Ayah 58:1جاہلیت کا یہ قانون تھا کہ مرد کسی وجہ سے بیوی سے ناراض ہوجاتا تو اسے یہ کہہ دیتا ” تو میرے لئے اس طرح ہے جس طرح میری ماں کی پیٹھ “۔ اس فقرے سے نہ عورت طلاق ہوتی تھی اور نہ وہ اس کے ساتھ تعلق زناشوئی قائم کرسکتا تھا۔ یوں یہ عورت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معلق رہ جاتی تھی۔ یہ دوسرے مظالم کے علاوہ ایک ظلم تھا جس میں کوئی عورت زمانہ جاہلیت میں مبتلا ہوجاتی تھی۔
جب اسلام ظہور پذیر ہوا تو اسلامی سوسائٹی میں اظہار کا یہ پہلا واقعہ پیش آیا جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ ابھی تک اسلامی قانون اظہار نافذ نہ ہوا تھا۔ امام احمد روایت کرتے ہیں۔ سعد ابن ابراہیم اور یعقوب سے ، یہ دونوں ابی سے ، وہ محمد ابن اسحاق سے ، وہ معمرابن عبداللہ ابن حنظلہ سے ، وہ یوسف ابن عبداللہ ابن سلام سے ، وہ خویلہ بنت ثعلبہ ؓ سے وہ کہتی ہیں : ” خدا کی قسم سورة مجادلہ کی ابتدائی آیات میرے اور اوس ابن الصامت کے بارے میں نازل ہوئیں۔ میں ان کی بیوی تھی۔ یہ بہت بوڑھے اور سخت مزاج تھے۔ ایک دن وہ آئے میں نے کسی معاملے میں ان کے ساتھ تکرار کرلیا۔ انہیں بہت غصہ آیا تو انہوں نے مجھے کہا تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ۔ اس کے بعد وہ چلے گئے۔ اور لوگوں کی محفل میں کچھ دیر تک رہے۔ پھر واپس آگئے۔ تو کیا دیکھتی ہوں کہ یہ میرے ساتھ تعلق زنا شوئی کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں خویلہ کی جان ہے ، تم میرے قریب نہیں آسکتے۔ تم نے جو کچھ کہا ہے وہ تو کہہ دیا ہے۔ اب یہ معاملہ رسول اللہ کے پاس جائے گا۔ اور جب تک اللہ اور رسول اللہ کا کوئی حکم نہیں آجاتا تم میرے قریب نہیں آسکتے۔ تو انہوں نے مجھ پر حملہ کردیا اور میں نے انہیں روکا جس طرح ایک عورت بوڑھے شخص کو رک لیتی ہے۔ غرض میں انہیں اپنے سے پرے پھینک دیا۔ اس کے بعد میں اپنی بعض پڑوسنوں کے پاس گئی اور ان سے کپڑے عاریتاً مانگے۔ پھر میں رسول اللہ کے پاس پہنچ گئی۔ میں آپ کے سامنے بیٹھ گئی۔ تو میں نے آپ کے سامنے پورا ماجرہ سنایا اور میں نے سو ہر کی بداخلاقی کی شکایت بھی کی۔ تو رسول اللہ فرمانے لگے ” وہ تمہارا چچازاد بوڑھا ہے اس کے بارے میں اللہ سے ڈرو “ خدا کی قسم میں اصرار کرتی ہی رہی یہاں تک کہ قرآن مجید نازل ہوگیا۔ رسول اللہ پر فوراً ایک حالت طاری ہوگئی۔ جو عموماً آپ پر نہ ہوتی تھی۔ اس کے بعد آپ سے یہ حالت دور ہوگئی تو مجھے آپ نے فرمایا ” خویلہ ، اللہ نے تمہارے اور تمہارے خاوند کے بارے میں قرآن نازل کردیا ہے۔ “ اس کے بعد آپ نے مجھے یہ آیات سنائیں۔
قد سمع اللہ .................................... عذاب الیم (4) (75 : 1 تا 4)
” اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کررہی ہے اور اللہ سے فریاد کیے جاتی ہے۔ اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے ، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے اظہار کرتے ہیں کہ ان کی بیویاں ان کی مائیں بہنیں ہیں ، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے اظہار کریں پھر اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی ، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ یہ حکم اس لئے دیا جارہا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ کی مقرر کی گئی ہوئی حدیں ہیں ، اور کافروں کے لئے درد ناک سزا ہے۔ “
کہتی ہیں مجھے رسول اللہ نے بتایا کہ اس کو حکم دیں کہ وہ ایک غلام آزاد کردے۔ تو میں نے حضور سے عرض کی ” اس کے پاس کیا ہے کہ وہ غلام آزاد کرے “ تو آپ نے فرمایا “ پھر وہ مسلسل دو ماہ تک روزے رکھے۔ “ تو میں نے کہا کہ : ” خدا کی قسم وہ تو بڑھا آدمی ہے۔ وہ دو ماہ کے مسلسل روزے نہیں رکھ سکتا۔ “ تو آپ نے فرمایا ” پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے فی مسکین ایک وسق کھجوریں دے۔ “ کہتی ہیں میں نے کہا رسول خدا ، خدا کی قسم اس کے پاس یہ بھی نہیں ہے۔ تو رسول اللہ نے فرمایا کہ ” میں اسے کھجور کی ایک ” عرق “ (ساٹھ صاع) دے دوں گا۔ “ تو میں نے کہا ” حضور ﷺ ایک عرق میں دے دوں گی “۔ تو اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ” تونے ٹھیک رویہ اختیار کیا اور احسان کیا ، لہٰذا جاؤ اور اس کی طرف سے صدقہ کرو ، اور اس کے بعد اپنے چچا زاد کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرو۔ “ کہتی ہیں ” میں نے ایسا ہی کیا۔ “ (اس روایت کو امام ابوداؤد نے کتاب الطلاق میں نقل کیا ہے) ۔
یہ حالات تھے جن میں حضور اکرم اور ایک عورت کے درمیان گفتگو ہوئی اور اس بارے میں پھر سات آسمانوں کے اوپر سے حکم آیا تاکہ اس عورت کو اس کا حق دیا جائے اور اس کے اور اس کے خاوند کے دلوں کو سکون دیا جائے اور اس قسم کے معاملات ، روز مرہ معاملات میں مسلمانوں کے لئے ضابطہ وضع کردیا جائے۔
یہ وہ حالات ہیں ، جن سے قرآن کی ایک سورت کا آغاز ہورہا ہے۔ قرآن اللہ کی ایک دائمی اور لازوال کتاب ہے اور اس کی اہمیت یہ ہے کہ اس کے ایک ایک لفظ کے ساتھ پوری کائنات ہم رکاب ہوجاتی ہے۔ سورت کا آغاز یوں ہوتا ہے۔
قد سمع .................... زوجھا (85 : 1) ” اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کررہی تھی “ تو اللہ مسلمانوں کی ایک عام عورت کے معاملات کی طرف بھی متوجہ ہے۔ اس عظیم کائنات ، ناپیدا کنار کائنات کے انتظام وانصرام نے اللہ کو ان معاملات سے مشغول نہ کردیا تھا ، نہ کسی اہم معاملے نے اللہ کو اس سے باز رکھا۔
یہ بہت ہی اہم معاملہ ہے کہ اس طرح کے ایک چھوٹے سے روزہ مرہ کے معاملے میں اللہ کی مداخلت ہوجائے اور پوری جامعت مسلمہ یہ شعور لے کر اللہ ان کے ساتھ ہے ، ان کے حالات میں ، ان کے معاملات میں کسی بڑے معاملے میں یا چھوٹے معاملے میں ، روز مرہ کے معاملے میں یا دائمی اور بڑے مسئلے اور مسائل میں۔ حالانکہ اللہ بہت ہی بڑا ، برتر ، جلیل القدر ، جبار اور متکبر ہے۔ تمام آسمان اور زمین اسی کے ہیں اور وہ غنی ہے اور اپنی ذات میں محمود ہے۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : تعریفیں ہیں اس ذات کے لئے جو تمام آوازوں کو سنتا ہے ، رسول اللہ سے تکرار کرنے والی کا نام خولہ تھا ، وہ آئی گھر کے ایک کونے میں وہ رسول اللہ سے بات کررہی تھی اور میں اس کی باتیں نہ سن سکتی تھی ، اللہ نے یہ آیت نازل کی۔
قدسمع ........................ الی اللہ (85 : 1) ” اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملے میں تم سے تکرار کررہی تھی اور اللہ سے فریاد کئے جاتی تھی۔ “ (بخاری)
خولہ کی روایت میں ، جسے خویلہ تصغیر اور تذلیل کے لئے کہا گیا ہے ، یہ بات ہے کہ یہ حادثہ ، اس میں اس عورت کی کاروائی ، رسول اللہ تک پہنچنا ، تکرار کرنا ، قرآن کا نازل ہونا ، ان سب باتوں سے اس زندگی کا ایک نقشہ سامنے آجاتا ہے جو انسانی تاریخ کی یہ منفرد سوسائٹی گزار رہی تھی۔ یہ عجیب دور تھا ، لوگوں کا رابطہ براہ راست عالم بالا سے قائم تھا۔ وہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کی ہدایات کے منتظر رہتے تھے۔ گویا سب لوگ عیال اللہ تھے۔ لوگوں کی نظریں عالم بالا پر اس طرح لگی ہوئی تھیں جس طرح ایک بچہ ہر وقت ماں باپ کی طرف دیکھتارہتا ہے۔
قرآن کے اندر اس واقعہ کی جو روایت ہے اس سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ عالم بالا کی طرف سے مسلسل ہدایت اور تربیت بھی ہورہی ہے اور ساتھ ساتھ قانون سازی بھی۔ قرآن اپنے اسلوب کے مطابق قانون بنارہا تھا۔ یہ بصورت ایک خشک قانون سازی نہیں ہے۔
قد سمع .................... سمیع بصیر (85 : 1) ” اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملے میں تم سے تکرار کررہی تھی اور اللہ سے فریاد کیے جاتی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے اور وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ “ یہ نہایت ہی موثر آغاز ہے۔ دیکھو تم دونوں جو باتیں کررہے ہو ، اکیلے نہیں ہو۔ تمہارے ساتھ اللہ موجود ہے۔ وہ سن رہا ہے ۔ اس نے عورت کی بات سن لی۔ اپنے خاوند کے بارے میں تکرار اور اللہ سے شکایت۔ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے ، وہ دیکھتا اور سنتا ہے۔ یہ تھے حالات اس حادثہ کے جس میں دونوں کے ساتھ ثالث اللہ تھا .... یہ سب باتیں چٹکیاں اور دل کے تاروں پر مضراب ہیں۔
اور اس کے بعد اصل مسئلے کو لیا جاتا ہے :
Ayah 58:2الذین ........................ لعفو غفور (85 : 2) ” تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے اظہار کرتے ہیں کہ ان کی بیویاں ان کی مائیں بہنیں ہیں ، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔ “
مسئلے کا حل نہایت ہی گہرائی سے کردیا گیا۔ ایام جاہلیت میں ظہار کا جو قانون مروج تھا وہ تھا ہی بےبنیاد ، بیوی ماں تو ہوتی نہیں کہ وہ ماں کی طرح حرام ہوجائے۔ ماں تو صرف وہ ہوتی ہے جس نے جنا۔ ایک لفظ کہنے سے نہ بیوی ماں بن جاتی ہے جو حرام ہوجاتی ہے۔ یہ نہایت ہی ناپسندیدہ کلمہ ہے۔ حقیقت اس کی منکر ہے۔ سچائی اس کی منکر ہے ، لہٰذا مناسب یہ ہے کہ سوشل معاملات واضح اور متعین ہوں۔ مجمل ، مضطرب اور پیچیدہ نہ ہوں اور سابقہ معاملات اور حادثات اللہ نے معاف کردیئے۔
وان اللہ لعفو غفور (85 : 2) اصل مسئلے کے سلسلے میں فیصلہ دینے کے بعد اب قانون سازی یوں کی جاتی ہے :
Ayah 58:3والذین .................... خبیر (85 : 3) ” جو لوگ اپنی بیویوں سے اظہار کریں پھر اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی ، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ “
اللہ تعالیٰ نے کئی کفاروں میں غلام کی آزادی کی تجویز رکھی ہے۔ یہ اسلام نے دنیا سے غلامی کو ختم کرنے کے لئے ایک تدبیر کی تھی۔ کیونکہ اس دور میں جنگ کے بین الاقوامی قوانین میں غلامی کو جائز رکھا گیا تھا۔ اسلام نے بہرحال اس کے ختم کرنے کے لئے مختلف تدابیر اختیار کیں۔ یہاں آیت۔
ثم یعودون لمام قالوا (85 : 3) ” پھر وہ اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی۔ “ کے مفہوم میں بہت سے اقوال وارد ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ دوبارہ مجامعت کا ارادہ کرلیں جسے انہوں نے بذریعہ ظہار اپنے اوپر حرام کردیا ہے ، یہ مفہوم سیاق کلام کے زیادہ قریب ہے۔ لہٰذا غلام کا آزاد کرنا ، اس مجامعت سے قبل ہوگا۔ اس پر نصیحت۔
ذلکم توعظون بہ (85 : 3) ” اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے “۔ کفارہ ایک قسم کی یاد دہانی اور تازیانہ عبرت ہے کہ دوبارہ یہ حرکت نہ کرو ، کیونکہ یہ رسم نہ حق ہے اور نہ معروف طریقہ ہے۔
واللہ بما تعملون خبیر (85 : 3) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ “ اللہ کو اس کی حقیقت معلوم ہے۔ واقعات سے بھی وہ خبردار ہے اور تمہاری معاشرت سے بھی وہ خبردار ہے۔
یہ نصیحت اور عبرت آموزی قانون ظہار کی تکمیل سے پہلے آگئی۔ نفوس کی تربیت کے لئے اور اس لیے کہ اللہ جو قانون بنارہا ہے وہ اپنے علم اور اپنی حکمت کے مطابق بنارہا ہے۔ وہ ظاہر سے بھی خبردار ہے اور باطن سے بھی۔ اب اس کے بعد حکم کو مکمل کیا جاتا ہے۔
Ayah 58:4فمن لم ................ مسکینا (85 : 4) ” اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ “
اب اس قانون کے توضیحی بیان اور مسلمانوں کو ہدایت کے لئے تبصرہ آتا ہے۔
ذلک لتومنو باللہ ورسولہ (85 : 4) ” یہ حکم اس لئے دیا جارہا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ “ وہ تو پہلے سے مومن ہیں ؟ لیکن یہ بیان کہ یہ کفارات اور جرمانے اور ان کے حالات کو اللہ کے احکام وقوانین سے مربوط کرنے سے ایمان میں قوت اور اضافہ ہوتا ہے۔ عملی زندگی ایمان کے ساتھ مربوط ہوتی ہے اور عملی زندگی پر ایمان کا کنٹرول قائم ہوتا ہے۔
وتلک ........................ الیم (85 : 4) ” یہ اللہ کی مقرر کی گئی ہوئی حدیں ہیں ، اور کافروں کے لئے درد ناک سزا ہے۔ “ یہ حدیں اللہ نے اس لئے قائم کی ہیں کہ لوگ ان حدوں سے آگے نہ بڑھ جائیں۔ اور جو شخص ان کا خیال نہیں رکھتا اور ان سے ادھر ہی رک کر نہیں رہتا اس کے غضب کا مستحق ہوتا ہے۔
وللکفرین عذاب الیم (85 : 4) ” اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ “ کیونکہ وہ ظلم کرتے ہیں ، اللہ کو چیلنج کرتے ہیں ، ایمان نہیں لاتے۔ اللہ کی حدود پر نہیں رکھتے ، جس طرح اہل ایمان رکتے ہیں۔
یہ آخری عبارت وللکفرین عذاب الیم (85 : 4) ” اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ “ سابقہ آیت کے خاتمے کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور آنے والی آیت کا سابق آیت کے ساتھ رابطہ بھی قائم کردیتی ہے۔ جس کا موضوع یہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کرتے ہیں وہ ذلیل ہوکر رہیں گے۔
Ayahs 58:5–6پہلے پیراگراف میں یہ بتایا گیا تھا کہ اللہ اہل اسلام کے ساتھ کس قدر مہربانی کرنے والا ہے اور جماعت مسلمہ کے مسائل حل کرنے کے لئے وہ ہر وقت تیار ہے۔ یہ دوسرا پیراگراف کافروں کی سرکوبی کے لئے ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور رسول اللہ کی دشمنی پر اتر آئے ہیں یعنی وہ مسلمانوں کی حدود پر متضاد اور مخالفانہ موقف اختیار کرتے ہیں اور محاذ آرائی کرتے ہیں۔ پہلے چونکہ حدود اللہ کا ذکر ہے اور حدود پر جو جھگڑتا ہے وہ دشمن ہوتا ہے یعنی سرحدوں پر جو لڑتا ہے اس لئے یہاں ایسے دشمنان اسلام کا ذکر کردیا گیا۔ جو رسول اللہ کے مقابلے میں حد پر کھڑے ہیں اور مقابلے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ اس سے دو مقابل فریقوں کی ایک تصویر دی گئی جو حدود پر لڑتے ہیں۔ اس سے کافروں کے اس فعل کی قباحت اور گھناؤنے پن کا اظہار مقصود ہے۔ اس لئے کہ یہ لوگ اپنے خالق اور رازق سے لڑنے نکل آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کی حدوں پر اپنی شیطانی افواج جمع کررکھی ہیں۔
کبتوا .................... قبلھم (85 : 5) ” اسی طرح ذلیل و خوار کردیئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کیے جاچکے ہیں۔ “ راجح بات یہ ہے کہ یہ ایسے لوگوں کے لئے بددعا ہے اور اللہ کی طرف سے بددعا دراصل حکم الٰہی ہی ہوتا ہے۔ کیوں کہ اللہ تو فعال لما یرید ہے۔ کبت کے معنی قہر نازل ہونے اور ذلیل کرنے کے ہیں۔ پہلے لوگوں سے مراد یا تو وہ ہیں جو گزر چکے ، انبیائے سابقہ کی امتیں۔ جن کو اللہ نے اسی جرم میں پکڑ لیا ان سے مراد وہ مشرکین اور یہود ہیں جن کو مسلمانوں کے ذریعہ اللہ نے ذلیل کردیا تھا ، ان آیات کے نزول سے پہلے ، مثلاً غزوہ بدر میں۔
وقد .................... بینت (85 : 5) ” ہم نے تو صاف صاف آیات نازل کردی ہیں۔ “ اس آیت میں ان لوگوں کے انجام کو مفصل اور جدا کرکے بیان کیا ہے جو اللہ اور رسول سے دشمنی کرتے ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ اس لئے کہ یہ انجام جو ان آیات میں بیان ہوا ہے وہ لوگ اس انجام تک کسی جہالت کی وجہ سے نہیں پہنچ رہے یا اس لئے اس انجام تک نہیں پہنچ گئے کہ ان کی سمجھ میں بات نہیں آئی۔ بلکہ ان کو بات بڑی وضاحت کے ساتھ سمجھادی گئی تھی۔ اس کے بعد ان کا اخروی انجام نہایت ہی سبق آموز انداز میں لایا جاتا ہے تاکہ اہل ایمان کی اصلاح اور تربیت ہو۔
وللکفرین .................... شھید (85 : 6) ” اور کافروں کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ اس دن (یہ ذلت کا عذاب ہونا ہے) جب اللہ ان سب کو پھر سے زندہ کرکے اٹھائے گا۔ اور انہیں بتادے گا کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ وہ بھول گئے ہیں مگر اللہ نے ان کا سب کیا دھڑاگن گن کر محفوظ کررکھا ہے اور اللہ ایک ایک چیز پر شاہد ہے۔ “
یہاں تو توہین آمیز عذاب ، ان کے تکبر کے بدلے ، ان کو دیا جائے گا۔ جب لوگوں کو اللہ اٹھائے گا تو ان نام نہاد بڑوں کو اللہ عوام کے سامنے توہین آمیز عذاب دے گا۔ یہ وہ عذاب ہوگا جو حق پر دیا جائے گا۔ اور ان کا مفصل اعمال نامہ اس کی پشت پر ہوگا جسے یہ اس دن بڑی بےپرواہی سے بھول جائیں گے۔ حالانکہ اللہ نے اسے یوں تیار کیا ہوگا کہ اس میں سے کوئی چیز بھی باقی نہ رہی ہوگی کیونکہ اللہ تو سب کچھ جانتا ہے۔
وللہ .................... شھید (85 : 6) ” اور اللہ ہر ایک چیز پر گواہ ہے۔ “
یہاں رعایت اور فضل وکرم اور جنگ اور انتقام کی دونوں تصاویر آمنے سامنے ہیں۔ اللہ کا علم اور موجود گی ہر جگہ ہے۔ وہ رعایت امداد اور مہربانی کے لئے بھی حاضر ہے اور وہ جنگ اور انتقام اور دشمنوں کو عذاب دینے کے لئے بھی حاضر ہے۔ لہٰذا اللہ کے حضوری اور موجودگی پر اہل ایمان مطمئن ہوجائیں اور کافر اور دشمن خوفزدہ ہوجائیں۔
یہ کہ اللہ ہر چیز پر شاہد ہے۔ اب یہاں اس کی ایک زندہ تصویر پیش کی جاتی ہے۔ یہ اس قدر موثر ہے کہ قلب و شعور کی تاروں میں اضطرابی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔
Ayah 58:7آیت کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ اللہ کا علم اس کائنات کے بارے میں جامع ومانع ہے اور ہر چیز کو شامل ہے۔ انسانی فکر اس پوری کائنات کے اندر ، آسمان کی دوریوں میں اور زمین کے اطراف میں ہر چیز تک چھوٹی ہو یا بڑی ظاہر ہو یا خفیہ معلوم ہو یا مجہول ہو ، نہیں پہنچ سکتی جبکہ ہر چیز اللہ کے علم میں ہوتی ہے۔ یہ آیت انسانی فکر کو یوں دور تک لے جاتی ہے۔
اس کے بعد پھر ہماری فکر خود مخاطیں کے قلوب تک جاپہنچی ہے۔ ہر شخص کا قلب خزاہ خیالات ہے۔ اس کے بعد لوگوں کے خفیہ ترین مشورے دو ، تین ، چار یا پانچ یا کم وبیش آدمی جہاں اور جس محفل میں ہوں ، وہاں تک لے جائی جاتی ہے۔
مایکون .................... ماکانوا (85 : 7) ” کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چوتھا اللہ نہ ہو ، یا پانچ آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان کے اندر چھٹا اللہ نہ ہو۔ خفیہ بات کرنے والے خواہ اس سے کم ہوں یا زیادہ ، جہاں کہیں بھی وہ ہیں ، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ “
یہ بذات خود حقیقت ہے لیکن جن خبوصورت الفاظ میں اسے بیان کیا گیا ہے ان کی وجہ سے وہ بہت زیادہ موثر ہوجاتی ہے۔ ایسے انداز میں کہ کبھی تو انسان کا دل کانپ اٹھتا ہے اور کبھی اسے نہایت اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ جل جلالہ بھی ہمارے ساتھ موجود ہے۔ جب بھی کوئی تین افراد الگ ہوئے کہ کوئی بات کریں تو فوراً یہ شعور ان کے اندر زندہ ہوجائے گا کہ ہمارے اندر اللہ چہارم ہے اور جب بھی کوئی پانچ جمع ہوں گے تو وہ محسوس کریں گے چھٹا اللہ ہے۔ غرض دو ہوں یا اور زیادہ ، اللہ موجودہوتا ہے۔
یہ ایک ایسی صورت حال ہے کہ انسان کا دل اس کے مقابلے میں کھڑا نہیں ہوسکتا ، کانپ اٹھتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اہل ایمان کے لئے یہ ایک مانوس بات ہے ، یہ ان کے لئے کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ اہل ایمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ حاضروناظر ہے لیکن یہ منظر نہایت خوفناک بھی ہے۔
ھو معھم این ماکانوا (85 : 7) ” اللہ ان کے ساتھ ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں۔ “
ثم ینبئھم ................ القیمة (85 : 7) ” پھر قیامت کے روز وہ ان کو بتا دے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ “ یہ ایک دوسری متنزلزل کرنے والی چٹکی ہے ، محض اللہ کا موجود ہونا اور تمام باتوں کو سننا بھی ایک خوفناک بات ہے لیکن یہ کہ ان باتوں کا بعد میں حساب و کتاب بھی دینا ہے ، یہ اور زیادہ ہولناک بات ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ نجویٰ کرنے والوں کا مقصد یہ ہو کہ ان کا نجویٰ خفیہ رہ جائے۔ قیامت میں اس نجوی کی کاروائی کھلی عدالت میں پیش ہوگی اور سب لوگ وہاں حاضر ہوں گے کیونکہ وہ تو یوم المشہود ہے۔
اب خاتمہ بھی اسی بات پر ہوتا ہے ، جس سے آغاز ہوا تھا۔
ان اللہ ................ علیم (85 : 7) ” اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ “ یوں علم الٰہی کی حقیقت اور جامعیت دلوں میں بٹھائی جاتی ہے۔ ایک ہی آیت میں مختلف اسالیب سے یہ کام ہوتا ہے اور یہ اسالیب اس حقیقت کو دلوں میں بہت گہرا کردیتے ہیں اور اسی بات کو دل کے اندر مختلف راہوں اور دروازوں سے بٹھاتے ہیں۔
یہ حقیقت کہ اللہ حاضر وناظر ہے اور مذکور بالا آیات میں اس کو دلوں میں نہایت ہی خوفناک طریقے سے بٹھایا گیا۔ یہ دراصل منافقین کو ایک سخت دھمکی دینے کے لئے بطور تمہیدلائی گئی ہے۔ یہ منافقین رسول اللہ اور جماعت مسلمہ کے خلاف رفت دن نجویٰ کرتے رہتے تھے ، سازشیں تیار کرتے تھے۔ مدینہ میں ان کی کثرت تھی ، دھمکی کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ان کا موقف بہت عجیب ہے۔
Ayah 58:8الم ترالی .................... المصیر (85 : 8) ” کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کردیا گیا تھا پھر بھی وہ وہی حرکت کیے جاتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا ؟ یہ لوگ چھپ چھپ کر آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں کرتے ہیں ، اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا ہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری ان باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ ان کے لئے جہنم ہی کافی ہے۔ اسی کا وہ ایندھن بنیں گے۔ بڑا ہی برا انجام ہے ان کا۔ “
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں منافقین کے بارے میں حضور ﷺ کا منصوبہ نہایت روادارانہ اور ان کے ساتھ آپ کا رویہ نہایت ہی ہمدردانہ تھا۔ آپ ان کو یہی نصیحت فرماتے ہیں کہ اخلاص کے ساتھ اسلام کو قبول کرلیں۔ اور آپ ان کو بار بار نجویٰ ، سازشوں اور خفیہ تدابیر سے روکتے تھے۔ اور منافقین یہ کام یہودیوں کے ساتھ مل کر کرتے تھے۔ بلکہ یہ تمام کام مشرکین اور منافقین یہودیوں کے اشاروں پر کرتے تھے۔ لیکن حضور ﷺ کے مخلصانہ رویہ کے باوجود انہوں نے اپنی ان سازشوں اور خفیہ تدابیر اور نجویٰ کے کام کو اور تیز کردیا۔ اور اس کے لئے انہوں نے ایسے ذرائع اور تدابیر بھی شروع کردیں کہ حضور ﷺ کے احکام کی نافرمانی کی جائے۔ اور مسلمانوں کے معاملات اور اسلامی نظام میں فساد برپا کرکے خلل ڈالا جائے۔
یہ لوگ اپنے کام میں اس قدر تیز اور جری ہوگئے تھے کہ انہوں نے اسلامی حکومت کے احکامات میں فساد ڈالنے کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ کے ساتھ علیک سلیک کے اندر بھی فساد پیدا کردیا تھا۔ اور السلام علیکم کے معنی میں بھی تبدیلی کردی تھی۔
واذا جائ ........................ بہ اللہ (85 : 8) ” اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا ہے “۔ یہ منافقین اور یہودی السلام علیکم کی جگہ السام علیکم کہتے تھے۔ یعنی یہ کہ تم پر موت آجائے۔ اسی طرح انہوں نے کچھ دوسرے الفاظ بھی گڑھ لئے تھے جن کا ظاہر تو اچھا تھا مگر باطن میں وہ ان سے غلط مراد لیتے تھے اور پھر وہ کہتے تھے کہ اگر یہ نبی برحق ہوتا تو اسے ہماری ان باتوں کا علم ہوتا یا ان مجالس کا علم ہوتا جن میں ہم اس کے خلاف تدابیر اور سازشیں کرتے ہیں۔
اس سورت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے نبی ﷺ کو سب کچھ بتا دیا تھا۔ وہ بھی جو یہ اپنے دلوں میں سوچتے تھے اور وہ بھی جو سازشیں وہ اپنی مجلسوں میں کرتے تھے۔ کیونکہ سورت کے آغاز میں بتا دیا گیا کہ جو عورت اپنے خاوند کے بارے میں تکرار کررہی تھی اس کی باتیں اللہ نے سن لیں۔ اور یہ کہ اگر تین آدمی نجویٰ کریں تو چوتھا اللہ ہوتا ہے ، اگر چار کریں تو پانچواں اللہ ہوتا ہے نیز ان کے نفوس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی اللہ کو معلوم ہے۔ اور اس کے بعد ان کی باتوں کی یہ تردید کردی گئی۔
حسبھم .................... المصیر (85 : 8) ” ان کے لئے جہنم ہی کافی ہے۔ اسی کا وہ ایندھن بنیں گے۔ بڑا ہی برا انجام ہے ان کا۔ “
ان کی خفیہ سازشوں کا انکشاف ، ان کے نجویٰ کا انکشاف خصوصاً جبکہ حضور کی جانب سے ممانعت کے باوجود انہوں نے کیا ، پھر وہ جو دلوں میں کہتے تھے کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو اسے ہماری یہ کاروائیاں معلوم ہونی چاہئیں ۔ ان باتوں کا انکشاف ، غرض یہ سب انکشافات اس بات کی دلیل ہیں کہ زمین و آسمان کی ہر بات کا اللہ کو علم ہے اور اللہ پر نجویٰ میں موجود ہیں ، وہ خفیہ اجماع کا شاہد ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں منافقین کے لئے تو خوفناک تھیں کہ ان کے تمام امور طشت ازبام ہوچکے ہیں جبکہ اہل ایمان کے لئے اطمینان اور بھروسے کا باعث بنیں۔
اب خطاب اہل ایمان کو ہورہا ہے ” اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، کہ تم منافقین کی طرح نجویٰ نہ کرو ، گناہ کی باتوں میں ، دشمنی کی باتوں میں ، رسول کی نافرمانی میں ، بلکہ جو بات بھی کرو خدا خوفی کے ساتھ کرو ، اس قسم کا نجویٰ دراصل شیطان کے اشارے سے ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ شیطان مومنین کو پریشان کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ اس قسم کا نجویٰ مومنین کے لائق نہیں ہے۔
Ayahs 58:9–10یایھا الذین .................... المومنون (01) (85 : 9۔ 01)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس کے حضور تمہیں حشر میں پیش ہونا ہے۔ کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے ، اور وہ اس لئے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اس سے رنجیدہ ہوں ، حالانکہ بےاذن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتی ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “
معلوم ہوتا ہے ابتدائی زمانے میں جب کہ لوگوں میں ابھی تک اسلامی جماعت کا صحیح شعور اور احساسات پیدا نہ ہوئے تھے ، بعض مسلمان اجتماعی معاملات میں اپنی قیادت کے ساتھ مشورہ کیے بغیر ہی ، باہم اجتماعی مشورہ شروع کردیتے تھے۔ یہ لوگ ابھی اسلامی تنظیم کی روح سے واقف نہ تھے ، جس کے مطابق سب سے پہلے ہر مشورہ وبصورت تجویز پہلے قیادت کے سامنے آنا چاہئے اور اسلامی قیادت کے علاوہ کوئی نجویٰ نہیں ہونا چاہئے۔ معلوم ہوتا ہے اس دور میں بعض مسلمان اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے ، جب ایسے مشورے کرتے تھے تو اس سے پیچیدگیاں پیدا ہوتی تھیں اور اس سے جماعت مسلمہ کو تکلیف پہنچتی تھی اگر چہ مشورہ کرنے والوں کی ایسی نیت نہ ہوتی تھی۔ لیکن ان لوگوں کی طرف سے محض ایسے مسائل اٹھا دینا ہی جماعت کے لئے ایذا کا باعث بن جاتا اور اس سے اجتماعی پالیسی کی نافرمانی ہوجاتی۔
یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان کو لقب ایمان سے پکارا جاتا ہے ، جو ان کی جدید اجتماعیت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
یایھا ................ امنوا (85 : 9) ” اے لوگ ، جو ایمان لائے ہو “ ایسے مشورے نہ کرو جو گناہوں ، اور حدود سے متجاوز ہوں ، اور جن سے رسول اللہ ﷺ کی معصیت لازم آتی ہو۔ اور یہ بھی بیان کردیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کن امور پر مشورہ کرسکتے ہیں۔
وتنا ................ والتقوٰی (85 : 9) ” بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتوں پر مشورہ کرو۔ “ نیکی اور تقویٰ کے بارے میں وسائل وتدابیر اختیار کرنے کے لئے بیشک تم مشورے کرو ، البر : یعنی عام بھلائی ، التقوی : بیداری اور اللہ کو حاضروناظر سمجھتے ہوئے ڈرنا۔ اس قسم کا تقویٰ صرف بھلائی ہی سکھاتا ہے۔ پھر صراحت کے ساٹھ ان کو کہا جاتا ہے کہ ، اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم نے پلٹ کر جانا ہے۔ وہ وہاں تمہارے سب کیے پر تم سے حساب لے گا۔ وہ اس پورے ریکارڈ کو تیار کرنے والا اور اس پر گواہ بھی ہوگا۔ چاہے جس قدر بھی تم چھپاؤ اور خفیہ رکھو۔
امام احمد نے روایت کی ہے بہز اور عفان سے ، ان دونوں نے ھمام سے ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے صفوان ابن محرز سے ، یہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، کہ ا کی شخص نے ان سے پوچھا : ” تم نے نجویٰ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا کہ قیامت میں اس کے بارے میں کیا ہوگا ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ سے یہ کہتے سنا کہ : ” اللہ ایک مومن کے قریب ہوگا۔ اس پر اپنے دونوں ہاتھ یوں رکھے گا کہ وہ لوگوں سے چھپ جائے گا۔ اور اس کے گناہوں کا اس سے اقرار لے گا اور کہے گا تمہیں فلاں فلاں گناہ معلوم ہیں۔ یہاں تک کہ جب اس کے پورے گناہ اسے یاد دلادیئے اور اقرار لے لیا ، اور اس شخص نے یہ سوچ لیا کہ اب تو وہ مارا گیا تو اس کے بعد اللہ فرمائے گا اچھا ، دنیا میں تو میں نے ان گناہوں کو چھپا دیا تھا اور آج میں تمہارے لئے ان سب کو معاف کرتا ہوں۔ اس کے بعد اللہ اس کو اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ دے گا۔ رہے کفار اور منافقین تو ان کے علاوہ پیش ہونے والے گواہ کہیں گے ، اے رب یہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا ، لعنت ہے ظالموں پر۔ (بخاری)
اس کے بعد مومنین کو نجویٰ ، افواہیں پھیلانے اور خفیہ سازشوں سے منع کیا جاتا ہے۔ جماعت سے الگ خفیہ طور پر کوئی مشورہ نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ اہل ایمان اس جماعت کا حصہ ہیں ، ان کی مصلحت اور جماعت کی مصلحت ایک ہے۔ ان کو کسی معاملے میں جماعت سے جدا نہیں ہونا چاہئے۔ اور ان سے کہا جاتا ہے کہ مومنین جب دیکھیں کہ کچھ لوگ الگ کانا پھوسی کررہے ہیں ، اور الگ مشورے ہورہے ہیں تو اس طرح اہل ایمان کو شک ، پریشانی اور حزن وملال ہوگا اور بداعتمادی کی فضا پیدا ہوگی۔ شیطانی کاوش ہی یہ ہے کہ وہ اس قسم کے نجویٰ کرنے والوں کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے تا کہ وہ نجویٰ کرکے جماعت مسلمہ کو پریشان کریں حالانکہ وہ ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
انما ........................ المومنون (85 : 01) ” کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے ، اور وہ اس لئے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اس سے رنجیدہ ہوں ، حالانکہ بےاذن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “ کوئی مومن اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتا۔ کیونکہ اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ کیا ہی نہیں جاسکتا۔ اور نہ کوئی ایسی ہستی ہے۔
احادیث میں آتا ہے کہ ایسے حالات میں کانا پھوسی نہیں کرنا چاہئے جس کی وجہ سے شکوک و شبہات پیدا ہوں اور مسلمانوں کا باہم اعتماد مجروح ہو اور دلوں کے اندیشے پیدا ہوں۔
اعمق حضرت عبداللہ ابن مسعود حضرت عبداللہ ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں :” اگر تم سے کوئی دو تیسرے کے سوا الگ ہو کر مشورہ نہ کرے ، کیونکہ اس بات سے وہ دل گیر ہوگا “ یہ اسلامی جماعت کے بہترین آداب ہیں۔ اور اگر ایسے آداب کو ملحظو رکھا جائے تو شکوک و شبہات کی گنجائش ہی نہ رہے گی۔ ہاں اگر راز رکھنے کی مصلحت درپیش ہو ، یا کسی کی پردہ داری مطلوب ہو ، یا کسی مخصوص شخص کے معاملات میں بات ہورہی ہو یا کسی عمومی بحث میں پردہ داری مطلوب ہو تو پھر بند کمرے میں بات کرنے کی کوئی ممانعت بھی نہیں ہے۔ اور ایسی صورت مشروہ جماعت کے قائدین کے درمیان ہوا کرتی ہے۔ لیکن کوئی اکٹھ ایسا نہ ہو کہ جسے جماعت اندر جماعت کہا جاسکے یا جو جماعت کے علم کے بغیر ہو ۔ اس قسم کے نجویٰ سے قرآن اور سنت نے منع کیا ہے اور اس قسم کے نجویٰ سے جماعتوں کے اندر افتراق اور ان کی صفوں میں شکوک پیدا ہوتے ہیں اور یہ وہ بیماری ہے جس کو شیطان بڑے اہتمام سے پھیلاتا ہے تاکہ ایمان والوں کے درمیان عدم اطمینان پھیلا دے۔ اور اللہ نے یہاں فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جماعت مسلمہ کو کبھی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس لئے کہ مومنین کی جماعت کا نگران ، نگہبان اور چوکیدار اللہ بذات خود ہے اور اللہ ہر نجویٰ میں حاضر وموجود ہوتا ہے۔ اور ایسے مشوروں میں جو سازشیں ہوتی ہیں اللہ ان کو مومنین کے لئے بےضرر بنا دیتا ہے۔
الا باذن اللہ (85 : 01) ” اللہ کے اذن کے سوا “۔ جہاں بھی کوئی حتمی اور جزمی وعدہ اور فیصلہ ہو وہاں اس قسم کی استثنا ہوتی ہے ، اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ خود اپنے فیصلوں کا پابند نہیں ہے۔ لہٰذا اللہ جو چاہے کرے ، اگر اللہ چاہے کہ مسلمانوں کو تکلیف پہنچے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔
وعلی ................ المومنون (85 : 01) ” اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ “ اللہ ہی بچانے والا اور حامی ہے۔ وہی قوی اور عزیز ہے ، وہی علیم وخبیر ہے ، وہی شاہد اور حاضر ہے ، اور اس کائنات میں وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اور اللہ نے یہ وعدہ کرلیا ہے کہ وہ مومنوں کو بچائے گا تو اس کے بعد مومنوں کے لئے کیا شک رہ جاتا ہے اس لئے وہ بےفکر ہوجاتے ہیں۔
اس کے بعد اہل ایمان کو ایک دوسرا اجتماعی ادب سکھایا جاتا ہے۔
Ayah 58:11” بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان آیات کے نزول کا بھی منافقین کے ساتھ تعلق ہے۔ ان سے پھر ان آیات اور ماقبل کی آیات کے درمیان ربط واضح ہوجاتا ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ آیات مجالس ذکر کے بارے نازل ہوئی ہیں۔ منافقین کا رویہ یہ تھا کہ جب یہ کسی شخص کو مجلس رسول میں آتا دیکھتے تو اپنی جگہ جم کر بیٹھ جاتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ نئے آنے والوں کو مجلس میں جگہ دیا کرو۔
مقاسل ابن حبان نے کہا کہ یہ جمعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس دن حضور ﷺ صفہ میں تھے ، جگہ تنگ تھی۔ حضور ﷺ مہاجرین اور انصار میں سے اہل بدر کا بہت اکرام کرتے تھے۔ اہل بدر میں سے کچھ لوگ آئے اور ان سے پہلے جگہ بھر چکی تھی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے ارد گرد کھڑے ہوگئے اور کہا :
السلام علیکم ایھا النبی ورحمة اللہ وبرکاتہ نبی ﷺ نے سلام کا جواب دیا۔ اس کے بعد انہوں نے وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو سلام کیا۔ انہوں نے بھی سلام کا جواب دیا۔ یہ لوگ کھڑے رہے کہ شاید یہ لوگ ان کے لئے مجلس میں وسعت پیدا کریں گے تو حضور ﷺ نے معلوم کرلیا کہ وہ کیوں کھڑے ہیں ؟ یہ بات نبی ﷺ کو بہت ناگوار گزری۔ تو آپ کے ارد گرد مہاجرین وانصار میں سے جو غیر بدری لوگ تھے ، حضور ﷺ نے ان سے فرمایا فلاں تم اٹھ جاؤ، فلاں تم اٹھ جاؤ، یوں ہی حضور ﷺ ان کو اٹھاتے رہے جب تک تمام بدریوں کے بیٹھنے کی جگہ نہیں ہوگئی۔ یہ بات ان لوگوں پر بہت ہی گراں گزری جو اٹھائے گئے تھے۔ ان کے چہروں پر حضور ﷺ نے یہ کراہت دیکھ لی۔ اس پر منافقین نے کہا کہ کیا تم کو یہ یقین نہیں ہے کہ تمہارے ” صاحب “ لوگوں کے درمیان انصاف کرتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا ہمیں تو اس طرح کا اٹھانا منصفانہ معلوم نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں نے نبی کا قرب چاہا اور قریب بیٹھ گئے۔ اور آپ ﷺ نے ان کو اٹھا دیا اور پھر دیر تک بیٹھے رہے۔ ہم تک یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے اس شخص پر رحم کیا جس نے اپنے بھائی کے لئے مجلس میں جگہ بنائی۔ اس کے بعد اگر کوئی آتا تو وہ لوگ جگہ دینے کے لئے جلدی سے اٹھ جاتے۔ اور لوگ ایک دوسرے کے لئے مجالس میں جگہ بناتے اور یہ آیت جمعہ کے دن نازل ہوئی۔
اگر یہ روایت درست ہے تو یہ ان احادیث کے منافی نہیں ہے جن میں یہ آیا ہے کہ مجلس سے کسی شخص کو اٹھا کر دوسرے کو نہ بٹھایا جائے۔ جیسا کہ صحیحین کی روایت میں ہے ” کوئی شخص کسی شخص کو مجلس سے اس لئے نہ اٹھائے کہ اس کی جگہ خود بیٹھ جائے لیکن یہ ہے کہ مجالس کے اندر وسعت اور کشادگی پیدا کرو “ اور اسی طرح دوسری احادیث کے بھی یہ خلاف نہیں ہے جن کا مضمون یہ ہے کہ بعد میں آنے والا وہاں بیٹھ جائے جہاں مجلس ختم ہوتی ہے اور لوگوں کی گردنوں کے اوپر چڑھ کر آگے نہ بڑھے تاکہ وہ ممتاز جگہ بیٹھ جائے۔
آیت کا مضمون یہ ہے کہ پہلے بیٹھے ہوئے لوگ آنے والے کے لئے جگہ بنائیں۔ جس طرح آیت میں یہ بھی ہے کہ اگر منتظمین کسی کو کہیں کہ وہ اپنی نشست چھوڑ دے تو اسے چاہیے کہ وہ چھوڑ دے۔ لیکن یہ حکم منتظم اور قیادت سے صادر ہونا چاہئے ، باہر سے آنے والے کی جانب سے نہیں۔
غرض یہاں یہ ہے کہ انسانی نفوس کے اندر وسعت پیدا کی جائے قبل اس کے کہ مجالس کے اندر وسعت پیدا کی جائے۔ اگر دل کے اندر وسعت پیدا ہوجائے تو پھر وہ برداشت کرے گا اور مجلس میں آنے والے بھائیوں کو نہایت ہی محبت اور نہایت ہی خوش اخلاقی کے ساتھ بٹھائے گا اور ان کا استقبال کرے گا اور نہایت خوشی اور رضامندی سے ان کے لئے جگہ بنائے گا۔
لیکن اگر قیادت یہ سمجھتی ہو کہ کسی خصوصیت یا مخصوص حالات کی وجہ سے جگہ خالی کرنا ضروری ہے تو طیب نفس اور خوشی خوشی سے جگہ خالی کردینا چاہئے۔ لیکن اصول اپنی جگہ وہی رہے گا کہ پیچھے آنے والا پیچھے رہے ، گردونوں پر سوار ہو کر آگے نہ بڑھے۔ یا کسی دوسرے کو اٹھا کر اس کی جگہ خود نہ بیٹھے۔ یہ تو رواداری ہے اور انتظامی حکم ہے جو فیصلہ کن ہے اور اسلام بہرحال بہترین آداب سکھاتا ہے۔
ہر حکم دینے کے بعد اسلامی نظام تربیت کا یہ اصول ہے کہ وہ لوگوں کے شعور کی اصلاح کرتا ہے۔ یہاں بھی کہا جاتا ہے کہ اگر تم مجالس میں اور دلوں میں وسعت پیدا کرو گے تو اللہ تمہارے لئے وسعت پیدا کردے گا۔
فافسحوا ................ لکم (85 : 11) ” تو جگہ کشاد کردیا کرو ، اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا “ اور وہ لوگ جو اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں اور رسول اللہ یا قیادت کی اطاعت کرتے ہیں تو اللہ ان کو رفعت مقام عطا کرے گا۔
واذاقیل ........................ درجت (85 : 11) ” اور جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو۔ تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے ، اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا “ یہ ہوگی ان کی تواضع کی جزاء اور تعمیل حکم اور ڈسپلن کا اجر۔
حضور ﷺ کی مجلس میں قریب مقام حاصل کرنا بھی دراصل حصول علم کے لئے ہوا کرتا تھا۔ چناچہ یہ آیت ان کو سکھاتی ہے کہ جو ایمان وسعت قلبی سکھائے ، اطاعت امر سکھائے ، اور وہ علم جو دل کی تہذیب عطا کرے ، اور وہ دل وسیع ہوجائے اور مطیع فرمان ہوجائے تو ایسے علم اور متعلم کے درجات اللہ کے ہاں بلند ہوجاتے ہیں اور یہ جو درجہ عطا ہوا یہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے رسول کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے مجلس میں اپنا درجہ چھوڑ دیا۔ لہٰذا اللہ نے اپنے ہاں درجہ دے دیا۔
واللہ ............ خبیر (85 : 11) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ کو اس کی خبر ہے “۔ لہٰذا اللہ علم اور معرفت کی بنا پر ہر کام پر مناسب جزا دے گا اور اللہ کو یہ بھی معلوم ہے کہ تمہارے کاموں کے پیچھے کیا داعیہ رکھا ہے۔
یوں قرآن کریم انسانی نفوس کی تہذیب اور اخلاقی تربیت کرتا ہے اور انسانوں کو وسعت قلبی ، رواداری ، اطاعت امر سکھاتا ہے۔ اس طرح کہ وہ ناگوار کام کو بھی ذوق وشوق سے کریں۔ دین اسلام محض خشک دفعات پر مشتمل کوئی قانون نہیں ہے۔ یہ تو ایک شعور ، ایک نظریہ ، ایک احساس اور ضمیر کے اندر ایک ملکہ ہے جو عمل پر ابھارتا ہے۔
اب قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ایک دوسرا ادب اہل ایمان کو سکھاتا ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے تنہائی میں گفتگو کرنے والوں کب بہت کثرت ہوگئی تھی اور ہر فرد اپنے انفرادی معاملات میں حضور اکرم ﷺ سے گفتگو چاہتا تھا۔ اور اس کے ذاتی معاملات میں ہدایات اور مشورے چاہتا تھا۔ اور اس دور میں رسول اللہ ﷺ کی اجتماعی ذمہ داریاں بڑھ گئی تھیں اور آپ کا وقت بہت ہی قیمتی تھا۔ اور آپ کے ساتھ تنہائی میں گفتگو ایک بہت ہی اہم اور سنجیدہ مسئلہ بن گیا تھا۔ یہ تو کسی نہایت ہی اہم مسئلے ہی میں ہو سکتا تھا ، لیکن لوگ تھے کہ اس اعزاز کے لئے ٹوٹ پڑے تھے۔ چناچہ اللہ نے تنہائی میں وقت کا مطالبہ کرنے والوں کو کنٹرول کرنے کے لئے مالی تاوان عائد کردیا۔ اور یہ مالی تاوان جماعت کے اجتماعی کاموں کے لئے تھا۔ یوں حضور اکرم ﷺ اپنے وقت کا ایک حصہ ایسے لوگوں کو دے دیتے کیونکہ آپ کا پورا وقت اجتماعی معاملات کے لئے وقف تھا۔ یہ تاوان یوں ہوتا کہ جو شخص تنہائی میں وقت چاہتا وہ پہلے صدقہ کرے۔
Ayah 58:12یایھا الذین .................... غفور رحیم (85 : 21) ” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ، جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلس میں کشادگی پیدا کرو ، اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ کو اس کی خبر ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم رسول سے تخلیہ میں بات کرو تو بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دو ، یہ تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ تر ہے ۔ البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لئے کچھ نہ پاؤ تو اللہ غفور ورحیم ہے۔ “
اس آیت پر حضر علی ؓ نے عمل کیا۔ آپ کے پاس ایک دینار تھا۔ آپ نے اسے روپوں میں تبدیل کیا ۔ آپ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ جس وقت الگ کوئی مشورہ کرتے تو ایک درہم کا صدقہ کردیتے لیکن مسلمانوں پر یہ امر بہت ہی شاق گزرا۔ اللہ کو تو پہلے سے معلوم تھا۔ جو مقصد اس امر سے تھا وہ پورا ہوگیا تھا۔ لوگوں کو معلوم ہوگیا تھا کہ حضور اکرم ﷺ کے اوقات کس قدر قیمتی ہیں۔ اس لئے اللہ نے یہ حکم واپس لے لیا۔ دوسری آیت آگئی۔
اور ان کو متوجہ کردیا کہ عبادات اور اللہ کی فرمانبرداری کرو۔
Ayah 58:13ءاشفقتم ................ بما تعملون (85 : 31) ” کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے ؟ اچھا ، اگر تم ایسا نہ کرو ........ اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کردیا ........ تو نماز قائم کرتے رہو ، زکوة دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو ۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس بےباخبر ہے۔ “
ان دونوں آیات اور ان کے شان نزول میں وارد احادیث کے فلسفے سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے بڑے معاملات میں مسلمانوں کی تربیت کے لئے اور اسلامی جماعت کو تیار کرنے کے لئے کس قدر جدوجہد کی گئی۔
اب سیاق کلام منافقین کی طرف پھرتا ہے۔ یہ لوگ یہودیوں کے ساتھ گہری دوستی اور راہ ورسم رکھتے تھے ۔ ان کے بعض حالات کھولے جاتے ہیں اور ان کو دھمکی دی جاتی ہے کہ تمہارے سب کرتوت اب چھپے نہیں رہے اور تمہارا انجام بہت ہی برا ہونے والا ہے۔ دعوت اسلامی تمہاری تمام سازشوں کے باوجود اب کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔
Ayah 58:14الم ترالی ........................................ ھم المفلحون
یہ منا یقین پر ایک تنقیدی حملہ ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ ایک ایسی قوم سے دوستی کررہے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافقین مسلمانوں کے خلاف نہایت گہری چالیں چلتے تھے اور مسلمانوں کے شدید ترین دشمنوں یعنی یہودیوں کے ساتھ مل کر یہ سازشیں تیار کرتے تھے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا اقتدار مستحکم ہوگیا تھا۔ کیونکہ جب ان پر رسول اللہ اور مسلمان تنقید کرتے تھے اور ان سے باز پرس کرتے تھے تو یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ حالانکہ رسول اللہ اور مسلمان جو بات کرتے تھے وہ اللہ کی طرف سے فراہم کردہ انکشافات پر مبنی ہوتی تھی۔ جب وہ حلف اٹھاتے تھے تو وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ وہ اپنی قسموں کی آڑ میں اپنے آپ کو اس مواخذے سے بچاتے تھے۔ کیونکہ ان کی تمام سازشیں اسلامی حکومت کی طرف سے قابل مواخذہ تھیں۔
اتخذوا ................ جنة (85 : 61) ” انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ “ اس طرح وہ اپنی سازشیں جاری رکھی ہوئے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔
ان آیات کے درمیان اللہ نے ان کو بار بار دھمکی دی۔
Ayahs 58:15–16اعداللہ .................... یعملون (85 : 51) ” اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے ، بڑے ہی برے کرتوت ہیں جو یہ کررہے ہیں۔ “ اور آگے ہے :
فلھم ........ مھین (85 : 61) ” اس پر ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے “۔ آگے ہے :
Ayah 58:17لن تغنی .................... خلدون (85 : 71) ” اللہ سے بچانے کے لئے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے نہ ان کی اولاد۔ وہ دوزخ کے یار ہیں ، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔
اور ان آیات میں روز قیامت ان کی جو تصویر کھینچی گئی ہے وہ بہت ہی بھدی اور توہین آمیز ہے۔ وہ جس طرح دنیا میں جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں اسی طرح وہ اللہ کے ہاں بھی قسمیں اٹھاتے نظر آتے ہیں۔
Ayahs 58:18–19یوم یبعثھم ................ لکم (85 : 81) ” جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا ، وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفاق ان کی گھٹی میں پڑگیا ہے۔ قیامت میں بھی یہ ان کے ساتھ رہے گا۔ اور اللہ ذوالجلال کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں اٹھانے کی جرات کریں گے۔ حالانکہ اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے۔
ویحسبون ................ شیئ (85 : 81) ” اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے ج کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا “۔ حالانکہ وہ ہوا میں لٹک رہے ہیں ان کے پاؤں تلے تو زمین نہیں ہے .... حقیقی جھوٹے ہیں یہ لوگ۔
الا انھم ............ الکذبون (85 : 81) ” وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں “۔
ان کی ان حرکان کا سبب یہ ہے کہ شیطان ان پر پوری طرح چھایا گیا ہے۔
فانسھم ذکر اللہ (85 : 91) ” اس نے اللہ کی اد ان کے دل سے بھلا دی ہے “۔ اور جو دل اللہ کو بھلا دیتا ہے وہ بگڑ جاتا ہے اور شر کے لئے خالص ہوجاتا ہے۔
اولئک حزب الشیطن (85 : 91) ” یہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں “۔ اور شیطان کی پارٹی خالص اس کے لئے کام کرتی ہے ، اس کے جھنڈے تلے چلتی ہے۔ اس کے نام سے کام کرتی ہے۔ اس کے مقاصد پورے کرتی ہے۔ یہ پارٹی خالص شر ہے اور خالص خسارے میں پڑے گی۔
الا ان ................ الخسرون (85 : 91) ” خبردار رہو ، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ بہت ہی شدید اور سخت تنقیدی حملہ ہے جو ان منافقین پر کیا گیا۔ یہ طویل تنقیدی حملہ اس لئے کیا گیا کہ وہ رات دن نہایت ہی خطرناک سازشوں میں مصروف تھے۔ رات دن یہودیوں سے مل کر مسلمانوں کے خلاف تدابیر سوچتے تھے۔ اس تنقیدی حملے سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو خوب اطمینان ہوا ہوگا اور آئندہ بھی ہوگا کہ ان کی جانب سے اللہ خود تدابیر کرتا ہے۔
یہ منافقین یہودیوں کے ہاں پناہ لیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ یہودی ایک قابل لحاظ قوت ہیں ، ان سے لوگ ڈرتے ہیں اور امیدیں بھی انہی سے وابستہ ہیں۔ اور یہ لوگ اسی غرض سے ان سے مشورہ اور معاونت طلب کرتے ہیں۔ اس لئے اللہ ان کو یہودیوں سے مایوس فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ ان یہودیوں پر تو ذلت اور شکست لکھ دی گئی ہے۔ اور اللہ بھی غالب ہے اور اس کا رسول بھی غالب رہے گا۔
Ayahs 58:20–21ان الذین ........................ قوی عزیز (12) (85 : 02۔ 12) ” یقینا ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوکر رہیں گے۔ فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے “۔
یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے جو سچا ہوکر رہا ہے۔ اور آئندہ بھی سچا ہوکر رہے گا۔ اگرچہ بظاہر اس سچے وعدے کے حالات مخالف نظر آئیں۔
عملاً جو جزیرة العرب میں جو ہوا ، وہ یہی تھا کہ ایمان اور توحید غالب آگئے۔ کفر اور شرک مغلوب ہوئے اور جزیرة العرب میں اسلامی نظریہ حیات غالب ہوگیا۔ اور کفر اور شرک کے ساتھ ایک طویل کشمکش کے بعد اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے بعد پوری انسانیت عقیدہ توحید کے سامنے سرنگوں ہوئی۔ اگرچہ دنیا کے بعض علاقوں میں شرک اور کفر نے ایک عارضی وقت کے لئے غلبہ حاصل کرلیا۔ جس طرح آج ملحد اور بت پرست حکومتوں میں شرکیہ عقائد کا کسی نہ کسی جگہ غلبہ ہے لیکن عقیدہ توحید پوری دنیا میں غالب رہا ہے۔ نیز الحاد اور شرک مسلسل زوال پذیر ہیں۔ اس لئے کہ شرک اپنے مختلف مظاہر کے ساتھ اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ دنیا میں باقی رہے۔ اور جدید سائنس نے انسانیت کو عقیدہ توحید پر بہت سے جدید دلائل بھی فراہم کردیئے ہیں لہٰذا ایمان اور توحید مسلسل ترقی میں ہے۔ اور شرکیہ عقائد ونظریات سکڑ رہے ہیں۔
ایک مومن تو اللہ کے وعدے کو ایک حقیقت سمجھتا ہے۔ اگر کسی زمانے میں ایک محدود نسل یا محدود قطعہ زمین اس کے خلاف نظر آئے تو اسے یقین کرنا چاہئے کہ وہ صورت حال عارضی ہے اور بدلنے والی ہے۔ اور یہ عارضی غلبہ کفر بھی کسی حکمت کے تحت ہوگا۔ اور شاید اس لئے کہ اہل ایمان اسے اپنی ایمانی غیرت کے لئے ایک چیلنج سمجھیں اور اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تاکہ وہ اللہ کے وعدے کے مطابق مغلوب ہو۔
آج ہمارے دور میں ایمان کے دشمن ، ہر طرف سے اہل ایمان کے خلاف جنگ آزما ہیں اور ہر طرف سے حملہ آور ہیں اور انہوں نے ایمان کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع کررکھی ہے۔ ہر طرف سے پکڑ دھکڑ ، سازشیں اور مسلسل اور متنوع سازشیں اسلام اور ایمان کے خلاف ہورہی ہیں۔ اس طرح کہ مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے ، ملک بدر کیا جارہا ہے ، ان کو قسم قسم کی اذیتیں دی جارہی ہیں ، ان کے ذرائع رزق بند کیے جارہے ہیں ، اور ان پر ہر قسم کی ذلت مسلط کررکھی ہیں اس کے باوجود اہل ایمان کے دل ایمان سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کو گرنے سے بچایا جاتا ہے اور وہ غالب اقوام کے اندر پگھل کر ضم نہیں ہوتے۔ اور وہ یہ مشکلات برداشت کرکے بھی ایسے مواقع کے انتظار میں ہیں کہ کفر پر حملہ آور ہوں اور اسے پاش پاش کرکے رکھ دیں۔ ایک طویل عرصے سے مسلمان اس صورت حال سے دو چار ہیں لیکن ان کا ایمان مضبوط ہے اور وہ جدوجہد میں مصروف ہیں تو اس سے نظر آتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول غالب ہوکر رہیں گے اور اس سلسلے میں ان کو کوئی طویل انتظار بھی نہ کرنا پڑے گا۔
لہٰذا مومن کو اپنے دل میں یہ شک نہیں لانا چاہئے کہ ایمان غالب رہے گا۔ اللہ کا وعدہ ایک حقیقت ہے اور اس نے جلد یا بدیر حقیقت کا روپ اختیار کرنا ہے اور جو لوگ اللہ و رسول اللہ اور اسلام کے دشمن ہیں وہ ذلیل ہوکر رہیں گے اور اللہ اور رسول ہی غالب رہیں گے۔ یہ بات ہوتی ہے اور ہوکر رہے گی۔ لیکن بظاہر حالات ایسے ہوا کرتے ہیں ، جو اس کے خلاف نظر آتے ہیں۔
اور آخر میں وہ اصول جس پر مسلمانوں کو جم کر رہنا چاہئے۔ یہ اصل اصول ہے اور یہ ایمان کے سچے ہونے اور جھوٹے دعوائے ایمان کے لئے ایک ترازو ہے۔