61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 61:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور وہ غالب اور حکیم ہے۔

اللہ عزیز و حکیم کی تسبیح پوری کائنات کررہی ہے۔ سورت کے آغاز میں یہ بات لاکر اہل ایمان کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ تمہارا دین اس پوری کائنات کا دین ہے۔ اور یہ دین توحید ہے۔ اور تم اس کے امین ہو۔ اور کافرین اور مشرکین کا موقف غلط ہے اور وہ اس دین کی روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں۔ اللہ تمہیں دعوت دے رہا ہے کہ اس دین اور اس رسول کی نصرت کرو اور اللہ نے اس دین کا غلبہ مقرر کر رکھا ہے۔ اگرچہ کافر اور مشرک تو اس کو ختم کرنا چاہتے ہیں ، لیکن اللہ نے فیصلہ کردیا ہے کہ ان کے علی الرغم اسے غالب کرنا چاہتا ہے۔ اس آغاز کا مفہوم یہ ہے کہ یہ پوری کائنات کا دین ہے اور پوری کائنات کی امانت ہے۔ اور جس نظریہ کے لئے تم نے جہاد کرنا ہے وہ پوری کائنات کا نظریہ ہے اور اس دین کا ظہور اور غلبہ دراصل ایک قدرتی امر ہے ، اور اللہ عزیز و حکیم کی منشا اور تقدیر ہے۔ اس کے بعد بعض مومنین کی جانب سے کمزوری کے اظہار پر عتاب کیا جاتا ہے ، کہ دین کے معاملے میں جہاد سے جو شخص منہ موڑے گا ، اسے اللہ بہت ہی ناپسند کرتا ہے اور اسے قابل شرم قرار دیتا ہے ، خصوصاً ان لوگوں کی جانب سے جو ایمان لائے ہیں جب کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اللہ بہت پسند کرتا ہے۔
Ayah 61:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ؟

یایھا الذین ................ مرصوص (4) (16 : 2 تا 4) ”” اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور وہ غالب اور حکیم ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔ اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں “۔ علی ابن طلحہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ مسلمانوں میں سے بعض لوگ ایسے تھے کہ فرضیت جہاد سے پہلے کہتے تھے کہ اللہ ہمیں کوئی ایسا عمل بتادے ، جو اسے بہت ہی محبوب ہو ، ہم اس پر عمل کریں۔ اللہ نے نبی ﷺ کو یہ اطلاع دی کہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین عمل تو بیشک ایمان لانا ہے لیکن اس کے بعدان لوگوں کے خلاف جہاد کرنا اللہ کو محبوب ہے جو ایمان نہیں لاتے اور اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور ایمان کا اقرار نہیں کرتے۔ جب جہاد کا یہ حکم نازل ہوا تو بعض مسلمانوں نے اسے پسند نہ کیا اور اسے انہوں نے ایک بھاری حکم سمجھا . تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یایھا الذین .................... تفعلون (3) (16 : 2۔ 3) ”” اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور وہ غالب اور حکیم ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو “۔ امام ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس قول کو اختیار کیا ہے۔ لیکن امام ابن کثیر نے کہا : جمہور نے کہا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مسلمانوں نے یہ تمنا کی کہ جہاد فرض ہوجائے ، جب جہاد فرض ہوگیا تو بعض لوگوں نے اسے پسند نہ کیا اور دوسری جگہ بھی اس کے بارے میں آیا ہے۔ الم ترالی ................................ مشیدة (87) (4 : 77۔ 87) ” تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو ، اور زکوٰة دو ، اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسے ڈر رہے ہیں جیسا کہ خدا سے ڈرنا چاہئے ، یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر ، کہتے ہیں خدایا ، یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا ؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی ؟ ان سے کہو ، دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے اور آخرت ایک خدا ترس انسان کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اور تم پر ظلم ایک شمہ برابر بھی نہ کیا جائے گا۔ رہی موت تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی ، خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو “۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا کہ یہ ان لوگوں کی سرزنش کے لئے نازل ہوئی ہے جو کہتے تھے کہ ہم نے قتل کیا ، تیرمارا ، تلوار چلائی ، اور یہ یہ کیا اور دراصل انہوں نے ایسا نہ کیا تھا۔ آیت کے سیاق کلام اور اس میں قتال کے ذکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جمہور مفسرین کی بات درست ہے۔ یہی رائے ابن جریر نے بھی اختیار کی ہے۔ لیکن قرآنی آیات کا مفہوم بالعموم شان نزول کے واقعات سے وسیع ہوتا ہے ۔ بلکہ بہت وسیع ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے ہم عمومی مفہوم لیتے ہیں۔ خصوصی واقعہ نزول کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ہاں جس واقعہ میں آیت نازل ہوئی اس کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے .... آغاز یوں ہوتا ہے کہ کسی واقعہ یا واقعات پر عتاب ہے۔ یا یھا الذین ................ تفعلون (16 : 2) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں “۔ اور اس کی انتہا اس پر ہوتی ہے کہ اللہ کے نزدیک یہ فعل بہت ہی برا ہے۔
Ayah 61:3

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔

کبر مقتا .................... تفعلون (16 : 2) ” اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں “۔ القت وہ ناپسندیدہ بات جو اللہ کے نزدیک بہت ہی ناپسندیدہ ہے۔ وہ اس کو بہت برا سمجھتا ہے اور یہ اللہ کہتا ہے جو تمہارا رب ہے۔ اور تیسری آیت میں وہ بات واضح طور پر بتادی جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم کریں گے مگر پھر بھی انہوں نے اس سلسلے میں کوتاہی کی۔ اور وہ ہے جہاد و قتال۔ اور قرار دیا جاتا ہے کہ جو لوگ صف بستہ قتال کرتے ہیں وہ بہت ہی محبوب لوگ ہیں۔
Ayah 61:4

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں “۔

ان اللہ .................... مرصوص (16 : 4) ” اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں “۔ صرف قتال ہی نہیں ، بلکہ قتال اللہ کی راہ میں ہو ، اور یہ قتال منظم ہو ، سوسائٹی کی صفوں کے اندر تنظیم کے بعدہو اور یہ قتال ہو بھی نہایت ہی جم کر لڑنے کی صورت میں۔ جیسا کہ ہم نے اس پارے کی متعدد سورتوں میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ قرآن کریم کے پیش نظر یہ بات تھی کہ ایک ایسی امت کی تعمیر کی جائے جو اس زمین پر قرآن کی امانت کی حامل ہو۔ قرانی منہاج زندگی قائم کرنا اس کی منشا ہو ، اور قرآنی شریعت کو ایک مکمل نظام کی شکل میں پیش کرے۔ اس مقصد کے لئے ایک جماعت اور ایک سوسائٹی بنانا ضروری تھا۔ اور اسی جماعت کو ایک عملی جماعت بنانا ضروری تھا ، اور یہ سب کام ایک ساتھ کرنے ضروری تھے۔ یاد رہے کہ اسلامی نظام کا مزاج یہ ہے کہ اس میں فرد کی قیمت جماعت میں ہے ، تنہا کچھ نہیں۔ اسلام اپنے وجود کو ایک باہم مربوط اور منظم جماعت کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہے ، جس کا ایک نظام ہو ، جس کا ایک ہدف ہو ، اور اس ہدف کے ارد گرد اس کے تمام افراد گھومتے ہوں۔ یوں کہ یہ نظام ہر ایک کے ضمیر میں ، ہر ایک کے عمل میں ، پھر اس کرہارض پر کسی امت کی عملی شکل میں نافذ ہو اور زمین کے ابوپر اس عملی سوسائٹی کی شکل میں ، ایک ایسی سوسائٹی ایک ، ایسی امت جو عملاً متحرک ہو اور اپنے تمام کام اس نظام کے حدود اور فریم ورک میں کرتی ہو۔ اسلام ، اگرچہ فرد کی اصلاح اور ایک فرد کی نیت کی اصلاح اور ضمیر کی اصلاح پر بہت زور دیتا ہے اور انفرادی ذمہ داری کا اصول بھی اسلام ہی نے عطا کیا ہے ، لیکن اسلام افراد کا دین نہیں ہے ، کہ ایک ایک عبادت خانے میں جاکر اپنی اپنی عبادت کرے۔ اس طرح اسلام کسی ایک فرد کی ذات میں حقیقت نہیں بن سکتا ، نہ کسی ایک منفرد شخص کی ذات میں بھی حقیقت نہیں بن سکتا۔ نہ اسلام اس صورت میں آیا ہے کہ وہ ایک شخص کی زندگی میں گوشہ نشین ہوکر رہے ، بلکہ اسلام کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کی زندگی پر حکمران ہو ، زندگی کے اندر تصرف کرے ، اس پر کنٹرول کرے ، اور لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی اور سرگرمیوں پر حاوی ہو۔ اس لئے کہ انسان انفرادی طور پر زندہ نہیں رہتے بلکہ اجتماعی طور پر زندہ رہتے ہیں اور اسلام چونکہ انسانوں پر حکمرانی کے لئے آیا ہے اس لئے وہ ایک اجتماعی نظام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے آداب ، اس کے قواعد ، اس کے ارادے ، یہاں تک کہ اس کی عبادات بھی اجتماعی ہیں۔ اگر اسلام کا کوئی حکم کسی فرد کے لئے ہے تو بھی وہ ایک ایسے انسان کے لئے ہے جو سوشل ہے اور ایک جماعت کے اندررہتا ہے ، اس میں اٹھتا بیٹھتا ہے اور اس جماعت میں اپنے دین کا امین ہے ، ایک نظام کا حامل ہے ، اور اس کا فرض ہے کہ اس نظام کو لوگوں کے اندر نافذ کرے۔ جب سے نبی ﷺ نے دعوت کا آغاز کیا ، اسلامی معاشرہ قائم ہونا شروع ہوگیا۔ اسلامی جماعت کی تشکیل شروع ہوگئی اور رسول اللہ ﷺ اس جماعت کے قائد قرار پائے۔ یہ جماعت ایسی تھی جس کی جماعتی ذمہ داریاں تھیں ، جو اپنے ماحول سے بالکل ممتاز تھی۔ اس کو ایسے آداب سکھائے جاتے تھے کہ ان کا ایک سرا اگر ایک فرد انسان کے ضمیر میں ہوتا تھا تو دوسرا سرایک جماعت سے متعلق ہوتا تھا اور یہ اسلامی اجتماعی سوسائٹی اس وقت بھی تھی جب ابھی مدینہ میں اسلامی حکومت قائم نہ ہوئی تھی بلکہ مدینہ کی اسلامی حکومت قائم بھی مکہ کی اسلامی جماعت کے ذریعہ سے ہوئی تھی۔ ہم جب ان آیات پر غور کرتے ہیں تو دینی عقائد کے اوپر جو اخلاقی نظام ان میں استوار کیا جاتا ہے وہ ایک اجتماعی ضرورت بھی ہے اور یہ اخلاق ایک اجتماعی نظام ہی کی شکل میں ظاہر ہوسکے ہیں اور یہ نظام ایسا ہے کہ اسے نافذ کرنے کے لئے ایک انتظامیہ کی ضرورت ہے۔ پہلی دو آیات میں اس بات پر گرفت کی گئی ہے کہ یہ بات ایک مسلمان اور مومن کی شایان شان نہیں ہے کہ وہ ایک بات کہے اور پھر اس پر عمل نہ کرے۔ یہ ایک مسلمان اور مومن کی شخصیت کی بنیادی صفت ہے۔ سچائی اور استقامت اور راست بازی۔ اس کا باطن اور ظاہر ایک ہو۔ اس کا قول اور فعل یکساں ہوں اور یہ بات صرف مسئلہ جہاد تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک مومن کو ہر معاملے میں ایسا ہونا چاہئے۔ یہ کہ مسلم کا ظاہر و باطن ایک ہونا چاہئے اور قول وفعل یکساں ہونا چاہئے۔ ایک ایسی بات ہے جس پر قرآن نے بہت ہی تاکید کی ہے اور اس مضمون کو بار بار بیان کیا ہے۔ یہودیوں کے بارے میں کہا گیا۔ اتامرون ........................ تعقلون (2 : 44) ” تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو۔ کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے “۔ اور منافقین پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے : ومن الناس ............................ الفساد (502) (2 : 402) ” انسانوں میں سے کوئی تو ایسا ہے جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بھلی معلوم ہوتی ہیں اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے ، مگر حقیقت میں وہ بدترین دشمن حق ہوتا ہے۔ جب اسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے ، تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دوپ اس لئے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے ، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل انسانی کو تباہ کرے۔ حالانکہ اللہ فساد کو ہر گز پسند نہیں کرتا “۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” منافق کی علامتیں تین ہیں ، جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے ، اور جب اس پر امانت کا اعتماد کیا جائے تو خیانت کرے “۔ (متفق علیہ) اس مضمون کی احادیث بہت ہیں ، آگے جو حدیث ہم ذکر کررہے ہیں ، وہ اس سلسلے میں شدید ترین اور سخت ترین ہدایت ہے۔ امام احمد نے عبداللہ ابن عامر ابن ربیعہ سے روایت کی۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر آئے۔ اس وقت میں بچہ تھا۔ میں گھر سے باہر جانے لگا کہ کھیلوں۔ میری ماں نے مجھے کہا عبداللہ ! ادھر آؤ میں تمہیں کچھ دیتی ہوں۔ میری ماں سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے ؟ تو اس نے کہا کھجور کا دانہ۔ تو حضور نے فرمایا : اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تمہارے خلاف ایک جھوٹ لکھ دیا جائے گا۔ اور یہی وجہ ہے کہ امام احمد ابن عقیل سفر کرکے ایک شخص کے پاس ایک حدیث نقل کرنے لگے اور یہ سفر کافی طویل تھا تو آپ نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ تھیلی پکڑے ہوئے ہے اور اپنے خچر کو یہ باور کر ارہا ہے کہ اس میں خوراک ہے ، حالانکہ وہ خالی تھی تو امام احمد نے اس شخص سے روایت کرنا مناسب نہ سمجھا ، کیونکہ اس نے اپنے خچر کے ساتھ جھوٹ بولا۔ یہ تھی اسلام کی اخلاقی تعمیر ۔ اور یہ تھا ایک مسلمان کے لئے اخلاقی معیار۔ اور یہ تھے وہ لوگ جن کو اسلامی نظام حیات کا امین بنایا گیا تھا۔ یہی معیار ہے جسے قائم کرنا اس سورت کا مقصد و محور ہے اور یہ اسلامی جماعت کی تربیت کا ایک اہم نکتہ ہے جسے اللہ اسلامی منہاج کو درست کرنے کے لئے اٹھاتا ہے۔ جب ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں جو اس سورت کا محور اور موضوع ہے یعنی جہاد فی سبیل اللہ۔ تو اس سے پہلے ہم کئی موضوعات اپنے سامنے پاتے ہیں تاکہ ہم ان پر غور کریں اور اس سے عبرت لیں۔ سب سے پہلے تو ہمارے سامنے حضرت انسان کا نفس آتا ہے اور اس نفس پر ضعف کے لمحات آتے ہیں۔ صرف اللہ ہی اسے اس ضعف سے بچا سکتا ہے اور دائمی یاد دہانی اور دائمی تربیت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ نہایت ہی ابتدائی مہاجرین میں سے کچھ لوگ تھے جن کی خواہش تھی کہ ان کو قتال کی اجازت دی جائے۔ یہ لوگ اہل مکہ میں تھے اور ان کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ مکہ ہی میں لڑنا چاہتے تھے لیکن اس وقت ان کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ہاتھوں کو روکے رکھیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں۔ لیکن جب ان پر جہاد فرض کیا گیا اور وہ بھی مدینہ میں اور مناب وقت پر ، تو ان میں سے بعض لوگ ایسے تھے کہ وہ لوگوں سے ایسے ڈرنے لگے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ ڈرنے لگے۔ اور انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ۔ وقالوا ................ اجل قریب (4 : 77) ” اے اللہ تونے ہم پر قتال کیوں فرض کردیا۔ ذرا اور ہمیں مہلت دی ہوتی “۔ یا یہ مدینہ ہی کی ایک جماعت تھی اور محبوب ترین اعمال کے بارے میں پوچھتی تھی اور جب بتایا گیا کہ محبوب ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا۔ یہی ایک واقعہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے کہ نفس انسانی بہت کمزور ہے اور اسے رات دن مسلسل تربیت وتذیکر اور یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ خصوصاً جکبہ اس کو مشکل ترین ٹارگٹ دیا جارہا ہو۔ یہ تربیت اس لئے ضروری ہے کہ یہ اپنی راہ پر درست چلتی رہے ، اپنی کمزوریوں پر قابو پائے اور دور افق بلند پر اس کی نظریں ہوں۔ نیز اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کبھی بھی کوئی مشکل ٹارگٹ لینے کے لئے ایک مسلم کو بےتاب نہیں ہونا چاہئے۔ جبکہ چاہت دین ہو تو خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اگر ہم اللہ کے سامنے تجاویز پیش کریں اور اللہ وہ حالات پیش کردے تو شاید ہم ثابت قدم نہ رہ سکیں۔ دیکھئے یہ مسلمانوں کی پہلی جماعت ہے اور اس میں بھی ایسے لوگ ہیں جن پر گرفت ہورہی ہے کہ کیوں تم ایسی باتیں کرتے ہو جن پر عمل نہیں کرتے۔ یہ سخت عتاب ہے اور خوفناک گرفت ہے۔ دوسری بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے ، جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں ، اس طرح جس طرح وہ بنیان مرصوص ہیں۔ اللہ اپنے راستے میں لڑنے کے لئے کس قدر زور دار انداز سے مسلمانوں کو آمادہ کرتا ہے لیکن ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ یہ تاکید بعض لوگوں کی اس نفسیاتی حالت کو دور کرنے کے لئے کہی گئی جو جنگ کو پسند نہ کرتے تھے اور اسے اور موخر کرنا چاہتے تھے۔ اور جنگ سے پسپائی اختیار کررہے تھے۔ اس لئے یہاں ان کو سختی سے آمادہ کیا گیا۔ لیکن اس مخصوص سبب نزول کے معنی یہ نہیں ہیں کہ یہ آیت مخصوص حالات کے لئے ہے بلکہ اسلام کی یہ عام پالیسی ہے کہ لوگوں کو بروقت جنگی حالات کے لئے آمادہ رکھا جائے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ اسلام خواہ مخواہ جنگی جنون پیدا کرنا نہیں چاہتا اور نہ ہی وہ جنگ کو ایک محبوب چیز سمجھتا ہے۔ اسلام جنگ کو اس لئے فرض قرار دیتا ہے کہ حالات اسے مجبور کردیتے ہیں۔ پھر اسلام جن مقاصد کے لئے جنگ کرتا ہے وہ بلند مقاصد ہیں۔ اسلامی جنگ اس لئے ہوتی ہے کہ اسلامی ممالک کے اندر اللہ کے آخری منہاج زندگی کو نافذ اور قائم کیا جائے۔ یہ اسلامی منہاج زندگی اگرچہ ایک فطری منہاج ہے لیکن اسلام انسانی نفوس پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس منہاج کے معیار تک بلند کریں تاکہ اس اعلیٰ معیار پر یہ نظام قائم رہ سکے۔ لیکن یہ بھی ایک عملی حقیقت ہے کہ ہمیشہ اس کرہ ارض پر ایسی قوتیں رہی ہیں جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی اس دنیا میں قدم نہ جماسکے۔ اس لئے کہ دنیا کے جس قدر غیر اسلامی نظام ہیں ان کے کچھ مفادات وامتیازات ہوتے ہیں ، یہ نظام بعض کھوٹی اور جھوٹی قدروں پر قائم ہوتے ہیں ، جب بھی دنیا میں اسلامی نظام قائم ہوا ہے ایسی قوتوں کے مفادات ختم ہوگئے ہیں۔ یہ باطل نظامہائے زندگی انسانی نفوس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور انسانوں کو انسانی سطح سے نیچے گر اکر اور ان کے اندر اخلاقی بگاڑ پیدا کرکے ، اور ان کو حقیقت سے جاہل رکھ کر اسلامی نظام کی مخالفت میں لاکرکھڑا کردیتے ہیں۔ اور یوں عوام الناس اپنی جہالت کی وجہ سے اسلام کی راہ روکنے لگتے ہیں۔ شرکا زور ہوتا ہے اور باطل پھولا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اور شیطان کی چالیں بہت گہری ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حاملین ایمان اور اسلامی منہاج حیات کے محافظین اور پاسداروں کے لئے اعلیٰ اخلاقی معیار تجویز کرتا ہے تاکہ وہ شر اور شیطان کے ایجنٹوں کا اچھی طرح مقابلہ کرسکیں۔ ان کی اخلاقی حالت مضبوط ہو ، وہ دشمنوں کے خلاف لڑسکیں۔ اور وہ ہر وقت ایسی جنگ کے لئے تیار ہوں جو ان پر اسلام کے دشمن مسلط کردیں۔ یہی ایک ضمانت ہے جس کی وجہ سے دعوت اسلامی کی راہ نہیں رکتی۔ جس کے ذریعہ سے اسلامی نظام قائم رہتا ہے۔ لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی ملتی ہے۔ اور وہ اپنی مرضی کا نظام قائم کرسکتے ہیں۔ پھر یہ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد و قتال کرتے ہیں نہ اپنی ذات کے لئے لڑتے ہیں اور نہ ہی کسی رنگ کی عصبیت کے لئے لڑتے ہیں۔ نہ نسلی ، نہ لسانی ، نہ علاقائی اور نہ خاندانی عصبیت کے لئے۔ صرف اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں۔ اس لئے لڑتے ہیں کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” وہ جو صرف اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو تو وہ اللہ کے راستے میں لڑتا ہے “۔ کلمة اللہ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے احکام ومقاصد کے لئے اور اللہ کا ارادہ بھی یہی ہے کہ جس طرح یہ پوری کائنات اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور اللہ کے قانون قدرت کے مطابق چلتی ہے اسی طرح انسان بھی اللہ کے بھیجے ہوئے آخری اور مکمل نظام زندگی اور شریعت الٰہیہ کے مطابق چلے۔ اور یوں یہ پوری کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے سب انسان اللہ کے قانون کے مطابق چلیں۔ اور اللہ کے سوا کسی کا قانون اور شریعت نہ چلے۔ یہ ضروری تھا کہ بعض افراد نظام شریعت کی راہ روکیں ، بعض طبقات اسلامی نظام کو قائم ہونے نہ دیں۔ بعض حکومتیں اسے اپنے لئے خطرہ سمجھیں اور اس کے سوا بھی چارہ نہ تھا کہ اسلام ان رکاوٹوں کو عبور کرے اور ان کا مقابلہ کرے۔ اور یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں پر جہاد و قتال فرض کیا گیا تاکہ اسلامی نظام کو قائم کیا جاسکے اور اسے قائم رکھا جاسکے۔ اور زمین کے اوپر اللہ کا کلمہ بلند ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ ان لوگوں کو محبوب سمجھتا ہے ، جو اس کے راستے میں صف بندی سے لڑتے ہیں ، گویا وہ بنیان مرصوص ہیں۔ یہ ہے وہ حالت جس پر ہمیں بہت زیادہ غور کرنا چاہئے۔ الذین ........................ مرصوص (16 : 4) ” جو اللہ کی راہ میں صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں “۔ اگر مجاہدین اس حالت میں نہ ہوں تو شاید محبوب نہ ہوں۔ یہ ہر قرد کو بھی حکم ہے اور اجتماعی لحاظ سے بھی حکم ہے۔ یعنی ان کو اس طرح ہونا چاہئے کہ ان کی ایک مضبوط نظام والی جماعت ہو۔ اس لئے کہ جو قوتیں اسلام کی راہ میں روکتی ہیں وہ جماعتی اور اجتماعی قوت کی شکل میں ہوتی ہیں۔ اور اس کے خلاف پوری قوتوں کو جمع کرتی ہیں۔ لہٰذا اسلامی قوتوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں جمع کر نکلیں اور ملت واحد کی شکل میں آئیں۔ ایک پختہ دیوار کی شکل میں اور نہایت ہی منظم شکل میں نکلیں۔ ہم آہنگی سے نکلیں۔ لہٰذا یہ صورت کہ ایک انسان اکیلا اللہ کی بندگی کرے ، اکیلا جہاد کرے ، اکیلا زندگی بسر کرے ، یہ ایسی صورت ہے ، جو اس دین کے مزاج ہی کے خلاف ہے ، حالت جہاد کے جو تقاضے ہوتے ہیں ان کے خلاف ہے اور اس کے بعد پوری زندگی کو کنٹرول کرنے کی جو صورت ہوتی ہے ، اس کے خلاف ہے۔ یہ تصویر جو مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ یہاں پیش فرماتا ہے یہ دراصل مسلمانوں کے دین کی تصویر ہے۔ یہ تصویر دکھاتی ہے کہ مسلمانوں کے نشانات راہ کیا ہیں اور قرآن کریم ان کے لئے اجتماعی نظام کفالت وحمایت کس طرح تجویز کرتا ہے۔ صفا ................ مرصوص (16 : 4) ” ایک صف کی شکل میں ، گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں “۔ ایک ایسی دیوار جس کی اینٹیں ملی ہوئی ہیں ، باہم پیوست ہیں اور ہر اینٹ اپنا فریضہ ادا کررہی ہے اور ہر اینٹ اپنے مقام پر کھڑی ہے اور اپنا فریضہ ادا کررہی ہے۔ اگر ایک اینٹ بھی نکال لی جائے تو پوری عمارت گر سکتی ہے۔ اسی طرح اگر اینٹ آگے ہوجائے ، پیچھے ہوجائے یا اوپر والی اینٹ نیچے والی اینٹ سے جدا ہوجائے تو دیوار میں سوراخ ہوسکتا ہے۔ یہ سب باتیں جماعت کے افراد کے باہمی ربط کو متعین کری ہیں۔ جو ایک ہی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ یعنی وہ شعوری طور پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں ، فکر ونظر میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہمقدم ہوں ، نظام میں بھی منظم ہوں جس طرح تسبیح کے دانے اور ہدف بھی ایک ہو۔
Ayah 61:5

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور یاد کرو موسیٰ.... کی وہ بات جو اس نے اپنی قوم سے کہی تھی کہ ” اے میری قوم کے لوگو ، تم کیوں مجھے اذیت دیتے ہو ، حالانکہ تم خوب جانتے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ؟ “ پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیئے ، اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیا جاتا ہے کہ اسلامی انقلاب کا منہاج تمام دعوتوں میں ایک ہی رہا ہے۔ آدم (علیہ السلام) سے ادھر : بنی اسرائیل کا حضرت موسیٰ کو ایذا دینا ، جبکہ آپ ان کو اور اس ملت کو فرعون کے مظالم سے چھڑانے والے تھے ، آپ ان کے رسول اور قائد تھے اور معلم تھے ، ایک ایسی داستان کی طرف اشارہ ہے جو مسلسل ان کو دی جانے والی ایذا پر مشتمل ہے۔ آپ نے اس قوم کو درست کرنے کے لئے جو مشقتیں اٹھائیں اور دشوار گزار مراحل سے گزرے ، وہ انتھک جدوجہد ہے۔ اور قرآن کریم نے اس کی خوب تفصیلات دی ہیں ، جن کو پڑھ کر ایک شخص تسلیم کرلیتا ہے کہ یہ ان تھک جدوجہد تھی اور آپ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے۔ ان کی حالت یہ تھی یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو ذلت سے نجات دینے کی جدوجہد کررہے تھے اور فرعون کی گرفت اور جباری وقہاری کا مقابلہ کررہے تھے لیکن یہ لوگ اس ذات میں بھی امن وچین سے رہنا پسند نہیں کرتے تھے ، اس حالت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تنقید کرتے تھے۔ وہ اس ان تھک جدوجہد پر یہ تبصرہ کرتے تھے۔ اوذینا ........................ ماجئتنا (7 : 921) ” ہمیں اذیت دی گئی قبل اس کے کہ آپ ہمارے پاس آئیں اور اس کے بعد بھی جب کہ آپ آگئے “۔ گویا وہ آپ کی رسالت میں اپنے لئے کوئی خیر نہیں دیکھ رہے تھے بلکہ وہ اپنی اذیت کی وجہ اس رسالت کو سمجھتے تھے۔ لیکن جونہی اللہ نے فرعون کو غرق کیا اور بنی اسرائیل کو نجات دی اور یہ سب منظر انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ، نجات پاتے ہی انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت توحید کو ترک کرنے کا ارادہ کرلیا اور قوم فرعون کی طرح ، شرک کرنے کا ارادہ کیا۔ فاتوا .................... الھة ” پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر ان کا گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی۔ کہنے لگے ” اے موسیٰ ہمارے لئے بھی کوئی ایسا معبود بنادے جیسے ان کے لئے معبود ہیں “۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی ملاقات کے لئے پہاڑ پر گئے جہاں سے انہیں تورات کی تختیاں دی گئیں ، ان کے جاتے ہی سامری نے انہیں گمراہ کردیا۔ فاخرج .................... فنسی (06 : 88) ” اور ان کے لئے سامری نے ایک بچھڑے کی مورت بناکر نکال لایا جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی ۔ لوگ پکاراٹھے یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰ کا خدا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اسے بھول گیا “۔ پھر انہوں نے اس طعام پر اعتراضات شروع کردیئے جو انہیں صحرا میں من اور سلویٰ کی شکل میں ملتا تھا اور کہا۔ یموسیٰ.................... وبصلھا (2 : 16) ” اے موسیٰ﴿﴿﴿ہم ایک ہی کھانے پر صبر نہیں کرسکتے۔ اپنے رب سے دعا کر کہ ہمارے لئے زمین کی پیداوار ساگ ، ترکاری ، گیہوں ، لہسن پیاز اور دال وغیرہ پیدا کرے “۔ اس کے بعد جب ان کو گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو وبہانہ سازی اور گستاخی کرنے لگے۔ یہ گستاخی نبی کے حق میں بھی تھی اور رب تعالیٰ کے حق میں بھی۔ کہنے لگے : اپنے رب کو پکارو کہ وہ کیسی ہو ، اس کا رنگ کیسا ہو۔ فذبحوھا .................... یفعلون (2 : 17) ” پھر انہوں نے اسے ذبح کیا ورنہ وہ ایسا کرتے نہ معلوم ہوتے تھے “۔ اس کے بعد انہوں نے سبت کو بطور یومتعطیل خود مطالبہ کیا اور پھر اس کی خلاف ورزی کی۔ پھر ان کو حکم دیا گیا کہ اس مقدس سر زمین میں داخل ہوجاﺅ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے۔ تو انہوں نے ذلیل و خوار ہوکر ارض مقدس میں داخل ہونے سے انکار کردیا۔ قالوا یموسیٰ.................... دخلون (5 : 22) ” انہوں نے کہا اے موسیٰ وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں۔ ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے ، جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ، ہاں اگر وہ نکل گئے تو ہم داخل ہونے کے لئے تیار ہیں اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اصرار کیا تو ان کا جواب یہ تھا : قالو ................ قعدون (5 : 22) ” اے موسیٰ ! ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے ، جب تک وہ وہاں موجود ہیں۔ بس تم اور تمہارا رب دونوں جاﺅ اور لڑو۔ ہم یہیں بیٹھے ہیں “۔ اس کے علاوہ بار بار کی نافرمانیوں ، سوالات سے ، سرکشی اور ذاتی تہمتوں کے ذریعہ ان لوگوں نے بار بار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت دی۔ جن کی تفصیلات احادیث میں آتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول نقل کرتا ہے جو محبت بھرے لہجے میں ان سے ایک گلہ ہے۔ یقوم لم ................ الیکم (16 : 5) ” اے میری قوم کے لوگو ، تم کیوں مجھے اذیت دیتے ہو حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں “۔ اور ان کو اس بارے میں شک نہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن ان کی یہ بات گلہ ہے جس میں عتاب بھی ہے اور نصیحت بھی ہے۔ لیکن جب انہوں نے اصلاح و استقامت کی تمام کوششوں کو نظر انداز کردیا تو اللہ نے ان کے دلوں کو مزید ٹیڑھا کردیا۔ اور ان کے یہ دل ہدایت کے لئے قابل ہی نہ رہے۔ یہ گمراہ ہوگئے اور اللہ نے بھی ان کے لئے ضلالت لکھ دی۔ واللہ ............ الفسقین (16 : 5) ” اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا “۔ یوں دین پر ان کی استقامت ختم ہوگئی اور ان سے محافظین دین کا منصب چلا گیا اور وہ اسی طرح ٹیڑھی راہ اور گمراہی پر رہے۔
Ayahs 61:6–7

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور یاد کرو عیسیٰ ابن مریم کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ ” اے نبی اسرائیل ، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ، تصدیق کرنے والا اس تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے ، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔ مگر جب وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح دھوکا ہے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اب بھلا اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے ، حالانکہ اسے اسلام (اللہ کے آگے سراطاعت جھکا دینے) کی دعوت دی جارہی ہو ؟ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا

اس کے بعد عیسیٰ ابن مریم تشریف لائے اور انہوں نے بنی اسرائیل سے کہا : یبنی اسراء یل .................... الیکم (16 : 6) ” اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں “۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں اللہ ہوں ، اور نہ یہ کہا میں اللہ کا بیٹا ہوں ، نہ یہ کہا کہ وہ اللہ کے اقانیم میں سے ایک اقنوم ہیں۔ مصدقالما .................... احمد (16 : 6) ” تصدیق کرنے والا اس تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے ، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا “۔ یوں صریح الفاظ میں رسالت کی تصویر پیش کی جاتی ہے کہ سلسلہ رسالت ایک ہی ہے اور ہر رسول کے بعد جو دوسرا رسول آتا ہے وہ سابقہ رسول کی رسالت کی تصدیق کرتا ہے۔ یوں میں ایک ہی رسالت کے حلقے زمین و آسمان کے درمیان اور زمین کی طویل تاریخ کے اوپر پھیلے ہوئے ہیں۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور یہی تصویر اللہ کے منہاج حق کے لائق ہے۔ یہ ایک ہی دین اور ایک ہی منہاج ہے۔ اور اس شکل و صورت مختلف لوگوں کے لئے مختلف رہی ہے کیونکہ انسان مختلف ادوار میں علم ، تجربات اور استعداد کے لحاظ سے مختلف رہا ، اس لئے شریعت کی شکل بھی مختلف رہی ہے ، لیکن نبی آخرالزمان ﷺ کو عقلی اعتبار سے ایک بالغ ہمت دی گئی ، اس لئے آپ کو ایک آخری اور مکمل شریعت دی گئی۔ ایک پختہ عقل امت کو مکمل شریعت دی گئی۔ اس دین نے انسانی عقل سے اپیل کی۔ اور عقل کے کام کے لئے ایک وسیع دائرہ عمل چھوڑ دیا تاکہ اس کے اندر وہ کام کرے ، لیکن پوری انسانیت کے لئے ایک دائرہ کار بہرحال متعین کردیا گیا تاکہ اس کے اندر وہ کام کرے اور اس دائرے کا تعین انسان کی قوت اور استعداد کو دیکھتے ہوئے خالق کائنات نے خود کیا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے انجیل میں احمد کی پیشن گوئی موجود تھی۔ آج جو اناجیل رائج ہیں ان میں ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ یہ بات ثابت ہوگی ہے کہ موجودہ اناجیل ، بعد کے ادوار میں لکھی گئی ہیں ، اور جن حالات میں لکھی گئی ہیں وہ بھی معلوم ہیں۔ قرآن کریم جب جزیرة العرب میں نازل ہوا اور یہودو نصاریٰ نے بھی پڑھا۔ جس میں تھا۔ النبی الامی ........................ وانانجیل ” نبی امی جسے وہ اپنے ہاں تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں “۔ تو ان میں سے بعض مخلص علماء نے اس کا اقرار بھی کیا جیسا کہ عبداللہ ابن سلام نے۔ اس لئے کہ یہ لوگ اس آیت کے چھپانے کا سخت اہتمام کرتے تھے۔ پھر تاریخی روایات متواتر ہیں کہ یہودی اس نبی آخرالزمان ﷺ کا انتظار کرتے تھے اور وہ یہ بھی یقین رکھتے تھے کہ اس کا زمانہ قریب آگیا ہے ۔ اسی طرح نصاریٰ میں سے بعض اہل توحید جو جزیرة العرب میں ادھر ادھر بکھرے ہوئے موجود تھے ، انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔ لیکن یہودی یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ یہ نبی آخرالزمان ان میں سے ہوگا جب اللہ نے اسے حضرت ابراہیم کی اولاد کی دوسری شاخ بنی اسماعیل سے بھیج دیا ، انہوں نے اس کو بہت ناپسند کیا۔ اور اس کے ساتھ جنگ شروع کردی۔ بہرحال نص قرآنی بذات خود اس معاملے میں قطعی ہے۔ اور قرآن ہی ایک معتمد علیہ ذریعہ ہے ، جس کے اندر کوئی تحریف نہیں ہوتی ، جبکہ تورات اور انجیل کا حال تو سب کو معلوم ہے۔ چناچہ اکثر تفسیری اقوال کے مطابق درج ذیل آیات اس بارے میں ہیں کہ یہود ونصاریٰ نے اس پیغمبر کا استقبال کس طرح کیا جس کی بشارت سے خود ان کی کتابوں میں دی گئی تھی۔ ان آیات میں ان کے رویے کی سخت مذمت کی گئی ، کہ انہوں نے اس دین کا استقبال کرنے کے بجائے ، اس کے خلاف سازشیں شروع کردیں حالانکہ اللہ کا فیصلہ یہی ہے کہ یہ دین تمام ادیان پر غالب ہوگا اور یہی آخری دین ہے۔ فلما جاء ھم ........................ المشرکون (9) (16 : 6 تا 9) ” مگر جب وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح دھوکا ہے۔ اب بھلا اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے ، حالانکہ اسے اسلام (اللہ کے آگے سراطاعت جھکا دینے) کی دعوت دی جارہی ہو ؟ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں ، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کردے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو “۔ بنی اسرائیل اس دین جدید کے مقابلے میں صف آرا ہوگئے۔ دشمنی ، سازشیں اور گمراہ کن پروپیگنڈا شروع کردیا اور ہر قسم کے اوچھے ہتھیار اس کے مقابلے میں لے کر آگئے اور اس دین کے خلاف انہوں نے جو جنگ شروع کی وہ آج تک ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے سب سے پہلے اس پر یہ الزام لگایا۔ فلما جاء ھم ................ مبین (16 : 6) ” جب وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح جادو ہے۔ “ جس طرح ان لوگوں نے کہا جو کتابوں کو نہ جانتے تھے ، نہ بشارتوں کو جانتے تھے۔ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کا رویہ ایک ہی جیسا رہا۔ بلکہ اہل کتاب اسلامی محاذ کے اندر بھی سازشیں شروع کردیں۔ مہاجرین اور انصار کو لڑانے کی کوشش کی۔ اور انصار کے دو قبائل اوس اور خزرج کو لڑانے کی کوشش کی۔ کبھی انہوں نے مشرکین مکہ سے ایکا کرکے اس نئے دین کے خلاف جنگ کی اور کبھی انہوں نے منافقین مدینہ کے ساتھ اتحاد کے اس کے خلاف لڑنے کی سعی کی۔ اور انہوں نے مدینہ اور عالم اسلام پر ہر حملہ آور کی مدد کی۔ مثلاً غزوہ احزاب میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انہوں نے جھوٹے الزامات لگا کر بھی اس میں حصہ لیا۔ جبکہ افک کے واقعہ کو انہوں نے عبداللہ ابن ابی ابن سلول کے ذریعہ خوب اچھالا اور فتنہ عثمان میں بھی انہوں نے عبداللہ ابن سبا کے ذریعہ کام کیا۔ پھر سیرت کی کتابوں میں انہوں نے منظم سازش کے ذریعہ اسرائیلیات کو داخل کیا۔ جب وہ قرآن کے اندر جعلی آیات داخل ہونے سے عاجز ہوگئے تو انہوں نے تفسیر ، سیرت اور احادیث کے اندر وضعی احادیث داخل کرنے کی سعی تھی۔ یہ جنگ اسلام کے خلاف ، آج تک ختم نہیں ہوئی۔ آج تک عالمی یہودیت ، عالمی عیسائیت اور صیہونیت اسلام کے خلاف رات دن سازشوں میں مصروف ہے۔ یہ ہر طرف سے اسلام پر حملہ آور ہورہے ہیں اور لوگوں کو بھی اسلام کے خلاف جنگ پر آمادہ کرتے ہیں۔ اس جنگ میں چودہ سو سال سے نہ جنگ بندی ہوئی ، نہ صلح ہوئی ہے ، کسی دور میں بھی نہیں۔ مشرق میں جاکر انہوں نے صلیبی جنگیں لڑیں۔ مغرب میں اندلس میں انہوں نے مسلمانوں کا نام ونشان مٹا دیا۔ اور شرق اوسط میں انہوں نے ہمیشہ اسلامی خلافت کے خلاف جنگ کی۔ یہاں تک کہ ترکی کی خلافت کو انہوں نے تباہ کیا اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیا۔ اس کے بعد بھی ان کی یہ جنگ ختم نہ ہوئی اور انہوں نے جعلی ” ہیرو “ اسلام اور عالم اسلام کے لئے پیدا کیے اور ان کے ذریعہ انہوں نے اسلام کے خلاف اپنی انتقامی پیاس کو بجھایا۔ جب انہوں نے اسلام کی آخری نشانی خلافت اسلامیہ ترکیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہا تو انہوں نے ترکی میں ایک عظیم ہیرو پیدا کیا اور اس کے اندر اس قدر ہوا بھری کہ وہ بہت بڑا زھیم بن گیا۔ اس کے بعد اس کے مقابلے میں اتحادیوں کی فوجوں نے پسپائی اختیار کی ، جنہوں نے آستانہ کو فتح کرلیا تھا تاکہ اس شخص کو بہت بڑا فاتح بنا کر پیش کیا جاسکے۔ ایک ایسا فاتح جو خلافت اسلامیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرسکے۔ اس نے ترکی کو عالم اسلام سے جدا کیا۔ اس نے اعلان کیا کہ ترکی لادینی ریاست ہے۔ اس کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب بھی یہودی اسلام پر ضرب لگانا چاہیں وہ عالم اسلام کے لئے اس قسم کے لیڈر پیدا کرتے ہیں۔ جب بھی وہ صحیح اسلامی تحریکات پر ضرب لگاتے ہیں ، وہ مسلمان ممالک میں اس قسم کے لیڈر پیدا کرتے ہیں ان کے ذریعہ یہ ان ممالک میں اسلامی حمیت اور اسلامی عصبیت کے علاوہ ہر عصبیت پیدا کرتے ہیں ، اسلامی جھنڈوں کے علاوہ ہر جھنڈا بلند کرتے ہیں۔
Ayah 61:8

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں ، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔

یریدون ................ الکفرون (16 : 8) ” یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں ، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو “۔ قرآن کی یہ آیت اس عظیم حقیقت کا اظہار کررہی ہے۔ اور اس حقیقت کو ایک ایسی تصویر انداز میں پیش کیا گیا جس سے انسانکو ان لوگوں کی حالت پر بےاختیار ہنسی آتی ہے وہ اپنے منہ سے یہ الزام لگاتے تھے کہ یہ کھلاجادو ہے ، اور اس کے خلاف یہ سازشیں کرتے تھے اور خفیہ منصوبے بنا کر اسے ختم کرنا چاہتے تھے اور اس جدید دین کا قصہ ہی تمام کرنا چاہتے تھے ، اس لئے اللہ نے ان کے منصوبوں کے مقابلے میں ان کی یہ مایوس کن تصویر کھینچی کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں۔ اللہ کا نور اور یہ ضعیف اور حقیر ! ! واللہ .................... الکفرون (16 : 8) ؟ ؟ اور اللہ اپنے نور کو پوری طرح پھیلا کررہے گا ، اگر یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے “۔ اللہ کا وعدہ سچا ہوا۔ اللہ نے نبی ﷺ کی زندگی میں اپنے نور کو پوری طرح پھیلادیا۔ اس نے ایک اسلامی جماعت ، نہایت ہی زندہ وتابندہ اسلامی جماعت کھڑی کردی۔ اور اسے اسلامی نظام زندگی نہایت ہی واضح نشانات کے ساتھ دیا۔ اور اس کے حدود اور قیود متعین کیے۔ نسلوں تک یہ نظریہ لوگوں کی عملی زندگی میں زندہ اور متحرک رہا ، صرف کتابوں میں نہیں ، اللہ نے اسے عالم واقعہ میں غالب کیا۔ اللہ پاک نے اس نور کو مکمل کیا ، مسلمانوں کا دین مکمل ہوا ، مسلمانوں پر اپنی نعمتوں کو تمام کیا۔ اور ان کے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔ ان کے لئے اس دین کو محبوب بنادیا ، وہ اس کے لئے لڑتے رہے ، حالت یوں ہوگئی کہ اگر کسی مسلمان کو آگ میں ڈال دیاجائے تو وہ اسے پسند کرے گا مگر کفر کی طرف لوٹنا پسند نہ کرتا تھا۔ چناچہ دین کی صورت لوگوں کے دلوں میں مکمل ہوگئی۔ اور آپ کے بعد بھی یہ صورت حال کبھی کبھی پیدا ہوتی رہی ہے اور قائم رہی ہے۔ باوجود کہ اس کے کہ ہر طرف سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں ، حملے اور پکڑ دھکڑ شروع ہے۔ باوجود ہر طرف کے حملوں کے اسلام ہر کربلا کے بعد زندہ ہوتا ہے اس لئے کہ اسلام اللہ کا نور ہے اور اللہ کے نور کو انسانی کوششیں ختم نہیں کرسکتیں۔ نہ آگ اور لوہا اس کو ختم کرسکتا ہے۔ اگرچہ عالم اسلام کے مصنوعی لیڈر جو یہودیہوں اور نصرانیوں کے خود ساختہ لیڈر ہیں۔ بعض اوقات یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسلام کو ختم کردیا ہے اور اس کا نور بجھا دیا ہے۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ نور خدا پھیل جائے اور دین غالب ہو۔
Ayah 61:9

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کردے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔

ھوالذی .................... المشرکون (16 : 9) ” وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کہ پورے دین پر غالب کردے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو “۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ اسلامی نظام زندگی ہدایت ہے اور دین حق ہے۔ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے اور اس پر کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ اللہ کا ارادہ پورا ہوگیا اور یہ دین تمام ادیان پر غالب ہوگیا ہے۔ یہ دین اپنی ذات اور اپنی تشکیل کے لحاظ سے واحد دین ہے ، اس کے مقابل کا کوئی دین نہیں ہے۔ مثلاً دنیا کے بت پرستانہ ادیان کے اندر تو مقابلے کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ رہے کتابی دین تو یہ اسی سلسلے کا آخری اور مکمل دین ہے ، اور اللہ کے نظام کا یہ آخری ایڈیشن ہے۔ یہ اپنی مکمل اور اعلیٰ صورت میں ہے۔ سابقہ کتب سماوی کے اندر بیشمار تحریفات کردی گئی ہیں ، ان کی شکل بدل گئی ہے اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ہیں اور ان میں وہ اضافے ہوگئے ہیں جو ان میں نہ تھے۔ ان کے اندر کانٹ چھانٹ کردی گئی ہے۔ پھر وہ اس حالت تک پہنچ گئی ہیں کہ وہ آج جدید دور کی زندگی کی کوئی رہنمائی نہیں کرسکتیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ان کے اندر تحریف نہیں ہوئی تو بھی وہ سابقہ ایڈیشن ہیں جبکہ دین اسلام اللہ کے نظام کا آخری اور تازہ ترین نسخہ ہے جس کے اندر جدید ترقی یافتہ زندگی کے تمام مسائل حل کردیئے گئے ہیں۔ سابقہ ادیان اللہ کی اسکیم کے مطابق ایک محدود وقت کے لئے آئے تھے۔ اللہ کا یہ وعدہ نفس دین اور اس کی نوعیت اور اس کے احکام ومواد کے اعتبار سے تو پورا ہوا کہ دین اسلام کے مقابلے کا کوئی دین نہیں ہے لیکن یہ نظام عملی زندگی میں بھی ایک غالب نظام رہا ہے۔ ایک بار تو یہ دین غالب ہوکر رہا ہے۔ یہ اس کرہ ارض پر اس قدر غالب ہوا کہ تمام ادیان ، تمام اقوام تقریباً ایک سو سال تک اس کے زیر نگیں رہے۔ اس کے بعد بھی یہ دین وسط ایشیا اور وسط افریقہ میں سیلاب کی طرح پھیل گیا ۔ یہاں تک کہ ابتدائی جہادی جدوجہد کے ذریعہ اس کے اندر جس قدر لوگ داخل ہوئے اس کے بعد محض تبلیغی جدوجہد کے ذریعہ اپنی ذاتی قوت سے یہ دین پانچ گنا علاقے اور آبادی میں پھیل گیا۔ آج بھی یہ دین بغیر حکومتی قوتوں کے پھیل رہا ہے۔ حالانعہ یہودی اور صیہونی سازش نے اہل دین کے سیاسی نظام ، نظام خلافت کو ختم کردیا ہے۔ یہ نظام ان لوگوں نے ترکی میں اس ہیرو کے ہاتھوں ختم کرایا جسے اس مقصد کے لئے انہوں نے خودگھڑا تھا۔ اور باوجود اس کے کہ پورے عالم اسلام میں اس دین کے خلاف رات دن سازشیں ہورہی ہیں اور پورے عالم اسلام میں یہودیوں کے ہاتھوں ھنصب کردہ ” ہیرو “ عالم اسلام میں اٹھنے والی اسلامی تحریکات کچل رہے ہیں لیکن یہ اللہ کا چراغ ہے اور پھونکوں سے اسے بجھایا نہیں جاسکتا۔ غرض باوجود اپنوں اور غیروں کی سازشوں کے یہ دین انسانی ، تاریخ میں اب بھی اہم کردار سرانجام دے رہا ہے اور پہلے بھی اس نے ادا کیا ہے ۔ اور انسانی سازشیں اس کی راہ نہیں روک سکتیں۔ کیونکہ اللہ کے مقابلے میں انسان کی قوت کوئی قوت نہیں ہے۔ اگرچہ وہ بہت گہری چال چلیں کیونکہ اللہ بھی گہری چال چلتا ہے۔ یہ آیات اس وقت اہل ایمان کے حوصلے بڑھارہی تھیں جب قرآن کی ابتدائی سامعین یہود ونصاریٰ کی کوششوں اور سازشوں کے علی الرغم غلبہ دین کی جدوجہد کررہے تھے اس وقت بھی دین کو اللہ غالب کررہا تھا ، مسلمان تو دست قدرت کے لئے ایک پردہ اور بہانہ تھے۔ اور آج بھی یہ آیات ان لوگوں کے لئے ایک حوصلہ پیدا کررہی ہیں جو غلبہ دین کا کام کررہے ہیں اور آئندہ بھی غلبہ دین کے لئے اٹھنے والی تحریکات کے لئے یہ آیات مشعل راہ ہوں گی اور وہ دن دور نہیں ہے کہ ایک بار پھر یہ دین غالب ہوکر رہے گا۔ اسلامی نظریہ حیات کے تسلسل کے بیان کے بعد ، اور اس وعدے کے بعد کہ اس دین کو غالب ہوکر رہنا ہے۔ اگرچہ کافر اس کے خلاف سازشیں کریں ، اب روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے۔ اس وقت کے مسلمانوں کو بھی خطاب ہے۔ اور اس کے بعد قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو بھی یہ خطاب ہے کہ مسلمانو ، اس دین کی رو سے ایک بہترین تجارت تمہیں بتائی جارہی ہے ، یہ تجارت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
Ayah 61:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، میں بتاﺅں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچادے ؟

یا یھا الذین ................................ المﺅمنین (31) (61 : 01 تا 31) ” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، میں بتاﺅں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچادے ؟ ایمان لاﺅ اللہ اور اس کے رسول پر ، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا ، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔ اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو ، وہ بھی تمہیں دے گا ، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح۔ اے نبی اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو “۔ ذرا انداز تعبیر پر غور فرمائیں۔ بعض چیزوں کو باہم ملایا گیا ، بعض کو اپنی جگہ سے دور رکھا گیا ہے ۔ استفہام اور جواب استفہام کے درمیان ایک فاصلہ رکھا گیا ہے۔ بعض چیزوں کو مقدم کیا گیا ہے اور بعض کو موخر کردیا گیا ہے ، ان سب امور کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ پکار اور یہ آواز اچھی طرح لوگوں کے دلوں کے اندر اتر جائے اور اسالیب تعبیر کے تمام ذرائع استعمال کرکے بات کو دلوں تک بلکہ دلوں کی تہوں تک اتارا جائے۔ دیکھئے پکار کا آغاز۔ یایھا الذین امنوا (16 : 01) سے ہے ، اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اور اس کے بعد اللہ ان سے پوچھتا ہے کہبتاﺅں تمہیں ایسی تجارت ؟ اس سے سامعین کے دلوں میں بھر پور شوق پیدا کیا جاتا ہے۔ ھل ادلکم ........................ عذاب الیم (16 : 01) ” میں بتاﺅں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچادے ؟ “ اب کون ہے جو اس قسم کی تجارت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے بےتاب نہ ہوگا۔ لیکن یہاں آیت ختم ہوجاتی ہے اور درمیان میں فصل آجاتی ہے۔ استفہام اور جواب استفہام کے درمیان آیت ختم ہوکر وقف آجاتا ہے اور سامع کے دل میں اگلی آیت سننے کے لئے بےتابی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد جواب آتا ہے جبکہ سامعین بےتاب تھے۔
Ayah 61:11

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

ایمان لاﺅ اللہ اور اس کے رسول پر ، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔

تومنون ................ ورسولہ (16 : 11) ” ایمان لاﺅ اللہ اور اس کے رسول پر “۔ وہ تو اللہ اور رسول پر ایمان لاچکے تھے۔ اور وہ جب جواب سنتے ہیں تو ان کے دل روشن ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ جواب شرط تو پہلے سے ان کے اندر موجود ہے۔ وتجاھدون ........................ وانفسکم (16 : 11) ” اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے “۔ اور یہی اس صورت کا مضمون اور محور ہے۔ اس انداز میں یہ آتارہا ہے ، بار بار تکرار کے ساتھ ، اس طرح اسے مضمون کے اندر بار بار دہرایا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ انسان کو تربیت دینے کے لئے بار بار کی یاددہانی کی ضرورت ہے۔ مختلف انواع و دلائل اور مختلف قسم کی تائید وتاکید کے ساتھ تاکہ اس قدر پر مشقت فرائض کی ادائیگی کے لئے نفس انسانی تیار ہوجائے۔ کیونکہ اس قسم کے پر مشقت فرائض کی ادائیگی کے بغیر نہ اسلامی منہاج یہاں زندہ رہ سکتا ہے اور نہ اس کو بچایا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد اس تجارت پر مزید تبصرہ کیا جاتا ہے اور اس تجارت کی تعریف وتحسین کی جاتی ہے۔ ذلکم .................... تعلمون (16 : 11) ” یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو “۔ اس لئے کہ انسان کسی بھلائی کی طرف تب ہی لپکتا ہے جب اسے علم ہو کہ بھلائی یہ ہے۔ اس کے بعد اگلی آیات میں اس بھلائی اور تجارت کی مزید تفصیلات دی جاتی ہیں۔ کیونکہ اجمال کے بعد تفصیلات کا اثر بہت ہوتا ہے۔ اس طرح بات احساس میں مسقلا بیٹھ جاتی ہے۔
Ayah 61:12

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا ، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔

یغفرلکم ذونوبکم (16 : 21) ” اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا “۔ اس تجارت اور بھلائی کی یہ ایک بات ہی کافی ہے۔ اگر اس کے بعد کوئی اور کیا چاہے گا کہ اس کے گناہ معاف ہوجائیں یا اپنے لئے اور کیا ذخیرہ کرے گا۔ لیکن اللہ کے فضل وکرم کی حدود نہیں ہوتیں اس لئے۔ ویدخلکم فی جنت ” اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا “۔ اس سے بڑی تجارت اور کیا ہے کہ ایک مجاہد اپنی اس مختصر زندگی میں جہاد کرے ، وہ اپنی جان دے دے اور اس کے عوض اسے یہ باغات اور ابدی زندگی ملے اور بہترین مکانات اور نعیم مقیم میں رہے۔ اور یہ عظیم حقیقت ہے کہ یہی بڑی کامیابی ہے۔ ذلک الفوز العظیم (16 : 21) ” یہ ہے عظیم کامرانی “ یہاں آکر اس نہایت ہی نفع بخش تجارت کا سودا ختم ہوگیا۔ فی الواقعہ یہ تو بہت بڑا نفع ہے۔ کہ ایک مومن مختصر دنیا دے کر ابدی آخرت لے لے۔ اگر کوئی ایک روپے کی تجارت کرکے دس کمالے تو بازار میں اس کا چرچا ہوجاتا ہے ، لیکن اس شخص کا حال کیا ہوگا کہ وہ اس دنیا کی محدود زندگی میں جہاد کرے اور دنیا کا محدود متاع دے دے اور آخرت کا لامحدود زمانہ مزے کرے اور آخرت کا متاع وعیش حاصل کرے ، جو لا محدود اور لا مقلوع ہے۔ یہ سودا حضرت محمد ﷺ اور حضرت عبداللہ ابن رواحہ ؓ کے درمیان ہوا تھا۔ یہ عقبہ کی رات کو ہوا تھا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ آپ ﷺ اپنے لئے جو چاہیں ، شرائط رکھ لیں۔ تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ رب کے لئے میں یہ شرائط عائد کرتا ہوں کہ تم اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور اپنے لئے میں یہ شرط عائد کرتا ہوں کہ تم میرا دفاع اس طرح کرو گے جس طرح تم اپنے مال اور جان کا دفاع کرتے ہو “۔ تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہمیں کیا ملے گا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (الجنة) تو انہوں نے کہا اس سودے میں بہت بڑا فائدہ ہوگیا ہمیں ، نہ ہم اس سودے کو منسوخ کرتے ہیں اور نہ فریق دوئم کی درخواست اس سلسلے میں مانتے ہیں۔ لیکن اللہ کا فضل تو بہت عظیم ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ انسانی نفوس اس جہاں میں بھی کچھ چاہتے ہیں۔ انسان کی محدود ساخت چاہتی ہے کہ اس جہاں میں بھی کچھ مزا ملے تو اللہ عتالیٰ ان کو خوشخبری دیتا ہے کہ اس جہاں میں بھی تمہیں فتح مبین اور غلبہ دین حاصل ہوگا۔ اور اسلامی نظام زندگی قائم ہوکر رہے گا۔ اور تمہاری نسل کے اندر ہوکر رہے گا۔
Ayah 61:13

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو ، وہ بھی تمہیں دے گا ، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح۔ اے نبی اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو ۔

واخری ........................ المومنین (16 : 31) ” اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو ، وہ بھی تمہیں دے گا ، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح۔ اے نبی اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو “۔ یہ سواد یہاں شرح منافع کی انتہاﺅں کو چھو لیتا ہے۔ اور یہ منافع اللہ ہی دے سکتا ہے۔ وہ اللہ جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے ، وہ اللہ جس کی رحمت کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ رحمتیں کیا ہیں ، مغفرت گناہ ، باغات ، بہترین مکانات ، جن کے اندر نہ ختم ہونے والی نعمتیں ہوں گی اور اس سودے کا منافع صرف آخرت ہی میں نہیں بلکہ ان کی ایک قسط یہاں دنیا میں بھی دے جائے گی۔ اللہ کی نصرت اور غلبہ دین اور فتح مبین۔ کون ہے جو ایسی تجارت نہ کرے گا یا اس میں تامل کرے گا۔ یا اس سے پہلو تہی کرے گا۔ اس ترغیب اور تلقین کے بعد نفس انسانی کے تصور کا منظر آتا ہے۔ یہ تصور انسان کے لئے بہت اہم ہے۔ جو شخص اس کائنات اور اس کے اندر اس زندگی کا ایمانی تصور رکھتا ہو ، اور وہ اپنے دل میں یہ تصور رکھتے ہوئے زندگی بسر کررہا وہ ، اس تصور کے وسیع آفاق اور حدود بھی رکھتا ہو ، اس کے بعد یہ شخص اگر ایسی زندگی کے بارے میں سوچے جو ایمان سے خالی ہے۔ جو نہایت ہی محدود تنگ اور چھوٹی زندگی ہے ، جس کی سطح بہت گری ہوئی ہے۔ جس کی اہم ترین باتیں نہایت ہی حقیر ہیں۔ تو اس قسم کا دل جس نے ایمانی کی یہ وسعتیں دیکھی ہوئی ہیں وہ اس قدر محدود اور حقیر زندگی میں ایک منٹ کے لئے بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ وہ ایک منٹ بھی اس جہاد اور جدوجہد میں شرکت سے تاخیر نہ کرے گا ، جس کا مقصد اس طرح کی وسعت والی زندگی کو اس کرہ ارض پر قائم کرنا ہے ، تاکہ اس میں وہ بھی زندہ رہے ، اور لوگ بھی زندہ رہیں۔ اور پھر صورت یہ ہے کہ وہ اس جہاد اور جدوجہد پر کئی اجر بھی طلب نہ کرتا ہو۔ کیونکہ یہ زندگی اور یہ نظام بذات خود ہی ایک مقصد اور اجر ہے۔ یہ نظر یہ جہاد جو دل کو خوشی اور فرحت سے بھر دیتا ہے ، اسے کون ترک کرسکتا ہے اور اس کے سوا کون زندہ رہ سکتا ہے۔ ایسا شخص دوڑ کر اس جہاد میں کود پڑتا ہے۔ آتش نمرود ہو تو بھی کود پڑتا ہے ، جو بھی نتیجہ ہو ، کود پڑتا ہے۔ لیکن دیکھئے اللہ کو معلوم ہے کہ نفس انسانی بہت ضعیف ہے ، کسی وقت بھی اس کے جوش و خروش میں کمی آسکتی ہے۔ اور یہ کہ جہاد میں تیزی کسی بھی وقت کند ہوسکتی ہے اور امن کو شی اور سلاست پسندی انسان کو کبھی گری ہوئی زندگی گزارنے پر آمادہ کرسکتی ہے۔ اس لئے قرآن کریم ایک ہی اسلوب پر بات کرکے ختم نہیں کردیتا۔ وہ نفس انسانی کو تیار کرنے کے لئے ہر پہلو سے سعی کرتا ہے۔ ہر قسم کے موثرات ، دلائل ، شواہد اور مثالیں دیتا ہے۔ بار بار پکارتا ہے اور انسان کو صرف ایمان اور افراد کے حوالے نہیں کردیتا ، نہ ہی صرف ایک بار حکم دے دیتا ہے جس طرح ایک سرکاری افسر سرکلرجاری کردیتا ہے۔