36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 36:40–41

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ سورج سے ہو کہ پکڑلے چاند کو اور نہ رات آگے بڑھے دن سے اور ہر کوئی ایک چکر میں پھرتے ہیں

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ایک نشانی ہے ان کے واسطے28 کہ ہم نے اٹھا لیا ان کی نسل کو اس بھری ہوئی کشتی میں

28:۔ وایۃ لہم انا الخ :۔ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے۔ یہ بھی اللہ کی وحدانیت اور قدرت کاملہ کی دلیل ہے کہ ہم ان کو آدمیوں سے بھرپور کشتیوں میں سوار کر کے دریاؤں اور سمندروں سے صحیح سلامت پار اتارتے ہیں اور کشتیوں کے مانند اور بھی کئی چیزیں ہم نے ان کی سواری کیلئے پیدا کی ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں اس وقت ان کے مزعومہ کارساز ان کی فریاد رسی نہ کرسکیں اور نہ انہیں غرق ہونے سے بچا سکیں مگر یہ کہ ہم خود ہی اپنی مہربانی سے ان کو بچا لیں اور ایک معین وقت (وقت موت) تک انہیں دنیوی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی مہلت دیدیں۔ من مثلہ ما یرکبون سے مراد اونٹ ہیں جو خشکی میں سواری کے لیے پیدا کیے۔ روی عن ابن عباس ان معنی من مثلہ للابل خلقہا لہم للرکوب فی البر مثل السفن المرکوبۃ فی البحر (قرطبی ج 15 ص 35) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں سیاق آیت کی روشنی میں ممکن ہے کہ من مثلہ سے ٹلے (تلے) مراد ہوں۔ یعنی سرکنڈوں کے گٹھے جنہیں رسیوں سے مضبوط باندھ لیا جاتا ہے اور ان کے ذریعے سے تیر کر دریا کو عبور کرلیا جاتا ہے۔
Ayahs 36:42–45

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور بنا دیا ہم نے ان کے واسطے کشتی جیسی چیزوں کو جس پر سوار ہوتے ہیں

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبا دیں، پھر کوئی نہ پہنچے ان کی فریاد کو اور نہ چھڑائے جائیں

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر ہم اپنی مہربانی سے اور ان کا کام چلانے کو ایک وقت تک

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب کہیے ان کو ب29 چو اس سے جو تمہارے سامنے آتا ہے اور جو پیچھے چھوڑتے ہو شاید تم پر رحم ہو

29:۔ واذا قیل الخ :۔ چار دلیلوں کے بعد مشرکین پر شکوی ہے اور اذا کا جواب محذوف ہے، ای اعرضوا (روح) ۔ ما بین ایدیکم، اقوامِ سابقہ پر نازل ہونے والا عذاب، وما خلفکم آخرت کا عذاب (خازن، معالم) ۔ جب ازراہِ خیر خواہی ان سے کہا جائے کہ اقوام گذشتہ ایسے انجام سے ڈرو کہیں تم بھی عذاب الٰہی سے ہلاک نہ کر دئیے جاؤ اور آخرت کے عذاب سے ڈرو جو معاندین کے لیے تیار کیا گیا ہے یعنی ایمان لے آؤ تاکہ تم اللہ کی رحمت کے مستحق ہوجاؤ تو وہ ایسی پند و نصیحت سے اعراض کرتے ہیں۔
Ayah 36:46

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور کوئی حکم نہیں پہنچتا30 ان کو اپنے رب کے حکموں سے جس کو وہ ٹلاتے نہ ہوں

30:۔ وما تاتیہم الخ :۔ ان کی عادت ہی یہی ہے کہ جب بھی انہیں اللہ کی آیتیں، جو اس کی توحید اور کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، سنائی جاتی ہیں تو وہ ان سے اعراض کرتے ہیں۔ اور ان میں غور و فکر کر کے انہیں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ای ما ظہرت لہم ایۃ من الایات التی من جملتہا ما ذکر من شئونہ تعالیٰ الشاھدۃ بوحدانیتہ سبحانہ وتفردہ تعالیٰ بالالوھیۃ الا کانوا عنہا معرضین تارکین النظر الصیح فیہا المؤدی الی الایمان بہ عزو جل (روح ج 23 ص 29) ۔
Ayah 36:47

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب کہئے ان کو31 خرچ کرو کچھ اللہ کا دیا کہتے ہیں منکر ایمان والوں کو ہم کیوں کھلائیں ایسے کو کہ اللہ چاہتا تو اس کو کھلا دیتا2 تم لوگ تو بالکل بہک رہے ہو صریح

31:۔ واذا قیل الخ :۔ یہ شکوی ہے، اس سے معاندین کے عناد و تعنت کی طرف اشارہ ہے۔ جب ان سے کہا جاتا ہے۔ اللہ نے تمہیں جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں غرباء و مساکین کو بھی دیا کرو۔ قال الذین کفروا الخ، تو وہ ازراہِ عناد و تمسخر جواب دیتے ہیں کہ ہم اللہ کی مشیت اور اس کے معاملات میں دخل دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ غریبوں اور مسکینوں کو خود خدا ہی نے محتاج بنایا ہے اگر وہ چاہتا تو ان کو دولت مند بنا دیتا جب اس نے خود ہی ان کو دولت مند نہیں بنایا تو اس کے کام میں دخل دے کر ہم ان مسکینوں کو کیوں دولت مند بنائیں۔ عن ابن عباس ؓ کان بمکۃ زنادقۃ فاذا امروا بالصدقۃ علی المساکین قالوا لا واللہ ایفقرہ اللہ و نطعمہ نحن (مدارک ج 4 ص 8) ۔
Ayah 36:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں32 کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو

32:۔ ویقولون الخ :۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ اور اس کے ضمن میں شکوی ہے۔ مشرکین کہتے ہیں یہ قیامت والا وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو تو اس کے وقوع کا صحیح صحیح وقت بتاؤ ؟ ما ینظرون الخ، یہ ان کے سوال کا جواب ہے کہ قیامت قائم ہونے کا معین وقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں اور اللہ کی حکمت بالغہ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کے معین وقت کو پوشیدہ رکھا جائے اور اس کا وقوع اچانک ہو، چناچہ جس چیز کا وہ انتظار کر رہے ہیں وہ اچانک ایک ہولناک چیخ کی صورت میں ظاہر ہوگی جو اچانک سب کو پکڑ لے گی جبکہ وہ دنیا کے جھگڑوں میں مصروف ہوں گے۔ فلا یستطیعون الخ، اس ہولناک آواز کے بعد سب فورًا ہی مرجائیں گے اور انہیں اتنی بھی مہلت نہ مل سکے گی کہ وہ کوئی وصیت ہی کرسکے یا اپنے گھروں ہی کو لوٹ سکیں۔ صیحۃ واحدۃ سے نفخہ اولی مراد ہے جس سے ہر جاندار موت کی نیند سو جائے گا۔ وھی النفخۃ الاولی فی السور التی یموت بہا اھل الارض (روح ج 23 ص 31) ۔
Ayahs 36:49–51

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

یہ تو راہ دیکھتے ہیں ایک چنگھاڑ کی جو ان کو آپکڑے گی جب آپس میں جھگڑ رہے ہونگے

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پھر نہ کرسکیں گے کہ کچھ کہہ ہی مریں اور نہ اپنے گھر کو پھر کر جاسکیں گے

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور پھونکی جائے صور33 پھر تبھی وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف پھیل پڑیں گے

33:۔ و نفخ فی الصور الخ :۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ اجداث، جدث کی جمع ہے یعنی قبور ینسلون، یسرعون، دوڑ رہے ہوں گے۔ اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے جس سے تمام مردے جی اٹھیں گے اور میدان محشر کی طرف دوڑ پڑینگے۔ قالوا من بعثنا الخ، قیامت کا منظر ایسا ہولناک اور دہشت انگیز ہوگا کہ کفار قبروں کے عذاب کو بھول جائیں گے۔ اور سمجھیں کہ ہم ابتک سوئے رہے ہیں۔ اس لیے جب قبروں سے اٹھیں گے تو ایک دوسرے سے پوچھیں گے ہمیں نیند سے کس نے جگایا ہے۔ والقوم لاختلاط عقولہم ظنوا انہم کانو نیاما ولم یکن لہم ادراک لعذاب القبر لذلک فاستفہموا عن موقظہم (روح ج 23 ص 32) ۔ ھذا ما وعد الرحمن الخ، لیکن جب وہ دیکھیں گے کہ ہر طرف ٹڈی دل کی طرح انسانوں کا ایک سیلاب ہے۔ سب پریشان اور حواس باختہ ہیں۔ اور سب پر خوف و ہراس کی کیفیت طاری ہے تو سمجھ جائیں گے کہ یہ وہی قیامت کا منظر ہے جس سے دنیا میں ہمیں اللہ کے پیغمبر ڈراتے تھے۔ اس لیے اپنے سوال کا خود ہی جواب دیں گے کہ یہ تو وہی قیامت ہے جس کی آمد کا وعدہ اللہ نے فرمایا تھا۔ بیشک اللہ کے رسول سچے تھے۔ ان کے کہنے کے مطابق قیامت آ ہی گئی ہے۔
Ayahs 36:52–53

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے اے خرابی ہماری کس نے اٹھا دیا ہم کو ہماری نیند کی جگہ سے یہ وہ ہے جو وعدہ کیا تھا رحمان نے اور سچ کہا تھا پیغمبروں نے

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

بس ایک34 چنگھاڑ ہوگی پھر اسی دم وہ سارے ہمارے پاس پکڑے چلے آئیں

34:۔ ان کانت الخ :۔ یہ نفخہ ثانیہ کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ نفخہ ایک ہولناک آواز ہوگی جس سے سب مردے زندہ ہو کر فورًا ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے یعنی ان احیاءہم و بعثہم کان بصیحۃ واحدۃ (قرطبی ج 15 ص 42) ۔ فالیوم لا تظلم نفس الخ، یہ خطاب صرف کافروں سے ہوگا۔ یا مومنوں اور کافروں دونوں سے ہوگا۔ یعنی آج کسی فرد بشر سے نیک ہو یا بد ذرہ بھر بےانصافی نہیں ہوگی اور ہر ایک کو اس کے اپنے ہی اعمال کی جزاء و سزا ملے گی اور کسی کو ناکردہ گناہ کی سزا نہیں ملے گی۔
Ayahs 36:54–55

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

پھر آج کے دن ظلم نہ ہوگا کسی جی پر ذرا اور وہی بدلہ پاؤ گے جو کرتے تھے

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

تحقیق بہشت کے لوگ35 آج ایک مشغلہ میں ہیں باتیں کرتے

35:۔ ان اصحاب الخ :۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ اہل جنت، جنت کی پرسکون فضا میں عیش و طرب کی مصروفیتوں میں خوش وخرم ہوں گے۔ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ ٹھنڈی چھاؤں میں عالیشان تختوں پر تکیہ لگائے آرام کریں گے۔ اور جنت میں انہیں نہ صرف ہر میوہ ملے گا بلکہ ہر وہ چیز جس کی وہ تمنا کریں گے اور جو چیز وہ طلب کریں گے، انہیں ملے گی۔ سلم قولا من رب رحیم۔ سلام خبر مقدم محذوف کا مبتدا ہے ای لہم اور قولا فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے اور یہ جملہ سلام کی صفت ہے۔ اہل جنت کا یہ سب سے بڑا اعزاز ہوگا کہ باری تعالیٰ خود انہیں سلام فرمائیگا ای سلام یقال لہم قولا من جہۃ رب رحیم ای بسلام علہم من جہتہ تعالیٰ بلا واسطۃ تعظیما لہم (روح ج 23 ص 38) ۔
Ayahs 36:56–59

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی عورتیں سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہیں تکیہ لگائے

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

ان کے لئے وہاں ہے میوہ اور ان کے لیے ہے جو کچھ مانگیں

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

سلام بولنا ہے رب مہربان سے

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور تم الگ ہوجاؤ آج36 اے گناہ گارو

36:۔ وامتازو الخ :۔ یہ اہل جنت کے مقابلے میں اہل جہنم کا ذکر ہے اور تخویف اخروی ہے۔ میدان حشر میں کفار و مشرکین کو علی رؤوس الخلائق حکم ہوگا اے مجرمو ! نیک لوگوں سے الگ ہوجاؤ اور ایک طرف اپنی صفیں بنا لو۔ الم اعہد الخ، کفار و مشرکین کی حسرت و ندامت میں اضافہ کرنے کے لیے ان سے کہا جائے گا۔ اے اولادِ آدم ! کیا میں نے اپنے پیغمبروں کی وساطت سے تمہیں یہ پیغام نہیں دیا تھا کہ شیطان کی پیروی نہ کرنا اور اس کے فریب میں آ کر میرے ساتھ شرک نہ کرنا۔ کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور صرف میری ہی عبادت کرنا اور میری عبادت اور پکار میں کسی کو شریک نہ کرنا اور کسی کو میرے یہاں شفیع غالب نہ سمجھنا۔ اعبدونی وحدونی واطیعونی (مدارک ج 4 ص 9) ۔ ھذا صراط مستقیم، یعنی شیطان کے اغوا میں آ کر غیر اللہ کی عبادت نہ کرنا اور صرف اللہ کی عبادت کرنا یہی صراط مستقیم (سیدھی راہ) ہے جس پر تمام انبیاء (علیہم السلام) کو گامزن رہنے کا حکم دیا گیا۔ ای عبادتہ تعالیی اذا لم تنفرو عن عبادۃ غیرہ سبحانہ لا تسمی صراطا مستقیما (روح جلد 23 ص 40) ۔
Ayahs 36:60–62

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

میں نے نہ کہہ رکھا تھا تم کو اے آدم کی اولاد کہ نہ پوجیو شیطان کو وہ کھلا دشمن ہے تمہارا

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ پوجو مجھ کو یہ راہ ہے سیدھی

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور وہ بہکالے گیا تم میں سے37 بہت خلقت کو پھر کیا تم کو سمجھ نہ تھی

37:۔ ولقد اضل الخ : اس شیطان نے بیشمار اولاد آدم کو گمراہ کیا یہ اس کی انسان دشمنی کی ایک واضح دلیل ہے لیکن پھر بھی تم نے عقل سے کام نہ لیا اور نہ غور کیا کہ شیطان ہمارا دشمن ہے اور ہمیں جہنم میں دھکیلنا چاہتا ہے اس لیے اس کے فریب سے بچنا چاہئے۔ اور اس کی بات ماننے کے بجائے اپنے خالق حقیقی کی خالص عبادت کرنی چاہئے۔ اور اس کے احکام کا اتباع کرنا چاہئے۔
Ayah 36:63

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہ دوزخ ہے38 جس کا تم کو وعدہ تھا

38:۔ ھذا الخ :۔ توبیخ و تبکیت کے بعد ارشاد ہوگا لو اب دیکھو یہ وہی جہنم ہے جس کا پیغمبروں کی زبانی تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اصلوھا الیوم الخ، آج اس میں داخل ہوجاؤ اور یہ تمہارے کفر و شرک اور تکذیب انبیاء کی سزا ہے۔
Ayahs 36:64–65

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

جا پڑو اس میں آج کے دن بدلہ اپنے کفر کا

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج39 ہم مہر لگا دیں گے ان کے منہ پر اور بولیں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور بتلائیں گے ان کے پاؤں جو کچھ وہ کماتے تھے

39:۔ الیوم الخ :۔ یہ قیامت کے دن کفار و مشرکین کا حال ہوگا۔ قیامت کے دن وہ اپنے جرموں کا انکار کریں گے جیسا کہ دوسری جگہ ان کا قول نقل کیا گیا ہے۔ واللہ ربنا ما کنا مشرکین (انعام رکوع 3) ۔ تو اس وقت ان کی زبانیں بند کردی جائیں گی اور ان سے قوت گویائی سلب کرلی جائے گی اور اللہ کے حکم سے ان کے ہاتھ پاؤں بول اٹھیں گے اور جو جو کرتوت انہوں نے کیے ہوں گے وہ سب بیان کردیں گے۔ وفی الحدیث انہم یجحدون ویختصمون فیختمر علی افواھھم وتتکلم ایدیہم وارجلہم (بیضاوی) ۔
Ayah 36:66

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر چاہیں40 مٹا دیں ان کی آنکھیں پھر دوڑیں راستہ پانے کو پھر کہاں سے سوجھے

40:۔ ولو نشاء الخ :۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں محو کردیں اور ان کی آنکھوں کی جگہ چہرے کے ساتھ ہموار کردیں، پھر وہ راستے کی طرف بڑھیں تو کس طرح دیکھ سکیں گے یعنی جس طرح ان کے عناد و اصرار کی وجہ سے ہم نے ان کے دل کی آنکھوں کو بصیرت سے محروم کردیا ہے اور ان سے ایمان کی توفیق سلب کرلی ہے اگر ہم چاہیں تو ان کی ظاہری آنکھوں کو بھی بصارت سے محروم کردیں۔ ولو نشاء لمسخنہم الخ، اور اگر ہم چاہیں تو انہیں جہاں کہیں وہ ہیں سل پتھر بنا دیں اور وہ نہ آگے جاسکیں اور نہ واپس لوٹ سکیں جس طرح ہم نے ان سے قوت عقلیہ سلب کرلی ہے اسی طرح اگر ہم چاہیں تو ان سے قوت جسمانیہ بھی سلب کرلیں اور وہ جماد محض ہوجائیں (کذا فی الکبیر) ۔ یہ لوگ طغیان و عصیان اور ضد وعناد میں اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ اس کے مستحق ہوچکے تھے کہ ان کی ظاہری آنکھوں کی بینائی اور جسمانی قوت سلب کرلی جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت شاملہ اور حکمت بالغہ کے پیش نظر ایسا نہیں کیا۔ و معنی ھذہ الایۃ والایۃ السابقۃ علی تاویل الحسن انہم لکفرہم و نقضہم العہد احقاء ان یفعل بہم ذلک لکنا لم نفع لشمول الرحمۃ لہم فی الدنیا واقتضاء الحکمۃ امہالہم (مظہری ج 8 ص 96) ۔
Ayahs 36:67–68

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں صورت مسخ کردیں ان کی جہاں کی تہاں پھر نہ آگے چل سکیں اور نہ وہ الٹے پھر سکیں

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس کو ہم بوڑھا کریں41 اوندھا کریں اس کی پیدائش میں پھر کیا ان کو سمجھ نہیں

41:۔ ومن نعمرہ الخ : یہ زجر ہے۔ ہم نے تمہیں اس قدر عمر عطا کی کہ جو شخص صدق دل سے حق کو سمجھنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اتنے عرصہ میں حق کو سمجھ سکتا ہے۔ جب جوانی میں تم نے حق کو نہیں سمجھا جبکہ تما قوائے جسمانیہ تندرست اور جوان ہوتے ہیں تو بڑھاپے میں کیا سمجھو گے جبکہ تمام قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ کیونکہ جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے روز بروز ضعف کی طرف لے جاتے ہیں۔ امام رازی فرماتے ہیں یہاں کافروں کے عذر کو قطع کیا گیا ہے، قیامت کے دن کافر کہیں گے ہمیں تو دنیا میں مہلت ہی کم ملی اگر ہم لمبی عمر پاتے تو ضرور ایمان لے آتے تو فرمایا سمجھنے سوچنے کے لیے تو تمہیں کافی عمر دی گئی تھی اور مزید زیادہ میں تو قوتیں معطل ہوجاتی ہیں۔ اس وقت سمجھنے سوچنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔ شرع فی عذر اخر وھو ان الکافر یقول لم یکن لبثتنا فی الدنیا الا یسیرا ولو عمرتنا لما وجدت منا تقصیرا فقال تعالیٰ افلا تعقلون انکم کلما دخلتم فی السن ضعفتم و قد عمرناکم مقدار ما تتمکنون من البحث والادراک الخ (کبیر) ۔
Ayah 36:69

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے نہیں سکھایا اس کو42 شعر کہنا اور یہ اس کے لائق نہیں یہ تو خالص نصیحت ہے اور قرآن ہے صاف

42:۔ وما علمنہ الخ :۔ یہ مشرکین کے ایک شبہ کا جواب ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی صداقت کی ایک واضح دلیل ہے۔ مشرکین کہتے ہیں محمد ﷺ شاعر ہے۔ اور یہ قرآن اس کا شاعرانہ کلام ہے۔ فرمایا شاعری کا علم اور شاعری کی استعداد ہم نے اپنے پیغمبر کو عطا ہی نہیں کی اور نہ شاعری آپ کے شایان شان ہی ہے۔ یہ کلام اللہ کی طرف سے پند و نصیحت ہے اور واضح طور پر اللہ کی طرف سے نازل شدہ قرآن ہے اور ایسا معجزہ ہے کہ بشر کی طاقت ہی سے ماورا ہے۔ شاعر نہ ہونے کے باوجود ایسا بےمثل اور معجز کلام پیش کرنا، جو بشر کے حیطہ استطاعت سے باہر ہو۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ایک بہت بڑا نشان ہے۔ وجعل اللہ جل و عز ذلک علما من اعلام نبیہ (علیہ السلام) لئلا تدخل الشبہۃ علی من ارسل الیہ فیظن انہ قوی علی القران بما فی طبعہ من القوۃ علی الشعر (قرطبی ج 15 ص 55) ۔ آنحضرت ﷺ کو شعر پسند ہی نہیں تھا۔ نہ کبھی آپ نے شعر موزوں کرنے کی کوشش ہی فرمائی نہ شعر آپ سے موزوں ہو ہی سکتا تھا۔ وما یصح لہ الشعر ولا یتاتی لہ ان اراد قرضہ علی ما اختبرم طبعہ نحوا من اربعین سنۃ (بیضاوی) ای جعلناہ بحیث لو اراد قرض الشعر لم یتات لہ ولم یتسہل کما جعلناہ امیا لا یہتدی الی الخط لتکون الحجۃ اثبت والشبہۃ ادحض (مدارک ج 4 ص 10) ۔ اس آیت نے اہل بدعت کے اس دعوے کی بھی قلعی کھول دی کہ آنحضرت ﷺ کو عطاء الٰہی سے ماکان ومایکون کا کلی علم غیب حاصل تھا۔ اس آیت نے بالکل کھلے اور واضح لفظوں میں اعلان کردیا کہ شعر کا علم آپ کو اللہ تعالیٰ نے عطا نہیں فرمایا اس لیے کلی علم غیب کا دعوی باطل ہوگیا۔ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے جو بعض موزوں اور مقفی عبارتیں صادر ہوئیں مثلا انا النبی لا کذب، انا ابن عبد المطلب، وغیرہ یہ شعر کے زمرے میں داخل نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ عبارتیں بلا قصد و ارادہ محض اتفاقی طور پر موزوں ہوگئی تھیں اور شعر قصد و ارادے سے موزوں و مقفی کیا جاتا ہے وھذا مما اتفق لہ (علیہ الصلوۃ والسلام) من غیر قصد لوزنہ و مثلہ یقع کثیر فی الکلام المنثور ولا یسمی شعرا ولا قائلہ شاعرا (روح ج 23 ص 48) ۔
Ayah 36:70

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ ڈر سنائے43 اس کو جس میں جان ہو اور ثابت ہو الزام منکروں پر

43:۔ لینذر الخ : یہ قرآن شعر نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے جو اس نے اپنے پیغمبر پر اتارا ہے تاکہ وہ سمجھنے والوں کو اس کا پیغام سنائے اور وہ اس پر عمل کریں اور کافروں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہواجائے۔ حی سے مومن مراد ہے ایمان کو حیات سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ ایمان سے دل کی حیات ہے۔ (من کان حیا) یعنی مؤمنا حی القلب لان الکافر کالمیت الذی لایتدبر ولا یتکفر (معالم و خازن ج 6 ص 16) ۔
Ayah 36:71

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے44 کہ ہم نے بنا دئیے ان کے واسطے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں سے چوپائے پھر وہ ان کے مالک ہیں

44:۔ اولم یروا الخ :۔ یہ پانچویں عقلی دلیل ہے ہم نے ان کے لیے مختلف انواع کے چوپائے پیدا کیے ہیں جو ان کے زیر تصرف ہیں اور ہمارے حکم تکوینی سے ان کے مطیع و فرمانبردار ہیں کچھ ان میں سے سواری اور بار برداری کے لیے ان کے کام آتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جن کا وہ دودھ پیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں اور بھی گوناگوں فوائد و منافع ہیں لیکن پھر بھی وہ اللہ کا شکر نہیں کرتے اور اس کی عبادت اور پکار میں اوروں کو شریک کرتے اور انہیں عنداللہ شفیع غالب سمجھتے ہیں، حالانکہ ان چوپایوں کی تخلیق میں اور ان انعامات کے عطا کرنے میں ان کا کوئی حصہ نہیں اس لیے وہ کار ساز اور شفیع غالب بھی نہیں ہوسکتے۔
Ayahs 36:72–74

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور عاجز کردیا ان کو ان کے آگے پھر ان میں کوئی ہے ان کی سواری اور کسی کو کھاتے ہیں

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان کے واسطے چارپایوں میں فائدے ہیں اور پینے کے گھاٹ پھر کیوں شکر نہیں کرتے

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور پکڑتے ہیں45 اللہ کے سوا اور حاکم کہ شاید ان کی مدد کریں

45:۔ واتخذوا الخ :۔ یہ زجر ہے، اللہ کے ایسے انعامات کے باوجود مشرکین نے اللہ کے سوا اوروں کو معبود اور شفعاء بنا رکھا تھا۔ تاکہ بوقت ضرورت وہ ان کی مدد کریں۔ لیکن بوقت ضرورت وہ ہرگز ان کی مدد نہ کرسکیں گے حالانکہ کفار اپنے زعم میں ان معبودوں کو اپنے مددگار اور شفیع سمجھتے ہیں۔ قال الشیخ قدس سرہ وھم لہم جند محضرون ای معبوداتہم لھم ای للکفار جند فی زعمہم حاضرون تشفع لہم (بلغہ ص 283) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کے مزعومہ معبود ان کی کیا مدد کریں گے جبکہ وہ خود اپنی مدد اور حفاظت نہیں کرسکتے۔ بلکہ ان کے پجاری ان کی دیکھ بھال اور حفاظت کرتے ہیں۔ اعوان و شیعۃ یخدمونہم و یذبون عنہم (مدارک ج 4 ص 11) ۔
Ayahs 36:75–76

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

نہ کرسکیں گے ان کی مدد اور یہ ان کی فوج ہو کر پکڑے آئیں گے

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

اب تو غمگین مت ہو46 ان کی بات سے ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں

46:۔ فلا یحزنک الخ :۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی اور مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے مشرکین کی تکذیب اور طعن وتشنیع سے آپ آزردہ خاطر نہ ہوں ہم ان کی تمام شرارتوں اور خباثتوں کو اچھی طرح جانتے ہیں اور انہیں ان کی شرارتوں کی پوری پوری سزا دیں گے۔
Ayah 36:77

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا دیکھتا نہیں انسان47 کہ ہم نے اس کو بنایا ایک قطرہ سے پھر تبھی وہ ہوگیا جھگڑنے بولنے والا

47:۔ اولم یر الانسان الخ : یہ زجر و شکوی ہے انسان یہ نہیں سوچتا کہ ہم نے اس کو ایک حقیر نطفے سے پیدا کیا ہے۔ لیکن سوچنے کے بجائے بڑا ہو کر ہمارا مد مقابل بن گیا اور جھگڑنے لگا اور دوبارہ زندہ کرنے پر ہماری قدرت کے لیے عجیب و غریب مثالیں بیان کرنے لگا۔ مثلاً کہتا ہے بھلا ان بوسیدہ اور خاک در خاک شدہ ہڈیوں کو وہ کس طرح زندہ کرے گا۔ گویا ہماری قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کرنے لگا۔ لیکن اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے کہ وہ بالکل معدوم تھا اور اسے ہم نے پیدا کرلیا (ضرب لنا مثلا) امرا عجیبا و ھو نفی القدرۃ علی احیاء الموتی وتشبیہہ بخلقہ بوصفہ بالعجز عنہ (بیضاوی) ۔
Ayahs 36:78–79

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور بٹھلاتا ہے ہم پر ایک مثل اور بھول گیا اپنی پیدائش، کہنے لگا کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جب کھوکھری ہوگئیں

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

تو کہہ ان کو زندہ کرے گا48 جس نے بنایا ان کو پہلی بار اور وہ سب بنانا جانتا ہے

48:۔ قل یحییہا الخ : یہ جواب شکوی ہے اور ساتھ ہی بعث و نشور (قیامت) پر عقلی دلیل بھی ہے فرما دیجئے، بوسیدہ ہڈیوں میں از سر نو وہی جان ڈالے گا جس نے ان کو پہلے نیست سے ہست کیا اور وہ ہر مخلوق کو جانتا ہے ہر مردے کے متفرق اور بکھرے ہوئے اجزاء اسے معلوم ہیں اور بدن میں ہر جز کا مقام بھی اسے معلوم ہے یعلم جل و علا بجمیع الاجزاء المتفتۃ المتبددۃ لکل شخص من الاشخاص اصولہا و فروعہا واوضاع بعضہا من بعض من الاتصال والانفصال والاجتماع والفتراق فیعید کلا من ذلک علی الخط السابق مع القری التی کانت قبل (روح ج 23 ص 55) ۔