Ayahs 53:38–4224:۔ ” ان لا تزر “ ان صحیفوں کا مضمون یہ ہے کہ کوئی نفس کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائیگا۔ جس طرح ہر انسان کو اپنی ہی کمائی کی نیکیوں کا ثواب ملے گا اور دوسرے شخص کی نیکیاں اس کے اعمالنامے میں درج نہیں ہوں گی۔ قیامت کے دن ہر آدمی کی سعی و کوشش کا نتیجہ سامنے ہوگا اور ہر شخص کو اس کے اپنے ہی اعمال کے مطابق پوری پوری جزاء وسزا دی جائے گی۔ اور قیامت کے دن سب کا منتہاء اللہ کی ذات ہوگی اور سب اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ اس آیت سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ایک انسان کی دعاء بھی دوسرے کے حق میں فائدہ مند نہیں ہوسکتی حالانکہ قرآن اور حدیث سے دوسروں کے دلیے دعا کرنے کی ترغیب ثابت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ حکم پہلی امتوں میں تھا اب امت محمدیہ کے حق میں منسوخ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” الحقنا بہم ذریتہم۔ الایۃ “ (الطور رکوع 1) ۔ یعنی باپ دادا کی نیکی سے ان کی اولاد کو ان کے درجات عطا ہوں گے۔ قال ابن عباس ؓ ھذا منسوخ الحکم فی ھذہ الشریعۃ بقولہ (الحقنا بہم ذریتہم) ۔ قال عکرمۃ کان ذالک لقوم و ابراہیم وموسی فاما ھذہ الامۃ فلہم ما سعوا وما سعی لھم غیرہم۔ (معالم و خازن ج 6 ص 268) ۔ اور اگر ” ما سعی “ سے مراد ایمان ہو جیسا کہ سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے تو اس صورت میں منسوخ ماننے کی ضرور نہیں۔ یعنی کسی انسان کو اس کے ایمان کے بغیر کسی چیز کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ ایمان کے بغیر کسی چیز کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ ایمان کے بغیر کسی کی نہ دعا مفید ہے نہ اپنی کوئی نیک عمل۔ تحقیق یہ ہے کہ ایک شخص کے دعا و استغفار کے دوسرے مومن کے حق میں کوئی نزاع واختلاف نہیں یہ سب کے نزدیک جائز اور مفید ہے اور قرآن سے ثابت ہے (1) وصل علیہم ان صلوتک سکن لھم۔ (2) ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان (حشر رکوع 2) ۔ اختلاف اس میں ہے کہ ایک شخص کے عمل کا ثواب دوسرے شخص کو ملتا ہے یا نہیں۔ چناچہ معتزلہ اور شوافع اس کے قائل نہیں، علامہ ابن قیم نے اس حدیث کا جواب دیتے ہوئے جس میں دوسرے شخص کی طرف سے غلام آزاد کرنے کا ذکر ہے، لکھا ہے کہ اس کا یہ مطلب یہ کہ دوسرے شخص کی طرف سے غلام آزاد کر کے اس کیلئے دعاء کی جائے۔ البتہ عبادتِ مالیہ کا ثواب احناف، شوافع وغیرہ سب کے نزدیک دوسرے کو بخشنا جائز ہے۔ باقی رہا تلاوتِ قرآن کا ثواب توحنفیہ کے نزدیک اس کا ہبہ جائز ہے لیکن شافعیہ کے نزدیک جائز نہیں۔ امام ابن ہمام نے فتح القدیر میں اس پر متعدد حدیثیں پیش کی ہیں باقی رہا یہ شبہہ کہ مال مویشی کا ثواب کسی میت کو ہبہ کرنا ” وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیبا فقالوا ھذا للہ بزعمہم وھذا لشرکائنا۔ الایۃ “ (رکوع 16، سورة انعام) کے خلاف ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا ایصال ثواب سے کوئی ٹکراؤ نہیں کیونکہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ مشرکین اپنے معبودانِ باطلہ کو حاجت روا، کارساز اور مافوق الاسباب نافع و ضار سمجھ کر ان کی خوشنودی اور انکا تقرب حاصل کرنے کے لیے جانوروں میں ان کے حصے مقرر کرتے تھے جو صریح شرک ہے لیکن ایصال ثواب میں یہ چیز نہیں پائی جاتی۔
Ayahs 53:43–4825:۔ ” وانہ ھو “ یہاں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اور اس کی قدرت کاملہ کا بیان ہے۔ ہر چیز اسی کے تصرف و اختیار میں اور اسی کے زیر اقتدار ہے ہنسانا اور رلانا اسی کے اختیار میں ہے جسے چاہتا ہے آرام و راحت اور خوشی عطاء کر کے ہنساتا ہے اور جسے چاہتا ہے مصائب وآلام میں مبتلا کر کے خون کے آنسو رلاتا ہے۔ موت وحیات بھی اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ ” وانہ خلق الزوجین “ ” تمنیٰ “ یعنی نطفہ رحم مادہ میں ڈالا جاتا ہے۔ ای تدفع فی الرحم (روح) ۔ جب نر کا نفطہ رحم مادہ میں پہنچ جاتا ہے تو محض اپنی قدرت کاملہ سے وہ اسی نطفہ سے نر اور اسی سے مادہ کو پیدا فرما لیتا ہے۔ ” وان علیہ۔ الایۃ “ پھر قایمت کے دن دوبارہ زندہ کرنا بھی اسی کا کام ہے جس نے ایک نطفہ بےجان سے نر و مادہ کو پیدا کرلیا وہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” وانہ ھو اغنی واقنی “ پیدا بھی اسی نے کیا پھر زندگی میں دولت کی تقسیم بھی اسی کے ہاتھ میں ہے وہ اپنی حکمت بالغہ کے مطابق جسے چاہتا ہے غنی اور دولت مند کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے فقیر اور تنگدست کردیتا ہے۔ قالا الاخفش اقنی افقر (روح، قرطبی) ۔ قال ابن زید اغنی من شاء وافقر من شاء (قرطبی ج 17 ص 118، ابن کثیر ج 4 ص 259) ۔
Ayah 53:4926:۔ ” وانہ ھو رب الشعری “ الشعری ایک روشن ستارہ ہے جس کی بعض قبائل عرب پرستش کرتے تھے۔ یعنی شعری ستارے کا خالق ومالک بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس لیے اس عاجز مخلوق کے بجائے اس کے خالق کی عبادت کرنی چاہیے اور لات و منات کی طرح شعری بھی عبادت اور پکار کا مستحق نہیں۔ ھو کو کب یطلع بعد الجوزاء فی شدۃ الحر وکانت خزاعۃ تعبدھا (مدارک ج 4 ص 151) ۔ وتخصیصھا فی الذکر ھھنا للاشعار بانھا مخلوقۃ للہ تعالیٰ لا یستحق العبادۃ مثل اللات والعزی ولعل قوما عبدوھا فی زمن ابراہیم (علیہ السلام) ایضا ولذلک ورد التخصیص بذکرھا فی صحف ابراہیم وموسی (مظہری ج 9 ص 132) ۔
Ayahs 53:50–5227:۔ ” وانہ ھلک “ عاد اولی سے قوم ہود (علیہ السلام) مراد ہے، کیونکہ وہ قوم نوح کے بعد باقی تمام سرکش قوموں سے پہلے ہلاک ہوئی۔ اسی لیے اسے الاولی کہا گیا۔ یا یہ صفت عاد ثانیہ سے ممتاز کرنے کے لیے ہے جس سے یا تو قوم ثمود مراد ہے یا عمالقہ کا قبیلہ بنو سقیم بن ہزال (روح) یعنی گذشتہ سرکش اور کافر قوموں مثلا عاد وثمود اور ان سے پہلے قوم نوح کو اللہ تعالیٰ ہی نے ہلاک کیا ہے اور ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑا اس لیے کہ وہ بڑے بےانصاف اور حد سے تجاوز کرنے والے تھے ان کی بےانصافی یہ تھی کہ وہ خدا کی عاجز مخلوق کو خدائے قادر وقیوم کا شریک بناتے اور خدا کے سوا ان کو پکارتے تھے اور ان کے عناد و طغیان کا یہ حال تھا کہ حق کو سمجھ لینے کے باوجود محض ضد و حسد کی وجہ سے ٹھکراتے تھے۔
Ayahs 53:53–5428:۔ ” والمؤتفکۃ “ اس سے قوم لوط کی بستیاں مراد ہیں اور یہ صحف موسیٰ کا مضمون ہے۔ ” المؤتفکۃ “ جسے الٹا کر گرادیا گیا ہو۔ قوم لوط کی بستیوں کو نیچے سے اوپر اٹھا کر اور الٹا کر زمین پر پھینکدیا۔ یعنی مدائن قوم لوط (علیہ السلام) ائتفکت بھم ای انقلبت وصار عالیہا سافلہا (قرطبی ج 17 ص 120) ۔ ” فغشہا۔ الایۃ “ ان بستیوں کو الٹا کر ان پر پتھروں کی بارش کی گئی۔ اس قدر پتھر برسائے گئے بس کیا پوچھنا ان کی تمام بستیاں ان کے نچیے دب گئیں۔ کیسا عبرتناک انجام تھا ان قوموں کا !۔
Ayahs 53:55–56ٖ 29:۔ ” فبای آلاء۔ الایۃ “ تخویف دنیوی۔ یہ خطاب ہر سرکش اور مکذب سے ہے تو اللہ کی کونسی نعمت میں شک کرتا ہے اور اسے اللہ کی طرف سے نہیں سمجھتا اور غیر اللہ کو پکارتا ہے۔ ” ھذا نذیر۔ الایۃ “ اشارہ قرآن یا محمد ﷺ کی طرف ہے۔ حضرت محمد ﷺ گذشتہ ڈرانے والے پیغمبروں کے قافلے کے آخری رکن ہیں۔ جس طرح گذشتہ سرکش قوموں نے اپنے اپنے زمانے کے پیغمبروں کو جھٹلایا اور تباہ و برباد ہوئیں اے مشرکین مکہ ! سن لو ! ہمارے آخری پیغمبر (علیہ السلام) کو جھٹلانے والو ! اگر تم ضد وعناد سے باز نہ آئے تو تمہارا حشر بھی انہی قوموں کا سا ہوگا۔
Ayahs 53:57–58ٖف 30:۔ ” ازفت الازفۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” الازفۃ “ بہت جلد آنے والی، یہ قیامت کا نام ہے۔ کاشفۃ یا نفس مقدر کی صفت ہے یا مصدر ہے۔ (روح) یعنی قیامت سر پر پہنچ چکی ہے اور اللہ کے سوا اس کے معین وقت پر سے کوئی پردہ نہیں اٹھا سکتا۔ باوجودیکہ قیامت بہت ہی قریب ہے، لیکن اس کے ظہور کا معین وقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
Ayahs 53:59–6131:۔ یہ منکرین کیلئے زجر ہے۔ اے قریش مکہ ! تم اس قرآن پر متحیر اور کج فہمی کی وجہ سے اس کا انکار کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہو، لیکن اس میں آیات و وعد و وعید سن کر اپنی سرکشی پر اور بدعنوانیوں پر تمہیں کبھی رونا نہیں آیا اور تم حق سے منہ پھیرے سراسر غفلت میں پڑے ہو (افمن ھذا الحدیث) ای القران (تعجبون) انکارا (وتضحکون) استہزاء (ولا تبکون) تحزنا علی ما فرطتم (بیضاوی) ۔ ولا تبکون لسماع وعدہ ووعیدہ (جلالین) ۔
Ayah 53:6231:۔ ” فاسجدوا للہ وعبدوا۔ یہ آخر میں سورت کا خلاصہ ہے یعنی صرف اللہ ہی کو سجدہ اور صرف اسی کی عبادت کرو، مصائب و حاجات میں فرشوں لات و عزی اور منات وغیرہ کو مت پکارو اور نہ کسی کو اللہ کی بارگاہ میں شفیع قاہر سمجھو۔ فاسجدوا للہ خاصۃ واعبدوا للہ خاصۃ (الشیخ (رح) تعالی) ای اعبدوہ دون غیرہ (مظہری ج 9 ص 134) ۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوہ والسلام علی سید المرسلین وآلہ و اصحابہ اجمعین۔
سورة والنجم میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
1 ۔ افرایتم اللات والعزی، ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ (رکوع 1) نفی شرک فی التصرف۔
2 ۔ ” الکم الذکر ولہ الانثی۔ تلک اذا قسمۃ ضیزی “۔ نفی شفاعت قہریہ از ملائکہ علیہم السلام۔
3 ۔ ” انھی الا اسماء سمیتموھا۔ تا۔ فللہ الاخرۃ والاولی “ نفی شرک اعتقادی و نفی شفاعت قہریہ از معبودان باطلہ۔
4 ۔ ” وکمن من ملک فی السموات۔ تا۔ وان الظن لا یغنی من الحق شیئا “ (رکوع 2) ۔ نفی شفاعت قہریہ از ملائکہ کرام (علیہم السلام)
5 ۔ ” وانہ ھو اضحک وابکی۔ تا۔ فغشاھا ما غشی “ (رکوع 3) ۔ نفی شرک فی التصرف وبیان قدرت و تصرف و اختیار باری تعالی۔
6 ۔ ” فاسجدوا للہ واعبدواہ “ نفی شرک ہر قسم وامر اخلاص عبادت برائے ذات حق جل شانہ۔
سورة والنجم ختم ہوئی