38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsجواھر القرآن

Ayah 38:41

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو35 جب اس نے پکارا اپنے رب کو کہ مجھ کو لگا دی شیطان نے ایذا اور تکلیف

35:۔ ” واذکر الخ “۔ یہ تیسری نقلی دلیل ہے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی قوم مسئلہ توحید کی وجہ سے ان کی مخالف ہوگئی اور اللہ کی طرف سے ایک شدید بیماری کی شکل میں ان پر ابتلاء آیا جس کی وجہ سے شہر والوں نے ان کو شہر سے نکال دیا آخر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ نے ان کو اس بیماری سے شفا عطا فرمائی۔ جس کا اپنا یہ حال ہو وہ کسی طرح شفیع غالب نہیں بن سکتا۔ ” انی مسنی الشیطان الخ “ ” نصب “ شدت، تکلیف۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری طول پکڑ گئی اور وہ اٹھارہ سال اس میں مبتلا رہے اس بیماری کی وجہ سے انہوں نے سخت تکلیف اٹھائی۔ ایک دن ان کی بیوی کسی کام سے جا رہی تھیں۔ راستے میں ایک طبیب دیکھا جو حقیقت میں شیطان تھا اور انسانی شکل میں متمثل ہو کر سامنے آیا اس سے اپنے خاوند کی بیماری کا ذکر کیا تو شیطان (بصورت طبیب) نے کہا کہ میں اس شرط پر علاج کروں گا کہ جب تمہارا خاوند میرے علاج سے تندرست ہوجائے تو تم غیر اللہ کے نام کی قربانی دو گی۔ بیوی صاحبہ چونکہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کی وجہ سے نہایت غمزدہ اور دلگیر تھیں اس لیے ان کے دل میں شیطان کے قول کی طرف کچھ میلان ہوگیا انہوں نے یہ واقعہ حضرت ایوب (علیہ السلام) سے ذکر کیا تو وہ فورًا سمجھ گئے کہ وہ شیطان ہے اور اس سے انہیں نہایت ہی شدید روحانی تکلیف پہنچی اور نہایت عاجزی اور زاری سے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی بارے الٰہا ! میری طویل مصیبت کی وجہ سے اب تو شیطان کو بھی یہ توقع ہوچلی ہے کہ ہم شرک کرنے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ میرے پروردگار ! شیطان نے اپنے اس بول سے مجھے سخت اذیت دی ہے اب مجھ پر مہربانی فرما اور اس مصیبت سے نجات عطا کر۔ ان الشیطان تعرض لامرتہ بصورۃ طبیب۔ فقالت لہ ان ھھنا مبتلی فھل لک ان تداویہ۔ ان الشیطان طلب منہا ان تذبح لغیر اللہ تعالیٰ اذا عالجہ و برا فمالت لذالک، فعظم علیہ، (علیہ السلام) الامر فنادی الخ (روح ج 23 ص 206) ۔ اشار بقولہ ” مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ “ الی تعریضہ لامرتہ و طلبہ ان تشرک باللہ وکانہ یتش کی ھذا الامر۔ کان علیہ اشد من مرضہ۔ (بحر ج 7 ص 400) ۔
Ayahs 38:42–43

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

لات مار اپنے پاؤں سے36 یہ چشمہ نکلا نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور بخشے ہم نے اس کو اس کے گھر والے اور ان کے برابر ان کے ساتھ اپنی طرف کی مہربانی سے اور یاد رکھنے کو عقل والوں کے

36:۔ ” اُرْکُضْ الخ “۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی فرمایا زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ فورًا ٹھنڈے پانی کا چشمہ نمودار ہوگا۔ اس سے غسل کرو اور اس سے پیو۔ چناچہ انہوں نے زمین پر پاؤں مارا اس ٹھنڈے پانی کا چشمہ ابل پڑا اس میں غسل کیا اور اس میں سے پیا تو فورًا تندرست ہوگئے گویا بیمارے تھے ہی نہیں۔ “ وَوَھَبْنَا لَہٗ اَھْلَہٗ الخ “ ابتلا میں ان کی جو اولاد فوت ہوگئی تھی اس کو دوبارہ زندہ کردیا اور اس کے علاوہ بھی اولاد عطا فرمائی یہ سب اللہ کی مہربانی تھی۔ نیز اس میں عقلمند لوگوں کے لیے عبرت ہے کہ مصائب و شدائد میں صبر کرنے کا یہ ثمرہ ہے۔
Ayah 38:44

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور پکڑا اپنے ہاتھ میں37 سینکوں کا مٹھا پھر اس سے مارلے اور قسم میں جھوٹا نہ ہو ہم نے اس کو پایا جھیلنے والا بہت خوب بندہ تحقیق وہ ہے رجوع رہنے والا،

37:۔ ” وَ خُذْ الخ “۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کی بیوی نے جب طبیب (شیطان) والا قصہ ان سے بیان کیا اور اپنی طبیعت کا رجحان ظاہر کیا تو حضرت ایوب (علیہ السلام) نے ناراض ہو کر قسم کھالی کہ اللہ نے اگر مجھے صحت عطا فرمائی تو میں تجھے ایک سو چھڑی ماروں گا لیکن ان کی بیوی کا جذبہ ایثار و خدمت، اس کی وفا داری اور مصیبت میں پیغمبر (علیہ السلام) کی مخلصانہ خدمت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند تھی اس لیے اللہ نے محض اپنی مہربانی سے قسم کو پورا کرنے کا یہ حیلہ بتایا کہ پتلی پتلی سو شاخوں کا ایک مٹھا اٹھا کر اس کے مار دو تمہاری قسم پوری ہوجائے گی اور تم حانث نہیں ہوگے۔ تمثل الشیطان لھا فی صورۃ ناصحاو مداو وعرض لھا شفاء ایوب علی یدیہ علی شرط لا یمکن وقوعہ من مؤمن فذکرت ذلک لہ فعلم ان الذی عرض لھا ھو الشیطان وغضب لعرضہا ذالک علیہ فحلف، فحلل اللہ عیمینہ باھون شیء علیہ وعلیہا لحسن خدمتہا ایاہ ورضاہ عنہا (بحر ج 7 ص 401) ۔ یہ حیلہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ساتھ مختص تھا۔ اس پر قیاس کر کے حیلہ اسقاط وغیرہ کو جائز کہنا درست نہیں۔ (مروجہ حیلہ اسقاط کئی وجوہ سے ناجائز ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتب فقہ، نیز رسالہ توثیق الکلام فی رد حیلۃ الاسقاط المروجۃ فیما بین الانام شائع کردہ کتب خانہ رشیدیہ مدینہ مارکیٹ راولپنڈی) ۔ ہر وہ حیلہ جس سے حکمت تشریع باطل ہوجائے ناجائز اور حرام ہے، مروجہ حیلہ اسقاط سے بھی حکمت تشریع باطل ہوجاتی ہے اس لیے وہ بھی جائز نہیں۔ کل حیلۃ اوجب ابطال حکمۃ شریعیۃ لاتقبل الخ۔ (روح ج 23 ص 209) ۔ ” انا وجدانہ صابرا الخ “ یہ اللہ کی طرف سے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی تعریف و تحسین ہے۔ بیشک ہم نے ایوب (علیہ السلام) کو صابر پایا۔ اتنی طویل مصیبت میں وہ ایک بار بھی حرف شکایت زبان پر نہ لائے۔ وہ ہمارے بہت ہی اچھے بندے اور ہماری طرف رجوع وانابت کرنے والے تھے۔ اپنی تکلیف و مصیبت میں انہوں نے ہمارے سوا کسی کو نہیں پکارا۔
Ayahs 38:45–47

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور یاد کر ہمارے بندوں کو38 ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب ہاتھوں والے اور آنکھوں والے

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے امتیاز دیا ان کو ایک چنی ہوئی بات کا وہ یاد اس گھر کی

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور وہ سب ہمارے نزدیک ہیں چنے ہوئے نیک لوگوں میں

38:۔ ” واذکر عبدنا الخ “۔ یہ چوتھی نقلی دلیل ہے ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا ذکر کرو جو ظاہری اعمال طاعت اور باطنی علوم اوردینی بصیرت میں کامل تھے۔ ” اولی الایدی والابصار “ اولی القوۃ فی الطاعۃ والبصیرۃ فی الدین او اولی الاعمال الجلیلۃ والعلوم الشریفۃ (ابو السعود جلد 7 ص 209) ۔ ہم نے ان کو یاد آخرت کے لیے خاص کردیا اور ان کی تمام تر توجہ اللہ کی اطاعت اور عبادت اور اس کی رضا جوئی پر مرکوز تھی گویا وہ ہر وقت آخرت کی تیاری میں مصروف رہتے تو جن کا اپنا یہ حال ہو بھلا وہ شفیع غالب کس طرح ہوسکتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے مقبول، برگزیدہ اور نیک بندے تھے لیکن شفیع غالب نہ تھے۔
Ayahs 38:48–54

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور یاد کر اسماعیل کو39 اور الیسع کو اور ذوالکفل کو اور ہر ایک تھا خوبی والا

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ ایک مذکور ہوچکا اور تحقیق ڈر والوں کے لیے ہے اچھا ٹھکانا

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

باغ ہیں سدا بسنے کے کھول رکھے ہیں ان کے واسطے دروازے

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ان میں منگوائیں گے ان میں میوے بہت اور شراب

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس عورتیں ہیں نیچی نگاہ والیاں ایک عمر کی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ ہے جو تم سے وعدہ کیا گیا حساب کے دن پر

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

یہ ہے روزی ہماری دی ہوئی اس کو نہیں نبڑنا

39:۔ ” وَ اذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ الخ “۔ یہ پانچویں نقلی دلیل ہے۔ ہمارے بندوں اسمعیل، الیسع، اور ذوالکفل کا ذکر بھی کرو یہ سب نیک اور برگزیدہ بندے تھے۔ ” ھٰذَا ذِکْرُ “ انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر کوئی تکلیف آتی ہے تو محض آزمائش کے لیے ورنہ آخرت میں تو ان کا مرتبہ بہت بلند ہوگا۔ ” وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ تا۔ مِنْہُ مِنْ نَّفَاد “۔ یہ بشارت اخروی ہے عام متقی اور پرہیز گار لوگوں کے لیے۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی شان کا اندازہ لگا لینا چاہئے کہ ان کو تو اس سے بھی زیادہ نعمتیں میسر ہوں گی۔ اللہ کے احکام کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی نافرمانی سے بچنے والوں کا انجام اچھا ہوگا۔ آخرت میں ان کو دائمی نعمتوں کے باغات (جنات عدن) عطا ہوں گے جن کے دروازے ان کی آمد سے پہلے ہی کھول دئیے جائیں گے۔ وہ ان میں کوچوں پر تکیہ لگائے آرام کریں گے۔ اور قسم قسم کے میوے اور مشروبات سے ان کی تواضع ہوگی۔ وہاں انہیں پاکدامن، عفیف اور ہم عمر بیویاں ملیں گی۔ اور ان سے کہا جائے گا، یہ تمام نعمتیں وہی ہیں جن کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا گیا تھا۔
Ayahs 38:55–58

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ سن چکے اور تحقیق شریروں کے واسطے ہے40 برا ٹھکانا

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

دوزخ ہے جس میں ان کو ڈالیں گے سو کیا بری آرام کرنے کی جگہ ہے

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ ہے اب اس کو چکھیں گرم پانی اور پیپ

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور کچھ اور اسی شکل کی طرح طرح کی چیزیں

40:۔ ” و ان للطاغین۔ تا۔ تخاصم اھل النار۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ فرمانبردار مومنین کے مقابلے میں سرکشوں کا انجام ناہیت برا ہوگا۔ ” طاغین “ سے سرکش کفار و مشرکین کے سردار و رؤسا مراد ہیں جو ان کو شرک کی دعوت دیتے تھے۔ وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔ اور ان سے کہا جائے گا۔ یہ دنیا میں تمہاری سرکشی کی سزا ہے۔ اب اس کا مزہ چکھو۔ کھولتا ہوا پانی اور دوزخیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ انہیں پینے کے لیے دی جائے گی۔ اور ان کے لیے اس سے ملتے جلتے عذاب اور مشروبات کی اور بھی کئی قسمیں تیار ہوں گی۔ الغساق ما یغسق من صدید اھل النار (مدارک) ۔ ولھم مذوقات او انواع عذاب اخر (روح ج 23 ص 215) ۔
Ayahs 38:59–60

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

یہ ایک فوج ہے دھنستی آرہی ہے تمہارے ساتھ41 جگہ نہ ملیو ان کو یہ ہیں گھسنے والے آگ میں

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

وہ بولے بلکہ تم ہی ہو کہ جگہ نہ ملیو تم کو تم ہی پیش لائے ہمارے یہ بلا سو کیا بری ٹھہرنے کی جگہ ہے

41:۔ ” ھٰذَا فَوْج الخ “۔ جب رؤسائے مشرکین اور داعیانِ شرک جہنم میں داخل ہوجائیں گے تو ان کے بعد ان کے اتباع و اذناب کی فوج جہنم میں داخل کی جائے گی اور ان کے متبوعین سے کہا جائے گا یہ فوج بھی تمہارے ساتھ جہنم میں داخل ہوگی تو وہ کہیں گے ان پر خدا کی مار وہ بھی دوزخ میں داخل ہو رہے ہیں۔ ” قالوا بل انتم الخ “ اس کے جواب میں اتباع اپنے سرداروں سے کہیں گے بلکہ تم پر خدا کی مار ہو تم ہی نے ہمیں گمراہ کیا اور تمہاری وجہ ہی سے ہم اس برے انجام کو پہنچے ہیں۔ ” ھٰذَا فَوْجٌ مّقْتَحِمٌ“ کلام الخزنۃ لرؤساء الکفرۃ فی اتباعہم و ” لا مرحبا بہم انہم صالوا النار “ کلام الرؤساء (مدارک) ۔ ” اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْہُ لَنَا “ یعنی و تقول الاتباع للقادۃ انتم بداتم بالکفر قبلنا و شرتموہ لنا و قیل معناہ انتم لنا ھذا العذاب بدعاء کم ایانا الی الکفر (خازن و معالم ج 6 ص 52) ۔
Ayahs 38:61–63

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

وہ بولے اے رب ہمارے42 جو کوئی لایا ہمارے پیش یہ سو بڑھا دے اس کو دونا عذاب آگ میں

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور کہیں گے کیا ہوا کہ ہم نہیں دیکھتے ان مردوں کو کہ ہم ان کو شمار کرتے تھے برے لوگوں میں

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم نے ان کو ٹھٹھے میں پکڑا تھا یا چوک گئیں ان سے ہماری آنکھیں

42:۔ ” قَالُوْا رَبَّنَا الخ “ رؤسائے شرک کے پیرو کہیں گے اے ہمارے پروردگار، جن کی وجہ سے ہم اس انجام کو پہنچے ہیں یعنی کفر و شرک کی تعلیم دینے والوں کو جہنم کی آگ میں ہم سے دوگنا عذاب دے۔ ” وَقَالُوْا مَا لَنَا الخ “۔ دنیا میں مشرکین اہل توحید کو برا سمجھتے ہیں اور توحید بیان کرنے والوں کو شر و فساد بپا کرنے والے تصور کرتے ہیں۔ قیامت کے دن مشرکین جہنم میں اور اہل توحید جنت میں ہوں گے۔ اس وقت مشرکین اہل توحید کو برا سمجھتے ہیں اور توحید بیان کرنے والوں کو شر و فساد بپا کرنے والے تصور کرتے ہیں۔ قیامت کے دن مشرکین جہنم میں اور اہل توحید جنت میں ہوں گے۔ اس وقت مشرکین اہل توحید کے بارے میں آپس میں گفتگو کریں گے اور کہیں گے کیا بات ہے آج جہنم میں ہمیں وہ لوگ نظر نہیں آرہے جن کو ہم دنیا میں شرارتی اور فسادی کہا کرتے تھے۔ ” اَتَّخَذْتُمُوْھُمْ سِخْرِیًّا الخ “ کیا دنیا میں ہم نے غلطی سے ان کو شرارتی سمجھ کر ان کا مذاق اڑایا لیکن حقیقت میں نیک لوگ تھے۔ اور آج وہ جنت میں ہیں۔ یا وہ ہیں تو کہیں دوزخ ہی میں لیکن ہمیں نظر نہیں آرہے۔ والمعنی ما لنا لا نرھم فی النار الیسوا فیہا فلذلک لا نراھم۔ بل ازاغت عنہم ابصارنا فلا نراہم وھم فیہا (روح ج 23 ص 218) ۔
Ayah 38:64

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

یہ بات43 ٹھیک ہونی ہے جھگڑا کرنا آپس میں دوزخیوں کا

43:۔ ” اِنَّ ذٰلِکَ الخ “ اہل جہنم کی یہ گفتگو، راہنمایانِ شرک اور ان کے پیرو وں کا باہمی جھگڑا اور دوزخیوں کا موحدین اور مبلغین توحید کے بارے میں سوال و جواب یہ سب برحق ہے اور ضرور ہوگا۔
Ayahs 38:65–66

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

تو کہہ میں تو یہی ہوں ڈر سنا دینے والاف 44 اور حکم کوئی نہیں مگر اللہ اکیلا دباؤ والا

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان کے بیچ میں ہے زبردست گناہ بخشنے والا

44:۔ ” قُلْ اِنَّمَا۔ تا۔ اَلْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ “۔ دلائل عقلی و نقلی اور وحی کے بعد دعوی سورت کا بصراحت ذکر ہے۔ دلائل سابقہ سے ثابت ہوگیا کہ انبیاء (علیہم السلام) تو بوقت مصائب خود اللہ کو پکارتے اور اس کے سامنے عاجزی کرتے ہیں۔ اس لیے وہ شفیع غالب نہی ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق، کارساز، اپنی صفات میں یگانہ اور سب پر غالب ہے۔ ساری کائنات کا مالک اور سارے جہاں میں متصرف و مختار وہی ہ۔ جو چفاہتا ہے کرتا ہے اور اس کی بارگاہ میں کوئی شفیع قاہر نہیں۔
Ayahs 38:67–68

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

تو کہہ یہ ایک بڑی خبر ہے45

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

کہ تم اس کو دھیان میں نہیں لاتے

45:۔ ” قُلْ ھُوَ الخ “۔ ضمیر ” ھُوَ “ آیات سابقہ کے مضمون یعنی دعوت توحید سے کنایہ ہے۔ یعنی مسئلہ توحید ایک نہایت اہم اور عظیم الشان امر ہے جس کی میں تمہیں بامر الٰہی خبر دے رہا ہوں اور وہ اس لائق ہے کہ اسے دل و جان سے قبول کیا جائے۔ اور اس سے تغافل نہ کیا جائے لیکن تم اپنی کم عقلی اور بدبختی سے اس کو پس پشت ڈال رہے ہو (ھُوَ ) ای ھذا الذی انباتکم بہ من کونی رسولا منذرا وان اللہ واحد لا شریک لہ (روح، مدارک) ۔
Ayahs 38:69–70

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

مجھ کو کچھ خبر نہ تھی46 اوپر کی مجلس کی جب وہ آپس میں تکرار کرتے ہیں

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

مجھ کو تو یہی حکم آتا ہے کہ اور کچھ نہیں میں تو ڈر سنا دینے والا ہوں کھول کر

46:۔ ” مَا کَانَ لِیَ الخ “۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ مشرکین کہتے اگر تو واقعی خدا کا پیغمبر ہے اور تمہارے پاس وحی آتی ہے تو ہمیں بتاؤ جس عذاب سے تو ہمیں ڈراتا ہے وہ کب آئے گا۔ جواب دیا گیا کہ بیشک میں اللہ کا پیغمبر ہوں اور مجھ پر وحی آتی ہے لیکن ملا اعلی میں جو کچھ ہو رہا ہے مجھے اس کا کوئی علم نہیں . اس لیے میں نہیں بتا سکتا کہ عذاب کب آئے گا۔ اور اللہ کی طرف سے مجھ پر وحی اسی لیے نازل ہوتی ہے کہ میں اس کا پیغمبر اور بشیر و نذیر ہوں۔
Ayahs 38:71–73

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

جب کہا تیرے رب نے47 فرشتوں کو میں بناتا ہوں ایک انسان مٹی کا

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

پھر جب ٹھیک بنا چکوں اور پھونکوں اس میں ایک اپنی جان تو تم گر پڑو اس کے آگے سجدہ میں

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

پھر سجدہ کیا فرشتوں نے سب نے اکٹھے ہو کر

47:۔ ” اِذْ قَالَ الخ “۔ یہاں سے فرشتوں کا حال بیان کیا گیا ہے کہ وہ بھی اللہ کے حکم کے بندے ہیں۔ اس لیے وہ شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ ” فَقَعُوْا “ ، قعوا، وقع یقع (فتح) سے جمع مذکر امر حاضر کا صیغہ ہے۔ ای فاسقطوا لہ (روح) ۔ اللہ نے تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے بشر کو پیدا کرنے والا ہوں اور خلافت ارضی کو اس کے سپرد کرنے والا ہوں۔ لہذا جب میں اس کی شکل و صورت کو مکمل کر کے اس میں روح پھونک دوں اور وہ ایک کامل انسان کی صورت میں ظاہر ہوجائے تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔ سجود لغیر اللہ کی پوری تحقیق سورة یوسف کی تفسیر حاشیہ نمبر ( 83) میں گذر چکی ہے۔ ” فَسَجَدَ الْمَلٰئِکَةُ الخ “ چناچہ جب آدم (علیہ السلام) کی پیدائش مکمل ہوگئی تو تما فرشتے یکبارگی سر بسجود ہوگئے۔
Ayah 38:74

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

مگر ابلیس نے48 غرور کیا اور تھا وہ منکروں میں

48:۔ ” الا ابلیس الخ “ یہ جنات کا حال ہے کہ ابلیس جو بہت بڑے اور اونچے رتبے کا مالک تھا۔ بڑا عبادت گذار اور مقرب تھا۔ (شعر) صد ہزاراں سال ابلیس لعیں۔ بود از ابدال امیر المؤمنون۔ لیکن اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے ملعون و مطرود ہوا۔ اس لیے وہ بھی شفیع غالب نہیں بن سکتا۔ یا اس کا ربط یہ ہے کہ دیکھو شیطان کی پیروی نہ کرو اور دعوی توحید کو مان لو۔ ” اِسْتَکْبَرَ ۔ ابلیس نے تکبر کیا۔ اور آدم خاکی کو اپنے مرتبے سے کم جان کر حقیر سمجھا۔ وَکَانَ ، ای و صار منہم باستکبارہ و تعاظمہ علی امر اللہ تعالیٰ (روح ج 23 ص 225) ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں غرور و استکبار کی وجہ سے کافر ہوگیا یا ” کان “ اپنے اصل ہی پر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ابلیس علم الٰہی میں تھا ہی کافر۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس سے استکبار کا صدور ہوگا۔ ویجوز ان یکون المعنی وکان من الکافرین فی علم اللہ تعالیٰ لعلمہ عز وجل انہ سیصیہ و یصدر عنہ ما یصدر باختیارہ و خبث طویتہ واستعدادہ (روح) ۔