Ayah 60:1سورت کا آغاز نہایت ہی محبوب آواز سے ہوتا ہے جہاں بھی اس آواز سے مسلمانوں کو خطاب کیا جاتا ہے اس کے اندر گہرے اشارات ہوتے ہیں۔
یایھا الذین امنوا (06 : 1) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو “۔ یہ آواز اس رب کی جانب سے ہے جس پر وہ ایمان لاچکے ہیں۔ ان کو اہل ایمان کے نام سے پکارا جاتا ہے ، کہ تمہارے ایمان کے کچھ تقاضے ہیں۔ تم نہایت ہی خطرناک موڑ پر کھڑے ہو ، تمہارے ارد گرد دشمن سازشوں کے جال بن رہے ہیں۔ اور تم پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے .... اپنائیت کے انداز میں۔ اللہ اپنے دشمنوں کو ان کا دشمن اور ان کے دشمنوں کو اپنے دشمن سے تعبیر کرتا ہے ، تاکہ مسلمانوں کے اندر یہ شعور ہو کہ وہ اللہ کے سپاہی ہیں۔ اسی کی طرف ہی ان کو جانا ہے۔ اللہ کا دشمن ان کا دشمن ہے۔
لا تتخذو .................... بالمودة (06 : 1) ” میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ کہ تم ان کے ساتھ دوستی کی طرح ڈالتے ہو “۔ یہاں مومنین کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ وہ میرے ہیں اور میری طرف آنے والے ہیں۔ اس لئے میں تمہارے دشمنوں کا دشمن ہوں۔ لہٰذا وہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی طرف منسوب ہیں ، جو اس زمین پر اللہ کے جھنڈے بلند کرنے والے ہیں۔ وہ اللہ کے محبوب اور دوست ہیں۔ لہٰذا ان کے شایان شان یہ بات نہیں ہے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کریں۔ یہاں ان کو یاد دلایا کہ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ دشمن تمہارے خلاف کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ تمہارے دین اور تمہارے رسول کے بارے میں ان کا رویہ کیا رہا ہے۔ یہ جنون کی حد تک تم پر مظالم کرتے رہے۔
وقد کفروا ............................ باللہ ربکم (0 : 1) ” حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس کو ماننے سے وہ انکار کرچکے ہیں اور ان کی روش یہ ہے کہ رسول کو اور خود تم کو صرف اس قصور پر جلاوطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب ، اللہ پر ایمان لائے ہو “۔ آخر ان جرائم کے بعد ان کے ساتھ دوستی اور محبت کی کیا بنیاد رہ گئی ہے۔ انہوں نے سچائی سے کفر کیا۔ رسول اللہ کو اپنے گھر اور شہر سے نکالا۔ مومنین کو نکالا اور ان کا اس کے سوا کوئی جرم نہ تھا کہ وہ اللہ رب العالمین پر ایمان لائے تھے۔ مسلمانوں کو وہ باتیں یاددلائی جارہی ہیں جن کا تعلق ان کے عقیدے سے ہے۔ اس عقیدے ہی کی وجہ سے ان کے ساتھ مشرکین نے جنگ کی تھی اور اس عقیدے کے سوا اس مسلسل جنگ کی اور کوئی وجہ نہ تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ مسئلہ ہی ایمان کا تھا۔ جس پر اس قدر جنگیں اور دشمنیاں ہوئیں۔ یہ عقائد کی جنگ ہے ، نظریات کی جنگ ہے۔ صرف یہ مسئلہ ہے کہ انہوں نے سچائی سے انکار کیا ، انہوں نے رسول کو اور ایمان کی وجہ سے مسلمانوں کو نکالا
جب یہ مسئلہ واضح ہے اور ظاہر ہے تو ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ اب تو ان کے ساتھ مروت و محبت کا کوئی جو ازہی نہیں ہے۔ بشرطیکہ تم صرف اس مقصد کے لئے آئے ہو ، اگر کسی کا کوئی اور مقصد ہے تو وہ یایھا الذین امنوا (06 : 1) سے مخاطب نہیں ہے۔
ان کنتم .................... مرضاتی (06 : 1) ” اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لئے اور میری رضا جوئی کی خاطر نکلے ہو “۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک شخص جہاد کے لئے آیا ہو اور اللہ کی رضا کی خاطر مہاجر ہوا ہو اور پھر اسے اس کے ایمان کی وجہ سے نکالا گیا ہو اور وہ ایسے لوگوں سے محبت کرے جنہوں نے اسے نکالا ہو اور وہ اس کے اور اللہ کے دشمن ہوں۔
اس کے بعد ان کو اس بات سے ڈرایا جاتا ہے جو ان کے دلوں میں خفیہ طور پر بیٹھی ہوئی ہے۔ یہ کہ وہ اللہ کے دشمنوں کی محبت اپنے دلوں میں رکھتے ہیں ، حالانکہ اللہ سے تو کوئی امر پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو خفیہ اور علانیہ سب چیزوں کو جانتا ہے۔
تشرون ........................ وما اعلنتم (06 : 1) ” تم چھپا کر ان کو دومستانہ پیغام بھیجتے ہو ، حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو ، ہر چیز کو میں خوب جانتا ہوں “۔
اس کے بعد ان کو ذرا شدید انداز میں دھمکی دی جاتی ہے۔ اس قدر شدید کہ ایک مومن کا دل دہل جاتا ہے۔
ومن .................... السبیل (06 : 1) ” جو شخص بھی تم میں سے ایسا کرے وہ یقینا راہ راست سے بھٹک گیا “۔ مومن نے سب قربانیاں تو ایمان کی خاطر دی ہیں۔ اگر ایمان ہی کو خطرہ لاحق ہوگیا تو اس کے سوا اس کے لئے کیا اور خطرہ ہوسکتا ہے ؟
ان دونوں تخویفات اور تنبیہات کے بعد دوبارہ اہل ایمان کو بتایا جاتا ہے کہ کفار تمہارے بارے میں کیا کچھ سوچتے ہیں اور منصوبے بناتے ہیں۔
Ayah 60:2ان یثقفوکم .................... بالسوء (0 : 2) ” ان کا رویہ تو یہ ہے کہ اگر تم پر قابو پاجائیں تو تمہارے ساتھ دشمنی کریں اور ہاتھ اور زبان سے تمہیں آزار دیں “۔ وہ جب بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی موقعہ پاتے ہیں ، اپنے کمینے اور دشمنی کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ جس قدر اذیت مومنین کو دے سکتے ہیں ، دیتے ہیں۔ یہ ہاتھوں سے اذیت ہو ، یا زبانوں سے اذیت ہو ، ہر طریقے اور ہر سبیل سے وہ اس کام کے لئے تیار ہیں .... اور سب سے بڑی بات اور سب سے خوفناک بات یہ ہے :
وودوا لوتکفرون (06 : 2) ” وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہوجاؤ “۔ صحیح مومنین کے لیے یہ تمام اذیتوں سے بڑی اذیت ہے۔ ہر جسمانی ، لسانی اور روحانی اذیت سے ان کے لئے یہ بڑی اذیت ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعہ ان کے ہاتھ سے نہایت ہی قیمتی خزانہ چلا جائے گا۔ ایمان کا خزانہ اور وہ مرتد ہوجائیں گے اور یہ ان کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی ہوگی۔
اس خزانے کی قدروقیمت اسی شخص کو معلوم ہے ، جو کفر کے بعد مومن ہوا ہے ، جس نے گمراہی کے بعد نورہدایت دیکھا ہو۔ اور اب وہ اپنے تصورات ، اپنے افکار ، اپنے شعور کے ساتھ ایمانی زندگی بسر کررہا ہو ، نہایت اطمینان کے ساتھ۔ ایسا شخص کسی صورت میں بھی اپنی سابقہ حالت کی طرف نہیں لوٹ سکتا۔ ایسا شخص کفر کو اس طرح ناپسند کرتا ہے جس طرح وہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے۔ پس مومنین کا دشمن وہ ہے جو انہیں دوبارہ کفر کی جہنم میں ڈال دینا چاہتا ہے جبکہ اللہ نے ان کو توفیق دے دی ہے کہ وہ جنت ایمانی میں زندگی بسر کریں۔ یہ ایمانی زندگی کو بھر پور اور بامعنی بنا دیتا ہے جبکہ کفر کی زندگی خالی اور بےمعنی ہوتی ہے۔ یوں قرآن کریم تدریج کے ساتھ بتاتا ہے کہ مسلمانوں اور اللہ کے دشمن اہل ایمان کو دوبارہ کافر بنانا چاہتے ہیں ، یہ ان کی اصولی اسکیم ہے ، اور اسی لئے تو تم مکہ سے بھاگ نکلے ہو۔ یادرکھو۔
وودوا لوتکفرون (06 : 2) ” اور وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح دوبارہ کافر ہوجاؤ “۔
یہ تھا پہلا دور ، جس کے اندر متعدد حقائق ہدایات اور بیداری کے لئے تیز چٹکیاں تھیں۔ اس کے بعد ایک دور جس کے اندر ایک ہی تیز احساس دے دیا گیا ہے کہ یہ قرابت داریاں ، جو انسان کو خفیہ دوستی پر مجبور کرتی ہیں ، اور دو ٹوک نظریاتی موقف کو بھلا دیتی ہیں یہ بالکل مفید نہیں ہیں۔
Ayah 60:3لن تنفعکم .................... بصیر (06 : 3) ” قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں کسی کام آئیں گی نہ تمہاری اولاد۔ اس روز اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا اور وہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے “۔
مومن نیکی کرتا ہے اور آخرت کام اجر چاہتا ہے۔ وہ دنیا میں بوتا ہے اور آخرت میں کاٹے گا۔ اور اس پر یہ بات اثرانداز ہوتی ہے کہ جب آخرت میں ایمان اور عقیدے کا تعلق نہ ہوگا تو رشتہ داری کا تعلق بھی کٹ جائے گا ، تو اس طرح اس دنیا کی مختصر زندگی میں اس کے دل سے اس رشتہ داری اور قرابت داری کے تعلقات کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ اور وہ ایسے تعلق کو اہمیت دینے لگتا ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں مفیدہوتا ہے اور قائم رہتا ہے اور وہ نظریاتی اور ایمانی تعلق ہوتا ہے۔
لن تنفعکم .................... اولادکم (0 : 3) ” قیامت کے دن تمہاری رشتہ داریاں اور اولاد تمہارے کسی کام نہ آئے گی “۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی طرف تم لپکتے ہو اور تمہارے دل ان سے متعلق ہیں اور یہ تعلقات تمہیں مجبور کرتے ہیں کہ تم اپنے دشمنوں کے ساتھ دوستی کرو ، تاکہ تم ان تعلقات کو بچا سکو۔ جب کہ حضرت حاطب نے اپنی اولاد اور مال کی خاطر یہ کیا۔ جس طرحدوسروں کے دل اپنی اولاد اور مال کے لئے جوش مارتے ہیں ، تو یہ چیزیں بھی تمہیں کوئی نفع نہ دیں گی۔ قیامت کے دن تو یفصل بینکم ” اس روز اللہ تمہارے درمیان جدائی کردے گا “۔ کیونکہ رشتہ داری اور قرابت دار کی رسی اس دن ٹوٹ جائے گی ، اس دن صرف اللہ کی رسی کام کرے گی۔
واللہ ............ بصیر (06 : 3) ” اور وہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے “۔ وہ ظاہر ، باطن اور نیت تک سے واقف ہے۔
اب تیسرا پیراگراف آتا ہے۔ اس میں امت مسلمہ کو اس امت کے سرچشمے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے جایا جاتا ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم سے ادھر ایک ہی قافلہ ہے ، اور ایک ہی امت ہے ، تاریخ کی طویل وادیوں میں یہ چلا آرہا ہے۔ اس قافلے کا سامان ، سامان ایمان ہے۔ یہ قافلہ ہر قسم کے تعلقات سے برات کرتا ہے ، ماسوائے تعلقات عقیدہ کے۔ یہی امت ہے جو حضرت ابراہیم سے چلی۔ یہ ابو الانبیاء تھے اور دین حنیف کے داعی۔ وہ قابل تقلید ہیں ، نہ صرف عقیدے میں ، بلکہ سیرت اور انداز تبلیغ میں بھی۔ ان کو بھی یہی قرابت داری اور رشتہ داری کا مسئلہ درپیش تھا۔ چناچہ حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھی مومنین ان رشتہ داریوں اور علاقوں کو چھوڑ کر چلے گئے اور انہوں نے صرف اپنا عقیدہ اپنا لیا۔
Ayah 60:4انہی لوگوں کے طرفز عمل میں تمہارے لئے ہر اس شخص کے لئے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو۔ اس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔
ایک مسلم جب تاریخ پر نظر ڈالتا ہے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کی ایک طویل تاریخی نسب نامہ اور شجرہ ایمان ہے۔ یہ ماضی کی تاریخ میں بہت دور تک پھیلا ہوا ہے ، دور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک۔ نہ صرف یہ کہ وہ اپنے عقائد ونظریات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا پیروکار ہے بلکہ اہل ایمان اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دعوتی تجربات بھی ایک ہی جیسے ہیں اس لئے ایک مومن یہ شعور رکھتا ہے کہ اس کے پاس تجربات کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ نہ صرف وہ تجربات جن سے وہ گزر رہا ہے بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تجربات بھی اس میں شامل ہیں۔ قافلہ ایمان جو اب مکہ میں ہے ، یہ تو ماضی کی تاریخ زمان ومکان میں بہت دور تک چلا ہے۔ کئی وادیاں اس نے طے کی ہیں۔ یہ صرف اسی جھنڈے تلے چلتا رہا ہے اور ایسے ہی حالات سے گزرا ہے جن سے وہ گزر رہے ہیں ، یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے کہ گویا صرف تم ان مشقتوں سے دو چار ہوگئے ہو۔ آج اگر مومنین کا تعلق اپنے دشمنوں سے کٹ گیا تو کیا بات ہے۔ وہ ایک ایسے نظریہ کی ایک شاخ ہے جس کی نہایت ہی سایہ دار شاخیں تاریخ کی فضا میں ، دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ وہ درخت ہے جس کا پودا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے لگایا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اس تجربے سے گزرے تھے ، جس سے مدینہ میں مسلمان گزر رہے تھے اور حضرت ابراہیم میں الہ ایمان کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔
اذ قالو ........................ وحدہ (0 : 4) ”” تم لوگوں کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں میں اچھا نمونہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا “۔ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو ، قطعی بیزار ہیں۔ ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے عداوت ہوگئی اور بیر پڑگیا۔ جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ “۔ اس میں انہوں نے اپنی قوم ، ان کے معبودوں ، اور ان کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کردیا۔ دوسرے الفاظ میں ان کا کفر کیا اور اللہ پر ایمان لائے اور یہ عداوت اور بغض اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک وہ اللہ وحدہ پر ایمان نہ لائے۔ یہ دو ٹوک ، فیصلہ کن اور پختہ قطع تعلق تھا ، جس کے بعد فریقین کے درمیان سے ہر قسم کے روابط کٹ گئے ، ماسوائے تعلق ایمان کے۔ یہی فیصلہ اہل ایمان کا فیصلہ ہے اور یہی قرار داد ان اہل ایمان کی ہے جو مدینہ میں ہیں۔ اور ایسا ہی ہونا چاہئے جس طرح امت ابراہیمی نے فیصلہ کیا۔
بعض مومنین یہ دیکھتے تھے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے باوجود قطع تعلق کے اپنے والد کے لئے استغفار کیا حالانکہ وہ مسرک تھے۔ اس میں بعض مسلمانوں کے لئے دبے ہوئے جذبات ابھرانے کی راہ تھی۔ جو وہ اپنے مشرک بھائیوں کے لئے رکھتے تھے۔ چناچہ قرآن نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس استغفار کی توضیح کردی۔ کیونکہ انہوں نے باپ سے کہا تھا۔
لا ستغفرن لک (06 : 4) ” میں تمہارے لئے ضروری استغفار کروں گا “۔ یہ بات انہوں نے اس وقت کہہ دی ، جب ان کے والد نے شرک پر اصرار نہ کیا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت اپنے والد کے ایمان کے بارے میں توقع رکھتے تھے۔
فلما .................... منہ ” جب یہ بات کھل گئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اس سے بیزاری کا اعلان کردیا “۔ جیسا کہ دوسری سورت میں آیا ہے۔
یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سارا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا تھا اور توکل اور یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔
وما املک .................... المصیر (06 : 4) ” اور اللہ سے آپ کے لئے کچھ حاصل کرلینا میرے بس میں نہیں ہے “ (اور ابراہیم (علیہ السلام) واصحاب ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا یہ تھی کہ) ” اے ہمارے رب ، تیرے ہی اوپر ہم نے بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کرلیا اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے “۔ یوں اللہ کے سامنے مطلق سپردگی کا اعلان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت کا خاصہ ہے۔ اور اس کی طرف یہاں اہل ایمان کے دلوں کو متوجہ کیا جاتا ہے کیونکہ قرآن کا یہ انداز ہے کہ وہ کسی بھی قصے کی ایک ہی کڑی کو لے کر اس کا تجزیہ کرتا ہے اور اہل ایمان کو اس طرف متوجہ کرتا ہے۔ اور اس کڑی کے اندر مسلمانوں کے لئے جو سبق ، نصیحت ، حکمت اور دانائی کی قابل تقلید مثال ہوتی ہے ، اسے واضح کردیتا ہے۔
Ayah 60:5اس قصے کے دوران حضرت ابراہیم کی دعا کا یہ حصہ بھی اہم ہے۔
ربنا لا ........................ کفروا (06 : 5) ” اے ہمارے رب ہمیں کافروں کے لئے فتنہ نہ بنا دے “ ان کافروں کو ہم پر مسلط نہ کر ، کہ یہ تسلط ان کافروں کے لئے فتنہ ہوجائے ، وہ یہ کہیں کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے اور ان کا ایمان ان کو بچا سکتا ، تو ہم ان پر کس طرح غالب ہوجاتے۔ اور یہی شبہات ہر دور میں اہل ایمان کے دلوں میں بھی پیدا ہوتے ہیں ، جب اہل باطل اور اہل کفر اہل ایمان پر غالب ہوجاتے ہیں۔ اور باغی اور سرکشی اہل ایمان پر غالب ہوتے ہیں اور اس میں بھی اللہ کی حکمت ہوتی ہے۔ اور یہ غلبہ ایک وقت کے لئے ہوتا ہے۔ مومن ان ابتلاؤں پر صبر کرتا ہے۔ لیکن ایسے حالات میں بھی اہل ایمان کو دعا کرنا چاہئے کہ وہ ان کو ایسی آزمائشوں میں نہ ڈالے۔
واغفرلنا ربنا (0 : 5) ” اے ہمارے رب ، ہمارے قصوروں سے درگزر فرما “۔ یہ دعا حضرت ابراہیم خلیل اللہ کررہے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی بندگی کا جو اعلیٰ مقام ہے۔ اس تک پہنچنا مشکل ہے اور اللہ کی نعمتوں اور احسانات کے برابر اللہ کی بندگی کوئی بشر نہیں کرسکتا جو اللہ کی پاکی اور جلالت شان کے برابر ہو۔ اس لئے آپ یہ دعا کرتے ہیں کہ آپ کے بعد آنے والوں کے لئے یہ نمونہ ہو۔
آپ کی دعا ، آپ کا رجوع الی اللہ ، آپ کے استغفار ، آپ کی تعریف رب کا خاتمہ یوں ہے :
انک انت .................... الحکیم (06 : 5) ” بیشک تو ہی زبردست اور دانا ہے “۔ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور تیرے سب کام حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔
ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کے اس طرز عمل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں تمہارے لئے ایک بہترین نمونہ ہے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں رجوع الی اللہ کیا اور اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردیا۔
Ayah 60:6لقد کان .................... الحمید (06 : 6) ” انہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لئے اور ہر اس شخص کے لئے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو۔ اس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔
لہٰذا ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی صری اس شخص کے لئے نمونہ ہیں جو اللہ سے امیدوار ہو اور آخر ت کی جواب دہی کے لئے فکر مند ہو۔ صرف ایسے ہی لوگوں کے دلوں میں حضرت ابراہیم کے تجربات کی قدر ہوسکتی ہے۔ اور وہ ان کے لئے نمونہ اور اسوہ ہوسکتے ہیں۔ اور ان کو دیکھ کر کوئی رہنمائی پاسکتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کے مقاصد اللہ اور آخرت ہوں وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نمونے کو دیکھیں۔ یہ اشارہ ہے اہل ایمان کو۔
لیکن جو اسلامی نظام کی پرواہ نہیں کرتے اور جو قافلہ ابراہیمی کے راستے سے ادھر ادھر جانا چاہتے ہیں۔ جو شخص اس شجرہ نسب سے دور جانا چاہتا ہے ، تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔
فان اللہ ............ الحمید (0 : 6) ” اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔ اس سفر سے اب ہم واپس ہورہے ہیں ، اہل ایمان نے اپنی تاریخ کا مطالعہ کرلیا۔ اب وہ زمین پر اپنی یادیں لے کر واپس ہوگئے۔ امم سابقہ میں ان کے لئے جو سبق آموز تجربات تھے وہ انہوں نے جمع کرلیے اور امم سابقہ میں سے جو لوگ ایسے ہی حالات سے گزرے تھے انہوں نے کیا فیصلے کیے تھے اور انہوں نے پالی کہ جس راہ پر وہ چل رہے تھے یہ تو ایسی راہ ہے جس پر پہلے بھی لوگ چلتے رہے ہیں۔ وہ پہلے لوگ نہیں ہیں جنہوں نے یہ کام کیا۔
قرآن کریم اس تصور کو قافلہ اہل اسلام کے دلوں میں خوب بٹھارہا ہے تاکہ یہ قافلہ چلتا رہے۔ اور وہ یہ محسوس نہ کرے کہ وہ اکیلا ہے یا انوکھا ہے۔ اگرچہ موجودہ نسل میں وہ اکیلا ہے۔ یوں اسے سہارا ملتا ہے اور اس راہ پر چلنے میں مشقت کم ہوجاتی ہے۔ یواں کہ راہ اگرچہ دسوار گزار ہے۔ لیکن کئی لوگ پہلے بھی چلتے رہے ہیں اور انہی گھاٹیوں سے ہوکر گزرے ہیں۔
مکہ و مدینہ کے درمیان جو جنگی صورت حالات جاری تھی اور جس کے اندر بھائی بھائی سے کٹ گیا تھا اور لوگ اس صورت حال کو بہت ہی بھاری سمجھتے تھے۔ اب ان کی امید کی ایک کرن دکھائی جاتی ہے کہ یہ صورت حالات اہل مکہ کی ضد کی وجہ سے ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ بالآخر یہ لوگ بھی اس قافلہ میں شریک ہوجائیں گے۔ اسی جھنڈے کو اٹھالیں۔ یوں ممکن ہوگا کہ بھائی بھائی کا باہم تعلق بھی بحال ہوجائے گا اور اب مزید تخفیف کی جاتی ہے اور ایک بین الاقوامی قانون کا مستقبل قاعدہ بیان کردیا جاتا ہے کہ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان مقاطعت اور عداوت اور دشمنی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اسلام کے دشمن ہیں۔ اور اگر کوئی اسلام کی دشمنی ترک کردے تو پھر ہر مسلمان کو اجازت ہے کہ جس کے ساتھ نیکی کرنا چاہے اور وہ مستحق ہے اس کے ساتھ نیکی کرے۔ اور باہم منصفانہ اور عادلانہ روابط قائم کیے جائیں۔
Ayahs 60:7–9اسلام سلامتی کا دین ہے ، محبت کا عقیدہ ہے۔ وہ ایک ایسا نظام ہے جو پوری دنیا کو اپنے سایہ عاطفت میں لینا چاہتا ہے۔ اور پوری دنیا اپنا منہاج قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ لوگوں کو اللہ کے جھنڈوں کے نیچے جمع کرتا ہے اور ان کو باہم متعارف بھائی بناتا ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ یہ ہے کہ اسلام کے دشمن اپنی معاندانہ کاروائیاں کرتے ہیں۔ وہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں۔ اگر مخالفین اسلام ، اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی ترک کردیں تو اسلام کو کسی کے ساتھ دشمنی میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام از خود کوئی دشمنی پیدا نہیں کرتا۔ وہ دشمنی اور جنگی حالت میں بھی انسانی نفوس کے اندر انس و محبت کے اسباب قطع نہیں کرتا۔ وہ منصفانہ معاملہ کرتا ہے اور ہر وقت اس امید میں رہتا ہے کہ تمام لوگ اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوجائیں۔ اسلام کبھی بھی کسی کو ہدایت اور راہ راست پر آجانے سے مایوس نہیں کرتا۔
اس قطعے کی پہلی آیت میں اس امید کا ذکر ہے ، جو کبھی بھی ناامیدی سے مغلوب نہیں ہوتی۔ یہ آیت ان لوگوں کے دلوں کے لئے مرہم ہے جن پر اسلام اور کفر اس جنگ کو مسلط کیا گیا تھا اور مجبوراً ان کو اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ بائیکاٹ کرنا پڑ رہا تھا۔
عسی .................... مودة (06 : 7) ” بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے “۔ اللہ کی طرف سے امید کا اظہار گویا قطعی اشارہ ہے کہ جلد ہی یہ دشمنی ختم ہوجائے گی۔ جن مومنین نے اسے سنا ہوگا ان کو یقین ہوگیا ہوگا۔ اس کے بعد جلد ہی مکہ فتح ہوگیا تھا اور سب اہل مکہ مسلمان ہوگئے تھے اور سب ایک جھنڈے کے نیچے آگئے تھے۔ اور ان تمام ، دشمنیوں اور عنادوں کے دفاتر لپیٹ لئے گئے تھے اور اہل مکہ اور اہل مدینہ بھائی بھائی بن گئے تھے۔
واللہ قدیر (06 : 7) ” اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے “۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
واللہ ............ رحیم (06 : 7) ” اور وہ غفور ورحیم ہے “۔ جو سابقہ زمانے میں اور حالت کفر میں کسی سے شرک ہوگیا ، اس کو بخشنے والا ہے۔ سابقہ زمانے کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔
جب تک اللہ کا وعدہ پورا نہیں ہوجاتا ، جس کے بارے میں اوپر کی آیت میں امید دلائی گئی تھی ، اللہ نے ان لوگوں کے ساتھ تعلقات مودت قائم کرنے کی اجازت دے دی ، جو دین کے معاملے میں مسلمانوں سے برسر جنگ نہیں تھے ، جنہوں نے مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نہیں نکالا تھا ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی کرنے پر جو پابندی سمجھی جاتی تھی اسے رفع کردیا گیا کہ ایسے کفار کے ساتھ بھی عدل کرو اور ان کا کوئی حق اگر تمہارے دائرہ اختیار میں ہے تو اسے ادا کرو ، لیکن جو لوگ دین کے معاملے میں تم سے لڑ رہے ہیں ، انہوں نے تمہیں گھروں سے نکالا ہے ، یا تمہارے نکالنے میں معاونت کی ہے ، تو ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی موالات نہیں ہے ، اور جو لوگ ایسے لوگوں سے موالات کرتے ہیں وہ شالم ہیں۔ ظلم کے معانی میں سے ایک معنی شرک بھی ہے۔ آیت۔
ان الشرک لظلم عظیم پیش نظر ہونی چاہئے۔ مومنین کے لئے یہ شدید تہدید ہے۔ اس لئے انہیں اس قسم کے تعلقات قائم کرتے ہوئے بہت محتاط رہنا چاہئے کہ کہیں سب کچھ نہ گنوادیں۔
یہ اصول جو غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں وضع کیا گیا ہے ، یہ اس دین کے مزاج کے مطابق ہے اور نہایت ہی منصفانہ الاقوامی قانون ہے۔ یہ خالص انسانی نقطہ نظر سے ہے بلکہ اس کو اس پوری کائنات کے نظام کو پیش نظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات ایک ہی الٰہ واحد کی بنائی ہوئی ہے۔ یہ پوری کائنات رب واحد کی طرف متوجہ ہے اور پوری کائنات اللہ کے منصوبے اور نظام اور نقشے کے مطابق چل رہی ہے۔ اگرچہ اس میں لوگوں کے درمیان اختلافات ہیں اور وہ باہم منقسم ہیں۔
یہ اصول اسلام کے بین الاقوامی قانون کا اساسی اصول ہے جس کے مطابق لوگوں کے درمیان امن وسلامتی کی حالت اصلی اور مستقل حالت ہے ، اور اس حالت کے اندر تغیر جارحیت اور دفاع جارحیت کی وجہ سے آجاتا ہے۔ یا اس وجہ سے آتا ہے کہ دو اقوام کے درمیان معاہدہ ہو ، اور ان میں سے ایک معاہدے کو توڑ دے یا خیانت کے امکانات پیدا ہوجائیں یا کوئی قوت آزادی اعتقاد یا آزادی اظہار رائے اور دعوت اسلامی کی راہ میں مزاحم ہوجائے۔ اور یہ بھی دراصل ایک جارحیت ہے۔ ان حالات کے علاوہ اسلام امن وسلامتی ، محبت ، نیکی اور عدل کے احکام دیتا ہے۔
یہ قاعدہ اسلامی نظریہ حیات کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ اسلام انسان اور انسان کے درمیان فرق و امتیاز صرف عقیدے کی بنیاد پر کرتا ہے۔ ایک مومن اگر کسی دوسری قوم کے ساتھ جنگ کرتا ہے تو محض اپنے عقیدے کی وجہ سے کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کی کوئی اور وجہ نہیں ہے۔ الام صرف دعوت کی آزادی اور رائے کی آزادی کے لئے لڑتا ہے۔ اس کے علاوہ فقط وہ اسلامی نظام کے قیام اور اعلائے کلمة اللہ کے لئے لڑتا ہے۔
یہ توجیہہ اور تفسیر اس پوری سورت کے رخ کے ساتھ بھی موافق ہے جس کے اندر عقائد ونظریات کی اہمیت سے بحث ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان صرف نظریاتی جھنڈے کے نیچے لڑ سکتے ہیں۔ اس لئے جو شخص اس محاذ میں ان کے ساتھ کھڑا ہوا تو وہ ان میں سے ہے۔ اور جس نے اس نکتے پر ان سے جنگ کی تو وہ ان کا دشمن ہے۔ جس شخص نے ان کے ساتھ امن کی حالت کو برقرار رکھا اور ان کو ان کے عقائد پر چھوڑ دیا کہ وہ اپنے عقائد کی طرف لوگوں کو بلائیں اور ان کی راہ روکنے کی کوشش نہ کی اور لوگوں کو زبردستی اسلامی عقائد قبول کرنے سے روکا تو وہ مسالم ہے اور اسلام ان کے ساتھ نیکی اور سماجی تعلق قائم کرنے سے نہیں روکتا۔
اصل بات یہ ہے کہ ایک مسلم اس کرہ ارض پر اپنے عقیدے کی خاطر زندہ ہوتا ہے۔ اس کا مسئلہ اس کا نظریہ اور اس کے ماحول کے ساتھ اس مسئلہ بھی یہی نظریہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے مصلحت اور مفادات پر کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہوتا۔ وہ کسی عصبیت کے لئے جہاد نہیں کرتا مثلاً رنگ ، نسل ، زبان اور علاقے کی عصبیت۔ اسلام میں جنگ اگر ہے تو صرف نظریات کے لئے ہے۔ اس لئے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو ، اور اسلامی نظام کے لئے جنگ ہے۔
اس کے بعد سورة توبہ نازل ہوئی۔ جس میں ہے۔
براءة من اللہ ................ المشرکین (9 : 1) ” اللہ اور رسول کی طرف سے مشرکین سے بیزاری کا اعلان ہوتا ہے “۔ اس کے ذریعہ جزیرة العرب میں مشرکین کے ساتھ معاہدات ختم کردیئے گئے۔ جن لوگوں کے معاہدے میں میعاد مقرر نہ تھی ان کو چار ماہ کی مہلت دے دی گئی اور جن کے ساتھ میعاد مقرر تھی ان کے ساتھ معاہدے کی مدت طے کی گئی۔ لیکن امن کے وہ معاہدات جو جزیرة العرب کے مشرکین کے ساتھ تھے اور جنہیں منسوخ کیا گیا وہ اس لئے کہ مشرکین عرب بار بار معاہدے توڑ رہے تھے۔ جب انہیں فائدہ ہوتا تو معاہدے پر عمل کرتے ، اور جب نقصان ہوتا تو توڑ دیتے۔ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے اسلام نے ایک دوسرابین الاقوامی قاعدہ بنایا۔
واما تخافن ........................ الخاء نین ” اگر تمہیں کسی قوم سے خیانت کا خطرہ ہو تو اعلانیہ ان کا معاہدہ ان کے سامنے پھینک دو ، بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتا “۔ اور یہ ضرورت اس وقت اس لئے بھی پیش آئی تھی تاکہ اسلام کے پایہ تخت اور مرکز کو محفوظ کردیا جائے۔ اس وقت مرکز اسلام جزیرة العرب تھا۔ اور اس کو ان لوگوں سے پاک کرنا ضروری تھا ، جو مسلمانوں کے بارے میں ہر وقت انتظار میں رہتے تھے ، کہ کوئی موقعہ ملے اور وہ حملہ آور ہوں۔ مشرکین اور اہل کتاب معاہدین بار بار عہد توڑے تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ چونکہ دشمنی کی حالت ہوا کرتی ہے ، اس لئے ایسے حالات میں اگر فریقین حالت جنگ پر ہوں تو دونوں کے لئے مفید ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ قیصر وکسریٰ عظیم مملکتوں نے اسلامی مملکت کے خلاف افواج جمع کرنا شروع کردی تھیں۔ اور دونوں نے اسلام کو اپنے لئے خطرہ سمجھ لیا تھا۔ دونوں نے جزیرة العرب کے ساتھ ساتھ عربی ریاستوں کا رخ جزیرة العرب کی طرف پھیر دیا تھا۔ لہٰذا اسلامی بلاک کی اندرونی تطہیر ضروری ہوگئی تھی تاکہ متوقع بیرونی جارحیت کا موثر مقابلہ کیا جاسکے۔ یہ نوٹ یہاں کافی ہے۔
Ayahs 60:10–11اب سیاق سورت کی طرف آتے ہیں۔ اب مومنات مہاجرات کی بات۔
یایھا الذین .................................... بہ مومنون (0 : 11) 06 : 01۔ 11)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب مومن عورتیں ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو (ان کے مومن ہونے کی) جانچ پڑتال کرلو ، اور ان کے ایمان کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لئے حلال۔ ان کے کفار شوہروں نے جو مہران کو دیئے تھے وہ انہیں پھیر دو ۔ اور ان سے نکاح کر لنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو۔ جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیئے تھے وہ تم واپس مانگ لو۔ اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیئے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں۔ یہ الہل کا حکم ہے ، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔ اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کر دو جو ان کے دیئے ہوئے مہروں کے برابر ہو۔ اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو “۔
ان آیات کے شان نزول کے بارے میں آیا ہے کہ صلح حدیبیہ کی عبارت یوں تھی :” یہ کہ نہیں آئے گا ہم سے کوئی شخص تمہاری طرف جو تمہارے دین پہ ہو ، تو تم اسے ہماری طرف لوٹاؤ گے “۔ جب رسول اللہ ﷺ اور مسلمان ابھی حدیبیہ کے نشیبی علاقے میں تھے کہ کچھ مومن عورتیں آئیں ، یہ ہجرت کا مطالبہ کررہی تھیں اور دارالاسلام آنا چاہتی تھیں۔ قریش آگئے ، کہ ان کو مطابق معاہد واپس کریں۔ معاہدہ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاہدے میں عورتوں کے بارے میں کچھ بھی نہ تھا۔ یہ تو آیات نازل ہوئیں ، جنہوں مہاجر عورتوں کو لوٹانے سے منع کردیا۔ کیونکہ عورتیں کمزور تھیں اور ان کو ان کے دین کے بارے میں فتنے میں مبتلا کیا جاسکتا تھا۔
ان کی ہجرت کے ساتھ ہی اس سلسلے کے بین الاقوامی احکام بھی نافذ ہوگئے۔ یہ قانون سازی بھی نہایت ہی منصفانہ انداز پر کی گئی اور اس میں فریق مخالف کی زیادتیوں کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ کیونکہ اسلام داخلی اور خارجی معاملات میں کوئی قانون انتقامی جذبات پر نہیں بناتا۔
اس سلسلے میں اسلام نے پہلے اقدام یہ کیا کہ ان عورتوں کے حالات کو دیکھا جائے کہ آیا وہ کس مقصد کے لئے ہجرت کررہی ہیں ؟ یہ نہ ہو کہ وہ اپنے سابق خاوندوں سے جان چھڑانا چاہتی ہوں ، یا کسی منفعت کی طلب گار ہوں ، یا یہ نہ ہو کہ وہ دارا الاسلام میں کسی محبوب کے پیچھے تو نہیں جارہی ہیں۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ان سے حلف لیا جاتا تھا کہ وہ خاوند کی دشمنی میں تو نہیں نکل آئیں۔ یہ بھی حلف لیا جاتا تھا کہ مکہ سے تنگ آکر مدینہ کی زمین کی طرف تو نکل آنا نہیں چاہتیں۔ یہ حلف لیا جاتا تھا کہ دنیا کے کسی اور مفاد کے لئے تو نہیں آگئیں۔ اور یہ حلف لیا جاتا تھا کہ وہ اللہ اور رسول کی محبت کے سوا کسی اور جذبہ کے تحت تو نہیں آگئیں ؟ اور یہ حلف لیا جاتا تھا کہ وہ اللہ اور رسول کی محبت کے سوا کسی اور جذبہ کے تحت تو نہیں آگئیں ؟ حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ حلف میں یہ بھی تھا کہ تم صرف اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں آرہی ہو ، مسلمانوں میں سے کسی شخص کے ساتھ تمہیں محبت تو نہیں ہے ، یا تم اپنے خاوند سے بھاگنا تو نہیں چاہتی ہو ؟
یہ ہوتا تھا ان کا امتحان۔ ان کے ظاہری حالات پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے حلیفہ بیان پر اکتفا کیا جاتا تھا۔ رہا یہ معاملہ کہ ان کے دلوں میں کیا ہے تو اس سے صرف اللہ خبردار ہے۔ انسان کے لئے کوئی راہ نہیں ہے کہ وہ دلوں کے راز جان سکے۔
اللہ اعلم بایمانھن (06 : 01) ” ان کی حقیقت ایمان تو اللہ ہی جانتا ہے “۔ اگر وہ اس مضمون کا اقرار بذریعہ بیان حلفی کردیں تو پھر۔
فلا ترجعو ........................ لھن (06 : 01) ” تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لئے حلال “۔
اصل میں اعلیٰ تعلق آگیا ہے۔ ایمانی تعلق اور اس نے تمام دوسرے تعلقات کاٹ دیئے ہیں۔ اس لئے اب کوئی ایسا تعلق باقی نہیں رہا ہے کہ اس جدانی کو جوڑ سکے۔ میاں بیوی کا تعلق تو ایسا تعلق ہے کہ اس میں دو افراد ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں ، جڑ جاتے ہیں اور ایک مستقل اور دائمی تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ جب زوجین کے درمیان ایمانی اتحاد نہ ہو تو زوجیت کے حقوق پورے کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایمان دل کی اعلیٰ زندگی کا نام ہے اور اس کی جگہ کوئی جذبہ قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ اگر ایمان کا تعلق نہ ہو تو میاں بیوی کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی ممکن نہیں ہے۔ نہ فریقین کے درمیان انس پیدا ہوسکتا ہے نہ یگانگت۔ جبکہ میاں بیوی کے درمیان محبت ، باہم شفقت اور انس و سکون ضروری ہے۔
ابتدائی زمانہ ہجرت میں یہ حکم نہ آیا تھا۔ مومنہ عورت اور کافر مرد کے درمیان تفریق نہ کی جاتی تھی۔ نہ مومن مرد اور کافرہ عورت کے درمیان تفریق کی جاتی تھی۔ اس لئے کہ اس دور میں اسلامی نظام معاشرت اور اسلامی سوسائٹی ابھی مستحکم نہ تھی۔ لیکن صلح حدیبیہ یا فتح حدیبیہ کے بعد ، زیادہ تر روایات کے مطابق یہ فیصلہ کردیا گیا کہ اب مومن اور کافر کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہ رہے۔ ازدواجی تعلق صرف مومن اور مومنات کے درمیان ہو۔ جیسا کہ عملی صورت یہ ہوگئی تھی کہ صرف ایمان کا رابطہ رہ گیا تھا اور مدینہ طیبہ میں صرف ایمانی تعلق تھا۔ اللہ اور رسول کا تعلق رہ گیا تھا ، باقی تمام قسم کے تعلقات کاٹ دیئے گئے تھے۔ بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے تھے۔
لیکن اس تفریق کے بعد پھر نقصان رسیدہ فریق کے لئے منصفانہ قانون سازی کی گئی۔ اگر کسی کافر خاوند کی بیوی کی جدائی کا حکم صادر ہوتا ہے تو اس نے بیوی کو جو مہر دیا تھا ، یا دوسرے اخراجات اٹھائے تھے وہ واپس کرنے ہوتے تھے۔ اسی طرح اگر کسی کافر عورت کو مسلم مرد سے جدا کیا تو مسلم مرد نے جو مہر دیا اور نفقہ دیا وہ اسے واپس کردیا جاتا تھا۔
اب مومنات مہاجرات کے ساتھ مومنین کا نکاح جائز قرار دیا گیا بشرطیکہ وہ ان کو مہر ادا کردیں۔ اس میں ایک فقہی اختلاف ہے کہ آیا ان عورتوں کو عدت گزارنی تھی یا نہیں۔ صرف حاملہ عورتوں کو عدت گزارنی تھی یعنی جب تک وضع حمل نہ ہوجائے۔ اگر عدت ہے تو کیا یہ مطلقہ عورت کی عدت ہے یعنی تین طہریا ینی۔ یا یہ کہ ایک حیض آنے کے ساتھ اور رحم پاک ہونے کا تیقن کافی ہے۔ (کتب فقہ دیکھیں)
واتوھم ما ................ ماانفقوا (06 : 01) ” ان کے کافر شوہروں نے جو مہران کو دیئے تھے وہ انہیں پھیر دو ۔ اور ان سے نکاح کر لنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو۔ جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیئے تھے وہ تم واپس مانگ لو۔ اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیئے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں “۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان تمام احکام پر عمل کا ضامن اور چوکیدار مقرر کرتا ہے جو ہر مسلم کے دل میں ہے۔ کہ اللہ دیکھ رہا ہے ، اللہ سے ڈرو۔
ذلکم .................... حکیم (06 : 01) ” یہ اللہ کا حکم ہے ، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے “۔ یہ واحد ضمانت ہے جس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ کوئی دھوکہ ، حلیہ یا نقص عہد نہ کرے گا ، کیونکہ اللہ کے احکام تو علیم وخبیر کے احکام ہیں۔ اور یہ اس حاکم کے احکام ہیں جو دلوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ یہ احکام نہایت قوی اور قدرتوں والے حاکم کے ہیں۔ ایک مسلمان کے ضمیر میں بس یہی رابطہ کافی ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ حکم کہاں سے آیا ہے اس لئے وہ ان احکام پر چلتا ہے اور ان کا خیال رکھتا ہے۔ کیونکہ مومن کو یقین ہوتا ہے کہ اس نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔
اب اگر مسلمانوں نے اپنی بیویوں کو مہر وغیرہ دیا ہو اور وہ بیویاں دارالکفر میں رہ گئی ہوں جہاں وہ اس قانون کے مطابق جدا ہوگئی ہوں اور ان کے اہل خانہ یا اولیاء نے مومن مسلمانوں کے حق کو واپس نہ کیا ہو ، جیسا کہ بعض حالات میں عملاً ایسا ہوا۔ تو امام وقت ان کے نقصان کی تلاف اس فنڈ سے کردے گا جو ان کافروں کی ملکیت ہوگا جن کی بیویاں دارالاسلام کو آگئی ہوں یا ان رقومات سے ادائیگی کردی جائے گی جو کفار کے ہاں سے مال غنیمت مسلمانوں کو ملا۔
وان فاتکم .................... ما انفقوا (06 : 11) ” اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کر دو جو ان کے دیئے ہوئے مہروں کے برابر ہو “۔
اور اس حکم اور اس پر عمل کرنے کو بھی ایمان سے جوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ اسلام میں ہر حکم اللہ سے مربوط ہے۔
واتقوا ................ بہ مومنون (06 : 11) ” اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو “۔ اللہ پر ایمان لانے والوں کے لئے یہ بہت ہی موثر یاد دہانی ہے۔
یوں یہ احکام زوجین کے درمیان ایک حقیقت پسندانہ فسخ نکاح کرتے ہیں۔ اور یہ جدائی اسلامی تصور حیات کے مطابق ہے۔ اسلام ازدواجی رشتوں کے لئے ایک الگ تصور رکھتا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ اسلامی صفیں دوسری صفوف سے مکمل طور پر جدا اور ممتاز ہوں۔ اور اسلام کی پوری زندگی اسلامی نظریہ حیات پر استوار ہو۔ اور ایمان کے محور کے ساتھ وہ مربوط ہو۔ اور ایک ایسی انسانی سوسائٹی تشکیل پائے جس کے اندر نسل ، رنگ ، زبان ، نسب اور زمین اور علاقوں کی بنیادوں پر کوئی اجتماعی نظام نہ ہو۔ اور صرف ایک ہی جھنڈا ہو جس کے مطابق لوگوں کے درمیان تفریق ہو۔ یعنی وہ پارٹی جو اللہ والوں کی ہے۔ وہ حزب اللہ ہے اور وہ پارٹی جو شیطان کی ہے جسے حزب الشیطان کہا جاتا ہے۔
Ayah 60:12اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو بتایا جاتا ہے کہ یہ عورتیں جو مہاجر ہوگئی ہیں ان سے کن باتوں پر بیعت لی جائے گی۔ یہ عورتیں یا وہ عورتیں جو اسلام میں داخل ہونا چاہتی ہیں ان کی بیعت یہ ہوگی :
یایھا النبی ............................ غفور رحیم (06 : 21) ” اے نبی جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کرنے کے لئے آئیں اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیزکو شریک نہ کریں گی ، چوری نہ کریں گی ، زنانہ کریں گی ، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی ، اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی ، اور کسی امر معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی ، تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو ، یقینا اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے “۔
یہ باتیں جن پر عورتوں سے بعیت لی گئی ہے ، یہ اسلامی نظریہ حیات کے بنیادی عناصر ہیں اور اجتماعی زندگی کے بھی یہ اساسی اصول ہیں۔
1۔ یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ مطلقاً کسی کو شریک نہ کریں گی۔ 2۔ سرقہ نہ کریں گی۔ 3۔ زنا سے اجتناب کریں گی۔ 4۔ اولاد کو قتل نہ کریں گی۔
جاہلیت میں رواج تھا کہ عورتوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ نیز اس میں جنین کو قتل کرنا بھی شامل ہے۔ جس کا سبب کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ وہ جنین کی امین ہیں۔
ولا یاتین ................ وارجلھن (06 : 21) ” اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی “۔ اس کا مفہوم حضرت ابن عباس نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے خاوندوں کے علاوہ کسی اور کی اولاد کو ان خاوندوں کے ساتھ نہ ملائیں گی۔ یہی رائے مقاتل کی ہے۔
یہ تحفظزنا سے ارتکاب سے بچنے کی بیعت کے بعد ایک لازمی ہدایت ہے۔ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ عورتیں کئی مردوں سے تعلقات زناشوئی قائم کرتی تھیں۔ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تھا وہ اسے اس شخص کو قرار دے دیتیں جس کے ساتھ وہ مشابہت رکھتا۔ بعض اوقات یہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ بچے کا الحاق کر ادیتیں حالانکہ ان کو اس کا باپ معلوم ہوتا تھا۔
لیکن آیت کے عمومی الفاظ میں تمام ایسے حالات آتے ہیں جن میں بہتان تراشی ہوتی ہو۔ ابن عباس اور مقاتل نے اسے جو مخصوص کیا ہے تو اس لئے کہ اس وقت ایسے حالات موجود تھے جو حرامت زنا کے حکم سے ختم ہورہے تھے لیکن موجود حاملہ عورتوں کو تو بچوں کے الحاق کا فیصلہ بہرحال کرنا ہی تھا۔
ولا یعصینک ................ معروف (06 : 21) ” اور کسی معرف امر میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی “۔ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہے۔ ہر اس معاملے میں جو آپ ان سے کہیں اور ظاہر ہے کہ حضور تو معروف کا حکم ہی دیں گے۔ لیکن یہاں معروف کے لفظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ ایک دستوری دفعہ ہے ۔ اسلامی دستور میں یہ بنیادی قاعدہ ہے کہ حکمرانوں کی اطاعت کے دائرے کے اندر محدود ہے۔ صرف ان کاموں میں حکمرانوں کی اطاعت لازمی ہے جو شریعت اسلامیہ کے مطابق ہوں۔ اسلام میں مطلق اطاعت کا کوئی اصول نہیں ہے۔ اسلامی دستور کے مطابق قانون سازی اور حکمرانی کے اختیارات کا سرچشمہ اسلامی شریعت ہے۔ امام وقت کا ارادہ نہیں ہے نہ قوم کا ارادہ نہ اکثریتی یا اجتماعی کسی اصول کو قانون کا درجہ دے سکتا ہے جو شریعت کے خلاف ہو۔ لہٰذا قوم اور قوم کا امام دونوں اسلامی شریعت کے پابند ہیں۔
جب ان عورتوں نے بیعت کرلی تو تب وہ مومنات ہوں گی۔ اور تب ان کے حق میں رسول اللہ ﷺ مغفرت کی دعا کریں گے کہ اللہ ان کے سابقہ گناہوں کو معاف کرے۔
ان اللہ ............ رحیم (06 : 21) ” بیشک اللہ درگزرنے والا اور رحیم ہے “۔ وہ کوتاہیوں کو معاف کرنے والا ہے۔
Ayah 60:13آخر میں اثر انگیر تبصرہ :
یا یھا الذین .................... القبور (06 : 31) ” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، ان لوگوں کو دوست نہ بنایو ، جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے ، جو آخرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر مایوس ہیں “۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ اس قوم سے مراد یہودی ہیں ، جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اور اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ قرآن کریم میں کئی جگہ اس قوم کے لئے یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، لیکن یہ آیت عام بھی ہوسکتی ہے کہ اس کے مفہوم میں وہ لوگ بھی آجائیں جو مشرکین ہیں اور جن کا تذکرہ اس پوری سورت میں ہوا ہے اور اللہ کے تمام دشمن اس سے مراد ہوں۔ کیونکہ اللہ کے سب دشمن آخرت سے مایوس ہیں اور وہ آخرت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اور ان کو تشبیہ ان کفار سے دی گئی ہے جو قبروں میں ہیں۔ ان کو تو معلوم ہوچکا ہے کہ انہوں نے کفر اور شرک کا ارتکاب کیا۔ اب وہ دائمی جہنمی ہیں۔ دنیا کی مہلت ختم ہے۔ اب حشر میں صرف حساب ہونا ہے اور انہوں نے جہنم میں گرنا ہے۔
یہ آخری پکار پوری سورت کی پکاروں کو اور پوری سورت کی دعوتوں کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ اس طرح سورت کا خاتمہ اور آغاز ایک ہی مضمون سے ہوا کہ مغضوب علیھم کو دوست نہ بناؤ اور اس خاتمے کے اندر سورت کی تمام آواز کو جمع کردیا گیا۔