، ان مخففہ من المثقلۃ ہے اور اس کا اسم ضمیر شان مقدر ہے۔ حالانکہ بارش برسنے سے پہلے وہ ناامید ہوچکے ہوتے ہیں کہ اب بارش نہیں ہوگی، فصلیں تباہ ہوجائیں گی اور مویشی پیاش سے مرجائیں گے۔ من قبلہ کا اعادہ تاکید کے لیے ہے (روح) لیکن حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں قبلہ کی ضمیر وقت سے کنایہ ہے ای من قبل ھذا الوقت یعنی ان دنوں میں بارش ہونے سے پہلے وہ لوگ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں اس صورت میں تکرار و اعادہ نہیں ہوگا۔
Ayahs 30:49–50

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اور پہلے سے ہو رہے تھے اسکے اترنے سے پہلے ہی ناامید

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

سو دیکھ لے38 اللہ کی مہربانی کی نشانیاں کیونکر زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مرگئے پیچھے بیشک وہی ہے مردوں کو زندہ کرنے والا اور وہ ہر چیز کرسکتا ہے

38:۔ یعنی باران رحمت پر رحمت الٰہی کے جو آثار مرتب ہوتے ہیں انہیں غور سے دیکھو کس طرح خشک اور بنجر زمین کو اس نے حیات نو، رونق اور شادابی عطا فرمائی یہ اس کی قدرت و صنعت اور اس کی عظمت ووحدانیت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ ان ذلک لمحی الموتی۔ جملہ معترضہ ہے یعنی اس دلیل سے جہاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ظاہر ہوتی ہے وہاں اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو تازگی اور زندگی عطا کرسکتا ہے وہ قیامت کے دن مردوں کو بھی دوبارہ زندہ کرلے گا۔ وھو علی کل شیء قدیر۔ یہ ماقبل کے لیے علت ہے وہ چونکہ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کی قدرت تمام ممکنات پر حاوی ہے اس لیے وہ حشر و نشر پر قادر ہے۔
Ayah 30:51

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم بھیجیں39 ایک ہوا پھر دیکھیں وہ کھیتی کو کہ زرد پڑگئی تو لگیں اس کے پیچھے ناشکری کرنے

39:۔ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ یہ مشرکین انتہائی عناد و مکابرہ کا بیان ہے انعامات یاد دلانے سے وہ کب ماننے والے ہیں۔ وہ ضد وعناد میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ اگر ہم ان کے سرسبز و شاداب اور لہلہاتے کھیتوں پر کوئی آفت سماوی مثلاً سخت گرم ہوا وغیرہ بھیج دیں اور ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ان کے لہلہاتے کھیت سوکھ کر زرد ہوجائیں تو بھی وہ کفر و جحود اور انکار و تکذیب پر اڑے رہیں گے اور ان کے دلوں میں تسلیم وانابت کا جذبہ پیدا نہیں ہوگا۔
Ayahs 30:52–53

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

سو تو سنا نہیں سکتا مردوں کو اور نہیں سنا سکتا بہروں کو پکارنا جبکہ پھریں پیٹھ دے کر

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ تو راہ سجھائے40 اندھوں کو ان کے بھٹکنے سے تو تو سنائے اسی کو جو یقین لائے ہماری باتوں پر، سو وہ مسلمان ہوتے ہیں

40:۔ مشرکین کے عناد و مکابرہ کا ذکر کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی کہ ایسے واضح دلائل کے باوجود مشرکین انکار و تکذیب سے باز نہیں آرہے۔ آپ کے انذار و تبلیغ میں کوئی قصور نہیں ان کے دلوں پر ضد وعناد کی وجہ سے مہر جباریت لگ چکی ہے اب وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، اس لیے آپ ان کے نہ ماننے کی وجہ سے غمگین نہ ہوں۔ یہاں مشرکین کے لیے تین تمثیلیں ذکر کی گئی ہیں۔ اول، لاتسمع الموتی، یہ تو مردے ہیں اور مردوں کو آپ کسی طرح بھی اپنی بات نہیں سنوا سکتے۔ دوم، ولا تسمع الصم الخ، یہ تو بہرے ہیں اور بہرے بھی وہ جو آپ ہی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے بلکہ پیٹھ پھیر کر دور جا رہے ہیں بھلا ان کے کانوں میں آپ کی دعوت حق کس طرح پہنچے گی۔ سوم، وما انت بھدی العمی الخ، یہ تو اندھے ہیں اور آپ اندھوں کو ہرگز راستہ نہیں دکھلا سکتے حاصل یہ ہے کہ آپ کا کام تبلیغ وانذار ہے۔ یہ معاندین جو مہر جباریت کی وجہ سے اپنے دل کی حیات اور سمع و بصر کھوچکے ہیں ان کو راہ راست پر لانا آپ کے بس کی بات نہیں یہ آپ کی دعوت و تبلیغ کا اثر ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ ان تسمع الا من الخ البتہ آپ کی بات صرف وہی لوگ سنیں گے اور اس سے اثر قبول کریں گے جو ہماری آیتوں کو سن کر ان پر یقین کرنے اور ان کے سامنے تسلیم وانقیاد کا جذبہ رکھتے ہوں اور ان کے دلوں میں حق کو تلاش کرنے اور حق کو پالینے کے بعد اسے تسلیم کرنے کی سچی تڑپ ہو۔ تحقیق مسئلہ سماع موتی :۔ سماع موتی کا مسئلہ زمان صحابہ ؓ سے مختلف فیہ چلا آرہا ہے۔ یہ مسئلہ اعتقادات ضروریہ میں سے نہیں جن کی نفی یا اثبات پر کفر و اسلام کا مدار ہے بلکہ یہ ایک علمی اور تحقیقی بحث ہے جس میں بحث و تمحیص اور نظر و تحقیق کی گنجائش ہے۔ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کے علماء کے درمیان اس مسئلہ میں ہمیشہ دو رائیں رہی ہیں۔ کچھ علماء کرام کی یہ رائے رہی ہے کہ مردے سنتے ہیں جبکہ دوسرے علماء نے اپنی تحقیق کی بنا پر سماع موتی کی نفی کی ہے۔ علماء کرام کی ان دونوں جماعتوں کے پاس دلائل ہیں جن پر انہوں نے اپنی اپنی رائے اور تحقیق کی بنیادیں استوار کی ہیں۔ جو علماء سماع موتی کی نفی کرتے ہیں ان کا استدلال ظواہر قرآن اور احادیث صحیحہ سے ہے جبکہ قائلین سماع بھی صحیح حدیثوں سے استدلال کرتے ہیں۔ نفی سماع موتی کے دلائل : نفی سماع موتی پر قرآن مجید کی تین آیتیں دلیل وحجت ہیں ان آیتوں کو وقتاً فوقتا صحابہ کرام ؓ سے لے کر آج تک نفی سماع پر بطور دلیل وبرہان پیش کیا جاتا رہا ہے۔ پہلی آیت انک لا تسمع الموتی ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولو مدبرین (نمل رکوع 6) ۔ دوسری آیت یہی ہے جو اس وقت زیر بحث ہے۔ تیسری آیت ان اللہ یسمع من یشاء وما انت بمسمع من فی القبور (فاطر رکوع 3) ۔ سب سے پہلے حجرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ان آیتوں سے سماع موتی کی نفی پر استدلال فرمایا جیسا کہ صحیح بخاری میں موجود ہے تفصیل آگے آرہی ہے۔ علاوہ ازیں تمام فقہاء و مجتہدین نے بھی ان آیتوں کو نفی سماع پر بطور دلیل پیش کیا ہے۔ بطور مثال علامہ ابن ہمام مؤلف فتح القدیر کی تصریح ملاحظہ ہو۔ علامہ موصوف ان آیتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ان آیتوں سے سماع موتی کی نفی کی تحقیق مستفاد ہوتی ہے کیونکہ ان میں کفار کو موتی سے تشبیہ دی گئی ہے اس بنا پر کہ کفار کو حق سنانا متعذر ہے اور یہ سماع موتی کی نفی پر متفرع ہے ورنہ تشبیہ صحیح نہیں ہوگی۔ اصل عبارت یہ ہے۔ فنہما یفیدان تحقیق عدم سماعھم فانہ تعالیٰ شبہ الکفار بالموتی لا فادۃ تعذر سماعھم وفرع عدم سماع الموتی (فتح القدیر ج 1 ص 447) اور اس سے تھوڑا سا پہلے مشائخ حنفیہ کا مسلک بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں وعندی مبنی ارتکاب ھذا المجاز ھنا عند اکثر مشائخنا ھو ان المیت لا یسمع عندہم لانہا (الیمین) تنعقد علی ما بحیث یفہم والمیت لیس کذلک لعدم السماع (فتح القدیر ج 4 ص 100) ۔ قائلین سماع موتی کی طرف سے ان آیتوں کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ان میں اسماع (سنانے) کی نفی ہے سماع (سننے) کی نفی نہیں۔ اور اختلاف سماع میں ہے نہ کہ اسماع میں کیونکہ اسماع کی نفی پر تو سب متفق ہیں۔ دوسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ان آیتوں میں کفار کو مردوں کے ساتھ تشبیہ عدم استفادہ میں دی گئی ہے نہ کہ عدم سماع میں اور مطلب یہ ہے کہ مردے زائر کا کلام سن لینے کے باوجود اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے اسی طرح کفار بھی سن تو لیتے ہیں لیکن اس سے استفادہ نہیں کرتے ان دونوں جوابوں کا جواب یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اور تمام فقہائے حنفیہ نے ان سے عدم سماع موتی پر استدلال کیا ہے اور یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ آیتیں اسماع کے ساتھ ساتھ سماع کی بھی نفی کر رہی ہیں اور تشبیہ عدم استفادہ میں نہیں بلکہ عدم سماع میں ہے۔ نیز سماع، اسماع کا مطاوع ہے اس لیے اسماع کی نفی یا اثبات سماع کی نفی اور اثبات کو مستلزم ہے۔ ان آیتوں میں جب اسماع کی نفی کی گئی تو سماع کی بھی نفی ہوگئی۔ سماع موتی کے دلائل اور ان کا جواب : قائلین سماع موتی کی سب سے قوی دلیل قلیب بدر والی حدیث ہے جو صحیحین میں ہے۔ حضرت ابو طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر کےحضور ﷺ نے صنادید قریش کی لاشیں ایک ویران کنویں میں پھنکوا دیں اور کنویں کی منڈیر پر کھڑے ہو کر صنادید قریش کو نام بنام مخاطب کر کے فرمایا الیس قد و جدتم ما وعد ربکم حقا فانی قد وجدت ما وعد ربی حقا۔ اس پر حضرت عمر ؓ بول اٹھے یا رسول اللہ آپ بےجان اور بےروح اجساد سے کس طرح گفتگو فرما رہے ہیں ؟ آپ نے جواب میں فرمایا ما انتم باسمع لما اقول منھم۔ یہ روایت صحیح ہے اور اس سے قلیب بدر کے مردوں کا سماع صراحت سے ثابت ہو رہا ہے۔ جواب :۔ اس حدیث سے سماع موتی پر استدلال کئی وجوہ سے درست نہیں۔ اول اس لیے کہ حضرت عائشہ ؓ نے قرآن کی دو آیتیں پیش کر کے اس حدیث سے سماع موتی پر استدلال کو رد کیا ہے جیسا کہ صحیح حدیثوں میں ہے کہ جب یہ حدیث ان کے سامنے ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا کیف یقول رسول اللہ ﷺ ذلک واللہ تعالیٰ یقول وما انت بمسمع من فی القبور، انک لا تسمع الوتی، یعنی یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہحضور ﷺ قرآن مجید کے خلاف لب کشائی فرمائیں جب کہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے وما انت بمسمع من فی القبور الخ تم مردوں کو اپنی باتیں سنانے کی قدرت نہیں رکھتے ہو۔ بعض روایتوں میں ہے کہ حضرت صدیقہ نے یہاں سماع کو علم پر محمول فرمایا ہے۔ اقول انما قال انھم الان لیعلمون ان ماکنت اقول لھم حق، (صحیح بخاری ص 567) ۔ یعنیحضور ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ اب انہیں یقین ہوچکا ہے کہ دنیا میں جو کچھ ان سے کہا کرتا تھا وہ حق تھا۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) فرماتے ہیں چونکہ اس حدیث میں حضرت صدیقہ ؓ نے سماع کی تفسیر علم سے کی ہے اس لیے اس حدیث سماع موتی پر استدلال صحیح نہیں۔ حوالہ آگے آرہا ہے۔ دوم : یہ آنحضرت ﷺ کی خصوصیت اور آپ کا معجزہ تھا اس لیے اسے عموم پر محمول کر کے اس سے سماع موتی عموماً ثابت کرنا صحیح نہیں وما وقع فی حدیث بی طلحۃ ؓ یجوز ان یکون معجزۃ لہ ﷺ وھو مراد من قال انہ من خصوصیات خصوصیاتہ (علیہ الصلوۃ والسلام) وھی من خوارق العادۃ (روح ج 21 ص 56) ۔ سوم : حضرت ابو قتادہ ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قلیب بدر کے مردوں میں زندگی پیدا کر کےحضور ﷺ کا کلام ان کو سنوادیا تھا تاکہ ان کی حسرت و ندامت میں اضافہ ہو اس لیے سماع موتی پر اس سے استدلال درست نہیں۔ قال ابو قتادۃ احیاھم اللہ تعالیٰ یعنی اھل الطوی حتی اسمعہم قولہ ﷺ توبیخا وتصغیر ونقمۃ و حسرۃ و ندما (صحیح بخاری ص 566، روح ج 21 ص 56) ۔ چہارم :۔ اس خطاب سے مردوں کو سنانا اور سمجھانا مقصود نہ تھا بلکہ زندوں کو نصیحت کرنا اور عبرت دلانا مقصود تھا جیسا کہ حضرت علی ؓ قبرستان میں گئے تو مردوں سے مخاطب ہو کر زندوں کی عبرت کے لیے بند و نصیحت کی باتیں فرمائیں۔ انہ انما قالہ علی وجہ الوعظۃ للاحیاء لا لافھام الموتی کما روی عن علی ؓ انہ قال السلام علیکم دار قوم مومنین اما نساء کم فنکحت و اما اموالکم فقسمت واما دورکم فسکنت فہذا خبرکم عندنا فما خبرنا عندکم (فتح القدیر ج 4 ص 100) ۔ دوسری دلیل : قائلین سماع موتی کی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جو صحیح میں ہے۔ ان العبد اذا وضع فی قبرہ و تولی عنہ اصحابہ انہ یسمع قرع نعالہم اذا انصرفوا اذا اتاہ ملکان الحدیث اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب لوگ میت کو دفن کر کے واپس مڑتے ہیں تو میت ان کے پاؤں کی آہٹ بھی سنتی ہے۔ جواب : اس حدیث سے بھی عموم احوال واوقات میں سماع موتی کے ثبو پر استدلال صحیح نہیں۔ یہ سماع ابتدائے دفن کے ساتھ مختص ہے تاکہ اس حدیث میں اور ان آیتوں میں مطابقت ہوجائے جو عدم سماع پر دلالت کرتی ہیں۔ اللہم الا ان یخصوا ذلک باول الوضع فی القبر مقدمۃ للسوال جمعا بینہ وبین الایتیں فنہما یفید ان تحقیق عدم سماعہم (فتح القدیر ج 1 ص 447) ۔ اس حدیث کا دوسرا جواب : شیخ المشائخ مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) سے منقول ہے انہوں نے فرمایا لیسمع مضارع مجہول کا صیغہ ہے اور قرع نعالہم اس کا نائب فاعل ہے اور مطلب یہ ہے کہ لوگ میت کو دفن کر کے جب واپس مڑتے ہیں تو وہ قبر سے ابھی صرف اتنے ہی فاصلے پر پہنچتے ہیں کہ قبر کے پاس سے ان کیجوتیوں کی آواز سنی جاسکتی ہے کہ منکر و نکیر سوال کے لیے آجاتے ہیں۔ اس طرح اس حدیث کو سماع موتی کے ساتھ کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ تیسری دلیل : بیہقی اور حاکم نے روایت کی ہے کہ جبحضور ﷺ احد سے واپس ہوئے تو بعض شہداء کی قبروں پر کھڑے ہو کر فرمایا تم اللہ کے وہاں زندہ ہو پھر ساتھیوں سے فرمایا ان کی قبروں پر آ کر انہیں سلام کیا کرو۔ فوالذی نفسی بیدہ لا یسلم علیہم احد الا ردوا علیہ الی یوم القیامۃ۔ حاکم نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حاکم متساہل ہے اس لیے اس کی تصحیح قابل اعتبار نہیں انا لانسلم صحتہ و تصحیح الحاکم محکوم علیہ بعدم الاعتبار (روح ج 21 ص 57) ۔ چوتھی دلیل :۔ ابن عبدالبر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہحضور ﷺ نے فرمایا۔ مامن احد یمر بقبر اخیہ المومن کان یعرفہ فی الدنیا یسلم (علیہ السلام) الا عرفہ و رد علیہ۔ عبدالحق اشبیلی نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اشبیلی کی تصحیح پر حافظ ابن رجب نے اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف بلکہ منکر ہے۔ وقیل فی حدیث ابن عبدالبر ان عبدالحق وان قال اسنادہ صحیح الا ان الحافظ ابن رجب تعقبہ وقال انہ ضعیف بل منکر (روح) ۔ جن صحیح روایتوں سے بعض احوال میں میت کا سماع ثابت ہوتا ہے ان سب کا ایک جامع جواب یہ ہے کہ سماع موتی کا تعلق احوال برزخ سے ہے اور احوال برزخ کا علم وحی کے سوا ممکن نہیں اس لیے ظابطہ تو یہی ہے کہ مردے نہیں سنتے لیکن جب بعض احوال میں مردوں کے سننے کی بعض احادیث میں صراحت ہے وہ اپنے احوال و موارد کے ساتھ مخصوص ہونگی اور اس سے عموم احوال میں سماع موتی پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہوگا۔ فقہاء حنفیہ کے انداز بیان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ جن روایتوں میں سماع موتی کا ذکر ہے وہ ان کی توجیہ کرتے ہیں جیسا کہ گذشتہ عبارتوں سے معلوم ہوا اور ضابطہ عدم سماع کو برقرار رکھتے ہیں اکابر علماء دیوبند میں سے حضرت گنگوہی، حضرت علامہ انور شاہ صاحب اور حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہم اللہ تعالیٰ بھی عدم سماع کو ترجیح دیتے اور اسی کو ظابطہ قرار دیتے ہیں۔ حضرت گنگوہی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں فسرتہ بہ عائشۃ فلا یکون دلیلا علی السماع فالظاہر عدم السماع وھو الاصح عندنا (الکوکب الدری ج ) ۔ حضرت علامہ انور شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ ان الضابطۃ انما ھو عدم السماع لکن المستثنیات فی ھذا الباب کثیرۃ (فتح الملہم ج 2 ص 479) ۔ قدوۃ المفسرین علامہ سید محمود آلوسی حنفی بھی اس کی تصریح فرماتے ہیں کہ سماع موتی اپنے مورد کے ساتھ مخصوص ہے وہ فرماتے ہیں ولا یلزم من وجود ذلک التعلق والقول بوجود قوۃ السمع و نحوہ فیہا نفسہا ان تسمع کل مسموع لما ان السماع مطلقا وکذا سائر الاحساسات لیس الا تابعا للمشیئۃ فما شاء اللہ کان و مالم یشاء لم یکن فیقتصر علی القول بسماع ما ورد السمع بسماعہ من السلام ونحوہ وھذ الوجہ ھو الذی یترجح عندی (روح ج 21 ص 58) ۔ بعض بزرگوں نے علامہ آلوسی کی یہ عبارت ادھوری نقل کر کے قائلین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ علامہ موصوف مطلقا سماع موتی کے قائم ہیں حالانکہ ان کی پوری عبارت سامنے رکھنے سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ وہ سماع موتی کو صرف انہی احوال میں منصحر مانتے ہیں جن میں سماع حدیثوں میں وارد ہوا ہے اور تمام احوال میں تمام مسموعات کے سماع کو نہیں مانتے اور حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) سورة روم میں آیت زیر تفسیر پر لکھتے ہیں۔ یعنی تم یہ نہیں کرسکتے کہ کچھ بولو اور اپنی آواز مردے کو سنا دو کیونکہ یہ چیز ظاہری اور عادی اسباب کے خلاف ہے البتہ حق تعالیٰ کی قدرت سے ظاہری اسباب کے خلاف تمہاری کوئی بات مردہ سن لے اس کا انکار کوئی مومن نہیں کرسکتا اب نصوص سے جان باتوں کا اس غیر معمولی طریقہ سے سننا ثابت ہوجائے گا اسی حد تک ہم کو سماع موتی کا قائل ہونا چاہیے۔ محض قیاس کر کے دوسری باتوں کو سماع کے تحت میں نہیں لاسکتے۔ الخ۔ ایک جگہ علامہ آلوسی سماع موتی فی الجملہ کی توجیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ چاہے میت کے بعض اجزاء میں سننے کی قوت پیدا کردے اور جو بات چاہے اسے سنا دے۔ ان یخلق اللہ عز و جل فی بعض اجزاء المیت قوۃ یسمع بھا متی شاء اللہ تعالیی السلام و نحوہ مما یشاء اللہ سبحانہ اسماعہ ایاہ (روح ج 21 ص 57) ۔ ان اکابر مشائخ رحمہم اللہ تعالیٰ کی تصریحات سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اصل ضابطہ عدم سماع موتی ہی ہے، البتہ اگر اللہ چاہے تو کوئی بات ظاہری اسباب کے بغیر انہیں سنوا دے تو یہ ممکن ہے۔ حاصل کلام یہ ہے جن احوال میں صحیح اور صریح حدیثوں سے سماع ثابت ہے ان کے علاوہ ہر جگہ سماع موتی کی نفی کی جائے گی۔ اور سماع والی جن حدیثوں کی توجیہ ہوسکتی ہے ان کی مناسب توجیہ کردی جائے گی جیسا کہ قلیب بدر والی حدیث ہے۔ اختلاف کا منشا : حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا احناف اور شوافع کے درمیان اختلاف کا اصل منشا یہ ہے کہ مستر ارواح یعنی علیین اور سجین قبر کے پاس ہے یہ قبر سے دور۔ جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ ارواح قبروں کے پاس ہی اخنیۃ القبور میں رہتے ہیں اور علیین اور سجین قبروں کے پاس ہی ہیں وہ سماع موتی کے قائل ہیں لیکن امام صاحب فرماتے علیین اور سجین دو ایسے مقام ہیں جو قبروں کے پاس نہیں بلکہ ان سے بہت دور ہیں اس لیے مردے نہیں سنتے کیونکہ سننا روح پر موقوف ہے اور قبر میں یا قبر کے قرب و جوار میں روح موجود نہیں بلکہ صرف دھڑ ہے اس لیے وہ نہیں سن سکتا جیسا کہ حضرت شاہ عبدالقادر (رح) تعالیٰ سورة فاطر کی آیت ما انت بمسمع من فی القبور پر لکھتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ مردوں سے سلام علیک کرو وہ سنتے ہیں اور بہت جگہ مردے کو خطاب کیا ہے اس کی حقیقت یہ کہ مردے کی روح سنتی ہے اور قبر میں پڑا ہے دھڑ وہ نہیں سن سکتا۔ یعنی روح جہاں بھی ہوگی اللہ تعالیی زائر کا سلام اس کو پہنچا دے گا۔ حدیث معراج میں وارد ہے کہ جب حضور نبی اکرم ﷺ آسمان پر تشریف لے گئے تو آپ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے یمن کی جانب ارواح صلحاء ہیں اور شمال کی جانب ارواح اشقیاء جب وہ دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں لیکن جب بائیں طرف ان کی نظر اٹھتی ہے تو غمگین ہوجاتے ہیں یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ارواح اموت قبروں کے قریب نہیں ہوتے۔ ارواح کے قبروں کے پاس افنیۃ القبور میں نہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جن بزرگان دین اور صلحاء امت کے مزاروں پر لوگ جمع ہو کر مشرکانہ رسوم بجا لاتے ہیں اور قبروں پر جا کر ان کو پکارتے اور ان کے نام کی نذریں دیتے ہیں قیامت کے دن وہ صاف صاف اعلان کریں گے کفی باللہ شہیدا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغفلین (یونس رکوع 3) ۔ یعنی خدا شاہد ہے کہ ہمارے مزاروں پر تم جو مشرکانہ کام کرتے رہے ہم ان سے بالکلیہ بیخبر تھے اور ہمیں پتہ بھی نہ تھا کہ تم کیا کر رہے ہو۔ اگر ان کی ارواح قبروں میں ہوں تو انہیں زائرین کے تمام احوال معلوم ہونے چاہئیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں فالقول الثابت ان اجزاء البدن من المیت لا سماع لھا ولا شعور ولا فرح ولا سرور فی البرزخ الخ (تحریرات ص 210) ۔ یعنی میت کے اجزاء بدن میں حس و شعور نہیں اور نہ وہ سنتے ہیں۔ رہا یہ کہ حدیثوں میں آتا ہے کہ منکر و نکیر قبر میں آ کر میت کو بٹھاتے اور اس سے سوالات پوچھتے ہیں اسی طرح نیک لوگوں کو قبر میں فرح و سرور اور بدکاروں کو عذاب ہوتا ہے پھر اس کا کیا مطلب ہوگا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قبر سے یہ گڑھا مراد نہیں بلکہ اس سے عالم برزخ مراد ہے۔ اور میت کو بٹھانا اور اس سے سوال کرنا وغیرہ برزخی امور ہیں جنہیں محسوسات پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ فعند الحنفیۃ الجسد میت لا یسمع فما ورد من وسعۃ القبر والاجلاس یقولون المراد بالقبر البرزخ و من الاجلاس و من عود الروح وسعۃ القبر و ضرب المرزبۃ وسماع الاصوات ھو امر یغایر المھسوسات لحواسنا الظاھریۃ الخ (تحریرات ص 208) ۔ عود وروح کے بارے میں حضرت شیخ قدس سرہ کی تحقیق یہ ہے کہ برزخ میں لذت و الم اور سرور و عذاب کا احساس روح کو ہرگز نہیں ہوتا روح ایک ایسی چیز ہے جو احساس الم سے ماوراء ہے اسے تکلیف تو کسی حال میں نہیں ہوتی البتہ اسے لذت و سرور کا احساس ضرور ہوتا ہے۔ احساس الم نفس کو ہوتا ہے جو روح سے ایک جدا چیز ہے البتہ روح سے اس کا گہرا تعلق ہے جیسا کہ دھوئیں کا آگ سے۔ یہ نفس دبدن کا جزو اصلی ہے جو ابتداء سے آخر تک باقی رہتا ہے۔ یہی وہ نسمہ ہے جسے جنت میں پرندے کے قالب میں داخل کیا جائے گا۔ قلت ھذا المعبر بالجزء الباقی من البدن ھو النفس و ھی شبیھۃ بالروح ممازجۃ ملازمۃ لھا کالدخان للنار فھی المتالمہ المتلذذۃ واما الروح فلا تتالم اصلاح ولا تتلذذ بغیر ذکر و عز من یفرق بینہما (ایضا ص 209) ۔
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ ہے جس نے41 بنایا تم کو کمزوری سے پھر دیا کمزوری کے پیچھے زور پھر دے گا زور کے پیچھے کمزوری اور سفید بال بناتا ہے جو کچھ چاہے اور وہ ہے سب کچھ جانتا کرسکتا

41:۔ یہ توحید پر تیرہویں عقلی دلیل ہے۔ اے بنی آدم اپنی پیدائش کے مختلف اطوار و ادوار دیکھو جب تم پیدا ہوئے اس وقت تم ہر لحاظ سے کمزور تھے۔ بچپن کے بعد عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ بدن میں قوت بھی بڑھتی گئی یہاں تک کہ عین عالم شباب میں تمہاری بدنی قوت بھی عروج کو پہنچ گئی۔ اس کے بعد عمر ڈھلنا شروع ہوئی تو قوت میں ضعف نمودار ہونے لگا۔ یہاں تک کہ ضعف کی آخری حد بڑھاپے تک پہنچ گئے۔ یہ قوت و ضعف، جوانی و بڑھاپا سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ وھو العلیم القدیر اور وہی سب کچھ جاننے والا اور وہی سب کچھ کرنے والا ہے لہذا وہی سب کا کارساز اور حاجت روا ہے اور اس کے سوا کوئی دعاء اور پکار کے لائق نہیں۔
Ayah 30:55

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس دن قائم ہوگی قیامت42 قسمیں کھائیں گے گناہ گار کہ ہم نہیں رہے تھے ایک گھڑی سے زیادہ اسی طرح تھے الٹے جاتے

42:۔ یہ تخویف دنیوی ہے قیامت کے دن مجرمین قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ قبروں میں وہ ایک ساعت سے زیادہ نہیں ٹھہرے قیامت کی ہولناکی کے باعث انہیں یہ بھی یاد نہیں رہے گا کہ وہ قبروں میں بہت طویل عرصہ ٹھہرے ہیں۔ کذلک کانو یوفکون جس طرح وہ قیامت میں صحیح بات نہیں بتا سکیں گے اسی طرح دنیا میں بھی حق سے پھیر دئیے جاتے تھے اور باطل کی پیروی کرتے تھے۔ یصرفون من الحق الی الباطل و من الصدق الی الکذب (کبیر ج 6 ص 728) ۔
Ayah 30:56

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور کہیں گے جن کو43 ملی ہے سمجھ اور یقین تمہارا ٹھہرنا تھا اللہ کی کتاب میں جی اٹھنے کے دن تک سو یہ ہے جی اٹھنے کا دن پر تم نہیں تھے جانتے

43:۔ لیکن جو لوگ دنیا میں علم و ایمان کی دولت سے بہرہ ور تھے وہ کہیں گے تم اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق قیامت تک کا طویل عرصہ قبروں میں رہے ہو اب قیامت قائم ہوچکی ہے اور آج قیامت ہی کا دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا لین تم اس کی آمد پر یقین نہیں کرتے تھے۔ اور اسے حق نہیں جانتے تھے۔ ولکنکم کنتم لا تعلمون انہ حق (روح ج 21 ص 61) ۔
Ayah 30:57

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

سو اس دن کام نہ آئے گا44 ان گناہ گاروں کو قصور بخشوانا اور نہ ان سے کوئی منانا چاہے

44:۔ قیامت کے دن مشرکین کے لیے کوئی عذر و بہانہ مفید ثابت نہ ہوگا، ان کی طرف سے کوئی معذرت قبول نہیں کی جائے گی اور نہ انہیں توبہ کر کے اور اپنے گناہوں کی تلافی کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا موقع ہی دیا جائے گا۔ ای لایطلب منہم الاعتاب وھو ازالۃ العتب یعنی التوبۃ التی تزیل اثار الجریمۃ لاتطلب منہم لانہا لا تقبل منہم (کبیر) ۔
Ayah 30:58

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور ہم نے بٹھلائی ہے آدمیوں کے واسطے45 اس قرآن میں ہر ایک طرح کی مثل اور جو تو لائے ان کے پاس کوئی آیت تو ضرور کہیں وہ منکر تم سب جھوٹ بناتے ہو

45:۔ یہ معاندین پر شکوی ہے یعنی ہم نے لوگوں کو ہر اسلوب اور ہر انداز کے ساتھ مسئلہ توحید، رسالت اور حشر و نشر کو واضح کر کے بیان کردیا ہے اس کے باوجود وہ نہیں مانتے ان کو تو اگر آپ کوئی عظیم الشان معجزہ بھی دکھا دیں تو یہ معاندین پھر یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو ہم تمہاری بات نہیں مانتے۔
Ayah 30:59

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

یوں مہر لگا دیتا ہے اللہ46 ان کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے

46:۔ کاف بمعنی لام تعلیلیہ ہے اور ذلک سے تکذیب کی طرف اشارہ ہے جو ماقبل سے مفہوم ہے یعنی ضد وعناد کی بنا پر تکذیب کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے معاندین کے دلوں پر مہرجباریت لگا دیتا ہے جو حق کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور اہواء و خرافات کی پیروی میں اپنی عمر کھو دیتے ہیں۔ لا یعلمون لا یطلبون العلم ولا یتحرون الھق بل یصرون علی خرافات اعتقدوھا وترھات ابتدعوہا (ابو السعود ج 6 ص 732) ۔
Ayah 30:60

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

سو تو قائم رہ47 بیشک اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے اور اکھاڑ نہ دیں تجھ کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے

47:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے اور وعدہ نصرت کا دوسری بار اعادہ ہے۔ اگر معاندین اتنے واضح بیانات کے باوجود انکار سے باز نہیں آتے تو آپ آزردہ خاطر اور ملول نہ ہوں، ان کی ایذاؤں پر صبر کریں اللہ تعالیٰ کا وعدہ نصرت حق ہے۔ اللہ تعالیٰ لا محالہ آپ کے دشمنوں کو ذلیل ورسوا اور مقہور و مغلوب کرے گا اور آپ کو اور آپ کے متبعین کو بدر میں ان پر فتح و غلبہ عطا فرمائے گا۔ ولا یستخفنک الخ ان منکرین توحید و رسالت اور جاحدین بعث و نشور کا معاندانہ رویہ آپ کی گھبراہٹ یا عجلت میں ان کے لیے بد دعا کرنے کا باعث نہ بننے پائے کیونکہ اگر وہ اسی ڈگر پر قائم رہے تو ہمارا عذاب ان پر آکر رہے گا۔ ای لایحملنک ھؤلاء الذین لا یوقنون بالاخرۃ علی الخفۃ والعجلۃ فی الدعاء علیہم بالعذاب او لا یحملنک علی الخفۃ والقلق جزعا مما یقولون و یفعلون (مدارک ج 3 ص 213) ۔ سورة روم میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ للہ الامر من قبل و من بعد۔ (رکوع 1) ۔ فتح و شکست اللہ کے اختیار میں ہے۔ 2 ۔ ولم یکن لھم من شرکائہم شفعاء۔ (رکوع 2) ۔ نفی شفاعت قہری۔ 3 ۔ ومن ایتہ ان خلقکم۔ تا۔ وھو العزیز الحکیم (رکوع 3) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 4 ۔ ضرب لکم مثلا من انفسکم الخ (رکوع 4) ۔ نفی تصرف و اختیار از معبودان باطلہ۔ 5 ۔ فاقم وجہک للدین حنیفا۔ تا۔ کل حزب بما لدیہم فرحون۔ توحید تمام پیغمبروں کا دین ہے۔ 6 ۔ اللہ الذی خلقکم۔ تا۔ سبحنہ و تعالیٰ عما یشرکون۔ نفی شرک فی التصرف۔ 7 ۔ ومن ایتہ ان یرسل الریاح۔ تا۔ و لعلکم تشکرون۔ (رکوع 5) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 8 ۔ اللہ الذی یرسل الریاح۔ تا۔ وھو علی کل شیء قدیر۔ نفی شرک فی التصرف۔ 9 ۔ کذلک یطبع اللہ الخ۔ جو لوگ حق واضح ہوجانے اور حجت خداوندی قائم ہوجانے کے بعد بھی محض ضد وعناد کی وجہ سے حق کو نہ مانیں ان کے دلوں پر مہر جباریت ثبت کر کے ان سے قبول حق کی توفیق و استعداد سلب کرلی جاتی ہے۔ سورة روم ختم ہوئی