60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 60:1–4

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم میرے اور تمہارے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ تم ان کی طرف محبت کو ڈالتے ہو حالانکہ انہوں نے کفر کیا اس حق کے ساتھ جو تمہارے پاس آیا وہ رسول کو نکالتے ہیں اور تمہیں بھی نکالتے ہی اس وجہ سے کہ تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر جو تمہارا پروردگار ہے اگر تم جہاد کے لیے نکلو میرے رستے میں اور میری رضا طلب کرنے کے لیے تو وہ ان کی طرف چپکے سے محبت کو پھینکتے ہیں حالانکہ میں خوب جانتا ہوں اس کو جو تم چھپاتے ہو اور جس کو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم میں سے ایسا کرے گا تو یقیناً وہ سیدھے رستے سے گمراہ ہوگیا

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر وہ تم پر قدرت پالیں تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں اور تمہاری طرف اپنے ہاتھوں کو اور اپنی زبانوں کو برائی کے ساتھ پھیلائیں اور وہ تو چاہتے ہیں کہ تم کافربن جاؤ

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

ہر گز تمہیں نفع نہیں دیگی تمہاری رشتہ داریاں اور نہ تمہاری اولاد قیامت کے دن وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہے ہیں

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

تمہارے لیے ابراہیم (علیہ السلام) میں اور ان میں جو ان کے ساتھ تھے اچھا نمونہ ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے بری ہیں اور ان سے بھی بری ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے علاوہ ہم نے تمہارے ساتھ کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ظاہر ہوگئی عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے جب تک کہ تم ایمان نہ لاؤ یکتا اللہ پر مگر ابراہیم (علیہ السلام) کا فرمان اپنے ابا سے کہ میں ضرور تمہارے لیے استغفار کروں گا اور میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی بھی چیز کا اختیار نہیں رکھتا اے ہمارے پروردگار ہم نے تجھ ہی پر توکل کیا اور تیری ہی طرف توبہ کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے

1۔ احمد والحمیدی وعبد بن حمید والبخاری ومسلم وابوداوٗد اور الترمذی والنسائی وابو عوانہ وابن حبان وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی وابو نعیم معاً فی الدلائل حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور زبیر اور مقداد ؓ کو بھیجا۔ اور فرمایا چلے جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ پر پہنچو ایک عورت ہودے میں سوار تمہیں ملے گی۔ اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے آؤ۔ پس ہم نکل پڑے یہاں تک کہ روضہ خاخ پر پہنچ گئے۔ اچانک ایک عورت ہودے پر سوار ملی۔ ہم نے اس سے کہا خط نکال۔ اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا خط نکال ورنہ کپڑے اتار آخر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی سے خط نکال کردیا۔ ہم اس کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اس میں لکھا تھا۔ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف مشرکین مکہ کے لوگوں کی طرف کہ ان کو نبی اکمر ﷺ کے بعض معاملات کی اس نے ان کو خبر دی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اے حاطب ! یہ کیا ہے ؟ تو اس نے عرض کیا یارسول اللہ ! میرے فیصلے میں جلدی نہ کیجیے۔ میں ایک ایسا آدمی ہوں جو قریش کے ساتھ مسلک یعنی حلیف ہوں میں قریش کے خاندان میں سے نہیں ہوں۔ اور جو آپ کے ساتھ مہاجرین ہیں۔ ان کی قریش سے رشتہ داریاں ہیں جس کی وجہ سے وہ لوگ مہاجروں کے گھروالوں کی اور ان کے مالوں کی مکہ میں حفاظت کرتے ہیں اس لیے میں نے اس بات کو پسند کیا۔ جبکہ میرا نسبی رشتہ ان سے نہیں ہے تو میں ان پر کوئی احسان کردوں جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی حفاظت کرتے رہیں اور یہ کام میں نے کسی کفر یا اپنے دین سے مرتد ہوجانے کی وجہ سے نہیں کیا۔ تو نبی ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا رسول اللہ ! مجھے چھوڑ دو ۔ میں اس کی گردن ماردوں۔ آپ نے فرمایا یہ بدر میں حاضر ہونے والا ہے، اور تو نہیں جانتا کہ اللہ اہل بدر کے اعمال پر مطلع ہے اور اس نے ارشاد فرمایا ہے آیت اعملوا ما شئتم قد غفرت لکم۔ جو چاہو کرو میں نے تم کو معاف کردیا۔ اس بارے میں یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولاء تلقون الیہم بالمودۃ۔ اے ایمان والو ! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو۔ 2 ابو یعلی وابن المنذر نے الحارث کے طریق سے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مکہ آنے کا ارادہ فرمایا۔ آپ نے اپنے بعض صحابہ ؓ سے خفیہ مشورہ فرمایا کہ آپ مکہ مکرمہ کو فتح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ان میں حاطب ؓ بن ابی بلتعہ بھی تھے۔ اور لوگوں میں یہ بات پھیل گئی کہ آپ خیبر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تو حاطب ؓ نے مکہ والوں کی طرف لکھا کہ رسول اللہ ﷺ تمہارا ارادہ رکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا پتہ چل گیا کہ حاطب نے خفیہ اطلاع بھیج دی ہے۔ تو آپ نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو بھیجا اور فرمایا روضۃ خاخ پر جاؤ۔ آگے وہی واقعہ ذکر فرمایا ہے جو گذر چکا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ایا ایہا الذین اٰمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم الایۃ۔ 3۔ ابن المنذر نے قتادہ کے طریق سے اور ابن مردویہ نے انس ؓ نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب نبی ﷺ نے حدیبیہ سے قریش مکہ کی طرف چلنے کا ارادہ فرمایا تو ان کی طرف حاطب بن ابی بلتعہ نے لکھا کہ وہ اپنی حفاظت کرلیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بات کی اطلاع کردی اور وہ خط عورت کے پاس پایا گیا۔ جو اس کے بالوں کی چٹیا میں چھپا رکھا تھا۔ آپ نے حاطب سے فرمایا تجھے کس بات نے آمادہ کیا کہ تو نے یہ کیا ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اللہ کے امر میں ذرا بھی شبہ نہیں اور نہ میں نے اس میں کوئی شک کیا۔ لیکن ان کے پاس میرے گھر والے اور میرا مال موجود ہے۔ تو میں نے قریش کو رفیق اور دوست بنانے کا ارادہ کیا۔ حضرت حاطب قریش کے حلیف تھے اور قریش خاندان میں سے نہ تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن میں نازل فرمایا : آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لاتتخذوا عدوی وعدوکم۔ الایۃ۔ حاطب بن ابی بلتعہ کا خط 4۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جو مدینہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہتا تھا۔ اور جو قریش میں سے تھا۔ اس نے مکہ مکرمہ میں اپنے اہل و عیال اور اپنے کنبہ کی طرف ان کو خبر دیتے ہوئے اور ان کو خطرہ سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ ان کی طرف آنے والے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کو اس کے خط کی خبر دی گئی تو آپ نے علی بن ابی طالب ؓ کو بھیجا تو وہ اس کو لے آئے۔ 5۔ ابو یعلی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور الضیاء نے المختارہ میں حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ حاطب بن ابی بلتعہ ؓ نے مشرکین کی طرف ایک خط لکھا۔ اس کو نبی ﷺ کے پاس لایا گیا۔ آپ نے فرمایا اے حاطب ؓ ! تجھے اس کام پر کس نے آمادہ کیا جو تو نے کیا ؟ عرض کیا رسول اللہ ! کہ میرے گھروالے ان میں رہ رہے ہیں۔ مجھے یہ خوف ہوا کہ وہ ان پر ٹوٹ پڑیں گے۔ تو میں ایک خط لکھوں جو اللہ اور اس کے رسول کو قطعاً کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ عمر ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں اس کی گردن نہ ماروں کہ اس نے کفر کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا اے خطاب کے بیٹے تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر میں سے اس گروہ کے اعمال پر بھی مطلع ہے لیکن اسی نے فرمایا ہے : آیت اعملوا ما شئتم قد غفرت لکم۔ 6۔ ابن مردویہ نے ابن شہاب کے طریق سے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا اور وہ عبدالرحمن بن حاطب بن ابی بلتعہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حاطب ؓ یمن والوں میں سے ایک آدمی تھا۔ اور وہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے زبیر بن عوام ؓ کا حلیف تھا جو بدر میں حاضر ہوا اور اس کے بیٹے اور بھائی مکہ میں تھے۔ حاطب ؓ نے کفار قریش کی طرف خط لکھا اور وہ خود مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہتا تھا۔ جس میں اس نے ان کو نصیحت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے علی اور زبیر ؓ کو بلایا اور ان سے فرمایا تم جاؤ یہاں تک کہ تم ایک عورت کو پاؤ گے جس کے پاس خط ہے وہ خط اس سے لے لو اور میرے پاس لے آؤ۔ وہ دونوں چلے یہاں تک کہ حلییفہ بنی احمد کے پاس اس عورت کو پالیا اور یہ جگہ مدینہ سے قریب بارہ میل پر ہے۔ ان دونوں نے اس سے کہا ہم کو وہ خط نکال دے جو تیرے پاس ہے۔ اس عورت نے کہا میرے پاس خط نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تو جھوٹ بولتی ہے ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ تیرے پاس خط ہے اللہ کی قسم وہ خط تو ہمارے حوالے کردے۔ جو تیرے پاس ہے ورنہ ہم تیرے کپڑے اتاردیں گے۔ اور اس میں ہم خط کو تلاش کریں گے۔ اس نے کہا کیا تم مسلمان لوگوں میں سے نہیں ہو ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں لیکن رسول اللہ ﷺ نے ہم کو بتایا کہ تیرے پاس خط ہے۔ یہاں تک کہ جب اس عورت نے اس بات کو جان لیا کہ وہ اس کے ہر کپڑے کی تلاشی لیں گے تو اس نے اپنے بالوں کی چوٹی کو کھولا اور اپنے بالوں کی مینڈھیوں میں سے سا خط کو نکال کر ان کے حوالے کردیا اس نے سر کی چوٹی اس خط کے اوپر بنا رکھی تھی۔ وہ خط لے کر۔ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے تو یہ خط حاطب بن ابی بلتعہ کی جانب سے اہل مکہ کی طرف تھا رسول اللہ ﷺ نے حاطب کو بلایا اور فرمایا کیا تو نے یہ خط لکھا ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! فرمایا یہ لکھنے پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا حاطب ؓ نے کہا اللہ کی قسم ! مجھے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کوئی شک نہیں گزرا جب سے میں اسلام لایا۔ لیکن میں تم میں ایک اجنبی آدمی تھا قریش کے کسی قبیلہ میں سے نہیں ہوں۔ اور میرے بیٹے اور بھائی مکہ میں رہتے ہیں۔ میں نے کفار قریش کی طرف یہ خط لکھا ہے تاکہ میں انہیں ان سے دور رکھ سکوں تو عمر ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے اجازت دیجیے۔ میں اس کی گردن ماردوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو چھوڑدو۔ کیونکہ یہ بدر میں حاضر تھا اور تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر کے اعمال پر مطلع ہے اس کے باوجود اس نے فرمایا آیت اعملوا ما شئتم۔ جو تم چاہو کرو بلاشبہ میں تم کو بخشنے والا ہوں۔ تم نے جو عمل بھی کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں آیت یا ایہالذین اٰمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیہم بالمودۃ۔ یہاں تک پہنچے لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجو اللہ والیوم الاٰخر۔ بیشک ان لوگوں کے قول عمل اور عقیدے میں تمہارے لیے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ کی ملاقات اور قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہیں۔ 7۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے عروہ ؓ سے یہی روایت مرسلاذکر کی ہے۔ فتح مکہ کے دن چار آدمیوں کو امان نہیں ملی۔ 8۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن سوائے چار آدمیوں کے باقی تمام لوگوں کو امان دے دی۔ عبداللہ بن خطل، مقیس بن صباب، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح اور ام سارہ اور حدیث کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ام سارہ کہ وہ قریش کی ایک باندی تھی۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں۔ اور ان کی طرف اپنی کسی حاجت کے بارے میں شکایت کی۔ آپ نے اسے کچھ چیزیں عطا فرمائیں پھر اس کے پاس ایک آدمی آیا۔ تو اس نے اس کے ذریعہ ایک خط مکہ والوں کی طرف روانہ کیا وہ اس خط کے ذریعہ ان کا قرب چاہتا تھا اپنے اہل و عیال کی حفاظت کے لیے کیونکہ اس کے اہل و عیال مکہ میں رہ رہے تھے لیکن اس خط کے بارے میں جبرئیل (علیہ السلام) نے نبی ﷺ کو خبر دی۔ تو آپ ﷺ نے اس عورت کے پیچھے عمر بن خطاب اور علی ؓ کو بھیجا یہ دونوں اس عورت سے راستے میں ملے۔ اور اس کی تلاش کی مگر اس عورت کے پاس کوئی چیز پانے سے قاصر رہے۔ اور واپس لوٹنے لگے۔ پھر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا اللہ کی قسم ! آپ نے ہم سے جھوٹ بولا اور نہ ہم نے جھوٹ بولا لہٰذا اس کی طرف واپس لوٹ چلو، چنانہ وہ اس کی طرف لوٹ آئے، اور دونوں نے اپنی تلواریں سونت لیں۔ اور ہم نے کہا اللہ کی قسم ! ہم تجھ کو ماردیں گے۔ یا تو ہم کو وہ خط دے دے۔ اس نے انکار کردیا پھر کہنے لگی میں تم کو وہ خط دے دوں تو تم مجھے رسول اللہ کی طرف نہ لے جاؤ گے۔ انہوں نے اس شرط کو قبول کرلیا اس نے اپنے سر کے گندھے ہوئے بالوں کو کھولا اور اپنے بالوں کی چٹیا سے خط کو نکال کر ان کے دے دیا۔ خط لے کر دونوں رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹے اور آپ کو خط پیش کردیا۔ آپ نے اس صحابی یعنی حاطب ؓ کو بلایا اور اسے فرمایا یہ خط کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھ جتنے لوگ بھی موجود ہیں ان کے مکہ مکرمہ میں ایسے رشتے دار موجود ہیں جو ان کے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہیں مگر میرا وہاں کوئی آدمی موجود نہیں میں نے یہ خط اس لیے لکھا تاکہ قریش مکہ میرے لیے میرے اہل و عیال کی حفاظت کریں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء۔ 9۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ حاطب بن ابی بلتعہ ؓ نے قریش کی طرف خط لکھا اور اس میں نبی ﷺ کے مکہ کی طرف چلنے کا ذکر کیا اس نے یہ خط ایک عورت کے ذریعہ روانہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی تلاش میں چند صحابہ کو بھیجا اس خط کو نبی ﷺ کی طرف لے آیا گیا۔ آپ ﷺ نے حاطب ؓ کو بلایا اور اس سے فرمایا کیا تو نے یہ خط لکھا ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! بلاشبہ میں ایمان لانے والا ہوں۔ اللہ اور اس کے رسول پر۔ اور میں نے انکار نہیں کیا جب سے میں نے اسلام قبول کیا اور میں نے شک نہیں کیا۔ جب سے میں نے یقین کیا ہے (کہ دین اسلام سچا مذہب ہے) لیکن میں ایسا آدمی ہوں کہ میرا مشرکین مکہ کی قوم میں نسب نہیں ہے یعنی نسبی رشتہ نہیں ہے۔ کیونکہ میں ان کا حلیف ہوں۔ اور ان کے ہاتھوں میں میرے اہل و عیال ہیں۔ جیسا آپ جانتے ہیں تو میں نے ان کی طرف کچھ لکھ دیا تاکہ اس کے ذریعہ میں انہیں اپنے اہل اور مال سے دور رکھ سکوں حالانکہ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ ہرگز ان کو کوئی نفع نہی پہنچا سکیں گے اس چیز سے جس کا ارادہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے فرما رکھا ہے۔ ملزم کو صفائی کا موقع دینا چاہیے عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا یارسول اللہ ! مجھے چھوڑدیجیے کہ میں اس منافق اللہ کے دشمن کی گردن ماردوں رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف ایسی نظر سے دیکھا کہ عمر ؓ پہچان گئے کہ آپ غصہ میں ہیں۔ پھر فرمایا اے عمر بن خطاب ؓ تجھ پر افسوس ہے۔ اور تو نہیں جانتا۔ شاید اللہ تعالیٰ خیر کے وطنوں میں سے ہر وطن کے رہنے والوں پر مطلع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا گواہ رہو کہ میں نے اپنے بندوں کو بخش دیا اب وہ جو چاہیں عمل کریں۔ یہ سن کر عمر ؓ نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ بیشک یہ اہل بدر ہیں بس تو بدر والوں سے اجتناب کر بیشک یہ بدر والے ہیں پس تو بدر والوں سے اجتناب کر۔ بیشک یہ بدر والے ہیں اور تو بدر والوں سے اجتناب کر۔ 10۔ حضرت جابر ؓ سے روایت کہ حاطب بن ابی بلتعہ ؓ نے مکہ والوں کی طرف خط لکھا اور اس میں یہ بات لکھی کہ نبی اکرم ﷺ ان کے ساتھ جنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور نبی اکرم ﷺ کو ایک عورت کے بارے میں بتایا گیا کہ جس کے پاس وہ خط تھا۔ آپ نے اس عورت کی طرف صحابہ کرام کو بھیجا اور انہوں نے اس کے سر کے بالوں سے وہ خط نکال لیا تو آپ نے فرمایا اے حاطب ! کیا تو نے ایسا کیا ؟ اس نے کہا ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دھوکہ دینے کے لیے ایسا نہیں کیا۔ اور نہ نفاق کے طور پر ایسا کیا اور میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اللہ ﷺ کو غالب کرنے والا ہے اور آپ کے ارادہ کو پورا کرنے والا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں ان کے درمیان ایک اجنبی تھا۔ اور میری والدہ بھی ہے سو میں نے ارادہ کیا کہ اس کی خدمت کروں ان کے پاس حضرت عمر ؓ نے فرمایا کیا میں اس کا سر نہ اڑا دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو بدروالوں میں سے ایک آدمی کو قتل کرے گا اور تو جانتا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر کے اعمال کو جانتا ہے لیکن اس نے نے فرمایا ہے عمل کرو جو تم چاہو۔ 11۔ عبد بن حمید ومسلم والترمذی والنسائی نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ حاطب بن ابی ابلتعہ کا ایک غلام رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تاکہ وہ حاطب کی شکایت کرے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ! کہ حاطب ضرور آگ میں داخل ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے جھوٹ کہا وہ اس میں داخل نہی ہوگا کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں حاضر ہوچکا ہے۔ 12۔ ابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جس کے بارے میں یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء۔ نازل ہوئی اس کا نام حاطب بن ابی بلتعہ ہے۔ 13۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کی طرف خط لکھا اور اس میں حدیبیہ کے وقت رسول اللہ ﷺ کے سفر کے بارے میں ان کو بتایا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ کو اسی بات پر اطلاع دیدی تو اللہ کے نبی ﷺ نے اس سے فرمایا تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا جو تو نے کیا اس نے کہا اللہ کی قسم ! میں نے اپنے کام یعنی اپنے دین میں شک نہیں کیا۔ اور نہ مجھے اس میں کوئی شبہ ہے لیکن میرا وہاں مال اور اہل و عیال ہیں تو میں نے اپنے اہل و عیال پر قریش کو محافظ بنانے کا ارادہ کیا اور اس نے ہم کو یہ بھی بتایا کہ وہ قریش کا حلیف تھا اور ان میں سے نہیں تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا اور فرمایا آیت ان یثقفوک یکونوا لکم اعداء ویبسطوا الیکم ایدیہم والسنتہم بالسوء۔ اگر ان کو تم پر دسترس ہوجائے تو اظہار عداوت کرنے لگیں گے۔ تم پر دس درازی کریں گے۔ اور برائی کے ساتھ تم پر زبانیں چلائیں گے سے لے کر۔ آیت قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم والذین معہ اذقالوا لقومہم انا برء ؤ منکم ومما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم وبدا بیننا وبینکم العداوۃ والبغضاء ابدحتی تو منوا باللہ وحدہ الا قول ابراہیم لابیہ لاستغفرن لک۔ تک تمہارے لیے ایک عمدہ نمونہ ابراہیم کی زندگی اور قول وعمل میں اور ان لوگوں کے قول وعمل میں جو ابراہیم کے ساتھی تھے مگر ابراہیم (علیہ السلام) کا قول اپنے والد کے لیے کہ میں تیرے لیے ضرور استغفار کروں گا۔ فرماتے ہیں کہ اس میں تم افسوس نہ کرو۔ کیونکہ ایک وہ وعدہ تھا جو انہوں نے خاص طور پر اس سے کیا تھا۔ اے ہمارے رب ہم کو آزمائش نہ بناان لوگوں کے لیے جو کافر ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں تو ان کو ہم پر غلبہ نہ دے کہ وہ اس کے ذریعے فتنہ میں ڈالیں وہ یہ گمان کریں گے وہ اس لیے غالب آئے ہیں کیونکہ وہ ہماری نسبت حق کے زیادہ قریب ہیں۔ 14۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء سے لے کر آتی بما تعملون بصیر تک کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت حاطب بن ابی بلتعہ اور اس کے ساتھیوں کے خط کے بارے میں ہے جو اس نے کفار قریش کی طرف انہیں خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے لکھا تھا اور اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت الا قول ابراہیم لابیہ لاستغرن لک سے مراد ہے کہ ان کو منع کردیا گیا کہ وہ ابراہیم کے اپنے باپ کے لیے استغفار کرنے کی پیروی کریں۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول آیت ربنا لاتجعلنا فتنۃ للذین کفروا۔ یعنی ہم کو ان کے ہاتھوں سے عذاب نہ دے اور نہ ہی اپنی جانب سے عذاب دے کیونکہ وہ کہیں گے کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو ان کو یہ عذاب نہ پہنچتا۔ 15۔ ابن المنذر والحاکم وصححہ نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء سے لے کر آیت بما تعملون بصیر کے بارے میں روایت کیا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کے خط میں اور جو اس کے ساتھ تھے کفار قریش کی طرف وہ ان کو ڈراتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول آیت الا قول ابراہیم لابیہ لاستغفرن لک میں ان کو منع کیا گیا کہ وہ ابراہیم کے اپنے باپ کے لیے استغفار کرنے پر افسوس نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول آیت ربنا لاتجعلنا فتنۃ للذین کفروا۔ یعنی ہم کو عذاب نہ دے ان کے ہاتھوں سے اور وہ عذاب دے اپنے پاس سے کیونکہ وہ کہیں گے اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو ان کو یہ عذاب نہ پہنچتا۔ 16۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ کے بارے میں روایت کیا یعنی ابراہیم کے تمام کاموں میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے سوائے اپنے باپ کے لیے استغفار کرنے کے کہ اس کے لیے استغفار نہ کیا جائے کیونکہ وہ مشرک تھا۔
Ayahs 60:5–6

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار تو ہمیں کافروں کا تختہ مشق مت بنا اور تو ہماری مغفرت کردے اے ہمارے پروردگار یقیناً تو زبردست ہے حکمت والا ہے

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

یقیناً تمہارے لیے ان میں اچھا نمونہ ہے اس شخص کے لیے جو امید رکھتا ہے اللہ تعالیٰ سے اور آخری دن سے اور جو اعراض کرے گا تو یقیناً اللہ تعالیٰ وہ بےنیاز ہے قابل تعریف ہے

17۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا کے بارے میں فرمایا کہ تو ان کو ہم پر مسلط نہ فرما کہ وہ ہم کو فتنہ میں ڈالیں۔
Ayahs 60:7–9

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ان کے درمیان جن سے تمہیں عداوت ہے محبت ڈال دے اور اللہ تعالیٰ قدرت والا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا ان سے جنہوں نے تم سے دین میں قتال نہیں کیا اور جنہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا اس سے نہیں روکتا کہ تم ان کے ساتھ احسان کروا اور تم ان کے ساتھ انصاف کرو یقیناً اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہیں روکتے ہیں صرف ان سے جنہوں نے تم سے دین میں قتال کیا اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے پر دوسروں کی مدد کی اس سے روکتا ہے کہ تم ان سے دوستی کرو اور جو ان سے دوستی رکھے گا تو یہی لوگ ظالم ہیں

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو سفیان بن حرب کو یمن کے بعض علاقہ پر عامل بنایا۔ جب رسول اللہ ﷺ وفات پاگئے۔ تو وہ آرہے تھے کہ ایک اوڑھنی والے مرتد سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس سے قتال کیا۔ یہ پہلا آدمی ہے جس نے مرتد ہونے کے سبب کسی سے قتال کیا اور دین کے لیے جہاد کیا ابن شہاب (رح) نے کہا کہ انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منہم مودۃ۔ امید ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو تمہارے دشمن ہیں دوستی پیدا کردے گا۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن شہاب سے اور انہوں نے ابی سلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جس نے سب سے پہلے مرتدین کے ساتھ قتال کیا اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے وہ ابوسفیان بن حرب تھے اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منہم مودۃ۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن عدی وابن مردویہ و بیہقی فی الدلائل وابن عساکر نے کلبی کے طریق سے اور انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے آیت عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منہم مودۃ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ محبت جو اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان پیدا فرمادی وہ نبی ﷺ کا ام حبیبہ بنت ابو سفیان سے نکاح کرنا ہے اس کے سبب وہ مومنین کی ماں بن گئی اور معاویہ ؓ مومنین کے ماموں بن گئے۔ 4۔ ابن مردویہ نے دوسری سند سے ابن عباس ؓ سے آیت عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منہم مودۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت نبی ﷺ کا ابو سفیان کی بیٹی ام حبیبہ سے نکاح کرنے کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہی آپ کے اور ان کے درمیان مودت و محبت تھی۔ مشرکہ عورت کا ہدیہ قبول کرنا 5۔ الطیالسی واحمد والبزار وابویعلی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والنحاس فی تاریخہ والحاکم وصححہ والطبرانی وابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ قتیلہ بنت عبدالعزای نے اپنی بیٹی کو اسماء بنت ابی بکر ؓ کے پاس کچھ ہدایا لے کر آئی جو کہ پنیر اور گھر پر مشتمل تھا۔ اور وہ مشرکہ تھی۔ اسماء ؓ نے اس ہدیہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور اسے اپنے گھر میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہ دی یہاں تک کہ انہوں نے عائشہ ؓ کی طرف پیغام بھیجا کہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں۔ چناچہ انہوں نے آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت لاینہکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین۔ اللہ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان و انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے۔ آیت کے آخر تک تو ان کو حکم فرمایا کہ اس کا ہدیہ قبول کرلے اور ان کو گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے۔ 6۔ بخاری وابن المنذر ونحاس و بیہقی نے شعب الایمان میں اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت کیا کہ میرے پاس میری ماں محبت کا اظہار کرتے ہوئے آئی۔ اور وہ مشرکہ تھی قریش کے زمانہ میں جب رسول اللہ ﷺ نے قریش سے معاہدہ کیا تو میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا کہ میں اس سے یعنی اپنی مشرکہ ماں سے صلہ رحمی کروں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت لاینہکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین تو پھر آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔ 7۔ ابو داوٗد فی تاریخہ وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاینہکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم کے حکم کو اس آیت فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم (التوبہ آیت 5) کہ قتال کرو مشرکین سے جہاں تم ان کو پاؤ۔ نے منسوخ کردیا۔ 8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت لاینہکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین کے بارے میں روایت کیا کہ تم ان کے لیے استغفار کرو اور ان سے اچھا سلوک کرو اور ان کے ساتھ انصاف کرو جو لوگ مکہ میں ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی۔ 9۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت انما ینہکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین کے بارے میں روایت کیا کہ ان سے مکہ میں رہنے والے کافر مراد ہیں۔
Ayahs 60:10–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ان کے ایمان کو پھر اگر تم ان کو مومن جانو تو تم ان کو کافروں کی طرف واپس مت لوٹاؤ نہ یہ مومن عورتیں ان کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ ان کے لیے حلال ہیں اور تم ان کو دو وہ جو انہوں نے خرچ کیا ہے اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم ان سے نکاح کرو جب ان کو ان کا مہردیدو اور تم کافر عورتوں کے بندھنوں کو پکڑ کر مت روکے رکھو اور تم سوال کرلو وہ جو تم نے خرچ کیا ہے اور انہیں بھی چاہیے کہ وہ سوال کرلیں جو انہوں نے خرچ کیا یہ اللہ کا حکم ہے اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ علم والا حکمت والا ہے

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی بیوی کافروں کی طرف چلی جائے پھر تم بدلہ لو تو تم دیدو ان کو جن کی بیویوں چلی گئیں ہیں اس کے مانند جو ان کافر شوہروں نے خرچ کیا ہے اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو

1۔ بخاری نے مسور بن مخرمہ اور مروان بن الحکم رحمہما اللہ دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے دن جب کفار قریش سے معاہدہ کیا تو مومن عورتیں آئیں (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المومنت مہاجرات۔ اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آجائیں۔ حتی کہ یہاں تک پہنچے آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر اور تم کافر عورتوں کے تعلقات ازدواجی کو باقی مت رکھو۔ تو حضرت عمر ؓ نے اس دن اپنی دونوں عورتوں کو طلاق دیدی جو مشرکہ تھیں۔ صلح حدیبیہ 2۔ بخاری وابو داوٗد ناسخہ اور بیہقی نے السنن میں مروان بن الحکم اور مسور بن مخرمہ رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ جب حدیبیہ کے دن سہیل بن عمرو نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک مدت کے فیصلے کو لکھا۔ تو سہیل کی طرف سے یہ شرط تھی کہ ہم میں سے کوئی اگر آپ کے پاس آئے گا اگرچہ وہ آپ کے دین پر ہوگا مگر یہ کہ آپ اس کو ہماری طرف لوٹا دیں گے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ابوجندل بن سہیل ؓ کو لوٹادیا۔ اور رسول اللہ ﷺ کے پاس مردوں میں سے کوئی آتا تھا تو اس مدت میں آپ اس کو لوٹادیتے تھے اگرچہ وہ مسلمان ہوتا تھا۔ پھر مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں اور وہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط تھی ان عورتوں میں جو رسول اللہ ﷺ کی طرف نکلیں ان کے گھر والے آئے اور رسول اللہ ﷺ سے ان کے لوٹانے کا سوال کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کے بارے میں حکم نازل فرمادیا کہ ان کو واپس نہ کیا جائے۔ 3۔ طبرانی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ عبداللہ بن ابی احمد ؓ سے روایت کیا کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط نے مصالحت کے دور میں ہجرت کی ان کے بھائی عمارہ اور ولید رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ام کلثوم کے بارے میں بات کی کہ آپ اسے ان کے ساتھ واپس لوٹادیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے بارے میں خاص طور پر وہ عہد توڑ دیا جو مشرکین اور ان کے درمیان تھا۔ اور ان کو مشرکین کی طرف واپس لوٹانے سے منع فرمادیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آیۃ الامتحان نازل فرمائی۔ 4۔ ابن درید نے امالیہ میں حدثنا ابو الفضل الریاشی نے ابن ابی رجا سے روایت کیا اور انہوں نے واقدی (رح) سے روایت کیا کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ؓ ان آیات کے ساتھ فخر کرتی تھیں جو اس بارے میں نازل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں پہلی عورت تھی جس نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ جب میرا بھائی ولید میرے پاس آیا تو اللہ تعالیٰ نے اس معاہدہ کو منسوخ کردیا جو نبی ﷺ اور مشرکین کے درمیان تھا۔ اور یہ آیت نازل ہوئی آیت فلاترجعوہن الی الکفار۔ کہ ان کو کافروں کی طرف نہ لوٹاؤ۔ پھر نبی ﷺ نے میر انکاح زید بن حارثہ ؓ سے کردیا میں نے عرض کیا۔ کیا میرا نکاح اپنے غلام سے کر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت وما کان لمومن ولامومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم۔ اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو لائق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دے تو انہیں اپنے کام میں اختیار باقی رہے۔ پھر زید شہید کردئیے گئے تو حضرت زبیر ؓ نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اپنے آپ کو روکے رکھو میں نے کہا ہاں ٹھیک ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت ولا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النساء (البقرہ آیت 235) اور تم پر اس میں گناہ نہیں ہے کہ ان عورتوں کو اشارہ سے پیغام نکاح دو ۔ مومنات مہاجرات کو واپس کرنے کی شرط 5۔ ابن سعد نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مشرکین نے حدیبیہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ شرط لگائی تھی کہ اگر ہماری طرف سے کوئی آدمی آئے گا اگرچہ وہ آپ کے دین پر ہو تو اس کو آپ ہماری طرف لوٹادیں گے اور جو آپ کی طرف سے ہمارے پاس آئے گا ہم اس کو آپ کی طرف نہیں لوٹائیں گے۔ پس اس معاہدے کے تحت آپ ﷺ ہر اس آدمی کو واپس لوٹاتے رہے جو بھی ان کی جانب سے دین اسلام میں داخل ہو کر آپ ﷺ کی طرف آیا۔ لیکن جب ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ؓ ہجرت کر کے آئیں تو اس کے دو بھائی اس ارادہ س آئے کہ وہ اسے نکال لائیں اور قریش کی طرف واپس کردیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المومنت مہاجرت سے لے کر آیت ولیسئلوا ما انفقوا تک فرمایا اس سے مراد مہر ہے یعنی کفار نے جر مہر ان کو دیا وہ مانگ لیں۔ آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الایۃ اور اگر تمہاری بیبیوں میں سے کوئی کافروں کے پاس چلی جائے اور تمہارے بالکل ہاتھ نہ آئے یعنی وہ عورت جو مسلمان ہوجائے تو مسلمان اس کا مہر کفار کی طرف لوٹادیں اور مسلمانوں نے اپنے پاس کفار کی عورتوں سے جن کو طلاق دی تو ان پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے مہر مسلمانوں کو لوٹا دیں۔ اور اگر وہ ان مسلمانوں کے مہر میں سے کچھ روک لیں جو کفار کی عورتوں سے علیحدہ ہوئے۔ تو پھر مسلمان بھی ان مسلمان عورتوں کا مہر روک لیں جو ان کی جانب سے آئیں۔ 6۔ ابن اسحاق وابن سعد وابن المنذر نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے دن اس شرط پر صلح کی کہ جو آدمی قریش کی جانب سے آئے گا تو اس کو قریش پر لوٹا دیں گے جب عورتوں نے ہجرت کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مشرکین کی طرف لوٹانے سے انکار کردیا۔ کہ وہ مشرکین کی طرف واپس لوٹ کر نہ جائیں جبکہ وہ اسلام کی آزمائش کے ساتھ آزمائی گئیں۔ اور مسلمانوں نے جان لیا کہ وہ اسلام میں رغبت اور شوق کے ساتھ آئی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کا مہر ان کی طرف لوٹانے کا حکم دیا۔ جب وہ ان کی طرف سے روک دی گئیں اور وہ بھی مسلمانوں پر ان عورتوں کے مہر لوٹائیں گے جن کو اپنی عورتوں سے روک دیا گیا پھر فرمایا آیت ذلکم حکم اللہ، یحکم بینکم۔ پس رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو روک لیا اور مردوں کو واپس لوٹادیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ حکم نہ ہوتا تو آپ ﷺ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی واپس لوٹادیتے اور اگر معاہدہ نہ ہوتا تو آپ عورتوں کو روک لیتے اور ان کے مہر نہ لوٹاتے۔ 7۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا جاء کم المومنت مہاجرت فامتحنوہن۔ اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کی جانچ کرلیا کرو۔ یعنی ان سے پوچھ لو کہ وہ کس لیے آئی ہیں اگر وہ اپنے شوہروں پر غیظ وغضب یا کسی غیرت یا کسی ناراضگی کی وجہ سے آئی ہیں اور ایمان نہیں لائی تو ان کو ان کے شوہروں کی طرف لوٹادو۔ اور اگر وہ اللہ پر ایمان لانے والی ہیں تو ان کو روک لو اور ان کے مہران کافروں کو دے دو ۔ اور ان سے نکاح کرلو اگر تم چاہو اور انہیں مہر ادا کردو۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر کے بارے میں فرمایا کہ نبی ﷺ کے صحابہ کو حکم کیا گیا اپنی عورتوں کو طلاق دینے کا جو مکہ مکرمہ میں کافروں کے ساتھ بیٹھ گئیں۔ پھر فرمایا آیت واسئلو ما انفقتم ولیسئلوا ما انفقو۔ اور ان سے مانگ لو جو تم نے خرچ کیا ہے اور وہ مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا۔ یعنی جو محمد ﷺ کے اصحاب میں سے ازواج یعنی خاوند کفار کی طرف نہیں گئے تو کافروں کو چاہیے کہ ان کے مہران کو ادا کریں وہ ان عورتوں کو روکے رکھیں اور کفار میں سے ازواج یعنی خاوند محمد ﷺ کے اصحاب کی طرف نہیں گئے تو محمد ﷺ کے اصحاب کو بھی اسی طرح کرنا چاہیے اور یہ بھی صلح کی شرط تھی قریش اور محمد ﷺ کے درمیان پھر فرمایا آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار۔ اور تمہاری بیویوں میں سے کوئی کافروں کے پاس چلی جائے۔ یعنی ان لوگوں کے پاس کہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ فعاقبتم پھر جب تمہاری نوبت آئے تو جو تم غنیمت کا مال پاؤ قریش سے یا ان کے علاوہ کسی اور سے آیت فاٰتوا الذین ذہبت ازواجہم مثل ماانفقوا۔ تو جن کی بیویاں ہاتھ سے نکل گئیں جتنا مہر انہوں نے خرچ کیا تھا اس کے برابر تم ان کو دے دو ۔ یعنی ان کے مہر کے بدلہ میں۔ مہاجر عورتوں سے امتحان لینا 8۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت ہجرت کر کے مدینہ منورہ کی طرف نکلی اس سے پوچھا گیا کیا تجھے اپنے شہر کے بغض نے مکہ مکرمہ سے نکالا یا تو نے اللہ اور اس کے رسول کا ارادہ کیا۔ اس نے کہا بلکہ میں نے اللہ اور اس کے رسول کا ارادہ کیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت فان علمتموہن مومنت فلا ترجعوہن الی الکفار سو اگر تم ان کو مسلمان جانو تو پھر کافروں کی طرف واپس مت کرو۔ اور اگر مسلمانوں میں سے کوئی مرد اس کے ساتھ نکاح کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کے پہلے خاوند کی طرف وہ مہر لوٹادے جو اس نے اس پر خرچ کیا تھا۔ 9۔ عبد بن حمید وابوداوٗد فی ناسخہ وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المومنت مہاجرات کے بارے میں روایت کیا کہ یہ فیصلہ ایسا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے ہدایت یافتہ اور گمراہی والوں کے درمیان فرمایا پھر فرمایا آیت فامتحنوہن یعنی ان کا امتحان کرلو۔ ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ وہ خاوندوں کی نافرمانی کی وجہ سے نہیں نکلیں۔ اور وہ صرف اسلام کی محبت میں اور اس پر حرص کرتے ہوئے نکلی ہیں۔ اگر وہ قسم اٹھائیں تو ان سے قبول کرلو۔ اور فرمایا آیت وسئلوا ما انفقتم ولیسئلوا مانفقوا۔ اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو۔ تو کافروں سے اس کا مطالبہ کرلو اور جو کچھ مہاجر عورتوں پر کافروں نے خرچ کیا تھا وہ مسلمانوں سے مانگ لیں۔ یعنی جب نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے ان کافروں کی طرف بھاگ جائیں کہ جن کا نبی اکرم ﷺ سے عہد تھا۔ اور وہ وہاں شادی کرلیں۔ تو کافر ان کے مہر ان کے پہلے مسلمان خاوندوں کی طرف بھیج دیں اور جب مشرکین کی عورتیں ان مسلمانوں کی طرف بھاگ آئیں کہ ان کے اور نبی ﷺ کے درمیان عہد تھا۔ اور وہ مسلمانوں سے نکاح کرلیں تو مسلمان ان کے مہران کے پہلے مشرک خاوندوں کی طرف بھیج دیں۔ اور یہ فیصلہ تھا۔ نبی ﷺ کے اصحاب اور کفار میں سے ان لوگوں کے درمیان جن سے عہد تھا۔ اور فرمایا آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی کافروں کے پاس چلی جائے اور بالکل تمہارے ہاتھ نہ آئے پھر تمہاری باری آئے یعنی اگر تمہاری بیبیوں میں سے کوئی عورت قریش کے ایسے کافروں کی طرف چلی جائے کہ ان کے اور نبی ﷺ کے اصحاب کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ اس کو پکڑ سکتے ہیں اور اس کا مہر بھی نہیں لوٹایا۔ آیت فعاقبتم پھر جب تمہاری باری آئے تو تم بھی ان کو کچھ نہ دو ۔ اور یہ غنیمت ہے جب وہ اس کے بعد اس غنیمت یعنی عورت کو پالیں۔ پھر یہ فیصلہ اور عہد سورة براءت میں منسوخ کردیا گیا کہ ہر معاہدہ کرنے والے کی طرف اس کے عہد کو پھینک دیا گیا۔ 10۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المومنت مہاجرات فامتحنوہن۔ سے لے آیت واللہ علیم حکیم تک کے بارے میں روایت کیا کہ ان کا امتحان یہ تھا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ جب یہ یقین کرلیں کہ ان عورتوں کی طرف سے یہ اقرار سچا ہے تو پھر ان کو کافروں کی طرف نہ لوٹاؤ۔ اور رسول اللہ ﷺ سے جن کافروں نے معاہدہ کیا ہوا ہے ان میں سے ان کے خاوند کو وہ مہر ادا کردے جو اس نے اس عورت کو دیا تھا اور ان کو ایمان والوں کے لیے حلال قرار دیا جب وہ انہیں ان کے مہر ادا کردیں اور تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے حلال قرادیا جب وہ انہیں ان کے مہر ادا کردیں اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اس سے منع کردیا کہ وہ مہاجر عورتوں کو اپنی ان عورتوں کی وجہ سے پکاریں جو کافروں میں ہیں۔ اور عورتوں کا امتحان یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر بن خطاب ؓ سے فرمایا کہ وہ ان عورتوں سے کہیں کہ رسول اللہ ﷺ تم کو اس شرط پر بیعت لیں گے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ اور ہند بنت عتبہ بن ربیعہ جس نے حمزہ ؓ کا پیٹ چاک کیا تھا۔ وہ بھی عورتوں میں بھیس بدل کر موجود تھی۔ کہنے لگی اگر میں بات کروں گی تو مجھے پہچان لیا جائے گا اور اگر مجھے پہچان لیا گیا تو مجھے قتل کردیا جائے گا۔ اور اس نے اپنا بھیس بدل لیا رسول اللہ ﷺ سے خوف کرتے ہوئے وہ عورتیں خاموش ہوگئیں جو ہند کے ساتھ تھیں اور انہوں نے بات کرنے سے انکار کردیا۔ ہند نے کہا اور اس نے بھیس بدلا ہوا تھا کہ عورتوں سے وہ چیز کیسے قبول کرلیں گے جبکہ مردوں سے قبول نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ وہ چوری نہیں کریں گی۔ تو ہند نے کہا اللہ کی قسم ! کہ میں ابو سفیان کے مال سے حاجت کے مطابق لے لیتی ہوں، میں نہیں جانتی کہ کیا یہ اسے حلال قرار دے گا یا نہیں ؟ ابو سفیان نے کہا میری جو چیز بھی ہے چاہے وہ ختم ہوچکی ہے یا باقی ہے وہ تیرے لیے حلال ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور اس کو پہچان لیا۔ پھر اس کو بلایا وہ آگئی اور اس نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ پناہ لینے لگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو ہند ہے کہنے لگی اللہ تعالیٰ معاف فرمائے جو کچھ ہوچکا پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیرلیا۔ اور فرمایا آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم الایۃ۔ یعنی اگر مہاجرین میں سے کوئی عورت کافروں سے مل جائے تو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ غنیمت میں سے ان کو اتنا دیا جائے جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا۔ سورة ممتحنہ کا شان نزول 11۔ ابن مردویہ نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا ہم کو یہ بات پہنچی کہ سورة ممتحنہ اس مدت کے بارے میں نازل ہوئی جو رسول اللہ ﷺ نے کفار قریش کے لیے مقرر فرمائی تھی اس عہد کی وجہ سے جو رسول اللہ ﷺ اور کفار قریش کے درمیان مدت کے بارے میں قائم ہوا تھا۔ اور آپ ﷺ کفار قریش پر وہ مال لوٹادیتے تھے جو انہوں نے ان عورتوں پر خرچ کیا ہوتا۔ جو مسلمان ہوگئیں اور انہوں نے ہجرت کرلی اور ان کے شوہر کافر تھے۔ اگر انہوں نے جنگ کی تو رسول اللہ ﷺ اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ کی ضرورت نہیں اور ان کی طرف ایسی کوئی چیز لوٹائی جائے گی جو انہوں نے خرچ کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے بھی کفار اہل مدت کے خلاف اس طرح کا فیصلہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ولاتمسکوا بعصم الکوافر واسئلوا ما انفقتم ولیسئلوا ما انفقوا، ذالکم حکم اللہ، یحکم بینکم، واللہ علیم حکیم۔ تم کافر عورتوں کے تعلقات کو باقی مت رکھو اور اپنی بیویوں پر جو کچھ خرچ کیا ہو تو ان کافروں سے اس کا مطالبہ کرلو اور جو کچھ مہاجر عورتوں پر کافروں نے خرچ کیا ہو وہ مسلمانوں سے مانگ لیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ علیم اور حکیم ہے۔ حضرت عمر ؓ نے اپنی بیوی بنت ابی امیہ بن المغیرۃ کو طلاق دے دی تو اس سے معاویہ بن ابی سفیان نے نکاح کرلیا اور جرول خزاعی کی بیٹی کی شادی رسول اللہ ﷺ نے ابوجہم بن حذیفہ العدوی ؓ سے نکاح کردیا۔ اور اسے حکم بنادیا اسی کے مطابق ایمان والوں نے اور مشرکین کے درمیان اس عہد کی مدت کے دوران فیصلہ کیا جو ان کے درمیان قائم تھا اور ایمان والوں نے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو تسلیم کیا اور مشرکین کے وہی اخراجات میں سے جو انہوں نے اپنی عورتوں پر کیے تھے اللہ کے حکم کی تعمیل میں انہوں نے وہ ادا کردئیے۔ اور مشرکین نے اس مال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر مسلمانوں کے اخراجات کی ادائیگی کے سلسلہ میں ان پر فرض کیا سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم فاٰ توا الذین ذہبت ازواجہم مثل ما انفقوا۔ واتقوا اللہ الذی انتم بہ مومنون۔ اس آیت کے بعد جو عورت چلی گئی ایمان والوں کی بیویوں میں سے مشرکین کی طرف تو مومنین ان کے کافر خاوندوں کی طرف اس خرچے کے لیے رجوع کرتے جو کسی نے اس عورت پر کیا ہوتا اور یہ اس کا انجام تھا جو ان کے سامنے تھا کہ ان کو حکم دیا گیا کہ وہ مشرکین کی طرف ان کے وہ اخراجات لوٹادیں۔ جو انہوں نے اپنی بیویں پر کیے جو اب ایمان لے آئیں اور ہجرت کی۔ پھر مومنین نے مشرکین کی طرف زائد بھی لوٹایا اگر وہ ان کے لیے مناسب ہوا۔ 12۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر سے مراد ہے کہ وہ ایک آدمی جس کی عورت دار الحرب چلی گئی۔ تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنی بیویوں میں سے شمار نہ کرے۔ 13۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ 14۔ عبد بن حمید نے عامر شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی بیوی زینب ان عورتوں میں سے تھی جنہوں نے آپ سے کہا آیت واسئلو ماانفقتم ولیسئلو ما انفقوا۔ 15۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی عورت اہل مکہ میں سے مسلمانوں کے پاس آئے تو وہ اس کے خاوند کو معاوضہ دیں۔ اور کوئی عورت مسلمانوں میں مشرکین کے ایسے آدمی کے پاس چلی جائے جس کے ساتھ کوئی عہد نہیں۔ تو یہ فرمایا گیا فعاقبتم یعنی پھر تم غنیمت کو پالو۔ آیت فاٰ توا الذین ذہبت ازواجہم مثل ما انفقوا تو تم اس کے خاوند کو غنیمت میں سے اس کے مہر کے مثل دے دو ۔ 16۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا سہیل بن عمرو ؓ نکلے تو اس کے ساتھیوں میں سے ایک آدمی نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور وہ باطل پر نہیں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں۔ پھر اس نے کہا کہ جو ان میں سے اسلام قبول کر کے آئے تو اسے ان کی طرف لوٹادیا جائے گا اور ہم میں جو ان کی اتباع کرے گا اور تو ہم اسے انہیں کے پاس رہنے دیں گے۔ تو آپ نے فرمایا جو ان میں سے اسلام لے آیا تو اللہ تعالیٰ اس کی سچائی اور صدق کو خوب جانتا ہے وہ اس کو نجات عطاکردے گا اور جو ہم میں ان کی طرف لوٹ کرگیا تو گویا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے محفوظ کرلیا۔۔ راوی کا بیان ہے کہ سورة ممتحنہ اس صلح کے بعد نازل ہوئی۔ اور ان کی عورتوں میں سے جو اسلام لاتی تو اس سے سوال کیا جاتا تھا کہ کس چیز نے تجھے نکالا ہے اگر وہ نکلی ہے اپنے شوہر سے فرار ہو کر اور اس سے اعراض کر کے نکلی تو اس کو لوٹا دیا جاتا اور اگر وہ نکلی ہے اسلام میں رغبت کرتے ہوئے تو اس کو روک لیا جاتا اور اس کے شوہر کے پاس اتنا مال لوٹادیا جاتا جو اس نے خرچ کیا ہوتا۔ 17۔ ابن ابی حاتم نے یزید بن ابی حبیب (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المومنت مہاجرات۔ ابو حسان بن دحداحہ کی بیوی کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ امیمہ بنت بسر بنی عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والی عورت ہے جب یہ بھاگ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی۔ سہل بن حنیف ؓ نے اس سے شادی کرلی۔ اور اس سے عبداللہ بن سہل ؓ پیدا ہوئے۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اور مکہ والوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا اور اس میں یہ شرط تھی کہ عورتوں کو لوٹا دیا جائے گا۔ تو ایک عورت آئی جس کا نام سعیدہ تھا۔ وہ صیفی بن الراہب کے نکاح میں تھی۔ اور وہ مشرک تھا اہل مکہ میں سے انہوں نے اس کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت اذا جاء کم المومنت مہاجرات۔ 19۔ عبد بن حمید وابو داوٗد فی ناسخہ وابن جریر وابن المنذر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ آیت نازل ہوئی اور وہ لوگ یعنی صحابہ کرام ؓ حدیبیہ میں تھے۔ جب عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمایا کہ ان کا مہر ان کے شوہروں کو لوٹادیں۔ اور مشرکین کو بھی اسی طرح حکم فرمایا کہ جب ان کے پاس مسلمانوں میں سے کوئی عورت آئے تو اس کا مہر ان کے خاوند کی طرف لوٹادیں۔ تو مومنین نے اللہ کے حکم کو تسلیم کرلیا مگر مشرکین نے انکار کردیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار سے لے کر مثل ما انفقوا تک۔ نو ایمان والوں کو حکم فرمایا کہ جب مسلمانوں میں سے کوئی عورت چلی جائے اور ان میں سے ان کا خاوند موجود ہو تو مسلمان ان کی بیوی کا مہر اس کی طرف اتنا لوٹا دیں جتنا انہیں مشرکین کو دینے کا حکم دیا گیا۔ 20۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے آیت اذا جاء کم المومنت کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ایک معاہدہ تھا۔ جب ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آتی تھی تو وہ اس کا امتحان لیتے تھے پھر وہ اس کے شوہر پر اتنا مال لوٹادیتے جو اس نے اس پر خرچ کیا تھا اگر کوئی عورت مسلمانوں میں سے مشرکین سے مل جاتی اور مسلمان غنیمت کا مال پاتے تو وہ اس میں سے اتنا مال اس کے خاوند کو دیتے جتنا اس نے اس پر خرچ کیا تھا شعبی (رح) نے فرمایا مشرکین کسی چیز سے راضی نہ ہوئے حتی کہ وہ اس آیت سے بھی راضی نہ ہوئے اور کہنے لگے یہ نصف ہے۔ 21۔ ابن ابی اسامہ والبزار وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے سند حسن کے ساتھ ابن عباس ؓ سے اذا جاء کم المومنت مہاجرت فامتحنوہن کے بارے میں روایت کیا اور یہ الفاظ ابن المنذر کے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا نبی اکرم ﷺ عورتوں سے کس طرح امتحان لیتے تھے۔ تو فرمایا جب کوئی عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آتی تھی۔ تو اس سے عمر ؓ اللہ کی اس سے قسم لیتے تھے کہ تو اس زمین کی رغبت اور پسند میں اس زمین سے نہیں نکلی اور اللہ کی قسم میں خاوند سے ناراض ہو کر نہیں نکلی اور اللہ کی قسم کہ تو دنیا کی تلاش میں نہیں نکلی۔ اور اللہ کی قسم میں نہیں نکلی مگر اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہوئے۔ 22۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ عورت سے پوچھا جاتا تھا کہ تو ہم میں سے کس آدمی کا عشق محبت تجھے یہاں نہیں لایا اور اپنے شوہر سے بھاگ کر تو نہیں آئی تو وہ کہتی کہ میں نہیں نکلی مگر اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہوئے۔ 23۔ ابن منیع نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ اسلام لائے اور ان کی بیوی مشرکین میں پیچھے رہ گئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر۔ 24۔ طبرانی نے وابو نعیم وابن عساکر نے یزید بن اخنس ؓ سے روایت کیا کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کے ساتھ ان کے سارے گھروالے بھی مسلمان ہوگئے۔ مگر ان کی ایک بیوی نے مسلمان ہونے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر ان سے کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس عورت اور اس کے شوہر کے درمیان تفریق کردی ہے مگر یہ کہ وہ مسلمان ہوجائے تو اس کے لیے ایک سال کی مدت مقرر کردی گئی جب سال گزرنے میں ایک دن رہ گیا تو وہ بیٹھ گئی اور سورج کی طرف دیکھنے لگی یہاں تک کہ جب سورج غروب کے قریب ہوا تو مسلمان ہوگئی۔ 25۔ ابن ابی حاتم نے طلحہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر نازل ہوئی تو میں نے اپنی بیوی اروی بنت ربیعہ کو طلاق دے دی اور عمر ؓ نے قریبہ بنت ابی امیہ اور ام کلثوم بنت جرول الحزاعیہ کو طلاق دے دی۔ 26۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ولاتمسکوا بعصم الکوافر مسلمانوں میں سے ایک عورت کے بارے میں نازل ہوئی جو مشرکین سے مل جاتی ہے اور کفر اختیار کرلیتی ہے تو اس کا شوہر اس کے بچانے کے لیے نہ روکے کیونکہ وہ اس سے بری ہوگیا۔ 27۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفارحکیم بن ابی سفیان کی بیوی کے بارے میں نازل ہوئی جو مرتد ہوگئی اور ایک ثقفی مرد نے اس سے شادی کرلی۔ اس کے علاوہ قریش میں سے کوئی عورت مرتد نہیں ہوئی پھر جب بنی ثقیف اسلام لے آئے تو وہ بھی ان کے ہاتھ مسلمان ہوگئی۔ 28۔ ابو داوٗد فی ناسخہ وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت فامتحنوہن الایۃ کے بارے میں میں نے عطا (رح) سے پوچھا کیا آپ اس کے بارے میں جانتے ہیں تو انہوں نے فرمایا نہیں۔