44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 44:41–43

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَۙ Open ayah 44:41 in the Quran reader

جس دن کام نہ آئے کوئی رفیق کسی رفیق کے کچھ بھی اور نہ ان کو مدد پہنچے

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 44:42 in the Quran reader

مگر جس پر رحمت کرے اللہ بیشک وہی ہے زبردست رحم والا

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ Open ayah 44:43 in the Quran reader

مقرر درخت سیہنڈھ کا25

25:۔ ” ان شجرت الزقوم “ یہ تخویف اخروی ہے۔ زقوم دوزخ کا ایک نہایت ہی کر یہ المنظر اور خبیث درخت ہے جس کا ادنی سا نمونہ دنیا کا خاردار تھوہر ہے۔ الاثیم سے مراد کافر ہے (روح، ابن کثیر ) ۔ ” المھل “ پگھلی ہوئی دھات (روح، بحر) دوزخ میں کافروں کی خوراک شجرہ خبیثہ زقوم (تھوہر) ہوگی اور وہ پگھلی ہوئی دھات کی طرح گرم ہوگا اور ان کے پیٹ میں اس طرح کھولے گی جس طرح سخت گرم پانی کھولتا ہے۔ خذوہ الخ ای یقال للزبانیۃ (مدارک) ۔ ” فاعتلوہ “ اسے گھسیٹ کرلے جاؤ۔ فجروہ بقہر (روح) دوزخ کے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس مجرم کو گھسیٹ کر بھرکتی آگ کے وسط میں لے جاؤ اور اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالو تاکہ اوپر سے بھی وہ عذاب کا مزہ چکھے یا مطلب یہ ہے کہ ان کے سروں کے اوپر سے ان کے مونہوں میں کھولتا ہوا پانی ڈالو قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ ” ذق “ ای ویقال (روح) ۔ اور اس سے کہا جائیگا اس عذاب کا مزہ چکھ تو دنیا میں بڑا عزیز و کریم بنا ہوا تھا اور کہا کرتا تھا بھلا عزت و عظمت اور شان و کرامت میں مجھ سے بھی کوئی بڑا تھا۔ یا یہ اہانت و تحقیر اور استہزاء و تمسخر کے طور پر کہا جائیگا۔ وقیل علی معنی الاستخفاف والتوبیخ والاستہزاء والاھانۃ والتنقیص (قرطبی ج 16 ص 151) ۔ ” ان ھذا ماکنتم بہ تمترون “ یہ وہی عذاب ہے جس سے دنیا میں تمہیں ڈرایا گیا، لیکن تم برابر اس میں شک کرتے رہے اور تمہیں ڈرانے والوں کی باتوں پر یقین نہ آیا۔
Ayahs 44:44–51

طَعَامُ الْاَثِیْمِ٤ۖۛۚ Open ayah 44:44 in the Quran reader

کھانا ہے گنہگار کا

كَالْمُهْلِ١ۛۚ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِۙ Open ayah 44:45 in the Quran reader

جیسے پگھلا ہو تانبا کھولتا ہے پیٹوں میں

كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ Open ayah 44:46 in the Quran reader

جیسے کھولتا پانی

خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِیْمِۗۖ Open ayah 44:47 in the Quran reader

پکڑو اس کو اور دھکیل کر لیجاؤ بیچوں بیچ دوزخ کے

ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِؕ Open ayah 44:48 in the Quran reader

پھر ڈالو اس کے سر پر جلتے پانی کا عذاب

ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ Open ayah 44:49 in the Quran reader

یہ چکھ تو ہی ہے بڑا عزت والا سردار

اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 44:50 in the Quran reader

یہ وہی ہے جس میں تم دھوکے میں پڑے تھے

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ Open ayah 44:51 in the Quran reader

بیشک ڈرنے والے26 گھر میں ہیں چین کے

26:۔ ” ان المتقین “ تا ” ذلک ھو الفوز العظیم “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” فی جنت و عیون “ مقام امین سے بدل ہے متقی اور پرہیز گار لوگ اور شرک سے بچنے والے قیامت کے دن پر امن مقام یعنی باغات جنت اور چشموں میں ہوں گے جہاں وہ ہر قسم کے خوف و ہراس اور تکلیف و عذاب سے محفوظ و مامون ہوں گے اور انہیں زندگی کی ہر راحت و آسائش میسر ہوگی۔ یلبسون من سندس الخ، وہاں وہ باریک اور موٹے ریشم کے کپڑے پہنیں گے یعنی جس قسم کا لباس چاہیں گے انہیں ملے گا۔ سندس، باریک ریشم۔ استبرق، موٹا ریشم۔ سندس مارق من الدیباج و استبرق ما غلظ منہ (مدارک ج 4 ص 100) ۔ وہ جنت میں محبت و الفت اور مسر و شادمانی کے اظہار کے لیے ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ متقابلین فی مجالسہم لیتانس بعضہم ببعض (روح ج 25 ص 135) ۔ ایسی ہی بیشمار نعمتیں ان کو ملیں گی اور موٹی آنکھوں والی خوبصورت حوریں جنت میں ان کی رفیق حیات ہوں گی۔
Ayahs 44:52–55

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ Open ayah 44:52 in the Quran reader

باغوں میں اور چشموں میں

یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ Open ayah 44:53 in the Quran reader

پہنتے ہیں پوشاک ریشمی پتلی اور گاڑھی ایک دوسرے کے سامنے

كَذٰلِكَ١۫ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ Open ayah 44:54 in the Quran reader

اسی طرح ہوگا اور بیاہ دیں ہم ان کو حوریں بڑی آنکھوں والیاں

یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 44:55 in the Quran reader

منگوائیں گے وہاں27 ہر میوہ دلجمعی سے

27:۔ ” یدعون فیہا “ وہ جنت میں جو میوہ چاہیں گے طلب کریں گے یعنی وہاں انہیں ہر منہ مانگا میوہ ملے گا اور وہ ہر ضرر و تکلیف سے محفوظ ہوں گے۔ ” لایذوقون الخ “ جنت میں ان پر موت نہیں آئیگی ایک بار جو موت ان کے لیے مقدر تھی اس کا مزہ وہ دنیا میں چکھ چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچائیگا۔ یہ ساری نعمتیں انہیں محض اللہ کے فضل و کرم سے حاصل ہوں گی اور اصل میں یہی بڑی کامیابی ہے کہ جنت میں ہر نعمت میسر ہو، تکلیف کا شائبہ تک نہ ہو، نہ نعیم جنت کو زوال ہو، جنت والوں پر فنا آئے، دائمی راحت اور دائمی زندگی۔
Ayahs 44:56–58

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى١ۚ وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 44:56 in the Quran reader

نہ چکھیں گے وہاں موت مگر جو پہلے آچکی اور بچایا ان کو دوزخ کے عذاب سے

فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 44:57 in the Quran reader

فضل سے تیرے رب کے یہی ہے بڑی مراد ملنی

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 44:58 in the Quran reader

سو یہ قرآن آسان کیا ہم نے28 اس کو تیری بولی میں تاکہ وہ یاد رکھیں

28:۔ ” فانمایسرناہ “ یہ ساری سورت سے متعلق ہے گویا ساری سورت کا خلاصہ ہے۔ ہم نے اس (کتاب مبین) قرآن کو یا اس حکمنامے کو آپ کی زبان پر نہایت آسان زبان و اسلوب میں بیان کردیا ہے تاکہ لوگ اس آسانی سے سمجھ لیں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔ وھذا فذلکۃ و اجمال لما فی السورۃ بعد تفصیل تذکیرا لما سلف مشروحا فیہا فالمنعی ذکرہم بالکتاب المبین فنما یسرنہ بلسانک کی یفہموہ ویتذکروا بہ ویعملوا بموجبہ (روح ج 5 ص 137) ۔
Ayah 44:59

فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۠ Open ayah 44:59 in the Quran reader

اب تو راہ دیکھ29 وہ بھی راہ تکتے ہیں

29:۔ ” فارتقب انہم مرتقبون “ یہ تخویف دنیوی ہے اور ابتداء سورت (فارتقب یوم تاتی الخ) سے متعلق ہے تاکہ سورت کا آخر ابتداء پر منطبق ہوجائے۔ آپ ان کے انجام اور اپنی کامیابی کا انتظار کریں اور وہ بھی انتظار میں ہیں کہ آپ کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کا حشر کیا ہوتا ہے۔ یہ ایک طرف مشرکین کے لیے تخویف دنیوی ہے اور دوسری طرف آنحضرت ﷺ کے لیے وعدہ نصرت ہے۔ قال اللہ تعالیٰ لرسول ﷺ مسلیا لہ وواعدا لہ بالنصر ومتوعدا لمن کذبہ بالعطب والھلاک فارتقب انھم مرتقبون (ابن کثیر ج 4 ص 147) ۔ سورة دخان میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” انہ ھو السمیع العلیم “ تا ” ربکم ورب اباء کم الالوین “۔ نفی شرک اعتقادی۔ 2 ۔ ” وما خلقنا السموات والارض “ تا ” انہ ھو العزیز الرحیم “ (رکوع 2) نفی شفاعت قہریہ و دلیل عقلی برائے اثبات توحید۔ سورة الدخان ختم ہوئی