38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 38:75–85

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ Open ayah 38:75 in the Quran reader

فرمایا اے ابلیس49 کس چیز نے روک دیا تجھ کو کہ سجدہ کرے اس کو جس کو میں نے بنایا اپنے دونوں ہاتھوں سے یہ تو نے غرور کیا یا تو بڑا تھا درجہ میں

قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 38:76 in the Quran reader

بولا میں بہتر ہوں اس سے مجھ کو بنایا تو نے آگ سے اور اس کو بنایا مٹی سے

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ Open ayah 38:77 in the Quran reader

فرمایا تو تو نکل یہاں سے کہ تو مردود ہوا

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 38:78 in the Quran reader

اور تجھ پر میری پھٹکار ہے اس جزا کے دن تک

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 38:79 in the Quran reader

بولا اے رب مجھ کو ڈھیل دے جس دن تک کہ مردے جی اٹھیں

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 38:80 in the Quran reader

فرمایا تو تجھ کو ڈھیل ہے

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 38:81 in the Quran reader

اسی وقت کے دن تک جو معلوم ہے

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 38:82 in the Quran reader

بولا تو قسم ہے تیری عزت کی میں گمراہ کرونگا ان سب کو

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 38:83 in the Quran reader

مگر جو بندے ہیں تیرے ان میں چنے ہوئے

قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ Open ayah 38:84 in the Quran reader

فرمایا تو ٹھیک بات یہ ہے اور میں ٹھیک ہی کہتا ہوں

لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 38:85 in the Quran reader

مجھ کو بھرنا ہے دوزخ تجھ سے اور جو ان میں تیری راہ چلے ان سب سے

49:۔ ” قَا یَا اِبْلِیْسُ الخ “ فرمایا۔ اے ابلیس ! جس آدم کو میں نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے تو نے اس کو سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ کیا تو نے اس سے بڑا بننے کی کوشش کی ہے یا تو واقعی اس سے فائق ہے اس لیے اس کو سجدہ نہیں کیا ؟ تکبرت من غیر استحقاق او کنت ممن علا واستحق التفوق (بیضاوی) ۔ ” قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ الخ “۔ ابلیس نے جواب دیا کہ میں واقعی آدم سے افضل ہوں کیونکہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے۔ اور ظاہر ہے کہ آگ مٹی سے افضل ہے۔ ” قَالَ فَاخْرُجْ الخ “ فرمایا۔ یہاں (جنت یا آسمان) نکل جا۔ تو رحمت و کرامت سے محروم کردیا گیا ہے۔ اور قیامت تک کیلئے لعنت و ملامت کا مورد قرار دے دیا گیا ہے۔ ” قَالَ رَبِّ الخ “ ابلیس نے عرض کی۔ بارے الٰہا ! قیامت تک مجھے مہلت دیدے اور مجھے طویل زندگی عطا فرما دے۔ فرمایا، قیامت تک نہیں بلکہ فنائے عالم یعنی نفخہ اولی تک تجھے مہلت ہے۔ کہنے لگا مجھے تیرے غلبہ و سلطان کی قسم میں بھی اس آدم کی اولاد کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا، البتہ تیرے مخلص بندے میری دسترس سے باہر ہوں گے۔ ” قَالَ فَالْحَقُّ الخ “ فالحق مبتدا ہے اور ” یَمِیْنِی “ اس کی خبر مقدر ہے۔ فرمایا میری قسم بھی سراپا حق ہے۔ اور میں حق ہی کہتا ہوں۔ ” لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ الخ “ یہ قسم مقدر کا جواب ہے۔ ای واللہ لاملئن۔ فالحق قسمی قسم ہے اور لَاَمْلَئَنَّ اس کا جواب ہے۔ اور ” وَالْحَقَّ اَقُوْلُ “ جملہ معترضہ ہے (روح، بیضاوی، قرطبی، جلالین) ۔ منک، من جنسک وھم الشیاطین ( وَ مِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ ) من ذریۃ ادم (مدارک ج 4 ص 38) ۔ مجھے اپنی ذات کی قسم میں بھی جہنمی تیری ذریت اور اولادِ آدم میں سے تیری پیروی کرنے والوں ہی سے بھروں گا۔
Ayahs 38:86–87

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ Open ayah 38:86 in the Quran reader

تو کہہ میں مانگتا نہیں تم سے50 اس پر کچھ بدلہ اور میں نہیں اپنے آپ کو بنانے والا

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 38:87 in the Quran reader

یہ تو ایک فہمائش ہے سارے جہان والوں کو

50:۔ ” قُلْ مَا اَسْئَلُکُمْ الخ : اس ناصحانہ وعظ و تبلیغ پر میں تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگتا اور نہ بتکلف اپنے پاس سے باتیں بنا کر تمہیں سناتا ہوں۔ بلکہ یہ تو اللہ کی طرف تمام انسانوں کے لیے ایک نصیحت نامہ ہے۔ جیسا کہ ابتداء سورت میں فرمایا۔ ” وَالْقُرْاٰنَ ذِیْ الذِّکْرِ “ سورت کی انتہاء، ابتداء سے متعلق ہے۔
Ayah 38:88

وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠ Open ayah 38:88 in the Quran reader

اور معلوم کرلو گے اس کا احوال تھوڑی دیر کے پیچھے51 مدت کے بعد

51:۔ ” وَ لَتَعْلَمُنَّ الخ “ ” حین “ سے موت یا قیامت مراد ہے۔ یعنی اب دنیا میں تو نہیں مانتے ہو۔ لیکن ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم اپنے کفر و انکار کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ اور قرآن میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے۔ اس کی سائی کا بچشم خود مشاہدہ کرلو گے۔ لیکن اس وقت تلافی کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ سورة صٓ میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” اَجَعَلَ الْاٰ لِھَۃَ اِلٰھًا وَّا حِدًا (رکوع 1) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 2 ۔ ” اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ “۔ تا۔ ” قَلْیَرْتَقُوْا فِیْ الْاَسْبَابِ “ نفئ شرک فی التصرف۔ 3 ۔ ” وَ مَا مِنْ اِلٰہٍ “ تا۔ ” اَلْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ “ (رکوع 5) ۔ نفئ شرک فی التصرف و نفئ شفاعتِ قہری۔ سورة صٓ ختم ہوئی