Ayah 41:4139:۔ ” ان الذین کفروا “ یہ تیسرے شکوے کی تمہید ہے۔ ” ان “ کی خبر محذوف ہے۔ ای معاندون (بیضاوی) ۔ ” الذکر “ سے قرآن مراد ہے۔ یعنی جو لوگ قرآن ایسی عظیم الشان، سراپا حق اور مدلل و مبرہن کتاب کا انکار کرتے ہیں۔ وہ محض ضدی اور معاند ہیں۔ ” وانہ لکتاب عزیز الخ “ یہ گویا ماقبل کی دلیل ہے کہ قرآن ایک نہایت ہی رفیع القدر اور پرشوکت کتاب ہے کسی بھی جانب اور کسی بھی حیلے سے اس میں باطل داخل نہیں ہوسکتا، وہ ہر قسم کے باطل سے محفوظ ہے اور نازل اس نے فرمائی ہے جو حکمت کا بادشاہ ہر خوبی کا مالک ہے اس لیے یہ قرآن ہر شک و شبہہ سے بالاتر اور ہر طعن و اعتراض سے مبرا ہے۔ لیکن معاند اور ضدی لوگ محض عناد سے اس پر طعن کرتے ہیں اور اس میں شبہات پیدا کرتے ہیں۔
Ayahs 41:42–4340:۔ ” ما یقال لک “ یہ تیسرا شکوی ہے علی سبیل الترقی اور ضمناً آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ جب آپ نرمی اور حسن اخلاق سے ان کو قرآن سنائیں گے۔ تو وہ سن تو لیں گے لیکن سن کر اس سے متاثر ہونے کے بجائے اس پر اعتراض کریں گے۔ اور خواہ مخواہ اس میں شبہات نکالیں گے۔ آپ ان کی اس روش سے تنگدل اور آزردہ خاطر نہ ہوں کیوں کہ انبیاء و رسل سابقین (علیہم السلام) کے ساتھ بھی ان کے ہمعصر معاندین نے یہی سلوک کیا اور ان پر بھی اسی قسم کے اعتراضات کیے گئے۔ تمہارا پروردگار مومنوں کے لیے معاف کنند اور مہربان ہے۔ اور معاندین کو دردناک عذاب دینے والا ہے، اب آگے مشرکین کے تین شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔
Ayah 41:4441:۔ ” ولو جعلنہ “ یہ پہلے شب ہے کا جواب ہے۔ مشرکین نے کہا یہ قرآن کسی عجمی (غیر عربی) زبان میں کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ یہ تو محمد خود ہی عربی زبان میں بنا کر ہمیں سنا دیتا ہے۔ اس کا جواب ارشاد فرمایا، اگر قرآن کو عربی کے علاوہ کسی دوسری عجمی زبان میں نازل کرتے، تو پھر ان کا یہ اعتراض ہوتا کہ قرآن ایسی زبان میں نازل کیا گیا ہے جسے ہم سمجھتے ہی نہیں اسے ہماری زبان میں کیوں نازل نہ کیا گیا، تاکہ ہم اسے سمجھ لیتے بھلا یہ کیا تک ہے۔ کہ کلام عجمی ہو اور اس کے مخاطبین عربی ہوں۔ قال الکفار اقتراحا وتعنتا ھلا انزل القران بلغۃ العجم الخ۔ (مظہری ج 8 ص 301) ۔
42:۔ ” قل ھو “ معاندین تو قرآن پر طرح طرح کے اعتراض کرتے رہیں گے اور اس کی ہدایت سے مھروم رہیں گے البتہ مومنین اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ قرآن سے ان کو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی ہوگی۔ اور اس کے مطالعہ سے ان کے دل شکوک و شبہات کی بیماری سے شفا یاب ہوجائیں گے۔ ” والذین لایومنون “ اور جو لوگ اسے نہ ماننے کا تہیہ کرچکے ہیں۔ وہ اسے سنتے ہی نہیں اور اگر کبھی سن ہی لیں تو عناد و تعنت سے اس کا انکار کرتے ہیں اور اس طرح ان کی گمراہی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ قریب ہونے کے باوجود قرآن کو نہیں سنتے۔ اور اس سے دور بھاگتے ہیں۔ ان کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو بہت دور ہو اور اسے خواہ کتنی ہی بلند آواز سے پکاریں، وہ نہ سن سکے گا۔ اور نہ کچھ سمجھے گا یہی حال ان کا ہے کہ وہ پاس بیٹھے ہوئے بھی کچھ سنتے اور سمجھتے نہیں۔ ای ھم کالمنادی من مکان بعید لایسمع ولایفہمہ ما ینادی بہ (جلالین) ۔
Ayah 41:4543:۔ ” ولقد اتینا موسیٰ “ یہ معاندین کے دوسرے شبہہ کا جواب ہے۔ مشرکین کہتے ہیں قرآن دفعۃً سارا کیوں نازل نہیں ہوا۔ شاید محمد ﷺ تھوڑا تھوڑا کر کے خود ہی بنا لاتا ہے۔ جیسا کہ سورة فرقان (رکوع 3) میں ان کا قول نقل کیا گیا ہے۔ ” وقالوا لولا نزل علیہ القران جملۃ واحدۃ “ نیز وہ کہتے، اگر یہ قرآن سچا ہوتا تو سب لوگ اسے مان لیتے، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اکثر لوگ جن میں علماء اہل کتاب بھی شامل ہیں اس کو نہیں مانتے۔ اس کا جواب دیا گیا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جو کتاب نازل کی تھی وہ ساری ایک ہی بار نازل کی اور وہ تھی بھی سچی کتاب۔ لیکن پھر بھی اس میں اختلاف کیا گیا۔ اس لیے تمہارا نکار محض عناد اور ضد پر مبنی ہے۔
44:۔ ” ولولا کلمۃ “ یہ تیسرے شب ہے کا جواب ہے۔ معاندین کہتے اگر یہ قرآن سچا ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے۔ تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا۔ فرمایا : عذاب کے لیے ایک وقت معین ہے، وہ اس سے پہلے نہیں آسکتا، اگر اس کا وقت معین نہ ہوتا تو ان کا قصہ کبھی کا پاک ہوچکا ہوتا۔ یہ لوگ عذاب کے بارے میں مسلسل شک میں پڑے ہیں اور انہیں اس پر یقین نہیں آتا۔
Ayah 41:4645:۔ ” من عمل۔ الایۃ “ یہ بشارت و تخویف ہے۔ جو شخص نیک عمل کرے گا اس کا فائدہ اسی کو ملے گا۔ اور جو برے کام کرے گا ان کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔ نیک لوگوں کو نیکیوں کی جزا ملے گی۔ اور برے لوگوں کو ان کی برائیوں کی سزا۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں فرماتا اور نہ کسی کی ھق تلفی کرتا ہے۔ کسی شخص کی کوئی نیکی ضائع نہیں کی جائے گی اور کسی کی ناکردہ گناہ کی سزا نہیں ملے گی۔
Ayah 41:4746:۔ ” الیہ یرد “ یہ تیسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الترقی۔ ” الیہ “ کی تقدیم مفید حصر ہے۔ اس دلیل سے غیر اللہ سے علم غیب کی نفی کی گئی ہے۔ یعنی جس طرح متصرف و کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جیسا کہ پہلی دونوں عقلی دلیلوں سے ثابت ہوچکا ہے۔ اسی طرح عالم الغیب بھی وہی ہے اور اس نے غیب کی کنجیاں کسی کو نہیں دیں۔ قیامت قائم ہونے کا معین وقت صرف اسی کو معلوم ہے اور یہ علم اسی کے حوالے کیا جاتا ہے۔ ای علم وقت قیامہا یرد الیہ یعنی یجب علی کل من سئل عنہا ان یقول اللہ اعلم اذ لایعلمہا الا ھو (مظہری ج 8 ص 303) ۔ جو پھل اور میوے اپنے پردوں سے نمودار ہوتے ہیں۔ جو مادہ بار آور ہوتی ہے اور جو بچہ جنتی ہے یہ سب کچھ اللہ کے علم محیط میں ہے اور اس کے سوا کوئی بھی ان امور پر حاوی نہیں۔
47:۔ ” ویوم ینادیہم “ تیسری عقلی دلیل کے بعد تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکین سے پوچھے گا کہاں ہیں وہ ج ہیں تم نے دنیا میں میرا شریک بنا رکھا تھا۔ جواب دیں گے۔ بارے الٰہا ! ہم تو عرض کرچکے کہ اب ہم میں سے کوئی ان کی الوہیت کا قائل نہیں رہا۔ اب جبکہ ہم نے اصل حقیقت کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا ہے، ہم ان سے بیزار ہوچکے ہیں اور صدق دل سے موحد بن چکے ہیں۔ دنیا میں وہ جن کو کارساز سمجھ کر پکارا کرتے تھے، قیامت کے دن سب غائب ہوں گے اور کوئی ان کے کام نہ آئے گا اور مشرکین کو یقین ہوجائے گا کہ آج عذاب الٰہی سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ای ما منا احد الیوم یشھد بان لک شریکا وما منا الا من موحد لک (مدارک ج 4 ص 75) ۔
Ayahs 41:48–4948:۔ ” لایسئم الانسان “ یہ چوتھا شکوی ہے۔ انسان سے انسان کافر مراد ہے (مظہری) ۔ ” دعاء الخیر “ مصدر، مفعول کی طرف مضاف ہے (روح) مشرک اور کافر انسان اپنے خود ساختہ معبودوں سے دنیوی نعمتیں مانگنے سے اکتاتا نہیں اور مسلسل مانگتا ہی چلا جاتا ہے۔ لیکن اگر اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور اس کی مصیبت بدستور باقی رہتی ہے، تو اپنے معبودوں سے مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ اور ان کے اختیار میں کچھ نہیں۔ اس لیے معبودان باطلہ سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ سے لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ قنوط من الصنم ذو دعاء اللہ تعالی۔ (مدارک ج 4 ص 75، مظہری ج 8 ص 305) ۔
Ayah 41:5049:۔ ” ولئن اذقنہ “ پھر اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت واسعہ سے اس کو نعمت عطا فرما دیتا ہے اور اس کی تکلیف دور کردیتا ہے۔ تو وہ اللہ کا شکر کرنے کے بجائے کہتا ہے کہ یہ نعمت تو مجھے ملنی ہی چاہئے تھی، کیونکہ میں اس کا مستحق تھا۔ اور میں نے فلاں فلاں حیلہ اور تدبیر اختیار کی۔ اس لیے مجھے یہ نعمت میسر ہوئی۔ میں نے فلاں معبود کو پکارا۔ فلاں بزرگ کی نذر مانی۔ میں نے یہ حیلہ کیا۔ وہ حیلہ کیا وغیرہ وغیرہ۔ ای ھذا من عندی (قرطبی) ای استحقہ بعملی (خازن) جیسا کہ دوسری جگہ وارد ہے انما اوتیتہ علی علم عندی (القصص رکوع 8) ۔ تائید : ” ثم اذا خولہ نعمۃ منہ نسی ماکان یدعوا الیہ من قبل وجعل للہ اندادا “ (الزمر رکوع 1) باقی رہا قیامت کا قصہ تو میرا خیال یہ ہے کہ قیامت ہیں آئے گی۔ لیکن اگر بالفرض آ ہی گئی تو آخرت میں بھی خوشحال ہوں گا جس طرح دنیا میں میں آرام و راحت اور عیش و عشرت کا مستحق ہوں اسی طرح آخرت میں بھی ان نعمتوں کا مستحق ہوں گا یا آخرت میں میرے بزرگ اور میرے معبود میرے لیے ہر راحت اور نعمت کا سامان بہم پہنچا دیں گے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ ” فلننبئن الذین کفروا الخ “ یہ شکوے کے درمیان تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن ہم ان مشرکین کو ان کے اعمال کی حقیقت سے آگاہ کریں گے۔ اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اصل حقیقت ان کے زعم باطل کے خال ہے اور وہ نعمت و کرامت کے نہیں، بلکہ ذلت اور اہانت کے مستحق ہیں۔ اور ہم انہیں ایسے سخت عذاب میں گرفتار کریں گے۔ جس سے ان کا چھٹکارا حاصل کرنا ناممکن ہوگا۔ لنعلمنہم بحقیقۃ اعمالہم لنبصرنہم بعکس ماعتدوا فیھا یظہر لھم انہم مستحقون للاھانۃ لا الکرامۃ کام توھموا (روح ج 25 ص 4) ۔
Ayah 41:5150:۔ ” واذا انعمنا “ یہ انسان کافر کا حال ہے۔ جب ہم اس کو دنیا میں انعام و راحت سے نوازتے ہیں تو شکر کرنے کے بجائے وہ حق سے اعراض کرتا اور تکبر و غرور سے اتراتا ہے۔ لیکن اس حال پر بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ انعام و راحت کے بعد اگر اس پر کوئی مصیبت آجائے تو اس کی ساری شیخی دھری کی دھری رہ جاتی ہے، اور گڑ گڑا کر خدا سے دعائیں مانگنے لگتا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” واذا مسکم الضر فی البحر ضل من تدعون الا ایاہ “ (بنی اسرائیل رکوع 7) ۔ فاذا رکبوا فی الفلک دعو وا اللہ مخلصین لہ الدین (عنکبوت رکوع 7) ۔
Ayah 41:5251:۔ ” قل ارایتم۔ الایۃ “ یہ آیت چاروں شکو وں سے متعلق ہے اور جواب محذوف ہے۔ ای افلا یضرکم ذالک۔ یعنی یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن واقعی اللہ کی طرف سے ہو لیکن تم اس کا انکار کرو، نہ خود اسے سنو، نہ اوروں کو سننے دو ، اور اگر کبھی سن ہی لو، تو اس سے متاثر ہونے اور اسے ماننے کے بجائے ازراہ عناد اس پر طعن ہی کرتے رہو اور اس میں شبہات نکالتے رہو اور معبودانِ باطلہ کی دعا اور پکار کو ترک نہ کرو، تو کیا یہ چیز تمہارے حق میں مضر نہ ہوگی ؟ اس لیے تمہیں چاہئے کہ اعراض نہ کرو۔ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور شور نہ کرو اور طعن کرنے سے باز رہو اور غیر اللہ کی پکار چھوڑ دو اور دلائل وبراہین کی روشنی میں چلو۔ ” من اضل “ یہ علیحدہ جملہ ہے یعنی اس سے بڑا گمراہ کون ہے جو سخت عناد اور ضد میں ہو اور محض عناد و تعنت سے ھق کا انکار ر کرے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔52:۔ ” شنریھم ایاتنا “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ہم ان کو اپنے متصرف و مختار اور قادر مطلق ہونے کے دلائل ونشانات اطراف دکھائیں گے۔ جس سے ان پر واضح ہوجائے گا کہ ” انہ “ وہ حکمنامہ توحید برحق ہے۔ جب دنیا میں ان پر اللہ کا عذاب آئے گا اور ان کے مزعومہ کارساز ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ واقعی اللہ کے سوا کوئی کارساز اور دعا پکار کے لائق نہیں۔ فی الافاق یعنی خراب منازل الامم الخالیۃ (قرطبی ج 15 ص 374) ۔ یعنی فی اقطار السموات والارض من الشمس والقمر والنجوم والنبات والشجار والانہار (مظہری ج 8 ص 305) ۔ وی فانفسہم یعنی یوم بدر (مظہیر) قال قتادۃ فی الافاق یعنی وقائع اللہ فی الامم وفی انفسہم یوم بدر (معالم ج 6 س 115) ۔
Ayah 41:5351:۔ ” قل ارایتم۔ الایۃ “ یہ آیت چاروں شکو وں سے متعلق ہے اور جواب محذوف ہے۔ ای افلا یضرکم ذالک۔ یعنی یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن واقعی اللہ کی طرف سے ہو لیکن تم اس کا انکار کرو، نہ خود اسے سنو، نہ اوروں کو سننے دو ، اور اگر کبھی سن ہی لو، تو اس سے متاثر ہونے اور اسے ماننے کے بجائے ازراہ عناد اس پر طعن ہی کرتے رہو اور اس میں شبہات نکالتے رہو اور معبودانِ باطلہ کی دعا اور پکار کو ترک نہ کرو، تو کیا یہ چیز تمہارے حق میں مضر نہ ہوگی ؟ اس لیے تمہیں چاہئے کہ اعراض نہ کرو۔ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور شور نہ کرو اور طعن کرنے سے باز رہو اور غیر اللہ کی پکار چھوڑ دو اور دلائل وبراہین کی روشنی میں چلو۔ ” من اضل “ یہ علیحدہ جملہ ہے یعنی اس سے بڑا گمراہ کون ہے جو سخت عناد اور ضد میں ہو اور محض عناد و تعنت سے حق کا انکار ر کرے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔52:۔ ” شنریھم ایاتنا “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ہم ان کو اپنے متصرف و مختار اور قادر مطلق ہونے کے دلائل ونشانات اطراف دکھائیں گے۔ جس سے ان پر واضح ہوجائے گا کہ ” انہ “ وہ حکمنامہ توحید برحق ہے۔ جب دنیا میں ان پر اللہ کا عذاب آئے گا اور ان کے مزعومہ کارساز ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ واقعی اللہ کے سوا کوئی کارساز اور دعا پکار کے لائق نہیں۔ فی الافاق یعنی خراب منازل الامم الخالیۃ (قرطبی ج 15 ص 374) ۔ یعنی فی اقطار السموات والارض من الشمس والقمر والنجوم والنبات والشجار والانہار (مظہری ج 8 ص 305) ۔ وی فانفسہم یعنی یوم بدر (مظہیر) قال قتادۃ فی الافاق یعنی وقائع اللہ فی الامم وفی انفسہم یوم بدر (معالم ج 6 س 115) ۔
53:۔ ” اولم یکف “ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہے لہذا مصائب و حاجات میں صرف اسی کو پکارنا چاہئے۔ ” بربک “ پر باء زائدہ ہے اور یہ لم یکف کا فاعل ہے اور انہ فاعل سے بدل الاشتمال ہے۔ یعنی کیا ان کو گناہوں سے اور غیر اللہ کو پکارنے سے روکنے کے لیے یہ بات کافی نہیں کہ تیرا پروردگار ہر چیز سے باخبر ہے اور انہیں ان کے تمام گناہوں کی سزا دے گا۔ نیز جب وہ ہر چیز سے باخبر ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں اور یہ صفت اس کے سوا کسی اور میں نہیں پائی جاتی تو کیا یہ حقیقت اس بات کے لیے کافی نہیں کہ اس کے سوا کسی اور کو مصائب میں مافوق الاسباب نہیں پکارنا چاہیے۔ الم یکف الانسان رادعا عن المعاصی انہ تعالیٰ مطلع علی کل شی 4 لایکفی علیہ خافیۃ (بیضاوی) ۔ یا بربک میں باء بمعنی فی ہے اور انہ الخ، لم یکف کا فاعل ہے۔ اولم یکف بربک ای فی توحید ربک۔ کیا تیرے رب کی توحید اور اس کے لیے اخلاص عبادت و دعاء کے لیے یہ دلیل کافی نہیں کہ وہ ہر چیز سے باخبر ہے اور کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا عالم الغیب ہونا اس بات کے لیے کافی لیل ہے کہ اس کے سوا کوئی کارساز نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی دعا اور پکار کے لائق ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔
Ayah 41:5454:۔ ” الا انھم “ یہ چوتھی عقلی دلیل کے بعد تخویف اخروی ہے۔ یہ لوگ قیامت کے بارے میں شک و تردد اور نزاع وجدال میں پڑے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اور کوئی چیز اس کے علم وقدرت سے باہر نہیں اور ان کے تمام اعمال پر بھی اس کا علم حاوی ہے اس لیے وہ ان کو ان کے تمام اعمال بد کی سزا دے گا۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ سجاد بخاری عفا اللہ تعالیٰ عنہ۔
سورة حم السجدہ میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
1 ۔ ” قل ائنکم لتکفرون “ تا ” ذلک تقدیر العزیز العلیم “ (رکوع 2) ۔ نفی شرک فی التصرف۔
2 ۔ ” وقیضنا لھم قرناء “ الایۃ۔ (رکوع 3) ۔ شیاطین انسانوں کو بیداری میں اور خواب میں مختلف طریقوں سے گمراہ کرتے ہیں۔
3 ۔ ” ومن ایتہ الیل والنھار “ تا ” انہ علی کل شیء قدیر۔ (رکوع 5) ۔ نفی شرک فی التصرف و اثبات حشر و نشر۔
4 ۔ ” الیہ یرد علم الساعۃ “ تا ” ولا تضع الا بعلمہ “ (رکوع 6) ۔ نفی شرک فی العلم۔
5 ۔ ” اولم یکف بربکم انہ علی کل شیء شہید “ (رکوع 6) نفی شرک فی العلم۔
بحث متعلقہ مرکزی مضمون سورة حم السجدہ : سورة مومن میں مذکور ہوا کہ اللہ کے سوا حاجات میں کسی کو مت پکارو۔ اس پر یہ شبہہ ہوسکتا تھا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ غیر اللہ کو پکارنے سے بعض اوقات انسان مصائب سے بچ جاتا ہے۔ نیز بعض اوقات جن کو پکارا جائے وہ خواب یا بیداری میں مل کر مدد کرتے ہیں۔ تو سورة حم السجدہ میں اس کا جواب دیا گیا۔ ” وقیضنا لہم قرناء۔ الایۃ “ جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ سب شیاطین کی کارستانی ہے جو مختلف شکلوں میں متمثل ہو کر ان کو گمراہ کرتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ مصیبت زدہ انسان دفع مصیبت کے لیے اپنے زندہ یا فوت شدہ پیر و مرشد کو پکارتا ہے۔ تو شیاطین اس کی شکل میں متمثل ہو کر سامنے آجاتے ہیں اور سے مصیبت سے بچالیتے ہیں۔ وہ آدمی سمجھتا ہے کہ سچ مچ اس کا پیر ظاہر ہو کر اس کی مدد کر گیا ہے۔ حالانکہ وہ شیطان تھا۔ اس کو مشرکانہ عقیدے میں پختہ کرنے کے لیے اس کے پیر کی شکل میں ظاہر ہوا تھا۔ جیسا کہ امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں۔ وکثیرا ما یسغیث الرجل بشیخہ الحی او المیت، فیاتونہ فی صورۃ ذلک الشیخ وقد یخلصونہ مما یکرہ، فلا یشک ان الشیخ نفسہ جاء، ولا یعلم ان ذلک الذی تمثل انما ھو الشیطان، لما اشرک باللہ اضلتہ الشیاطین (الفرقان بین الحق والباطل ص 66) ۔ عمدۃ المفسرین علامہ سید محمود آلوسی فرماتے ہیں۔ وقد یتمثل الشیطان للمستغیث فی صورۃ الذی استغاث بہ۔ فیظن ان ذلک کر امۃ لمن استغاث بہ، ھیھات ھیھات انما ھو شیطان اضلہ واغواہ، وزین لہ ھواہ (روح المعانی ج 6 ص 169) ۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی آدمی اپنے شیخ کو غائبانہ پکارتا ہے تو شیطان اس کے کلام کو انسانی آواز اور لہجے میں اس کے پیر کے کانوں میں ڈال دیتا ہے جس سے اس کا پیر بھی دھوکہ کھا جاتا ہے کہ اس نے اتنی مسافت سے اپنے مرید کی بات سن لی ہے اور جب پیر اس کی پکار کا جواب دیتا ہے اور اس کی مصیبت ٹالنے کے لیے کوئی اشارہ کرتا ہے تو شیطان اس کے کلام کو اس کی آواز کے مماثل آواز میں مرید کے کانوں میں ڈال دیتا ہے جس سے وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے پیرو مرشد نے اس کی پکار سن کر اس کی مدد کی ہے اور اس طرح دونوں پیر و مرشد اور مرید گمراہی میں پڑے رہتے ہیں چناچہ امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں۔ وتارۃ یکون التابع قل نادی لشیخہ و ھتف بہ یا سیدی فلان فینقل الجنی ذلک الکلام الی الشیخ بمثل صوت الانسی حتی یظن الشیخ انہ صوت الانسی بعینہ ثم ان الشیخ یقول نعم ویشیر اشارۃ یدفع بہا ذلک المکروہ، فیاتی الجنی بمثل ذلک الصوت والفعل یظن ذلک الشخص انہ شیخہ نفسہ وھو الذی اجابہ، وھو الذی فعل ذلک (الفرقان بین الحق والباطل ص 61) ۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں بعض دفعہ بعض لوگوں کو صرف آواز سنائی دیتی ہے اور بعض اوقات آدمی بھی نظر آتا ہے۔ جو خلاف شریعت بات کہتا ہے۔ تو لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی ولی اللہ تھا۔ حالانکہ وہ شیطان ہوتا ہے۔ فمن ھؤلاء من یسمع خطابا او یری من یامرہ بقضیۃ ویکون ذلک الخطاب من الشیطان ویکون ذلک الذی یخاطبہ الشیطان وھو یحسب انہ من اولیاء اللہ من رجال الغیب (الفرقان ص 52) ۔ بعض اوقات شیطان انسانی شکل میں نمودار ہو کر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے دعوی کرتا ہے کہ وہ فلاں بزرگ ہے مثلاً کہتا ہے میں خضر ہوں۔ یا الیاس ہوں یا شیخ عبدالقادر جیلانی ہوں وغیرہ وغیرہ، تو اس طرح لوگ دھوکے میں آ کر سمجھتے ہیں کہ اولیاء اللہ زندہ ہیں۔ اور ہر جگہ موجود ہں۔ قالوا ھذا ھو الخضر وھذا ھو الیاس وھذا ھو ابوبکر عمر وھذا ھو الشیخ عبدالقادر او الشیخ عدی او الشیخ احمد الرفاعی او غیر ذلک ظن ان الامر کذلک فھنا لم یغلط، لکن غلط عقلہ حیث لم یعرف ان ھذہ شیاطین تمثلت علی صور ھؤلاء (الفرقان ص 57) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ خوابوں، غیبی آوازوں اور اولیاء اللہ کی طرف منسوب اشکال و امثال سے جو غیر اللہ کی پکار پر استدلال کیا جاتا ہے۔ وہ سراسر باطل ہے اور یہ سب شیطانی افعال ہیں جن کے ذریعے سے شیاطین انسانوں کو گمراہ کرتے اور ان کو شرک سکھاتے ہیں۔
سورة حم السجدہ ختم ہوئی