Ayah 59:18یایھا الذین ........................ الفائزون (02) (95 : 81 تا 02) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو ، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا سامان کیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو ، اللہ یقینا تمہارے ان سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا ، یہی لوگ فاسق ہیں۔ دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے ۔ جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔ “
تقویٰ کیا چیز ہے ؟ یہ ایک قلبی حالت ہے جس کی طرف اس لفظ کا پرتو ہی اشارہ کررہا ہے۔ لیکن الفاظ کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ تقویٰ کی حالت کی تصویر کشی کرسکیں۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں دل بیدار اور حساس ہوتا ہے ، اور اللہ کا تیز شعور رکھتا ہے ، اور یہ شعور ہر حالت میں ہوتا ہے۔ انسان اللہ سے خائف ، بہت محتاط اور اس بات سے حیا کرنے والا ہوتا ہے کہ اللہ اسے ایسے حال میں پائے جو اللہ کو پسند نہیں ہے کیونکہ اللہ تو ہر لمحہ دیکھ رہا ہوتا ہے اس لئے اللہ سے کوئی بچ نہیں سکتا۔
ولتنظر .................... لغد (95 : 81) ” ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا سامان کیا ہے “۔ یہ ایسی تعبیر ہے جس کا مفہوم اس کے الفاظ سے بہت زیادہ وسیع ہے اور ان الفاظ کو سن کر ہی انسانی تصور کے سامنے ایک کتاب کے صفحات کھلنے لگتے ہیں۔ جس کے اندر اس کے پورے اعمال درج ہیں ، ان میں تمام اعمال چھوٹے بڑے درج ہیں تو انسان سوچتا ہے کہ اس نے اس کتاب کے صفحات میں اندراج کے لئے کیا تیاریاں کی ہیں۔ بس یہ تصور ہی اس کے سامنے اپنی کمزوریاں لے آتا ہے اور کئی تقصیرات اور معاصی اس کے سامنے آجاتے ہیں ، اگرچہ اس نے نیکیاں ہی کی ہوں ، اور راہ حق میں جدوجہد بھی کی ہے۔ لیکن اگر اس کی نیکیاں کم ہوگئیں تو کیا ہوگا۔ بہرحال یہ چند الفاظ اگر انسان کے پیش نظر رہیں تو وہ کبھی بھی غافل نہیں ہوسکتا۔ وہ ہر وقت اپنے اعمال پر نظر رکھے گا۔
یہ شعور دینے کے بعد مومنین کو مزید بیدار کیا جاتا ہے۔
واتقوا اللہ ................ تعملون (95 : 81) ” اللہ سے ڈرتے رہو ، اللہ یقینا تمہارے ان سب اعمال سے باخبر ہے “۔ اسی طرح قلب مومن کا احساس تیز ہوجاتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے اور معصیت کرتے ہوئے اللہ سے حیا کرتا ہے کیونکہ اللہ تو انسان کے تمام اعمال سے خبردار ہے “۔
اس آیت میں جس یاد دہانی اور بیداری کی دعوت دی گئی ، اس کی مناسبت سے اگلی آیت میں ان کو ڈرمایا جاتا ہے کہ وہ اس طرح نہ ہوں۔
Ayah 59:19کالذین ............ فانسھم (95 : 91) ” ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا “۔ یہ عجیب حالت ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بھلا دے لیکن یہ ہے حقیقت۔ اس لئے کہ جو شخص اللہ کو بھلا دیتا ہے ، وہ اس دنیا میں اس طرح ہوتا ہے جس طرح حیوان چرتے پھرتے ہیں۔ یوں وہ اپنی حیثیت انسانی کو بھلا دیتا ہے ، اور اس حقیقت سے پھر ایک دوسرے حقیقت لازم آتی ہے۔ وہ یوں کہ وہ اپنے آپ کو بھلا کر اپنی طویل زندگی کے لئے کوئی سامان نہیں تیار کرتا۔ اور کل کے لئے اس کی کوئی تیاری نہیں ہوتی۔
اولئک ھم الفسقون (95 : 91) ” یہی لوگ فاسق ہیں “۔ یہ جادہ حق سے منحرف اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس لئے اگلی آیت میں آتا ہے کہ ایسے لوگ جہنمی ہیں۔ اور مومنین چونکہ اہل جنت ہیں اس لئے ان کو چاہئے کہ وہ ان لوگوں کے راستے کے برعکس دوسرا راستہ اختیار کریں کیونکہ دونوں کے راستے ہی جدا ہیں۔
Ayah 59:20لا یستوی .................... الفائزون (95 : 02) ” دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے ۔ جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں “۔ نہ دونوں کے حالات برابر ہوں لے نہ مزاج برابر ہوگا۔ نہ راستہ اور نہ راستے پرچلنے کا طریقہ۔ نہ جہت اور نہ منزل۔ غرض ان کی کوئی چیز یکساں نہیں ہوسکتی۔ ان کے راستے ہی جدا ہیں اور یہ راستے اس طرح جدا ہیں کہ کسی مقام پر باہم نہیں ملتے۔ ان کی سمت جدا ہے ، اس کا خط جدا ہے ، نہ سیاست میں ، نہ صف میں اور نہ دنیا اور نہ آخرت میں۔
اصحب ............ الفائزون (95 : 02) ” جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں “۔ یہاں اہل جنت کا انجام بتادیا جاتا ہے اور اہل جہنم کو بھلا دیا جاتا ہے کہ ان کا انجام تو معلوم ہے ، گویا وہ بھلا دیئے گئے ، کم ہوگئے۔
اب قلب ونظر کی تاروں پر آخری اور شدید ضرب جس سے انسان کپکپا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اے دل مومن اگر پہاڑوں پر یہ قرآن اتارا جاتا تو وہ بھی پاش پاش ہوجاتے۔
Ayah 59:21یہ ایک تمثیل ہے لیکن ایک حقیقت کو بطول مثال پیش کیا گیا ہے۔ یہ قرآن ایک عظیم وزن رکھتا ہے۔ اس کے اندر بہت بڑی قوت ہے ، بےپناہ اثر کا مالک ہے ، اور اس کے مقابلے میں کوئی چیز ثابت قدم نہیں رہ سکتی۔ جس پر اس کا وزن پڑے تو متزلزل ہوجاتا ہے ، پاش پاش ہوجاتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے جب پہلی مرتبہ اسے پڑھا تو وہ پاش پاش ہوگئے اور جب وہ ایک رات سننے والے سے سن رہے تھے۔
والطور ........................ ربک لواقع (7) (25 : 1 تا 7) ” قسم ہے طور کی اور ایک ایسی کھلی کتاب کی جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے اور آباد گھر کی ، اور اونچی چھت کی ، اور موجزن سمندر کی ، کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔ تو حضرت عمر ؓ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد وہ گھر کو واپس آئے اور اس قدر غم زدہ ہوگئے کہ لوگ ایک ماہ تک ان کی عبادت کرتے رہے۔
بعض ایسے لمحات آتے ہیں کہ انسان کا دل قرآنی معارف کے لئے کھل جاتا ہے تو قرآن کا اثر اس قدر تیز ہوتا ہے کہ انسان ہلامارا جاتا ہے اور اس پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور انسان کے اندر اس قدر تغیرات اور تبدیلیاں آجاتی ہیں جس طرح مقناطیس اور بجلی کا اثر لوہے اور جسم پر ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی شدید اثر ہوتا ہے۔
اللہ خالق الجبال بھی ہے اور منزل القرآن بھی۔ اللہ کا فرمان ہے۔
لو انزلنا ................ خشیة اللہ (95 : 12) ” اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی اتاردیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جارہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے “۔ جن لوگوں نے قرآن کریم کی اس نوعیت کے اثرات کو اپنے جسم میں محسوس کیا ہے وہی اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں لیکن ان کا ذوق اور ان کا احساس الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
اور اس سورت کے آخر میں خدائے رحمن ورحیم کی تعریف اور تسبیح آتی ہے ، جب انسان کی ذات پر قرآن کریم کا کسی قدر اثر ہوجاتا ہے تو وہ تسبیح کرنے لگتا ہے اور یہ اسمائے حسنیٰ ایسے ہیں جن کے آثار کائنات میں واضح نظر آتے ہیں کیونکہ اللہ کے اسمائے صفات کائنات کے مظاہر اور اس کی حرکت میں نظر آتے ہیں :
Ayah 59:22ھواللہ .................... العزیز الحکیم (42) (95 : 22 تا 42) ” وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا ، وہی رحمن اور رحیم ہے ۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس ، سراسر سلامتی ، امن دینے والا ، نگہبان ، سب پر غالب ، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا ، اور بڑا ہی ہوکر رہنے والا۔ پاک ہے ، اللہ اس شرک سے جو لوگ کررہے ہیں وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے۔ اس کے لئے بہترین نام ہیں۔ ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کررہی ہے ، اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔
اللہ کی تسبیح کے تین ٹکڑے ہیں اور ہر ایک کا آغاز عقیدہ توحید سے ہوتا ہے۔
ھواللہ لا الہ الا ھو یا ھواللہ سے ہوتا ہے۔ اللہ کے اسماء میں سے ہر اسم کا اثر اس کائنات میں صاف نظر آتا ہے یا انسانی زندگی میں نظر آتا ہے۔ دکھانا یہ ہے کہ اللہ کی ذات فعال ہے۔ اور اللہ کی فعالیت کا تعلق اس کائنات اور انسانوں کی زندگیوں سے ہے۔ یہ کوئی منفی صفات نہیں اور نہ اس زندگی کے عملی پہلو سے جدا ہیں۔ یہ صفات ہمارے ماحول ، ہمارے احوال اور ہمارے مظاہر میں ہمارے ساتھ ہیں۔
Ayah 59:23ھواللہ الذی لا الہ الا ھو (95 : 22) ” اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے “۔ لہٰذا اسی کے الٰہہ ہونے کا عقیدہ رکھو ، اسی کی عبادت کرو ، اور اسی کی طرف رخ کرکے پکارو۔ تخلیق سے لے کر موت تک تمہاری زندگی کے اندر وہی موثر اور فعال ہے اور اسی عقیدے پر مکمل اسلامی نظام فکر اور نظام عمل قائم ہے۔ لوگوں کے آپس کے تعلقات ، لوگوں کے عام زندہ مخلوق کے ساتھ تعلق اور لوگوں کے اس کائنات کے ساتھ تعلق کو عقیدہ توحید کی اساس پر استوار کیا گیا ہے۔
علم ............ والشھادة (95 : 22) ” غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا ہے “۔ اس سے یہ شعور پیدا کرنا مطلوب ہے کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ ظاہر اور خفیہ سب اس پر ظاہر ہے۔ تو انسان کو یہ شعور تازہ رکھنا چاہئے کہ وہ دیکھ رہا ہے اس کے بعد جو کچھ بھی کرنا چاہے ، کرے۔ کیونکہ انسان یہاں اکیلا زندہ نہیں رہ رہا ہے۔ اگرچہ انسان تنہائی میں ہو۔ اگر انسان اپنے اندر یہ کیفیت پیدا کرے تو اس کا قلب نہ غافل ہوسکتا ہے نہ سو سکتا ہے۔
ھوالرحمن الرحیم (95 : 22) ” وہی رحمن ورحیم ہے “۔ ان صفات کے تصور سے انسان مطمئن اور خوش ہوتا ہے اور خوف کے ساتھ امید بھی ہوتی ہے۔ ہیبت کے ساتھ طمانیت بھی آتی ہے۔ مومنین کے تصورات کے مطابق اللہ ہر وقت انسانوں کا پیچھا ہی نہیں کرہا ہے بلکہ نگرانی بھی کررہا ہے۔ وہ ہر وقت لوگوں کو سزا اور عذاب ہی نہیں دے رہا بلکہ ان کو ہدایت بھی دے رہا ہے۔ ان کو شتر بےمہار نہیں چھوڑا دیا گیا بلکہ اللہ ان کی رہنمائی کرتا ہے اور معاونت بھی کرتا ہے۔
ھواللہ ............ الا ھو (95 : 32) ” وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں “۔ اس دوسری تسبیح میں بھی اس عقیدے یا کلمہ شہادت کو دہرایا گیا کیونکہ یہاصل الاصول ہے۔
الملک (95 : 32) ” وہ بادشاہ ہے “۔ یہی معبود جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے یہی بادشاہ بھی ہے۔ جب بادشاہ بھی وہی ہے تو پھر لازم ہے کہ سارے معاملات میں صرف اسی کی طرف رجوع ہو۔ کوئی اور بادشاہ پھر نہ ہوگا۔ لہٰذا کوئی شخص دو بادشاہوں کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ اللہ نے کسی آدمی کے اندر بیک وقت دو دل پیدا نہیں کیے۔
القدوس (95 : 32) ” نہایت مقدس “۔ یہ لفظ انتہائی پاکی کو ظاہر کرتا ہے۔ طہارت مطلقہ۔ اللہ قدوس ہے تو اللہ کے بندوں کا دل بھی پاک ہونا چاہیے تاکہ اس کے اندر اللہ کی پاک تعلیمات بیٹھ سکیں اور وہ فیوض وبرکات کے نزول کے اہل ہوسکے۔ اور وہ اللہ کی پاکی بیان کرسکے۔
السلم (95 : 32) ” سراسر سلامتی “۔ السلام سے امن ، سلامتی ، اور اطمینان کا نزول ہوتا ہے اور یہ پوری کائنات سلامتی سے بھر جاتی ہے۔ قلب مومن اپنے رب کی طرف سے مطمئن ہوجاتا ہے۔ ایک اللہ کے جوار رحمت میں امن سے ہوتا ہے۔ پھر اس کائنات میں وہ آفات وبلیات سے بھی اپنے آپ کو امن میں پاتا ہے۔ اس کی بےاطمینانیاں ، بےچینیاں اور تمام تھکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور وہ اس کائنات کی ہر چیز کا دوست بن جاتا ہے۔
المومن (95 : 32) ” امن دینے والا “۔ امن وسلامتی دیتا ہے۔ اس صفت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی اہمیت کیا ہے ، مومن ہوکر انسان اللہ کی صفات میں سے ایک صفت میں شریک ہوجاتا ہے ، یوں صفت ایمان کے بعد وہ زمین کی مخلوق نہیں رہتا بلکہ عالم بالا کی طرف بلند ہوجاتا ہے۔
المھیمن (95 : 32) ” نگہبان “۔ اللہ کی صفات کے تصور کا یہ نیازوایہ ہے۔ سابقہ صفات القدوس السلام المومن ایسی صفات ہیں جو ذات سے متعلق ہیں لیکن مہیمن کی صفت پوری کائنات سے متعلق ہے اور اس سے اللہ کی نگرانی اور بادشاہت کا اظہار ہوتا ہے۔
اسی طرح اگلی صفات۔
العزیز الجبار المتکبر (95 : 32) ” سب پر غالب ، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا ، بڑا ہوکر رہنے والا “۔ یہ ایسی صفات ہیں جس سے اللہ کی گرفت ، غلبے اور جبر کا اظہار ہوتا ہے۔ جس سے ایسی برتری ، قوت ، غلو کا اظہار ہوتا ہے جس کے اور کوئی شریک نہ ہو۔ اور درحقیقت اللہ کی ذات وصفات میں کوئی شریک بھی نہیں ہے۔ صرف وہی عزیز ہے ، صرف وہی جبار ہے ، صرف وہی متکبر ہے۔ ان صفات کا اطلاق اس کے سوا کسی پر نہیں ہوسکتا۔
یہی وجہ ہے کہ سورت کا اختتام یوں ہے :
سبحن اللہ عما یشرکون (95 : 32) ” پاک ہے اللہ شرک سے جو لوگ کررہے ہیں “۔
Ayah 59:24اور آخری تسبیح ہی طویل ہے :
ھواللہ (95 : 43) ” وہی ہے معبود “ اور اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔
الخالق الباری (95 : 42) ” تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اسے نافذ کرنے والا “۔ خلق کا مفہوم ہے : منصوبہ بنانا اور پورا نظام تقدیر تیار کرنا۔ اور باری کے معنی پھر اس منصوبے کو مسلسل نافذ کرتے چلے جانا۔ یہ دونوں صفات باہم متصل ہیں۔ ان میں فرق بھی لطیف ہے۔
المصور (95 : 42) ” صورت گری کرنے والا “۔ یہ صفت بھی سابقہ دونوں صفات سے مربوط ہے۔ یعنی منصوبہ ، پھر تخلیق اور پھر تصور اور خدوخال کا تعین۔ ہر چیز کی صورت اور سیرت کا تعین۔ ہر چیز کو اس کے خواص عطا کرنا۔
یہاں ان صفات کا مسلسل لانا ، جن کے اندر بہت کم فرق ہے اور جو تخلیق ہی کے مختلف مراحل ہیں ، یہ اشارہ دیتا ہے کہ کسی بھی تخلیق کے کام میں یہی تدریج کار فرما ہوتی ہے۔ یہ اشارہ انسانوں کو دیا جارہا ہے۔ انسانی تصورات کے مطابق پہلے نقشہ تخلیق ، پھر تخلیق اور پھر تصور ہوتی ہے ورنہ اللہ کے ہاں تو نہ درجات ہیں اور نہ مراحل ہیں۔ وہاں تو کن فیکون ہے۔ ہم انسان ان امور کو اپنے دائرہ ضرورت میں لاکر سمجھتے ہیں اور ہماری قدرت اور طاقت بہت چھوٹی ہے۔
لہ الاسماء الحسنی (95 : 42) ” اس کے بہترین نام ہیں “۔ یہ نام بذات خود اچھے ہیں۔ ان کو اچھا کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی اچھا کہے تو اچھے ہوں۔ یہ اسمائے حسنی انسانوں کے دلوں پر حسن کے فیوض کرتے ہیں۔ ان پر غوروتدبر کرکے اور ان صفات کو اپنے اندر پیدا اور ان سے ہدایت لے کر انسان کمال حاصل کرسکتا ہے کیونکہ اللہ ان صفات کے ساتھ متصف ہونا پسند کرتا ہے تو یہ پسندیدہ صفات ہیں ، اوصاف حمیدہ ہیں۔ لہٰذا انسان کو ان درجات میں بلند ہوتے رہنا چاہئے۔
اسمائے حسنی کے ساتھ اللہ کی تسبیح ، پاکی اور یاد کا یہ طویل سلسلہ اب اس پوری کائنات کی وسعتوں میں پھیل جاتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز یہ فیوض لے رہی ہے لہٰذا تم بھی ان تسبیحات سے اشارات لو اور فیوض حاصل کرو۔
یسبح لہ ........................................ العزیز الحکیم (95 : 42) ” ہر چیز جو آسمان اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کررہی ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔ یہ ہے وہ منظر جو ان صفات کے ذکر کے بعد ایک متوقع منظر ہے۔ تمام اشیاء اس میں شریک ہیں۔ سورت کا آغاز واختتام بھی باہم مل جاتا ہے اور آغاز میں بھی اللہ کی پاکی اور انجام میں اس کی تسبیح سبحان اللہ وبحمدہ۔