59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 59:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

اللہ ہی کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور وہی غالب اور حکیم ہے۔

سورت کا آغاز اس حقیقت سے ہوتا ہے اور یہ ایک عظیم ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور یہ اللہ کی پاکی اور بڑائی بیان کرتے ہوئے اس ایک اللہ کی طرف توجہ ہے۔ یہ ان لوگوں کے افراد کی کہانی جنہوں نے اہل کتاب ہونے کے باوجود کفر کیا۔ نقص عہد کیا۔ ذرا دیکھو ، کس طرح ان کے گھروں سے اس ذات نے ان کو نکالا۔ اور جو لوگ رات اور دن اللہ کی تمہید کرتے ہیں وہ سب کچھ ان کو عطا کردیا۔ اور فی الواقعہ۔ وھوالعزیز الحکیم (95 : 1) ” وہی غالب و حکیم ہے “۔ وہ اس قسم کے اسباب فراہم کرتا ہے جن سے اس کے دوستوں کی امداد ہوتی ہے اور ایسے اسباب پیدا کرتا ہے کہ دشمن اپنے ہاتھوں تباہ ہوتے ہیں۔ وہ تقدیر وتدبیر کرنے میں بہت بڑا حکیم ہے۔ اس کے بعد اس حادثہ کا بیان یوں ہوتا ہے :
Ayah 59:2

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ تمہیں ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے ، اور وہ بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ان کی گڑھیاں انہیں اللہ سے بچا لیں گی۔ مگر ایسے رخ سے ان پر آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ گیا تھا۔ اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کررہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کروا رہے تھے۔ پس عبرت حاصل کرو اے دیدہ بینار رکھنے والو !

ھوالذی ........................ شدید العقاب (4) (95 : 2 تا 4) ” وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ تمہیں ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے ، اور وہ بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ان کی گڑھیاں انہیں اللہ سے بچا لیں گی۔ مگر ایسے رخ سے ان پر آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ گیا تھا۔ اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کررہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کروا رہے تھے۔ پس عبرت حاصل کرو اے دیدہ بینار رکھنے والو ! اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا ، اور آخرت میں تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا ، اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اس کی سزا دینے میں بہت سخت ہے “۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ ہی تھا جس نے پہلے حشر یا ہلے میں اہل کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے نکال دیا۔ در حقیقت ہر چیز کا فاعل اللہ ہی ہوتا ہے لیکن اس آیت میں براہ راست نسبت بھی اللہ ہی کی طرف کی گئی ہے۔ اور پردہ احساس پر یہ بات آئی ہے کہ اس مہم کی قیادت ہی اللہ کررہا تھا۔ اور گویا اس مہم میں دست قدرت کسی پردے میں نہ تھا۔ اور ان نکالے ہوئے لوگوں کو ایسی سر زمین کے لئے نکالا کہ جہاں سے ان کو اٹھایا جائے گا۔ لہٰذا یہ لوگ مدینہ کی طرف اب کبھی واپس نہ ہوں گے اور ان کا حشر ہی اب جلاوطنی کی سر زمین سے ہوگا۔ اللہ کا براہ راست ان کو نکالنا اور ان کو دوسری سر زمین کی طرف پھیلانا درج ذیل آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ ماظننتم .................... من اللہ (95 : 2) ” مگر اللہ ایسے رخ سے ان پر آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ گیا تھا۔ اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ “ اللہ ان پر ان کے دلوں کے اندر سے حملہ آور ہوا۔ ان کے قلعے جیسے تھے ویسے ہی رہے۔ ان کے دلوں میں اللہ نے خوف ڈال دیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے قعلوں کے دروازے کھول دیئے۔ اللہ کی قدرت نے دکھایا کہ وہ اپنے آپ پر بھی کنٹرول نہیں رکھتے۔ ان کے دل بھی ان کے کنٹرول میں نہیں اور وہ اپنے ارادوں اور اپنے منصوبوں کے بھی مالک نہیں رہے۔ ارادوں اور منصوبوں پر بھی قائم نہ رہ سکے۔ چہ جائیکہ وہ قلعوں میں بندر ہیں۔ انہوں نے باقی تو ہر قسم کے دفاعی انتظامات کر رکھے تھے ، البتہ ایک انتظام رہ گیا تھا کہ ان کے دل بھی مضبوط ہوں۔ اس طرف سے وہ غافل تھے۔ اللہ نے ان کی ہمتوں کو پاش پاش کردیا۔ یہی ہوتا ہے کہ جب اللہ کسی کام کو کرتا ہے۔ اللہ کو معلوم تھا کہ کہاں سے حملہ کیا جائے۔ وہ ہر چیز کا عالم ہے اور وہ ہر چیز پر خبردار ہے۔ لہٰذا نہ کسی سبب کی ضرورت پیش آئی اور نہ کسی ظاہری وسیلے کی ضرورت پیش آئی جو عوام الناس کے ذہنوں میں ہوتے ہیں۔ اسباب ووسائل بھی تو اللہ کے مہیا کردہ ہوتے ہیں۔ جب اللہ کوئی چیز چاہتا ہے تو اس کے اسبب چشم زون میں سامنے آجاتے ہیں۔ جس طرح نتائج اور انجام اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اسی طرح اسباب ووسائل بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ کے لئے نہ اسباب ووسائل مشکل ہیں اور نہ نتائج اور انجام۔ وہ تو عزیز و حکیم ہے۔ اہل کتاب کے کافر اپنے قلعوں میں خود قلعہ بند ہوئے لیکن اللہ نے ایسے زاویہ سے حملہ کیا جس کی وہ توقع ہی نہ کرتے تھے اور اس نوبت کی۔ انہوں نے قلعہ بندی کی ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے گھروں اور قلعوں کے دفاع کا انتظام کیا تھا مگر ہوا یوں کہ وہ اپنے ہاتھوں سے گھروں اور قلعوں کو خراب کرتے رہے ، اور مومنین کو بھی وہ موقعہ دیتے تھے کہ ان کو خراب کریں۔ یخربون ................ المومنین (95 : 2) ” وہ اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو خراب کررہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کررہے تھے “۔ اس آیت پر ان اہل کتاب کافروں کی کہانی ختم ہوگئی۔ کس قدر عبرت آموز انداز میں اور کس قدر تصویر کشی کے انداز میں اور نظر بھی ایسا کہ حرکت سے بھرپور۔ اللہ ان پر ان کے قلعوں کے پیچھے سے حملہ آور ہوتا ہے اور وہ خود اپنے قلعوں کو گرانا شروع کردیتے ہیں اور مومنین بھی خراب کرتے ہیں اور وہ بھی خراب کرتے ہیں۔ اب اس منظرنامے پر پہلا تبصرہ ملاحظہ فرمائیں : فاعتبر وا ................ الابصار (95 : 2) ” پس عبرت حاصل کرو اے دیدہ بینا رکھنے والو “۔ یہ تبصرہ نہایت ہی بر محل ہے ، اس کے لئے دل بالکل تیار ہیں اور ہر پڑھنے والا بھی حیران ہے کہ اس قدر منصوبے اور یہ دفاع ! اگلی آیت میں یہ بات بتائی جاتی ہے کہ اللہ نے یہ فیصلہ کرالیا تھا کہ آخرت سے پہلے ، اس دنیا ہی میں ، ان کو ذلیل و خوار کیا جائے گا۔ ان کے بچنے کی کوئی صورت تھی ہی نہیں۔
Ayah 59:3

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا ، اور آخرت میں تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔

ولولا .................... النار (95 : 3) ” اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا ، اور آخرت میں تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے ہی “۔ لہٰذا اللہ کا عذاب ان پر آنا ہی تھا۔ جس طرح کہ ان پر آگیا اگر یہ صورت اللہ نے لکھ نہ دی ہوتی تو دوسری صورت میں آتا۔ یہ عذاب دنیا بھی ان کے لئے طے تھا اور قیامت کا عذاب تو بہرحال مقدر ہے ، کیوں ؟
Ayah 59:4

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا ، اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اس کی سزا دینے میں بہت سخت ہے “۔

ذلک ................ العقاب (95 : 4) ” یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا ، اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اس کی سزا دینے میں بہت سخت ہے “۔ المشاقہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اللہ کی طرف اور اس کی سائیڈ لینے کی بجائے جانب مخالف میں چلے گئے ہیں۔ اللہ کی جانب یہ تھی کہ وہ رسول اللہ کی طرف ہوجاتے۔ کیونکہ یہی اللہ کی طرف تھی۔ آیت کے آخر میں یہ کہا کہ جو اللہ کے مقابلہ کرتا ہے تو اس میں ضمنار سول کا مقابلہ بھی آجاتا ہے۔ یہ عجیب اور مضحکہ خیز منظر ہے کہ کمزور بندے رب ذوالجلال کے مقابلے پر اتر آئیں اور اللہ کے مقابلے میں قلعہ بند ہوں۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ انسانوں میں کمزور مخلوق اللہ کے غضب کو دعوت دے۔ اللہ تو شدید غضب والا ہے۔ یہاں ایک اہم بات ہے بنی نضیر کے بارے میں۔ الذین ................ الکتب (95 : 2) ” وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے کافرہوتے ہیں “۔ اور اس سورت میں اس بار بار تکرار آئی ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے دین کا انکار کردیا ہے جو اللہ نے حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا تھا۔ یہودی حضرت محمد ﷺ کے آنے کا انتظار کیا کرتے تھے۔ یہاں ان کے لئے کفر کی صفت کا ذکر اس لئے ضروری تھا کہ یہی کفر ان کی اس سزا کا سبب تھا اور یہ بھی بتانا مقصود تھا کہ مسلمان ان کے خلاف جو ایکشن لے رہے ہیں اس کا اخلاقی جواز موجود ہے کہ یہ بھی دوسرے کافروں کی طرح کافر ہیں۔ اور اس وجہ سے ان پر عذاب آیا۔ لہٰذا۔ الذین .................... الکتب (95 : 2) کا فقرہ بہت ہی بامقصد ہے۔ اس کے بعد اہل ایمان کو بعض واقعات پر مطمئن کیا جاتا ہے ، کہ ایک تو یہ کفر کرنے والے تھے ، دوسرے یہ رسول اور اللہ سے دشمنی کرنے والے تھے ، اس لئے جنگی ایکشن کے دوران ان کے جو باغات کاٹے گئے یا جلائے گئے یا چھوڑے گئے ، تو اس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ اللہ کے حکم سے ایسا ہوا۔ اور یہودی اس سلسلے میں جو پروپیگنڈہ کرتے ہیں مومنین کو اس سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔
Ayah 59:5

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

تم لوگوں نے کھجوروں کے جو درخت کاٹے یا جن کو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا ، یہ سب اللہ ہی کے اذن سے تھا۔ اور (اللہ نے یہ اذن اس لئے دیا) تاکہ فاسقوں کو ذلیل و خوار کرے۔

لینہ (95 : 5) کھجور کے بہترین درختوں کو کہتے ہیں۔ یہ اس وقت کی بہترین قسم تھے جسے سب جانتے تھے۔ مسلمانوں نے یہودیوں کے باغات میں سے بعض کو کاٹا تھا۔ بعض کو چھوڑدیا تھا۔ ان کے دلوں میں ایک خلجان تھا ، یعنی کاٹنے پر ، اور چھوڑنے پر۔ جبکہ اس سے قبل اور اس کے بعد مسلمانوں کے لئے جنگی ضابطہ یہی رہا کہ تحریق اور بربادی سے گریز کیا جائے۔ اس لئے اس واقعہ میں جو کچھ ہوا اس کی استثنائی حالت کے لئے یہ آیت آئی تاکہ مسلمانوں کے دل مطمئن ہوجائیں۔ آیت نے کہہ دیا کہ اگر باغات جلانے کو تم نے چھوڑا ہے اور اس سے اجتناب کیا ہے تو یہ بھی اللہ کا اذن تھا اور اگر کاٹ کر جلایا ہے تو یہ بھی اذن الٰہی تھا۔ کیونکہ اس مہم کی نگرانی اللہ براہ راست کررہا تھا۔ اس لئے اللہ نے مسلمان لشکروں سے ایسا کروایا۔ ان کے ہاتھوں تعذیر کو ظاہر کیا۔ لہٰذا یہ سب کاروائیاں اس کی مرضی سے ہوئیں۔ ان سے اللہ ان فاسقوں کو ذلیل کرنا چاہتا تھا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے پیارے باغات گر رہے تھے اور جل رہے تھے اور جو چھوڑے گئے تھے وہ بھی ان کے لئے باعث حسرت تھے کہ چھوڑ کر جارہے تھے۔ اللہ کی منشا تھی کہ دونوں طرح ان کو حسرت سے دو چار کرے۔ جن مومنین کے دل میں خلجان تھا کہ یہ تخریب وتحریق کیوں ہوئی ، ان کو اطمینان ہوا ، ان کو تسلی ہوگئی کہ یہ تو اللہ کی منشا تھی۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ تو دست قدرت کے آلات محض تھے۔ اس سورة کا یہ دوسرا پیراگراف بھی ایک نہایت ہی اہم مسئلے کو لیتا ہے کہ اس واقعہ میں جو اموال ہاتھ لگے اور حضور کی طرف پلٹے یا ایسے ہی واقعات بعد کے زمانے میں پیش آئیں تو ان کا حکم کیا ہے۔ یعنی وہ اموال جو جنگ اور قتال کے بغیر ہاتھ آجائیں۔ یا ایسے واقعات جن میں قدرت الٰہیہ نے مسلمانوں کے لئے اموال فراہم کیے۔ اور مسلمانوں نے اس میں کوئی زیادہ جنگی کاروائی نہ کی ہو۔
Ayah 59:6

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو مال اللہ نے ان کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول کی طرف پلٹا دیئے ، وہ ایسے مال ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے ہوں ، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے ، تسلط عطا فرما دیتا ہے ، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وما افاء اللہ .................................... رحیم (01) (95 : 6 تا 01) ” اور جو مال اللہ نے ان کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول کی طرف پلٹا دیئے ، وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے ہوں ، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے ، تسلط عطا فرما دیتا ہے ، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتامی اور مساکین اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (نیز وہ مال) ان غریب مہاجرین کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال باہر کیے گئے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی حمایت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ یہی راست باز لوگ ہیں (اور وہ ان لوگوں کے لئے بھی ہے) جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے۔ یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں۔ (اور وہ ان لوگوں کے لئے بھی ہے) جو ان اگلوں کے بعد آئے ہیں ، جو کہتے ہیں کہ ” اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے کوئی بغض نہ رکھ ، ہمارے رب ، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔ “ ان آیات میں فے کا حکم بیان ہوا یا فے جیسے دوسرے اموال کا۔ نیز ان آیات میں امت مسلمہ اور اسلامی سوسائٹی کی ایک نہایت ہی اہم صفت اور اس کی دائمی حالت کو بیان کیا گیا ہے جو امت مسلمہ کی امتیازی صفت رہی ہے اور امت کی پوری تاریخ میں اس کی امتیازی شان رہی ہے۔ یہ امت کی وہ خصوصیت رہی ہے جس کو اس نے مضبوطی سے پکڑے رکھا ہے۔ کسی دور میں بھی خدا کے فضل سے امت سے یہ صفت جدا نہیں ہوئی ہے۔ یہ صفت امت مسلمہ کی کسی نسل ، کسی قوم ، کسی شخص مسلم سے ایک طویل اسلامی تاریخ میں کبھی جدا نہیں ہوئی ہے۔ پھر اس دنیا میں جن جن علاقوں میں مسلمان ہیں ان میں سے کسی علاقے میں بھی مسلمانوں سے یہ صفت الگ نہیں ہوئی ہے اور یہ وہ عظیم حقیقت ہے اور اس پر گہرا غور کرنا چاہیے۔ وما آفاء ........................ شیء قدیر (95 : 6) ” اور جو مال اللہ نے ان کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول کی طرف پلٹا دیئے ، وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے ہوں ، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے ، تسلط عطا فرما دیتا ہے ، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اوجفتم (95 : 6) ایجاف سے ہے۔ ایجاف کے معنی ہیں گھوڑے کو تیزی سے دوڑانا۔ رکاب کے معنی اونٹ کے ہیں۔ مسلمانوں کو بتایا جاتا ہے کہ بنو نضیر نے اپنے پیچھے جو مال چھوڑے ہیں انہوں نے اس پر گھوڑے نہیں دوڑائے اور نہ اونٹوں پر تیز سفر کرکے انہوں نے اسے حاصل کیا ہے۔ لہٰذا ان اموال کا حکم مال غنیمت کا نہیں ہے۔ مال غنیمت میں تو مجاہدین کا 5/4 حصہ ہوتا ہے اور 5/1 حصہ اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور رشتہ داروں ، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا ہوتا ہے۔ جب کہ جنگ بدر کے اموال عنائم کے بارے میں اللہ نے فیصلہ کیا۔ اس فے کا حکم یہ ہے کہ یہ سب کا سب اللہ رسول اللہ ، رشتہ داروں ، یتیموں ، مساکین اور مسافروں کا ہے۔ اور اس میں تصرف حضور اکرم ﷺ کریں گے اور آیت میں جن رشتہ داروں کا ذکر ہے ، ان سے مراد رسول اللہ کے قرابت دار ہیں۔ اس لئے کہ صدقات ان کے لئے جائز نہ تھے اور زکوٰة میں ان کا حصہ نہ تھا اور نبی ﷺ کی کوئی دولت نہ تھی جسے ورثاء پالیتے اور ان میں فقراء بھی تھے ، جن کی کوئی آمدن نہ تھی۔ اس لئے ان کے لئے عنائم کے خمس میں حصہ رکھا گیا تھا جیسا کہ فے اور فے کی قسم کے اموال میں ان کا حصہ رکھا گیا تھا۔ رہے دوسرے لوگ تو ان کے احکام معروف ومعلوم ہیں اور یہ فنڈز حضور اکرم ﷺ کے تصرف خاص میں تھے۔ یہ تو تھا فے کا حکم جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن ان آیات میں اس حکم اور ان حالات پر اکتفا نہیں کیا گیا جن میں یہ حکم جاری ہوا بلکہ یہاں ایک دوسری حقیقت کا بھی اظہار کردیا گیا ہے۔ ولکن اللہ .................... من یشاء (95 : 6) ” بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے تسلط عطا کرتا ہے “۔ لہٰذا یہ اللہ کی تقدیر کا ایک حصہ ہے۔ جس کا ظہور ہوگیا۔ واللہ ........................ قدیر (95 : 6) ” اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ یوں رسولوں کا معاملہ تقدیر الٰہی کا اظہار قرار پاتا ہے اور اللہ کی تقدیر کے چکروں میں رسولوں کا مقام بھی متعین کیا جاتا ہے کہ رسولوں کا ظہور اور غلبہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہوتی۔ دست قدرت یہ کام کرتا ہے۔ اگرچہ رسول بشر ہیں لیکن وہ اللہ کے ساتھ براہ راست مربوط ہوتے ہیں۔ اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس دنیا میں اپنے نظام قضاوقدر کا ظہور کرتا ہے اور رسول جو کام کرتے ہیں وہ اذن الٰہی سے کرتے ہیں اور اللہ کے ہاں وہ مقدر ہوتا ہے۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق حرکت بھی نہیں کرتے۔ وہ کوئی کام اپنی مرضی یا اپنے مفادات سے نہیں کرتے۔ وہ جنگ ، جہاد یا امن ، مصالحت یا مخاصمت صرف اللہ کے حکم سے کرتے ہیں اور وہ اللہ کی تقدیر کا ظہور ہوتا ہے اور اللہ کی تقدیر ان کے تصرفات اور ان کی حرکات سے ظاہر ہوتی ہے۔ اور وہ جو کچھ کرتے ہیں وہ اللہ کا فعل ہوتا ہے اور اللہ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 59:7

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتامی اور مساکین اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

ما افاء اللہ .................... العقاب (95 : 7) ” جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتامی اور مساکین اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ سخت سزا دینے والا ہے “۔ یہ آیت اس حکم کو بتارہی جس کا ذکر ہم نے پہلے کردیا ہے۔ اس حکم کی علت بیان کرتے ہوئے اس آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ دراصل اسلام کے نظام اقتصادی کا ایک عظیم اصول ہے۔ کئی لا یکون ........................ منکم (95 : 7) ” تاکہ وہ تمہارے مالداروں کے درمیان میں گردش نہ کرتا رہے “۔ اور اس کی علت کے بیان میں سالام کے دستوری نظام کا ایک دوسرا اعلیٰ ترین اصول بیان کردیا۔ وما اتکم .................... فانتھوا (95 : 7) ” جو کچھ رسول تمہیں دے ، وہ لے لو ، اور جس چیز سے وہ تمہیں روک دے اس سے رک جاؤ “۔ اگرچہ یہ دو اصول فے کی تقسیم کے ضمن میں وارد ہیں لیکن اسلام کے اقتصادی نظام اور اسلام کے دستوری نظام میں یہ بہت اہم اصول ہیں اور ان دونوں ہی پر دراصل اسلام کا اقتصادی اور دستوری نظام قائم ہے۔ پہلا قاعدہ اسلام کا اقتصادی اصل الاصول ہے اور اسلام کے اقتصادی نظریات اس پر مبنی ہیں۔ اسلام انفرادی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے لیکن انفرادی ملکیت پر یہ ایک پابندی اور چیک ہے۔ یعنی اسلام انفرادی ملکیت کو اس قدر وسیع آزادی نہیں دیتا کہ کچھ محدود مالدار لوگ ہی دراصل تمام دولت اور مفادات کو اپنی طرف سرمایہ کے زور سے کھینچ لیں۔ اور مال چند چوٹی کے لوگوں کے درمیان گردش کرے۔ اس لئے ہر وہ صورت حال جس کے اندر دولت صرف امراء کے درمیان گردش کرتی وہ اسلام کے نظریہ اقتصاد کے خلاف ہے۔ اور یہ اجتماعی عدل کے بھی خلاف ہے۔ اسلامی سوسائٹی کے اندر اجتماعی اور معاشی روابط اس طرح تشکیل پاتے ہیں کہ اس میں دولت چند محدود لوگوں ہی کے اندر گردش نہیں کرتی۔ اسلام نے اپنا اقتصادی نظام ان اصولوں کی بنیاد پر قائم کیا۔ اس نے زکوٰة فرض کی ، یہ اڑھائی فیصد اصل سرمایہ اور منافع دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ اور 011 یا 021 تمام زرعی پیداواروں پر عائد ہوتا ہے۔ اسی طرح مویشیوں میں اور ان خزانوں میں جو زمین سے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ شرح دراصل بہت ہی بڑی شرح ہے۔ پھر مجاہدین کے لئے 54 حصہ رکھا ہے خواہ فقیر ہوں یا غنی ہوں ، جبکہ فے صرف فقراء کے لئے رکھا ہے۔ اسی طرح اسلام نے زمین کی پیداوار کے اندر مالک اور مضارع کو شریک قرار دیا ہے اور امام کو یہ اختیار دیا کہ وہ لوگوں کی ضرورت سے زائد اموال ان سے لے کر فقراء میں تقسیم کردے۔ اور اگر بیت المال کو ضرورت ہو تو لوگوں کے اموال میں بیت المال کا حصہ مقرر کردے۔ پھر اسلام نے ذخیرہ اندوزی کو حرام قرار دیا ، ربا کو حرام قرار دیا اور ربا اور ذخیرہ اندوزی دونوں ہی اصل ذرائع ارتکاز دولت ہیں۔ غرض اسلام کا اقتصادی نظام اسی عظیم قاعدے پر قائم ہے کہ دولت چند اغنیاء کے اندر ہی گردش نہ کرے بلکہ تمام فقراء تک اس کا پھیلاؤ ہو۔ اور یہ قاعدہ انفرادی ملکیت پر حاوی ہے۔ اس طرح اسلام انفرادی ملکیت کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ سرمایہ دارانہ نظام نہیں ہے۔ نہ سرمایہ دارانہ نظام اسلامی نظام سے ماخوذ ہے کیونکہ رہا اور ذخیرہ اندوزی کے سوا کوئی سرمایہ دارانہ نظام نہیں ہوتا۔ اسلامی نظام ایک خاص نظام ہے جو اللہ علیم وخبیر کی طرف سے ہے۔ یہ الگ پیدا ہوا ، الگ چلا ، اور آج بھی وہ تمام دوسرے اقتصادی نظاموں سے الگ تھلگ ہے۔ یہ ایک منفرد ، متوازن ، عادلانہ اور تمام حقوق وواجبات کا خیال رکھنے والا نظام ہے۔ اور یہ نظام اس کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ اس لئے کہ اس کائنات کا خالق اللہ ہے ، انسان کا خالق اللہ ہے اور اس اقتصادی نظام کا خالق بھی اللہ ہے۔ دوسرا اصول اسلام کے دستوری نظام کا ہے کہ شریعت کا ماخذ خدا اور رسول اور قرآن اور سنت ہیں۔ وما اتکم .................... فانتھوا (95 : 7) ” جو کچھ رسول تمہیں دے ، وہ لے لو ، اور جس چیز سے وہ تمہیں روکے اس سے رک جاؤ “۔ اسلامی دستور اور قوانین کا یہ اصل الاصول ہے۔ اسلام کا قانونی نظام اس سے لیا گیا ہے کہ شریعت من جانب اللہ ہے اور اللہ کی جانب سے رسول لے کر آیا ہے۔ اور یہ قرآن اور سنت سے عبارت ہے۔ پوری امت مسلمہ معہ امام وقت مل کر بھی ان تعلیمات کی خلاف ورزی کے مجاز نہیں جو قرآن وسنت میں ہیں۔ اگر کوئی خلاف قرآن اور سنت قانون بنائے گا تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہوگی کیونکہ اس قسم کا قانون اپنے پہلے جواز ہی کو کھو بیٹھتا ہے ۔ یہ نظریہ تمام انسانی ودساتیر اور قانون سازی کے نظریات سے یکسر مختلف ہے۔ کیونکہ ان نظریات کے مطابق قوم قانون سازی کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ یوں کہ کوئی قوم جو قانون چاہے ، اپنے لئے بنا سکتی ہے۔ اور جو قوم جو چاہے دستور و قانون بنا دے۔ لہٰذا اسلامی دستور نظام اقتدار کا سرچشمہ قرآن وسنت ہیں۔ جن کو رسول اللہ ﷺ نے پیش فرمایا ہے۔ امام امت کا نائب ہے۔ نہ امام اور نہ قوم رسول اللہ کی لائی ہوئی شریعت محمدی کی مخالفت کے مجاز ہیں۔ اب اگر کوئی مسئلہ قرآن وسنت میں نہ ہو تو اسے قرآن وسنت کے دوسرے اصولوں کی روشنی میں یوں حل کیا جائے گا کہ اس سے قرآن وسنت میں موجود کسی اصول کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔ یہ اصول شریعت کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ بھی ایک شرعی اصول ہے۔ لہٰذا ہر صورت میں سرچشمہ قانون قرآن اور سنت ہیں۔ اور دوسرے قوانین وقواعد اسی وقت معتبر ہوں گے جب وہ قرآن اور سنت کے کسی مسلمہ قاعدے کے خلاف نہ ہوں۔ امت کا اقتدار اس قاعدے کے اندر محدود ہے۔ یاد رہے کہ امام امت بھی اسی قاعدے کا پابند ہے۔ یہ ایک منفرد نظام قانون ہے اور کسی انسانی سوسائٹی کے ہاں اس قسم کا کوئی قانون نظام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں قانونی نظام بھی نظام کائنات کی طرح ایک فطری نظام ہوتا ہے۔ جس طرح کائنات کے لئے اللہ نے نظام فطرت وضع کیا ہے۔ اسی طرح انسانوں کے لئے اللہ نے نظام شریعت وضع کیا ہے تاکہ انسان کا بنایا ہوا قانون نظام فطرت سے ٹکرانہ جائے اور جو قانون بھی آج تک انسانوں کے بنائے ہیں وہ نظام فطرت سے ٹکرائے ہیں۔ ان دونوں اصولوں کو اس آیت میں اللہ سے مربوط کیا گیا ہے اور لوگوں کو دعوت دی ہے کہ ان اطاعت میں وہ اللہ سے ڈریں۔ واتقو ................ العقاب (95 : 7) ” اللہ سے ڈرو ، اللہ سخت سزا دینے والا ہے “۔ یہ وہ بڑی ضمانت ہے جو اسلامی قانون کو حاصل ہے ، اس لئے اسے توڑنے کی کوئی بھی کوشش نہیں کرتا۔ نہ اس سے بھاگنے کی کوئی گنجائش ہے۔ کیونکہ مومنین کو علم ہے کہ اللہ تو دیکھتا ہے۔ اعمال سے خبردار ہے۔ تمام لوگوں کو اسی طرف لوٹنا ہے ، اور اگر خلاف ورزی کی گئی تو وہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ مال کو پھیلانا ہے اور اسے دولتمندوں کے درمیان ہی گردش نہیں دینا ہے۔ اور شریعت کے جو احکام خدا اور رسول نے دیئے ہیں انہوں نے انہیں لینا ہے اور جس چیز سے منع کیا ہے اس سے منع ہونا ہے اور اس سلسلے میں کوئی سستی اور کوئی تسابل نہیں کرنا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔ اب رسول اللہ نے اس فے کو مہاجرین میں تقسیم کیا اور صرف دو غریب انصاریوں کو اس میں شریک فرمایا۔ یہ ایک خاص اقدام تھا اور اس کا مقصد یہی تھا کہ دولت صرف دولت مندوں میں جمع نہ ہوجائے۔ کئی لا یکون .................... منکم (95 : 7) ” تاکہ وہ مالداروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے “۔ حکم تو عام تھا کہ وہ فقراء کے لئے ہے خواہ مہاجر ہوں یا انصار یا بعد میں آنے والے ہوں ، چناچہ اگلی آیات میں اس پر بات ہوتی ہے۔ قرآن کریم احکام محض ایک خشک ایکٹ کی طرح بیان نہیں کرتا۔ وہ اسے زندہ اور عام بیان کے انداز میں دیتا ہے۔ وہ ایک زندہ حکم ہوتا ہے زندہ انسانوں پر نافذ ہوتا ہے اور حکم کے اندر ہی اس کے اخلاقی پہلو اور اسباب بھی دیئے جاتے ہیں۔
Ayah 59:8

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

(نیز وہ مال) ان غریب مہاجرین کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال باہر کیے گئے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی حمایت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ یہی راست باز لوگ ہیں

للفقرائ ........................ الصدقون (95 : 8) ” ان غریب مہاجرین کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال باہر کیے گئے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی حمایت پر کمربستہ رہتے ہیں۔ یہی راست باز لوگ ہیں “۔ یہ ایک ایسی تصویر ہے جس میں مہاجرین کے خدوخال اچھی طرح ثبت کردیئے گئے ہیں وہ اپنے گھروں اور مال سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ ان کی مشرکین کی اذیت اور ان کی سختی نیز رشتہ داروں اور اہل خاندان کی طرف سے سرد مہری کی وجہ سے گھر بار چھوڑنا پڑا اور ان کا کوئی قصور اس کے سوا نہ تھا کہ وہ کلمہ طیبہ کے قائل تھے اور صرف اللہ کو رب جانتے تھے۔ یبتغون .................... ورضوانا (95 : 8) ” یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں “۔ ان کا اعتماد صرف اللہ پر ہے۔ صرف اس کے بھروسہ پر جی رہے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ اور اس کے باوجود وہ حضور ﷺ کے دفاع میں لگے ہوئے ہیں۔ وینصرون ................ ورسولہ (95 : 8) ” اللہ اور اس کے رسول کی حمایت پر کمر بستہ ہیں “۔ اپنے دلوں کے ساتھ ، اپنی تلواروں کے ساتھ۔ اور پھر نہایت ہی مشکل حالات میں انہوں نے یہ فریضہ سرانجام دیا۔ اولئک ھم الصدقون (95 : 8) ” یہی راست باز لوگ ہیں “۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زبان سے کلمہ ایمان ادا کیا اور پھر اپے عمل سے اس کی تصدیق کی۔ وہ اللہ کے ساتھ سچے تھے کہ انہوں نے اللہ کو اختیار کیا۔ رسول اللہ کے ساتھ سچے تھے کہ انہوں نے ان کی اطاعت کی۔ اور سچائی کے ساتھ بھی مخلص تھے کیونکہ ان کی صورت میں سیچائی چلتی پھرتی نظر آتی تھی۔
Ayah 59:9

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

(اور وہ ان لوگوں کے لئے بھی ہے) جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے۔ یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں۔

والذین ........................ المفلحون (95 : 9) ” جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے۔ یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں “۔ یہ ہے انصار کی ایک خوبصورت تصویر جس کے اندر ان کے اہم خدوخال نہایت ہی نمایا کرکے دکھائے گئے ہیں یہ مجموعہ صفات اگر عملاً مدینہ میں واقع نہ ہوا تھا اور عملاً اپنے انتہاؤں تک نہ گیا ہوتا تو لوگ اسے افسانہ سمجھتے اور لوگ کہتے یہ بہترین تخیل ہے۔ والذین ................ من قبلھم (95 : 9) ” جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے “۔ یعنی مدینة الرسول (ﷺ) ۔ میں یہ انصار تھے جو ایمان لاکر یہاں مقیم تھے۔ اسی طرح انہوں نے ایمان کو بھی یہاں مقیم کردیا تھا۔ گویا مدینہ منزل ایمان ویقین تھا۔ یہ ایک نہایت ہی خوبصورت اشارتی تعبیر ہے۔ انصار نے ایمان کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا یہ اس کی بہترین تصویر ہے۔ یہ ایمان کا گھر تھا ، یہ ایمان کا وطن تھا ، یہاں مومنین کے دل اٹکے ہوئے تھے اور یہاں ان کے قلوب اور روح کو سکون ملتا تھا۔ یہاں لوٹ کر وہ مطمئن ہوتے تھے جس طرح ایک شخص گھر آکر مطمئن ہوتا ہے لہٰذا مدینہ دار الایمان تھا۔ یحبون .................... اوتوا (95 : 9) ” یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے “۔ تاریخ انسانی میں کوئی ایسا اجتماعی واقعہ نہیں ہے کہ کسی قوم نے مہاجرین کا اس طرح استقبال کیا ہو جس طرح انصار نے مدینہ میں مہاجرین کا کیا۔ نہایت محبت ، ایثار ، سخاوت ، مروت کے ساتھ۔ انہوں نے ان کو اپنے مال میں شریک کیا۔ مکانوں میں ٹھہرایا اور ان کی تمام ذمہ داریاں قبول کیں۔ روایات میں آتا ہے کہ کوئی مہاجر کسی انصاری کے گھر بذریعہ نامزدگی نہیں ٹھہرا بلکہ ہر شخص پر قرعہ اندازی ہوئی۔ کیونکہ جب کوئی مہاجر آتا تو کئی لوگ آجاتے کہ ہمارے ہاں ٹھہرے گا۔ ونا یجدون ................ اوتوا (95 : 9) ” جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے “۔ یعنی جن صورتوں کے اندر مہاجرین کو زیادہ دیا گیا۔ یہاں فے سب کا سب ان کے لئے مخصوص کردیا گیا تو اس کی وجہ سے وہ اپنے دلوں میں حاجت محسوس نہیں کرتے۔ یہاں تنگی یا حسد کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ اس سے ان کے دلوں کی پاکیزگی کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے دلوں کے اندر کوئی ضرورت ، حاجت یا کوئی چیز بھی وہ نہیں محسوس کرتے۔ ویوثرون ................ خصاصة (95 : 9) ” اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں “۔ دل کی تنگی ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ یہ ہر بھلائی کے دروازے کو بند کردیتی ہے کیونکہ کسی نہ کسی صورت میں مالی تاوان کا مطالبہ کرتی ہے۔ جذبات کو دبانے کا مطالبہ کرتی ہے اور محنت صرف کرنے کا مطالبہ کرتی ہے اور بعض اوقات بھلائی کے راستے میں جان تک دینے کا مطالبہ ہوا کرتا ہے۔ کوئی بخیل کبھی نیکی کا کام نہیں کرسکتا ، وہ تو ہر وقت لینے کی فکر میں ہوتا ہے۔ دنیا کچھ بھی نہیں ہے اور جو شخص دل کی تنگی سے بچ گیا ، اس کے سامنے سے گویا ایک بڑی رکاوٹ دور کردی گئی اور وہ نیکی کے کاموں میں خرچ کرتے ہوئے۔ دادودہش کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

(اور وہ ان لوگوں کے لئے بھی ہے) جو ان اگلوں کے بعد آئے ہیں ، جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے کوئی بغض نہ رکھ ، ہمارے رب ، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔ “

والذین .................... رءوف رحیم (95 : 01) ” جو ان اگلوں کے بعد آئے ہیں ، جو کہتے ہیں کہ ” اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے کوئی بغض نہ رکھ ، ہمارے رب ، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔ “ یہ تیسری تصویر ہے جو نہایت پاکیزہ ، راضی رضا اور سمجھنے والے لوگوں کی تصویر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مہاجرین وانصار کے بعد آئے۔ اس آیت کے نزول کے وقت وہ تو مدینہ میں موجود نہ تھے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ازلی علم میں آچکے تھے جو زمان ومکان کے حدود سے وراء ہے اور یہ دنیا میں بعد میں آنے والے تھے۔ اللہ نے پیشگی ان کی صفات بیان کردی کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ سلف صالحین کے لئے طلب مغفرت کرتے ہیں اور وہ تمام مومنین کے لئے اپنے دل صاف رکھنے والے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ان کے دل صاف ہوں۔ کیونکہ دونوں کے درمیان ایمانی رشتہ موجود ہے۔ وہ دونوں پر اللہ کی رحمت ہوئی ہے کہ ان کو مومن بنایا ہے۔ اور اللہ تو رؤف رحیم ہے۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امت کا چہرہ کس قدر روشن ہے اور وہ اس کائنات میں کس قدر روشنی بکھیرنے والی امت ہے۔ اس کا رشتہ ایمانی اس قدر مضبوط ہے کہ اس کا آغاز اس کے انجام سے منسلک ہے اور بندھا ہوا ہے۔ اور اس کا آخری حصہ اول حصے سے بندھا ہوا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ضامن ، کفیل ، محب اور رحم کرنے والے ہیں۔ اور بلالحاظ قوم ونسب ، اور بلالحاظ دوری زمان ومکان وہ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ امت مسلمہ مسلمانوں کے شعور پر مسلسل چھائی رہی۔ یوں اہل ایمان قیامت تک گزشتہ لوگوں۔ الذین ................ بالایمان (95 : 01) کو یاد کرتے رہیں اور اس امت کو مسلمان اس طرح یاد کرتے ہیں جس طرح کوئی اپنے بھائیوں کو یاد کرتا ہے ، نہایت اعزاز ، عزت اور محبت میں ، قدماء نے آنے والوں کا خیال رکھا اور آنے والے اگلوں کو یاد کرتے ہیں۔ یہ سب ایک صف ہیں ، ایک ہی رجمنٹ ہیں ، اور زمانے گزر گئے ہیں۔ ایک ہی جھنڈا ہے۔ ایک ہی ہدف ہے۔ ایک ہی افق ہے۔ اور ان کا ایک ہی رب ہے جو رؤف ورحیم ہے۔ یہ اسی روشن تصویر ہے جس سے آنکھیں چندھیاجاتی ہیں۔ لیکن وہ ایک زندہ حقیقت کی طرح کھڑی ہے۔ اور یہ امت انسانیت کے لئے ایک بہترین مثال ہے۔ ایک نہایت شریفانہ کریمانہ مثال پوری انسانیت کے لئے۔ ایسی خوبصورت مثال جس حد تک کوئی تصور کرسکتا ہے۔ یہ تصویر اس وقت بہت ہی خوبصورت لگتی ہے جب ہم اپنے دور کی ایک امت کے ساتھ اس کا تقابلی مطالعہ کریں۔ ہمارے دور کی یہ امت کارل مارکس کی انجیل ” کیپٹل “ کی اساس پر وجود میں آئی ہے۔ یہ ایک ایسی امت ہے جس کے دلوں میں بغض وعداوت جوش مارتی ہے۔ طبقات ایک دوسرے کے خلاف لڑتے اور کشت وخون کرتے نظر آتے ہیں اس امت کے تصور کے مطابق انسانی تاریخ جنگ اور کشمکش اور نفرت کی تصویر ہے اور پھر اس امت کو تمام اہل دین کے ساتھ نفرت ہے۔ ذرا دوبارہ امت محمدیہ اور امت کارل مارکس کے درمیان تقابل کیجئے۔ امت محمدیہ انسانیت کو اس کے اعلیٰ مراتب تک بلند کرتی ہے ۔ جبکہ یہ دوسری امت انسانیت کو ذلت کی انتہائی پستیوں تک گراتی ہے۔ امت محمدیہ کی تصویر یہ ہے کہ زمان ومکان کی حدود سے ماوراء ، نسل اور وطن کی حد بندیوں سے آزاد نسب اور خاندان کے محدد دائروں سے باہر ، تمام انسانوں کو ایک دوسرے کا ضامن ، کفیل ، دوست اور واقف کار بناتی ہے اور سب کو ایک اونچے ہدف کی طرف بلند کرتی ہے اور ہدف ہے اللہ کی بندگی .... ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز .... جن کے دل صاف ہیں اور بگلوں پچھلوں کے درمیان کوئی دشمنی نہیں ہے ایک دوسرے کے ہمدرد ہیں اور ایک دوسرے کے حوالے سے دل صاف ہیں۔ جبکہ دوسری تصویر یہ ہے کہ اس میں لوگ ایک دوسرے کو ذبح کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، بعض دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں ، ان کا استحصال کرتے ، سازشیں کرتے ہیں اس کے مقابلے میں دوسرے ان سے بغض ، حسد اور نفرت کرتے ہیں۔ پوری انسانی تاریخ عبارت ہے ، اظہار نفرت سے۔ یہاں تک کہ عبادت گاہوں میں بھی نفرت ہے۔ ان کے نزدیک نماز بھی دراصل ایک جال ہے۔ اور مذہب ایک دھوکہ ہے جس کے ذریعہ مالدار لوگ غریبوں کا استحصال کرتے ہیں۔ اور ان دو تصاویر کو دیکھتے ہوئے اس آیت کو پھر پڑھئے : ربنا اغفرلنا ................ رءوف رحیم (95 : 01) ” اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے کوئی بغض نہ رکھ ، اے ہمارے رب ، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے “۔ یہ ہے قافلہ ایمان اور یہ ہے دعائے اہل ایمان۔ یہ نہایت ہی معزز قافلہ ہے اور یہ نہایت ہی کشادہ آدمی کی دعا ہے۔ اس خوبصورت تصویر کشی اور اسے نہایت ہی بلند مقام پر نور کے فریم میں نصب کرنے کے بعد ، اب مضمون اس موضوع پر آتا ہے جس کے بارے میں یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ اب یہاں ایک دوسرے گروہ کی کریمہ تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ ہے گروہ منافقین :
Ayah 59:11

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہوں نے منافقت کی روش اختیار کی ہے ؟ یہ اپنے کافر اہل کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے ، اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات ہرگز نہ مانیں گے ، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے “۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ قطعی جھوٹے ہیں۔

یہاں ان باتوں کا ایک ریکارڈ پیش کردیا جاتا ہے جو اس واقعہ کے بارے میں یہودیوں اور منافقین مدینہ کے درمیان ہوتی رہیں۔ منافقین نے ان کے ساتھ جو جو معاہدے کیے وہ پورے نہ کیے اور یہودیوں کو اس طرح ذلیل کرکے رکھ دیا۔ اللہ ان پر حملہ آور ہوا اور ان کو اس قدر مرعوب کردیا کہ انہوں نے وہ کام اپنے ہاتھوں سے کیا جو مومنین نے کرنا تھا۔ لیکن قرآن کریم اس ریکارڈ کو پیش کرتے وقت ہر آیت میں ایک عظیم حقیقت سے بھی مسلمانوں کو آگاہ کرتا ہے۔ جوان کے دل میں بیٹھ جاتی ہے ، جو ان کے دلوں کے اندر ایک گہراتاثر پیدا کرتی ہے ، اور ان کے دل و دماغ میں ایمان گہرا ہوجاتا ہے۔ ان کے علم میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کے اخلاقی تربیت پختہ ہوجاتی ہے۔ پہلی حقیقت یہ فلم بندی کی گئی کہ یہودی اور منافقین بھائی بھائی ہیں۔ الم ترالی ................ الکتب (95 : 11) ”” تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہوں نے منافقت کی روش اختیار کی ہے ؟ یہ اپنے کافر اہل کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں “۔ تو یہ اہل کتاب کافر تھے اور منافقین ان کے بھائی تھے۔ اگرچہ انہوں نے اسلام کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔
Ayah 59:12

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ ہرگز نہ نکلیں گے ، اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی ہرگز مدد نہ کریں گے اور اگر یہ ان کی مدد کریں بھی تو پیٹھ پھیر جائیں گے اور پھر کہیں سے کوئی مدد نہ پائیں گے۔

پھر منافقین کی یہ تاکید شدید جو انہوں نے اپنے بھائیوں سے کی۔ لئن اخرجتم ................ لننصرنکم (95 : 11) ” ” اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے ، اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات ہرگز نہ مانیں گے ، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے “۔ لیکن اللہ ان کی حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ وہ ان کی قرار داد سے بالکل مختلف قرار دیتا ہے اور ان کی تاکیدات کے برعکس موکد حقیقت بتاتا ہے۔ وللہ یشھد ................ ینصرون (21) (95 : 11۔ 21) ” مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ قطعی جھوٹے ہیں۔ اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ ہرگز نہ نکلیں گے ، اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی ہرگز مدد نہ کریں گے اور اگر یہ ان کی مدد کریں بھی تو پیٹھ پھیر جائیں گے اور پھر کہیں سے کوئی مدد نہ پائیں گے “۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جس کی شہادت اللہ نے دی تھی۔ انہوں نے جو فیصلے کیے تھے اور جن کا اعلان کیا تھا ان میں سے ایک پر بھی عمل نہ کیا۔ اس کے بعد اللہ مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے جو ان منافقین اور ان اہل کتاب کافروں کے دلوں میں خوب بیٹھی ہوئی ہے۔
Ayah 59:13

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

ان کے دلوں میں اللہ سے بڑھ کر تمہارا خوف ہے ، اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔

لانتم .................... یفقھون (95 : 31) ” ان کے دلوں میں اللہ سے بڑھ کر تمہارا خوف ہے ، اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے “۔ ان کی حالت یہ ہے کہ یہ اللہ کے مقابلے میں مومنین سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ اگر یہ اللہ سے ڈرتے تو پھر اللہ کے کسی بندے سے نہ ڈرتے کیونکہ خوف اور خشیت تو ایک ہوتی ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی اللہ سے بھی ڈرے اور لوگوں سے بھی ڈرے۔ عزت صرف اللہ کی ہے۔ اور تمام دوسری مخلوق اللہ کے مقابلے میں کوئی عزت اور غلبہ نہیں رکھتی۔ تمام دوسری مخلوقات اللہ کے احکام کے تابع ہے۔ قرآن کہتا ہے۔ وما من ................ بنا صیتھا ” زمین میں جو چیز بھی چلنے والی ہے اس کی چوٹی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ “ اس لئے جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ کسی اور سے نہیں ڈرتا۔ لیکن جو لوگ اس حقیقت کو نہیں پاتے وہ ماسوائے اللہ سے ڈرتے ہیں اور وہ دوسری قوتوں سے اللہ کی نسبت زیادہ ڈرتے ہیں۔ ذلک .................... یفقھون (95 : 31) ” یہای سے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے “۔ اس کے بعد ان کے دلوں میں قائم ایک دوسری حقیقت کو بیان کیا جاتا ہے جو سابقہ حقیقت ہی کا نتیجہ ہے یعنی مسلمانوں کے خوف کا۔ یہ حقیقت بھی ان منافقین اور کافرین کے دلوں میں بیٹھی ہوئی ہے۔
Ayah 59:14

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ کبھی اکٹھے ہوکر (کھلے میدان میں) تمہارا مقابلہ نہ کریں گے ، لڑیں گے بھی تو قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر۔ یہ آپس میں مخالفت میں بڑے سخت ہیں۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ حال اس لئے ہے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں

لا یقاتلونکم ................ یعقلون (95 : 41) ” یہ کبھی اکٹھے ہوکر (کھلے میدان میں) تمہارا مقابلہ نہ کریں گے ، لڑیں گے بھی تو قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر۔ یہ آپس میں مخالفت میں بڑے سخت ہیں۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ حال اس لئے ہے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں “۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ منافقین اور اہل کتاب کی جو تصویر قرآن کریم نے کھینچی ہے وہ ابھی تک سچی ہے۔ منافقین اور کافر اہل کتاب جب بھی جہاں بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے ہیں تو یہ صورت سامنے ہوکر آگئی۔ حال ہی میں اخوان اہل ایمان اور یہودیوں کے درمیان فلسطین کی سر زمین پر جو جھڑپیں ہوئیں ان میں یہودی کسی جگہ بھی کھل کر میدان میں نہ آئے اور وہ اپنی آبادیوں اور حلقوں میں چھپ کر ہی لڑتے رہے اور جب کبھی وہ تھوڑی دیر کے لئے باہر آئے تو وہ چوہوں کی طرح پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ یوں نظر آتا تھا کہ شاید یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ سبحان اللہ .................... الخبیر ” ان حقائق کے علاوہ ان کی نفسیاتی جھلکیاں بھی عجیب ہیں۔ باسھم ................ شدید (95 : 41) ” یہ آپس کی مخالف میں شدید ہیں۔ “ تحسبھم ................ شتیٰ (95 : 41) ” تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو اور ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ “ جبکہ اس کے مقابلے میں مومنین کی حالت یہ ہے کہ وہ صدیوں کے آنے والے اپنے سابقہ لوگو کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ زمان ومکان کی دوریوں کے باوجود وہ ایمان کی رسی میں بندھے ہوئے ہیں۔ اور اس راہ میں جنس وطن اور خاندان رکاوٹ نہیں۔ ذلک بانھم ................ یعقلون (95 : 41) ” ان کا یہ حال اس لئے ہے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔ “ بعض اوقات ظاہری حالات دھوکہ دیتے ہیں۔ اہل کتاب آپس میں نہایت متحد ومتفق نظر آتے ہیں اور ایک دوسرے کے کفیل و مددگار نظر آتے ہیں اور حمایت بھی کرتے ہیں جس طرح منافقین ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوجاتے ہیں۔ لیکن آسمان سے سچی خبر آتی ہے کہ کواکب ایسے نہیں ہیں جیسے نظر آتے ہیں۔ یہ محض ان کا خارجی منظر ہے کبھی کبھی ان کا یہ پردہ اتر جاتا ہے اور ان کی حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ یہ اندر سے کس قدر پھٹے ہوئے ہیں۔ اور قرآن کریم کی سچائی ثابت ہوتی ہے ۔ ایک ہی محاذ اور ایک ہی بلاک کے اندر وہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے ہیں۔ دراصل یہ اپنی اپنی مصلحتوں کے لئے جدوجہد کررہے ہوتے ہیں۔ متضاد خواہشات رکھتے ہیں ، ان کی پالیسیاں باہم متصادم ہوتی ہیں۔ جب بھی مومنین نے صداقت سے کام کیا اور جب بھی ان کے دل اللہ کی ذات پر جممع ہوئے ہیں ، ان کے مقابلے میں کفار اور منافقین کے محاذ میں دراڑیں پڑگئی ہیں اور ان کے دل باہم بکھر گئے ہیں۔ اور بظاہر ان کا اتحاد خواب پریشاں بن گیا ہے اور جب بھی مومنین نے صبر کیا ہے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا تو انہوں نے دیکھا کہ کافروں کے درمیان جو ظاہری اتحاد اور بندش نظر آتی ہے وہ کھل گئی ہے اور ان کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا ہے اور نظر آگیا ہے کہ ان کے درمیان شدید اختلافات ہیں ، شدید دشمنی ہے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف سازشیں اور دشمنیاں کررہے ہیں۔ اور ان کے دل ایک دوسرے سے بالکل جدا (شتی) ۔ ہیں۔ کفار اور منافقین کو مسلمانوں پر اس وقت غلبہ ہوجاتا ہے اور وہ نقصان بھی پہنچا دیتے ہیں جب مسلمانوں کے دل ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے ہیں۔ اس وقت پھر وہ مسلمانوں کی تمثیل نہیں پیش کرتے جو سابقہ آیت میں ذکر ہوتی ہے بلکہ وہ نام کے مسلمان ہوتے ہیں ورنہ مومنین کے مقابلے میں منافقین کے بارے میں قرآن نے کہا۔ باسھم ................ شدید (95 : 41) ” آپ میں ان کی مخالفت شدید ہے “۔ تحسبھم ................ شتی (95 : 41) ” تم انہیں اکٹھے سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں “۔ قرآن کریم مومنین کے دلوں میں یہ حقیقت اچھی طرح بٹھاتا ہے تاکہ ان کے دلوں میں سے کافروں کا رعب نکل جائے۔ اور وہ ان سے نہ ڈریں کیونکہ ان کی حقیقت واقعی یہی ہے اور ایسی ہی ہے۔ اس لئے یہ مسلمانوں کی تربیت ہے اور یہ ایک ثابت حقیقت پر مبنی ہے۔ اگر مسلمان قرآنی تعلیمات کو سنجیدگی سے لیں تو ان کے دشمنوں کے معاملات ان کے لئے آسان ہوجائیں اور ان کے دل متحد ہوجائیں۔ اور ان کے مقابلے میں دنیا کی کوئی قوت ہی نہ ٹھہرسکے۔ جو لوگ اللہ پر صحیح طرح ایمان لاچکے ہیں ان کو چاہئے کہ اپنی حقیقت اور اپنے دشمنوں کی طبیعت کو اچھی طرح سمجھیں۔ اور اگر انہوں نے اپنی حقیقت کو پالیا تو نصف معرکہ سر ہوگیا۔ اور اس حقیقت کی طرف قرآن کریم ایک واقعہ کی شکل میں اشارہ کرتا ہے اور یہ حقیقت قرآن نے بطور تمثیل اور سبق ذکر کی ہے۔ اور اس کے بعد پھر اس واقعہ کا تجزیہ کیا اور دلائل دیئے تاکہ وہ لوگ جنہوں نے وہ واقعہ دیکھا تھا وہ عبرت پکڑیں۔ اور بعد کے آنے والوں کے لئے بھی وہ ایک عبرت آموز واقعہ بن جائے۔ قرآن نے یہ اشارہ ان لوگوں کے سامنے کیا ہے جو اس حقیقت سے باخبر تھے۔ واقعہ بنی نضیر پہلا واقعہ نہ تھا۔ اس سے قبل بنی قینقاع کا واقعہ ہوگیا تھا۔ اسی کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے :
Ayah 59:15

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

یہ انہی لوگوں کے مانند ہیں جو ان سے تھوڑی ہی مدت پہلے اپنے کیے کا مزا چکھ چکے ہیں۔ اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

کمثل ................ عذاب الیم (95 : 51) ” یہ انہی لوگوں کے مانند ہیں جو ان سے تھوڑی ہی مدت پہلے اپنے کیے کا مزا چکھ چکے ہیں۔ اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے “۔ واقعہ بنی قینقاع غزوہ بدر سے قبل ہوا تھا۔ ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان عہد تھا۔ جب مسلمان نے بدر میں مشرکین پر غلبہ پالیا تو یہودیوں کو یہ بات بہت ہی بری لگی۔ اور انہوں نے مسلمانوں کی اس عظیم فتح کو دل سے قبول نہ کیا اور جل بھن گئے۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ مدینہ میں مسلمان جس قدر قوت پکڑتے ہیں اس قدر ان کی اہمیت گھٹتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ جو باتیں کرتے تھے رسول اللہ ﷺ کو ان کی رپورٹیں ملتی رہتی تھیں کہ یہ کسی شرکا ارادہ رکھتے ہیں۔ تو حضور اکرم ﷺ نے ان کو بارہا نصیحت کی اور غداری کے انجام سے ڈرایا۔ تو انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی نصیحت کا بڑا سخت جواب دیا جس کے اندر ایک دھمکی مضمر تھی۔ انہوں نے کہا ” محمد ، تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم تمہاری قوم قریش کی طرح ہیں۔ تم اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تم نے ایک ایسی قوم سے جنگ کی جن کو جنگ کا تجربہ نہ تھا اور تم نے ان کو مار لیا۔ ہم ایسے ہیں کہ اگر خدا کی قسم تم نے ہم سے لڑائی کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم کیسے لوگ ہیں “۔ اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک عرب خاتون کچھ سامان لے کر آئی اور اسے فروخت کیا۔ یہ سامان اس نے بازار بنی قینقاع میں فروخت کیا۔ اس کے بعد وہ ایک سنار کے پاس بیٹھ گئی تو انہوں نے کے ساتھ برائی کا ارادہ کرلیا اور کہا کہ وہ چہرہ کھولے ، اس نے انکار کردیا۔ سنار نے شرارت کرکے اس کی چادر کا پچھلا حصہ اس کی پیٹھ کے ساتھ باندھ دیا۔ جب وہ اٹھی تو اس کی شرمگاہ ننگی ہوگئی۔ یہ اس کے ساتھ ہنسے۔ اس نے فریاد کی۔ ایک مسلمان شخص اٹھا اور اس نے سنار کو قتل کردیا۔ تمام یہودی جمع ہوئے اور انہوں نے مسلمان کو قتل کردیا۔ چناچہ مسلمانوں نے مسلمانوں کو پکارا۔ اس پر مسلمانوں کو بہت ہی غصہ آیا۔ چناچہ ان کے اور بنی قینقاع کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر ہتھیار ڈال دیئے کہ آپ جو فیصلہ کریں ، اس پر رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول ان کی طرفداری میں کھڑا ہوگیا۔ کیونکہ بنی قینقاع اور خزرج کے درمیان ایک معاہدہ تھا۔ لیکن اصل حقیقت یہ تھی کہ منافقین دراصل کفار اہل کتاب کے بھائی تھے۔ بڑی کشمکش کے بعد رسول اللہ ﷺ ہوگئے کہ ان کو قتل کرنے بجائے جلاوطن کردیا جائے اور یہ کہ وہ اپنے ساتھ اموال اور سامان لے جائیں ماسوائے اسلحہ کے۔ اور یہ لوگ شام کو چلے گئے۔ یہ واقعہ تھا جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے کہ یہ بنی نضیر بھی بنی قینقاح کی طرح ہیں اور منافقین ان کے بھائی ہیں اور ان کے بھی بھائی تھے۔ منافقین نے اپنے بھائی کافر اہل کتاب کو دھوکہ دیا کہ وہ مقابلہ کریں ، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ لیکن ان کا یہ انجام ہوا اور انہوں نے کوئی ساتھ بھی نہ دیا۔ یہاں ان کی ایک دائمی تمثیل دی جاتی ہے کہ منافقین جو کچھ کرتے ہیں بعینہ وہی شیطان کرتا ہے اور جو لوگ شیطان کی سنتے ہیں ان کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔
Ayahs 59:16–17

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر ، اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں ، مجھے تو اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جائیں ، اور ظالموں کی یہی جزا ہے۔

کمثل الشیطن .................... الظلمین (71) ” ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر ، اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں ، مجھے تو اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جائیں ، اور ظالموں کی یہی جزا ہے “۔ شیطان انسانوں کے ساتھ جو سلوک کرتا ہے وہی سلوک منافقین اہل کتاب کافروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ لیکن انسان ہیں کہ پھر اس کے کہے پر چلتے ہیں۔ یہ ایک دائمی حقیقت ہے اور قرآن کریم اس عارضی واقعہ کے حوالے سے اسے یہاں بیان کردیتا ہے کہ اس طرح اس جزئی واقعہ سے بھی ایک دائمی اور کلی نصیحت و حکمت اخذ کی جائے اور یوں بات کا دائرہ وسیع ہوجائے۔ اور بات صرف ایکجزئی واقعہ تک محدود نہ رہے۔ قرآن کا یہ اندازہ ہے کہ قرآن دائمی ، اور اعلیٰ حقائق کو بھی ایک جزء کے حوالے سے بیان کرتا ہے۔ کیونکہ محض کلی اور اصولی باتیں خشک فلسفہ بن جاتی ہیں۔ اور انسانی شعور اور دل و دماغ پر ان کا وہ اثر نہیں ہوتا جس طرح ایک مثال اور واقعہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ ہے فرق قرآن کے انداز بیان کا اور فلاسفہ اور مدرسین کے انداز بیان کا۔ فلاسفہ صرف فارمولوں کی شکل میں بات کرتے ہیں۔ اس مثال پر بنی نضیر کا قصہ ختم ہوتا ہے اور اس قصے کے درمیان قرآن نے اس قدر حقائق ہدایات اور تصاویر بیان کیں اور ان کی وجہ سے اس جزوی قصے کو آفاقی بنادیا گیا یا اعلیٰ حقائق کو اس قصے کی شکل میں پیش کیا گیا۔ اور یہ واقعہ ادھر زمین پر چلتا رہا اور ادھر انسانی ضمیر کی اصلاح کا کام کرتا رہا۔ یوں یہ واقعہ ایک واقعہ سے زیادہ درس حکمت اور موجب ہدایت اور عبرت بن گیا۔ انداز بیان اس واقعہ اور ان حقائق کا اللہ کی کتاب میں کچھ اور ہے اور انسان اسے جس طرح بیان کرتے ہیں وہ کچھ اور ہے۔ بنی نظیر کے واقعہ کا یہ بیان ، اس پر تبصرے اور اس کے ضمن میں عظیم حقائق کا بیان اور ہدایات کے بعد اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور خطاب اس پیارے لفظ اور پیاری صفت سے کیا جاتا ہے ” اے اہل ایمان “ تاکہ وہ اسے جلدی سے قبول کرلیں۔ سہولت سے عمل پیرا ہوں۔ ان سے کہا جاتا ہے تقویٰ کی راہ اختیار کرو ، یہ دیکھو کہ کل یوم الحشر کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے ، اللہ کو بھول نہ جاؤ جس طرح پہلے لوگوں نے بھلا دیا ، تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔ اور ان کا برانجام ہوا اور وہ جہنمی ہوگئے۔